This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
Photo
دینی معلومات
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from کریم اللہ رضوی استاذ دار العلوم مخدومیہ جوگیشوری ممبئی
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
علمائے کرام و حفاظ کرام کی بارگاہ میں ایک سوال ہے کہ کون سی دس جگہ ہے جہاں پر نماز نہیں پڑھ سکتے ہیں ؟ جواب عنایت فرمائیں مہربانی ہوگی ۔
المستفتی : محمد نظیر احمد قادری شراوستی یوپی الہند
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وعلیکم السلام و رحمۃ اللّٰہ و برکاتہ
*جواب* حدیث شریف میں صرف سات جگہوں کا ذکر ملتا ہے جہان پر نماز پڑھنا منع ہے لیکن اس کے علاوہ کچھ اور جگہیں ہیں جہاں پر نماز پڑھنا فقہائے کرام نے منع فرمایا ہے اور رہی بات جو حدیث میں سات جگہوں کا ذکر ہے وہ حصر کا فائدہ نہیں دیتا اور نہ ہی ماعدا سے نفی کرتا ہے جیسا کہ حدیث شریف میں ہے کہ " حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ " أَنَّ رَسُوْلَ ﷲِ صلی الله عليه وسلم نَهَی أنْ يُصَلَّی فِی سَبْعَةِ مَوَاطِنَ : فِی الْمَزْبَلَةِ ، وَ الْمَجْزَرَةِ ، وَ الْمَقْبَرَةِ ، وَ قَارِعَةِ الطَّرِيْقِ ، وَ فِی الْحَمَّامِ ، وَ فِیْ مَعَاطِنِ الإِبِلِ ، وَ۔فَوْقَ ظَهْرِ بَيْتِ ﷲِ " اھ یعنی بیشک حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سات جگہوں پر نماز پڑھنے سے منع فرمایا : ( 1 ) جہاں گوبر یعنی کوڑا کرکٹ ڈالتے ہیں ( 2 ) قصاب خانہ میں جہاں جانوروں کو ذبح کرتے ہیں ( 3 ) قبرستان میں ( 4 ) چلتے راستہ میں ( 5 ) حمام میں یعنی نہانے کی جگہ ( 6 ) اونٹوں کے باڑے میں ( 7 ) بیت ﷲ کی چھت پر " اھ ( سنن ترمذی ج 1 ص 375 رقم حدیث 346 : أبواب الصلاة ، باب ما جاء فی کراهية ما يصلی إليه و فيه ) اور در مختار میں ہے کہ " و كذا تكره فى اماكن كفوق كعبة و فى طريق و مزبلة و مجزرة و مقبرة و مغتسل و حمام و بطن واد و معاطن إبل و غنم و بقر . زاد فى الكافى : و مرابط دواب و إصطبل ، و طاحون ، و كنيف و سطوحها ، و مسيل واد ، و أرض مغصوبة أو للغير لو مزروعة أو مكروبة ، و صحراء فلا سترة لمار " اھ ( در مختار ج 2 ص 52 : کتاب الصلاۃ ، دار الکتب العلمیہ بیروت ) اور رد المحتار میں ہے کہ " بانه محل الشياطين كراهة الصلاة فى معابد الكفارة لانها مأوى الشياطين ...... يكره للمسلم الدخول فى البيعةو الكنيسة " اھ ( رد المحتار ج 2 ص 53 : کتاب الصلاۃ ، مطلب تکرہ الصلاۃ فی الکنیسة ، دار الکتب العلمیہ بیروت ) اور بہار شریعت میں ہے کہ " عام راستہ ، کوڑا ڈالنے کی جگہ ، مذبح ، قبرستان ، غسل خانہ ، حمام ، نالا ، مویشی خانہ خصوصاً اونٹ باندھنے کی جگہ ، اصطبل ، پاخانہ کی چھت ، اور صحرا میں بلا سُترہ کے جب کہ خوف ہو کہ آگے سے لوگ گزریں گے ان مواضع میں نماز مکروہ ہے ۔ زمین مغصوب ، یا پرائے کھیت میں جس میں زراعت موجود ہے یا جُتے ہوئے کھیت میں نماز پڑھنا مکروہ تحریمی ہے ، قبر کا سامنے ہونا ، اگر مصلّی و قبر کے درمیان کوئی چیز حائل نہ ہو تو مکروہ تحریمی ہے ۔ کفار کے عبادت خانوں میں نماز پڑھنا مکروہ ہے کہ وہ شیاطین کی جگہ ہیں اور ظاہر کراہت تحریم ۔ بلکہ ان میں جانا بھی ممنوع ہے ۔ کعبۂ معظمہ اور مسجد کی چھت پر نما زپڑھنا مکروہ ہے ، کہ اس میں ترک تعظیم ہے " اھ ( بہار شریعت ج 1 ص 636 / 630 : مکروہات کا بیان )
واللہ اعلم بالصواب
کریم اللہ رضوی
خادم التدریس دار العلوم مخدومیہ اوشیورہ برج جوگیشوری ممبئی موبائل نمبر 7666456313
علمائے کرام و حفاظ کرام کی بارگاہ میں ایک سوال ہے کہ کون سی دس جگہ ہے جہاں پر نماز نہیں پڑھ سکتے ہیں ؟ جواب عنایت فرمائیں مہربانی ہوگی ۔
المستفتی : محمد نظیر احمد قادری شراوستی یوپی الہند
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وعلیکم السلام و رحمۃ اللّٰہ و برکاتہ
*جواب* حدیث شریف میں صرف سات جگہوں کا ذکر ملتا ہے جہان پر نماز پڑھنا منع ہے لیکن اس کے علاوہ کچھ اور جگہیں ہیں جہاں پر نماز پڑھنا فقہائے کرام نے منع فرمایا ہے اور رہی بات جو حدیث میں سات جگہوں کا ذکر ہے وہ حصر کا فائدہ نہیں دیتا اور نہ ہی ماعدا سے نفی کرتا ہے جیسا کہ حدیث شریف میں ہے کہ " حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ " أَنَّ رَسُوْلَ ﷲِ صلی الله عليه وسلم نَهَی أنْ يُصَلَّی فِی سَبْعَةِ مَوَاطِنَ : فِی الْمَزْبَلَةِ ، وَ الْمَجْزَرَةِ ، وَ الْمَقْبَرَةِ ، وَ قَارِعَةِ الطَّرِيْقِ ، وَ فِی الْحَمَّامِ ، وَ فِیْ مَعَاطِنِ الإِبِلِ ، وَ۔فَوْقَ ظَهْرِ بَيْتِ ﷲِ " اھ یعنی بیشک حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سات جگہوں پر نماز پڑھنے سے منع فرمایا : ( 1 ) جہاں گوبر یعنی کوڑا کرکٹ ڈالتے ہیں ( 2 ) قصاب خانہ میں جہاں جانوروں کو ذبح کرتے ہیں ( 3 ) قبرستان میں ( 4 ) چلتے راستہ میں ( 5 ) حمام میں یعنی نہانے کی جگہ ( 6 ) اونٹوں کے باڑے میں ( 7 ) بیت ﷲ کی چھت پر " اھ ( سنن ترمذی ج 1 ص 375 رقم حدیث 346 : أبواب الصلاة ، باب ما جاء فی کراهية ما يصلی إليه و فيه ) اور در مختار میں ہے کہ " و كذا تكره فى اماكن كفوق كعبة و فى طريق و مزبلة و مجزرة و مقبرة و مغتسل و حمام و بطن واد و معاطن إبل و غنم و بقر . زاد فى الكافى : و مرابط دواب و إصطبل ، و طاحون ، و كنيف و سطوحها ، و مسيل واد ، و أرض مغصوبة أو للغير لو مزروعة أو مكروبة ، و صحراء فلا سترة لمار " اھ ( در مختار ج 2 ص 52 : کتاب الصلاۃ ، دار الکتب العلمیہ بیروت ) اور رد المحتار میں ہے کہ " بانه محل الشياطين كراهة الصلاة فى معابد الكفارة لانها مأوى الشياطين ...... يكره للمسلم الدخول فى البيعةو الكنيسة " اھ ( رد المحتار ج 2 ص 53 : کتاب الصلاۃ ، مطلب تکرہ الصلاۃ فی الکنیسة ، دار الکتب العلمیہ بیروت ) اور بہار شریعت میں ہے کہ " عام راستہ ، کوڑا ڈالنے کی جگہ ، مذبح ، قبرستان ، غسل خانہ ، حمام ، نالا ، مویشی خانہ خصوصاً اونٹ باندھنے کی جگہ ، اصطبل ، پاخانہ کی چھت ، اور صحرا میں بلا سُترہ کے جب کہ خوف ہو کہ آگے سے لوگ گزریں گے ان مواضع میں نماز مکروہ ہے ۔ زمین مغصوب ، یا پرائے کھیت میں جس میں زراعت موجود ہے یا جُتے ہوئے کھیت میں نماز پڑھنا مکروہ تحریمی ہے ، قبر کا سامنے ہونا ، اگر مصلّی و قبر کے درمیان کوئی چیز حائل نہ ہو تو مکروہ تحریمی ہے ۔ کفار کے عبادت خانوں میں نماز پڑھنا مکروہ ہے کہ وہ شیاطین کی جگہ ہیں اور ظاہر کراہت تحریم ۔ بلکہ ان میں جانا بھی ممنوع ہے ۔ کعبۂ معظمہ اور مسجد کی چھت پر نما زپڑھنا مکروہ ہے ، کہ اس میں ترک تعظیم ہے " اھ ( بہار شریعت ج 1 ص 636 / 630 : مکروہات کا بیان )
واللہ اعلم بالصواب
کریم اللہ رضوی
خادم التدریس دار العلوم مخدومیہ اوشیورہ برج جوگیشوری ممبئی موبائل نمبر 7666456313
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM