🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
نیز یہ کہ اہل عرب لفظ "ثانی" کا استعمال وہاں کرتے ہیں جہاں اس کے لیے کوئی "ثالث" بھی ہو، اور چوں کہ "جُمادی" کا کوئی "ثالث" نہیں ہے؛ لہذا یہاں "جمادی" کے لیے "الثانی" کا استعمال بعید معلوم ہوتا ہے۔
فقیہ فقید المثال امام احمد رضا خان قدس سرہ نے فتاویٰ رضویہ شریف میں ایک جگہ کسی عرب صاحب کی خوب گرفت فرمائی ہے اور ان کی عربی دانی کی قلعی کھول کر رکھ دی ہے۔
عرب صاحب نے اپنی تحریر میں ایک جگہ "جُمادی الثانی" لکھا تھا، اس پر اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ گرفت فرماتے ہوئے لکھتے ہیں:
” جُمادی الثانی، مؤنث کی صفت مذکر! حضرت نے "جمادی" کا کوئی "تیسرا" بھی دیکھا ہوگا کہ عرب "ثانی" بے "ثالث" نہیں بولتے “
اس کے بعد تصحیح کرتے ہوئے رقم طراز ہیں:
” مہینے کا علم "جمادی الآخرۃ" ہے، اعلام میں تصرف کیسا؟ (اگر زبر زیر اور آنکھ پر پھلی نہ ہو، فافھم۔)“
(فتاویٰ رضویہ غیر مترجم، ج: ١١، ص: ٣٤١، رضا اکیڈمی ممبئی۔)
"غیاث اللغات" میں ہے:
”و جمادی الثانی چنانکہ مشہور شدہ بہتر نیست، گویند کہ اطلاق لفظ "ثانی" آں جا باشد کہ برائے او بعد ازاں ثالث نیز بود۔“ھ
( غیاث اللغات، فصل: جیم مع میم، ص: ٢٠٨ )
"لغاتِ کشوری" میں ہے:
” "جمادی الثانی" کہنا معتبر نہیں ہے، اس لیے کہ استعمال عرب میں "جمادی الثانی" نہیں ہے۔ اور یہ بھی وجہ ہے کہ "ثانی" اس مقام پر آتا ہے جہاں اس کے بعد"ثالث" بھی ہو۔ اور یہ بھی وجہ ہے کہ "جمادی" کے آخر میں الف مقصورہ بصورت یاے تحتانی ہے جو کتابت میں رہتا ہے اور تلفظ میں بسبب اجتماع ساکنین کے گر جاتا ہے، پس جب الف مقصورہ کے سبب سے اس کی صورت مؤنث کی ہوگئی تو اس کی صفت بھی "اولی" اور "آخرہ" کے ساتھ آنی چاہیے تاکہ صفت و موصوف میں تطابق باقی رہے۔“ (لغاتِ کشوری، فصل: جیم مع میم ص: ١٣٢، مطبوعہ لکھنؤ۔)
ان مذکورہ بالا تمام تفصیلات سے یہ ثابت ہوا کہ مہینے کا علم " جُمادی الآخرہ" ہے۔ اور چوں کہ اعلام میں تصرف و تغیر منع ہے؛ اس لیے "جمادی الأخری" یا "جمادی الثانی" لکھنا اور بولنا منع ہوگا۔ بہر صورت "جمادی الآخرۃ" ہی لکھنے اور بولنے کا التزام کیا جائے۔
فائدہ:
ان دونوں مہینوں کی وجہ تسمیہ سے متعلق لفظ "جمادی" کے تحت "معجم المعانی عربی اردو" میں ہے:
” جُمادي: (اسم) عربی مہینہ کے نام، ایک "جمادی الاولی" اور دوسرا "جمادی الآخرہ"۔ چوں کہ عربوں کے یہاں سال کے پانچویں اور چھٹے مہینوں میں کسی سردی کی وجہ سے پانی جم جاتا تھا، اس لیے وہ ان دونوں مہینوں کو "جمادی" کہتے تھے الخ۔“
نیز وجہ تسمیہ سے متعلق ایسا ہی "غیاث اللغات فارسی" میں ہے۔
ـــــــ
محمد شفاء المصطفی شفا مصباحی
٢٧ ؍ جمادی الآخرہ ١٤٤٢ھ
١٠ ؍ فروری ٫٢٠٢١۔

https://www.facebook.com/100012626434702/posts/1392433601187508/
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM