🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
Forwarded from Urdu Tahrir
سوال::
کرسمس کا کیک یا کفار مذہبی کے تہوار کا کھانا کھانا کیسا ؟

الجواب::
مناسب ہے کہ بچا جائے نہ لیا جائےــ کیونکہ اگر آپ ان سے کچھ کیک وغیرہ لیں گے تو عین ممکن ہے کہ مبارک بھی دیں اور اگر اس مذہبی تہوار کو اچھا جانتے ہوئے مبارک باد دے دی تو حُکُمِ کفر ہے-
لیکن
اگر بغیر مبارک دیئے کھانا یعنی کیک وغیرہ رکھ بھی لیا تو حرام نہیں ہے- اور یہ بھی یاد رہے کہ گوشت کے علاوہ خشک کھانا میوہ، جات یا کیک پوریاں وغیرہ ہوں گوشت نہ ہو کہ کفار سے گوشت لینا جائز نہیں-
اور یہ بھی یاد رہے کہ یہ کھانا تحفۃً نہ ہو کیونکہ کفار کے تہوار پر تحفے کا لین دین حرام ہے
سیدی اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ:

”نیروز، مہرگان (آتش پرستوں کے تہوار) کے نام پر تحائف کا دینا حرام ہے اور کافروں کے تہواروں کی تعظیم مقصود ہو تو کفر ہے “ـ

[ فتاویٰ رضویہ, جلد 14 صفحہ 673 ملخصّاً مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاھور ]

مزید یہ کہ

مؤیّدِ ملتِ طاھرہ، صاحب الدلائل القاھرۃ ولباھرہ، میرے امام سیدی اعلیٰ حضرت مولانا احمد رضا خان علیہ الرحمہ سے کفار کے مذہبی تہوار کے کھانے سے متعلق سوال ہوا کہ:

” کافر جو ہولی دیوالی میں مٹھائی وغیرہ بانٹتے ہیں، مسلمانوں کو لینا جائز ہے یا نہیں ؟
جواب:: اس روز نہ لے- ہاں اگر دوسرے روز دے تو لے لے, نہ یہ سمجھ کر کہ ان خُبَثَاء کے تیوہار کی مٹھائی ہے بلکہ 'مالِ موذی نصیبِ غازی سمجھے۔ “

[ ملفوظاتِ اعلٰی حضرت، حصّہ اول، صفحہ 163 مطبوعہ مکتبة المدینه کراچی شریف ]

دیوبندی اعتراض:: یہی بات تو ہمارے رشید احمد گنگوھی نے فتاویٰ رشیدیہ میں لکھی ہے تو پھر ان پر کیوں اعتراض کرتے ہو ؟

رضوی جواب:: تمہارے رشید احمد گنگوھی نے لکھا ہے کہ ہندوؤں کی ہولی دیوالی کی پوریاں تحفۃً رکھ لینا درست ہے
مزید لکھا:
ہندوؤں جو اپنی سُود کی رقم سے پانی پیاؤ لگاتے ہیں مسلمانوں کو اس سودی رقم کے پانی پینے میں مضائقہ نہیں۔ (ملخصاً)

[ فتاویٰ رشیدیہ,، کتاب الخطر و الاباحة، صفحہ 575 مطبوعہ دار الاشاعت لاھور ]
اصل اسکین کمنٹ میں ملاحظہ ہو (اویس رض)

اب یہی رشید احمد گنگوھی اسی فتاویٰ رشیدیہ میں لکھتا ہے کہ:

امامِ حسین رضی اللہ عنہ کے ایصال ثواب کی سبیل سے شربت اور دودھ پینا #حرام ہے۔ (ملخصاً)

[فتاویٰ رشیدیہ، صفحہ 149، کتاب العلم، مطبوعہ دار الاشاعت لاھور ]
اصل اسکین کمنٹ میں ملاحظہ ہو (اویس رض)

ہم کہتے کہ دیوبندیوں ایسی کون سی بات ہے کہ ہندوؤں کی ہولی دیوالی کی پوریاں دیکھ کر تمہارے منہ میں پانی آ جاتا ہے پیٹ میں لڈو پھوٹ پڑتے ہیں۔
لیکن
جب سید الشُھَدَاء حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی نیاز اور آپ کے ایصالِ ثواب کیلئے پانی کی بات آتی ہے تو ساتھ ہی بدعت و حرام کے مروڑ اٹھنے لگ جاتے ہیں...
آخر امامِ حسین رضی اللہ عنہ سے کیا دشمنی ہے کہ انکے ایصالِ ثواب کا پانی ناجائز اور اس کے مقابلے میں ہندوؤں کے سودی رقم کا پانی اور ہولی دیوالی کی پوریاں جائز ؟؟؟؟
اگر امام حسین رضی الله عنه کے ایصال ثواب کی سبیل کا دودھ اور شربت تشبیہِ روافض کی وجہ سے حرام ہے تو یہ ہندوؤں سے ہولی دیوالی کی پوریاں لینے میں تشبیہِ کفار نہیں پائی جا رہی ؟؟

اگر سیدی اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ نے کھانا جائز لکھا ہے تو انہوں نے امامِ حُسین رضی اللہ عنہ کی نیاز اور سبیل کو بھی جائز بلکہ مستحب کہا ہے- لہذا اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ پر اعتراض بنتا ہی نہیں۔ کیونکہ انہوں نے رشید احمد گنگوھی کیطرح دوغلی پالیسی اختیار نہیں کی۔

اللہ عقلِ سلیم عطا فرمائے.....آمین

مدینے پاک کا بھکاری: محمداویس رضا عطاری

https://t.me/SirfUrduTahrir/1580
👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Urdu Tahrir
سوال:
کرسمس ڈےکا کیا مطلب ہے؟
.
(جواب)
عیسائیوں کا بڑا دن حضرت عیسی علیہ السلام کی پیدائش کا دن 25دسمبر عید نصاری (فیروزاللغات ص1003)
.
لیکن؟ مسلمانوں کو کرسمس ڈے کی رسومات میں شرکت کرنا مبارکباد دینا،وغیرہ کسی طرح بھی جائز نہیں ھے
اور بعض صورتوں میں کفر ہے،

(( دارالافتاء اہلسنت ))

https://t.me/SirfUrduTahrir/1586
Forwarded from Urdu Tahrir
کرسمس نہ منائیں نہ مبارک دیں
.
کرسچن کا عقیدہ ہے کہ 25 دسمبر کو الله کے ہاں (معاذاللہ) بیٹا پیدا ہوا عیسیٰ علیہ السلام
یہ ہے کرسمس کی حقیقت
.
کرسمس، ہولی، دیوالی وغیرہ کو اچھاسمجھنا اسکی تعظیم میں مبارکباد دینا کفر ہے
(فتاوی رضویہ،14/273)
#Awareness #SHARE

https://t.me/SirfUrduTahrir/1574
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
کرسمس ڈے منانا کیسا ہے؟
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
بعض احباب کی تحریروں کو وہ پذیرائی نہیں ملتی جو ملنی چاہیے ، حالاں کہ اُنھوں نے بڑی محنت اور لگن سے مرتب کی ہوتی ہیں ۔

اِس کی ایک وجہ: تحریروں کا بَھدا پَن ہے ۔

ہم‌ زمین میں دانہ ڈالتے ہیں تو اُس سے کونپل نکلتی ہے ، جو بڑھ کر پودے کی شکل اختیار کر لیتی ہے ، اور اس پر بالی لگنا شروع ہوجاتی ہے ۔
یہ سب کچھ تب ہوتا ہے ، جب ایک ہی دانہ ڈالا جاتاہے ؛ اگر ایک دانے سے زیادہ گندم آپ زمین میں ڈال دیں گے تو اُس سے ہوسکتا ہے بالیاں تو نکل آئیں ، لیکن وہ پودے کی شکل اختیار نہیں کرسکیں گی ؛ کیوں کہ انھیں نشوو نما کے لیے جگہ نہیں ملے گی ۔
یہی معاملہ تحریر کاہے ؛ جہاں ایک سطر لکھنی چاہیے ، وہاں آپ نے زیادہ سطریں لکھ دیں تو تحریر کبھی ثمر بار نہیں ہوگی ۔

اللہ آپ کا حامی و ناصر ہو ، اپنی تحریروں کو مختصر ، عام فہم اور مدلل کریں ۔۔۔۔۔۔۔ تاکہ زیادہ‌سے زیادہ خلق خدا ان سے نفع حاصل کرسکے ، اور آپ کے اجر و ثواب میں اضافہ ہو ۔

✍️ لقمان شاہد
22-12-2021 ء

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3340185646261601&id=100008105947430
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
ہمارے جو علما سادات کرام‌ کی بعض غلطیوں پر انھیں تنبیہ کرتے اور اصلاح فرماتے ہیں ، انھیں بھی سید زادوں کا ادب ملحوظ رکھنا کریں ، اور سمجھاتے وقت سلجھا ہوا انداز اپنانا چاہیے ، چاہے سمجھانے والے خود سید ہوں ۔

اگر کسی کے والد مرتکب کبائر بھی ہوں تب بھی بیٹے کے لیے جائز نہیں ہوتا کہ انھیں سمجھاتے ہوئے بے ادبانہ لہجہ اختیار کرے ، کیوں کہ والد کے ساتھ خون کا ایسا رشتہ‌ ہوتا ہےجو بڑا لائق تکریم ہے ۔

تو جب ہمارے خون کے رشتے کا یہ تقاضا ہے ، تو خونِ رسول کے رشتے کا کیا تقاضا ہوگا !

✍️ لقمان شاہد
21-12-2021 ء

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3339441036336062&id=100008105947430
👍1
علماے عظام اور سادات کرام سے اگر کوئی خطا ہوجائے تو پھر بھی اُن کے متعلق بدزبانی کی اجازت نہیں ۔

آج حضرت مولانا مفتی ہنگورو عبد الرزاق قادری صاحب نے فتاوی رضویہ شریف کی یہ عبارت بھیجی ، جس میں امام اہل سنت نے بہت کمال ادب ارشاد فرمایا ۔
اللہ‌پاک تادمِ زیست اس پر عمل کی توفیق بخشے:

"نہایہ" و"تبیین" و"شافی" و"فتح" و"درر" وغیرہا میں ہے: "تعزیر أشراف الأشراف وهم العلماء والعلویّة بالإعلام بأن یقول له القاضي: بلغني أنّك تفعل کذا فینزجر" ("التبیین" کتاب الحدود، باب التعزیر، 3/208. و"فتح القدیر" کتاب الحدود، باب التعزیر، 5/112).

یعنی: علما وسادات سب سے اعلیٰ درجہ کے اشراف ہیں ، اِن سے اگر کوئی تقصیر موجبِ تعزیر واقع ہو کہ اراذل کرتے تو ضرب وحبس کے مستحق ہوتے ۔
ان کے علاوہ کے لیے اس قدر بس ہے کہ قاضی کہے:
" مجھے معلوم ہوا ہے کہ آپ ایسا کام کرتے ہیں ، اِسی قدر ان کے زجر کو بس ہے ۔ "

✍️ لقمان شاہد
21-12-2021 ء

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3340491509564348&id=100008105947430
👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM