🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
۲۷ جمادی الاول ۳۴۴۱؁ء ہفتہ
مطابق ۱ جنوری ۲۲۰۲؁ء سنیچر
27-05-1443 Saneechar
01-01-2022 Saturday
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
۲۷ جمادی الاول ۳۴۴۱؁ء ہفتہ
مطابق ۱ جنوری ۲۲۰۲؁ء سنیچر
27-05-1443 Saneechar
01-01-2022 Saturday
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
#جشن_مناؤ_سالِ_نَو_کے……!

جو قوم اپنے ملک میں تعلیم میں پھسڈی ہے ، نوکریوں میں سب سے پیچھے ہے ، سیاست میں زیرو ہے ، کار و بار میں سب سے نچلی لائن میں کھڑی ہے، اپنے خون پسینے بہاکر ، زائیداد لٹا کر، جانیں قربان کرکے ملک کو آزاد کرنے کے بعد جو قوم خود ہی ملک دشمن عناصر کے آلہ کار بن گئی ، جو قوم تعداد میں بیس کرور میں ہونے کے باوجود آج اس دہا نے پر آ گئی ہے کہ، جہاں وہ اپنی مرضی سے عبادت گاہ تعمیر کر سکتے ہیں نہ کار و بار کر سکتے ہیں، نہ ہی اپنی مرضی سے بچوں کی شادیاں کر سکتے ہیں۔ وہ سال نو کا جشن نہ منائے تو کیا کرے؟

جس قوم کے پورے وجود کو مٹانے کا سر عام اعلان ہوچکا ہے ، وہ جشن نہ منائے تو کیا کرے ؟

جس قوم کے نبی اور ان کے رگوں میں خون بن کر گردش کرنے والی ہستی ، جان کائنات ﷺ کو ریلیاں نکال کر گالیاں دی جائیں ، پھر بھی اس کے سر پر جوں تک نہ رینگیں ، وہ قوم واقعی حق بجانب ہے کہ وہ کسی ”سال نو“ کا دھوم دھام سے جشن منائے۔

جن کے مالکانہ حقوق چھیننے کے لئے قانون بن رہے ہیں ، تعلیم گاہوں میں مذہبی تعلیم کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں ، نصاب میں جس قوم کے پیش روؤں کو غنڈا کہا جا رہا ہے ، وہ جشن نہیں منائے گی تو اور کیا کرے گی!

ملک کا وزیر اعظم ، سب سے بڑی اقلیت کو ان کے مخصوص لباس سے پہچانے ، وزیر داخلہ احتجاج میں بیٹھی گھر کی خواتین کو کرنٹ کا جھٹکا دینے کی دھمکی دے ، بر سر اقتدار پارٹی کا وزیر ”گولی مارو سالوں کو“ کے نعرے لگائے ، ایسی عظیم جمہوریت میں رہنے کے لئے ”سال نو کا جشن“ تو بنتا ہے۔

*قوم کے نوجوانو!*
تمہاری مساجد نشانے پر ہیں ، مدارس نشانے پر ہیں ، تمھارے علما مخالفین کو دہشت گرد نظر آتے ہیں ، عبادت گاہیں دہشت کے اڈے نظر آتے ہیں، تمھارے خلاف ایسی پلاننگ کی جا رہی ہے کہ اگر وقت رہتے ہوش میں نہ آئے تو تمھیں ووٹ کے حقوق سے محروم کر دیا جائے گا ، دوسرے درجے کا شہری قرار دے دیا جائے گا ، نکاح ، وراثت ، تعدد ازواج ، عبادت ، تعلیم وغیرہ کے سارے پرسنل لاء کالعدم قرار دے دیے جائیں گے، بزرگان دین ، مشائخ عظام ، سلاطین اسلام اور دوسرے مذہبی رہنماؤں اور پیش روؤں کو لٹیرے ، آتنگ واد اور غداران وطن گھوست کر دیا جائے گا، یہاں تک کہ مذہبی کتابوں کی اشاعت ، مذہبی تعلیمات کی ترسیل اور تبلغ دین تک پر پابندی عائد کر دی جائے گی۔

ہمیں بچے حکومت کی اجازت سے پالنے ہوں گے ، کھانے پینے میں ہم حکومتی اجازت ناموں کے محتاج ہوں گے۔ ہماری تعلیم گاہیں ، عبادت خانے ، گھر بار سب حکومت کے زیر اثر ہوں گے۔ وقت پر کوئی تدبیر نہ کی گئی تو ان خدشات پر عملی کوششیں جاری ہیں۔ اب چاہے تو سب کچھ بھلا کر مناؤ سال نو کا جشن!

کیا تم اتنی جلدی بھول گئے ! کورونا نے ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑا ، کار و بار ٹھپ ہے ، تنخواہیں رکی ہیں ، نئی نوکریاں عنقا ہیں ، مہنگائی آسمان چھو کر اب آگے کی اڑان بھر رہی ہے۔ دینی تعلیم گاہیں دو سالوں سے مقفل ہیں۔ کتنے علما و حفاظ سریا سیٹرنگ ، حمالی ، ویٹرنگ ، سلائی کڑھائی وغیرہ کاموں سے جڑ گئے ۔ پھر بھی تم خوش ہو تو تمھیں جشن منانے سے کوئی نہیں روک سکتا۔

*اچھا…!*
*شامیں رنگین کرنے سے پہلے ذرا یہ بتا دینا! تمھیں کس چیز کی خوشی ہے؟ سال 2021ء گزر جانے کی خوشی یا 2022ء آ رہا ہے، اس کی؟ آنے والا سال ابھی دیکھا نہیں تو خوشی کیسی ؟ اور گذشتہ سال گذر گیا تو خوش ہونا کیسا! زمانہ اللہ کا ہے ، وقت کو برا بھلا کہنا کیسا! زمانے نے کسی کا کیا بگاڑا، وہ تو ہمیشہ سے اپنی ہی رفتار چلتا ہے، وہی صبح ، وہی شام ، وہی راتیں ، وہی سردی گرمی برسات، وہی پت جھڑ ، ساون ، بہار۔ سارے آفات تو ہمارے اپنے کیے دھرے ہیں۔ اپنے اوپر ظالم حکمراں مسلط کر لیا ، وہ مظلومانہ قانون بنا رہا ہے ؛ قدرت سے چھیڑ چھاڑ کی کوشش کی گئی تو دنیا کو موسمیاتی تبدیلیوں اور آسمانی قہروں کا سامنا ہوگیا ؛ غیر ضروری اور لایعنی تجربات کی گئیں تو عالمی وبا کا منہ دیکھنا پڑا ؛ فضول خرچیوں میں اللہ کی نعمتیں پانی کی طرح بہائی گئیں ، نتیجتا آج پوری دنیا مہنگائی کی مار جھیل رہی ہے۔*

بس ، سال نو کے جشن منانے سے پہلے ، تھوڑی دیر کے لئے فلسطین کے معصوم بچوں کو یاد کر لینا، تری پورہ کے مظلوموں کو یاد کرلینا ، جیلوں میں ”گناہ بے گناہی“ کی سزا کاٹ رہے جوانوں کو یاد کر لینا!

خیر چھوڑو ! جب آپ نے جشن منانے کا پورا مَن بنا ہی لیا ہے تو ہم آپ کو بزور شمشیر نہیں روک سکتے۔ بس آخری بات سن لیجیے! پونہ میں ہماری مسجد کی چاروں طرف جدید سہولیات سے لیس مہنگی مہنگی سوسائٹیاں موجود ہیں۔ لگ بھگ ہر فلیٹ مالک کے پاس ایک سے زائد فور وہیلر ہیں، سب کے سب بزنیس مین ہیں یا پھر بڑی بڑی کمپنیوں میں اچھے عہدوں پر فائز۔ ان کے گھروں میں جھاڑو پوچھا اور دوسرے کاموں کے لئے چھوپڑپٹیوں اور چالوں سے مسلم خواتین اور بچیاں آتی ہیں۔ میں آگے کچھ نہیں بتا سکتا۔ آگے کی کہانی ساحر لدھیانوی کے ”صبح نوروز “ کے ان اشعار جیسی ہی ہے۔ ؎
نکلی ہے بنگلے کے در سے
اک مفلس مزدور کی بیٹی
(میں نے دہقان کی جگہ مزدور کردیا)
افسردہ مرجھائی ہوئی سی
جسم کے دکھتے جوڑ دباتی
آنچل سے سینے کو چھپاتی

مٹھی میں اک نوٹ دبائے
جشن مناؤ سال نو کے

بھوکے زرد گداگر بچے
کار کے پیچھے بھاگ رہے ہیں
وقت سے پہلے جاگ اٹھے ہیں
پیپ بھری آنکھیں سہلاتے
سر کے پھوڑوں کو کھجلاتے

وہ دیکھو کچھ اور بھی نکلے
جشن مناؤ سال نو کے

✍🏻 *انصار احمد مصباحی* ،
9860664476 / aarmisbahi@gmail.com

https://www.facebook.com/100005157704773/posts/1966622516852986/
👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
*:: وہ! جس کا سونا امام احمد کی عبادت سے بہتر ہے! ::*

حضرت سیِّدُنا امام احمد بن حنبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت سیِّدُنا امام شافعی علیہ رحمۃ اللہ کی بہت زیادہ عزت کرتے تھے۔ کثرت سے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ذکرِ خیر کرتے اور آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تعریف کرتے۔
حضرت سیِّدُنا امام احمد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ایک نیک سیرت بیٹی تھی جورات شب بیداری میں اور دن روزے میں گزارتی۔ وہ صالحین کے واقعات کو بہت پسند کرتی تھی اور حضرت سیِّدُنا امام شافعی علیہ رحمۃ اللہ کو دیکھنا چاہتی تھی کیوں کہ ان کے والد ِ محترم امام شافعی کی بہت زیادہ عظمت وشان بیان کرتے تھے۔
ایک دفعہ اتِّفَاقاً حضرت سیِّدُنا امام شافعی علیہ رحمۃ اللہ نے حضرت سیِّدُنا امام احمد بن حنبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہاں رات گزاری۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیٹی بہت خوش ہوئی۔ اُسے اُمید تھی کہ آج امام شافعی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے افعال یعنی ان کی عبادت، اور کلام کو دیکھنے اور سننے کا خوب موقع ملے گا۔
جب رات ہوئی تو حضرت سیِّدُنا امام احمد بن حنبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ نماز اور یاد الٰہی عَزَّوَجَلَّ کے لیے کھڑے ہوگئے جبکہ حضرت سیِّدُنا امام شافعی علیہ رحمۃ اللہ چِت لیٹے آرام کرتے رہے!!!
بچِّی فجر تک آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اسی حالت میں دیکھتی رہی اور صبح اپنے باپ سے عرض کی:

''میں نے دیکھا کہ آپ حضرت سیِّدُنا امام شافعی علیہ رحمۃ اللہ کی بہت تعظیم کرتے ہیں لیکن میں نے تو ان کو آج رات نماز، ذکر یا دیگر اوراد و وظائف میں مشغول نہیں پایا!!!''

ابھی یہی گفتگو ہو رہی تھی کہ حضرت سیِّدُنا امام شافعی علیہ رحمۃ اللہ تشریف لے آئے۔
حضرت سیِّدُنا امام احمد بن حنبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ سے پوچھا:

''رات کیسی گزری؟''

ارشاد فرمایا:

''اس سے زیادہ برکت و نفع والی اور اچھی رات میں نے پہلے کبھی نہ دیکھی!!!''

حضرت سیِّدُنا امام احمد بن حنبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پوچھا:

''وہ کیسے؟''

تو فرمانے لگے:

''وہ یوں کہ میں نے آج رات پیٹھ کے بَل لیٹے لیٹے سو مسائل اَخَذ کئے، جو تمام کے تمام مسلمانوں کے نفع کے لیے ہیں!!!''

پھر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رُخصت لی اور تشریف لے گئے۔
حضرت سیِّدُنا امام احمد بن حنبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی صاحبزادی سے فرمایا:

''یہ حضرت سیِّدُنا امام شافعی علیہ رحمۃ اللہ کا آج رات کاعمل تھا۔ وہ سوئے ہوئے اس سے افضل عمل کر رہے تھے جو میں نے کھڑے ہو کرعبادت کرتے ہوئے کیا!!!''

(الروض الفائق فی المواعظ و الر قائق؛ حکایتیں اور نصیحتیں، مترجم ص: 407)

(منتخباتِ مشاہد سے چند اوراق )

https://www.facebook.com/190656494845261/posts/1055698945007674/
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
شیخ محمد بن داود ظاہری نے ساری زندگی فقہاے کرام رحمھم اللہ کے فقہی قیاس کی مخالفت کی ، لیکن جب عشق نے آگھیرا تو خود شعروں سے قیاس شروع کردیا ۔
موصوف کو اپنی ایک‌ شاگردہ سے عشق ہوگیا تھا ۔۔۔۔۔۔ اس کی یاد میں " کتاب الزھرۃ " بھی لکھ ڈالی ۔
لیکن عشق جیسی بَلا کتابیں لکھنے اور آہیں بھرنے سےکب ٹلتی ہے ؎

بچتا نہیں ہے کوئی بھی بیمار عشق کا
یارب ! نہ ہو کسی کو یہ آزار عشق کا

آخر عشق نے موت کے دہانے پر پہنچا دیا ۔
جب حضرت کی آخری سانسیں چل رہی تھیں تو چہیتے شاگرد نِفْطوَیہ نے آکر حال پوچھا ، تو جواب ملا:

جس نے مجھ سے علم حاصل کیا ، اس کی محبت نے میری یہ حالت کر دی ہے ۔

نفطویہ نےکہا:

کون‌ سی چیز ہے جو آپ کو قدرت ہونے کے باوجود اس سے فائدہ نہیں اٹھانے دیتی ؟
جواب دیا: اس سے فائدہ اٹھانے کی دو ہی صورتیں ہیں ۔
ایک نظرِ مباح ہے ، اور دوسری حرام لذت ۔
مباح نظر ( یعنی بلاقصد اٹھنے والی پہلی نظر ) نے تو میرا یہ حال کر دیا ہے ، اور رہ‌ گئی‌ حرام لذت ۔۔۔۔۔۔۔۔ تو اس سے مجھے سیدنا ابن عباس رضی‌اللہ‌عنہ سے مروی یہ مرفوع حدیث روکتی ہے کہ:

جو کسی پرعاشق ہوا ، پھر عشق کو چھپایا ۔۔۔۔۔۔۔ پاک دامن رہا اور صبر کیا ، تو اللہ اس کی مغفرت فرماکر اسے داخل‌ جنت کرے گا۔

پھر اشعار پڑھنے شروع کر دیے تو نفطویہ نے کہا:

آپ فقہ میں قیاس کی نفی کرتے ہیں اور شعر میں خود قیاس کر رہے ہیں ۔

جواب دیا: ایسا کرنے پر غلبۂ شوق نے مجبور کردیا ہے ۔

( ملخصاً و ملتقطاً: الداء والدوا ، فصل منافع العشق ، ص 316 ، ط المکتبۃ العصریۃ بیروت ، س 1442 ھ )

محبت ہوجانا کوئی بڑی بات نہیں ، نہ یہ برائی ہے ؎

اذا انت لم تعشق ولم تدر ما الهوى
فقم فاعتلف تبناً فانت حمار

جب تو نے نہ عشق کیا ، نہ‌اس کی حقیقت کو جانا
تو اٹھ کر گھاس چر ، کیوں کہ تُو گدھا ہے !

( یعنی محبت کے مبتلاؤں پر طعن نہ کرو ، محبت میں مبتلا انسان ہی ہوتے ہیں گدھے تھوڑا کسی سے محبت کریں گے ۔ )

لیکن ۔۔۔۔۔۔ محبت کو اتنا سریس لے لینا کہ‌ بندہ جان دے دے ، یہ آج کے دور میں باعثِ تشویش ہے ۔

اولاً تو کوشش کریں کسی غیر محرم سے محبت ہی نہ ہو ، لیکن اگر ہوجائے تو پاک دامن رہیں ، صبر کریں ، اللہ سے ڈریں ، اسی سے مدد اور خیر طلب کریں ۔۔۔۔۔۔۔ اور ساتھ ساتھ نکاح کے لیے بھی بھرپور کوشش کریں ۔
رشتہ مانگنے میں جھجھک ، پست ہمتی ، خدشات اور رسومات کو بالکل آڑے نہ آنے دیں ۔

اب اگر مل رشتہ جائے تو صبر و شکر کے ساتھ ہنسی خوشی زندگی گزاریں ، نہ ملے تو رونے دھونے اور ٹینشین لینے کے بجائے صبر سے یہ ذہن بنائیں کہ آپ کے حق میں بہتر ہی نہیں تھا ، اس لیے نہیں ملا ۔

✍️لقمان شاہد
29-12-2021 ء

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3345436119069887&id=100008105947430
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
کیا گزر جانے والاسال ہمیں یہ پیغام دے کر نہیں گیا کہ:

میں چلا گیا ہوں ۔۔۔۔۔۔ لیکن اکیلا نہیں گیا ، بہت سارے نیک و بد ساتھ لے کرگیا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔ قبرستان جاکر دیکھ لو کتنے ہی کتبوں پر تمھیں 2021 ء لکھا نظر آئے گا ۔

اے میرے بعد آنے والے نئے سال کی خوشیاں منانے والو ، تمھارے دل اللہ کی طرف جھک کیوں نہیں جاتے !!

یہ صبح و شام ، یہ دن رات ، اور ماہ و سال کا پیدا کرنے والا رب تمھیں کہتا ہے:

اَلَمْ یَاْنِ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْ تَخْشَعَ قُلُوْبُهُمْ لِذِكْرِ اللّٰهِ وَ مَا نَزَلَ مِنَ الْحَقِّ ۔

کیا ایمان والوں کے لیے ابھی وہ وقت نہیں آیا کہ اُن کے دل اللہ کی یاد ، اور اُس حق کے لیے جھک جائیں جو نازل ہوا ۔

اے ایمان والو ! اپنے رب کی بات سنو ، اس پر دھیان دو اور کہو:

اے ہمارے رب ! کیوں نہیں ، وہ وقت آگیا ہے ۔ 😥
ہمیں معاف فرما دے اور ہمارے دل اپنی طرف پھیر دے !

ألم يأن لي يا قلب أن أترك الجهلا
وأن يحدث الشيب المبين لنا عقلا 😥

✍️لقمان شاہد
1-1-2022 ء

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3347713662175466&id=100008105947430