🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from چینل صدائے حق
*جان لیجیے کس پر کیا فرض ہے*


علماء پر لازم ہے کہ زبان و قلم سے گستاخوں کا رد کریں ان کے مکر کو کھولیں، عقلی و نقلی دلائل سے انہیں عاجز کریں، عوام کا کام ہے ان بدمذہبوں سے دور رہیں اُن کی نہ سنیں، حکام کا کام ہے انہیں سزا دیں ہر ایک کو چاہیے اپنی ذمہ داری پوری کریں کیونکہ رب العزت کسی جان پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا
👇🏻
آئیے دیکھتے ہیں امام اہلسنت امام عشق و محبت سیدی سرکار اعلی حضرت رضی اللہ عنہ کیا فرماتے ہیں
👇🏻👇🏻👇🏻
حسام الحرمین صفحہ 151
👈 "سلطان اسلام پر کہ سزا دینے کا اختیار اور سنان و پیکان رکھتا ہے ان کا قتل واجب ہے
*امام اہلسنت رضی اللہ عنہ حاشیہ میں فرماتے ہیں*
"☑️ وہ اسلامی سلطنتوں میں بادشاہ اسلام ہے.
☑️ رہے عام مسلمین تو ان کے لیے زبان سے رد دل سے پرہیز اپنے بھائیوں کو ہر شیطان کی بات سننے سے نفرت دلانا ہے کہ اللہ ہرگز تکلیف نہیں دیتا کسی جان کو مگر اس کے بوتے بھر ١٢
------------------
📚حسام الحرمین صفحہ 148
👈 "عوام مسلمانوں پر ان سے سخت خطرہ کا خوف ہے خصوصاً ان شہروں میں جہاں کے حاکم دین اسلام کی مدد نہیں کرتے اس لیے کہ وہ خود مسلمان نہیں.
ہر مسلمان پر ان سے دور رہنا فرض ہے جیسے آدمی آگ میں گرنے اور خونخوار درندوں سے دور رہتا ہے.
☑️ اور مسلمانوں میں جس سے ہو سکے کہ ان لوگوں کو مخذول کرے اور ان کے فساد کی جڑ اکھیڑے *اس پر فرض ہے کہ اپنی حد قدرت تک* اسے بجا لائے
------------------
📚حسام الحرمین صفحہ 145و46
" اور بیشک امام غزالی علیہ الرحمہ نے ایسے ہی فرقوں کے حق میں فرمایا ہے کہ *حاکم* کو ان میں سے ایک کا قتل ہزار کافروں کے قتل سے بہتر ہے

