🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
مختلف روایتوں میں آخری دس آیتوں اور شروع کی تین آیتوں کا بھی ذکر ہے. یاد کرنے سے مراد ان کی تلاوت پر مداومت ہے، اس طرح کہ روزانہ ان کی تلاوت کر لیا کرے یا خاص طور پر ہر جمعہ کو. چونکہ سورۂ کہف میں یہ بھی ذکر ہے کہ اللہ تعالی نے اصحاب کہف کو دقیانوس بادشاہ…
https://www.facebook.com/114021443682673/posts/476146610803486/
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
🔎 #Sacred_Traditions 🔍
Sacred Traditions Official
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
🔎 #Sacred_Traditions 🔍
Sacred Traditions Official
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
https://www.facebook.com/114021443682673/posts/476146610803486/ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬ 🔎 #Sacred_Traditions 🔍 Sacred Traditions Official ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
یعنی جو مسلمان ننانوے اسمائے الہیہ یاد کرے اور ان کا ورد کیا کرے وہ ان شاء اللہ اول ہی سے جنت میں جائے گا۔ ایک روایت کے مطابق جس نے ان کے ذریعے دعا مانگی تو اللہ تعالی اس کی دعا کو قبول فرمائے گا۔ یاد رہے، علماء کا اس پر اتفاق ہے کہ اسمائے الہیہ ننانوے یا کسی بھی عدد میں منحصر نہیں ہیں۔ حق تعالی کے دو سو ایک نام دلائل الخیرات شریف میں بیان ہوئے ہیں اور مدارج النبوۃ میں شیخ محقق نے رب تعالی کے ایک ہزار نام گنائے۔ حدیث پاک کا مقصود یہ ہے کہ اتنے (یعنی ننانوے) ناموں کے یاد کرنے سے انسان جنتی ہو جاتا ہے۔ (جامع الصغیر، شرح نووی، مرآۃ المناجیح)
https://www.facebook.com/114021443682673/posts/477380047346809/
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
🔎 #Sacred_Traditions 🔍
Sacred Traditions Official
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
https://www.facebook.com/114021443682673/posts/477380047346809/
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
🔎 #Sacred_Traditions 🔍
Sacred Traditions Official
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from چینل صدائے حق
*جان لیجیے کس پر کیا فرض ہے*
علماء پر لازم ہے کہ زبان و قلم سے گستاخوں کا رد کریں ان کے مکر کو کھولیں، عقلی و نقلی دلائل سے انہیں عاجز کریں، عوام کا کام ہے ان بدمذہبوں سے دور رہیں اُن کی نہ سنیں، حکام کا کام ہے انہیں سزا دیں ہر ایک کو چاہیے اپنی ذمہ داری پوری کریں کیونکہ رب العزت کسی جان پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا
👇🏻
آئیے دیکھتے ہیں امام اہلسنت امام عشق و محبت سیدی سرکار اعلی حضرت رضی اللہ عنہ کیا فرماتے ہیں
👇🏻👇🏻👇🏻
حسام الحرمین صفحہ 151
👈 "سلطان اسلام پر کہ سزا دینے کا اختیار اور سنان و پیکان رکھتا ہے ان کا قتل واجب ہے
*امام اہلسنت رضی اللہ عنہ حاشیہ میں فرماتے ہیں*
"☑️ وہ اسلامی سلطنتوں میں بادشاہ اسلام ہے.
☑️ رہے عام مسلمین تو ان کے لیے زبان سے رد دل سے پرہیز اپنے بھائیوں کو ہر شیطان کی بات سننے سے نفرت دلانا ہے کہ اللہ ہرگز تکلیف نہیں دیتا کسی جان کو مگر اس کے بوتے بھر ١٢
------------------
📚حسام الحرمین صفحہ 148
👈 "عوام مسلمانوں پر ان سے سخت خطرہ کا خوف ہے خصوصاً ان شہروں میں جہاں کے حاکم دین اسلام کی مدد نہیں کرتے اس لیے کہ وہ خود مسلمان نہیں.
ہر مسلمان پر ان سے دور رہنا فرض ہے جیسے آدمی آگ میں گرنے اور خونخوار درندوں سے دور رہتا ہے.
☑️ اور مسلمانوں میں جس سے ہو سکے کہ ان لوگوں کو مخذول کرے اور ان کے فساد کی جڑ اکھیڑے *اس پر فرض ہے کہ اپنی حد قدرت تک* اسے بجا لائے
------------------
📚حسام الحرمین صفحہ 145و46
" اور بیشک امام غزالی علیہ الرحمہ نے ایسے ہی فرقوں کے حق میں فرمایا ہے کہ *حاکم* کو ان میں سے ایک کا قتل ہزار کافروں کے قتل سے بہتر ہے
مجدد دین و ملت امام اہلسنت رضی اللہ عنہ حاشیہ میں فرماتے ہیں
☑️ " کہ یہ خاص سلطان اسلام کا کام ہے *نہ دوسرے کا* جیسا کہ ابھی اس کی تصریح گزری ١٢
پھر صفحہ 146 کے حاشیہ میں فرماتے ہیں
" اوپر کئی بار گزرچکا اور خاص اس کلام میں ہے کہ
☑️ بے شبہ یہ(حکم قتل) بادشاہ اسلام کے سوا *کسی کو نہیں ١٢*
-----------------
📚 حسام الحرمین صفحہ 165
.... جو ان شنیع بدعتوں کا مرتکب ہوا توبہ لینے کہ بعد 👈 سلطان اسلام کہ لئے اس کا خون حلال ہے - - - - - - - -
👈 تو مشاہیر علماء جن کی زبان کو اللہ تعالیٰ نے وسعت دی ہے اور سلاطین و حکام جن کے ہاتھ کو جزا و سزا میں کشادہ کیا ہے ان سب پر فرض ہے کہ ان لوگوں کی بد مذہبیاں زائل کرنے میں
👈 علماء زبان سے
👈 اور سلاطین ہاتھ سے کوشش کریں تاکہ بندے اور شہر اور ذہن ان کی تکلیفوں سے راحت پائیں.
*امام اہلسنت حاشیہ میں فرماتے ہیں کہ*
👈 یہ احکام وہاں تک کہ ان کہ ہاتھ اور انگلیاں کچل دی جائیں *سلطان اسلام کے لیے ہیں* اللہ تعالیٰ اس کی مدد کو قوت بخشے جیسا کہ ابھی شیخ تفصیل فرمائیں گے کہ ان کی بدعت کا ازالہ لازم ہے 👈علماء پر زبان سے،
👈حکام پر سنان سے،
👈 عوام پر ان کی صحبت کے اجتناب سے الخ١٢
----------------
👇🏻👇🏻👇🏻👇🏻
📚 حسام الحرمین صفحہ 207
اور یہ کہ مرتدوں کا جو حکم ہے یعنی *حاکم کا ان کو قتل کرنا* ان پر جاری کیا جائے *اور اگر یہ حکم وہاں جاری نہ ہو تو واجب ہے کہ مسلمانوں کو ان سے ڈرایا جائے* اور ان سے نفرت دلائ جائے ممبروں پر اور رسالوں میں اور مجلسوں اور محفلوں میں، *تاکہ ان کے شر کا مادہ جل جائے اور ان کے کفر کی جڑ کٹ جائے*
----------------
👇🏻👇🏻👇🏻
📚 حسام الحرمین صفحہ 202
جو انبیاء کرام علیہم السلام میں سے کسی کو برا کہے یا ان کی شان گھٹائے حکم دیا کہ اسے سزائے موت دی جائے اور اس سے توبہ نہ لی جائے،
*امام اہلسنت حاشیہ میں فرماتے ہیں کہ*
👈 سلطان اسلام نصرہ اللہ تعالیٰ اسے قتل کرے اور اس سے توبہ کو نہ کہے اور وہ توبہ کرے تو نہ سنے اور اپنا حکم اس میں جاری کرے اس لیے کہ اس کا قتل تو بطور حد ہے اور حد توبہ سے ساقط نہیں ہوتی اور *حد جاری کرنے کا اختیار صرف سلطان کو ہے* جیسا کہ علماء نے تصریح فرمائی - ١٢
--------------------
👇🏻👇🏻👇🏻👇🏻👇🏻
📚 حسام الحرمین صفحہ 196
امام قاضی عیاض نے فرمایا جو اپنی طرف وحی آنے یا نبوت یا اس کے مثل کسی بات کا دعویٰ کرے وہ کافر ہے اس کا خون حلال ہے
*امام اہلسنت اعلی حضرت رضی اللہ عنہ حاشیہ میں فرماتے ہیں کہ*
👈 ائمہ نے یہ احکام سلطان اسلام کے لئے ذکر فرمائے ہیں..اس لئے کہ کسی کو قتل کرنا یا اس پر حد جاری کرنا خاص بادشاہ ہی کے لیے ہے اور اسی کو اس کا اختیار ہے
👈 علماء پر یہ لازم ہے کہ ان کے مکر کھولیں ان کے عقائد کا رد کریں ان کے فسادوں کو دور فرمائیں
علماء پر لازم ہے کہ زبان و قلم سے گستاخوں کا رد کریں ان کے مکر کو کھولیں، عقلی و نقلی دلائل سے انہیں عاجز کریں، عوام کا کام ہے ان بدمذہبوں سے دور رہیں اُن کی نہ سنیں، حکام کا کام ہے انہیں سزا دیں ہر ایک کو چاہیے اپنی ذمہ داری پوری کریں کیونکہ رب العزت کسی جان پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا
👇🏻
آئیے دیکھتے ہیں امام اہلسنت امام عشق و محبت سیدی سرکار اعلی حضرت رضی اللہ عنہ کیا فرماتے ہیں
👇🏻👇🏻👇🏻
حسام الحرمین صفحہ 151
👈 "سلطان اسلام پر کہ سزا دینے کا اختیار اور سنان و پیکان رکھتا ہے ان کا قتل واجب ہے
*امام اہلسنت رضی اللہ عنہ حاشیہ میں فرماتے ہیں*
"☑️ وہ اسلامی سلطنتوں میں بادشاہ اسلام ہے.
☑️ رہے عام مسلمین تو ان کے لیے زبان سے رد دل سے پرہیز اپنے بھائیوں کو ہر شیطان کی بات سننے سے نفرت دلانا ہے کہ اللہ ہرگز تکلیف نہیں دیتا کسی جان کو مگر اس کے بوتے بھر ١٢
------------------
📚حسام الحرمین صفحہ 148
👈 "عوام مسلمانوں پر ان سے سخت خطرہ کا خوف ہے خصوصاً ان شہروں میں جہاں کے حاکم دین اسلام کی مدد نہیں کرتے اس لیے کہ وہ خود مسلمان نہیں.
ہر مسلمان پر ان سے دور رہنا فرض ہے جیسے آدمی آگ میں گرنے اور خونخوار درندوں سے دور رہتا ہے.
☑️ اور مسلمانوں میں جس سے ہو سکے کہ ان لوگوں کو مخذول کرے اور ان کے فساد کی جڑ اکھیڑے *اس پر فرض ہے کہ اپنی حد قدرت تک* اسے بجا لائے
------------------
📚حسام الحرمین صفحہ 145و46
" اور بیشک امام غزالی علیہ الرحمہ نے ایسے ہی فرقوں کے حق میں فرمایا ہے کہ *حاکم* کو ان میں سے ایک کا قتل ہزار کافروں کے قتل سے بہتر ہے
مجدد دین و ملت امام اہلسنت رضی اللہ عنہ حاشیہ میں فرماتے ہیں
☑️ " کہ یہ خاص سلطان اسلام کا کام ہے *نہ دوسرے کا* جیسا کہ ابھی اس کی تصریح گزری ١٢
پھر صفحہ 146 کے حاشیہ میں فرماتے ہیں
" اوپر کئی بار گزرچکا اور خاص اس کلام میں ہے کہ
☑️ بے شبہ یہ(حکم قتل) بادشاہ اسلام کے سوا *کسی کو نہیں ١٢*
-----------------
📚 حسام الحرمین صفحہ 165
.... جو ان شنیع بدعتوں کا مرتکب ہوا توبہ لینے کہ بعد 👈 سلطان اسلام کہ لئے اس کا خون حلال ہے - - - - - - - -
👈 تو مشاہیر علماء جن کی زبان کو اللہ تعالیٰ نے وسعت دی ہے اور سلاطین و حکام جن کے ہاتھ کو جزا و سزا میں کشادہ کیا ہے ان سب پر فرض ہے کہ ان لوگوں کی بد مذہبیاں زائل کرنے میں
👈 علماء زبان سے
👈 اور سلاطین ہاتھ سے کوشش کریں تاکہ بندے اور شہر اور ذہن ان کی تکلیفوں سے راحت پائیں.
*امام اہلسنت حاشیہ میں فرماتے ہیں کہ*
👈 یہ احکام وہاں تک کہ ان کہ ہاتھ اور انگلیاں کچل دی جائیں *سلطان اسلام کے لیے ہیں* اللہ تعالیٰ اس کی مدد کو قوت بخشے جیسا کہ ابھی شیخ تفصیل فرمائیں گے کہ ان کی بدعت کا ازالہ لازم ہے 👈علماء پر زبان سے،
👈حکام پر سنان سے،
👈 عوام پر ان کی صحبت کے اجتناب سے الخ١٢
----------------
👇🏻👇🏻👇🏻👇🏻
📚 حسام الحرمین صفحہ 207
اور یہ کہ مرتدوں کا جو حکم ہے یعنی *حاکم کا ان کو قتل کرنا* ان پر جاری کیا جائے *اور اگر یہ حکم وہاں جاری نہ ہو تو واجب ہے کہ مسلمانوں کو ان سے ڈرایا جائے* اور ان سے نفرت دلائ جائے ممبروں پر اور رسالوں میں اور مجلسوں اور محفلوں میں، *تاکہ ان کے شر کا مادہ جل جائے اور ان کے کفر کی جڑ کٹ جائے*
----------------
👇🏻👇🏻👇🏻
📚 حسام الحرمین صفحہ 202
جو انبیاء کرام علیہم السلام میں سے کسی کو برا کہے یا ان کی شان گھٹائے حکم دیا کہ اسے سزائے موت دی جائے اور اس سے توبہ نہ لی جائے،
*امام اہلسنت حاشیہ میں فرماتے ہیں کہ*
👈 سلطان اسلام نصرہ اللہ تعالیٰ اسے قتل کرے اور اس سے توبہ کو نہ کہے اور وہ توبہ کرے تو نہ سنے اور اپنا حکم اس میں جاری کرے اس لیے کہ اس کا قتل تو بطور حد ہے اور حد توبہ سے ساقط نہیں ہوتی اور *حد جاری کرنے کا اختیار صرف سلطان کو ہے* جیسا کہ علماء نے تصریح فرمائی - ١٢
--------------------
👇🏻👇🏻👇🏻👇🏻👇🏻
📚 حسام الحرمین صفحہ 196
امام قاضی عیاض نے فرمایا جو اپنی طرف وحی آنے یا نبوت یا اس کے مثل کسی بات کا دعویٰ کرے وہ کافر ہے اس کا خون حلال ہے
*امام اہلسنت اعلی حضرت رضی اللہ عنہ حاشیہ میں فرماتے ہیں کہ*
👈 ائمہ نے یہ احکام سلطان اسلام کے لئے ذکر فرمائے ہیں..اس لئے کہ کسی کو قتل کرنا یا اس پر حد جاری کرنا خاص بادشاہ ہی کے لیے ہے اور اسی کو اس کا اختیار ہے
👈 علماء پر یہ لازم ہے کہ ان کے مکر کھولیں ان کے عقائد کا رد کریں ان کے فسادوں کو دور فرمائیں