This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
۲۸ جمادی الاول ۳۴۴۱ء اتوار
مطابق ۲ جنوری ۲۲۰۲ء اتوار
28-05-1443 itwaar
02-01-2022 Sunday
مطابق ۲ جنوری ۲۲۰۲ء اتوار
28-05-1443 itwaar
02-01-2022 Sunday
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1👍1
Forwarded from فیضـان دارالعــلوم امجـدیہ ناگپور
*🕯 « احــکامِ شــریعت » 🕯*
-----------------------------------------------------------
*📚اللہ تعالی کے لئے "غصہ" کا لفظ استعمال کرنا کیسا؟📚*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
السلام علیکم ورحمۃاللہ
کیافرماتےہیں مفتیان کرام مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ اللہ تعالی کے لئے غصہ کا لفظ استعمال کرسکتے ہیں مثلاً یہ کہا جاسکتا ہے کہ اللہ فلاں کام پر غصہ ہوتا ہے
مع حوالہ مسئلہ واضح فرمائیں
*سائل: عبدالرحمن بہرائچ شریف۔*
ـــــــــــــــــــــ❣♻❣ــــــــــــــــــــــ
*وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ*
*الجواب:*
اللہ عزوجل کے لیے لفظ غصہ کا استعمال درست نہیں۔ ایسے الفاظ کا استعمال ذاتِ باری کے لیے کرنا ممنوع ہے جن کا معنی ایسا ہو جو باری تعالی کی شان کے خلاف ہو۔ بلکہ معنئ محال کا ایہام ہی ممانعت کے لیے کافی ہوتا ہے۔
غصہ کے اصل معنی ہیں اِچھو لگنا یعنی حلق میں کھانے کا پھنسنا۔
جیساکہ قرآن پاک کی آیت ہے *" طَعَامًا ذَا غُصَّةٍ "*
اس آیت سے استعارہ کر کے لفظ غصہ کا اطلاق ایسے غضب پر ہوتا ہے جسے آدمی کسی خوف یا لحاظ کے سبب ظاہر نہ کر سکے، گویا دل کا جوش گلے میں پھنس کر رہ گیا۔
*( 📓ماخوذ از فتاوی رضویہ جلد 26 صفحہ 457 )*
لہذا لفظ غصہ کا اطلاق اللہ کی ذات کے لیے کرنا درست نہیں ہے کہ یہ ایک جسمانی کیفیت ہے اور اس کا تعلق عوارض بشریہ سے ہے۔ اس کی بجائے غضب کا لفظ استعمال کیا جائے جیسا کہ قرآن میں استعمال ہوا ہے۔
*و اللہ تعالی و رسولہ اعلم*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*✍🏻کتبــــــــــــــــہ:*
*محمد عثمان رضوی صاحب قبلہ پاکستان۔*
*✅الجواب صحیح : کریم اللہ رضوی خادم التدریس دار العلوم مخدومیہ اوشیورہ برج جوگیشوری ممبئی۔*
https://t.me/Faizan_E_DarulUloom_Amjadia_Ngp
ـــــــــــــــــــــ❣♻❣ــــــــــــــــــــــ
-----------------------------------------------------------
*📚اللہ تعالی کے لئے "غصہ" کا لفظ استعمال کرنا کیسا؟📚*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
السلام علیکم ورحمۃاللہ
کیافرماتےہیں مفتیان کرام مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ اللہ تعالی کے لئے غصہ کا لفظ استعمال کرسکتے ہیں مثلاً یہ کہا جاسکتا ہے کہ اللہ فلاں کام پر غصہ ہوتا ہے
مع حوالہ مسئلہ واضح فرمائیں
*سائل: عبدالرحمن بہرائچ شریف۔*
ـــــــــــــــــــــ❣♻❣ــــــــــــــــــــــ
*وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ*
*الجواب:*
اللہ عزوجل کے لیے لفظ غصہ کا استعمال درست نہیں۔ ایسے الفاظ کا استعمال ذاتِ باری کے لیے کرنا ممنوع ہے جن کا معنی ایسا ہو جو باری تعالی کی شان کے خلاف ہو۔ بلکہ معنئ محال کا ایہام ہی ممانعت کے لیے کافی ہوتا ہے۔
غصہ کے اصل معنی ہیں اِچھو لگنا یعنی حلق میں کھانے کا پھنسنا۔
جیساکہ قرآن پاک کی آیت ہے *" طَعَامًا ذَا غُصَّةٍ "*
اس آیت سے استعارہ کر کے لفظ غصہ کا اطلاق ایسے غضب پر ہوتا ہے جسے آدمی کسی خوف یا لحاظ کے سبب ظاہر نہ کر سکے، گویا دل کا جوش گلے میں پھنس کر رہ گیا۔
*( 📓ماخوذ از فتاوی رضویہ جلد 26 صفحہ 457 )*
لہذا لفظ غصہ کا اطلاق اللہ کی ذات کے لیے کرنا درست نہیں ہے کہ یہ ایک جسمانی کیفیت ہے اور اس کا تعلق عوارض بشریہ سے ہے۔ اس کی بجائے غضب کا لفظ استعمال کیا جائے جیسا کہ قرآن میں استعمال ہوا ہے۔
*و اللہ تعالی و رسولہ اعلم*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*✍🏻کتبــــــــــــــــہ:*
*محمد عثمان رضوی صاحب قبلہ پاکستان۔*
*✅الجواب صحیح : کریم اللہ رضوی خادم التدریس دار العلوم مخدومیہ اوشیورہ برج جوگیشوری ممبئی۔*
https://t.me/Faizan_E_DarulUloom_Amjadia_Ngp
ـــــــــــــــــــــ❣♻❣ــــــــــــــــــــــ
Telegram
فیضـان دارالعــلوم امجـدیہ ناگپور
اہلسنت و جماعت مسلک اعلیٰ حضرت کا ترجمان، وسط ہند کی عظیم درسگاہ " دارالعلوم امجدیہ ناگپور مہاراشٹرا" کے نام سے منسوب گروپ
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM