Forwarded from Urdu Tahrir
سوال:
کرسمس ڈےکا کیا مطلب ہے؟
.
(جواب)
عیسائیوں کا بڑا دن حضرت عیسی علیہ السلام کی پیدائش کا دن 25دسمبر عید نصاری (فیروزاللغات ص1003)
.
لیکن؟ مسلمانوں کو کرسمس ڈے کی رسومات میں شرکت کرنا مبارکباد دینا،وغیرہ کسی طرح بھی جائز نہیں ھے
اور بعض صورتوں میں کفر ہے،
(( دارالافتاء اہلسنت ))
https://t.me/SirfUrduTahrir/1586
کرسمس ڈےکا کیا مطلب ہے؟
.
(جواب)
عیسائیوں کا بڑا دن حضرت عیسی علیہ السلام کی پیدائش کا دن 25دسمبر عید نصاری (فیروزاللغات ص1003)
.
لیکن؟ مسلمانوں کو کرسمس ڈے کی رسومات میں شرکت کرنا مبارکباد دینا،وغیرہ کسی طرح بھی جائز نہیں ھے
اور بعض صورتوں میں کفر ہے،
(( دارالافتاء اہلسنت ))
https://t.me/SirfUrduTahrir/1586
Telegram
✍ اُردُو تحریر 📃
سوال:
کرسمس ڈےکا کیا مطلب ہے؟
.
(جواب)
عیسائیوں کا بڑا دن حضرت عیسی علیہ السلام کی پیدائش کا دن 25دسمبر عید نصاری (فیروزاللغات ص1003)
.
لیکن؟ مسلمانوں کو کرسمس ڈے کی رسومات میں شرکت کرنا مبارکباد دینا،وغیرہ کسی طرح بھی جائز نہیں ھے
اور بعض صورتوں میں کفر…
کرسمس ڈےکا کیا مطلب ہے؟
.
(جواب)
عیسائیوں کا بڑا دن حضرت عیسی علیہ السلام کی پیدائش کا دن 25دسمبر عید نصاری (فیروزاللغات ص1003)
.
لیکن؟ مسلمانوں کو کرسمس ڈے کی رسومات میں شرکت کرنا مبارکباد دینا،وغیرہ کسی طرح بھی جائز نہیں ھے
اور بعض صورتوں میں کفر…
Forwarded from Urdu Tahrir
❌کرسمس نہ منائیں نہ مبارک دیں❌
.
کرسچن کا عقیدہ ہے کہ 25 دسمبر کو الله کے ہاں (معاذاللہ) بیٹا پیدا ہوا عیسیٰ علیہ السلام
یہ ہے کرسمس کی حقیقت
.
کرسمس، ہولی، دیوالی وغیرہ کو اچھاسمجھنا اسکی تعظیم میں مبارکباد دینا کفر ہے
(فتاوی رضویہ،14/273)
#Awareness #SHARE
https://t.me/SirfUrduTahrir/1574
.
کرسچن کا عقیدہ ہے کہ 25 دسمبر کو الله کے ہاں (معاذاللہ) بیٹا پیدا ہوا عیسیٰ علیہ السلام
یہ ہے کرسمس کی حقیقت
.
کرسمس، ہولی، دیوالی وغیرہ کو اچھاسمجھنا اسکی تعظیم میں مبارکباد دینا کفر ہے
(فتاوی رضویہ،14/273)
#Awareness #SHARE
https://t.me/SirfUrduTahrir/1574
Telegram
✍ اُردُو تحریر 📃
❌کرسمس نہ منائیں نہ مبارک دیں❌
.
کرسچن کا عقیدہ ہے کہ 25 دسمبر کو الله کے ہاں (معاذاللہ) بیٹا پیدا ہوا عیسیٰ علیہ السلام
یہ ہے کرسمس کی حقیقت
.
کرسمس، ہولی، دیوالی وغیرہ کو اچھاسمجھنا اسکی تعظیم میں مبارکباد دینا کفر ہے
(فتاوی رضویہ،14/273)
#Awareness #SHARE…
.
کرسچن کا عقیدہ ہے کہ 25 دسمبر کو الله کے ہاں (معاذاللہ) بیٹا پیدا ہوا عیسیٰ علیہ السلام
یہ ہے کرسمس کی حقیقت
.
کرسمس، ہولی، دیوالی وغیرہ کو اچھاسمجھنا اسکی تعظیم میں مبارکباد دینا کفر ہے
(فتاوی رضویہ،14/273)
#Awareness #SHARE…
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
بعض احباب کی تحریروں کو وہ پذیرائی نہیں ملتی جو ملنی چاہیے ، حالاں کہ اُنھوں نے بڑی محنت اور لگن سے مرتب کی ہوتی ہیں ۔
اِس کی ایک وجہ: تحریروں کا بَھدا پَن ہے ۔
ہم زمین میں دانہ ڈالتے ہیں تو اُس سے کونپل نکلتی ہے ، جو بڑھ کر پودے کی شکل اختیار کر لیتی ہے ، اور اس پر بالی لگنا شروع ہوجاتی ہے ۔
یہ سب کچھ تب ہوتا ہے ، جب ایک ہی دانہ ڈالا جاتاہے ؛ اگر ایک دانے سے زیادہ گندم آپ زمین میں ڈال دیں گے تو اُس سے ہوسکتا ہے بالیاں تو نکل آئیں ، لیکن وہ پودے کی شکل اختیار نہیں کرسکیں گی ؛ کیوں کہ انھیں نشوو نما کے لیے جگہ نہیں ملے گی ۔
یہی معاملہ تحریر کاہے ؛ جہاں ایک سطر لکھنی چاہیے ، وہاں آپ نے زیادہ سطریں لکھ دیں تو تحریر کبھی ثمر بار نہیں ہوگی ۔
اللہ آپ کا حامی و ناصر ہو ، اپنی تحریروں کو مختصر ، عام فہم اور مدلل کریں ۔۔۔۔۔۔۔ تاکہ زیادہسے زیادہ خلق خدا ان سے نفع حاصل کرسکے ، اور آپ کے اجر و ثواب میں اضافہ ہو ۔
✍️ لقمان شاہد
22-12-2021 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3340185646261601&id=100008105947430
اِس کی ایک وجہ: تحریروں کا بَھدا پَن ہے ۔
ہم زمین میں دانہ ڈالتے ہیں تو اُس سے کونپل نکلتی ہے ، جو بڑھ کر پودے کی شکل اختیار کر لیتی ہے ، اور اس پر بالی لگنا شروع ہوجاتی ہے ۔
یہ سب کچھ تب ہوتا ہے ، جب ایک ہی دانہ ڈالا جاتاہے ؛ اگر ایک دانے سے زیادہ گندم آپ زمین میں ڈال دیں گے تو اُس سے ہوسکتا ہے بالیاں تو نکل آئیں ، لیکن وہ پودے کی شکل اختیار نہیں کرسکیں گی ؛ کیوں کہ انھیں نشوو نما کے لیے جگہ نہیں ملے گی ۔
یہی معاملہ تحریر کاہے ؛ جہاں ایک سطر لکھنی چاہیے ، وہاں آپ نے زیادہ سطریں لکھ دیں تو تحریر کبھی ثمر بار نہیں ہوگی ۔
اللہ آپ کا حامی و ناصر ہو ، اپنی تحریروں کو مختصر ، عام فہم اور مدلل کریں ۔۔۔۔۔۔۔ تاکہ زیادہسے زیادہ خلق خدا ان سے نفع حاصل کرسکے ، اور آپ کے اجر و ثواب میں اضافہ ہو ۔
✍️ لقمان شاہد
22-12-2021 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3340185646261601&id=100008105947430
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
ہمارے جو علما سادات کرام کی بعض غلطیوں پر انھیں تنبیہ کرتے اور اصلاح فرماتے ہیں ، انھیں بھی سید زادوں کا ادب ملحوظ رکھنا کریں ، اور سمجھاتے وقت سلجھا ہوا انداز اپنانا چاہیے ، چاہے سمجھانے والے خود سید ہوں ۔
اگر کسی کے والد مرتکب کبائر بھی ہوں تب بھی بیٹے کے لیے جائز نہیں ہوتا کہ انھیں سمجھاتے ہوئے بے ادبانہ لہجہ اختیار کرے ، کیوں کہ والد کے ساتھ خون کا ایسا رشتہ ہوتا ہےجو بڑا لائق تکریم ہے ۔
تو جب ہمارے خون کے رشتے کا یہ تقاضا ہے ، تو خونِ رسول کے رشتے کا کیا تقاضا ہوگا !
✍️ لقمان شاہد
21-12-2021 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3339441036336062&id=100008105947430
اگر کسی کے والد مرتکب کبائر بھی ہوں تب بھی بیٹے کے لیے جائز نہیں ہوتا کہ انھیں سمجھاتے ہوئے بے ادبانہ لہجہ اختیار کرے ، کیوں کہ والد کے ساتھ خون کا ایسا رشتہ ہوتا ہےجو بڑا لائق تکریم ہے ۔
تو جب ہمارے خون کے رشتے کا یہ تقاضا ہے ، تو خونِ رسول کے رشتے کا کیا تقاضا ہوگا !
✍️ لقمان شاہد
21-12-2021 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3339441036336062&id=100008105947430
👍1
علماے عظام اور سادات کرام سے اگر کوئی خطا ہوجائے تو پھر بھی اُن کے متعلق بدزبانی کی اجازت نہیں ۔
آج حضرت مولانا مفتی ہنگورو عبد الرزاق قادری صاحب نے فتاوی رضویہ شریف کی یہ عبارت بھیجی ، جس میں امام اہل سنت نے بہت کمال ادب ارشاد فرمایا ۔
اللہپاک تادمِ زیست اس پر عمل کی توفیق بخشے:
"نہایہ" و"تبیین" و"شافی" و"فتح" و"درر" وغیرہا میں ہے: "تعزیر أشراف الأشراف وهم العلماء والعلویّة بالإعلام بأن یقول له القاضي: بلغني أنّك تفعل کذا فینزجر" ("التبیین" کتاب الحدود، باب التعزیر، 3/208. و"فتح القدیر" کتاب الحدود، باب التعزیر، 5/112).
یعنی: علما وسادات سب سے اعلیٰ درجہ کے اشراف ہیں ، اِن سے اگر کوئی تقصیر موجبِ تعزیر واقع ہو کہ اراذل کرتے تو ضرب وحبس کے مستحق ہوتے ۔
ان کے علاوہ کے لیے اس قدر بس ہے کہ قاضی کہے:
" مجھے معلوم ہوا ہے کہ آپ ایسا کام کرتے ہیں ، اِسی قدر ان کے زجر کو بس ہے ۔ "
✍️ لقمان شاہد
21-12-2021 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3340491509564348&id=100008105947430
آج حضرت مولانا مفتی ہنگورو عبد الرزاق قادری صاحب نے فتاوی رضویہ شریف کی یہ عبارت بھیجی ، جس میں امام اہل سنت نے بہت کمال ادب ارشاد فرمایا ۔
اللہپاک تادمِ زیست اس پر عمل کی توفیق بخشے:
"نہایہ" و"تبیین" و"شافی" و"فتح" و"درر" وغیرہا میں ہے: "تعزیر أشراف الأشراف وهم العلماء والعلویّة بالإعلام بأن یقول له القاضي: بلغني أنّك تفعل کذا فینزجر" ("التبیین" کتاب الحدود، باب التعزیر، 3/208. و"فتح القدیر" کتاب الحدود، باب التعزیر، 5/112).
یعنی: علما وسادات سب سے اعلیٰ درجہ کے اشراف ہیں ، اِن سے اگر کوئی تقصیر موجبِ تعزیر واقع ہو کہ اراذل کرتے تو ضرب وحبس کے مستحق ہوتے ۔
ان کے علاوہ کے لیے اس قدر بس ہے کہ قاضی کہے:
" مجھے معلوم ہوا ہے کہ آپ ایسا کام کرتے ہیں ، اِسی قدر ان کے زجر کو بس ہے ۔ "
✍️ لقمان شاہد
21-12-2021 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3340491509564348&id=100008105947430
👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک جاریہ کے پاس سے گزرے ، جو یہ شعر پڑھ رہی تھی ؎
وهـويتـه مـن قبـل قـطـع تـمـائمی
مـتـمـايلاً مثـل الـقـضـيـب النـاعم
ابھی میرے بچپن کے تعویذ بھی نہ کاٹے گئے تھے کہ میں اُس پر عاشق ہوگئی ، اور اُس پر ایسے جُھکی جیسے نرم شاخ جُھکتی ہے ۔
آپ نے اُس سےپوچھا: تُو حُرَّہ ( آزاد ) ہے یا کسی کی ملکیت ؟
کہنے لگی: ملکیت ہوں ۔
آپ نے کہا: تیرا محبوب کون ہے ( جس کی یاد میں یہ شعر پڑھ رہی ہے ) ؟
وہ شرما گئی ۔۔۔۔۔۔۔ تو آپ نے اُسے قسم دی ( کہ مجھے بتاؤ ! ) ۔
وہ کہنے لگی ؎
وأنـا التـي لـعـب الهـوى بفؤادهـا
قتـلـت بـحـب محمد بن القاسم
میں وہ ہوں ، محبت نے جس کے دل سے کھیل کھیلا ہے ۔
مجھے محمد بن قاسم کی محبت نے قتل کرکے رکھ دیا
آپ رضی اللہ عنہ نے اُسے ، اُس کے آقا سے خرید کر محمد بن قاسم بن جعفر بن ابو طالب کے پاس بھیج دیا ، اور فرمایا:
یہ عورتیں مردوں کے لیے فتنہ ہیں ۔
اللہ کی قسم ! ان کی وجہسے کتنے ہی معزز لوگ موت کے گھاٹ اتر گئے ، اور صحیح سلامت بندے ہلاکت کا شکار ہوگئے ۔
( الداء والدوا ، فصل منافع العشق ، ص 314 ، ط المکتبۃ العصریۃ بیروت ، س 1442 ھ )
اللھم انی اعوذبک من فتنۃ النساء وعذاب القبر !
✍️ لقمان شاہد
25-12-2021 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3342851469328352&id=100008105947430
وهـويتـه مـن قبـل قـطـع تـمـائمی
مـتـمـايلاً مثـل الـقـضـيـب النـاعم
ابھی میرے بچپن کے تعویذ بھی نہ کاٹے گئے تھے کہ میں اُس پر عاشق ہوگئی ، اور اُس پر ایسے جُھکی جیسے نرم شاخ جُھکتی ہے ۔
آپ نے اُس سےپوچھا: تُو حُرَّہ ( آزاد ) ہے یا کسی کی ملکیت ؟
کہنے لگی: ملکیت ہوں ۔
آپ نے کہا: تیرا محبوب کون ہے ( جس کی یاد میں یہ شعر پڑھ رہی ہے ) ؟
وہ شرما گئی ۔۔۔۔۔۔۔ تو آپ نے اُسے قسم دی ( کہ مجھے بتاؤ ! ) ۔
وہ کہنے لگی ؎
وأنـا التـي لـعـب الهـوى بفؤادهـا
قتـلـت بـحـب محمد بن القاسم
میں وہ ہوں ، محبت نے جس کے دل سے کھیل کھیلا ہے ۔
مجھے محمد بن قاسم کی محبت نے قتل کرکے رکھ دیا
آپ رضی اللہ عنہ نے اُسے ، اُس کے آقا سے خرید کر محمد بن قاسم بن جعفر بن ابو طالب کے پاس بھیج دیا ، اور فرمایا:
یہ عورتیں مردوں کے لیے فتنہ ہیں ۔
اللہ کی قسم ! ان کی وجہسے کتنے ہی معزز لوگ موت کے گھاٹ اتر گئے ، اور صحیح سلامت بندے ہلاکت کا شکار ہوگئے ۔
( الداء والدوا ، فصل منافع العشق ، ص 314 ، ط المکتبۃ العصریۃ بیروت ، س 1442 ھ )
اللھم انی اعوذبک من فتنۃ النساء وعذاب القبر !
✍️ لقمان شاہد
25-12-2021 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3342851469328352&id=100008105947430
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM