This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from کریم اللہ رضوی استاذ دار العلوم مخدومیہ جوگیشوری ممبئی
السلام علیکم و رحمۃ اللّٰہ و برکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ گھڑی کس ہاتھ میں پہننا چاہیے ؟
سائل : مدثر حسین خان دھولیہ مہاراشٹر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وعلیکم السلام و رحمۃ اللّٰہ و برکاتہ
جواب گھڑی اپنی مرضی اور سہولت کے مطابق دائیں یا بائیں کسی بھی ہاتھ پر باندھنا سکتے ہیں اس میں کوئی پابندی نہیں ہے البتہ خیر کے کام میں دائیں ہاتھ کو ترجیح دینا بہتر ہوتا ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیر کی چیزوں میں دائیں جانب کو اختیار فرمایا ہے جیسا کہ حدیث شریف میں ہے کہ " عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْجِبُهُ التَّيَمُّنُ فِی تَنَعُّلِهِ وَ تَرَجُّلِهِ وَ طُهُورِهِ وَ فِی شَأْنِهِ كُلِّهِ " اھ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جوتا پہننے ، کنگھی کرنے ، وضو کرنے اور اپنے ہر کام میں داہنی طرف سے کام کی ابتداء کرنے کو پسند فرمایا کرتے تھے " اھ ( صحیح البخاری ج 1 ص 116 رقم حدیث 168 ) اور ابو داؤد شریف میں ہے کہ " عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذَا لَبِسْتُمْ وَ إِذَا تَوَضَّأْتُمْ فَابْدَءُوا بِأَيَامِنِكُمْ " اھ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جب تم کپڑے پہنو اور جب وضو کرو تو اپنے داہنے سے شروع کرو " اھ ( سنن ابی داؤد رقم حدیث 4141 ) اور گھڑی بھی چونکہ خیر کا ذریعہ ہے اس سے نماز ، سحر و افطار کے اوقات اور دیگر دینی ، معاشی و معاشرتی امور کے لئے اوقات معلوم کئے جاتے ہیں ، لہٰذا گھڑی دائیں ہاتھ پر باندھنا بہتر ہے ۔ اگر اس کو انگوٹھی پر قیاس کریں تو انگوٹھی داہنے ہاتھ یا بائیں ہاتھ ہر دو میں پہننا احادیث شریفہ سے ثابت ہے لہذا دونوں ہاتھوں میں بھی باندھنا شرعاً جائز ہے ۔
واللہ اعلم بالصواب
کریم اللہ رضوی
خادم التدریس دار العلوم مخدومیہ اوشیورہ برج جوگیشوری ممبئی موبائل نمبر 7666456313
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ گھڑی کس ہاتھ میں پہننا چاہیے ؟
سائل : مدثر حسین خان دھولیہ مہاراشٹر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وعلیکم السلام و رحمۃ اللّٰہ و برکاتہ
جواب گھڑی اپنی مرضی اور سہولت کے مطابق دائیں یا بائیں کسی بھی ہاتھ پر باندھنا سکتے ہیں اس میں کوئی پابندی نہیں ہے البتہ خیر کے کام میں دائیں ہاتھ کو ترجیح دینا بہتر ہوتا ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیر کی چیزوں میں دائیں جانب کو اختیار فرمایا ہے جیسا کہ حدیث شریف میں ہے کہ " عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْجِبُهُ التَّيَمُّنُ فِی تَنَعُّلِهِ وَ تَرَجُّلِهِ وَ طُهُورِهِ وَ فِی شَأْنِهِ كُلِّهِ " اھ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جوتا پہننے ، کنگھی کرنے ، وضو کرنے اور اپنے ہر کام میں داہنی طرف سے کام کی ابتداء کرنے کو پسند فرمایا کرتے تھے " اھ ( صحیح البخاری ج 1 ص 116 رقم حدیث 168 ) اور ابو داؤد شریف میں ہے کہ " عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذَا لَبِسْتُمْ وَ إِذَا تَوَضَّأْتُمْ فَابْدَءُوا بِأَيَامِنِكُمْ " اھ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جب تم کپڑے پہنو اور جب وضو کرو تو اپنے داہنے سے شروع کرو " اھ ( سنن ابی داؤد رقم حدیث 4141 ) اور گھڑی بھی چونکہ خیر کا ذریعہ ہے اس سے نماز ، سحر و افطار کے اوقات اور دیگر دینی ، معاشی و معاشرتی امور کے لئے اوقات معلوم کئے جاتے ہیں ، لہٰذا گھڑی دائیں ہاتھ پر باندھنا بہتر ہے ۔ اگر اس کو انگوٹھی پر قیاس کریں تو انگوٹھی داہنے ہاتھ یا بائیں ہاتھ ہر دو میں پہننا احادیث شریفہ سے ثابت ہے لہذا دونوں ہاتھوں میں بھی باندھنا شرعاً جائز ہے ۔
واللہ اعلم بالصواب
کریم اللہ رضوی
خادم التدریس دار العلوم مخدومیہ اوشیورہ برج جوگیشوری ممبئی موبائل نمبر 7666456313
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from کریم اللہ رضوی استاذ دار العلوم مخدومیہ جوگیشوری ممبئی
السلام علیکم و رحمۃ اللّٰہ و برکاتہ
علمائے کرام کی بارگاہ میں عرض ہے کہ علم غیب اور کشف میں کیا فرق ہوتا ہے؟
المستفتی : محمد نعمان خان رضوی ، ممبئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وعلیکم السلام و رحمۃ اللّٰہ و برکاتہ
*جواب* کشف اور علمِ غیب دو جدا چیزیں ہیں *علم غیب* اس پوشیدہ حقیقت کا علم ہے جو نہ حواس خمسہ سے معلوم ہو نہ عقل سے معلوم ہو ۔ اس پر ایمان لانا مسلمان ہونے کی پہلی شرط ہے ۔ علم غیب کی دو قسمیں ہیں ایک تو علمِ غیب ذاتی ہے اور دوسرا علمِ غیب عطائی ۔ علمِ غیب ذاتی صرف اللہ عز و جل کا ہی خاصہ ہے اللہ عز و جل کا علم ذاتی ہے نہ کہ کسی کا عطا کیا ہوا ہے ۔ اور علمِ غیب عطائی سے مراد وہ علم جو اللہ عز و جل نے اپنے فضل و کرم سے محبوبوں کو عطاء فرماتا ہے ۔ *کشف* عالم غیب کی کسی چیز سے پردہ اٹھاکر دکھلا دینے کا نام کشف ہے ۔ کشف سے پہلے جو چیز مستور تھی اب وہ مکشوف یعنی ظاہر اور آشکارا ہوگئی ۔ یہ صرف مخلوق کے لئے ہی ممکن ہے ۔ *علم غیب* کی تعریف کرتے ہوئے صاحب تفسیر کبیر فرماتے ہیں کہ " قول جمهور المفسرين : ان الغيب هو الذى يكون غائبا عن الحاسة ثم هذا ينقسم الى ما عليه دليل و الى ما لا دليل عليه " اھ یعنی عام مفسرین کا یہ قول ہے کہ غیب وہ ہے جو حواس سے چھپا ہوا ہو پھر غیب کی دو قسمیں ہوتی ہیں ایک تو وہ جس پر دلیل ہے اور دوسرے وہ جس پر کوئی دلیل نہیں " اھ ( تفسیر الفخر الرازی المشتھر بالتفسیر الکبیر ج 2 ص 31 : دار الفکر بیروت ) اور تفسیر روح البیان میں ہے کہ " و هو ما غاب عن الحس و العقل غيبة كاملة بحيث لا يدرك بواحد منها ابتداء بطريق البداهة و هو قسمان قسم لا دليل عليه وهو الذى اريد بقوله عنده مفاتح الغيب و قسم نصب عليه دليل كالصانع و صفاته و هو المراد " اھ یعنی غیب وہ ہے جو حواس اور عقل سے پورا پورا چھپا ہوا ہو اس طرح کہ کسی ذریعہ سے بھی ابتداء کھلم کھلا معلوم نہ ہوسکے غیب کی دو قسمیں ہیں ایک وہ قسم جس پر دلیل نہ ہو وہ ہی اس آیت سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ کے پاس غیب کی کنجیاں ہیں دوسری قسم وہ جس پر دلیل قائم ہو جیسے اللہ تعالیٰ اور اس کی صفات وہ ہی اس جگہ مراد ہے " اھ ( تفسیر روح البیان ج 1 ص 35 : دار الکتب العلمیہ بیروت بحوالہ جاء الحق حصہ اول ص 42 : مکتبۃ الاسلامیہ لاھور ) اور *کشف* کی تعریف کرتے ہوئے حضرت علامہ جرجانی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ " *الكشف* : فى اللفظ : رفع الحجاب ، و فى الاصطلاح : هو الاطلاع على ما وراء الحجاب من المعانى الغيبة ، و الامور الحقيقة و جودا و شهودا " اھ یعنی لغۃ پردہ اٹھانا ، اصطلاحا پردہ کے پیچھے کے غیبی معانی اور امور حقیقہ پر وجودا و شہودا مطلع ہونا " اھ ( التعریفات للجرجانی ص 237 : دار الدیان للتراث / خزائن التعریفات ص 297 : مطبوعہ کراچی لاہور )
واللہ اعلم بالصواب
کریم اللہ رضوی
خادم التدریس دار العلوم مخدومیہ اوشیورہ برج جوگیشوری ممبئی موبائل نمبر 7666456313
الجواب صحیح والمجیب مصیب واللہ اعلم بالصواب محمد اختر رضا خان مصباحی مجددی خادم التدریس والافتاء دارالعلوم مخدومیہ اوشیورہ برج جوگیشوری ویسٹ ممبئی 400102 موبائل نمبر 9773497935
علمائے کرام کی بارگاہ میں عرض ہے کہ علم غیب اور کشف میں کیا فرق ہوتا ہے؟
المستفتی : محمد نعمان خان رضوی ، ممبئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وعلیکم السلام و رحمۃ اللّٰہ و برکاتہ
*جواب* کشف اور علمِ غیب دو جدا چیزیں ہیں *علم غیب* اس پوشیدہ حقیقت کا علم ہے جو نہ حواس خمسہ سے معلوم ہو نہ عقل سے معلوم ہو ۔ اس پر ایمان لانا مسلمان ہونے کی پہلی شرط ہے ۔ علم غیب کی دو قسمیں ہیں ایک تو علمِ غیب ذاتی ہے اور دوسرا علمِ غیب عطائی ۔ علمِ غیب ذاتی صرف اللہ عز و جل کا ہی خاصہ ہے اللہ عز و جل کا علم ذاتی ہے نہ کہ کسی کا عطا کیا ہوا ہے ۔ اور علمِ غیب عطائی سے مراد وہ علم جو اللہ عز و جل نے اپنے فضل و کرم سے محبوبوں کو عطاء فرماتا ہے ۔ *کشف* عالم غیب کی کسی چیز سے پردہ اٹھاکر دکھلا دینے کا نام کشف ہے ۔ کشف سے پہلے جو چیز مستور تھی اب وہ مکشوف یعنی ظاہر اور آشکارا ہوگئی ۔ یہ صرف مخلوق کے لئے ہی ممکن ہے ۔ *علم غیب* کی تعریف کرتے ہوئے صاحب تفسیر کبیر فرماتے ہیں کہ " قول جمهور المفسرين : ان الغيب هو الذى يكون غائبا عن الحاسة ثم هذا ينقسم الى ما عليه دليل و الى ما لا دليل عليه " اھ یعنی عام مفسرین کا یہ قول ہے کہ غیب وہ ہے جو حواس سے چھپا ہوا ہو پھر غیب کی دو قسمیں ہوتی ہیں ایک تو وہ جس پر دلیل ہے اور دوسرے وہ جس پر کوئی دلیل نہیں " اھ ( تفسیر الفخر الرازی المشتھر بالتفسیر الکبیر ج 2 ص 31 : دار الفکر بیروت ) اور تفسیر روح البیان میں ہے کہ " و هو ما غاب عن الحس و العقل غيبة كاملة بحيث لا يدرك بواحد منها ابتداء بطريق البداهة و هو قسمان قسم لا دليل عليه وهو الذى اريد بقوله عنده مفاتح الغيب و قسم نصب عليه دليل كالصانع و صفاته و هو المراد " اھ یعنی غیب وہ ہے جو حواس اور عقل سے پورا پورا چھپا ہوا ہو اس طرح کہ کسی ذریعہ سے بھی ابتداء کھلم کھلا معلوم نہ ہوسکے غیب کی دو قسمیں ہیں ایک وہ قسم جس پر دلیل نہ ہو وہ ہی اس آیت سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ کے پاس غیب کی کنجیاں ہیں دوسری قسم وہ جس پر دلیل قائم ہو جیسے اللہ تعالیٰ اور اس کی صفات وہ ہی اس جگہ مراد ہے " اھ ( تفسیر روح البیان ج 1 ص 35 : دار الکتب العلمیہ بیروت بحوالہ جاء الحق حصہ اول ص 42 : مکتبۃ الاسلامیہ لاھور ) اور *کشف* کی تعریف کرتے ہوئے حضرت علامہ جرجانی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ " *الكشف* : فى اللفظ : رفع الحجاب ، و فى الاصطلاح : هو الاطلاع على ما وراء الحجاب من المعانى الغيبة ، و الامور الحقيقة و جودا و شهودا " اھ یعنی لغۃ پردہ اٹھانا ، اصطلاحا پردہ کے پیچھے کے غیبی معانی اور امور حقیقہ پر وجودا و شہودا مطلع ہونا " اھ ( التعریفات للجرجانی ص 237 : دار الدیان للتراث / خزائن التعریفات ص 297 : مطبوعہ کراچی لاہور )
واللہ اعلم بالصواب
کریم اللہ رضوی
خادم التدریس دار العلوم مخدومیہ اوشیورہ برج جوگیشوری ممبئی موبائل نمبر 7666456313
الجواب صحیح والمجیب مصیب واللہ اعلم بالصواب محمد اختر رضا خان مصباحی مجددی خادم التدریس والافتاء دارالعلوم مخدومیہ اوشیورہ برج جوگیشوری ویسٹ ممبئی 400102 موبائل نمبر 9773497935
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM