🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
Photo
05-06-1443 | 09-01-2022
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
آدھی آستین والے کپڑے میں نماز
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
آدھی آستین والے کپڑے میں نماز
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
05-06-1443 | 09-01-2022 ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬ آدھی آستین والے کپڑے میں نماز
05-06-1443 | 09-01-2022
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Ghulam Mustafa Naimi
جاروب کش کی گل افشانیاں
غلام مصطفےٰ نعیمی
روشن مستقبل دہلی
پچھلے ہفتے بِہار کے بہادر گنج اور گانگی ہاٹ میں 27 اور 28 دسمبر کو دو جلسے منعقد ہوئے۔جس میں مفتی مطیع الرحمن مضطر رضوی صاحب کا خصوصی بیان ہوا۔مفتی صاحب نے خطاب کرتے ہوئے خانقاہ سراواں کے معمولات ونظریات پر نقد کیا کیا، اعتدال و وسطیت اور احسان وسلوک کے سارے جھنڈا بردار جامے سے باہر ہوگیے۔خطاب کے فوراً بعد ہی سراوی حضرات کی جانب سے مفتی صاحب کی کردار کشی کی مہم چھیڑ دی گئی۔حالانکہ یہ وہی مفتی مطیع الرحمن ہیں جنہیں خود یہی لوگ فقیہ النفس، صاحب بصیرت اور حق گو مفتی کہتے نہیں تھکتے تھے مگر ان کی فکر پر سوال کیا اٹھایا اخلاق وتصوف کے علم بردار ساری اخلاقیات بھلا بیٹھے۔جاروب کشوں کے سرخیل نے شدت غضب میں ایک لمبی چوڑی تحریر لکھ کر مفتی صاحب کو "قلاباز، چور کا ساتھی، فقیہ نفس ونفسانیت" جیسی صلواتیں بھی سنا ڈالیں۔اتنے پر بھی مَن نہیں بھرا تو دوسروں کی آڑ لیکر گستاخ اور کافر ڈکلئیر کرتے ہوئے یوں گل افشانی کی:
"بعض اہل علم کا کہنا ہے کہ مفتی صاحب پر علی الاقل کفر لزومی ثابت ہے اور ایسے میں انہیں غیر مسلم کہا جاسکتا ہے۔"
*چونکیے مت!*
*فقہاے دین کو "علماے حیض و نفاس" کہنے والے یہ وہی روشن خیال جاروب کش ہیں جنھوں نے علماے عصر کو طعنہ دیتے ہوئے لکھا تھا:*
*"جہاں تک علما کی بات کریں تو موجودہ عہد کے علما بالعموم اس مرض تکفیریت میں مبتلا ہیں۔"*
(مسئلہ تکفیر و متکلمین ص 28)
جاروب کشوں کی یہ جماعت عرصہ دراز سے طواغیت اربعہ کی وکالت کا فریضہ انجام دیتے ہوئے اہل سنت کو تکفیری کہنا عملاً فرض مانتی ہے مگر آج مفتی مطیع الرحمن صاحب نے ذرا سا نقد کیا کیا، یہ لوگ مفتی صاحب پر ہی کفر کی تلوار سونت کر کھڑے ہوگیے ہیں۔اس وقت جاروب کشوں کا پورا گروہ "مفتی مطیع الرحمن کافر ہوگیے" کی تشہیر میں لگا ہوا ہے۔سوشل میڈیا کے سارے معتدل منے کفر کی گردان میں مصروف ہیں اب تحقیق کی حاجت ہے نہ تکفیریت کا خوف!
_یہ بات اپنے آپ میں کس قدر حیران کن ہے کہ جو شخص 26 دسمبر تک ان کے نزدیک شعور وآگہی کا قطب مینار تھا وہ دو دن کے اندر اتنا پست قد ہوگیا کہ اب ان پر "کھیل کھیلنے" اور "آپ کی کہانیاں یاد ہیں" جیسی عامیانہ اور دھمکی آمیز زبان استعمال کی جارہی ہے۔
ایک پل میں ہیں بدلے پیمانے، اک پل میں ٹوٹے یارانے
جو جان سے بڑھ کر اپنا تھا وہ آج رقیب جاں ہے بنا
وقت کا کھیل_____
وقت بھی کیسے کیسے نظارے دکھاتا ہے، چند سال ہی گزرے ہیں جب جاروب کشوں کی یہ جماعت تعظیم وتکریم اور تواضع و انکساری کو "غلو عقیدت" اور "عقیدت بے جا کا اسیر" کہہ کر اہل سنت کا مذاق اڑاتی تھی۔ہم چو من دیگرے نیست کی خماری میں فکری آوارگی پر دانش وری اور حقیقت پسندی کا خوش نما لیبل لگایا جاتا تھا تاکہ باز پرس کرنے والوں کو متشدد، تنگ نظری اور قدامت پسندی کا طعنہ دے کر خود کو بچایا بھی جاسکے۔یہی لوگ "سگ کوچہ اور سگ در" جیسے متواضع جملوں پر حقیقی معنی کا اطلاق کرکے نہایت سطحی تبصرے کیا کرتے تھے۔مگر آج حقیقت پسندی اور دانش وری کے وہی سورما ایک ایسے شیخ کی چوکھٹ کے "جاروب کش" بنے بیٹھے ہیں جو کفر واسلام کی سرحد سے بہت دور کہیں دھونی رمائے بیٹھا ہے۔سراواں کا ایک جاروب کش اپنی عقیدت کا اظہار اس طرح کرتا ہے:
"ان (شیخ سراواں) کی صحبت بابرکت سے ہمیں حلاوت ایمان، فکر آخرت اور لذت بندگی حاصل ہوئی....اس در کے گداگروں میں شامل ہونا ہمارے لیے فخر واعزاز کی بات ہے۔"
(فتوی سراواں)
عقیدت ومحبت کے اس اظہاریہ پر ہم کسی جاروب کش سے یہ مطالبہ بالکل نہیں کریں گے کہ حلاوت ایمان اور لذت بندگی کا حصول نصیبے کی بات ہے مگر یہ حلاوت ولذت اُسی تیسری دنیا سے جڑی ہے جس کی تمنا ان کے شیخ کرتے ہیں یا اس کا کوئی سرا محمد عربی ﷺ کے دین سے بھی جڑتا ہے؟ ہم صرف اتنا ہی کہیں گے کہ ایک بار دل پر ہاتھ رکھ کر اپنی پرانی زندگی اور ان دل آزار تحریروں پر ضرور غور کریں جن میں اہل سنت کو بدنام کرنے کی ہر ممکن کوشش کی گئی۔اکابرین اہل سنت پر طرح طرح کی الزام تراشیاں کی گئیں مگر آج وہ سارے الزامات جاروب کشوں کی زندگی کا حصہ بن گیے ہیں۔ابھی بھی وقت ہے کہ اپنی آزاد روی سے باز آجائیں ورنہ ایک وقت وہ بھی آئے گا جب یہ لوگ ہر اس برائی میں ملوث ہوں گے جس کا الزام اہل سنت کو دیا کرتے ہیں۔اس لیے اکابرین پر طنز وتشنیع سے باز آئیں ورنہ نشان عبرت بن جائیں گے۔
٢جمادی الثانیہ ١٤٤٣ھ
6 جنوری 2021 بروز جمعرات
غلام مصطفےٰ نعیمی
روشن مستقبل دہلی
پچھلے ہفتے بِہار کے بہادر گنج اور گانگی ہاٹ میں 27 اور 28 دسمبر کو دو جلسے منعقد ہوئے۔جس میں مفتی مطیع الرحمن مضطر رضوی صاحب کا خصوصی بیان ہوا۔مفتی صاحب نے خطاب کرتے ہوئے خانقاہ سراواں کے معمولات ونظریات پر نقد کیا کیا، اعتدال و وسطیت اور احسان وسلوک کے سارے جھنڈا بردار جامے سے باہر ہوگیے۔خطاب کے فوراً بعد ہی سراوی حضرات کی جانب سے مفتی صاحب کی کردار کشی کی مہم چھیڑ دی گئی۔حالانکہ یہ وہی مفتی مطیع الرحمن ہیں جنہیں خود یہی لوگ فقیہ النفس، صاحب بصیرت اور حق گو مفتی کہتے نہیں تھکتے تھے مگر ان کی فکر پر سوال کیا اٹھایا اخلاق وتصوف کے علم بردار ساری اخلاقیات بھلا بیٹھے۔جاروب کشوں کے سرخیل نے شدت غضب میں ایک لمبی چوڑی تحریر لکھ کر مفتی صاحب کو "قلاباز، چور کا ساتھی، فقیہ نفس ونفسانیت" جیسی صلواتیں بھی سنا ڈالیں۔اتنے پر بھی مَن نہیں بھرا تو دوسروں کی آڑ لیکر گستاخ اور کافر ڈکلئیر کرتے ہوئے یوں گل افشانی کی:
"بعض اہل علم کا کہنا ہے کہ مفتی صاحب پر علی الاقل کفر لزومی ثابت ہے اور ایسے میں انہیں غیر مسلم کہا جاسکتا ہے۔"
*چونکیے مت!*
*فقہاے دین کو "علماے حیض و نفاس" کہنے والے یہ وہی روشن خیال جاروب کش ہیں جنھوں نے علماے عصر کو طعنہ دیتے ہوئے لکھا تھا:*
*"جہاں تک علما کی بات کریں تو موجودہ عہد کے علما بالعموم اس مرض تکفیریت میں مبتلا ہیں۔"*
(مسئلہ تکفیر و متکلمین ص 28)
جاروب کشوں کی یہ جماعت عرصہ دراز سے طواغیت اربعہ کی وکالت کا فریضہ انجام دیتے ہوئے اہل سنت کو تکفیری کہنا عملاً فرض مانتی ہے مگر آج مفتی مطیع الرحمن صاحب نے ذرا سا نقد کیا کیا، یہ لوگ مفتی صاحب پر ہی کفر کی تلوار سونت کر کھڑے ہوگیے ہیں۔اس وقت جاروب کشوں کا پورا گروہ "مفتی مطیع الرحمن کافر ہوگیے" کی تشہیر میں لگا ہوا ہے۔سوشل میڈیا کے سارے معتدل منے کفر کی گردان میں مصروف ہیں اب تحقیق کی حاجت ہے نہ تکفیریت کا خوف!
_یہ بات اپنے آپ میں کس قدر حیران کن ہے کہ جو شخص 26 دسمبر تک ان کے نزدیک شعور وآگہی کا قطب مینار تھا وہ دو دن کے اندر اتنا پست قد ہوگیا کہ اب ان پر "کھیل کھیلنے" اور "آپ کی کہانیاں یاد ہیں" جیسی عامیانہ اور دھمکی آمیز زبان استعمال کی جارہی ہے۔
ایک پل میں ہیں بدلے پیمانے، اک پل میں ٹوٹے یارانے
جو جان سے بڑھ کر اپنا تھا وہ آج رقیب جاں ہے بنا
وقت کا کھیل_____
وقت بھی کیسے کیسے نظارے دکھاتا ہے، چند سال ہی گزرے ہیں جب جاروب کشوں کی یہ جماعت تعظیم وتکریم اور تواضع و انکساری کو "غلو عقیدت" اور "عقیدت بے جا کا اسیر" کہہ کر اہل سنت کا مذاق اڑاتی تھی۔ہم چو من دیگرے نیست کی خماری میں فکری آوارگی پر دانش وری اور حقیقت پسندی کا خوش نما لیبل لگایا جاتا تھا تاکہ باز پرس کرنے والوں کو متشدد، تنگ نظری اور قدامت پسندی کا طعنہ دے کر خود کو بچایا بھی جاسکے۔یہی لوگ "سگ کوچہ اور سگ در" جیسے متواضع جملوں پر حقیقی معنی کا اطلاق کرکے نہایت سطحی تبصرے کیا کرتے تھے۔مگر آج حقیقت پسندی اور دانش وری کے وہی سورما ایک ایسے شیخ کی چوکھٹ کے "جاروب کش" بنے بیٹھے ہیں جو کفر واسلام کی سرحد سے بہت دور کہیں دھونی رمائے بیٹھا ہے۔سراواں کا ایک جاروب کش اپنی عقیدت کا اظہار اس طرح کرتا ہے:
"ان (شیخ سراواں) کی صحبت بابرکت سے ہمیں حلاوت ایمان، فکر آخرت اور لذت بندگی حاصل ہوئی....اس در کے گداگروں میں شامل ہونا ہمارے لیے فخر واعزاز کی بات ہے۔"
(فتوی سراواں)
عقیدت ومحبت کے اس اظہاریہ پر ہم کسی جاروب کش سے یہ مطالبہ بالکل نہیں کریں گے کہ حلاوت ایمان اور لذت بندگی کا حصول نصیبے کی بات ہے مگر یہ حلاوت ولذت اُسی تیسری دنیا سے جڑی ہے جس کی تمنا ان کے شیخ کرتے ہیں یا اس کا کوئی سرا محمد عربی ﷺ کے دین سے بھی جڑتا ہے؟ ہم صرف اتنا ہی کہیں گے کہ ایک بار دل پر ہاتھ رکھ کر اپنی پرانی زندگی اور ان دل آزار تحریروں پر ضرور غور کریں جن میں اہل سنت کو بدنام کرنے کی ہر ممکن کوشش کی گئی۔اکابرین اہل سنت پر طرح طرح کی الزام تراشیاں کی گئیں مگر آج وہ سارے الزامات جاروب کشوں کی زندگی کا حصہ بن گیے ہیں۔ابھی بھی وقت ہے کہ اپنی آزاد روی سے باز آجائیں ورنہ ایک وقت وہ بھی آئے گا جب یہ لوگ ہر اس برائی میں ملوث ہوں گے جس کا الزام اہل سنت کو دیا کرتے ہیں۔اس لیے اکابرین پر طنز وتشنیع سے باز آئیں ورنہ نشان عبرت بن جائیں گے۔
٢جمادی الثانیہ ١٤٤٣ھ
6 جنوری 2021 بروز جمعرات
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
کیا گزر جانے والاسال ہمیں یہ پیغام دے کر نہیں گیا کہ: میں چلا گیا ہوں ۔۔۔۔۔۔ لیکن اکیلا نہیں گیا ، بہت سارے نیک و بد ساتھ لے کرگیا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔ قبرستان جاکر دیکھ لو کتنے ہی کتبوں پر تمھیں 2021 ء لکھا نظر آئے گا ۔ اے میرے بعد آنے والے نئے سال کی خوشیاں منانے…
ابوتمام حبیب بن اَوس نے کہاتھا ؎
لَيسَ الغَبِيُّ بِسَيِّدٍ فِي قَومِه
لكِنَّ سَيِّد قَومِهِ المُتَغابِي
بے وقوف بندہ اپنی قوم میں سردار نہیں ہوتا ، لیکن قوم کے سردار کو ( بعض اوقات جان بوجھ کر ) بے وقوف بننا پڑتا ہے ۔
مطلب: سردار چشم پوشی کرنے والا ہوتا ہے ، دیکھتے ہوئے بھی انجان بنا رہتا ہے ، سننے کے باوجود بہرہ ۔۔۔۔۔۔ اور بولنے کے باوجود گونگا بنا رہتاہے ۔
یہ خوبی ہر کامیاب سردار ، افسر ، ذمے دار ، سربراہ ، اور نگران میں ہونی چاہیے کہ ہر چھوٹی بڑی بات پر ماتحتوں کا تعاقب نہ کرتا رہے ۔۔۔۔۔۔۔ موقع محل دیکھ کر چلے ۔
✍️ لقمان شاہد
7-1-2022 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3352588688354630&id=100008105947430
لَيسَ الغَبِيُّ بِسَيِّدٍ فِي قَومِه
لكِنَّ سَيِّد قَومِهِ المُتَغابِي
بے وقوف بندہ اپنی قوم میں سردار نہیں ہوتا ، لیکن قوم کے سردار کو ( بعض اوقات جان بوجھ کر ) بے وقوف بننا پڑتا ہے ۔
مطلب: سردار چشم پوشی کرنے والا ہوتا ہے ، دیکھتے ہوئے بھی انجان بنا رہتا ہے ، سننے کے باوجود بہرہ ۔۔۔۔۔۔ اور بولنے کے باوجود گونگا بنا رہتاہے ۔
یہ خوبی ہر کامیاب سردار ، افسر ، ذمے دار ، سربراہ ، اور نگران میں ہونی چاہیے کہ ہر چھوٹی بڑی بات پر ماتحتوں کا تعاقب نہ کرتا رہے ۔۔۔۔۔۔۔ موقع محل دیکھ کر چلے ۔
✍️ لقمان شاہد
7-1-2022 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3352588688354630&id=100008105947430