Forwarded from چینل صدائے حق
*گستاخ رسول کو سزا کون دے گا؟؟*
دیکھیے مشہور زمانہ کتاب حسام الحرمین علی منحر الکفر والمین مع اردو ترجمہ مبین احکام و تصدیقات اعلام
قریب ایک درجن سے زائد مقامات پر فرمایا گیا کہ گستاخ کو قتل کرنا حکام کا کام ہے، علماء زبان و قلم سے رد کریں عوام ان سے دور و نفور رہیں
👈 تقریظ 13
*حضرت علامہ مولانا شیخ عبد الرحمن دہّان فرماتے ہیں کہ*
"دنیا میں اس کے مستحق ہیں کہ سلطان اسلام ان کی گردنیں مارے
*حاشیہ میں مجدد دین و ملت امام اہلسنت فرماتے ہیں*
_ٰ جان لیجیے دینا میں گردنیں مارنا بس *حکام ہی کے سپرد ہے* نہ عام (رعایا) کے جس طرح آخرت میں عذاب دینا صرف ذو الجلال والاکرام کے ہاتھ. رہے
اور لوگ *جو سلاطین و حکام کے سوا ہیں ان کا فرض فقط زبان سے رد اور بیان سے جھڑکنا اور اہل اسلام کو شیاطین کے میل جول سے بچانا* اور کام حکام تک پہچانا
بلکہ
حقیقتاً فقہائے کرام نے کتب فقہ میں مصرح ارشاد فرمایا ہے کہ جو کسی مرتد کو بے حکم بادشاہ قتل کردے اسے بادشاہ سزا دے جب ممالک اسلامیہ میں یہ حکم ہے تو ان کے ماسوا میں کیسے نہ ہوگا کیونکہ مرتد کے قاتل کو غیر مسلم حکام یقینی قتل کر دیں گے تو اس( قتل مرتد) میں اپنے ہاتھوں اپنی جان ہلاکت میں ڈالنا ہے اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے "اپنے ہاتھوں اپنی جان ہلاکت میں مت ڈالو" اور اپنے نفس مسلم کو ایک کافر جان کے عوض قتل کے لیے پیش کرنا ہے.
*آپ خوب ہوشیار رہیے کہ جہاں کہیں (اس رسالہ میں) یہ احکام واقع ہوئے خاص بادشاہان (زمانہ) و حکام ہی کے لیے ہیں ١٢*
📚 حسام الحرمین صفحہ 137
👈تقریظ 15
*حضرت مولانا شیخ احمد مکی امدادی مدرس مدرسہ احمدیہ حرم شریف فرماتے ہیں کہ*
" اور بیشک *امام غزالی* علیہ الرحمہ نے ایسے ہی فرقوں کے حق میں فرمایا ہے کہ *حاکم کو* ان میں سے ایک کا قتل ہزار کافروں کے قتل سے بہتر ہے کہ دین میں ان کی مضرت زیادہ و سخت تر ہے
*امام اہلسنت رضی اللہ عنہ حاشیہ میں فرماتے ہیں*
" کہ یہ خاص *سلطان اسلام کا کام ہے* نہ دوسرے کا جیسا کہ ابھی اس کی تصریح گزری ١٢
پھر صفحہ 146 کے حاشیہ میں فرماتے ہیں
" اوپر کئی بار گزرچکا اور خاص اس کلام میں ہے کہ بے شبہ *یہ(حکم قتل) بادشاہ اسلام کے سوا کسی کو نہیں ١٢*
📚 حسام الحرمین صفحہ 145و 146
👈 تقریظ 16
مولانا محمد بن یوسف خیاط علیہ الرحمہ دیابنہ پر حکم لگانے کے بعد فرماتے ہیں
"عوام مسلمانوں پر ان سے سخت خطرہ کا خوف ہے خصوصاً ان شہروں میں جہاں کے حاکم دین اسلام کی مدد نہیں کرتے اس لیے کہ وہ خود مسلمان نہیں. ہر مسلمان پر ان سے دور رہنا فرض ہے جیسے آدمی آگ میں گرنے اور خونخوار درندوں سے دور رہتا ہے. *اور مسلمانوں میں جس سے ہو سکے کہ ان لوگوں کو مخذول کرے* اور ان کے فساد کی جڑ اکھیڑے اس پر فرض ہے کہ اپنی حد قدرت تک اسے بجا لائے
📚 حسام الحرمین صفحہ 148
👈 تقریظ 20
*حضرت مولانا شیخ حامد احمد محمد جداوی علیہ الرحمہ وہابیہ دیابنہ کا حکم بیان کرنے کے بعد فرماتے ہیں -* " اگر توبہ کر لے فبھا ورنہ حاکم اسلام پر فرض ہے کہ اگر وہ تھوڑے ہیں تو انہیں قتل کرے اور جتھا باندھے ہیں تو فوج بھیج کر ان سے لڑے - اور ان کا ٹھکانہ ٹھیک جہنم میں ہے ۔ *سنتے ہو قلم بھی ایک زبان ہے اور زبان بھی ایک نیزہ* ۔ اور کفری بد مذہبوں کی گردنیں کاٹنا بھی ایک تلوار ہے اور شک نہیں کہ قطعی دلیلوں کے ساتھ اچھی طرح مجادلہ کرنا بھی ایک نوع جہاد ہے."
*امام اہلسنت حاشیہ میں فرماتے ہیں کہ"*
*یہ احکام تو سلطان اسلام کہ لیے ہیں کہ تھوڑے ہوں تو ان کو سزائے موت دے اور جتھا ہو تو ان پر فوج اسلام بھیجے* اور علماء و عوام کے لئے یہ ہے کہ تحریر و تقریر سے ان کا رد کریں جیسا کہ آگے خود فرمایا ہے کہ قلم بھی ایک زبان ہے اور زبان بھی ایک نیزہ ہے الٰی آخرہٖ ١٢-
📚حسام الحرمین صفحہ 157
👈 تقریظ 18
*حضرت علامہ مولانا شیخ عبد الکریم ناجی داغستانی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں*
"سلطان اسلام پر کہ سزا دینے کا اختیار اور سنان و پیکان رکھتا ہے ان کا قتل واجب ہے بلکہ وہ ہزار کافروں کے قتل سے بہتر ہے
امام اہلسنت رضی اللہ عنہ حاشیہ میں فرماتے ہیں
" *وہ اسلامی سلطنتوں میں بادشاہ اسلام ہے.* رہے *عام مسلمین تو ان کے لیے زبان سے رد دل سے پرہیز اپنے بھائیوں کو ہر شیطان کی بات سننے سے نفرت دلانا ہے* کہ اللہ ہرگز تکلیف نہیں دیتا کسی جان کو مگر اس کے بوتے بھر ١٢
📚 حسام الحرمین صفحہ 151
👈 تقریظ 32
*حضرت محمد عزیز وزیر مالکی مغربی اندلسی مدنی تونسی علیہ الرحمہ آپ فرماتے ہیں کہ.*
امام قاضی عیاض علیہ الرحمہ نے فرمایا. جو اپنی طرف وحی آنے یا نبوت یا اس کے مثل کسی بات کا دعویٰ کرے وہ کافر ہے *اس کا خون حلال ہے*
دیکھیے مشہور زمانہ کتاب حسام الحرمین علی منحر الکفر والمین مع اردو ترجمہ مبین احکام و تصدیقات اعلام
قریب ایک درجن سے زائد مقامات پر فرمایا گیا کہ گستاخ کو قتل کرنا حکام کا کام ہے، علماء زبان و قلم سے رد کریں عوام ان سے دور و نفور رہیں
👈 تقریظ 13
*حضرت علامہ مولانا شیخ عبد الرحمن دہّان فرماتے ہیں کہ*
"دنیا میں اس کے مستحق ہیں کہ سلطان اسلام ان کی گردنیں مارے
*حاشیہ میں مجدد دین و ملت امام اہلسنت فرماتے ہیں*
_ٰ جان لیجیے دینا میں گردنیں مارنا بس *حکام ہی کے سپرد ہے* نہ عام (رعایا) کے جس طرح آخرت میں عذاب دینا صرف ذو الجلال والاکرام کے ہاتھ. رہے
اور لوگ *جو سلاطین و حکام کے سوا ہیں ان کا فرض فقط زبان سے رد اور بیان سے جھڑکنا اور اہل اسلام کو شیاطین کے میل جول سے بچانا* اور کام حکام تک پہچانا
بلکہ
حقیقتاً فقہائے کرام نے کتب فقہ میں مصرح ارشاد فرمایا ہے کہ جو کسی مرتد کو بے حکم بادشاہ قتل کردے اسے بادشاہ سزا دے جب ممالک اسلامیہ میں یہ حکم ہے تو ان کے ماسوا میں کیسے نہ ہوگا کیونکہ مرتد کے قاتل کو غیر مسلم حکام یقینی قتل کر دیں گے تو اس( قتل مرتد) میں اپنے ہاتھوں اپنی جان ہلاکت میں ڈالنا ہے اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے "اپنے ہاتھوں اپنی جان ہلاکت میں مت ڈالو" اور اپنے نفس مسلم کو ایک کافر جان کے عوض قتل کے لیے پیش کرنا ہے.
*آپ خوب ہوشیار رہیے کہ جہاں کہیں (اس رسالہ میں) یہ احکام واقع ہوئے خاص بادشاہان (زمانہ) و حکام ہی کے لیے ہیں ١٢*
📚 حسام الحرمین صفحہ 137
👈تقریظ 15
*حضرت مولانا شیخ احمد مکی امدادی مدرس مدرسہ احمدیہ حرم شریف فرماتے ہیں کہ*
" اور بیشک *امام غزالی* علیہ الرحمہ نے ایسے ہی فرقوں کے حق میں فرمایا ہے کہ *حاکم کو* ان میں سے ایک کا قتل ہزار کافروں کے قتل سے بہتر ہے کہ دین میں ان کی مضرت زیادہ و سخت تر ہے
*امام اہلسنت رضی اللہ عنہ حاشیہ میں فرماتے ہیں*
" کہ یہ خاص *سلطان اسلام کا کام ہے* نہ دوسرے کا جیسا کہ ابھی اس کی تصریح گزری ١٢
پھر صفحہ 146 کے حاشیہ میں فرماتے ہیں
" اوپر کئی بار گزرچکا اور خاص اس کلام میں ہے کہ بے شبہ *یہ(حکم قتل) بادشاہ اسلام کے سوا کسی کو نہیں ١٢*
📚 حسام الحرمین صفحہ 145و 146
👈 تقریظ 16
مولانا محمد بن یوسف خیاط علیہ الرحمہ دیابنہ پر حکم لگانے کے بعد فرماتے ہیں
"عوام مسلمانوں پر ان سے سخت خطرہ کا خوف ہے خصوصاً ان شہروں میں جہاں کے حاکم دین اسلام کی مدد نہیں کرتے اس لیے کہ وہ خود مسلمان نہیں. ہر مسلمان پر ان سے دور رہنا فرض ہے جیسے آدمی آگ میں گرنے اور خونخوار درندوں سے دور رہتا ہے. *اور مسلمانوں میں جس سے ہو سکے کہ ان لوگوں کو مخذول کرے* اور ان کے فساد کی جڑ اکھیڑے اس پر فرض ہے کہ اپنی حد قدرت تک اسے بجا لائے
📚 حسام الحرمین صفحہ 148
👈 تقریظ 20
*حضرت مولانا شیخ حامد احمد محمد جداوی علیہ الرحمہ وہابیہ دیابنہ کا حکم بیان کرنے کے بعد فرماتے ہیں -* " اگر توبہ کر لے فبھا ورنہ حاکم اسلام پر فرض ہے کہ اگر وہ تھوڑے ہیں تو انہیں قتل کرے اور جتھا باندھے ہیں تو فوج بھیج کر ان سے لڑے - اور ان کا ٹھکانہ ٹھیک جہنم میں ہے ۔ *سنتے ہو قلم بھی ایک زبان ہے اور زبان بھی ایک نیزہ* ۔ اور کفری بد مذہبوں کی گردنیں کاٹنا بھی ایک تلوار ہے اور شک نہیں کہ قطعی دلیلوں کے ساتھ اچھی طرح مجادلہ کرنا بھی ایک نوع جہاد ہے."
*امام اہلسنت حاشیہ میں فرماتے ہیں کہ"*
*یہ احکام تو سلطان اسلام کہ لیے ہیں کہ تھوڑے ہوں تو ان کو سزائے موت دے اور جتھا ہو تو ان پر فوج اسلام بھیجے* اور علماء و عوام کے لئے یہ ہے کہ تحریر و تقریر سے ان کا رد کریں جیسا کہ آگے خود فرمایا ہے کہ قلم بھی ایک زبان ہے اور زبان بھی ایک نیزہ ہے الٰی آخرہٖ ١٢-
📚حسام الحرمین صفحہ 157
👈 تقریظ 18
*حضرت علامہ مولانا شیخ عبد الکریم ناجی داغستانی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں*
"سلطان اسلام پر کہ سزا دینے کا اختیار اور سنان و پیکان رکھتا ہے ان کا قتل واجب ہے بلکہ وہ ہزار کافروں کے قتل سے بہتر ہے
امام اہلسنت رضی اللہ عنہ حاشیہ میں فرماتے ہیں
" *وہ اسلامی سلطنتوں میں بادشاہ اسلام ہے.* رہے *عام مسلمین تو ان کے لیے زبان سے رد دل سے پرہیز اپنے بھائیوں کو ہر شیطان کی بات سننے سے نفرت دلانا ہے* کہ اللہ ہرگز تکلیف نہیں دیتا کسی جان کو مگر اس کے بوتے بھر ١٢
📚 حسام الحرمین صفحہ 151
👈 تقریظ 32
*حضرت محمد عزیز وزیر مالکی مغربی اندلسی مدنی تونسی علیہ الرحمہ آپ فرماتے ہیں کہ.*
امام قاضی عیاض علیہ الرحمہ نے فرمایا. جو اپنی طرف وحی آنے یا نبوت یا اس کے مثل کسی بات کا دعویٰ کرے وہ کافر ہے *اس کا خون حلال ہے*
👍1
Forwarded from چینل صدائے حق
امام اہلسنت حاشیہ میں فرماتے ہیں کہ
ترجمہ"بارہا گزر چکا کہ *ائمہ نے یہ احکام سلطان اسلام کے لئے ذکر فرمائے ہیں* اللہ تعالیٰ اس کی مدد کو قوت دے اس لئے کہ *کسی کو قتل کرنا یا اس پر حد جاری کرنا خاص بادشاہ ہی کے لیے ہے اور اسی کو اسی کا اختیار ہے*
علماء پر یہ لازم ہے کہ ان کے مکر کھولیں ان کے عقائد کا رد کریں ان کے فسادوں کو دور فرمائیں
اور عوام پر یہ لازم ہے کہ ان سے بھاگیں ان سے میل جول نہ کریں ان کی دھوکے والی باتیں نہ سنیں اور اللہ تعالیٰ توفیق دینے والا ہے ١٢مصحح
📚حسام الحرمین صفحہ 196
امام قاضی عیاض نے نص فرمایا کہ انہیں مذکورین کے حکم میں یہ بھی داخل ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے جو بات لازم ہے اس کا انکار کرے جس میں ان کا نقص شان ہو جیسے ان کے مرتبہ یا شرف نسب یا وفور علم یا زہد میں سے کچھ گھٹائے تو اس کا حکم بھی پہلی باتوں کی مثل ہے کہ *سلطان اسلام ایسے کو فوراً بلا توقف قتل کرے* پھر فرمایا معلوم رہے کہ امام مالک رضی اللہ عنہ کا مشہور مذہب تنقیص شان اقدس کرنے والے کے بارے میں اور وہی قول سلف اور جمہور علماء کا ہے یہ ہے کہ وہ توبہ ظاہر کرے اس حال میں بھی اس کا قتل کیا جانا بر بنائے سزا ہے نہ بربنائے کفر (کہ کفر تو توبہ سے زائل مگر جو جرم حق العباد سے متعلق ہے اس کی سزا توبہ سے بھی زائل نہیں ہوتی)
امام اہلسنت حاشیہ میں فرماتے ہیں کہ ترجمہ
*یہ سب سلطان اسلام کے لئے ہے* اللہ تعالیٰ اس کی مدد قوی کرے جیسا کہ بارہا گزرا - ١٢
صفحہ نمبر 198 تا 199
جو انبیاء کرام علیہم السلام میں سے کسی کو برا کہے یا ان کی شان گھٹائے حکم دیا کہ اسے سزائے موت دی جائے اور اس سے توبہ نہ لی جائے،
*مام اہلسنت حاشیہ میں فرماتے ہیں کہ* سلطان اسلام نصرہ اللہ تعالیٰ اسے قتل کرے اور اس سے توبہ کو نہ کہے اور وہ توبہ کرے تو نہ سنے اور اپنا حکم اس میں جاری کرے اس لیے کہ اس کا قتل تو بطور حد ہے اور حد توبہ سے ساقط نہیں ہوتی اور *حد جاری کرنے کا اختیار صرف سلطان کو ہے* جیسا کہ علماء نے تصریح فرمائی - ١٢
📚حسام الحرمین صفحہ 202
👈 تقریظ نمبر 33
*حضرت فاضل عبد القادر توفیق شلبی طرابلسی حنفی مدرس مسجد کریم نبوی فرماتے ہیں* اور وہ جو سوال میں بیان ہوا تو بیشک یہ ان کے کفر پر حکم کرتا ہے - اور یہ کہ مرتدوں کا جو حکم ہے یعنی حاکم کا ان کو قتل کرنا ان پر جاری کیا جائے اور اگر یہ حکم وہاں جاری نہ ہو تو واجب ہے کہ مسلمانوں کو ان سے ڈرایا جائے اور ان سے نفرت دلائ جائے ممبروں پر اور رسالوں میں اور مجلسوں اور محفلوں میں، تاکہ ان کے شر کا مادہ جل جائے اور ان کے کفر کی جڑ کٹ جائے
📚حسام الحرمین صفحہ 207
👈 تقریظ نمبر 23
*شیخ مالکیہ صاحب الہام ملکی سید شریف سردار مولانا سید احمد جزائری علیہ الرحمہ فرماتے ہیں*
اس سوال کا مضمون بغور تمام دیکھا جو حضرت جناب احمد رضا خان نے پیش کیا...... علیہ الرحمہ تو میں نے پایا کہ ہولناک باتیں جو ان بُری بدمذہبی والوں سے نقل کیں صریح کفر ہیں اور جو ان شنیع بدعتوں کا مرتکب ہوا توبہ لینے کہ بعد سلطان اسلام کہ لئے اس کا خون حلال ہے_ٰ - - - - - - - - تو مشاہیر علماء جن کی زبان کو اللہ تعالیٰ نے وسعت دی ہے اور سلاطین و حکام جن کے ہاتھ کو جزا و سزا میں کشادہ کیا ہے ان سب پر فرض ہے کہ ان لوگوں کی بد مذہبیاں زائل کرنے میں *علماء زبان سے اور سلاطین ہاتھ سے* کوشش کریں تاکہ بندے اور شہر اور ذہن ان کی تکلیفوں سے راحت پائیں.
امام اہلسنت حاشیہ میں فرماتے ہیں
" کہ یہ احکام وہاں تک کہ ان کہ ہاتھ اور انگلیاں کچل دی جائیں *سلطان اسلام کے لیے ہیں* اللہ تعالیٰ اس کی مدد کو قوت بخشے جیسا کہ ابھی شیخ تفصیل فرمائیں گے کہ *ان کی بدعت کا ازالہ لازم ہے علماء پر زبان سے، حکام پر سنان سے، عوام پر ان کی صحبت کے اجتناب سے* الخ١٢
📚حسام الحرمین صفحہ 165
📚ماخوذ :حسام الحرمین علی منحر الکفر والمین مع اردو ترجمہ مبین احکام و تصدیقات اعلام باہتمام نوری دار الإفتاء مانا پار بہریا ضلع بلرام پور ناشر رضا اکیڈمی ممبئی سن اشاعت 2009
*اے عزیز جس نے جانا اس نے جانا اور جس نے نہ جانا وہ اب جان لے کہ حکام کا کام حدود و تعزیر قائم کرنا ہے علمائے دین کا کام زبان و قلم سے رد کرنا ہے عوام کا کام بدمذہبوں سے دور و نفور رہنا ہے لہذا وہ لوگ عوام مسلمین کو قتل مرتد کے لیے اکسا رہے ہیں جان لو وہ تمہارے خیر خواہ نہیں بلکہ بدخواہ ہیں ذرا سوچو! جانِ مومن جو انتہائی قیمتی ہے ایک بے قیمت جان کے بدلے جائے نہیں نہیں علمائے کرام صف بستہ ہو جائیں ہر ایک اپنے محاذ کی مکمل تیاری کریں کوئی عالم الزامی جواب دے تو کوئی عقلی و نقلی دلائل سے دشمن کو چاروں شانیں چت کرے کوئی نظم میں جواب دے تو کوئی نثر میں تحریراً و تقریراً علماء گستاخوں سے مقابلہ کریں* (نوری)
📝 حسن نوری گونڈوی امام نورانی مسجد بیگم باغ کالونی اجین ایم پی
ترجمہ"بارہا گزر چکا کہ *ائمہ نے یہ احکام سلطان اسلام کے لئے ذکر فرمائے ہیں* اللہ تعالیٰ اس کی مدد کو قوت دے اس لئے کہ *کسی کو قتل کرنا یا اس پر حد جاری کرنا خاص بادشاہ ہی کے لیے ہے اور اسی کو اسی کا اختیار ہے*
علماء پر یہ لازم ہے کہ ان کے مکر کھولیں ان کے عقائد کا رد کریں ان کے فسادوں کو دور فرمائیں
اور عوام پر یہ لازم ہے کہ ان سے بھاگیں ان سے میل جول نہ کریں ان کی دھوکے والی باتیں نہ سنیں اور اللہ تعالیٰ توفیق دینے والا ہے ١٢مصحح
📚حسام الحرمین صفحہ 196
امام قاضی عیاض نے نص فرمایا کہ انہیں مذکورین کے حکم میں یہ بھی داخل ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے جو بات لازم ہے اس کا انکار کرے جس میں ان کا نقص شان ہو جیسے ان کے مرتبہ یا شرف نسب یا وفور علم یا زہد میں سے کچھ گھٹائے تو اس کا حکم بھی پہلی باتوں کی مثل ہے کہ *سلطان اسلام ایسے کو فوراً بلا توقف قتل کرے* پھر فرمایا معلوم رہے کہ امام مالک رضی اللہ عنہ کا مشہور مذہب تنقیص شان اقدس کرنے والے کے بارے میں اور وہی قول سلف اور جمہور علماء کا ہے یہ ہے کہ وہ توبہ ظاہر کرے اس حال میں بھی اس کا قتل کیا جانا بر بنائے سزا ہے نہ بربنائے کفر (کہ کفر تو توبہ سے زائل مگر جو جرم حق العباد سے متعلق ہے اس کی سزا توبہ سے بھی زائل نہیں ہوتی)
امام اہلسنت حاشیہ میں فرماتے ہیں کہ ترجمہ
*یہ سب سلطان اسلام کے لئے ہے* اللہ تعالیٰ اس کی مدد قوی کرے جیسا کہ بارہا گزرا - ١٢
صفحہ نمبر 198 تا 199
جو انبیاء کرام علیہم السلام میں سے کسی کو برا کہے یا ان کی شان گھٹائے حکم دیا کہ اسے سزائے موت دی جائے اور اس سے توبہ نہ لی جائے،
*مام اہلسنت حاشیہ میں فرماتے ہیں کہ* سلطان اسلام نصرہ اللہ تعالیٰ اسے قتل کرے اور اس سے توبہ کو نہ کہے اور وہ توبہ کرے تو نہ سنے اور اپنا حکم اس میں جاری کرے اس لیے کہ اس کا قتل تو بطور حد ہے اور حد توبہ سے ساقط نہیں ہوتی اور *حد جاری کرنے کا اختیار صرف سلطان کو ہے* جیسا کہ علماء نے تصریح فرمائی - ١٢
📚حسام الحرمین صفحہ 202
👈 تقریظ نمبر 33
*حضرت فاضل عبد القادر توفیق شلبی طرابلسی حنفی مدرس مسجد کریم نبوی فرماتے ہیں* اور وہ جو سوال میں بیان ہوا تو بیشک یہ ان کے کفر پر حکم کرتا ہے - اور یہ کہ مرتدوں کا جو حکم ہے یعنی حاکم کا ان کو قتل کرنا ان پر جاری کیا جائے اور اگر یہ حکم وہاں جاری نہ ہو تو واجب ہے کہ مسلمانوں کو ان سے ڈرایا جائے اور ان سے نفرت دلائ جائے ممبروں پر اور رسالوں میں اور مجلسوں اور محفلوں میں، تاکہ ان کے شر کا مادہ جل جائے اور ان کے کفر کی جڑ کٹ جائے
📚حسام الحرمین صفحہ 207
👈 تقریظ نمبر 23
*شیخ مالکیہ صاحب الہام ملکی سید شریف سردار مولانا سید احمد جزائری علیہ الرحمہ فرماتے ہیں*
اس سوال کا مضمون بغور تمام دیکھا جو حضرت جناب احمد رضا خان نے پیش کیا...... علیہ الرحمہ تو میں نے پایا کہ ہولناک باتیں جو ان بُری بدمذہبی والوں سے نقل کیں صریح کفر ہیں اور جو ان شنیع بدعتوں کا مرتکب ہوا توبہ لینے کہ بعد سلطان اسلام کہ لئے اس کا خون حلال ہے_ٰ - - - - - - - - تو مشاہیر علماء جن کی زبان کو اللہ تعالیٰ نے وسعت دی ہے اور سلاطین و حکام جن کے ہاتھ کو جزا و سزا میں کشادہ کیا ہے ان سب پر فرض ہے کہ ان لوگوں کی بد مذہبیاں زائل کرنے میں *علماء زبان سے اور سلاطین ہاتھ سے* کوشش کریں تاکہ بندے اور شہر اور ذہن ان کی تکلیفوں سے راحت پائیں.
