علماے عظام اور سادات کرام سے اگر کوئی خطا ہوجائے تو پھر بھی اُن کے متعلق بدزبانی کی اجازت نہیں ۔
آج حضرت مولانا مفتی ہنگورو عبد الرزاق قادری صاحب نے فتاوی رضویہ شریف کی یہ عبارت بھیجی ، جس میں امام اہل سنت نے بہت کمال ادب ارشاد فرمایا ۔
اللہپاک تادمِ زیست اس پر عمل کی توفیق بخشے:
"نہایہ" و"تبیین" و"شافی" و"فتح" و"درر" وغیرہا میں ہے: "تعزیر أشراف الأشراف وهم العلماء والعلویّة بالإعلام بأن یقول له القاضي: بلغني أنّك تفعل کذا فینزجر" ("التبیین" کتاب الحدود، باب التعزیر، 3/208. و"فتح القدیر" کتاب الحدود، باب التعزیر، 5/112).
یعنی: علما وسادات سب سے اعلیٰ درجہ کے اشراف ہیں ، اِن سے اگر کوئی تقصیر موجبِ تعزیر واقع ہو کہ اراذل کرتے تو ضرب وحبس کے مستحق ہوتے ۔
ان کے علاوہ کے لیے اس قدر بس ہے کہ قاضی کہے:
" مجھے معلوم ہوا ہے کہ آپ ایسا کام کرتے ہیں ، اِسی قدر ان کے زجر کو بس ہے ۔ "
✍️ لقمان شاہد
21-12-2021 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3340491509564348&id=100008105947430
آج حضرت مولانا مفتی ہنگورو عبد الرزاق قادری صاحب نے فتاوی رضویہ شریف کی یہ عبارت بھیجی ، جس میں امام اہل سنت نے بہت کمال ادب ارشاد فرمایا ۔
اللہپاک تادمِ زیست اس پر عمل کی توفیق بخشے:
"نہایہ" و"تبیین" و"شافی" و"فتح" و"درر" وغیرہا میں ہے: "تعزیر أشراف الأشراف وهم العلماء والعلویّة بالإعلام بأن یقول له القاضي: بلغني أنّك تفعل کذا فینزجر" ("التبیین" کتاب الحدود، باب التعزیر، 3/208. و"فتح القدیر" کتاب الحدود، باب التعزیر، 5/112).
یعنی: علما وسادات سب سے اعلیٰ درجہ کے اشراف ہیں ، اِن سے اگر کوئی تقصیر موجبِ تعزیر واقع ہو کہ اراذل کرتے تو ضرب وحبس کے مستحق ہوتے ۔
ان کے علاوہ کے لیے اس قدر بس ہے کہ قاضی کہے:
" مجھے معلوم ہوا ہے کہ آپ ایسا کام کرتے ہیں ، اِسی قدر ان کے زجر کو بس ہے ۔ "
✍️ لقمان شاہد
21-12-2021 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3340491509564348&id=100008105947430
👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک جاریہ کے پاس سے گزرے ، جو یہ شعر پڑھ رہی تھی ؎
وهـويتـه مـن قبـل قـطـع تـمـائمی
مـتـمـايلاً مثـل الـقـضـيـب النـاعم
ابھی میرے بچپن کے تعویذ بھی نہ کاٹے گئے تھے کہ میں اُس پر عاشق ہوگئی ، اور اُس پر ایسے جُھکی جیسے نرم شاخ جُھکتی ہے ۔
آپ نے اُس سےپوچھا: تُو حُرَّہ ( آزاد ) ہے یا کسی کی ملکیت ؟
کہنے لگی: ملکیت ہوں ۔
آپ نے کہا: تیرا محبوب کون ہے ( جس کی یاد میں یہ شعر پڑھ رہی ہے ) ؟
وہ شرما گئی ۔۔۔۔۔۔۔ تو آپ نے اُسے قسم دی ( کہ مجھے بتاؤ ! ) ۔
وہ کہنے لگی ؎
وأنـا التـي لـعـب الهـوى بفؤادهـا
قتـلـت بـحـب محمد بن القاسم
میں وہ ہوں ، محبت نے جس کے دل سے کھیل کھیلا ہے ۔
مجھے محمد بن قاسم کی محبت نے قتل کرکے رکھ دیا
آپ رضی اللہ عنہ نے اُسے ، اُس کے آقا سے خرید کر محمد بن قاسم بن جعفر بن ابو طالب کے پاس بھیج دیا ، اور فرمایا:
یہ عورتیں مردوں کے لیے فتنہ ہیں ۔
اللہ کی قسم ! ان کی وجہسے کتنے ہی معزز لوگ موت کے گھاٹ اتر گئے ، اور صحیح سلامت بندے ہلاکت کا شکار ہوگئے ۔
( الداء والدوا ، فصل منافع العشق ، ص 314 ، ط المکتبۃ العصریۃ بیروت ، س 1442 ھ )
اللھم انی اعوذبک من فتنۃ النساء وعذاب القبر !
✍️ لقمان شاہد
25-12-2021 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3342851469328352&id=100008105947430
وهـويتـه مـن قبـل قـطـع تـمـائمی
مـتـمـايلاً مثـل الـقـضـيـب النـاعم
ابھی میرے بچپن کے تعویذ بھی نہ کاٹے گئے تھے کہ میں اُس پر عاشق ہوگئی ، اور اُس پر ایسے جُھکی جیسے نرم شاخ جُھکتی ہے ۔
آپ نے اُس سےپوچھا: تُو حُرَّہ ( آزاد ) ہے یا کسی کی ملکیت ؟
کہنے لگی: ملکیت ہوں ۔
آپ نے کہا: تیرا محبوب کون ہے ( جس کی یاد میں یہ شعر پڑھ رہی ہے ) ؟
وہ شرما گئی ۔۔۔۔۔۔۔ تو آپ نے اُسے قسم دی ( کہ مجھے بتاؤ ! ) ۔
وہ کہنے لگی ؎
وأنـا التـي لـعـب الهـوى بفؤادهـا
قتـلـت بـحـب محمد بن القاسم
میں وہ ہوں ، محبت نے جس کے دل سے کھیل کھیلا ہے ۔
مجھے محمد بن قاسم کی محبت نے قتل کرکے رکھ دیا
آپ رضی اللہ عنہ نے اُسے ، اُس کے آقا سے خرید کر محمد بن قاسم بن جعفر بن ابو طالب کے پاس بھیج دیا ، اور فرمایا:
یہ عورتیں مردوں کے لیے فتنہ ہیں ۔
اللہ کی قسم ! ان کی وجہسے کتنے ہی معزز لوگ موت کے گھاٹ اتر گئے ، اور صحیح سلامت بندے ہلاکت کا شکار ہوگئے ۔
( الداء والدوا ، فصل منافع العشق ، ص 314 ، ط المکتبۃ العصریۃ بیروت ، س 1442 ھ )
اللھم انی اعوذبک من فتنۃ النساء وعذاب القبر !
✍️ لقمان شاہد
25-12-2021 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3342851469328352&id=100008105947430
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM