Forwarded from فیضـان دارالعــلوم امجـدیہ ناگپور
*📚 « امجــــدی مضــــامین » 📚*
-----------------------------------------------------------
*🕯قرآن مجید کے عددی معجزے🕯*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
📬 مکرمی۔۔۔
قرآنِ کریم نبی آخرالزمان حضرت محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم پر جستہ جستہ ۲۳ سالوں میں نازل ہوا جو ایک معجزہ ہے معجزہ کی شان یہ ہوتی ہے کہ انسانی عقل وقدرت سے باہر ہوتا ہے
لہٰذا قرآن کی مثیل ونظیر بھی انسانی قدرت وطاقت سے ماوراء ہے یہ ایک ایسا معجزہ ہے جو رہتی دنیا تک کی خلقت کو اپنے لانے والے کی صداقت کا یقین دلاتا رہے گا نتیجتاً لوگ حلقۂ اسلام سے روز افزوں وابستہ ہوتے رہیں گے خود رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ایک حدیث میں اسی حقیقت کا انکشاف بھی کیا ہے
ہرنبی کو ایسا معجزہ دیاگیا جس کا مشاہدہ کرکے انسانیت ایمان لاتی رہی مجھے اللہ پاک نے ایسا معجزہ وحی کی شکل میں دیا ہے کہ اس میں غور وفکر کرکے قیامت تک لوگ ایمان لاتے رہیں گے مجھے امید ہے کہ روزِ قیامت میرے متبعین زیادہ ہوں گے” (الحدیث)
یوں تو پورا قرآن سراپا معجزہ ہے لیکن سورۃ الکوثر جو قرآن کی سب سے چھوٹی سورت ہے اس سورہ مبارکہ سے جو عددی معجزے رونما ہوتے ہیں اس نے دنیا کو حیرت انگیز کیفیت دوچار کر دیا آپ بھی قرآن پاک کے اس عددی معجزے کو دیکھیں، غور کریں اور اپنے ایمان و ایقان کو جلا بخشیں
سورۃ الکوثر کے جملہ الفاظ 10 ہیں اس سورہ کی پہلی آیت میں 10 حروف، دوسری آیت میں 10 حروف اور تیسری آیت میں بھی 10 ہی حروف ہیں۔اس پوری سورت میں جو سب سے زیادہ تکرار سے حرف آیا ہے وہ حرف “ا” الف ہے جو 10 دفعہ آیا ہے وہ حروف جو اس سورت میں صرف ایک ایک دفعہ آئے ہیں
ان کی تعداد 10 ہیں۔ اس سورت کی تمام آیات کا اختتام حرف “ر” راء پر ہوا ہے جو کہ حروفِ ہجا میں 10 واں حرف شمار ہوتا ہے۔قرآن مجید کی وہ سورتیں جو حرف “ر” راء پر اختتام پذیر ہو رہی ہیں، انکی تعداد 10 ہے
جن میں سورۃ الکوثر سب سے آخری سورت ہے. سورۃ الکوثر میں جو 10 کا عدد ہے اسکی حقیقت یہ ہے کہ وہ ذو الحجہ کے مہینے کا 10واں دن ہے جیسے کہ اللہ تعالی نے فرمایا “فصل لربک وانحر” “پس نماز پڑھو اور قربانی کرو”وہ دراصل قربانی کا دن ہے. اللہ کی شان کہ یہ سب کچھ قرآن کریم کی سب سے چھوٹی سی سورت جو ایک ڈھیر سطر پر مشتمل ہے میں آگیا
اللہ تعالی نے اسی لیے فرمایا “ہم نے اپنے بندے پر جو کچھ نازل کیا ہے اگر تمہیں اس میں شک ہو تو اس جیسی ایک سورت ہی لے آؤ”۔
قرآن حکیم کا دعویٰ ہے کہ اس میں کوئی باطل بات داخل نہیں ہو سکتی چہ جاے کہ لعنتی کے مطابق چھبیس آیتوں کا گھٹانا یا بڑھانا اس لئے کہ قرآن حکیم کا ایک ایک حرف اتنی زبردست کیلکو لیشن اور اتنے حساب و کتاب کے ساتھ اپنی جگہ پر فِٹ ہے کہ اسے تھوڑا سا اِدھر اُدھر کرنے سے وہ ساری کیلکو لیشن درھم برھم ہوجاتی ہے جِس کے ساتھ قرآنِ پاک کی اعجازی شان نمایا ں ہے اتنی بڑی کتاب میں اتنی باریک کیلکولیشن کا کوئی رائٹر تصوّر بھی نہیں کرسکتا۔
ذیلی بریکٹس میں دیئے گئے چند الفاظ بطور نمونہ ملاحظہ کریں ورنہ قرآن کا ہر لفظ جتنی مرتبہ استعمال ہوا ہے وہ تعداد اور اس کا پورا بیک گراؤنڈ اپنی جگہ خود عِلم و عِرفان کا ایک وسیع جہان ہے۔
دُنیا کا لفظ اگر 115 مرتبہ استعمال ہوا ہے تو اس کے مقابل آخرت کا لفظ بھی 115 مرتبہ استعمال ہوا ہے. (دُنیا وآخرت:115)(شیاطین وملائکہ:88)(موت وحیات:145)(نفع وفساد:50)(اجر و فصل108)(کفروایمان :25) (شہر:12) کیونکہ شہر کا مطلب مہینہ اور سال میں 12 مہینے ہی ہوتے ہیں ( اور یوم کا لفظ 360 مرتبہ استعمال ہوا ہےاتنی بڑی کتاب میں اس عددی مناسبت کا خیال رکھنا کسی بھی انسانی مصنّف کے بس کی بات نہیں
مگر بات یہیں ختم نہیں ہوتی جدیدترین ریسرچ کے مطابق قرآن حکیم کے حفاظتی نظام میں 19 کے عدد کا بڑا عمل دخل ہے اس حیران کن دریافت کا سہرا ایک مصری ڈاکٹر راشد خلیفہ کے سر ہے جو امریکہ کی ایک یونیورسٹی میں کیمسٹری کے پروفیسر تھے
۔ 1968ء میں انہوں نے مکمل قرآنِ پاک کمپیوٹر پر چڑھانے کے بعد قرآنِ پاک کی آیات ان کے الفاظ و حروف میں کوئی تعلق تلاش کرنا شروع کردیا رفتہ رفتہ اور لوگ بھی اس ریسرچ میں شامل ہوتے گئے
حتیٰ کہ 1972ء میں یہ ایک باقاعدہ اسکول بن گیا ریسرچ کا کام جونہی آگے بڑھا اُن لوگوں پر قدم قدم پر حیرت و استعجاب کے دروازے کھلتے گیے قرآنِ حکیم کے الفاظ و حروف میں انہیں ایک ایسی حسابی ترتیب نظر آئی جس کے مکمل اِدراک کیلئے اُس وقت تک کے بنے ہوئے کمپیوٹر ناکافی تھے۔
کلام اللہ میں 19 کا ہندسہ صرف سورہ مدثر میں آیا ہے جہاں اللہ نے فرمایا: دوزخ پر ہم نے اُنیس محافظ فرشتوں کو مقرر کر رکھا ہے اس میں کیا حکمت ہے یہ تو رب ہی جانے لیکن اتنا اندازہ ضرور ہوجاتا ہے کہ 19 کے عدد کا تعلق اللہ کے کسی حفاطتی انتظام سے ہے
-----------------------------------------------------------
*🕯قرآن مجید کے عددی معجزے🕯*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
📬 مکرمی۔۔۔
قرآنِ کریم نبی آخرالزمان حضرت محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم پر جستہ جستہ ۲۳ سالوں میں نازل ہوا جو ایک معجزہ ہے معجزہ کی شان یہ ہوتی ہے کہ انسانی عقل وقدرت سے باہر ہوتا ہے
لہٰذا قرآن کی مثیل ونظیر بھی انسانی قدرت وطاقت سے ماوراء ہے یہ ایک ایسا معجزہ ہے جو رہتی دنیا تک کی خلقت کو اپنے لانے والے کی صداقت کا یقین دلاتا رہے گا نتیجتاً لوگ حلقۂ اسلام سے روز افزوں وابستہ ہوتے رہیں گے خود رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ایک حدیث میں اسی حقیقت کا انکشاف بھی کیا ہے
ہرنبی کو ایسا معجزہ دیاگیا جس کا مشاہدہ کرکے انسانیت ایمان لاتی رہی مجھے اللہ پاک نے ایسا معجزہ وحی کی شکل میں دیا ہے کہ اس میں غور وفکر کرکے قیامت تک لوگ ایمان لاتے رہیں گے مجھے امید ہے کہ روزِ قیامت میرے متبعین زیادہ ہوں گے” (الحدیث)
یوں تو پورا قرآن سراپا معجزہ ہے لیکن سورۃ الکوثر جو قرآن کی سب سے چھوٹی سورت ہے اس سورہ مبارکہ سے جو عددی معجزے رونما ہوتے ہیں اس نے دنیا کو حیرت انگیز کیفیت دوچار کر دیا آپ بھی قرآن پاک کے اس عددی معجزے کو دیکھیں، غور کریں اور اپنے ایمان و ایقان کو جلا بخشیں
سورۃ الکوثر کے جملہ الفاظ 10 ہیں اس سورہ کی پہلی آیت میں 10 حروف، دوسری آیت میں 10 حروف اور تیسری آیت میں بھی 10 ہی حروف ہیں۔اس پوری سورت میں جو سب سے زیادہ تکرار سے حرف آیا ہے وہ حرف “ا” الف ہے جو 10 دفعہ آیا ہے وہ حروف جو اس سورت میں صرف ایک ایک دفعہ آئے ہیں
ان کی تعداد 10 ہیں۔ اس سورت کی تمام آیات کا اختتام حرف “ر” راء پر ہوا ہے جو کہ حروفِ ہجا میں 10 واں حرف شمار ہوتا ہے۔قرآن مجید کی وہ سورتیں جو حرف “ر” راء پر اختتام پذیر ہو رہی ہیں، انکی تعداد 10 ہے
جن میں سورۃ الکوثر سب سے آخری سورت ہے. سورۃ الکوثر میں جو 10 کا عدد ہے اسکی حقیقت یہ ہے کہ وہ ذو الحجہ کے مہینے کا 10واں دن ہے جیسے کہ اللہ تعالی نے فرمایا “فصل لربک وانحر” “پس نماز پڑھو اور قربانی کرو”وہ دراصل قربانی کا دن ہے. اللہ کی شان کہ یہ سب کچھ قرآن کریم کی سب سے چھوٹی سی سورت جو ایک ڈھیر سطر پر مشتمل ہے میں آگیا
اللہ تعالی نے اسی لیے فرمایا “ہم نے اپنے بندے پر جو کچھ نازل کیا ہے اگر تمہیں اس میں شک ہو تو اس جیسی ایک سورت ہی لے آؤ”۔
قرآن حکیم کا دعویٰ ہے کہ اس میں کوئی باطل بات داخل نہیں ہو سکتی چہ جاے کہ لعنتی کے مطابق چھبیس آیتوں کا گھٹانا یا بڑھانا اس لئے کہ قرآن حکیم کا ایک ایک حرف اتنی زبردست کیلکو لیشن اور اتنے حساب و کتاب کے ساتھ اپنی جگہ پر فِٹ ہے کہ اسے تھوڑا سا اِدھر اُدھر کرنے سے وہ ساری کیلکو لیشن درھم برھم ہوجاتی ہے جِس کے ساتھ قرآنِ پاک کی اعجازی شان نمایا ں ہے اتنی بڑی کتاب میں اتنی باریک کیلکولیشن کا کوئی رائٹر تصوّر بھی نہیں کرسکتا۔
ذیلی بریکٹس میں دیئے گئے چند الفاظ بطور نمونہ ملاحظہ کریں ورنہ قرآن کا ہر لفظ جتنی مرتبہ استعمال ہوا ہے وہ تعداد اور اس کا پورا بیک گراؤنڈ اپنی جگہ خود عِلم و عِرفان کا ایک وسیع جہان ہے۔
دُنیا کا لفظ اگر 115 مرتبہ استعمال ہوا ہے تو اس کے مقابل آخرت کا لفظ بھی 115 مرتبہ استعمال ہوا ہے. (دُنیا وآخرت:115)(شیاطین وملائکہ:88)(موت وحیات:145)(نفع وفساد:50)(اجر و فصل108)(کفروایمان :25) (شہر:12) کیونکہ شہر کا مطلب مہینہ اور سال میں 12 مہینے ہی ہوتے ہیں ( اور یوم کا لفظ 360 مرتبہ استعمال ہوا ہےاتنی بڑی کتاب میں اس عددی مناسبت کا خیال رکھنا کسی بھی انسانی مصنّف کے بس کی بات نہیں
مگر بات یہیں ختم نہیں ہوتی جدیدترین ریسرچ کے مطابق قرآن حکیم کے حفاظتی نظام میں 19 کے عدد کا بڑا عمل دخل ہے اس حیران کن دریافت کا سہرا ایک مصری ڈاکٹر راشد خلیفہ کے سر ہے جو امریکہ کی ایک یونیورسٹی میں کیمسٹری کے پروفیسر تھے
۔ 1968ء میں انہوں نے مکمل قرآنِ پاک کمپیوٹر پر چڑھانے کے بعد قرآنِ پاک کی آیات ان کے الفاظ و حروف میں کوئی تعلق تلاش کرنا شروع کردیا رفتہ رفتہ اور لوگ بھی اس ریسرچ میں شامل ہوتے گئے
حتیٰ کہ 1972ء میں یہ ایک باقاعدہ اسکول بن گیا ریسرچ کا کام جونہی آگے بڑھا اُن لوگوں پر قدم قدم پر حیرت و استعجاب کے دروازے کھلتے گیے قرآنِ حکیم کے الفاظ و حروف میں انہیں ایک ایسی حسابی ترتیب نظر آئی جس کے مکمل اِدراک کیلئے اُس وقت تک کے بنے ہوئے کمپیوٹر ناکافی تھے۔
کلام اللہ میں 19 کا ہندسہ صرف سورہ مدثر میں آیا ہے جہاں اللہ نے فرمایا: دوزخ پر ہم نے اُنیس محافظ فرشتوں کو مقرر کر رکھا ہے اس میں کیا حکمت ہے یہ تو رب ہی جانے لیکن اتنا اندازہ ضرور ہوجاتا ہے کہ 19 کے عدد کا تعلق اللہ کے کسی حفاطتی انتظام سے ہے
❤1
Forwarded from فیضـان دارالعــلوم امجـدیہ ناگپور
پھر ہر سورہ کے آغاز میں قرآنِ مجید کی پہلی آیت بِسم اللہ کو رکھا گیا ہے گویا کہ اس کا تعلق بھی قرآن کی حفاظت سے ہے کیوں کہ ہم دیکھتے ہیں بِسم اللہ کے کُل حروف بھی 19 ہی ہیں پھر یہ دیکھ کر حیرت میں مزید اِضافہ ہوتا ہے کہ بسم اللہ میں ترتیب کے ساتھ چار الفاظ استعمال ہوئے ہیں
اور ان کے بارے میں ریسرچ کی تو ثابت ہوا کہ اِسم پورے قرآن میں 19 مرتبہ استعمال ہوا ہے لفظ الرَّحمٰن 57 مرتبہ استعمال ہوا ہے جو3×19 کا حاصل ہے اور لفظ الرَّحِیم 114 مرتبہ استعمال ہوا ہے جو 6×19 کا حاصل ہے اور لفظ اللہ پورے قرآن میں 2699 مرتبہ استعمال ہوا ہے 142×19 کا حاصل ہے لیکن یہاں پر ایک باقی رہتا ہے جس کا صاف مطلب ہے کہ اللہ کی ذات پاک کسی حِساب کے تابع نہیں ہے وہ ہمیشہ باقی رہنے والی یکتا ذات ہے۔
قرآن مجید کی سورتوں کی تعداد بھی 114 ہے جو 6×19 کا حاصل ہے. سورہ توبہ کےآغاز میں بِسم اللہ نہیں ہے لیکن سورہ نمل آیت نمبر 30 میں مکمل بِسم اللہ نازل کرکے 19 کے فارمولا کی تصدیق کردی اگر ایسا نہ ہوتا تو حسابی قاعدہ فیل ہوجاتا۔
اب آئیے حضور علیہ السَّلام پر اُترنے والی پہلی وحی کی طرف : یہ سورہ علق کی پہلی 5 آیات ہیں :اور یہیں سے 19 کے اِس حسابی فارمولے کا آغاز ہوتا ہے!۔
ان 5 آیات کے کل الفاظ 19 ہیں اور ان 19 الفاظ کے کل حروف 76 ہیں جو ٹھیک 4×19 کا حاصل ہیں لیکن بات یہیں ختم نہیں ہوتی جب سورہ علق کے کل حروف کی گنتی کی گئی تو عقل ورطہ حیرت میں ڈوب گئی کہ اسکے کُل حروف 304 ہیں جو 4×4×19 کا حاصل ہیں۔
یہ دیکھ کر عقل انسانی حیرت کی اتھاہ گہرائیوں میں مزید ڈوب جاتی ہے کہ قرآنِ پاک کی موجودہ ترتیب کے مُطابق سورہ علق قرآن پاک کی 96 نمبر کی سورة ہے اب اگر قرآن کی آخری سورة اَلنَّاس کی طرف سے گِنتی کریں تو اخیر کی طرف سے سورہ علق کا نمبر 19 بنتا ہے
اور اگر قرآن کی اِبتدأ سے دیکھیں تو اس 96 نمبر کی سورة سے پہلے 95 سورتیں ہیں جو ٹھیک 5×19 کا حاصلِ ضرب ہیں جس سے یہ بھی ثابت ہوجاتا ہے کہ سورتوں کے آگے پیچھے کی ترتیب بھی انسانی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے حِسابی نظام کا ہی حِصّہ ہے۔
قرآنِ پاک کی سب سے آخر میں نازل ہونے والی سورة سورۂ نصر ہے یہ سن کر آپ پر پھرایک مرتبہ خوشگوار حیرت طاری ہوگی کہ اللہ پاک نے یہاں بھی 19 کا نِظام برقرار رکھا ہے پہلی وحی کی طرح آخری وحی سورہ نصر ٹھیک 19 الفاظ پر مشتمل ہے یوں کلام اللہ کی پہلی اور آخری سورت ایک ہی حِسابی قاعدہ سے نازل ہوئیں۔
سورۂ فاتحہ کے بعد قرآن حکیم کی پہلی سورة سورۂ بقرہ کی کُل آیات 286 ہیں اور 2 ہٹادیں تو مکّی سُورتوں کی تعداد سامنے آتی ہے 6 ہٹا دیں تو مدنی سورتوں کی تعداد سامنے آتی ہے۔ 86 کو 28 کے ساتھ جمع کریں تو کُل سورتوں کی تعداد 114 سامنے آتی ہے آج جب کہ عقل وخرد کو سائنسی ترقی پر بڑا ناز ہے
یہی قرآن آج پھر اپنا چیلنج دہراتا ہے حساب داں، سائنسدان، ہر خاص وعام مومن کافر سبھی سوچنے پر مجبور ہیں کہ آج بھی کِسی کِتاب میں ایسا حِسابی نظام ڈالنا انسانی بساط سے باہر ہے طاقتور کمپوٹرز کی مدد سے بھی اس جیسے حسابی نظام کے مطابق ہر طرح کی غلطیوں سے پاک کسی کتاب کی تشکیل ناممکن ہوگی۔
لہذا کوئی بھی صحیح العقل آدمی اس بات کا انکار نہیں کر سکتا کہ قرآنِ کریم کا حِسابی نظام اللہ کا ایسا شاہ کار معجزہ ہے جس کا جواب قیامت تک کبھی بھی نہیں ہوسکتا۔
اللہ پاک ہم سب کو قرآن پاک پڑھنے سمجھنے کی توفیق عطا فرماۓ اور ہمارے دِلوں میں ایمان کو سلامت رکھے اور احکام اسلام پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرماۓ۔ آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم
https://t.me/Faizan_E_DarulUloom_Amjadia_Ngp
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*از قلم✍🏻 محمد ہاشم اعظمی مصباحی، نوادہ مبارک پور اعظم گڈھ یو پی۔ 9839171719*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
اور ان کے بارے میں ریسرچ کی تو ثابت ہوا کہ اِسم پورے قرآن میں 19 مرتبہ استعمال ہوا ہے لفظ الرَّحمٰن 57 مرتبہ استعمال ہوا ہے جو3×19 کا حاصل ہے اور لفظ الرَّحِیم 114 مرتبہ استعمال ہوا ہے جو 6×19 کا حاصل ہے اور لفظ اللہ پورے قرآن میں 2699 مرتبہ استعمال ہوا ہے 142×19 کا حاصل ہے لیکن یہاں پر ایک باقی رہتا ہے جس کا صاف مطلب ہے کہ اللہ کی ذات پاک کسی حِساب کے تابع نہیں ہے وہ ہمیشہ باقی رہنے والی یکتا ذات ہے۔
قرآن مجید کی سورتوں کی تعداد بھی 114 ہے جو 6×19 کا حاصل ہے. سورہ توبہ کےآغاز میں بِسم اللہ نہیں ہے لیکن سورہ نمل آیت نمبر 30 میں مکمل بِسم اللہ نازل کرکے 19 کے فارمولا کی تصدیق کردی اگر ایسا نہ ہوتا تو حسابی قاعدہ فیل ہوجاتا۔
اب آئیے حضور علیہ السَّلام پر اُترنے والی پہلی وحی کی طرف : یہ سورہ علق کی پہلی 5 آیات ہیں :اور یہیں سے 19 کے اِس حسابی فارمولے کا آغاز ہوتا ہے!۔
ان 5 آیات کے کل الفاظ 19 ہیں اور ان 19 الفاظ کے کل حروف 76 ہیں جو ٹھیک 4×19 کا حاصل ہیں لیکن بات یہیں ختم نہیں ہوتی جب سورہ علق کے کل حروف کی گنتی کی گئی تو عقل ورطہ حیرت میں ڈوب گئی کہ اسکے کُل حروف 304 ہیں جو 4×4×19 کا حاصل ہیں۔
یہ دیکھ کر عقل انسانی حیرت کی اتھاہ گہرائیوں میں مزید ڈوب جاتی ہے کہ قرآنِ پاک کی موجودہ ترتیب کے مُطابق سورہ علق قرآن پاک کی 96 نمبر کی سورة ہے اب اگر قرآن کی آخری سورة اَلنَّاس کی طرف سے گِنتی کریں تو اخیر کی طرف سے سورہ علق کا نمبر 19 بنتا ہے
اور اگر قرآن کی اِبتدأ سے دیکھیں تو اس 96 نمبر کی سورة سے پہلے 95 سورتیں ہیں جو ٹھیک 5×19 کا حاصلِ ضرب ہیں جس سے یہ بھی ثابت ہوجاتا ہے کہ سورتوں کے آگے پیچھے کی ترتیب بھی انسانی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے حِسابی نظام کا ہی حِصّہ ہے۔
قرآنِ پاک کی سب سے آخر میں نازل ہونے والی سورة سورۂ نصر ہے یہ سن کر آپ پر پھرایک مرتبہ خوشگوار حیرت طاری ہوگی کہ اللہ پاک نے یہاں بھی 19 کا نِظام برقرار رکھا ہے پہلی وحی کی طرح آخری وحی سورہ نصر ٹھیک 19 الفاظ پر مشتمل ہے یوں کلام اللہ کی پہلی اور آخری سورت ایک ہی حِسابی قاعدہ سے نازل ہوئیں۔
سورۂ فاتحہ کے بعد قرآن حکیم کی پہلی سورة سورۂ بقرہ کی کُل آیات 286 ہیں اور 2 ہٹادیں تو مکّی سُورتوں کی تعداد سامنے آتی ہے 6 ہٹا دیں تو مدنی سورتوں کی تعداد سامنے آتی ہے۔ 86 کو 28 کے ساتھ جمع کریں تو کُل سورتوں کی تعداد 114 سامنے آتی ہے آج جب کہ عقل وخرد کو سائنسی ترقی پر بڑا ناز ہے
یہی قرآن آج پھر اپنا چیلنج دہراتا ہے حساب داں، سائنسدان، ہر خاص وعام مومن کافر سبھی سوچنے پر مجبور ہیں کہ آج بھی کِسی کِتاب میں ایسا حِسابی نظام ڈالنا انسانی بساط سے باہر ہے طاقتور کمپوٹرز کی مدد سے بھی اس جیسے حسابی نظام کے مطابق ہر طرح کی غلطیوں سے پاک کسی کتاب کی تشکیل ناممکن ہوگی۔
لہذا کوئی بھی صحیح العقل آدمی اس بات کا انکار نہیں کر سکتا کہ قرآنِ کریم کا حِسابی نظام اللہ کا ایسا شاہ کار معجزہ ہے جس کا جواب قیامت تک کبھی بھی نہیں ہوسکتا۔
اللہ پاک ہم سب کو قرآن پاک پڑھنے سمجھنے کی توفیق عطا فرماۓ اور ہمارے دِلوں میں ایمان کو سلامت رکھے اور احکام اسلام پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرماۓ۔ آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم
https://t.me/Faizan_E_DarulUloom_Amjadia_Ngp
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*از قلم✍🏻 محمد ہاشم اعظمی مصباحی، نوادہ مبارک پور اعظم گڈھ یو پی۔ 9839171719*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
Telegram
فیضـان دارالعــلوم امجـدیہ ناگپور
اہلسنت و جماعت مسلک اعلیٰ حضرت کا ترجمان، وسط ہند کی عظیم درسگاہ " دارالعلوم امجدیہ ناگپور مہاراشٹرا" کے نام سے منسوب گروپ
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from فیضـان دارالعــلوم امجـدیہ ناگپور
*📚 « مختصــر ســوانح حیــات » 📚*
-----------------------------------------------------------
*🕯سیف اللّٰه المسلول معین الحق شاہ فضلِ رسول قادری بدایونی رحمۃ اللّٰه علیہ🕯*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*نام و نسب:*
*اسمِ گرامی:* حضرت شاہ فضلِ رسول۔
*لقب:* سیف اللہ المسلول، معین الحق۔
حضرت شاہ آلِ احمد اچھے میاں رحمہ اللہ تعالٰی کے ارشاد کے مطابق آپ کا نام فضلِ رسول رکھا گیا۔
*سلسلۂ نسب اسطرح ہے:* حضرت شاہ فضل ِرسول بدایونی بن عین الحق حضرت شاہ عبد المجید بد ایونی،بن شاہ عبد الحمید بدایونی۔ علیہم الرحمہ۔
آپ کا سلسلہ نسب والدِ ماجد کی طرف سے جامع القرآن حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ تعالی عنہ تک اور والدہ ماجدہ کی طرف سے رئیس المفسرین حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما تک پہنچتا ہے۔
*تاریخ ِولادت:* آپ کی ولادت باسعادت ماہِ صفر المظفر 1213ھ، مطابق 1798ء کو بدایوں (انڈیا) میں پیدا ہوئے۔
*تحصیلِ علم:* صرف و نحو کی ابتدائی تعلیم جد امجد اور والد ماجد سے حاصل کی۔ بارہ برس کی عمر میں مزید تعلیم حاصل کرنے کے لیے پاپیادہ لکھنؤ کا سفر کیا اور فرنگی محل لکھنؤ میں بحر العلوم قدس سرہ کے جلیل القدر شاگرد مولانا نور الحق قدس سرہ (متوفی 1338ھ)کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ نے چار سال کے قلیل عرصے میں تمام علوم و فنون کی تکمیل کرلی۔ حکیم ببر علی موہانی رحمہ اللہ تعالٰی سے فنِ طب کی تکمیل کی۔
*بیعت و خلافت:* آپ والدِ گرامی عین الحق شاہ عبدالمجید بدایونی کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے۔ انہوں نے تمام سلاسل میں اجازت و خلافت عطا فرمائی تھی۔ درگاہِ غوثیہ کے نقیب الاشراف حضرت سید علی نے آپ کو اجازت و خلافت مرحمت فرمائی۔
*سیرت و خصائص:* جامع المنقولات والمعقولات، جامع الشریعت والطریقت، امام اہلسنت، حامیِ سنت، ماحیِ بدعت، غیظ المنافقین، مہلک الوہابیین، معین الحق والدین، محسن الاسلام والمسلمین، سیف اللہ المسلول حضرت شاہ فضل رسول قادری بدایونی رحمۃ اللہ علیہ۔
آپ معقول و منقول کے امام اور شریعت و طریقت کے شیخِ کامل تھے۔ بےحساب افراد آپ سے فیض یاب ہوئے۔ آپ نے اپنے دور میں نمایاں طور پر احقاقِ حق کا فریضہ ادا کیا۔ بے شمار سادہ لوح مسلمانوں کے ایمان کا تحفظ فرمایا اور لاتعداد افراد کو راہِ راست دکھائی۔ مولانا کی ذات والا صفات مرجع انام تھی، ان کے پاس کوئی علاج معالجے کے لیے آتا اور کوئی مسائلِ شریعت دریافت کرنے حاضر ہوتا۔ کوئی ظاہری علوم کی گتھیاں سلجھانے کے لیے شرفِ باریابی حاصل کرتا، تو کوئی باطنی علوم کے عقیدے حل کرانے کی غرض سے دامِن عقیدت ہوا کرتا۔
غرض وہ علم و فضل کے نیر اعظم اور شریعت و طریقت کے سنگم تھے جہاں سے علم و عرفان کے چشمے پھوٹتے تھے۔ وہ ایک شمع انجمن تھے، جن سے ہر شخص اپنے ظرف اور ضرورت کے مطابق کسبِ ضیاء کرتا تھا۔ حرمین شریفین کی زیارت سے مستفیض ہوئے، اور خوب ریاضتیں کیں: مولوی محمد رضی الدین بدایونی لکھتے ہیں:
"جو کچھ ریاضتیں آپ نے ان اماکنِ متبرکہ میں ادا فرمائیں۔ بجز قدمء اولیاء کرام کے دوسرے سے مسموع نہ ہوئیں۔ حرمین شریفین کی راہ میں پیادہ سفر اور یتیموں مسکینوں کے آرام پہنچانے میں آپ نے ہرقسم کی تکلیف گوارا کی"۔(نورنورچہرے،ص،299)
*رد وہابیہ:* حضرت شاہ فضل رسول بدایونی علیہ الرحمہ کی ساری زندگی دینِ متین کی خدمت میں گزری۔اس وقت "فتنۂ وہابیہ "نیا نیا ظاہر ہوا تھا، اور مولوی اسمعیل دہلوی کی "تفویۃ الایمان" کے ذریعے ہندوستان میں اس فرقہ ضالہ کا بیج بویا جا رہا تھا۔ وہابی خذلھم اللہ تعالی سر عام انبیاءِ کرام اور اولیاء عظام کی توہین کرتے تھے۔ اس وقت ہندوستان میں آپ ہی کی ذات گرامی تھی جس نےاس فتنےکا سدباب کیا۔ہر جگہ ان کا تعاقب کیا۔
آپ فرماتے ہیں:
"میں قطب العالم حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی رحمۃ اللہ علیہ کے مزار مبارک میں مراقبہ کر رہا تھا۔ حالتِ مراقبہ میں دیکھا کہ حضور خواجہ صاحب رونق افروز ہیں اور دونوں دستِ مبارک میں اس قدر کتب کا انبار ہے کہ آسمان کی طرف حد نظر تک کتاب پر کتاب نظر آتی ہے۔میں نے عرض کیا کہ اس قدر تکلیف حضور نے کس لیے گوارا فرمائی ہے؟ ارشاد مبارک ہوا کہ تم یہ بار اپنے ذمے لے کر شیاطینِ وہابیہ کا قلع قمع کردو۔ آپ نے مراقبہ سے سر اٹھایا اور اسی ہفتہ میں کتاب مستطاب "بوارقِ محمدیہ" تالیف فرمائی۔"(ایضاً،203)
-----------------------------------------------------------
*🕯سیف اللّٰه المسلول معین الحق شاہ فضلِ رسول قادری بدایونی رحمۃ اللّٰه علیہ🕯*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*نام و نسب:*
*اسمِ گرامی:* حضرت شاہ فضلِ رسول۔
*لقب:* سیف اللہ المسلول، معین الحق۔
حضرت شاہ آلِ احمد اچھے میاں رحمہ اللہ تعالٰی کے ارشاد کے مطابق آپ کا نام فضلِ رسول رکھا گیا۔
*سلسلۂ نسب اسطرح ہے:* حضرت شاہ فضل ِرسول بدایونی بن عین الحق حضرت شاہ عبد المجید بد ایونی،بن شاہ عبد الحمید بدایونی۔ علیہم الرحمہ۔
آپ کا سلسلہ نسب والدِ ماجد کی طرف سے جامع القرآن حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ تعالی عنہ تک اور والدہ ماجدہ کی طرف سے رئیس المفسرین حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما تک پہنچتا ہے۔
*تاریخ ِولادت:* آپ کی ولادت باسعادت ماہِ صفر المظفر 1213ھ، مطابق 1798ء کو بدایوں (انڈیا) میں پیدا ہوئے۔
*تحصیلِ علم:* صرف و نحو کی ابتدائی تعلیم جد امجد اور والد ماجد سے حاصل کی۔ بارہ برس کی عمر میں مزید تعلیم حاصل کرنے کے لیے پاپیادہ لکھنؤ کا سفر کیا اور فرنگی محل لکھنؤ میں بحر العلوم قدس سرہ کے جلیل القدر شاگرد مولانا نور الحق قدس سرہ (متوفی 1338ھ)کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ نے چار سال کے قلیل عرصے میں تمام علوم و فنون کی تکمیل کرلی۔ حکیم ببر علی موہانی رحمہ اللہ تعالٰی سے فنِ طب کی تکمیل کی۔
*بیعت و خلافت:* آپ والدِ گرامی عین الحق شاہ عبدالمجید بدایونی کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے۔ انہوں نے تمام سلاسل میں اجازت و خلافت عطا فرمائی تھی۔ درگاہِ غوثیہ کے نقیب الاشراف حضرت سید علی نے آپ کو اجازت و خلافت مرحمت فرمائی۔
*سیرت و خصائص:* جامع المنقولات والمعقولات، جامع الشریعت والطریقت، امام اہلسنت، حامیِ سنت، ماحیِ بدعت، غیظ المنافقین، مہلک الوہابیین، معین الحق والدین، محسن الاسلام والمسلمین، سیف اللہ المسلول حضرت شاہ فضل رسول قادری بدایونی رحمۃ اللہ علیہ۔
آپ معقول و منقول کے امام اور شریعت و طریقت کے شیخِ کامل تھے۔ بےحساب افراد آپ سے فیض یاب ہوئے۔ آپ نے اپنے دور میں نمایاں طور پر احقاقِ حق کا فریضہ ادا کیا۔ بے شمار سادہ لوح مسلمانوں کے ایمان کا تحفظ فرمایا اور لاتعداد افراد کو راہِ راست دکھائی۔ مولانا کی ذات والا صفات مرجع انام تھی، ان کے پاس کوئی علاج معالجے کے لیے آتا اور کوئی مسائلِ شریعت دریافت کرنے حاضر ہوتا۔ کوئی ظاہری علوم کی گتھیاں سلجھانے کے لیے شرفِ باریابی حاصل کرتا، تو کوئی باطنی علوم کے عقیدے حل کرانے کی غرض سے دامِن عقیدت ہوا کرتا۔
غرض وہ علم و فضل کے نیر اعظم اور شریعت و طریقت کے سنگم تھے جہاں سے علم و عرفان کے چشمے پھوٹتے تھے۔ وہ ایک شمع انجمن تھے، جن سے ہر شخص اپنے ظرف اور ضرورت کے مطابق کسبِ ضیاء کرتا تھا۔ حرمین شریفین کی زیارت سے مستفیض ہوئے، اور خوب ریاضتیں کیں: مولوی محمد رضی الدین بدایونی لکھتے ہیں:
"جو کچھ ریاضتیں آپ نے ان اماکنِ متبرکہ میں ادا فرمائیں۔ بجز قدمء اولیاء کرام کے دوسرے سے مسموع نہ ہوئیں۔ حرمین شریفین کی راہ میں پیادہ سفر اور یتیموں مسکینوں کے آرام پہنچانے میں آپ نے ہرقسم کی تکلیف گوارا کی"۔(نورنورچہرے،ص،299)
*رد وہابیہ:* حضرت شاہ فضل رسول بدایونی علیہ الرحمہ کی ساری زندگی دینِ متین کی خدمت میں گزری۔اس وقت "فتنۂ وہابیہ "نیا نیا ظاہر ہوا تھا، اور مولوی اسمعیل دہلوی کی "تفویۃ الایمان" کے ذریعے ہندوستان میں اس فرقہ ضالہ کا بیج بویا جا رہا تھا۔ وہابی خذلھم اللہ تعالی سر عام انبیاءِ کرام اور اولیاء عظام کی توہین کرتے تھے۔ اس وقت ہندوستان میں آپ ہی کی ذات گرامی تھی جس نےاس فتنےکا سدباب کیا۔ہر جگہ ان کا تعاقب کیا۔
آپ فرماتے ہیں:
"میں قطب العالم حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی رحمۃ اللہ علیہ کے مزار مبارک میں مراقبہ کر رہا تھا۔ حالتِ مراقبہ میں دیکھا کہ حضور خواجہ صاحب رونق افروز ہیں اور دونوں دستِ مبارک میں اس قدر کتب کا انبار ہے کہ آسمان کی طرف حد نظر تک کتاب پر کتاب نظر آتی ہے۔میں نے عرض کیا کہ اس قدر تکلیف حضور نے کس لیے گوارا فرمائی ہے؟ ارشاد مبارک ہوا کہ تم یہ بار اپنے ذمے لے کر شیاطینِ وہابیہ کا قلع قمع کردو۔ آپ نے مراقبہ سے سر اٹھایا اور اسی ہفتہ میں کتاب مستطاب "بوارقِ محمدیہ" تالیف فرمائی۔"(ایضاً،203)
Forwarded from فیضـان دارالعــلوم امجـدیہ ناگپور
حضرت شاہ فضل رسول قادری علیہ الرحمہ نےمولوی اسمٰعیل دہلوی اور سید احمد بریلوی کو قریب سے دیکھا۔ ان کے عقائد اور عزائم کا بنظرِ غائر جائزہ لیا۔ ان کے طور و طریق کو بخوبی جانچا اور پھر ضمیر کی آواز کو بلاکم و کاست تحریر کردیا۔ فرماتے ہیں: "فاحشہ رنڈیوں کی بھی پیش کش (نذر) لینے میں تامل نہ تھا، یہاں تک کہ جو فرنگیوں کے گھروں میں تھیں۔ چناں چہ بنارس کا ریذیڈنٹ اگنسن بروک نام، اس کے گھر میں ایک فاحشہ تھی، بڑی اختیار والی اور صاحبِ مقدور مرید ہوئی اور دس ہزار روپے نذر پیش کیے اور اس کے مرید ہونے سے ریذیڈنٹ نے بہت خاطرداری کی کہ سید صاحب نے اس کو اپنی بیٹی فرمایا تھا، راقم (حضرت شاہ فضل رسول) بھی وہاں موجود تھا"۔ (سیف الجبار،ص،73)
مولوی اسمٰعیل دہلوی کے بارے میں امام المحدثین کی رائے: امام المحدثین حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلوی علیہ الرحمہ نے تقویۃ الایمان پر اظہارِ ناراضگی فرمایا۔ حضرت مولانا شاہ محمد فاخر الہ آبادی قدس سرہٗ فرماتے تھے:
کہ جب اسماعیل دہلوی نے تقویۃ الایمان لکھی اور سارے جہان کو مشرک و کافر بنانا شروع کیا تو اس وقت حضرت شاہ عبدالعزیز صاحب آنکھوں سے معذور اور بہت ضعیف ہو چکے تھے۔ افسوس کے ساتھ فرمایا: کہ میں تو بالکل ضعیف ہوگیا ہوں، آنکھوں سے بھی معذور ہوں، ورنہ اس کتاب اور اس عقیدہ فاسد کا رد بھی تحفہ اثنا عشریہ کی طرح لکھتا کہ لوگ دیکھتے۔
(نور نور چہرے،ص،311)
*ابنِ عبدالوہاب اپنوں کی نظر میں:* محمد بن عبدالوہاب نجدی کے بارے میں ان کے شیخ الاسلام مولوی حسین احمد مدنی کی رائے قابلِ ملاحظہ ہے۔لکھتے ہیں:
صاحبو! محمد بن عبدالوہاب نجدی ابتدائے تیرھویں صدی میں نجدی عرب سے ظاہر ہوا اور چونکہ خیالاتِ باطلہ اور عقائدِ فاسدہ رکھتا تھا، اس لیے اس نے اہل سنت و جماعت سے قتل و قتال کیا اور ان کو بالجبر اپنے خیالات کی تکلیف دیتا رہا۔ ان کے اموال کو غنیمت کا مال اور حلال سمجھاکیا۔ ان کے قتل کو باعثِ ثواب و رحمت شمار کرتا رہا ۔
اہل حرمین کو خصوصاً اور اہل حجاز کو عموماً اس نے تکالیفِ شاقہ پہنچائیں۔ سلفِ صالحین اور اکابرین کی شان میں نہایت گستاخی و بے ادبی کے الفاظ استعمال کیے۔ بہت سے لوگوں کو بوجہ اس کے تکالیفِ شدیدہ کے مدینہ منورہ اور مکہ معظمہ چھوڑنا پڑا اور ہزاروں آدمی اس کی فوج کے ہاتھوں شہید ہوگئے۔ الحاصل وہ ایک ظالم و باغی خونخوار، فاسق و فاجر شخص تھا۔ (الشہاب الثاقب،ص،50)
*دربار رسالتﷺ میں آپ کی قبولیت:* جب آپ کی عمر 77 برس ہوئی، تو آپ کے شانوں کے درمیان پشت پر زخم نمودار ہوا۔ ایک دن قاضی شمس الاسلام عباسی، جو آپ کے والد ماجد کے مرید تھے، عیادت کے لیے حاضر تھے، آپ نے فرمایا:"قاضی صاحب! بمقتضائے وَاَمَّا بِنِعْمَۃِ رَبِّکَ فَحَدِّثْ آج آپ سے کہتا ہوں کہ میں دربارِ نبوت سے استیصالِ فرقۂ وہابیہ کے لیے مامور کیا گیا۔
الحمد اللہ! کہ فرقہ باطلہ اسمٰعیلیہ واسحاقیہ کا رد پورے طور ہوچکا، دربار نبوت میں میری یہ سعی قبول ہوچکی ، میرے دل میں اب کوئی آرزو باقی نہ رہی، میں اس دارِ فانی سے جانے والا ہوں۔
(ایضاً،ص،313)
آپ نے خدمتِ خلق، عبادت و ریاضت، درس و تدریس، وغط و تبلیغ کے مشاغل کے باوجود تصنیف و تالیف کی طرف بھی توجہ فرمائی۔ آپ نے اعتقادیات، درسیات ،طب،تصوف او ر فقہ میں قابلِ قدر کتابیں تصنف فرمائیں ہیں۔ علماء اہلسنت کو ان کتب کا لازمی مطالعہ کرنا چاہئے۔
*تاریخِ وصال:* 2/جمادی الاخریٰ 1289ھ،مطابق 8/اگست 1872ء، بروز جمعرات ظہر کے وقت اسمِ ذات کے ذکر خفی میں مصروف تھے کہ اچانک دو دفعہ بلند آواز سے اللہ اللہ کہا اور ساتھ ہی روح قفسِ عنصری سے اعلیٰ علیین کی طرف پرواز کر گئی۔ درگاہِ قادری (بدایوں) میں آرام گاہ ہے۔
*نوٹ!* سیف اللہ المسلول شاہ فضلِ رسول بدایونی رحمۃ اللہ علیہ اور علامہ فضلِ حق خیر آبادی رحمۃ اللہ علیہ کی ذات قدسی صفات کی وجہ سے اہل ِباطل کے مقابلہ میں اہل ِحق (اہل ِسنت وجماعت) ماضی قریب میں "بد ایونی" اور "خیر آبادی" کے لقب سے پکارے جاتے تھے اور فی زمانہ امام اہل ِسنت مجدد دین وملت الشاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ کی نسبت سے (پاک وہند میں) اہلِ حق (اہل ِسنت وجماعت) "بریلوی" کے لقب سے پکارے اور جانے جاتے ہیں۔ جیسا کہ قرونِ اولیٰ میں معتزلہ،مجسمہ وغیرہ کے مقابلہ میں اہلِ حق اپنے آپکو "اشعری" ماتریدی" کہتے تھے۔
*ماخذ و مراجع:* تذکرہ علماء اہلسنت۔ نور نور چہرے۔
https://t.me/Faizan_E_DarulUloom_Amjadia_Ngp
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*المرتب⬅ محـمد یـوسـف رضـا رضـوی امجـدی نائب مدیر "فیضـانِ دارالعـلوم امجـدیہ ناگپور گروپ" 9604397443*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
مولوی اسمٰعیل دہلوی کے بارے میں امام المحدثین کی رائے: امام المحدثین حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلوی علیہ الرحمہ نے تقویۃ الایمان پر اظہارِ ناراضگی فرمایا۔ حضرت مولانا شاہ محمد فاخر الہ آبادی قدس سرہٗ فرماتے تھے:
کہ جب اسماعیل دہلوی نے تقویۃ الایمان لکھی اور سارے جہان کو مشرک و کافر بنانا شروع کیا تو اس وقت حضرت شاہ عبدالعزیز صاحب آنکھوں سے معذور اور بہت ضعیف ہو چکے تھے۔ افسوس کے ساتھ فرمایا: کہ میں تو بالکل ضعیف ہوگیا ہوں، آنکھوں سے بھی معذور ہوں، ورنہ اس کتاب اور اس عقیدہ فاسد کا رد بھی تحفہ اثنا عشریہ کی طرح لکھتا کہ لوگ دیکھتے۔
(نور نور چہرے،ص،311)
*ابنِ عبدالوہاب اپنوں کی نظر میں:* محمد بن عبدالوہاب نجدی کے بارے میں ان کے شیخ الاسلام مولوی حسین احمد مدنی کی رائے قابلِ ملاحظہ ہے۔لکھتے ہیں:
صاحبو! محمد بن عبدالوہاب نجدی ابتدائے تیرھویں صدی میں نجدی عرب سے ظاہر ہوا اور چونکہ خیالاتِ باطلہ اور عقائدِ فاسدہ رکھتا تھا، اس لیے اس نے اہل سنت و جماعت سے قتل و قتال کیا اور ان کو بالجبر اپنے خیالات کی تکلیف دیتا رہا۔ ان کے اموال کو غنیمت کا مال اور حلال سمجھاکیا۔ ان کے قتل کو باعثِ ثواب و رحمت شمار کرتا رہا ۔
اہل حرمین کو خصوصاً اور اہل حجاز کو عموماً اس نے تکالیفِ شاقہ پہنچائیں۔ سلفِ صالحین اور اکابرین کی شان میں نہایت گستاخی و بے ادبی کے الفاظ استعمال کیے۔ بہت سے لوگوں کو بوجہ اس کے تکالیفِ شدیدہ کے مدینہ منورہ اور مکہ معظمہ چھوڑنا پڑا اور ہزاروں آدمی اس کی فوج کے ہاتھوں شہید ہوگئے۔ الحاصل وہ ایک ظالم و باغی خونخوار، فاسق و فاجر شخص تھا۔ (الشہاب الثاقب،ص،50)
*دربار رسالتﷺ میں آپ کی قبولیت:* جب آپ کی عمر 77 برس ہوئی، تو آپ کے شانوں کے درمیان پشت پر زخم نمودار ہوا۔ ایک دن قاضی شمس الاسلام عباسی، جو آپ کے والد ماجد کے مرید تھے، عیادت کے لیے حاضر تھے، آپ نے فرمایا:"قاضی صاحب! بمقتضائے وَاَمَّا بِنِعْمَۃِ رَبِّکَ فَحَدِّثْ آج آپ سے کہتا ہوں کہ میں دربارِ نبوت سے استیصالِ فرقۂ وہابیہ کے لیے مامور کیا گیا۔
الحمد اللہ! کہ فرقہ باطلہ اسمٰعیلیہ واسحاقیہ کا رد پورے طور ہوچکا، دربار نبوت میں میری یہ سعی قبول ہوچکی ، میرے دل میں اب کوئی آرزو باقی نہ رہی، میں اس دارِ فانی سے جانے والا ہوں۔
(ایضاً،ص،313)
آپ نے خدمتِ خلق، عبادت و ریاضت، درس و تدریس، وغط و تبلیغ کے مشاغل کے باوجود تصنیف و تالیف کی طرف بھی توجہ فرمائی۔ آپ نے اعتقادیات، درسیات ،طب،تصوف او ر فقہ میں قابلِ قدر کتابیں تصنف فرمائیں ہیں۔ علماء اہلسنت کو ان کتب کا لازمی مطالعہ کرنا چاہئے۔
*تاریخِ وصال:* 2/جمادی الاخریٰ 1289ھ،مطابق 8/اگست 1872ء، بروز جمعرات ظہر کے وقت اسمِ ذات کے ذکر خفی میں مصروف تھے کہ اچانک دو دفعہ بلند آواز سے اللہ اللہ کہا اور ساتھ ہی روح قفسِ عنصری سے اعلیٰ علیین کی طرف پرواز کر گئی۔ درگاہِ قادری (بدایوں) میں آرام گاہ ہے۔
*نوٹ!* سیف اللہ المسلول شاہ فضلِ رسول بدایونی رحمۃ اللہ علیہ اور علامہ فضلِ حق خیر آبادی رحمۃ اللہ علیہ کی ذات قدسی صفات کی وجہ سے اہل ِباطل کے مقابلہ میں اہل ِحق (اہل ِسنت وجماعت) ماضی قریب میں "بد ایونی" اور "خیر آبادی" کے لقب سے پکارے جاتے تھے اور فی زمانہ امام اہل ِسنت مجدد دین وملت الشاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ کی نسبت سے (پاک وہند میں) اہلِ حق (اہل ِسنت وجماعت) "بریلوی" کے لقب سے پکارے اور جانے جاتے ہیں۔ جیسا کہ قرونِ اولیٰ میں معتزلہ،مجسمہ وغیرہ کے مقابلہ میں اہلِ حق اپنے آپکو "اشعری" ماتریدی" کہتے تھے۔
*ماخذ و مراجع:* تذکرہ علماء اہلسنت۔ نور نور چہرے۔
https://t.me/Faizan_E_DarulUloom_Amjadia_Ngp
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*المرتب⬅ محـمد یـوسـف رضـا رضـوی امجـدی نائب مدیر "فیضـانِ دارالعـلوم امجـدیہ ناگپور گروپ" 9604397443*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
Telegram
فیضـان دارالعــلوم امجـدیہ ناگپور
اہلسنت و جماعت مسلک اعلیٰ حضرت کا ترجمان، وسط ہند کی عظیم درسگاہ " دارالعلوم امجدیہ ناگپور مہاراشٹرا" کے نام سے منسوب گروپ
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
۱ جمادی الثانی ۳۴۴۱ء بدھ مطابق ۵ جنوری ۲۲۰۲ء بُدھ 01-06-1443 Budh 05-01-2022 Wednesday
۲ جمادی الثانی ۳۴۴۱ء جمعرات
مطابق ۶ جنوری ۲۲۰۲ء बृहस्पतिवार
02-06-1443 Jumerat
06-01-2022 Thursday
مطابق ۶ جنوری ۲۲۰۲ء बृहस्पतिवार
02-06-1443 Jumerat
06-01-2022 Thursday
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
۲ جمادی الثانی ۳۴۴۱ء جمعرات مطابق ۶ جنوری ۲۲۰۲ء बृहस्पतिवार 02-06-1443 Jumerat 06-01-2022 Thursday
۲ جمادی الثانی ۳۴۴۱ء جمعرات
مطابق ۶ جنوری ۲۲۰۲ء बृहस्पतिवार
02-06-1443 Jumerat
06-01-2022 Thursday
مطابق ۶ جنوری ۲۲۰۲ء बृहस्पतिवार
02-06-1443 Jumerat
06-01-2022 Thursday