🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
#کافرانہ_مسلک!!

غلام مصطفےٰ نعیمی
روشن مستقبل دہلی

ناگپور سے ہمارے عزیز مولانا مصطفیٰ رضا صاحب نے بہ غرض استفسار ایک قوالی کا ویڈیو لنک بھیجا۔اوپن کیا تو قوال صاحب کی خاصی بے سُری آواز کانوں سے ٹکرائی۔آواز کو کسی طور برداشت کیا مگر قوال کے منہ سے نکلنے والا کلام کسی طور برداشت کرنے کے قابل نہیں تھا۔حسن مطلع کچھ اس طرح تھا؛
صابر کا ہوں میں بندہ، صابر میرا خدا ہے
میرا کافرانہ مسلک، مشرب میرا جدا ہے

مسلم معاشرے کا عام انسان بھی یہ بات اچھی طرح جانتا ہے کہ لفظ خدا، اللہ تعالیٰ ہی کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ کسی غیر کو خدا کہنا جائز نہیں مگر مذکورہ کلام لکھنے والے کی جسارت تو دیکھیے کہ کس بے باکی کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے محبوب بندے حضرت مخدوم صابر کلیری علیہ الرحمہ کو اپنا خدا قرار دیا، اور اتنے ہی پر بس نہیں کیا اپنے باطل نظریہ کو "کافرانہ مسلک" کہہ کر مکمل ڈھٹائی بھی دکھا رہا ہے۔

لفظ خدا کی تشریح______

_خدا فارسی زبان کا لفظ ہے۔اپنی اصل حالت اور معنی کے ساتھ اردو میں بھی استعمال ہوتا ہے۔لغوی اعتبار سے لفظ خدا کے مختلف معنی بیان کیے گیے ہیں:
١۔معبود۔٢۔دیوتا۔٣مالک۔٤۔آقا۔٥۔خود مختار۔٦۔باکمال۔٧۔ماہر وغیرہ لیکن صدیوں سے لفظ خدا کا استعمال اللہ تعالیٰ کے اسم صفاتی "رب" کے ترجمہ کے طور پر کیا جارہا ہے۔غیر اللہ کے لیے اس بولنا جائز نہیں جیسا کہ مشہور فارسی لغت غیاث اللغات میں ہے:
"خدا بالضم بمعنی مالک وصاحب۔چو لفظ خدا مطلق باشد بر غیر ذات باری تعالی اطلاق نکند۔"
(غیاث اللغات، ص:185)

یعنی لفظ خدا(پیش کے ساتھ) مالک اور صاحب کے معنی میں آتا ہے۔جب لفظ خدا مطلقاً استعمال کیا جائے تو اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کے لیے بولنا جائز نہیں۔
شرعاً کسی بندۂ خدا کو اپنا خدا ماننے کا کیا حکم ہے، یہ بتانے کی بھی حاجت نہیں رہی کہ قوال نے خود ہی اس کا حکم بتاتے ہوئے اپنے نظریہ کو "کافرانہ مسلک" قرار دیا ہے۔اب کوئی اضافی دانش ور یہاں اہل نظر اور مجاذيب کے ان اقوال کی بحث نہ چیھڑیں جو شذوذ کے قبیل سے ہیں حالانکہ ان کا بھی عوامی استعمال منع ہے۔

___ہر گزرتے دن قوالیوں میں ایسے گمراہانہ بلکہ کفریہ اشعار بڑھتے جارہے ہیں اس لیے اب دو پہلوؤں پر بات کرنا بے حد ضروری ہوگیا ہے:

1۔بزرگوں سے منسوب محفلوں میں ایسے کلام پڑھنا
2۔قائلین سماع کے اہل علم کی ان پر خاموشی

ایک ایسا مجمع جہاں مسلمانوں کے بچے، جوان، بوڑھے اور نسبتاً کم پڑھے لکھے افراد موجود ہوں، وہاں ایسا کلام پڑھنا کہاں تک درست قرار پائے گا؟
عام لوگوں کے لیے اس کلام میں حضرت صابر پاک کا نام ہی کلام پر اعتبار کرنے کے لیے کافی ہے، اگر ایسا کلام ان کی زبانوں پر جاری ہوجائے یا وہ یہ مان بیٹھیں کہ کسی محترم شخصیت کو خدا ماننے میں کوئی حرج نہیں ہے تو وہ اپنے پیر ومرشد، ماں باپ، اساتذہ اور ہر اس شخص کو اپنا خدا کہنے میں نہیں ہچکچائیں گے جو ذرا بھی رتبہ ورسوخ والا ہو۔جس طرح ہندو سماج میں ہر بڑے عہدے والے کو پربھو اور بھگوان کہنا عام ہے اسی طرح کل کو مسلمان بھی اونچے لوگوں کو خدا کہنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھیں گے۔

____قائلین سماع میں ایک ٹھیک ٹھاک تعداد علما اور دانش وران کی ہے جو واضح طور پر عقیدہ وتوحید ورسالت، الفاظ کی نزاکتوں اور باریکیوں کو اچھی طرح سمجھتے ہیں۔اس کے باوجود ان کا ایسے گمراہانہ کلام پر خاموش رہنا، تنبیہ نہ کرنا بہت زیادہ کھلتا ہے۔اگر یہ حضرات آگے آکر ایسے شتر بے مہار قوالوں کو تنبیہ کریں اور انہیں دائرہ شرع میں اشعار کہنے اور غیر اخلاقی حرکات وسکنات سے باز رکھنے کی تاکید کریں تو اس کا خاطر خواہ اثر ہوگا۔

قوالوں کی خر مستیاں _

🔸 پچھلے کچھ وقت سے دیکھا جارہا ہے کہ قوالی کے نام پر فکری اور عملی آوارگی لگاتار بڑھتی جارہی ہے۔بعض قوال صرف فلمی گانوں کی دُھن پر ہی قوالی بناتے ہیں۔جیسے ہی کوئی نیا فلمی گانا ریلیز ہوا ٹھیک اسی سُر تال کے ساتھ قوالی بھی مارکیٹ میں آجاتی ہے۔نقل میں کوئی کمی باقی نہ رہ جائے اس لیے سُر تال کے ساتھ ساتھ گانوں کے لٹکے جھٹکے بھی قوالی میں بھی شامل کیے جاتے ہیں، جس کے لیے قوال اور قوالہ باضابطہ اچھے خاصے dance moov بھی دکھاتے ہیں۔

🔹 قوالوں کا ایک گروہ ایسا سطحی اور بازارو کلام لکھتا ہے جو کسی طور پر ایک شریف اور مہذب معاشرے میں قبول نہیں کیا جاسکتا، ذرا یہ نمونہ دیکھیں؛
چلے ہیں سب ریڑی بھنڈاری اَپَن چلا ہے جم کے
ریل گاڑی کے ہر ڈبے میں دھوئیں اڑیں گے چِلم کے
ٹکٹ وِکٹ کی کَا ہے ٹینشن، ٹی ٹی اپنا جُٹ ہے
اب کی چھٹی میں اپنا تو نمبر بھی بالکل فٹ ہے
اے پَپّا!!!
خواجہ کا میلا آ ریلا، اَپُن اجمیر جا ریلا

ذرا غور کریں!
اس کلام کو سن کر ذہن میں خواجہ غریب نواز کے کسی عاشق کی تصویر ابھرتی ہے یا کسی چرسی اور چِلمیے کی؟

ذمہ داران سے گزارش _
قائلین سماع کے اہل علم اور ذمہ داران کو چاہیے کہ وہ آگے آئیں اور تصوف وقوالی کے نام پر چل رہے اس غیر شرعی اور غیر اخلاقی سسٹم کے خلاف آواز بلند کریں تاکہ صوفیا اور تصوف کا صحیح پیغام لوگوں تک پہنچ سکے۔اگر وقت رہتے اس سسٹم کو نہ روکا گیا تو آنے والے وقت میں محافل سماع میں دَم مارو دَم کی صدائیں اور چِِلم کے دھوئیں اڑانے سے شاید ہی کوئی روک پائے۔
اغیار ویسے ہی تصوف پر معترض ہیں، ایسی حرکات اور ایسے کلام انہیں مزید صوفیا اور تصوف پر اعتراض کا موقع فراہم کریں گے اس لیے ایسے قوالوں کی اصلاح اور بروقت تنبیہ کی جائے تاکہ دامن تصوف پر کوئی داغ نہ آسکے۔

١٨ جمادی الأول ١٤٤٣ھ
23 دسمبر 2022 بروز جمعرات

https://www.facebook.com/388280455075812/posts/1049953158908535/
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Gulam Mustafa Razvi
"مساجد و مدارس اسلامی قلعے ہیں انھیں آباد رکھیں-
جب تک ہم اعلیٰ حضرت کا ذکر نہ کر لیں ہمیں چین نہیں ملتا-"
*مسجد احسن العلماء کی افتتاحی بزم میں حضور امین ملت ڈاکٹر سید محمد امین میاں مارہروی صاحب قبلہ کا ناصحانہ خطاب*

مالیگاؤں: مساجد و مدارس اسلامی قلعے ہیں، طلبہ سپاہی اور اساتذہ سپہ سالار ہیں- مساجد کو سجدوں سے آباد رکھیں- اس طرح کا اظہارِ خیال شہزادۂ احسن العلماء حضور امین ملت ڈاکٹر سید محمد امین میاں مارہروی صاحب قبلہ (سجادہ نشین خانقاہِ برکاتیہ مارہرہ شریف) نے ٢٢ دسمبر بدھ کو مسجد احسن العلماء دریگاؤں کی افتتاحی محفل میں فرمایا- حضور امین ملت نے مسلکِ سلفِ صالحین کی ترجمانی میں مسلکِ اعلیٰ حضرت کی توضیح کی اور اس ضمن میں فرمایا کہ: ہمارے خاندان سے مسلک اعلیٰ حضرت پر قائم رہنے کی تعلیم دی جاتی ہے- ہم کہیں بھی جائیں جب تک اعلیٰ حضرت کا ذکر نہ کر لیں ہمیں چین نہیں ملتا- اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو منشائے الٰہی کے مطابق جاننا ماننا مسلکِ اعلیٰ حضرت ہے- اب کوئی مولوی کہے کہ قبر میں مسلکِ اعلیٰ حضرت نہیں پوچھا جائے گا تو میں نے کہا کہ قبر میں تین سوال پوچھے جائیں گے، جو آخری سوال سرکار صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں پوچھا جائے گا تو یہی مسلکِ اعلیٰ حضرت ہے- اللہ تعالیٰ اس بستی مالیگاؤں کو آباد رکھے- ازیں قبل جامعہ حنفیہ سنیہ کے زیر اہتمام تعمیر کردہ اس مبارک مسجد میں نمازِ ظہر ادا کی گئی- جس کی امامت مولانا مدثر حسین ازہری (پرنسپل جامعہ حنفیہ سنیہ) نے کی- نظامت کے فرائض مولانا عبیداللہ خان مصباحی نے انجام دیے- اس موقع پر الحاج محمد انیس غازیانی کی صاحبزادی کی تقریبِ مناکحت منعقد کی گئی- جب کہ کتاب "حضور احسن العلماء کی دینی و سماجی خدمات" (از مولانا محمد عبدالمبین نعمانی) مطبوعہ نوری مشن کا اجراء حضور امین ملت کے ہاتھوں عمل میں آیا- مسجد کی تعمیر کے سلسلے میں نمایاں کردار ادا کرنے پر الحاج محمد انیس غازیانی، الحاج عبدالمجید بکھار والے، الحاج احمد رضا حافظ عبدالعزیز (سکریٹری جامعہ حنفیہ سنیہ) کا استقبال کیا گیا- اس موقع پر جامعہ حنفیہ سنیہ کے جمیع اساتذہ و طلبہ نیز شہر کی سنی تنظیموں کے ذمہ داران موجود تھے- حضور امین ملت نے طالبین کو سلسلۂ قادریہ برکاتیہ میں بیعت کیا- سلام اور حضور امین ملت کی دعا پر اس مبارک محفل کا اختتام ہوا- رپورٹ منتظمینِ مسجد احسن العلماء و جامعہ حنفیہ سنیہ مالیگاؤں نے ارسال کی-
***
٢٤ دسمبر ٢٠٢١ء
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Adnan Butt
سوال:: ایک بھائی نے سوال پوچھا کہ کیا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت کا دن 25 دسمبر ہے ؟؟

الجواب::

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تاریخ ولادت کے متعلق کوئی تحقیقی بات کسی بھی مذہب کی مستند کتاب میں موجود نہیں ہے

حتی کہ عیسائیوں کی چار کتب (۱) لوقا (۲)متی (۳)مرقس (۴) یوحنا..... جو انکی مذہبی کتب ہیں ان میں بھی کہیں یہ ذکر نہیں ہے کہ 25 دسمبر کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش ہوئی، ہاں یہ ضرور اشارہ ملتا ہے کہ حضرت علیہ السلام 25 دسمبر تو کیا دسمبر کسی تاریخ کو بھی آپ کی ولادت نہیں ہوئی
لیکن کسی دلیل کے بغیر عیسائیوں نے 25 دسمبر کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تاریخ پیدائش تسلیم کرلی ہے۔

#قرآن_سےدلیل

اللہ ارشاد فرماتا ہے:

فَاَجَآءَهَا الْمَخَاضُ اِلٰى جِذْعِ النَّخْلَةِۚ قَالَتْ یٰلَیْتَنِیْ مِتُّ قَبْلَ هٰذَا وَ كُنْتُ نَسْیًا مَّنْسِیًّا ﴿۲۳﴾
فَنَادٰىهَا مِنْ تَحْتِهَاۤ اَلَّا تَحْزَنِیْ قَدْ جَعَلَ رَبُّكِ تَحْتَكِ سَرِیًّا﴿۲۴﴾
وَ هُزِّیْۤ اِلَیْكِ بِجِذْعِ النَّخْلَةِ تُسٰقِطْ عَلَیْكِ رُطَبًا جَنِیًّا٘﴿۫۲۵﴾

” پھر اسے پیدائش کا درد ایک کھجور کی جڑ میں لے آیا ( مریم ) بولی ہائے کسی طرح میں اس سے پہلے مرگئی ہوتی اور بھولی بسری ہوجاتی ،
تو اسے اس (کھجور کے درخت) کے نیچے سے پکارا کہ غم نہ کر بیشک تیرے رب نے نیچے ایک نہر بہادی ہے

اور کھجور کی جڑ پکڑ کر اپنی طرف ہلا تجھ پر تازی پکی کھجوریں گریں گی“

[ سورۃ مریم: آیت نمبر 23 24 25 ]

اللہ تعالٰی نے واضح طور پر فرمایا کہ اے مریم اس درخت کو ہِلا تجھ پر تازہ پکی ہوئی کھجوریں گریں گی

اب عرض یہ ہے کہ اگر عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت دسمبر کے مہینے مانیں تو بتائیں وہ کونسی کھجوریں ہیں جو دسمبر کے مہینے پکتی ہیں ؟؟؟
کھجوریں تو سخت گرمی اور جون وغیرہ کے مہینے میں پکتی ہیں..
اور جس جگہ عیسیٰ علیہ السلام پیدا ہوئے دسمبر کے مہینے ان علاقوں میں برف باری ہوتی ہے اور شدید سردی ہوتی ہے..
لہذا عیسیٰ علیہ السلام دسمبر میں پیدا ہی نہیں ہوئے....
شاید ہوسکتا ہے کہ کوئی عیسائی اعتراض کرے کہ ہم قرآن کو نہیں مانتے تو آئیے رضوی فقیر انکے گھر سے حوالے پیش کرتا ہے..

#عیسائی_کتاب_سےدلیل

عیسائیوں کا مذہبی پوپ ایف ایس خیر اللہ مسیحی پادری لکھتا ہے کہ :

” کرسمس کا مروجہ نام(بڑا دن ہے)جو یوم ولادت مسیح کے سلسلے میں منایا جاتا ہے، چونکہ مسیحیوں کے لئے یہ ایک اہم اور مقدس دن ہے، اس لئے اسے بڑا کہا جاتا ہے۔
رومن کیتھولک اور پروٹسٹنٹ کلیسیائیں اسے 25 دسمبر کو، مشرقی آرتھوڈوکس کلیسیا 6جنوری کو اور آرمینیا کی کلیسیا 19جنوری کو مناتی ہے۔
کرسمس کے تہوار کا 25 دسمبر پر ہونے کا ذکر پہلی بار شاہِ قسطنطین کے عہد میں 325 عیسوی کو ہوا۔ یہ بات صحیح طور پر معلوم نہیں کہ اولین کلیسیائیں بڑا دن مناتی تھیں یا نہیں۔ تاہم جب سے یہ شروع ہوا یہ بڑا مقبول ہوا ہے۔ اگرچہ بعض رسومات جو مسیحی نہیں تھیں کرسمس سے منسوب کی گئی ہیں تاہم اب انہوں نے بھی مسیحی رنگ اپنا لیا ہے۔ مثلاً کرسمس ٹری(کرسمس کا درخت) اب اس سے یہ مراد لی جاتی ہے کہ یہ خدا کی طرف اشارہ کرتا ہے اور اس کی نعمتوں کی یاددہانی کراتا ہے۔
یاد رہے کہ یسوع مسیح کی صحیح تاریخ پیدائش کا کسی کو علم نہیں۔ تیسری صدی میں اسکندریہ کے کلیمنٹ نے رائے دی تھی کہ اسے20مئی کو منایا جائے لیکن25دسمبر کو پہلے پہل روما میں اس لئے مقرر کیا تاکہ اس وقت کے ایک غیر مسیحی تہوار، جشن زحل کو Sarurnalia جو راس الجدی کے موقع پر ہوتا تھا پسِ پشت ڈال کر یسوح مسیح کی سالگرہ منائی جائے‘‘۔

[ قاموس الکتاب، صفحہ 148،147، مطبوعہ مسیحی اشاعت خانہ 36 فیروز پور روڈ لاہور ]

پادری کی کتاب کے اصل اسکینز کمنٹ میں ملاحظہ کریں(اویس رضوی)

تو عیسائی پادری نے بھی اس حقیقت کو تسلیم کیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت کا دن کوئی کلیسا (گرجاگھر) 6 جنوری کو مناتا رہا کوئی 19 جنوری کو اور کسی نے 20 مئی کو یومِ ولادت منانے کا مشورہ دیا....لہذا 25 دسمبر کو روماء میں عیسائیوں نے خود ہی حضرت علیہ السلام کی پیدائش کا دن مقرر کرکے کرسمس منانا شروع دی جو کہ حقائق کے بلکل برعکس ہے.

#بائیبل_سےدلیل

انجیل لوقا میں لکھا ہے کہ:

بچے کی پیدائش کا وقت آ گیا- اور مریم کا بیٹا پیدا ہوا انہوں نے اسکو کپڑے میں لپیٹا اور کُھرلی میں رکھ دیا کیونکہ مسافر خانے میں کوئی جگہ نہیں تھی- اس علاقے میں چرواہے بھی تھے جو رات کو باھر میدان میں اپنے ریوڑ کی رکھوالی کر رہے تھے

[ انجیل لوقا، باب:2، آیات: 7 ،8 ،9 ]

اصل حوالہ دیکھنے کیلئے انجیل لوقا مترجم کے اس لِنک پر کِلک کیجئے-(اویس رضا)
👇👇👇👇👇👇👇👇👇👇👇👇👇
https://2fish.co/ur/bible/luke/ch-2/
اور دوسرا سافٹ ویئرکا ترجمہ کمنٹ میں ملاحظہ ہو (اویس رضا)

تو عیسائیوں کی انجیل کی صراحت کے مطابق جب عیسیٰ علیہ السلام پیدا ہوئے تو حضرت مریم علیھا السلام نے آپ کو کپڑے میں لپیٹ کر بکر
Forwarded from Adnan Butt
یوں کی کُھرلی میں کھلے آسمان تلے رکھ دیا
مزید آگے لکھا کہ اس علاقے میں چرواہے تھے جورات کو اپنے بکریوں کے ریوڑ کی رکھوالی کرتے تھے
تو اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ دسمبر کے مہینے بیت اللحم جہاں عیسی علیہ السلام پیدا ہوئے وہاں فلسطین میں شدید برف باری ہوتی ہے تو وہ کونسا ریوڑ تھا جسے لوگ رات کو کھلے آسمان تلے سردی میں ہی چھوڑ کر حفاظت کرتے تھے ؟؟؟
اور حضرت مریم نے دسمبر کی سردی میں ہی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو کھلے آسمان تلے رکھ دیا ؟؟؟

تو ان حقائق سے پتہ چلتا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کا دن 25 دسمبر تو کیا بلکہ سردی کا موسم ہی نہ تھا..... قرآن نے بھی تصریح کی کہ عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کے وقت تازہ پکی ہوئی کھجوریں حضرت مریم علیھا السلام نے کھائیں۔
بائیبل سے بھی یہ بات ثابت ہو گئ اور عیسائی پادری نے بھی کھلے لفظوں میں تسلیم کیا کہ عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کا دن 25 دسمبر تو کیا سردی کا موسم ہی نہیں ہے۔

اور یہاں میں آلِ نجد کو کہنا چاہتا ہوں کہ تم لوگ ربیع میں تو بڑا شور کرتے ہو کہ حضور سیّدِ عالَم علیہ السلام 12 ربیع الاول کو نہیں پیدا ہوئے...اور کبھی کسی نے نجدی نے یہ زور نہیں دیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام 25 دسمبر کو پیدا نہیں ہوئے.. جس سے پتہ چلتا ہے کہ اصل دشمنی صرف رسول اللہ علیہ السلام سے ہے... اور وہ ریڈی میڈ شیخ الظلام بھی غور کرے جو 25 دسمبر کو عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت کا دن کہہ کر انکا کیک کاٹتا ہے......

اللہ سمجھنے اور قبول کرنے کی توفیق عطا فرمائے......آمین

مدینے پاک کا بھکاری
مِحمداویس رضاعطاری
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from محمد بلال مصباحی
کرسمس اور اسلام..

حدیث مباركہ ھے.."الله كے دشمنوں سے انکے تہوار میں اجتناب کرو.. غیر مسلموں کے تہوار کے دن انکی عبادت گاھوں میں داخل نہ ھو کیونکہ ان پر الله کی ناراضگی نازل ھوتی ھے.."(بيهقی9/392)

اسلام غیر مسلموں سے رواداری اور حسن سلوک کی تلقین کرتا ھے.. اگر کوئی مسلمان حضرت عیسی علیہ السلام پر ایمان نہ رکھے تو وہ مسلمان نہیں ھو سکتا لیکن جس عمل سے عقیدے اور ایمان پر زد پڑتی ھو اس سے اجتناب ضروری ھے.. کچھ"روشن خیال"لوگ عیسائیوں کو کرسمس کی مبارک باد دیتے ھیں لیکن کرسمس کی'خوشیوں'میں شریک ھونا اور اِس کفریہ شعار پر عیسائیوں کو مبارکباد پیش کرنا بالاتفاق حرام ھے..

1۔ عیسائیوں کا کرسمس خالصتاً ایک کافرانہ تہوار ھے.. یہ اُس کفریہ ملت کی ایک باقاعدہ پہچان اور شعار ھے جو حضرت عیسیٰ عليہ السلام کو خدا کا بیٹا کہہ کر پروردگارِ عالم کے ساتھ شرک کرتی ھے.. نیز نبی آخر الزمان حضرت محمدٌ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مسترد کرکے وقت کی آسمانی رسالت کی منکر اور عذابِ الٰہی کی طلبگار ٹھہرتی ھے.. کرسمس کے اِس شرکیہ تہوار کی وجہِ مناسبت ھی یہ ھے کہ ان کے بقول اس دن"خدا کا بیٹا یسوع مسیح پیدا ھوا تھا"

کَبُرَتْ کَلِمَۃً تَخْرُجُ مِنْ أَفْوَاہِہِمْ إِن یَقُولُونَ إِلَّا کَذِبا.."بہت بڑی بات ھے جو ان کے منہ سے نکلتی ھے.. نہیں بولتے یہ مگر بہتان.."(الکہف:۵

2۔ مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ وہ ایک ایسی قوم کو جو (معاذ اللہ)"خدا کے ھاں بیٹے کی پیدائش"پر جشن منا رھی ھو'مبارکباد پیش کرنے جائے اور اِس ’"خوشی"میں اُس کے ساتھ کسی بھی انداز اور کسی بھی حیثیت میں شریک ھو.. یہ عمل بالاتفاق حرام ھے بلکہ توحید کی بنیادوں کو مسمار کر دینے کا موجب ھے.. ھر مسلمان خبردار ھو اِس باطل"کرسمس"کی خوشیوں میں کسی بھی طرح کی شمولیت آدمی کے اپنے ایمان کے لیے خطرہ ھے..

3۔ اِس گناہ کے مرتکب پر واجب ھے کہ وہ اِس سے تائب ھو.. اگر وہ اھل اسلام کے کسی حلقہ میں راھبر جانا جاتا ھے تو اس کے حق میں لازم ھے کہ وہ اپنی توبہ کا کچھ چرچا بھی کرے تاکہ روزِ قیامت اُس کو دوسروں کا بارِگناہ نہ سمیٹنا پڑے..

4۔"کرسمس"ایسے معلوم شعائرِ کفر سے دور رھنا تو فرض ھے ھی'ایمان کا تقاضا یہ ھے کہ ایک مسلمان اس ملتِ کفر سے کامل بیزاری کرے..

5۔"کرسمس"ایسے معروف نصرانی تہوار کو محض ایک"سماجی تہوار"کہہ کر اس کے لیے جواز پیدا کرنا گمراہ کن ھے..

6۔ ھمارے اسلامی تصورات اور اصطلاحات کو مسخ کرنے کی جو سرتوڑ کوششیں اس وقت ھو رھی ھیں اھل اسلام پر ان سے خبردار رھنا واجب ھے.. ذمیوں کے ساتھ حسن سلوک سب سے بڑھ کر صحابہ رضى اللہ عنہم کے عہد میں ھوا ھے مگر ان کے دین اور دینی شعائر سے بیزاری بھی سب سے بڑھ کر صحابہ رضى اللہ عنہم کے ھاں پائی گئی ھے.. یقیناً یہ حسن سلوک آج بھی ھم پر واجب ھے..

"کہو.. وہ اللہ یکتا ھے.. الله سب سے بے نیاز ھے.. نہ وہ کسی کا باپ ھے اور نہ وہ کسی کا بیٹا ھے اور نہ ھی کوئی اس کا ھمسر ھے..''(سورہ الاخلاص)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from محمد بلال مصباحی
کرسمس ڈےکا کیا مطلب ہے؟
.
(جواب)
عیسائیوں کا بڑا دن حضرت عیسی علیہ السلام کی پیدائش کا دن 25دسمبر عید نصاری (فیروزاللغات ص1003)
.
لیکن؟ مسلمانوں کو کرسمس ڈے کی رسومات میں شرکت کرنا مبارکباد دینا،وغیرہ کسی طرح بھی جائز نہیں ھے
اور بعض صورتوں میں کفر ہے،

(( دارالافتاء اہلسنت ))



سوال:: کرسمس کے موقع پر مبارکباد دینا کیسا ہے ؟ کیا یہ کفر ہے؟ جبکہ تعظیم کی نیت نہ ہو بس ایسے ہی یاری دوستی میں ایسا کہا ہو ؟*

*الجواب::* محض رسمی تعلقات کی بنا پر مبارکباد دینا گناہ ہےـ کفر نہیں جبکہ اس دن کو انکے دین کے باعث اچھا یا لائقِ تعظیم نہ جانتا ہو-
اور اگر کافروں کے کسی دن کو باعظمت جان کر اسکی مبارکباد دیتا ہو تو ایسے شخص پر حکُمِ کفر ہے چنانچہ بحر الرائق میں ہے:

” الموفقة مھم فیما یفعلون في ذٰلك الیوم و بشرائه یوم النیروز شیاء لم یکن یشتر به قبل ذلك تعظیماً للنیروز لا لِاَکل و الشرب وباھدائه ذالك الیوم للمشرکین و لو بیضة تعظیماً لذالك الیوم “

یعنی کفار کی موافقت کرنا اس کام میں جو خاص اس روز وہ لوگ کرتے ہوں اسی طرح یومِ نیروز (کفار کے مذہبی دن) میں کچھ خریدنا اس دن کے باعث، جبکہ اس سے قبل وہ چیزیں نہیں خریدتا، ہاں مگر عام کھانے پینے کی چیز ہو تو کچھ حرج نہیں پھر مشرکین کو ھدیہ کرنا خاص روز کی تعظیم کی خاطر اگرچہ ایک انڈہ ہی ہو “

[ شرح فقه الاکبر، صفحہ 106، دار الکتب العلمیہ بیروت ]

اور افسوس کہ آج کل یہ مناظر عام ہوتے چلے جا رہے ہیں ایسے تمام لوگوں کو ڈرانا چاہیئے کہ اس دن کو قابلِ تعظیم سمجھتے ہوئے مذکورہ کام کرنا کفر ہے
اللہ تعالٰی مسلمانوں کو اپنی رضا والے کام کرنے کی توفیق مرحمت فرمائے..آمین

واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل و صلی اللہ تعالٰی علیہ و آلہ وسلم
.
(کتبہ، ابوصالح مفتی محمدقاسم عطاری سلّمہ الباری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Urdu Tahrir
سوال::
کرسمس کا کیک یا کفار مذہبی کے تہوار کا کھانا کھانا کیسا ؟

الجواب::
مناسب ہے کہ بچا جائے نہ لیا جائےــ کیونکہ اگر آپ ان سے کچھ کیک وغیرہ لیں گے تو عین ممکن ہے کہ مبارک بھی دیں اور اگر اس مذہبی تہوار کو اچھا جانتے ہوئے مبارک باد دے دی تو حُکُمِ کفر ہے-
لیکن
اگر بغیر مبارک دیئے کھانا یعنی کیک وغیرہ رکھ بھی لیا تو حرام نہیں ہے- اور یہ بھی یاد رہے کہ گوشت کے علاوہ خشک کھانا میوہ، جات یا کیک پوریاں وغیرہ ہوں گوشت نہ ہو کہ کفار سے گوشت لینا جائز نہیں-
اور یہ بھی یاد رہے کہ یہ کھانا تحفۃً نہ ہو کیونکہ کفار کے تہوار پر تحفے کا لین دین حرام ہے
سیدی اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ:

”نیروز، مہرگان (آتش پرستوں کے تہوار) کے نام پر تحائف کا دینا حرام ہے اور کافروں کے تہواروں کی تعظیم مقصود ہو تو کفر ہے “ـ

[ فتاویٰ رضویہ, جلد 14 صفحہ 673 ملخصّاً مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاھور ]

مزید یہ کہ

مؤیّدِ ملتِ طاھرہ، صاحب الدلائل القاھرۃ ولباھرہ، میرے امام سیدی اعلیٰ حضرت مولانا احمد رضا خان علیہ الرحمہ سے کفار کے مذہبی تہوار کے کھانے سے متعلق سوال ہوا کہ:

” کافر جو ہولی دیوالی میں مٹھائی وغیرہ بانٹتے ہیں، مسلمانوں کو لینا جائز ہے یا نہیں ؟
جواب:: اس روز نہ لے- ہاں اگر دوسرے روز دے تو لے لے, نہ یہ سمجھ کر کہ ان خُبَثَاء کے تیوہار کی مٹھائی ہے بلکہ 'مالِ موذی نصیبِ غازی سمجھے۔ “

[ ملفوظاتِ اعلٰی حضرت، حصّہ اول، صفحہ 163 مطبوعہ مکتبة المدینه کراچی شریف ]

دیوبندی اعتراض:: یہی بات تو ہمارے رشید احمد گنگوھی نے فتاویٰ رشیدیہ میں لکھی ہے تو پھر ان پر کیوں اعتراض کرتے ہو ؟

رضوی جواب:: تمہارے رشید احمد گنگوھی نے لکھا ہے کہ ہندوؤں کی ہولی دیوالی کی پوریاں تحفۃً رکھ لینا درست ہے
مزید لکھا:
ہندوؤں جو اپنی سُود کی رقم سے پانی پیاؤ لگاتے ہیں مسلمانوں کو اس سودی رقم کے پانی پینے میں مضائقہ نہیں۔ (ملخصاً)

[ فتاویٰ رشیدیہ,، کتاب الخطر و الاباحة، صفحہ 575 مطبوعہ دار الاشاعت لاھور ]
اصل اسکین کمنٹ میں ملاحظہ ہو (اویس رض)

اب یہی رشید احمد گنگوھی اسی فتاویٰ رشیدیہ میں لکھتا ہے کہ:

امامِ حسین رضی اللہ عنہ کے ایصال ثواب کی سبیل سے شربت اور دودھ پینا #حرام ہے۔ (ملخصاً)

[فتاویٰ رشیدیہ، صفحہ 149، کتاب العلم، مطبوعہ دار الاشاعت لاھور ]
اصل اسکین کمنٹ میں ملاحظہ ہو (اویس رض)

ہم کہتے کہ دیوبندیوں ایسی کون سی بات ہے کہ ہندوؤں کی ہولی دیوالی کی پوریاں دیکھ کر تمہارے منہ میں پانی آ جاتا ہے پیٹ میں لڈو پھوٹ پڑتے ہیں۔
لیکن
جب سید الشُھَدَاء حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی نیاز اور آپ کے ایصالِ ثواب کیلئے پانی کی بات آتی ہے تو ساتھ ہی بدعت و حرام کے مروڑ اٹھنے لگ جاتے ہیں...
آخر امامِ حسین رضی اللہ عنہ سے کیا دشمنی ہے کہ انکے ایصالِ ثواب کا پانی ناجائز اور اس کے مقابلے میں ہندوؤں کے سودی رقم کا پانی اور ہولی دیوالی کی پوریاں جائز ؟؟؟؟
اگر امام حسین رضی الله عنه کے ایصال ثواب کی سبیل کا دودھ اور شربت تشبیہِ روافض کی وجہ سے حرام ہے تو یہ ہندوؤں سے ہولی دیوالی کی پوریاں لینے میں تشبیہِ کفار نہیں پائی جا رہی ؟؟

اگر سیدی اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ نے کھانا جائز لکھا ہے تو انہوں نے امامِ حُسین رضی اللہ عنہ کی نیاز اور سبیل کو بھی جائز بلکہ مستحب کہا ہے- لہذا اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ پر اعتراض بنتا ہی نہیں۔ کیونکہ انہوں نے رشید احمد گنگوھی کیطرح دوغلی پالیسی اختیار نہیں کی۔

اللہ عقلِ سلیم عطا فرمائے.....آمین

مدینے پاک کا بھکاری: محمداویس رضا عطاری

https://t.me/SirfUrduTahrir/1580
👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Urdu Tahrir
سوال:
کرسمس ڈےکا کیا مطلب ہے؟
.
(جواب)
عیسائیوں کا بڑا دن حضرت عیسی علیہ السلام کی پیدائش کا دن 25دسمبر عید نصاری (فیروزاللغات ص1003)
.
لیکن؟ مسلمانوں کو کرسمس ڈے کی رسومات میں شرکت کرنا مبارکباد دینا،وغیرہ کسی طرح بھی جائز نہیں ھے
اور بعض صورتوں میں کفر ہے،

(( دارالافتاء اہلسنت ))

https://t.me/SirfUrduTahrir/1586
Forwarded from Urdu Tahrir
کرسمس نہ منائیں نہ مبارک دیں
.
کرسچن کا عقیدہ ہے کہ 25 دسمبر کو الله کے ہاں (معاذاللہ) بیٹا پیدا ہوا عیسیٰ علیہ السلام
یہ ہے کرسمس کی حقیقت
.
کرسمس، ہولی، دیوالی وغیرہ کو اچھاسمجھنا اسکی تعظیم میں مبارکباد دینا کفر ہے
(فتاوی رضویہ،14/273)
#Awareness #SHARE

https://t.me/SirfUrduTahrir/1574
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
کرسمس ڈے منانا کیسا ہے؟