مجدد دین و ملت امام اہلسنت رضی اللہ عنہ حاشیہ میں فرماتے ہیں
☑️ " کہ یہ خاص سلطان اسلام کا کام ہے *نہ دوسرے کا* جیسا کہ ابھی اس کی تصریح گزری ١٢
پھر صفحہ 146 کے حاشیہ میں فرماتے ہیں
" اوپر کئی بار گزرچکا اور خاص اس کلام میں ہے کہ
☑️ بے شبہ یہ(حکم قتل) بادشاہ اسلام کے سوا *کسی کو نہیں ١٢*
-----------------
📚 حسام الحرمین صفحہ 165
.... جو ان شنیع بدعتوں کا مرتکب ہوا توبہ لینے کہ بعد 👈 سلطان اسلام کہ لئے اس کا خون حلال ہے - - - - - - - -
👈 تو مشاہیر علماء جن کی زبان کو اللہ تعالیٰ نے وسعت دی ہے اور سلاطین و حکام جن کے ہاتھ کو جزا و سزا میں کشادہ کیا ہے ان سب پر فرض ہے کہ ان لوگوں کی بد مذہبیاں زائل کرنے میں
👈 علماء زبان سے
👈 اور سلاطین ہاتھ سے کوشش کریں تاکہ بندے اور شہر اور ذہن ان کی تکلیفوں سے راحت پائیں.
*امام اہلسنت حاشیہ میں فرماتے ہیں کہ*
👈 یہ احکام وہاں تک کہ ان کہ ہاتھ اور انگلیاں کچل دی جائیں *سلطان اسلام کے لیے ہیں* اللہ تعالیٰ اس کی مدد کو قوت بخشے جیسا کہ ابھی شیخ تفصیل فرمائیں گے کہ ان کی بدعت کا ازالہ لازم ہے 👈علماء پر زبان سے،
👈حکام پر سنان سے،
👈 عوام پر ان کی صحبت کے اجتناب سے الخ١٢
----------------
👇🏻👇🏻👇🏻👇🏻
📚 حسام الحرمین صفحہ 207
اور یہ کہ مرتدوں کا جو حکم ہے یعنی *حاکم کا ان کو قتل کرنا* ان پر جاری کیا جائے *اور اگر یہ حکم وہاں جاری نہ ہو تو واجب ہے کہ مسلمانوں کو ان سے ڈرایا جائے* اور ان سے نفرت دلائ جائے ممبروں پر اور رسالوں میں اور مجلسوں اور محفلوں میں، *تاکہ ان کے شر کا مادہ جل جائے اور ان کے کفر کی جڑ کٹ جائے*
----------------
👇🏻👇🏻👇🏻
📚 حسام الحرمین صفحہ 202
جو انبیاء کرام علیہم السلام میں سے کسی کو برا کہے یا ان کی شان گھٹائے حکم دیا کہ اسے سزائے موت دی جائے اور اس سے توبہ نہ لی جائے،

*امام اہلسنت حاشیہ میں فرماتے ہیں کہ*
👈 سلطان اسلام نصرہ اللہ تعالیٰ اسے قتل کرے اور اس سے توبہ کو نہ کہے اور وہ توبہ کرے تو نہ سنے اور اپنا حکم اس میں جاری کرے اس لیے کہ اس کا قتل تو بطور حد ہے اور حد توبہ سے ساقط نہیں ہوتی اور *حد جاری کرنے کا اختیار صرف سلطان کو ہے* جیسا کہ علماء نے تصریح فرمائی - ١٢
--------------------
👇🏻👇🏻👇🏻👇🏻👇🏻
📚 حسام الحرمین صفحہ 196
امام قاضی عیاض نے فرمایا جو اپنی طرف وحی آنے یا نبوت یا اس کے مثل کسی بات کا دعویٰ کرے وہ کافر ہے اس کا خون حلال ہے
*امام اہلسنت اعلی حضرت رضی اللہ عنہ حاشیہ میں فرماتے ہیں کہ*
👈 ائمہ نے یہ احکام سلطان اسلام کے لئے ذکر فرمائے ہیں..اس لئے کہ کسی کو قتل کرنا یا اس پر حد جاری کرنا خاص بادشاہ ہی کے لیے ہے اور اسی کو اس کا اختیار ہے
👈 علماء پر یہ لازم ہے کہ ان کے مکر کھولیں ان کے عقائد کا رد کریں ان کے فسادوں کو دور فرمائیں
👍2
Forwarded from چینل صدائے حق
👈 اور عوام پر یہ لازم ہے کہ ان سے بھاگیں ان سے میل جول نہ کریں ان کی دھوکے والی باتیں نہ سنیں اور اللہ تعالیٰ توفیق دینے والا ہے ١٢مصحح
----------------
📚 حسام الحرمین صفحہ 177
جو قتل کا اختیار رکھتے ہیں ان پر واجب ہے کہ ان کو سزائے موت دیں
*امام اہلسنت حاشیہ میں فرماتے ہیں کہ* ترجمہ یعنی سلاطین اسلام ١٢
-----------------
📚 حسام الحرمین صفحہ 157
....تو ہر ذی عقل پر واجب ہے کہ اسے سمجھائے اور اس کی تعظیم نہ کرے اور کیوں نہ ہو کہ جسے خدا ذلیل کرے اسے کون عزت دے تو اس کا حال اگر راستی پر آجائے جب تو خیر ورنہ نہایت اچھی طرح اس سے مجادلہ کرنا واجب ہے پس اگر توبہ کر لے فبھا
👈ورنہ حاکم اسلام پر فرض ہے کہ اگر وہ تھوڑے ہیں تو انہیں قتل کرے
👈اور جتھا باندھے ہیں تو فوج بھیج کر ان سے لڑے - اور ان کا ٹھکانہ ٹھیک جہنم میں ہے ۔
🎙️سنتے ہو قلم بھی ایک زبان ہے اور زبان بھی ایک نیزہ ۔
اور کفری بد مذہبوں کی گردنیں کاٹنا بھی ایک تلوار ہے اور شک نہیں کہ قطعی دلیلوں کے ساتھ اچھی طرح مجادلہ کرنا بھی ایک نوع جہاد ہے.
*امام اہلسنت حاشیہ میں فرماتے ہیں کہ*
👈 یہ احکام تو سلطان اسلام کہ لیے ہیں کہ تھوڑے ہوں تو ان کو سزائے موت دے اور جتھا ہو تو ان پر فوج اسلام بھیجے
👈 اور علماء و عوام کے لئے یہ ہے کہ تحریر و تقریر سے ان کا رد کریں جیسا کہ آگے خود فرمایا ہے کہ قلم بھی ایک زبان ہے اور زبان بھی ایک نیزہ ہے الٰی آخرہٖ ١٢-
--------------------
📚 حسام الحرمین صفحہ 137
دنیا میں اس کے مستحق ہیں کہ سلطان اسلام ان کی گردنیں مارے _ٰ
*حاشیہ میں مجدد دین و ملت امام اہلسنت فرماتے ہیں*
👈 جان لیجیے دنیا میں گردنیں مارنا *بس حکام ہی* کے سپرد ہے
👈 نہ عام (رعایا) کے جس طرح آخرت میں عذاب دینا صرف ذو الجلال والاکرام کے ہاتھ.
👈 رہے اور لوگ جو سلاطین و حکام کے سوا ہیں *ان کا فرض فقط زبان سے رد اور بیان سے جھڑکنا* اور اہل اسلام کو شیاطین کے میل جول سے بچانا اور کام حکام تک پہچانا ہے. اللہ تعالیٰ کسی جان کو تکلیف نہیں دیتا مگر اس کے بوتے بھر
بلکہ حقیقتاً فقہائے کرام نے کتب فقہ میں مصرح ارشاد فرمایا ہے کہ
👈 جو کسی مرتد کو بے حکم بادشاہ قتل کردے اسے بادشاہ سزا دے جب ممالک اسلامیہ میں یہ حکم ہے تو ان کے ماسوا میں کیسے نہ ہوگا؟؟
👈 کیونکہ مرتد کے قاتل کو غیر مسلم حکام یقینی قتل کر دیں گے تو اس( قتل مرتد) میں اپنے ہاتھوں اپنی جان ہلاکت میں ڈالنا ہے اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے "اپنے ہاتھوں اپنی جان ہلاکت میں مت ڈالو" اور اپنے نفس مسلم کو ایک کافر جان کے عوض قتل کے لیے پیش کرنا ہے"
--------------
حکم شرع سامنے آنے پر اگر مگر لیکن کیوں اور کیسے کرنے والے حضرات امام اہلسنت کے اس عظیم ارشاد کو پیش نظر رکھیں
*گمراہی کہہ کر نہیں آتی، گمراہی کا پہلا پھاٹک یہی ہے کہ آدمی کے دل سے اتباع سبیل مومنین کی قدر نکل جائے*
ایگ جگہ ارشاد فرماتے ہیں
*قرآن امام حدیث ہے، حدیث امام مجتہدین، مجتہدین امام علما، علماء امام عوام الناس۔ اس سلسلہ کاتوڑنا گمراہ کاکام*
ایک مقام پر فرمایا
*عوام مسلمین کو نماز، روزے ، وضو، غسل، قراء ت کی تصحیح فرض ہے جس سے روزِ قیامت ان پر مطالبہ و مواخذہ ہوگا، اپنے مرتبہ سے اونچی باتوں میں کچہریاں جمانا اور کھچڑیاں پکانا اور رائیں لگانا گمراہی کا پھاٹک ہے۔*
اے لوگوں ہر گستاخ سے بچو دوسروں کو بچاؤ، خبردار گستاخ کے بارے میں نرمی نہ کرنا جان لو "تولا بے تبرا نیست ممکن" جان لو گستاخ کوئی مشرک ہو یا مدعی اسلام (وہابی، دیوبندی، قادیانی،رافضی،نیچری،) ہر گستاخ سے نفرت کرو ان سے دور بھاگو، نہ ان کی سنو اور نہ ہی اس کی گستاخی کو عام کرو
اللہ عزوجل ہم تمامی مسلمانوں کو اسلام اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی محبت عطا فرمائے

چراغ جلا کے میں نے رکھ دیا ہے راہوں میں
اب جو راستہ بھولے وہ اس کی قسمت ہے

📝 حسن نوری گونڈوی امام نورانی مسجد بیگم باغ کالونی اجین ایم پی
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
*📚 « مختصــر ســوانح حیــات » 📚*
-----------------------------------------------------------
*🕯فقیہ ِملت مفتی جلال الدین احمد امجدی رحمۃ اللّٰه علیہ🕯*


*نام و نسب:*
*اسمِ گرامی:* جلال الدین احمد۔
*لقب:* فقیہِ ملت۔
*سلسلہ نسب اسطرح ہے:* مفتی جلال الدین احمد بن جان محمد بن عبدالرحیم بن غلام رسول بن ضیاء الدین بن محمد سالک بن محمد صادق بن عبدالقادر بن مراد علی۔ رحمہم اللہ تعالیٰ۔
آپ کا تعلق ایک علمی و دیندار گھرانے سے تھا۔

*تاریخِ ولادت:* آپ کی ولادت باسعادت 1352ھ، مطابق 1933ء کو ضلع "بستی" کی مشہور آبادی اوجھا گنج میں ہوئی، جو شہر بستی سے بیس کلو میٹر مغرب فیض آباد روڈ سے دو میل جنوب میں واقع ہے۔

*تحصیلِ علم:* سات سال کی عمر میں مولانا حافظ زکریا سے ناظرہ قرآنِ مجید مکمل کیا اور پھر حفظ کا شوق ہوا تو تین سال میں قرآن ِ مجید ساڑھے دس سال کی چھوٹی سی عمر میں حفظ مکمل کرلیا۔ پیر زادہ مولانا عبدالباری صاحب اور مولانا عبدالرؤف صاحب سے فارسی کی چھوٹی بڑی بارہ کتب پڑھیں اور عربی کی ابتدائی تعلیم بھی انہیں سے حاصل کی۔ مزید حصولِ علم کے لیۓ "مدرسہ اسلامیہ شمس العلوم" میں رئیس المتکلمین ملک التحریر حضرت علامہ ارشد القادری صاحب رحمۃ اللّٰه علیہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اٹھارہ سال کی عمر میں 24 شعبان المعظم 1317ھ مطابق 19 مئی 1952ء کو سندِ فراغت حاصل فرمائی۔
آپ فرماتے ہیں: وقت کی قدر کی، اسےضائع نہ کیا۔ درسی کتابوں کی شروح و حواشی سے گہرا مطالعہ کرنے کے بعد پڑھایا، اساتذہ اور والدین کو خوش رکھا، ان کی خدمتیں کیں، ان سے دعائیں لیں اور یقین ہوگیا کہ حقیقت میں علم حاصل کرنے کا وقت فراغت کے بعد ہے اور زمانۂ طالبِ علمی میں صرف علم حاصل کرنے کی صلاحیت پیدا کی جاتی ہے تو خدا تعالیٰ نے مجھے اس منزل پر پہنچا دیا جس کا کبھی تصور نہیں کر سکتا تھا۔ فللہ الحمد۔

*شرفِ بیعت:* آپ کو زمانۂ طالب علمی سے ہی صدرالشریعہ بدرالطریقہ حضرت مفتی محمد امجد علی صاحب اعظمی قدس سرہ العزیز سے گہری عقیدت تھی، اور جب یہ معلوم ہوا کہ آپ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان بریلوی علیہ الرحمہ والرضوان کے خلیفہ ہیں تو آپ کی عقیدت اور زیادہ ہوگئی، چنانچہ 29 جمادی الاولی 1378ھ مطابق 1948ء کو صدرالشریعہ سے مرید ہوکر سلسلہ قادریہ رضویہ میں داخل ہوگئے۔

*سیرت و خصائص:* محسن اہل سنت، فقیہ ملت، فقیہ العصر، مناظرِ اعظم، مدرس اکمل، جامع علوم عقلیہ و نقلیہ، صاحبِ اوصاف کثیرہ حضرت علامہ مولانا مفتی جلال الدین احمد امجدی رحمۃ اللہ علیہ۔
آپ اپنے وقت کی ایک عظیم اور جامع شخصیت کے مالک تھے۔ آپ کی تصنیفی، تدریسی، دینی، ملی، علمی اور تقریری خدمات اور بالخصوص دینی مدارس کا قیام جو مسلک حق اور دینِ اسلام کیلۓ روح کی حیثیت رکھتے ہیں آپ کی زندگی کے ایسے شاندار کارنامے ہیں جن پر اہلسنت آپ کا جتنا شکریہ ادا کریں کم ہے ۔

مدارس یقیناً ایک قلعےکی حیثیت رکھتے ہیں، مدارس کا اثر مستقل اور دیر پا ہوتا ہے۔جس علاقے میں مدرسہ ہوگا وہاں کے لوگوں کا اور ان کی نسلوں کا ایمان محفوظ رہے گا۔بہت سے علاقے ہمارے مشاہدے میں ہیں کہ وہاں بدمذہبوں نے مدرسے کھولے اور پوری سنی آبادی کو بدمذہب بنا دیا۔
حضرت فقیہ ملت فرماتے ہیں:" مذہب اہل سنت کی تبلیغ، مسلک اعلی حضرت کی ترویج اور ضلع بستی وگونڈہ کی بڑھتی ہوئی بد مذہبی کی روک تھام کےلیے حضرت شاہ محمد یار علی صاحب علیہ الرحمۃ نے حضرت شیر بیشہ اہل سنت قدس سرہ جیسے ساحر البیان مقرر اور مناظر کو ہمراہ لے کر بہت سے دیہاتوں کا دورہ فرمایا جن کی تقریر و مناظرے نے پورے علاقہ میں دھوم مچا دی اور اہل سنت میں نئی روح ڈال دی لیکن چوں کہ تعلیم کے مقابلہ میں تقریر و مناظرہ کا اثر زیادہ دیر پا نہیں ہوتا اس لیے حضرت شعیب الاولیاء کی عین تمنا تھی کہ اس علاقے میں اہل سنت کے مدارس بنائے جائیں اور ان کے تعلیمی معیار کو اعلیٰ کیا جائے تاکہ تعلیم خوب عام ہوجائے۔ آپ اپنے تمام مریدین و معتقدین کو مدارس کی مدد کی تلقین فرماتے تھے۔
"(مقدمہ انوار الحدیث، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ)

ایک اور مقام پر افسوس کے ساتھ ارشاد فرماتے ہیں:
درس و تدریس، تالیف اور فتوی نویسی کے ساتھ ہم نے وعظ و تقریر کی بھی کوشش کی اس لیے کہ جاہل عوام کی تبلیغ کے لیے یہی ایک ذریعہ ہے۔ یہ بات افسوس ناک ہے کہ آج کل وعظ و تقریر کے بارے میں ہماری جماعت کا مزاج بہت بگڑ گیا ہے کہ سیرت النبیﷺ کے مبارک اسٹیج پر فساق و فجار ہر قسم کے شعراء کثرت سے بلائے جاتے ہیں اور گیارہ بارہ بجے تک فلمی ٹھمری وغیرہ ہر قسم کی طرز کے اشعار پڑھے جاتے ہیں، پھر تھوڑی دیر عالم کی تقریر ہوتی ہے اور آخر میں پھر اشعار پڑھے جاتے ہیں۔ اس طرح تقریر کا جو کچھ اثر ہوتا ہے وہ زائل ہو جاتا ہے اور سامعین صرف نغمہ و ترنم کا اثر لے کر اپنے اپنے گھر جاتے ہیں۔ بعض جلسوں میں تو اتنے بڑے شعراء بلائے جاتے ہیں جو بڑے بڑے
👍1
شیخ الحدیث سے بھی بڑے ہوتے ہیں کہ ان سے زیادہ شاعر کی خاطر مدارت ہوتی ہے، لوگ اسے گھیرے رہتے ہیں اور نہایت ہی اعزاز اور تعظیم و تکریم کے ساتھ اسے رخصت کرتے ہیں۔ میں ایسے جلسوں میں جہاں گویے شاعر حاصل جلسہ ہوں شرکت کرنے سے پرہیز کرتا ہوں کہ مذہبی جلسوں میں مذہبی پیشوا کی ثانوی حیثیت ہونا مذہب اور مذہبی پیشوا دونوں کی موت ہے۔ (ایضاًٍ)

*علماء و مشائخ سے شکوہ:* حضرت فقیہ ِ ملت فرماتے ہیں:
"ہماری جماعت میں تصنیف و تالیف کی بہت کمی ہے۔ دوسرے لوگ قرآن و حدیث کے ترجمے، ان کی تفسیر تشریح، درسی کتابوں کے شروح و حواشی اور ان کے ترجمے تاریخ و سیر اور اخلاق و تصوف وغیرہ ہر علم و فن کی کتابیں لکھنے میں پیش پیش ہیں اور ہم بالکل نہ لکھنے کے برابر اس لیے کہ ہماری جماعت کے اکثر وہ جلیل القدر علماء جو تصنیف و تالیف کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں اپنا پورا وقت وعظ و تقریر پیری مریدی، میں صرف کرکے اپنی اس عظیم ذمہ داری سے غفلت برت رہے ہیں، ہم یہ نہیں کہتے کہ وہ پیری مریدی اور وعظ و تقریر نہ کریں لیکن ان سے اتنا ضرور عرض کریں گے کہ وقت کی اس اہم ضرورت پر توجہ دیں اور اپنی مصروفیات سے وقت نکال کر تصنیفی کام ضرور کریں ورنہ سنیت کا مستقبل تاریک سے تاریک تر ہوتا جائے گا"۔ (ایضاً)

آپ مسلکِ حق اہل اہلسنت و جماعت کے فروغ کیلئے ساری زندگی خلوص وللہیت کیساتھ جدوجہد کرتے رہے۔ یہی وجہ ہے کہ زمانہ آپ کو "فقیہِ ملت" کے نام سے یاد کرتا ہے۔ آپ نے حصول علم کیلۓ جو مشقتیں برداشت کیں آج کا طالب ِ علم سوچ بھی نہیں سکتا۔ آپ نے اپنی کتب کے مقدمات میں جو تجربات قلم بند کیے ہیں آ ج کے علماء و طلباء کو انکا ضرور مطالعہ کرنا چاہیے۔

*وصال:* 4/ جمادی الثانی 1422ھ، مطابق 24/اگست 2001ء شبِ جمعہ بارہ بجکر پچپن منٹ پر 70 سال کی عمر میں اوجھا گنج (انڈیا) میں وصال فرمایا۔

*ماخذ و مراجع:* مقدمہ انوار الحدیث۔


*المرتب محـمد یـوسـف رضـا رضـوی امجـدی نائب مدیر "فیضـانِ دارالعـلوم امجـدیہ ناگپور گروپ" 9604397443*
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM