Forwarded from محمد بلال مصباحی
کرسمس ڈےکا کیا مطلب ہے؟
.
(جواب)
عیسائیوں کا بڑا دن حضرت عیسی علیہ السلام کی پیدائش کا دن 25دسمبر عید نصاری (فیروزاللغات ص1003)
.
لیکن؟ مسلمانوں کو کرسمس ڈے کی رسومات میں شرکت کرنا مبارکباد دینا،وغیرہ کسی طرح بھی جائز نہیں ھے
اور بعض صورتوں میں کفر ہے،
(( دارالافتاء اہلسنت ))
سوال:: کرسمس کے موقع پر مبارکباد دینا کیسا ہے ؟ کیا یہ کفر ہے؟ جبکہ تعظیم کی نیت نہ ہو بس ایسے ہی یاری دوستی میں ایسا کہا ہو ؟*
*الجواب::* محض رسمی تعلقات کی بنا پر مبارکباد دینا گناہ ہےـ کفر نہیں جبکہ اس دن کو انکے دین کے باعث اچھا یا لائقِ تعظیم نہ جانتا ہو-
اور اگر کافروں کے کسی دن کو باعظمت جان کر اسکی مبارکباد دیتا ہو تو ایسے شخص پر حکُمِ کفر ہے چنانچہ بحر الرائق میں ہے:
” الموفقة مھم فیما یفعلون في ذٰلك الیوم و بشرائه یوم النیروز شیاء لم یکن یشتر به قبل ذلك تعظیماً للنیروز لا لِاَکل و الشرب وباھدائه ذالك الیوم للمشرکین و لو بیضة تعظیماً لذالك الیوم “
یعنی کفار کی موافقت کرنا اس کام میں جو خاص اس روز وہ لوگ کرتے ہوں اسی طرح یومِ نیروز (کفار کے مذہبی دن) میں کچھ خریدنا اس دن کے باعث، جبکہ اس سے قبل وہ چیزیں نہیں خریدتا، ہاں مگر عام کھانے پینے کی چیز ہو تو کچھ حرج نہیں پھر مشرکین کو ھدیہ کرنا خاص روز کی تعظیم کی خاطر اگرچہ ایک انڈہ ہی ہو “
[ شرح فقه الاکبر، صفحہ 106، دار الکتب العلمیہ بیروت ]
اور افسوس کہ آج کل یہ مناظر عام ہوتے چلے جا رہے ہیں ایسے تمام لوگوں کو ڈرانا چاہیئے کہ اس دن کو قابلِ تعظیم سمجھتے ہوئے مذکورہ کام کرنا کفر ہے
اللہ تعالٰی مسلمانوں کو اپنی رضا والے کام کرنے کی توفیق مرحمت فرمائے..آمین
واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل و صلی اللہ تعالٰی علیہ و آلہ وسلم
.
(کتبہ، ابوصالح مفتی محمدقاسم عطاری سلّمہ الباری)
.
(جواب)
عیسائیوں کا بڑا دن حضرت عیسی علیہ السلام کی پیدائش کا دن 25دسمبر عید نصاری (فیروزاللغات ص1003)
.
لیکن؟ مسلمانوں کو کرسمس ڈے کی رسومات میں شرکت کرنا مبارکباد دینا،وغیرہ کسی طرح بھی جائز نہیں ھے
اور بعض صورتوں میں کفر ہے،
(( دارالافتاء اہلسنت ))
سوال:: کرسمس کے موقع پر مبارکباد دینا کیسا ہے ؟ کیا یہ کفر ہے؟ جبکہ تعظیم کی نیت نہ ہو بس ایسے ہی یاری دوستی میں ایسا کہا ہو ؟*
*الجواب::* محض رسمی تعلقات کی بنا پر مبارکباد دینا گناہ ہےـ کفر نہیں جبکہ اس دن کو انکے دین کے باعث اچھا یا لائقِ تعظیم نہ جانتا ہو-
اور اگر کافروں کے کسی دن کو باعظمت جان کر اسکی مبارکباد دیتا ہو تو ایسے شخص پر حکُمِ کفر ہے چنانچہ بحر الرائق میں ہے:
” الموفقة مھم فیما یفعلون في ذٰلك الیوم و بشرائه یوم النیروز شیاء لم یکن یشتر به قبل ذلك تعظیماً للنیروز لا لِاَکل و الشرب وباھدائه ذالك الیوم للمشرکین و لو بیضة تعظیماً لذالك الیوم “
یعنی کفار کی موافقت کرنا اس کام میں جو خاص اس روز وہ لوگ کرتے ہوں اسی طرح یومِ نیروز (کفار کے مذہبی دن) میں کچھ خریدنا اس دن کے باعث، جبکہ اس سے قبل وہ چیزیں نہیں خریدتا، ہاں مگر عام کھانے پینے کی چیز ہو تو کچھ حرج نہیں پھر مشرکین کو ھدیہ کرنا خاص روز کی تعظیم کی خاطر اگرچہ ایک انڈہ ہی ہو “
[ شرح فقه الاکبر، صفحہ 106، دار الکتب العلمیہ بیروت ]
اور افسوس کہ آج کل یہ مناظر عام ہوتے چلے جا رہے ہیں ایسے تمام لوگوں کو ڈرانا چاہیئے کہ اس دن کو قابلِ تعظیم سمجھتے ہوئے مذکورہ کام کرنا کفر ہے
اللہ تعالٰی مسلمانوں کو اپنی رضا والے کام کرنے کی توفیق مرحمت فرمائے..آمین
واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل و صلی اللہ تعالٰی علیہ و آلہ وسلم
.
(کتبہ، ابوصالح مفتی محمدقاسم عطاری سلّمہ الباری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Urdu Tahrir
سوال::
کرسمس کا کیک یا کفار مذہبی کے تہوار کا کھانا کھانا کیسا ؟
الجواب::
مناسب ہے کہ بچا جائے نہ لیا جائےــ کیونکہ اگر آپ ان سے کچھ کیک وغیرہ لیں گے تو عین ممکن ہے کہ مبارک بھی دیں اور اگر اس مذہبی تہوار کو اچھا جانتے ہوئے مبارک باد دے دی تو حُکُمِ کفر ہے-
لیکن
اگر بغیر مبارک دیئے کھانا یعنی کیک وغیرہ رکھ بھی لیا تو حرام نہیں ہے- اور یہ بھی یاد رہے کہ گوشت کے علاوہ خشک کھانا میوہ، جات یا کیک پوریاں وغیرہ ہوں گوشت نہ ہو کہ کفار سے گوشت لینا جائز نہیں-
اور یہ بھی یاد رہے کہ یہ کھانا تحفۃً نہ ہو کیونکہ کفار کے تہوار پر تحفے کا لین دین حرام ہے
سیدی اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ:
”نیروز، مہرگان (آتش پرستوں کے تہوار) کے نام پر تحائف کا دینا حرام ہے اور کافروں کے تہواروں کی تعظیم مقصود ہو تو کفر ہے “ـ
[ فتاویٰ رضویہ, جلد 14 صفحہ 673 ملخصّاً مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاھور ]
مزید یہ کہ
مؤیّدِ ملتِ طاھرہ، صاحب الدلائل القاھرۃ ولباھرہ، میرے امام سیدی اعلیٰ حضرت مولانا احمد رضا خان علیہ الرحمہ سے کفار کے مذہبی تہوار کے کھانے سے متعلق سوال ہوا کہ:
” کافر جو ہولی دیوالی میں مٹھائی وغیرہ بانٹتے ہیں، مسلمانوں کو لینا جائز ہے یا نہیں ؟
جواب:: اس روز نہ لے- ہاں اگر دوسرے روز دے تو لے لے, نہ یہ سمجھ کر کہ ان خُبَثَاء کے تیوہار کی مٹھائی ہے بلکہ 'مالِ موذی نصیبِ غازی سمجھے۔ “
[ ملفوظاتِ اعلٰی حضرت، حصّہ اول، صفحہ 163 مطبوعہ مکتبة المدینه کراچی شریف ]
دیوبندی اعتراض:: یہی بات تو ہمارے رشید احمد گنگوھی نے فتاویٰ رشیدیہ میں لکھی ہے تو پھر ان پر کیوں اعتراض کرتے ہو ؟
رضوی جواب:: تمہارے رشید احمد گنگوھی نے لکھا ہے کہ ہندوؤں کی ہولی دیوالی کی پوریاں تحفۃً رکھ لینا درست ہے
مزید لکھا:
ہندوؤں جو اپنی سُود کی رقم سے پانی پیاؤ لگاتے ہیں مسلمانوں کو اس سودی رقم کے پانی پینے میں مضائقہ نہیں۔ (ملخصاً)
[ فتاویٰ رشیدیہ,، کتاب الخطر و الاباحة، صفحہ 575 مطبوعہ دار الاشاعت لاھور ]
اصل اسکین کمنٹ میں ملاحظہ ہو (اویس رض)
اب یہی رشید احمد گنگوھی اسی فتاویٰ رشیدیہ میں لکھتا ہے کہ:
امامِ حسین رضی اللہ عنہ کے ایصال ثواب کی سبیل سے شربت اور دودھ پینا #حرام ہے۔ (ملخصاً)
[فتاویٰ رشیدیہ، صفحہ 149، کتاب العلم، مطبوعہ دار الاشاعت لاھور ]
اصل اسکین کمنٹ میں ملاحظہ ہو (اویس رض)
ہم کہتے کہ دیوبندیوں ایسی کون سی بات ہے کہ ہندوؤں کی ہولی دیوالی کی پوریاں دیکھ کر تمہارے منہ میں پانی آ جاتا ہے پیٹ میں لڈو پھوٹ پڑتے ہیں۔
لیکن
جب سید الشُھَدَاء حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی نیاز اور آپ کے ایصالِ ثواب کیلئے پانی کی بات آتی ہے تو ساتھ ہی بدعت و حرام کے مروڑ اٹھنے لگ جاتے ہیں...
آخر امامِ حسین رضی اللہ عنہ سے کیا دشمنی ہے کہ انکے ایصالِ ثواب کا پانی ناجائز اور اس کے مقابلے میں ہندوؤں کے سودی رقم کا پانی اور ہولی دیوالی کی پوریاں جائز ؟؟؟؟
اگر امام حسین رضی الله عنه کے ایصال ثواب کی سبیل کا دودھ اور شربت تشبیہِ روافض کی وجہ سے حرام ہے تو یہ ہندوؤں سے ہولی دیوالی کی پوریاں لینے میں تشبیہِ کفار نہیں پائی جا رہی ؟؟
اگر سیدی اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ نے کھانا جائز لکھا ہے تو انہوں نے امامِ حُسین رضی اللہ عنہ کی نیاز اور سبیل کو بھی جائز بلکہ مستحب کہا ہے- لہذا اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ پر اعتراض بنتا ہی نہیں۔ کیونکہ انہوں نے رشید احمد گنگوھی کیطرح دوغلی پالیسی اختیار نہیں کی۔
اللہ عقلِ سلیم عطا فرمائے.....آمین
مدینے پاک کا بھکاری: محمداویس رضا عطاری
https://t.me/SirfUrduTahrir/1580
کرسمس کا کیک یا کفار مذہبی کے تہوار کا کھانا کھانا کیسا ؟
الجواب::
مناسب ہے کہ بچا جائے نہ لیا جائےــ کیونکہ اگر آپ ان سے کچھ کیک وغیرہ لیں گے تو عین ممکن ہے کہ مبارک بھی دیں اور اگر اس مذہبی تہوار کو اچھا جانتے ہوئے مبارک باد دے دی تو حُکُمِ کفر ہے-
لیکن
اگر بغیر مبارک دیئے کھانا یعنی کیک وغیرہ رکھ بھی لیا تو حرام نہیں ہے- اور یہ بھی یاد رہے کہ گوشت کے علاوہ خشک کھانا میوہ، جات یا کیک پوریاں وغیرہ ہوں گوشت نہ ہو کہ کفار سے گوشت لینا جائز نہیں-
اور یہ بھی یاد رہے کہ یہ کھانا تحفۃً نہ ہو کیونکہ کفار کے تہوار پر تحفے کا لین دین حرام ہے
سیدی اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ:
”نیروز، مہرگان (آتش پرستوں کے تہوار) کے نام پر تحائف کا دینا حرام ہے اور کافروں کے تہواروں کی تعظیم مقصود ہو تو کفر ہے “ـ
[ فتاویٰ رضویہ, جلد 14 صفحہ 673 ملخصّاً مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاھور ]
مزید یہ کہ
مؤیّدِ ملتِ طاھرہ، صاحب الدلائل القاھرۃ ولباھرہ، میرے امام سیدی اعلیٰ حضرت مولانا احمد رضا خان علیہ الرحمہ سے کفار کے مذہبی تہوار کے کھانے سے متعلق سوال ہوا کہ:
” کافر جو ہولی دیوالی میں مٹھائی وغیرہ بانٹتے ہیں، مسلمانوں کو لینا جائز ہے یا نہیں ؟
جواب:: اس روز نہ لے- ہاں اگر دوسرے روز دے تو لے لے, نہ یہ سمجھ کر کہ ان خُبَثَاء کے تیوہار کی مٹھائی ہے بلکہ 'مالِ موذی نصیبِ غازی سمجھے۔ “
[ ملفوظاتِ اعلٰی حضرت، حصّہ اول، صفحہ 163 مطبوعہ مکتبة المدینه کراچی شریف ]
دیوبندی اعتراض:: یہی بات تو ہمارے رشید احمد گنگوھی نے فتاویٰ رشیدیہ میں لکھی ہے تو پھر ان پر کیوں اعتراض کرتے ہو ؟
رضوی جواب:: تمہارے رشید احمد گنگوھی نے لکھا ہے کہ ہندوؤں کی ہولی دیوالی کی پوریاں تحفۃً رکھ لینا درست ہے
مزید لکھا:
ہندوؤں جو اپنی سُود کی رقم سے پانی پیاؤ لگاتے ہیں مسلمانوں کو اس سودی رقم کے پانی پینے میں مضائقہ نہیں۔ (ملخصاً)
[ فتاویٰ رشیدیہ,، کتاب الخطر و الاباحة، صفحہ 575 مطبوعہ دار الاشاعت لاھور ]
اصل اسکین کمنٹ میں ملاحظہ ہو (اویس رض)
اب یہی رشید احمد گنگوھی اسی فتاویٰ رشیدیہ میں لکھتا ہے کہ:
امامِ حسین رضی اللہ عنہ کے ایصال ثواب کی سبیل سے شربت اور دودھ پینا #حرام ہے۔ (ملخصاً)
[فتاویٰ رشیدیہ، صفحہ 149، کتاب العلم، مطبوعہ دار الاشاعت لاھور ]
اصل اسکین کمنٹ میں ملاحظہ ہو (اویس رض)
ہم کہتے کہ دیوبندیوں ایسی کون سی بات ہے کہ ہندوؤں کی ہولی دیوالی کی پوریاں دیکھ کر تمہارے منہ میں پانی آ جاتا ہے پیٹ میں لڈو پھوٹ پڑتے ہیں۔
لیکن
جب سید الشُھَدَاء حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی نیاز اور آپ کے ایصالِ ثواب کیلئے پانی کی بات آتی ہے تو ساتھ ہی بدعت و حرام کے مروڑ اٹھنے لگ جاتے ہیں...
آخر امامِ حسین رضی اللہ عنہ سے کیا دشمنی ہے کہ انکے ایصالِ ثواب کا پانی ناجائز اور اس کے مقابلے میں ہندوؤں کے سودی رقم کا پانی اور ہولی دیوالی کی پوریاں جائز ؟؟؟؟
اگر امام حسین رضی الله عنه کے ایصال ثواب کی سبیل کا دودھ اور شربت تشبیہِ روافض کی وجہ سے حرام ہے تو یہ ہندوؤں سے ہولی دیوالی کی پوریاں لینے میں تشبیہِ کفار نہیں پائی جا رہی ؟؟
اگر سیدی اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ نے کھانا جائز لکھا ہے تو انہوں نے امامِ حُسین رضی اللہ عنہ کی نیاز اور سبیل کو بھی جائز بلکہ مستحب کہا ہے- لہذا اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ پر اعتراض بنتا ہی نہیں۔ کیونکہ انہوں نے رشید احمد گنگوھی کیطرح دوغلی پالیسی اختیار نہیں کی۔
اللہ عقلِ سلیم عطا فرمائے.....آمین
مدینے پاک کا بھکاری: محمداویس رضا عطاری
https://t.me/SirfUrduTahrir/1580
Telegram
✍ اُردُو تحریر 📃
سوال::
کرسمس کا کیک یا کفار مذہبی کے تہوار کا کھانا کھانا کیسا ؟
الجواب::
مناسب ہے کہ بچا جائے نہ لیا جائےــ کیونکہ اگر آپ ان سے کچھ کیک وغیرہ لیں گے تو عین ممکن ہے کہ مبارک بھی دیں اور اگر اس مذہبی تہوار کو اچھا جانتے ہوئے مبارک باد دے…
کرسمس کا کیک یا کفار مذہبی کے تہوار کا کھانا کھانا کیسا ؟
الجواب::
مناسب ہے کہ بچا جائے نہ لیا جائےــ کیونکہ اگر آپ ان سے کچھ کیک وغیرہ لیں گے تو عین ممکن ہے کہ مبارک بھی دیں اور اگر اس مذہبی تہوار کو اچھا جانتے ہوئے مبارک باد دے…
👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Urdu Tahrir
سوال:
کرسمس ڈےکا کیا مطلب ہے؟
.
(جواب)
عیسائیوں کا بڑا دن حضرت عیسی علیہ السلام کی پیدائش کا دن 25دسمبر عید نصاری (فیروزاللغات ص1003)
.
لیکن؟ مسلمانوں کو کرسمس ڈے کی رسومات میں شرکت کرنا مبارکباد دینا،وغیرہ کسی طرح بھی جائز نہیں ھے
اور بعض صورتوں میں کفر ہے،
(( دارالافتاء اہلسنت ))
https://t.me/SirfUrduTahrir/1586
کرسمس ڈےکا کیا مطلب ہے؟
.
(جواب)
عیسائیوں کا بڑا دن حضرت عیسی علیہ السلام کی پیدائش کا دن 25دسمبر عید نصاری (فیروزاللغات ص1003)
.
لیکن؟ مسلمانوں کو کرسمس ڈے کی رسومات میں شرکت کرنا مبارکباد دینا،وغیرہ کسی طرح بھی جائز نہیں ھے
اور بعض صورتوں میں کفر ہے،
(( دارالافتاء اہلسنت ))
https://t.me/SirfUrduTahrir/1586
Telegram
✍ اُردُو تحریر 📃
سوال:
کرسمس ڈےکا کیا مطلب ہے؟
.
(جواب)
عیسائیوں کا بڑا دن حضرت عیسی علیہ السلام کی پیدائش کا دن 25دسمبر عید نصاری (فیروزاللغات ص1003)
.
لیکن؟ مسلمانوں کو کرسمس ڈے کی رسومات میں شرکت کرنا مبارکباد دینا،وغیرہ کسی طرح بھی جائز نہیں ھے
اور بعض صورتوں میں کفر…
کرسمس ڈےکا کیا مطلب ہے؟
.
(جواب)
عیسائیوں کا بڑا دن حضرت عیسی علیہ السلام کی پیدائش کا دن 25دسمبر عید نصاری (فیروزاللغات ص1003)
.
لیکن؟ مسلمانوں کو کرسمس ڈے کی رسومات میں شرکت کرنا مبارکباد دینا،وغیرہ کسی طرح بھی جائز نہیں ھے
اور بعض صورتوں میں کفر…
Forwarded from Urdu Tahrir
❌کرسمس نہ منائیں نہ مبارک دیں❌
.
کرسچن کا عقیدہ ہے کہ 25 دسمبر کو الله کے ہاں (معاذاللہ) بیٹا پیدا ہوا عیسیٰ علیہ السلام
یہ ہے کرسمس کی حقیقت
.
کرسمس، ہولی، دیوالی وغیرہ کو اچھاسمجھنا اسکی تعظیم میں مبارکباد دینا کفر ہے
(فتاوی رضویہ،14/273)
#Awareness #SHARE
https://t.me/SirfUrduTahrir/1574
.
کرسچن کا عقیدہ ہے کہ 25 دسمبر کو الله کے ہاں (معاذاللہ) بیٹا پیدا ہوا عیسیٰ علیہ السلام
یہ ہے کرسمس کی حقیقت
.
کرسمس، ہولی، دیوالی وغیرہ کو اچھاسمجھنا اسکی تعظیم میں مبارکباد دینا کفر ہے
(فتاوی رضویہ،14/273)
#Awareness #SHARE
https://t.me/SirfUrduTahrir/1574
Telegram
✍ اُردُو تحریر 📃
❌کرسمس نہ منائیں نہ مبارک دیں❌
.
کرسچن کا عقیدہ ہے کہ 25 دسمبر کو الله کے ہاں (معاذاللہ) بیٹا پیدا ہوا عیسیٰ علیہ السلام
یہ ہے کرسمس کی حقیقت
.
کرسمس، ہولی، دیوالی وغیرہ کو اچھاسمجھنا اسکی تعظیم میں مبارکباد دینا کفر ہے
(فتاوی رضویہ،14/273)
#Awareness #SHARE…
.
کرسچن کا عقیدہ ہے کہ 25 دسمبر کو الله کے ہاں (معاذاللہ) بیٹا پیدا ہوا عیسیٰ علیہ السلام
یہ ہے کرسمس کی حقیقت
.
کرسمس، ہولی، دیوالی وغیرہ کو اچھاسمجھنا اسکی تعظیم میں مبارکباد دینا کفر ہے
(فتاوی رضویہ،14/273)
#Awareness #SHARE…
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
بعض احباب کی تحریروں کو وہ پذیرائی نہیں ملتی جو ملنی چاہیے ، حالاں کہ اُنھوں نے بڑی محنت اور لگن سے مرتب کی ہوتی ہیں ۔
اِس کی ایک وجہ: تحریروں کا بَھدا پَن ہے ۔
ہم زمین میں دانہ ڈالتے ہیں تو اُس سے کونپل نکلتی ہے ، جو بڑھ کر پودے کی شکل اختیار کر لیتی ہے ، اور اس پر بالی لگنا شروع ہوجاتی ہے ۔
یہ سب کچھ تب ہوتا ہے ، جب ایک ہی دانہ ڈالا جاتاہے ؛ اگر ایک دانے سے زیادہ گندم آپ زمین میں ڈال دیں گے تو اُس سے ہوسکتا ہے بالیاں تو نکل آئیں ، لیکن وہ پودے کی شکل اختیار نہیں کرسکیں گی ؛ کیوں کہ انھیں نشوو نما کے لیے جگہ نہیں ملے گی ۔
یہی معاملہ تحریر کاہے ؛ جہاں ایک سطر لکھنی چاہیے ، وہاں آپ نے زیادہ سطریں لکھ دیں تو تحریر کبھی ثمر بار نہیں ہوگی ۔
اللہ آپ کا حامی و ناصر ہو ، اپنی تحریروں کو مختصر ، عام فہم اور مدلل کریں ۔۔۔۔۔۔۔ تاکہ زیادہسے زیادہ خلق خدا ان سے نفع حاصل کرسکے ، اور آپ کے اجر و ثواب میں اضافہ ہو ۔
✍️ لقمان شاہد
22-12-2021 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3340185646261601&id=100008105947430
اِس کی ایک وجہ: تحریروں کا بَھدا پَن ہے ۔
ہم زمین میں دانہ ڈالتے ہیں تو اُس سے کونپل نکلتی ہے ، جو بڑھ کر پودے کی شکل اختیار کر لیتی ہے ، اور اس پر بالی لگنا شروع ہوجاتی ہے ۔
یہ سب کچھ تب ہوتا ہے ، جب ایک ہی دانہ ڈالا جاتاہے ؛ اگر ایک دانے سے زیادہ گندم آپ زمین میں ڈال دیں گے تو اُس سے ہوسکتا ہے بالیاں تو نکل آئیں ، لیکن وہ پودے کی شکل اختیار نہیں کرسکیں گی ؛ کیوں کہ انھیں نشوو نما کے لیے جگہ نہیں ملے گی ۔
یہی معاملہ تحریر کاہے ؛ جہاں ایک سطر لکھنی چاہیے ، وہاں آپ نے زیادہ سطریں لکھ دیں تو تحریر کبھی ثمر بار نہیں ہوگی ۔
اللہ آپ کا حامی و ناصر ہو ، اپنی تحریروں کو مختصر ، عام فہم اور مدلل کریں ۔۔۔۔۔۔۔ تاکہ زیادہسے زیادہ خلق خدا ان سے نفع حاصل کرسکے ، اور آپ کے اجر و ثواب میں اضافہ ہو ۔
✍️ لقمان شاہد
22-12-2021 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3340185646261601&id=100008105947430
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
ہمارے جو علما سادات کرام کی بعض غلطیوں پر انھیں تنبیہ کرتے اور اصلاح فرماتے ہیں ، انھیں بھی سید زادوں کا ادب ملحوظ رکھنا کریں ، اور سمجھاتے وقت سلجھا ہوا انداز اپنانا چاہیے ، چاہے سمجھانے والے خود سید ہوں ۔
اگر کسی کے والد مرتکب کبائر بھی ہوں تب بھی بیٹے کے لیے جائز نہیں ہوتا کہ انھیں سمجھاتے ہوئے بے ادبانہ لہجہ اختیار کرے ، کیوں کہ والد کے ساتھ خون کا ایسا رشتہ ہوتا ہےجو بڑا لائق تکریم ہے ۔
تو جب ہمارے خون کے رشتے کا یہ تقاضا ہے ، تو خونِ رسول کے رشتے کا کیا تقاضا ہوگا !
✍️ لقمان شاہد
21-12-2021 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3339441036336062&id=100008105947430
اگر کسی کے والد مرتکب کبائر بھی ہوں تب بھی بیٹے کے لیے جائز نہیں ہوتا کہ انھیں سمجھاتے ہوئے بے ادبانہ لہجہ اختیار کرے ، کیوں کہ والد کے ساتھ خون کا ایسا رشتہ ہوتا ہےجو بڑا لائق تکریم ہے ۔
تو جب ہمارے خون کے رشتے کا یہ تقاضا ہے ، تو خونِ رسول کے رشتے کا کیا تقاضا ہوگا !
✍️ لقمان شاہد
21-12-2021 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3339441036336062&id=100008105947430
👍1