🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from کریم اللہ رضوی استاذ دار العلوم مخدومیہ جوگیشوری ممبئی
السلام علیکم و رحمۃ اللّٰہ و برکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ گھڑی کس ہاتھ میں پہننا چاہیے ؟
سائل : مدثر حسین خان دھولیہ مہاراشٹر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وعلیکم السلام و رحمۃ اللّٰہ و برکاتہ
جواب گھڑی اپنی مرضی اور سہولت کے مطابق دائیں یا بائیں کسی بھی ہاتھ پر باندھنا سکتے ہیں اس میں کوئی پابندی نہیں ہے البتہ خیر کے کام میں دائیں ہاتھ کو ترجیح دینا بہتر ہوتا ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیر کی چیزوں میں دائیں جانب کو اختیار فرمایا ہے جیسا کہ حدیث شریف میں ہے کہ " عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْجِبُهُ التَّيَمُّنُ فِی تَنَعُّلِهِ وَ تَرَجُّلِهِ وَ طُهُورِهِ وَ فِی شَأْنِهِ كُلِّهِ " اھ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جوتا پہننے ، کنگھی کرنے ، وضو کرنے اور اپنے ہر کام میں داہنی طرف سے کام کی ابتداء کرنے کو پسند فرمایا کرتے تھے " اھ ( صحیح البخاری ج 1 ص 116 رقم حدیث 168 ) اور ابو داؤد شریف میں ہے کہ " عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ‌‌‌‌‌‏قَالَ :‌‌‌‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :‌‌‌‏ إِذَا لَبِسْتُمْ وَ إِذَا تَوَضَّأْتُمْ فَابْدَءُوا بِأَيَامِنِكُمْ " اھ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جب تم کپڑے پہنو اور جب وضو کرو تو اپنے داہنے سے شروع کرو " اھ ( سنن ابی داؤد رقم حدیث 4141 ) اور گھڑی بھی چونکہ خیر کا ذریعہ ہے اس سے نماز ، سحر و افطار کے اوقات اور دیگر دینی ، معاشی و معاشرتی امور کے لئے اوقات معلوم کئے جاتے ہیں ، لہٰذا گھڑی دائیں ہاتھ پر باندھنا بہتر ہے ۔ اگر اس کو انگوٹھی پر قیاس کریں تو انگوٹھی داہنے ہاتھ یا بائیں ہاتھ ہر دو میں پہننا احادیث شریفہ سے ثابت ہے لہذا دونوں ہاتھوں میں بھی باندھنا شرعاً جائز ہے ۔

واللہ اعلم بالصواب
کریم اللہ رضوی
خادم التدریس دار العلوم مخدومیہ اوشیورہ برج جوگیشوری ممبئی موبائل نمبر 7666456313
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from کریم اللہ رضوی استاذ دار العلوم مخدومیہ جوگیشوری ممبئی
السلام علیکم و رحمۃ اللّٰہ و برکاتہ
علمائے کرام کی بارگاہ میں عرض ہے کہ علم غیب اور کشف میں کیا فرق ہوتا ہے؟
المستفتی : محمد نعمان خان رضوی ، ممبئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وعلیکم السلام و رحمۃ اللّٰہ و برکاتہ
*جواب* کشف اور علمِ غیب دو جدا چیزیں ہیں *علم غیب* اس پوشیدہ حقیقت کا علم ہے جو نہ حواس خمسہ سے معلوم ہو نہ عقل سے معلوم ہو ۔ اس پر ایمان لانا مسلمان ہونے کی پہلی شرط ہے ۔ علم غیب کی دو قسمیں ہیں ایک تو علمِ غیب ذاتی ہے اور دوسرا علمِ غیب عطائی ۔ علمِ غیب ذاتی صرف اللہ عز و جل کا ہی خاصہ ہے اللہ عز و جل کا علم ذاتی ہے نہ کہ کسی کا عطا کیا ہوا ہے ۔ اور علمِ غیب عطائی سے مراد وہ علم جو اللہ عز و جل نے اپنے فضل و کرم سے محبوبوں کو عطاء فرماتا ہے ۔ *کشف* عالم غیب کی کسی چیز سے پردہ اٹھاکر دکھلا دینے کا نام کشف ہے ۔ کشف سے پہلے جو چیز مستور تھی اب وہ مکشوف یعنی ظاہر اور آشکارا ہوگئی ۔ یہ صرف مخلوق کے لئے ہی ممکن ہے ۔ *علم غیب* کی تعریف کرتے ہوئے صاحب تفسیر کبیر فرماتے ہیں کہ " قول جمهور المفسرين : ان الغيب هو الذى يكون غائبا عن الحاسة ثم هذا ينقسم الى ما عليه دليل و الى ما لا دليل عليه " اھ یعنی عام مفسرین کا یہ قول ہے کہ غیب وہ ہے جو حواس سے چھپا ہوا ہو پھر غیب کی دو قسمیں ہوتی ہیں ایک تو وہ جس پر دلیل ہے اور دوسرے وہ جس پر کوئی دلیل نہیں " اھ ( تفسیر الفخر الرازی المشتھر بالتفسیر الکبیر ج 2 ص 31 : دار الفکر بیروت ) اور تفسیر روح البیان میں ہے کہ " و هو ما غاب عن الحس و العقل غيبة كاملة بحيث لا يدرك بواحد منها ابتداء بطريق البداهة و هو قسمان قسم لا دليل عليه وهو الذى اريد بقوله عنده مفاتح الغيب و قسم نصب عليه دليل كالصانع و صفاته و هو المراد " اھ یعنی غیب وہ ہے جو حواس اور عقل سے پورا پورا چھپا ہوا ہو اس طرح کہ کسی ذریعہ سے بھی ابتداء کھلم کھلا معلوم نہ ہوسکے غیب کی دو قسمیں ہیں ایک وہ قسم جس پر دلیل نہ ہو وہ ہی اس آیت سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ کے پاس غیب کی کنجیاں ہیں دوسری قسم وہ جس پر دلیل قائم ہو جیسے اللہ تعالیٰ اور اس کی صفات وہ ہی اس جگہ مراد ہے " اھ ( تفسیر روح البیان ج 1 ص 35 : دار الکتب العلمیہ بیروت بحوالہ جاء الحق حصہ اول ص 42 : مکتبۃ الاسلامیہ لاھور ) اور *کشف* کی تعریف کرتے ہوئے حضرت علامہ جرجانی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ " *الكشف* : فى اللفظ : رفع الحجاب ، و فى الاصطلاح : هو الاطلاع على ما وراء الحجاب من المعانى الغيبة ، و الامور الحقيقة و جودا و شهودا " اھ یعنی لغۃ پردہ اٹھانا ، اصطلاحا پردہ کے پیچھے کے غیبی معانی اور امور حقیقہ پر وجودا و شہودا مطلع ہونا " اھ ( التعریفات للجرجانی ص 237 : دار الدیان للتراث / خزائن التعریفات ص 297 : مطبوعہ کراچی لاہور )

واللہ اعلم بالصواب
کریم اللہ رضوی
خادم التدریس دار العلوم مخدومیہ اوشیورہ برج جوگیشوری ممبئی موبائل نمبر 7666456313
الجواب صحیح والمجیب مصیب واللہ اعلم بالصواب محمد اختر رضا خان مصباحی مجددی خادم التدریس والافتاء دارالعلوم مخدومیہ اوشیورہ برج جوگیشوری ویسٹ ممبئی 400102 موبائل نمبر 9773497935
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
*📚 « امجــــدی مضــــامین » 📚*
-----------------------------------------------------------
*🕯فکر معاش کے سبب مذہب کی تباہی🕯*


مبسملا وحامدا : ومصلیا ومسلما
📬 قریباً پندرہ سولہ سال سے یہ دیکھنے میں آ رہا ہے کہ رد بدمذہبیت کو علماے کرام کی اکثریت نے ترک کر دیا ہے ۔ حالاں کہ رد بدمذہبیت واجبات دینیہ میں سے ہے۔

رد و ابطال کو ترک کرنا مذہب کی تباہی ہے۔اس کا نتیجہ آنکھوں کے سامنے ہے کہ روز بروز سنیوں کی تعداد گھٹتی جا رہی ہے۔

اس کی بھرپائی کے لئے لوگوں نے یہ غلط نظریہ ایجاد کر لیا ہے کہ دیوبندی,وہابی اور مودودی عوام سنی ہیں۔عوام کو کچھ معلوم نہیں۔

دوسری جانب بدمذہبوں نے خود کو سنی کہنا شروع کر دیا ہے اور سنی حضرات کو بریلوی اور ایک گمراہ جماعت باور کرانے میں بہت حد تک کام یاب ہو گئے۔

وہ افعال شنیعہ جو ہمارے یہاں بھی ناجائز ہیں,بدمذہبوں نے ان افعال قبیحہ کو ہماری طرف منسوب کر کے عوام الناس کو یہ یقین دہانی کرا دی ہے کہ بریلوی ایک بدعتی اور قبر پرست جماعت ہے۔

بدمذہبوں کے چند مشہور الزامات درج ذیل ہیں:

۔1-بریلوی لوگ قبروں کا سجدہ کرتے ہیں۔

۔2-بریلوی عورتیں عرسوں میں شرکت کرتی ہیں جہاں عورتوں اور مردوں کا خلط ملط ہوتا ہے۔

۔3-بریلوی لوگ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا رتبہ اللہ تعالی سے بھی زیادہ بڑھا دیتے ہیں۔

اس قسم کے متعدد غلط الزامات عائد کر کے عام مسلمانوں کو مذہب اہل سنت وجماعت سے بر گشتہ کر دیتے ہیں۔

عہد ماضی میں بھی مختلف قسم کے الزامات ہمارے سر تھوپے گئے۔ہمارے علمائے کرام ایسے غلط الزامات کی تردید کرتے رہے,بد مذہبوں کے کفریات کلامیہ اور کفریات فقہیہ قوم کو بتاتے رہے اور قوم کی اصلاح کرتے رہے

لیکن قریبا پندرہ بیس سال سے لوگوں نے اپنی زبانوں پر تالا لگا لیا ہے۔ایسے لوگوں کو حدیث شریف میں گونگا شیطان کہا گیا ہے۔

دل نشیں اسلوب کے ساتھ بدمذہبوں کے کفریات کلامیہ وکفریات فقہیہ کو اجاگر کیا جائے,ورنہ روافض کے علاوہ دیگر تمام فرق باطلہ اپنے کو سنی باور کرانے میں کامیاب ہو جائیں گے اور سنیوں کو گمراہ اور بدمذہب جماعت ثابت کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے,بلکہ ایک حد تک وہ کامیاب ہو چکے ہیں۔

زبان پر تالا بندی کے اسباب مندرجہ ذیل ہیں:
بہت سی مساجد میں مسجد کمیٹی کی جانب سے ائمہ کرام پر پابندی عائد رہتی ہے کہ وہ کسی بدمذہب کا رد نہیں کریں گے۔روزی روٹی کا سوال ہے۔ائمہ مساجد اس سبب سے خاموش رہتے ہیں۔

2-بہت سے مقررین کو یہ خوف ہوتا ہے کہ اگر ہم نے رد وابطال کو مشغلہ بنایا تو کوئی ہمیں اپنے جلسوں میں دعوت نہیں دے گا اور ہماری روزی روٹی بند ہو جائے گی۔

3-بہت سے اہل مدارس اپنے اسٹیجوں پر رد وابطال کی اجازت نہیں دیتے کہ ان کے چندہ پر اثر آئے گا۔

ہر جماعت میں بہت سے دانشور قسم کے موجود ہوتے ہیں۔اہل سنت وجماعت میں بھی دانشوروں کی تعداد کم نہیں۔اس کا حل نکالیں۔ہماری تعلیمی,تعمیری,رفاہی و سماجی خدمات وسیع ہوتی جا رہی ہیں اور اہل مذہب کی تعداد گھٹتی جا رہی ہے۔

حضرت علامہ ارشد القادری اور حضرت علامہ مشتاق احمد نظامی علیہما الرحمہ جہاں کہیں تقریر کرتے۔ان حضرات کی تقریروں کے سبب انقلابی کیفیت رونما ہو جاتی۔بدمذہب اپنی بدمذہبیت سے تائب ہو جاتے۔

حضور محدث اعظم ہند قدس سرہ القوی کے شہزادگان اور حشمتی برادران کی اکثر تقاریر رد و ابطال پر مشتمل ہوتیں۔

رد و ابطال اس قدر دل نشیں انداز میں ہو کہ مجمع سے کوئی بھاگنے بھی نہ پائے اور تقریر سن لینے والا بہکنے بھی نہ پائے۔

کیا عہد حاضر کے خطبا و مقررین اپنے اندر کچھ تبدیلی لانا چاہیں گے یا ساحل عافیت میں گوشہ نشیں رہیں گے؟؟؟

ان شاء اللہ تعالی میں حتی المقدور کوشش کروں گا۔

در حقیقت میں جس قدر مذہب کے موافق تحریر لاؤں گا یا تقریر سناؤں گا۔امید قوی ہے کہ میرا خدا مجھے نوازتا جائے گا۔ من کان للہ کان اللہ لہ
https://t.me/Faizan_E_DarulUloom_Amjadia_Ngp

*از قلم✍🏻 طارق انور مصباحی، مدیر : ماہنامہ پیغام شریعت دہلی۔*
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
آپ سبھی حضرات کو عرس حضور حافظ ملت رحمه اللہ تعالی ورضی عنه مبارک ہو۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
جامعہ اشرفیہ مبارک پور کا اعلان۔
5؍جنوری 2022ء، منگل یکم جمادی الآخرہ اور روز وصال حضور حافظ ملت علیہ الرحمہ۔