🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
05-06-1443 | 09-01-2022 ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬ آدھی آستین والے کپڑے میں نماز
05-06-1443 | 09-01-2022
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Ghulam Mustafa Naimi
جاروب کش کی گل افشانیاں
غلام مصطفےٰ نعیمی
روشن مستقبل دہلی
پچھلے ہفتے بِہار کے بہادر گنج اور گانگی ہاٹ میں 27 اور 28 دسمبر کو دو جلسے منعقد ہوئے۔جس میں مفتی مطیع الرحمن مضطر رضوی صاحب کا خصوصی بیان ہوا۔مفتی صاحب نے خطاب کرتے ہوئے خانقاہ سراواں کے معمولات ونظریات پر نقد کیا کیا، اعتدال و وسطیت اور احسان وسلوک کے سارے جھنڈا بردار جامے سے باہر ہوگیے۔خطاب کے فوراً بعد ہی سراوی حضرات کی جانب سے مفتی صاحب کی کردار کشی کی مہم چھیڑ دی گئی۔حالانکہ یہ وہی مفتی مطیع الرحمن ہیں جنہیں خود یہی لوگ فقیہ النفس، صاحب بصیرت اور حق گو مفتی کہتے نہیں تھکتے تھے مگر ان کی فکر پر سوال کیا اٹھایا اخلاق وتصوف کے علم بردار ساری اخلاقیات بھلا بیٹھے۔جاروب کشوں کے سرخیل نے شدت غضب میں ایک لمبی چوڑی تحریر لکھ کر مفتی صاحب کو "قلاباز، چور کا ساتھی، فقیہ نفس ونفسانیت" جیسی صلواتیں بھی سنا ڈالیں۔اتنے پر بھی مَن نہیں بھرا تو دوسروں کی آڑ لیکر گستاخ اور کافر ڈکلئیر کرتے ہوئے یوں گل افشانی کی:
"بعض اہل علم کا کہنا ہے کہ مفتی صاحب پر علی الاقل کفر لزومی ثابت ہے اور ایسے میں انہیں غیر مسلم کہا جاسکتا ہے۔"
*چونکیے مت!*
*فقہاے دین کو "علماے حیض و نفاس" کہنے والے یہ وہی روشن خیال جاروب کش ہیں جنھوں نے علماے عصر کو طعنہ دیتے ہوئے لکھا تھا:*
*"جہاں تک علما کی بات کریں تو موجودہ عہد کے علما بالعموم اس مرض تکفیریت میں مبتلا ہیں۔"*
(مسئلہ تکفیر و متکلمین ص 28)
جاروب کشوں کی یہ جماعت عرصہ دراز سے طواغیت اربعہ کی وکالت کا فریضہ انجام دیتے ہوئے اہل سنت کو تکفیری کہنا عملاً فرض مانتی ہے مگر آج مفتی مطیع الرحمن صاحب نے ذرا سا نقد کیا کیا، یہ لوگ مفتی صاحب پر ہی کفر کی تلوار سونت کر کھڑے ہوگیے ہیں۔اس وقت جاروب کشوں کا پورا گروہ "مفتی مطیع الرحمن کافر ہوگیے" کی تشہیر میں لگا ہوا ہے۔سوشل میڈیا کے سارے معتدل منے کفر کی گردان میں مصروف ہیں اب تحقیق کی حاجت ہے نہ تکفیریت کا خوف!
_یہ بات اپنے آپ میں کس قدر حیران کن ہے کہ جو شخص 26 دسمبر تک ان کے نزدیک شعور وآگہی کا قطب مینار تھا وہ دو دن کے اندر اتنا پست قد ہوگیا کہ اب ان پر "کھیل کھیلنے" اور "آپ کی کہانیاں یاد ہیں" جیسی عامیانہ اور دھمکی آمیز زبان استعمال کی جارہی ہے۔
ایک پل میں ہیں بدلے پیمانے، اک پل میں ٹوٹے یارانے
جو جان سے بڑھ کر اپنا تھا وہ آج رقیب جاں ہے بنا
وقت کا کھیل_____
وقت بھی کیسے کیسے نظارے دکھاتا ہے، چند سال ہی گزرے ہیں جب جاروب کشوں کی یہ جماعت تعظیم وتکریم اور تواضع و انکساری کو "غلو عقیدت" اور "عقیدت بے جا کا اسیر" کہہ کر اہل سنت کا مذاق اڑاتی تھی۔ہم چو من دیگرے نیست کی خماری میں فکری آوارگی پر دانش وری اور حقیقت پسندی کا خوش نما لیبل لگایا جاتا تھا تاکہ باز پرس کرنے والوں کو متشدد، تنگ نظری اور قدامت پسندی کا طعنہ دے کر خود کو بچایا بھی جاسکے۔یہی لوگ "سگ کوچہ اور سگ در" جیسے متواضع جملوں پر حقیقی معنی کا اطلاق کرکے نہایت سطحی تبصرے کیا کرتے تھے۔مگر آج حقیقت پسندی اور دانش وری کے وہی سورما ایک ایسے شیخ کی چوکھٹ کے "جاروب کش" بنے بیٹھے ہیں جو کفر واسلام کی سرحد سے بہت دور کہیں دھونی رمائے بیٹھا ہے۔سراواں کا ایک جاروب کش اپنی عقیدت کا اظہار اس طرح کرتا ہے:
"ان (شیخ سراواں) کی صحبت بابرکت سے ہمیں حلاوت ایمان، فکر آخرت اور لذت بندگی حاصل ہوئی....اس در کے گداگروں میں شامل ہونا ہمارے لیے فخر واعزاز کی بات ہے۔"
(فتوی سراواں)
عقیدت ومحبت کے اس اظہاریہ پر ہم کسی جاروب کش سے یہ مطالبہ بالکل نہیں کریں گے کہ حلاوت ایمان اور لذت بندگی کا حصول نصیبے کی بات ہے مگر یہ حلاوت ولذت اُسی تیسری دنیا سے جڑی ہے جس کی تمنا ان کے شیخ کرتے ہیں یا اس کا کوئی سرا محمد عربی ﷺ کے دین سے بھی جڑتا ہے؟ ہم صرف اتنا ہی کہیں گے کہ ایک بار دل پر ہاتھ رکھ کر اپنی پرانی زندگی اور ان دل آزار تحریروں پر ضرور غور کریں جن میں اہل سنت کو بدنام کرنے کی ہر ممکن کوشش کی گئی۔اکابرین اہل سنت پر طرح طرح کی الزام تراشیاں کی گئیں مگر آج وہ سارے الزامات جاروب کشوں کی زندگی کا حصہ بن گیے ہیں۔ابھی بھی وقت ہے کہ اپنی آزاد روی سے باز آجائیں ورنہ ایک وقت وہ بھی آئے گا جب یہ لوگ ہر اس برائی میں ملوث ہوں گے جس کا الزام اہل سنت کو دیا کرتے ہیں۔اس لیے اکابرین پر طنز وتشنیع سے باز آئیں ورنہ نشان عبرت بن جائیں گے۔
٢جمادی الثانیہ ١٤٤٣ھ
6 جنوری 2021 بروز جمعرات
غلام مصطفےٰ نعیمی
روشن مستقبل دہلی
پچھلے ہفتے بِہار کے بہادر گنج اور گانگی ہاٹ میں 27 اور 28 دسمبر کو دو جلسے منعقد ہوئے۔جس میں مفتی مطیع الرحمن مضطر رضوی صاحب کا خصوصی بیان ہوا۔مفتی صاحب نے خطاب کرتے ہوئے خانقاہ سراواں کے معمولات ونظریات پر نقد کیا کیا، اعتدال و وسطیت اور احسان وسلوک کے سارے جھنڈا بردار جامے سے باہر ہوگیے۔خطاب کے فوراً بعد ہی سراوی حضرات کی جانب سے مفتی صاحب کی کردار کشی کی مہم چھیڑ دی گئی۔حالانکہ یہ وہی مفتی مطیع الرحمن ہیں جنہیں خود یہی لوگ فقیہ النفس، صاحب بصیرت اور حق گو مفتی کہتے نہیں تھکتے تھے مگر ان کی فکر پر سوال کیا اٹھایا اخلاق وتصوف کے علم بردار ساری اخلاقیات بھلا بیٹھے۔جاروب کشوں کے سرخیل نے شدت غضب میں ایک لمبی چوڑی تحریر لکھ کر مفتی صاحب کو "قلاباز، چور کا ساتھی، فقیہ نفس ونفسانیت" جیسی صلواتیں بھی سنا ڈالیں۔اتنے پر بھی مَن نہیں بھرا تو دوسروں کی آڑ لیکر گستاخ اور کافر ڈکلئیر کرتے ہوئے یوں گل افشانی کی:
"بعض اہل علم کا کہنا ہے کہ مفتی صاحب پر علی الاقل کفر لزومی ثابت ہے اور ایسے میں انہیں غیر مسلم کہا جاسکتا ہے۔"
*چونکیے مت!*
*فقہاے دین کو "علماے حیض و نفاس" کہنے والے یہ وہی روشن خیال جاروب کش ہیں جنھوں نے علماے عصر کو طعنہ دیتے ہوئے لکھا تھا:*
*"جہاں تک علما کی بات کریں تو موجودہ عہد کے علما بالعموم اس مرض تکفیریت میں مبتلا ہیں۔"*
(مسئلہ تکفیر و متکلمین ص 28)
جاروب کشوں کی یہ جماعت عرصہ دراز سے طواغیت اربعہ کی وکالت کا فریضہ انجام دیتے ہوئے اہل سنت کو تکفیری کہنا عملاً فرض مانتی ہے مگر آج مفتی مطیع الرحمن صاحب نے ذرا سا نقد کیا کیا، یہ لوگ مفتی صاحب پر ہی کفر کی تلوار سونت کر کھڑے ہوگیے ہیں۔اس وقت جاروب کشوں کا پورا گروہ "مفتی مطیع الرحمن کافر ہوگیے" کی تشہیر میں لگا ہوا ہے۔سوشل میڈیا کے سارے معتدل منے کفر کی گردان میں مصروف ہیں اب تحقیق کی حاجت ہے نہ تکفیریت کا خوف!
_یہ بات اپنے آپ میں کس قدر حیران کن ہے کہ جو شخص 26 دسمبر تک ان کے نزدیک شعور وآگہی کا قطب مینار تھا وہ دو دن کے اندر اتنا پست قد ہوگیا کہ اب ان پر "کھیل کھیلنے" اور "آپ کی کہانیاں یاد ہیں" جیسی عامیانہ اور دھمکی آمیز زبان استعمال کی جارہی ہے۔
ایک پل میں ہیں بدلے پیمانے، اک پل میں ٹوٹے یارانے
جو جان سے بڑھ کر اپنا تھا وہ آج رقیب جاں ہے بنا
وقت کا کھیل_____
وقت بھی کیسے کیسے نظارے دکھاتا ہے، چند سال ہی گزرے ہیں جب جاروب کشوں کی یہ جماعت تعظیم وتکریم اور تواضع و انکساری کو "غلو عقیدت" اور "عقیدت بے جا کا اسیر" کہہ کر اہل سنت کا مذاق اڑاتی تھی۔ہم چو من دیگرے نیست کی خماری میں فکری آوارگی پر دانش وری اور حقیقت پسندی کا خوش نما لیبل لگایا جاتا تھا تاکہ باز پرس کرنے والوں کو متشدد، تنگ نظری اور قدامت پسندی کا طعنہ دے کر خود کو بچایا بھی جاسکے۔یہی لوگ "سگ کوچہ اور سگ در" جیسے متواضع جملوں پر حقیقی معنی کا اطلاق کرکے نہایت سطحی تبصرے کیا کرتے تھے۔مگر آج حقیقت پسندی اور دانش وری کے وہی سورما ایک ایسے شیخ کی چوکھٹ کے "جاروب کش" بنے بیٹھے ہیں جو کفر واسلام کی سرحد سے بہت دور کہیں دھونی رمائے بیٹھا ہے۔سراواں کا ایک جاروب کش اپنی عقیدت کا اظہار اس طرح کرتا ہے:
"ان (شیخ سراواں) کی صحبت بابرکت سے ہمیں حلاوت ایمان، فکر آخرت اور لذت بندگی حاصل ہوئی....اس در کے گداگروں میں شامل ہونا ہمارے لیے فخر واعزاز کی بات ہے۔"
(فتوی سراواں)
عقیدت ومحبت کے اس اظہاریہ پر ہم کسی جاروب کش سے یہ مطالبہ بالکل نہیں کریں گے کہ حلاوت ایمان اور لذت بندگی کا حصول نصیبے کی بات ہے مگر یہ حلاوت ولذت اُسی تیسری دنیا سے جڑی ہے جس کی تمنا ان کے شیخ کرتے ہیں یا اس کا کوئی سرا محمد عربی ﷺ کے دین سے بھی جڑتا ہے؟ ہم صرف اتنا ہی کہیں گے کہ ایک بار دل پر ہاتھ رکھ کر اپنی پرانی زندگی اور ان دل آزار تحریروں پر ضرور غور کریں جن میں اہل سنت کو بدنام کرنے کی ہر ممکن کوشش کی گئی۔اکابرین اہل سنت پر طرح طرح کی الزام تراشیاں کی گئیں مگر آج وہ سارے الزامات جاروب کشوں کی زندگی کا حصہ بن گیے ہیں۔ابھی بھی وقت ہے کہ اپنی آزاد روی سے باز آجائیں ورنہ ایک وقت وہ بھی آئے گا جب یہ لوگ ہر اس برائی میں ملوث ہوں گے جس کا الزام اہل سنت کو دیا کرتے ہیں۔اس لیے اکابرین پر طنز وتشنیع سے باز آئیں ورنہ نشان عبرت بن جائیں گے۔
٢جمادی الثانیہ ١٤٤٣ھ
6 جنوری 2021 بروز جمعرات
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
کیا گزر جانے والاسال ہمیں یہ پیغام دے کر نہیں گیا کہ: میں چلا گیا ہوں ۔۔۔۔۔۔ لیکن اکیلا نہیں گیا ، بہت سارے نیک و بد ساتھ لے کرگیا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔ قبرستان جاکر دیکھ لو کتنے ہی کتبوں پر تمھیں 2021 ء لکھا نظر آئے گا ۔ اے میرے بعد آنے والے نئے سال کی خوشیاں منانے…
ابوتمام حبیب بن اَوس نے کہاتھا ؎
لَيسَ الغَبِيُّ بِسَيِّدٍ فِي قَومِه
لكِنَّ سَيِّد قَومِهِ المُتَغابِي
بے وقوف بندہ اپنی قوم میں سردار نہیں ہوتا ، لیکن قوم کے سردار کو ( بعض اوقات جان بوجھ کر ) بے وقوف بننا پڑتا ہے ۔
مطلب: سردار چشم پوشی کرنے والا ہوتا ہے ، دیکھتے ہوئے بھی انجان بنا رہتا ہے ، سننے کے باوجود بہرہ ۔۔۔۔۔۔ اور بولنے کے باوجود گونگا بنا رہتاہے ۔
یہ خوبی ہر کامیاب سردار ، افسر ، ذمے دار ، سربراہ ، اور نگران میں ہونی چاہیے کہ ہر چھوٹی بڑی بات پر ماتحتوں کا تعاقب نہ کرتا رہے ۔۔۔۔۔۔۔ موقع محل دیکھ کر چلے ۔
✍️ لقمان شاہد
7-1-2022 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3352588688354630&id=100008105947430
لَيسَ الغَبِيُّ بِسَيِّدٍ فِي قَومِه
لكِنَّ سَيِّد قَومِهِ المُتَغابِي
بے وقوف بندہ اپنی قوم میں سردار نہیں ہوتا ، لیکن قوم کے سردار کو ( بعض اوقات جان بوجھ کر ) بے وقوف بننا پڑتا ہے ۔
مطلب: سردار چشم پوشی کرنے والا ہوتا ہے ، دیکھتے ہوئے بھی انجان بنا رہتا ہے ، سننے کے باوجود بہرہ ۔۔۔۔۔۔ اور بولنے کے باوجود گونگا بنا رہتاہے ۔
یہ خوبی ہر کامیاب سردار ، افسر ، ذمے دار ، سربراہ ، اور نگران میں ہونی چاہیے کہ ہر چھوٹی بڑی بات پر ماتحتوں کا تعاقب نہ کرتا رہے ۔۔۔۔۔۔۔ موقع محل دیکھ کر چلے ۔
✍️ لقمان شاہد
7-1-2022 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3352588688354630&id=100008105947430
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
ہمارا کوئی عزیز اگر چھت سے گِر جائے تو اسے سنبھالا دینا چاہیے ، فلسفے جھاڑنے شروع نہیں کردینے چاہییں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کہ آپ چھت پہ چڑھے ہی کیوں ، کس نے کہا چھت پہ چڑھنے کو ، آیا مزہ چھت پہ چڑھنے کا ، پھر چڑھنا چھت پر ، منع بھی کیا تھا نہ چڑھو وغیرہ وغیرہ ۔
ایسے جملے ، گِرنے والے کی اذیت میں مزید اضافہ کرتے ہیں اور جملے کسنے والے کے موذی ہونے کی گواہی دیتے ہیں ۔
جب کہ گرے ہوئے کو حوصلہ دینے والا اجر کا مستحق ہوتا ہے ۔
سید عالمﷺ کا فرمان بھی ہے:
جب بیمار کے پاس جاؤ تو اُسے زندگی کی اُمید دلاؤ ، اِس سے تقدیر تو نہیں بدلے گی لیکن مریض کا دلخوش ہوجائے گا ۔ ( او کما قال )
سانحہ مری میں انتقال کرنے والوں یا مریض بننے والوں کے لیے دعا کریں اور ان کے لواحقین کو حوصلہ دیں اور جہاں تک ہوسکے ان کی مدد کریں ۔
اللہ پاک ایسا وقت اہل پاکستان کو دوبارہ نہ دکھائے !
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3353974574882708&id=100008105947430
ایسے جملے ، گِرنے والے کی اذیت میں مزید اضافہ کرتے ہیں اور جملے کسنے والے کے موذی ہونے کی گواہی دیتے ہیں ۔
جب کہ گرے ہوئے کو حوصلہ دینے والا اجر کا مستحق ہوتا ہے ۔
سید عالمﷺ کا فرمان بھی ہے:
جب بیمار کے پاس جاؤ تو اُسے زندگی کی اُمید دلاؤ ، اِس سے تقدیر تو نہیں بدلے گی لیکن مریض کا دلخوش ہوجائے گا ۔ ( او کما قال )
سانحہ مری میں انتقال کرنے والوں یا مریض بننے والوں کے لیے دعا کریں اور ان کے لواحقین کو حوصلہ دیں اور جہاں تک ہوسکے ان کی مدد کریں ۔
اللہ پاک ایسا وقت اہل پاکستان کو دوبارہ نہ دکھائے !
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3353974574882708&id=100008105947430
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
"جُمادی الآخرہ" یا "جُمادی الأخری" ؟؟
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
پرانی تحریر:
محمد شفاءالمصطفیٰ شفا مصباحی۔
مدینۃ العلما باڑا شریف، سیتا مڑھی۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
رواں مہینہ اسلامی اور قمری سال کے اعتبار سے چھٹا مہینہ ہے، جس کے آخری عشرہ سے ہم گزر رہے ہیں۔ اس کے حوالے سے اکثر ذہنوں میں یہ شبہ رہتا ہے کہ اس کا اصل و صحیح نام کیا ہے؟ کیوں کہ عام طور لوگ اس مہینے کے لیے دو طرح کے نام استعمال کرتے ہیں:
(١) جمادي الآخره.
(٢) جمادي الأخرى.
آئیے اس امر کی تحقیق کرتے ہیں کہ ان دونوں اسما میں کون صحیح ہے اور کون غلط؟ یا پھر یہ دونوں صحیح ہیں اور دونوں کا استعمال درست ہے۔
ظاہر ہے کہ اس نام کا تعلق عربی زبان سے ہے۔ لہذا اس کی بحث و تحقیق کے لیے بھی ہمیں عربی اصول و قواعد اور عربی لغات کا سہارا لینا ہوگا؛ تاکہ ہم کسی صحیح نتیجہ تک پہنچ سکیں۔ تو آئیے اس حوالے سے سب سے پہلے عربی لغات کا جائزہ لیتے ہیں۔
عربی لغات کا جائزہ لینے کے بعد کھلے طور پر یہ نتیجہ برآمد ہوتا ہے کہ مہینے کا اصل نام "جمادی الآخرہ" ہے نہ کہ "جمادی الأخری"۔ کیوں کہ :
عربی لغات میں اس مہینہ کا نام ” جمادي الآخره “ درج ہے۔ اس سلسلے میں بساط بھر کوشش کی مگر کسی بھی عربی لغت میں اس مہینے کا نام ” جمادی الأخری“ نہ ملا ۔
چاہیں تو عربی زبان کی کوئی لغت اٹھا کر آپ بھی دیکھ لیں؛ ہر جگہ لفظ "جمادی" کے تحت آپ کو "جمادی الاولی" اور "جمادی الآخرہ" ہی ملے گا۔ کہیں بھی "جمادی الأخری" نہ ملے گا۔
عربی اصول و قواعد کی رو سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے کہ مہینے کا نام "جمادی الآخرہ" ہی ہو نہ کہ "جمادی الأخری"۔ کیوں کہ ”جمادي الآخرة“ میں جو لفظ" آخرہ" ہے یہ لفظ "اولی" کی ضد اور اس کے بالمقابل ہے۔ کیوں کہ جس طرح اس سے پہلے دو مہینے "ربیع الأول" اور "ربیع الآخر" میں "اول و آخر" ایک دوسرے کی ضد اور بالمقابل ہیں، اسی طرح یہاں "جمادی الاولی" اور "جمادی الآخرہ" میں "اولی و آخرہ" باہم متضاد و بالمقابل ہیں۔اور "اول" کی تانیث "اولی" آتی ہے کہ "اول" "افعلُ" کے وزن پر اسم تفضیل واحد مذکر کا صیغہ ہے؛ تو اس کی تانیث "اولی" آئے گی کہ اسم تفضیل واحد مؤنث کا وزن "فُعلی" ہے۔
اسی طرح "آخرة" یہ "آخِر" کی تانیث ہے کہ "آخِر" "فاعِلٌ" کے وزن پر اسم فاعل واحد مذکر کا صیغہ ہے، تو اس کی تانیث "آخِرةٌ" آئے گی کہ اسم فاعل واحد مؤنث کا وزن "فاعِلةٌ" ہے۔
اور "أخری" یہ "آخرِ" (بکسر الخاء) کی تانیث نہیں بلکہ "أخَر" (بفتح الخاء۔ بمعنی دوسرا، دو میں سے ایک، کوئی اور، غیر) کی تانیث ہے۔ جب کہ یہاں مقصود و مطلوب اسم فاعل مؤنث کا صیغہ ہے اور وہ "آخِرة" ہے کہ یہی" اولی" کی ضد اور اس کے بالمقابل ہے۔
فرمان باری تعالیٰ:
﴿ و للآخرة خير لك مِنَ الأولى ﴾
[الضحى : ٤]
لہذا اس تفصیل سے بھی واضح ہوگیا کہ مہینے کا نام " جمادی الآخرہ" ہی ہے نہ کہ " جمادی الأخری"۔ لہذا"جمادی الأخری" لکھنے والوں سے اس پر نظر ثانی کی اپیل ہے ۔
اب رہی یہ بات کہ اگر کوئی "جمادی الأخری" ہی استعمال کرے تو آیا اس کی گنجائش ہے یا نہیں؟۔
تو اس پر عرض یہ ہے کہ " جمادی الآخرہ" یہ علم ہے اور "اعلام" میں تغیر و تبدل منع ہے۔ لہذا لغوی اعتبار سے "جمادی الآخرہ" کے بجائے "جمادی الأخری" لکھنے اور بولنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ اس لیے بہر حال "جمادی الآخرہ" ہی لکھنے اور بولنے کا التزام کیا جائے کہ یہی صحیح و درست ہے۔
استاذی الکریم خطیبِ محقق حضرت علامہ محمد عبد الحق رضوی دام ظلہ ( استاذ: جامعہ اشرفیہ مبارک پور۔) اپنی مشہور و معروف کتاب" اذان خطبہ کہاں ہو؟" کے ابتدائیہ میں ایک تحریر اور صاحب تحریر پر تنقید کرتے ہوئے رقم طراز ہیں:
” جن کا مبلغ علم یہ ہے کہ انھوں نے اپنی تحریر کے نیچے جو دستخط کیے ہیں تو مہینے کا نام "جمادی الأخری" لکھا ہے، جب کہ مہینے کا علم "جمادی الآخرہ" ہے۔ جس شخص کو اپنے عربی مہینوں کے نام بھی معلوم نہ ہوں، اور جو اعلام میں تغیر کرتا ہو اس کی لیاقت معلوم، صاف ظاہر ہے۔“
( اذان خطبہ کہاں ہو؟ ابتدائیہ، ص: ٣، ٤، دائرة البرکات، گھوسی مئو۔)
استاذی الکریم دام ظلہ کے اس تنقیدی تبصرے سے وہ لوگ سبق حاصل کریں جو "جمادی الآخرہ" اور "جمادی الأخری" کے بجائے"جمادی الثانی" لکھتے اور بولتے ہیں۔ جب "جمادی الأخری" کی اجازت نہیں تو "جمادی الثانی" کیوں کر روا ہوگا۔
پھر یہ کہ "جُمادی الثانی" یہ مرکب توصیفی ہے کہ "جمادی" موصوف اور "الثانی" صفت ہے۔ اور موصوف صفت کا قاعدہ یہ ہے کہ تذکیراً و تانیثاً دونوں میں مطابقت ہو، جب کہ مطابقت یہاں مفقود ہے کہ "جُمادی" مؤنث ہے اور "الثانی" مذکر؛ حالاں کہ یہاں"الثانی" کا بھی مؤنث ہونا ضروری تھا۔ لہذا اس قاعدے کی رو سے بھی "جمادی الثانی" کا غلط ہونا معلوم ہے۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
پرانی تحریر:
محمد شفاءالمصطفیٰ شفا مصباحی۔
مدینۃ العلما باڑا شریف، سیتا مڑھی۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
رواں مہینہ اسلامی اور قمری سال کے اعتبار سے چھٹا مہینہ ہے، جس کے آخری عشرہ سے ہم گزر رہے ہیں۔ اس کے حوالے سے اکثر ذہنوں میں یہ شبہ رہتا ہے کہ اس کا اصل و صحیح نام کیا ہے؟ کیوں کہ عام طور لوگ اس مہینے کے لیے دو طرح کے نام استعمال کرتے ہیں:
(١) جمادي الآخره.
(٢) جمادي الأخرى.
آئیے اس امر کی تحقیق کرتے ہیں کہ ان دونوں اسما میں کون صحیح ہے اور کون غلط؟ یا پھر یہ دونوں صحیح ہیں اور دونوں کا استعمال درست ہے۔
ظاہر ہے کہ اس نام کا تعلق عربی زبان سے ہے۔ لہذا اس کی بحث و تحقیق کے لیے بھی ہمیں عربی اصول و قواعد اور عربی لغات کا سہارا لینا ہوگا؛ تاکہ ہم کسی صحیح نتیجہ تک پہنچ سکیں۔ تو آئیے اس حوالے سے سب سے پہلے عربی لغات کا جائزہ لیتے ہیں۔
عربی لغات کا جائزہ لینے کے بعد کھلے طور پر یہ نتیجہ برآمد ہوتا ہے کہ مہینے کا اصل نام "جمادی الآخرہ" ہے نہ کہ "جمادی الأخری"۔ کیوں کہ :
عربی لغات میں اس مہینہ کا نام ” جمادي الآخره “ درج ہے۔ اس سلسلے میں بساط بھر کوشش کی مگر کسی بھی عربی لغت میں اس مہینے کا نام ” جمادی الأخری“ نہ ملا ۔
چاہیں تو عربی زبان کی کوئی لغت اٹھا کر آپ بھی دیکھ لیں؛ ہر جگہ لفظ "جمادی" کے تحت آپ کو "جمادی الاولی" اور "جمادی الآخرہ" ہی ملے گا۔ کہیں بھی "جمادی الأخری" نہ ملے گا۔
عربی اصول و قواعد کی رو سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے کہ مہینے کا نام "جمادی الآخرہ" ہی ہو نہ کہ "جمادی الأخری"۔ کیوں کہ ”جمادي الآخرة“ میں جو لفظ" آخرہ" ہے یہ لفظ "اولی" کی ضد اور اس کے بالمقابل ہے۔ کیوں کہ جس طرح اس سے پہلے دو مہینے "ربیع الأول" اور "ربیع الآخر" میں "اول و آخر" ایک دوسرے کی ضد اور بالمقابل ہیں، اسی طرح یہاں "جمادی الاولی" اور "جمادی الآخرہ" میں "اولی و آخرہ" باہم متضاد و بالمقابل ہیں۔اور "اول" کی تانیث "اولی" آتی ہے کہ "اول" "افعلُ" کے وزن پر اسم تفضیل واحد مذکر کا صیغہ ہے؛ تو اس کی تانیث "اولی" آئے گی کہ اسم تفضیل واحد مؤنث کا وزن "فُعلی" ہے۔
اسی طرح "آخرة" یہ "آخِر" کی تانیث ہے کہ "آخِر" "فاعِلٌ" کے وزن پر اسم فاعل واحد مذکر کا صیغہ ہے، تو اس کی تانیث "آخِرةٌ" آئے گی کہ اسم فاعل واحد مؤنث کا وزن "فاعِلةٌ" ہے۔
اور "أخری" یہ "آخرِ" (بکسر الخاء) کی تانیث نہیں بلکہ "أخَر" (بفتح الخاء۔ بمعنی دوسرا، دو میں سے ایک، کوئی اور، غیر) کی تانیث ہے۔ جب کہ یہاں مقصود و مطلوب اسم فاعل مؤنث کا صیغہ ہے اور وہ "آخِرة" ہے کہ یہی" اولی" کی ضد اور اس کے بالمقابل ہے۔
فرمان باری تعالیٰ:
﴿ و للآخرة خير لك مِنَ الأولى ﴾
[الضحى : ٤]
لہذا اس تفصیل سے بھی واضح ہوگیا کہ مہینے کا نام " جمادی الآخرہ" ہی ہے نہ کہ " جمادی الأخری"۔ لہذا"جمادی الأخری" لکھنے والوں سے اس پر نظر ثانی کی اپیل ہے ۔
اب رہی یہ بات کہ اگر کوئی "جمادی الأخری" ہی استعمال کرے تو آیا اس کی گنجائش ہے یا نہیں؟۔
تو اس پر عرض یہ ہے کہ " جمادی الآخرہ" یہ علم ہے اور "اعلام" میں تغیر و تبدل منع ہے۔ لہذا لغوی اعتبار سے "جمادی الآخرہ" کے بجائے "جمادی الأخری" لکھنے اور بولنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ اس لیے بہر حال "جمادی الآخرہ" ہی لکھنے اور بولنے کا التزام کیا جائے کہ یہی صحیح و درست ہے۔
استاذی الکریم خطیبِ محقق حضرت علامہ محمد عبد الحق رضوی دام ظلہ ( استاذ: جامعہ اشرفیہ مبارک پور۔) اپنی مشہور و معروف کتاب" اذان خطبہ کہاں ہو؟" کے ابتدائیہ میں ایک تحریر اور صاحب تحریر پر تنقید کرتے ہوئے رقم طراز ہیں:
” جن کا مبلغ علم یہ ہے کہ انھوں نے اپنی تحریر کے نیچے جو دستخط کیے ہیں تو مہینے کا نام "جمادی الأخری" لکھا ہے، جب کہ مہینے کا علم "جمادی الآخرہ" ہے۔ جس شخص کو اپنے عربی مہینوں کے نام بھی معلوم نہ ہوں، اور جو اعلام میں تغیر کرتا ہو اس کی لیاقت معلوم، صاف ظاہر ہے۔“
( اذان خطبہ کہاں ہو؟ ابتدائیہ، ص: ٣، ٤، دائرة البرکات، گھوسی مئو۔)
استاذی الکریم دام ظلہ کے اس تنقیدی تبصرے سے وہ لوگ سبق حاصل کریں جو "جمادی الآخرہ" اور "جمادی الأخری" کے بجائے"جمادی الثانی" لکھتے اور بولتے ہیں۔ جب "جمادی الأخری" کی اجازت نہیں تو "جمادی الثانی" کیوں کر روا ہوگا۔
پھر یہ کہ "جُمادی الثانی" یہ مرکب توصیفی ہے کہ "جمادی" موصوف اور "الثانی" صفت ہے۔ اور موصوف صفت کا قاعدہ یہ ہے کہ تذکیراً و تانیثاً دونوں میں مطابقت ہو، جب کہ مطابقت یہاں مفقود ہے کہ "جُمادی" مؤنث ہے اور "الثانی" مذکر؛ حالاں کہ یہاں"الثانی" کا بھی مؤنث ہونا ضروری تھا۔ لہذا اس قاعدے کی رو سے بھی "جمادی الثانی" کا غلط ہونا معلوم ہے۔
❤1
نیز یہ کہ اہل عرب لفظ "ثانی" کا استعمال وہاں کرتے ہیں جہاں اس کے لیے کوئی "ثالث" بھی ہو، اور چوں کہ "جُمادی" کا کوئی "ثالث" نہیں ہے؛ لہذا یہاں "جمادی" کے لیے "الثانی" کا استعمال بعید معلوم ہوتا ہے۔
فقیہ فقید المثال امام احمد رضا خان قدس سرہ نے فتاویٰ رضویہ شریف میں ایک جگہ کسی عرب صاحب کی خوب گرفت فرمائی ہے اور ان کی عربی دانی کی قلعی کھول کر رکھ دی ہے۔
عرب صاحب نے اپنی تحریر میں ایک جگہ "جُمادی الثانی" لکھا تھا، اس پر اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ گرفت فرماتے ہوئے لکھتے ہیں:
” جُمادی الثانی، مؤنث کی صفت مذکر! حضرت نے "جمادی" کا کوئی "تیسرا" بھی دیکھا ہوگا کہ عرب "ثانی" بے "ثالث" نہیں بولتے “
اس کے بعد تصحیح کرتے ہوئے رقم طراز ہیں:
” مہینے کا علم "جمادی الآخرۃ" ہے، اعلام میں تصرف کیسا؟ (اگر زبر زیر اور آنکھ پر پھلی نہ ہو، فافھم۔)“
(فتاویٰ رضویہ غیر مترجم، ج: ١١، ص: ٣٤١، رضا اکیڈمی ممبئی۔)
"غیاث اللغات" میں ہے:
”و جمادی الثانی چنانکہ مشہور شدہ بہتر نیست، گویند کہ اطلاق لفظ "ثانی" آں جا باشد کہ برائے او بعد ازاں ثالث نیز بود۔“ھ
( غیاث اللغات، فصل: جیم مع میم، ص: ٢٠٨ )
"لغاتِ کشوری" میں ہے:
” "جمادی الثانی" کہنا معتبر نہیں ہے، اس لیے کہ استعمال عرب میں "جمادی الثانی" نہیں ہے۔ اور یہ بھی وجہ ہے کہ "ثانی" اس مقام پر آتا ہے جہاں اس کے بعد"ثالث" بھی ہو۔ اور یہ بھی وجہ ہے کہ "جمادی" کے آخر میں الف مقصورہ بصورت یاے تحتانی ہے جو کتابت میں رہتا ہے اور تلفظ میں بسبب اجتماع ساکنین کے گر جاتا ہے، پس جب الف مقصورہ کے سبب سے اس کی صورت مؤنث کی ہوگئی تو اس کی صفت بھی "اولی" اور "آخرہ" کے ساتھ آنی چاہیے تاکہ صفت و موصوف میں تطابق باقی رہے۔“ (لغاتِ کشوری، فصل: جیم مع میم ص: ١٣٢، مطبوعہ لکھنؤ۔)
ان مذکورہ بالا تمام تفصیلات سے یہ ثابت ہوا کہ مہینے کا علم " جُمادی الآخرہ" ہے۔ اور چوں کہ اعلام میں تصرف و تغیر منع ہے؛ اس لیے "جمادی الأخری" یا "جمادی الثانی" لکھنا اور بولنا منع ہوگا۔ بہر صورت "جمادی الآخرۃ" ہی لکھنے اور بولنے کا التزام کیا جائے۔
فائدہ:
ان دونوں مہینوں کی وجہ تسمیہ سے متعلق لفظ "جمادی" کے تحت "معجم المعانی عربی اردو" میں ہے:
” جُمادي: (اسم) عربی مہینہ کے نام، ایک "جمادی الاولی" اور دوسرا "جمادی الآخرہ"۔ چوں کہ عربوں کے یہاں سال کے پانچویں اور چھٹے مہینوں میں کسی سردی کی وجہ سے پانی جم جاتا تھا، اس لیے وہ ان دونوں مہینوں کو "جمادی" کہتے تھے الخ۔“
نیز وجہ تسمیہ سے متعلق ایسا ہی "غیاث اللغات فارسی" میں ہے۔
ـــــــ
محمد شفاء المصطفی شفا مصباحی
٢٧ ؍ جمادی الآخرہ ١٤٤٢ھ
١٠ ؍ فروری ٫٢٠٢١۔
https://www.facebook.com/100012626434702/posts/1392433601187508/
فقیہ فقید المثال امام احمد رضا خان قدس سرہ نے فتاویٰ رضویہ شریف میں ایک جگہ کسی عرب صاحب کی خوب گرفت فرمائی ہے اور ان کی عربی دانی کی قلعی کھول کر رکھ دی ہے۔
عرب صاحب نے اپنی تحریر میں ایک جگہ "جُمادی الثانی" لکھا تھا، اس پر اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ گرفت فرماتے ہوئے لکھتے ہیں:
” جُمادی الثانی، مؤنث کی صفت مذکر! حضرت نے "جمادی" کا کوئی "تیسرا" بھی دیکھا ہوگا کہ عرب "ثانی" بے "ثالث" نہیں بولتے “
اس کے بعد تصحیح کرتے ہوئے رقم طراز ہیں:
” مہینے کا علم "جمادی الآخرۃ" ہے، اعلام میں تصرف کیسا؟ (اگر زبر زیر اور آنکھ پر پھلی نہ ہو، فافھم۔)“
(فتاویٰ رضویہ غیر مترجم، ج: ١١، ص: ٣٤١، رضا اکیڈمی ممبئی۔)
"غیاث اللغات" میں ہے:
”و جمادی الثانی چنانکہ مشہور شدہ بہتر نیست، گویند کہ اطلاق لفظ "ثانی" آں جا باشد کہ برائے او بعد ازاں ثالث نیز بود۔“ھ
( غیاث اللغات، فصل: جیم مع میم، ص: ٢٠٨ )
"لغاتِ کشوری" میں ہے:
” "جمادی الثانی" کہنا معتبر نہیں ہے، اس لیے کہ استعمال عرب میں "جمادی الثانی" نہیں ہے۔ اور یہ بھی وجہ ہے کہ "ثانی" اس مقام پر آتا ہے جہاں اس کے بعد"ثالث" بھی ہو۔ اور یہ بھی وجہ ہے کہ "جمادی" کے آخر میں الف مقصورہ بصورت یاے تحتانی ہے جو کتابت میں رہتا ہے اور تلفظ میں بسبب اجتماع ساکنین کے گر جاتا ہے، پس جب الف مقصورہ کے سبب سے اس کی صورت مؤنث کی ہوگئی تو اس کی صفت بھی "اولی" اور "آخرہ" کے ساتھ آنی چاہیے تاکہ صفت و موصوف میں تطابق باقی رہے۔“ (لغاتِ کشوری، فصل: جیم مع میم ص: ١٣٢، مطبوعہ لکھنؤ۔)
ان مذکورہ بالا تمام تفصیلات سے یہ ثابت ہوا کہ مہینے کا علم " جُمادی الآخرہ" ہے۔ اور چوں کہ اعلام میں تصرف و تغیر منع ہے؛ اس لیے "جمادی الأخری" یا "جمادی الثانی" لکھنا اور بولنا منع ہوگا۔ بہر صورت "جمادی الآخرۃ" ہی لکھنے اور بولنے کا التزام کیا جائے۔
فائدہ:
ان دونوں مہینوں کی وجہ تسمیہ سے متعلق لفظ "جمادی" کے تحت "معجم المعانی عربی اردو" میں ہے:
” جُمادي: (اسم) عربی مہینہ کے نام، ایک "جمادی الاولی" اور دوسرا "جمادی الآخرہ"۔ چوں کہ عربوں کے یہاں سال کے پانچویں اور چھٹے مہینوں میں کسی سردی کی وجہ سے پانی جم جاتا تھا، اس لیے وہ ان دونوں مہینوں کو "جمادی" کہتے تھے الخ۔“
نیز وجہ تسمیہ سے متعلق ایسا ہی "غیاث اللغات فارسی" میں ہے۔
ـــــــ
محمد شفاء المصطفی شفا مصباحی
٢٧ ؍ جمادی الآخرہ ١٤٤٢ھ
١٠ ؍ فروری ٫٢٠٢١۔
https://www.facebook.com/100012626434702/posts/1392433601187508/
❤1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
05-06-1443 | 09-01-2022 ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬ آدھی آستین والے کپڑے میں نماز
06-06-1443 | 10-01-2022