امام اہلسنت حاشیہ میں فرماتے ہیں
" کہ یہ احکام وہاں تک کہ ان کہ ہاتھ اور انگلیاں کچل دی جائیں *سلطان اسلام کے لیے ہیں* اللہ تعالیٰ اس کی مدد کو قوت بخشے جیسا کہ ابھی شیخ تفصیل فرمائیں گے کہ *ان کی بدعت کا ازالہ لازم ہے علماء پر زبان سے، حکام پر سنان سے، عوام پر ان کی صحبت کے اجتناب سے* الخ١٢
📚حسام الحرمین صفحہ 165
📚ماخوذ :حسام الحرمین علی منحر الکفر والمین مع اردو ترجمہ مبین احکام و تصدیقات اعلام باہتمام نوری دار الإفتاء مانا پار بہریا ضلع بلرام پور ناشر رضا اکیڈمی ممبئی سن اشاعت 2009
*اے عزیز جس نے جانا اس نے جانا اور جس نے نہ جانا وہ اب جان لے کہ حکام کا کام حدود و تعزیر قائم کرنا ہے علمائے دین کا کام زبان و قلم سے رد کرنا ہے عوام کا کام بدمذہبوں سے دور و نفور رہنا ہے لہذا وہ لوگ عوام مسلمین کو قتل مرتد کے لیے اکسا رہے ہیں جان لو وہ تمہارے خیر خواہ نہیں بلکہ بدخواہ ہیں ذرا سوچو! جانِ مومن جو انتہائی قیمتی ہے ایک بے قیمت جان کے بدلے جائے نہیں نہیں علمائے کرام صف بستہ ہو جائیں ہر ایک اپنے محاذ کی مکمل تیاری کریں کوئی عالم الزامی جواب دے تو کوئی عقلی و نقلی دلائل سے دشمن کو چاروں شانیں چت کرے کوئی نظم میں جواب دے تو کوئی نثر میں تحریراً و تقریراً علماء گستاخوں سے مقابلہ کریں* (نوری)
📝 حسن نوری گونڈوی امام نورانی مسجد بیگم باغ کالونی اجین ایم پی
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
اگر تمہیں کوئی مصیبت پہنچے تو یہ مت کہو : اگر میں ایسا کرتا تو مجھے فلاں مصیبت نہ پہنچتی - بلکہ یہ کہو : اللہ نے ایسا ہی لکھا تھا اور اس نے جو چاہا وہی کیا کیونکہ اگر کا لفظ شیطانی عمل کی ابتداء کرتا ہے - 🔎 #Sacred_Traditions بعض لوگ اگر مگر کے چکر میں پڑ…
لوگوں کی طبیعتوں اور ان کے مقام و مرتبے کے اعتبار سے ان کے لیے نرمی کا پہلو اختیار کرنا اور اپنے آپ کو حقیر و کمتر اور چھوٹا خیال کرنا عاجزی و انکساری کہلاتا ہے۔ جبکہ کسی پر فخر اور ظلم و زیادتی کرنا تکبر کے نتیجے میں ہوتا ہے نیز متکبر اپنے آپ کو ہر ایک سے برتر سمجھتا ہے اور کسی کے تابع ہونے کو قبول نہیں کرتا۔ اسی لیے فرمایا کہ عاجزی و انکساری اختیار کرو تاکہ کوئی مسلمان کسی مسلمان پر تکبر نہ کرے نہ مال میں نہ نسب و خاندان میں نہ عزت یا طاقت میں۔ (فیض القدیر، مرقاۃ المفاتیح، مرآۃ المناجیح)
https://www.facebook.com/114021443682673/posts/459439529140861/
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
🔎 #Sacred_Traditions 🔍
Sacred Traditions Official
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
https://www.facebook.com/114021443682673/posts/459439529140861/
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
🔎 #Sacred_Traditions 🔍
Sacred Traditions Official
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
Photo
یعنی دل بادشاہ ہے اور جسم اس کی رِعایا۔ جیسے بادشاہ کے درست ہو جانے سے تمام ملک ٹھیک ہو جاتا ہے، ایسے ہی دل سنبھل جانے سے تمام جسم ٹھیک ہو جاتا ہے۔ دل ارادہ کرتا ہے جسم اس پر عمل کی کوشش کرتا ہے۔ اسی لیے صوفیاے کرام دل کی اصلاح پر بہت زور دیتے ہیں۔ یاد رہے کہ دل کی اصلاح نہایت دشوار ہے کیوں کہ اس کی خرابی خطرات اور وسوسوں پر مشتمل ہے جن کا پیدا ہونا بندے کے اختیار میں نہیں۔ اس لیے اس کی اصلاح میں پوری ہوشیاری، بیداری اور بہت زیادہ جدوجہد کی ضرورت ہے۔
(منہاج العابدین، مرآۃ المناجیح)
https://www.facebook.com/114021443682673/posts/461854435566037/
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
🔎 #Sacred_Traditions 🔍
Sacred Traditions Official
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
(منہاج العابدین، مرآۃ المناجیح)
https://www.facebook.com/114021443682673/posts/461854435566037/
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
🔎 #Sacred_Traditions 🔍
Sacred Traditions Official
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