🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
آج یہ کتاب میری رفیقِ سفر ہے ، اللہ نے چاہا تو کل پرسوں تک اس کا مطالعہ مکمل کرلوں گا ۔
لکھنے والے نے اسے بڑی محنت سے لکھا ہے ، اور دو سو اکتالیس کتابوں کے حوالوں سے مزین کیا ہے ۔

اس میں کعبہ شریف کی تعریف ، کعبہ شریف کے نام ، کعبہ شریف کی بنیاد ، کعبہ شریف کے فضائل ، کعبہ شریف کے خصائص ، اور کعبہ شریف کے احکام بڑی خوب صورتی سے بیان کیے گئے ہیں ۔

اللہ‌پاک‌ ہمیں خانہ کعبہ شریف کی بار بار زیارت نصیب فرمائے ، یہی وہ مبارک گھر ہے جس سے دور ہوتے وقت اللہ کے پیارے رسول کی آنکھیں بھی نم ہوگئیں تھیں ۔
ہم‌ اہل دنیا کے لیے کتنابڑا اعزاز ہے کہ ہمارے پاس " کعبہ شریف " ہے ۔
خدا کرے جب تک دم میں دم رہے اس پاک گھر کی طرف سفر کرتے نہ تھکیں ۔

✍️لقمان شاہد
13-12-2021 ء

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3333491856930980&id=100008105947430
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
آج ایک مسجد میں نمازِ فجر پڑھی ، پیش امام نے نماز کے بعد جو درسِ قرآن دیا ۔۔۔۔۔۔۔۔ سبحان اللہ !
بڑی دیر بعد ایسا مختصر اور جامع درس سنا ۔
ایک تو جن آیات کا درس دے رہے تھے ان میں مہاجر و انصار صحابہ علیھم الرضوان کا ذکر خیر تھا ، اور دوسرا ایسے نَپے تُلے
الفاظ تھے کہ کوئی لفظ نہ کم تھا ، نہ زیادہ ، نہ‌اضافی نہ‌ متروک ۔
چند منٹوں میں سورت حشر کی آٹھویں ، نویں اور دسویں آیت کا ترجمہ‌ ، تفسیر اور خلاصہ بیان کیا ؛ پوری روانی سے ۔۔۔۔ بغیر اٹکن کے بیان کیا ، اور زبانی بیان کیا ؛ نہ قرات میں غلطی ، نہ لہجے میں فرق ، نہ مفہوم میں کوئی رد و بدل ۔ سبحان اللہ !

کوئی عالم جب لکھتا یا بولتاہے تو اس کے الفاظ موتیوں کی طرح ہوتے ہیں ۔
اب یہ اُس پر ہے کہ‌ اِن موتیوں کو لڑی میں پرو کر قارئین و سامعین کے گلے میں ڈالتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ سلیقے سے اُن پر نچھاور کرتا ہے ، یا بے ترتیبی سے ضائع کردیتا ہے !

✍️لقمان شاہد
14-12-2021 ء

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3334057013541131&id=100008105947430
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
دو سالہ حمل 🤔

سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس ایک آدمی آکرکہنے لگا:

امیر المومنین ! میں اپنی بیوی سے دو سال دور رہا ، اور جب گھر آیا تو دیکھا کہ بیوی حاملہ تھی ۔ ( اس معاملے کا فیصلہ کریں ۔ )

سیدنا عمر پاک نے ( غور و فکر کرکے اور شوری سے ) مشورہ لے کر یہ فیصلہ کیا کہ:
عورت ( گناہ گار ہے لہذا اس ) کو رجم کردیا جائے ۔

سیدنا معاذ بن جبل وہاں بیٹھے تھے ، آپ نے اس فیصلے سے اختلاف کیا اور کہا:

جب تک بچہ پیدا نہیں ہوجاتا ایسا کسی صورت نہیں کیا جاسکتا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چنانچہ عورت کو وضع حمل تک کی مدت کے لیے چھوڑدیا گیا ۔

پھر جب اس عورت کے ہاں بچے کی ولادت ہوئی تو وہ ہو بہو اپنے باپ جیساتھا ، اور ( اللہ کی شان کہ ) اس کے سامنے والے دانت بھی نکلے ہوئے تھے ۔
( جن سے اس کا بڑی عمر کا ہونا معلوم ہورہاتھا )

جب اس کے باپ نے اُسے دیکھا ، تو کہنے لگا:

ربِ کعبہ کی قسم ، یہ تو میرا ہی بیٹا ہے !

یہ معاملہ دیکھ کر سیدنا عمر کہنے لگے:

عورتیں معاذ بن جبل جیسے ( ذہین و فطین لوگوں ) کو جنم دینے سے عاجز آگئیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اگر معاذ نہ ہوتے تو عمر ہلاک ہوجاتا ۔

( انظر: تاریخ مدینۃ دمشق ، ج 58 ، ص422 ، ط دارالفکر بیروت ۔ اسنادہ حسن )

•••••••••••••••••••••🌸🌸

اس واقعہ میں ہمارے لیے بہت سارے سبق ہیں ، جن میں سے ایک یہ بھی ہےکہ:

بیوی کے ساتھ شوہر کا رشتہ محبت اور اعتماد کا ہوتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ دو چیزیں جتنی زیادہ مضبوط ہوں گی رشتہ اتنا ہی محفوظ رہے گا ۔
اگر کبھی بیوی کے متعلق کوئی ناگفتہ بہ صورت پیش آجائے تو فوراً بدگمان ہوکر جذباتی فیصلہ کرنے سے پہلے ، کسی امانت دار اور معاملہ فہم عالم کی طرف ضرور رجوع کرلینا چاہیے ۔۔۔۔۔۔۔ تاکہ اللہ کریم نجات کا راستہ نکال دے اور بندہ ہلاکت سے بچ جائے ۔

✍️لقمان شاہد
16-12-2021 ء

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3335652656714900&id=100008105947430
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
💥 باعث ہلاکت عشق

اگر کوئی صاحبِ استطاعت ہے ، اور انصاف بھی کرسکتا ہے تو بے شک دوسرا نکاح کرے ، شرعاً اور اخلاقاً اس میں کوئی ہرج نہیں ۔

لیکن نکاح میں کوئی اور ہو ، اور دل کہیں اور لگائے رکھنا ( جیسے آج کل عام چل رہاہے ) یہ سراسر غلط ، اورباعثِ ہلاکت ہے ۔
اگر کسی کی طرف دل مائل ہوجائےتو معزز طریقے سے اس کے گھر نکاح کاپیغام بھیجنا چاہیے ، وہ قبول کرلیں تو مسنون طریقے سے علانیہ نکاح کرلینا چاہیے ، ورنہ اس کاخیال دل سے نکال دیناچاہیے ۔

چُھپ چُھپ کے میسجز اور کالیں کرنا ، ملاقاتوں کا سلسلہ رکھنا ۔۔۔۔ بندے کو بہت ساری ذلتوں اور کبیرہ گناہوں میں مبتلا کر دیتاہے ، اور اس کی دنیا و آخرت خراب ہوجاتی ہے ۔
ایسی محبت کے بارے میں کسی عربی شاعر نے بحرِ طویل‌ میں ایک مختصر سی نصیحت کی تھی کہ ؎

وعش خالیاً ۔۔۔۔ فالحب اولہ غنی
و اوسطہ سقم ، وآخرہ قتل !

( زندگی محبت کے بغیر گزارو ۔۔۔۔ کیوں کہ محبت کی ابتدا اَمیری ، درمیان بیماری اور انجام موت ہے ۔ )

ایسی محبت بیوی کی حق تلفی کا سبب بھی بنتی ہے ، اور بعض دفعہ اِس کا بڑا بُرا انجام ہوتا ہے ۔

کسی نے کہاتھا:

فإن المرأة إذا رأت بعلها عاشقاً لغيرها ، اتخذت معشوقاً هي لنفسها .
فيصير الرجل متردداً بين خراب بيته بالطلاق وبين القيادة ۔۔۔۔۔ فمن الناس من يؤثر هذا ، ومنهم من يؤثر هذا .

( جب ایک عورت دیکھتی ہے کہ اس کا شوہر میرے علاوہ کسی اور پر عاشق ہو گیا ہے ، تو وہ بھی اپنے لیے کوئی معشوق ڈھونڈ لیتی ہے ۔
اب شوہر کے لیے پریشانی بن جاتی ہے ، وہ بیوی کو طلاق دے کر گھر برباد کرلے یا اُسے اس کی حالت پر چھوڑ دے ، اور خود دیوث بنا رہے ۔۔۔۔۔
تو بعض لوگ اس صورت میں طلاق دے دیتے ہیں ، اور بعض یوں ہی دیوث بنے رہتے ہیں ۔ )

اس لیے اگر کوئی مرد ایسی حماقت میں مبتلا ہے تو فوراً اس سے نکلنے کی کوشش کرے ( کوشش کرنے سے انشاءللہ نکل جائے ) ۔
اس سلسلے میں کسی عقل مند اور اِن معاملات کو سمجھنے والے کی طرف رجوع کرنا بڑا مفید ثابت ہوتا ہے ، کیوں کہ ایسے عشق نے عاشق کی عقل کو نیم مردہ کردیا ہوتا ہے اور وہ ازخود سوچنےسمجھنے کی صلاحیت سے محروم ہوچکا ہوتا ہے ؛ اس لیے جب وہ کسی کی طرف رجوع کرے گا تو اللہ کی رحمت سے اس کی مدد ہوگی ، اور مردہ عقل میں جان پڑ جائے گی ۔

رب تعالیٰ ہمارے گھروں کو امن اور سکون کا گہوارہ بنائے ، اپنی بیویوں کے ساتھ ہمیشہ خلوص و محبت کا برتاؤ کرنے کی توفیق بخشے اوران کی حق تلفی سے محفوظ رکھے !

✍️لقمان شاہد
17-12-2021 ء

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3336295293317303&id=100008105947430
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے سِیَر میں لکھا ہے کہ:

امام حافط محمد بن قاسم‌ ( ابن الانباری ) رحمہ‌اللہ ، متوفی 328 ھ بہت بڑے سُنی عالم ، محدث ، مفسر اور زاہد و متواضع تھے ۔
آپ نے تین لاکھ اشعار زبانی یاد کر رکھے تھے ، جن سے ( الفاظِ ) قران پر استدلال کیا کرتے تھے ۔

•••••••••••••••••••🌸

اللہ کرے آج کے علما بھی کچھ اشعار زبانی یادکرلیں ، اور دورانِ تقریر و تحریر اُن کا برمحل استعمال کیا کریں ؛ تاکہ قوتِ نُطق میں اضافہ ہو ، استدلال میں نکھار آئے ، اور حُسنِ بیان کو چار چاند لگ جائیں ۔

اردو اشعار یاد کرنے کے لیے ، اگر آپ مناسب سمجھیں تو کتاب: " معین الادب " سے استفادہ کرسکتے ہیں ؛ یہ اس سلسلے میں بہترین معاون ثابت ہوگی ۔
یہ ایسی کتاب ہے جس میں ہر لفظ کا استعمال ، شعری دلیل سے ثابت کیا گیا ہے ؛ اس لفظ کی تذکیر و تانیث بیان کی گئی ہے ، اور ابجد کے اعتبار سےاس کے عدد بھی بیان کردیے گئے ہیں ۔

اس میں پچاسی شعرا کے ، تقریباًسات ہزار اشعار ہیں ۔

کل سے میرا دل کررہا ہے اس کتاب کو‌حفظ کرلوں ۔۔۔۔۔۔۔ چلو لاکھوں نہ سہی ، کم ازکم ہزاروں شعر تو زبانی یاد ہو ہی جائیں گے ۔ اب اللہ ہی میرا مددگار ہے ، اُسی سے قوتِ حافظہ کاسوال ہے اور اسی کی رحمت میرا مآل ہے ۔

✍️لقمان شاہد
20-12-2021 ء

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3338835543063278&id=100008105947430
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
*📚 « مختصــر ســوانح حیــات » 📚*
-----------------------------------------------------------
*🕯حضرت مولانا شاہ حامد رضا بریلوی رحمۃ اللّٰه علیہ🕯*


*نام:* محمد۔ معروف بہ حامد رضا۔
*لقب:* حجۃ الاسلام

اعلیٰ حضرت امام اہلسنت علیہ الرحمہ کے بڑے شہزادے۔

*تاریخِ ولادت:* ماہ ربیع الاول 1292ھ بمطابق 1875ء میں اپنے دادا مولانا نقی علی خان کے گھر بریلی میں پیدا ہوئے۔

*تحصیلِ علم:* آباؤ اجداد کی شاندار روایات کے مطابق درسیات تمام و کمال والد ماجد سے پڑھی 19 سال کی عمر میں تمام مروجہ درسیات کی کتب سے فارغ التحصیل ہوۓ۔ علم و عمل میں باکمال والدِ ماجد کے جانشین، عربی نظم و نثر میں منفرد اسلوب رکھتے تھے۔ زمانۂ تعلیم میں ہی آپ نے درسیات کی امہات الکتب ،خیالی، توضیح تلویح، ہدایہ اخیرین، صحیح بخاری پر حواشی لکھ کر اپنے والد کی خدمت میں پیش کیا تو اعلیٰ حضرت نے "قال الولد الاعز" لکھ کر اپنے صاحبزادے کو دادِ تحسین فرمائی۔ جب گلستانِ رضا کا یہ پھول ہر سو خوشبو پھیلانے لگا تو مجدد دین و ملت نے اپنے اکابر خلفاء کی موجودگی میں!
"حامدمنی و انا من حامد" فرما کر آپ کی عظمت و فضیلت پر مہر ثبت کردی ۔

*بیعت و خلافت:* آپ حضرت مخدوم شاہ ابو الحسن احمد نوری مارہروی قدس سرہٗ کے مرید و خلیفہ تھے۔ والد ماجد سے بھی تمام سلاسل میں اجازت و خلافت حاصل تھی۔

*سیرت:* حسن معنوی کیساتھ ساتھ حُسن ظاہری میں بھی وحیدِ زمانہ تھے۔ صاف ستھری طبیعت کے مالک، تلامذہ، مریدین اور ناداروں کی دستگیری آپ کا شیوہ تھا۔ آپ اُن تمام خوبیوں کے جامع تھے جو ایک مجدد کے جانشین میں ہونی چاہئے تھیں۔ ساری زندگی اپنے والد گرامی کے مشن کو پھیلاتے رہے، ہر قسم کی گمراہ کن تحریکوں کے اثراتِ بد سے ملت اسلامیہ کی حفاظت فرماتے رہے۔

*وصال:* 17/ جمادی الاول 1362ھ، کو وصال فرمایا۔ مزار شریف بریلی میں مرجعِ خلائق ہے۔
https://t.me/Faizan_E_DarulUloom_Amjadia_Ngp6179

*المرتب محـمد یـوسـف رضـا رضـوی امجـدی نائب مدیر "فیضـانِ دارالعـلوم امجـدیہ ناگپور گروپ" 9604397443*
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
#دین_کی_اعلیٰ_تعلیم_کیوں_نہیں

آج کل عوام و خواص کی زبان پر تعلیم کے حوالے سے ایک لفظ ہمیشہ جاری و ساری رہتا ہے. جسے دیکھو اپنے بچے کی اعلیٰ دنیوی تعلیم کے قصیدے پڑھ رہا ہے. Higher Education کی صداؤں سے اسکولوں کے ایڈمیشن ہال اور اشتہارات ہی نہیں، گلی کوچوں کے نکڑ اور گھروں کے بند کمرے بھی گونج رہے ہیں. سرمایہ دار دولت کے دم پر اپنے بچے کو ہائی ایجوکیٹڈ دیکھنا چاہتا ہے تو متوسط و غریب طبقہ بھی اپنی جمع پونجی داؤ پر لگا کر اپنی اولاد کو ہائی ایجوکیٹڈ لوگوں کی صف میں کھڑا کرنے پر بضد ہے. پیشہ ور خاندان سے تعلق رکھنے والا نوجوان پرائمری کے بعد پیشے سے جڑنے کی جگہ اعلیٰ تعلیم کے خواب دیکھنے لگتا ہے، جو کہ فی نفسہ برا بھی نہیں ہے. فی زمانہ دنیوی تعلیم کے سلسلے میں ہر آنکھ اعلیٰ تعلیم کا خواب دیکھ رہی ہے اور ہر مائنڈ ہائی ایجوکیشن کے نشے میں ڈوبا ہوا ہے. حد تو یہ ہو گئی کہ پرائمری تعلیم حاصل کر کے تجارت کدوں کو آباد کرنے والے اور ہائر سیکنڈری تعلیم کے ذریعے ملکوں کا لٹریسی ریٹ بڑھانے والے افراد کو کوئی پوچھنے والا ہے نہ ہی کوئی سراہنے والا. مُلا ہو، برہمن ہو یا مسٹر، سب باری باری ایک ہی نعرہ لگا رہے ہیں "نسلوں کا روشن مستقبل یعنی" ہر بار جواب آتا ہے "ہائر ایجوکیشن."

لوگ دنیا کی اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہے ہیں اس سے کوئی بھی باشعور شخص نالاں نہیں ہے، المیہ تو یہ ہے کہ لوگ دین کی اعلیٰ تعلیم حاصل نہیں کر رہے. جتنا دنیوی میدان میں ہائر ایجوکیشن کی طرف بڑھنا مسرور کن ہے اتنا ہی دین کی راہ میں ادنیٰ و اوسط معیار پر اکتفا کر لینا افسوس ناک ہے. ایسا ماحول جہاں کوئی بھی پرائمری لیول پر رضامند نہیں ہوتا اور کسی کو بھی آرڈنری نالج سے متاثر نہیں کیا جا سکتا، آپ کو جان کر حیرت ہوگی کہ اعلیٰ اعلیٰ کی ایسی جنون آمیز فضا میں بھی ایک شعبہ ہے جہاں لوگ بلکہ مذہبی لوگ بلکہ دھارمک گرو کا درجہ رکھنے والے لوگ اپنی اولاد کی ادنیٰ تعلیم جس کو سیکنڈری تو کجا پرائمری بھی نہیں کہا جا سکتا، پر نہ صرف یہ کہ مہر بسکوت ہیں بلکہ راضی برضا بلکہ فخر زدہ ہیں. دینی تعلیم سے متعلق ایسی غفلت ہی کا نتیجہ ہے کہ عوام کی نظر میں اندر دیکھ کر ٹوٹا پھوٹا قرآن پڑھ لینا ایورج تعلیم ہے اور چند دعاؤں اور سورتوں کا زبانی یاد ہو جانا اعلیٰ تعلیم. خواص کا نقطہ نظر بھی کچھ اس سے مختلف نہیں، ان کے حساب سے اندر دیکھ کر اردو پڑھ لینا دینی تعلیم کی ادنیٰ سطح ہے اور تقریر کرنے لگنا اعلیٰ معیار ہے. عوام کی نظروں میں دینی علوم حاصل کرنے والے افراد کا تصور "دھارمک گرو" کی حیثیت سے زیادہ اور تعلیم یافتہ شخص کے طور پر کم ہے. اگر اِس فکری پسماندگی کی وجوہات پر غور کیا جائے تو سب سے بڑی وجہ یہ سامنے آتی ہے کہ یہ استعماریت کے وضع کردہ تعلیمی ماڈل کے اثرات ہیں، جس کا اسیر بنانے کے لیے روزانہ ہزاروں ڈالر ایڈورٹائز پر خرچ کیے جاتے ہیں.

ایک اور بات جس نے دنیوی تعلیم کے میدان میں توازن پیدا کر رکھا ہے وہ ہے "عہدہ بَقدر تعلیم" کا اصول. پرائمری پاس بندہ چپراسی سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا، میٹرک پاس کو ٹی ٹی جیسی جاب مل جائے تو غنیمت، بی اے ایم اے کرنے پر ہی بندہ بڑے ادارے میں ٹیچر بننے کا اہل سمجھا جاتا ہے، آئی ایس آئی پی ایس کے بعد ہی بڑے سرکاری عہدوں کی راہ کھلتی ہے. رشوت اور جانبداری کا بازار گرم ہونے اور داخلہ بازی و سند فروشی جیسے جرائم کی بھرمار کے باوجود اِسی درجہ بندی کا نتیجہ ہے کہ دنیوی تعلیم میں اعلیٰ و ادنیٰ کی تمیز بھی باقی ہے اور اعلیٰ سے اعلیٰ تک پہنچنے کی لگن بھی. اس کے بالمقابل دینی علوم کا گراف دیکھیں تو اب تو عام لوگ دینی علوم میں درجہ بندی کو بھی فراموش کر چکے ہیں. اب عام مسلم سماج میں حافظ بھی "مولِی ساب" ہے، مولوی بھی، عالم بھی، فاضل بھی بلکہ مفتی و محقق بھی "مولی ساب" سے بڑھ کر کچھ نہیں. اور سچ یہ ہے کہ جب محمود و ایاز ایک ہی صف میں کھڑے ہو چکے تو محمود بننے کی جد و جہد کون کرے گا؟ جب "مولی ساب" نام کا ایک ہی پلیٹ فارم سب کو سمیٹ کر رکھ دیتا ہو تو دین میں ہائر ایجوکیشن حاصل کرنے کے لیے تضییع اوقات کا کیا فائدہ؟ سوال یہ ہے کہ دنیوی تعلیم کے لیے دس، بارہ، پندرہ یا اس سے زیادہ سال نچھاور کرنے کے لیے تیار رہنے والے لوگ دینی تعلیم کے نام پر اپنی زندگی کے ایام میں سے صرف چار پانچ سال کی بھیک کیوں نکالتے ہیں؟ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دینی علوم کی اعلیٰ سطح تک پہنچ کر ان میں مہارت پیدا کرنا ہماری priority نہیں بلکہ جدید مغربی تعلیمی ماڈل کی طرز پر؛ محض اتنا پڑھ لینا جس سے پیسے کمانے میں مدد مل سکے یہی ہمارا مطمح نظر ہے.(إلا ما شاء اللہ) نتیجہ یہ ہے کہ دین کی ترجمانی کرنے والے محققین؛ کم اور دین کو حصول زر کا ذریعہ سمجھنے والے لوگ؛ زیادہ پیدا ہو رہے ہیں.

✍️ پٹیل عبد الرحمن مصباحی، گجرات (انڈیا)
15.05.1443
20.12.2021

https://www.facebook.com/388280455075812/posts/1048139732423211/
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
#کافرانہ_مسلک!!

غلام مصطفےٰ نعیمی
روشن مستقبل دہلی

ناگپور سے ہمارے عزیز مولانا مصطفیٰ رضا صاحب نے بہ غرض استفسار ایک قوالی کا ویڈیو لنک بھیجا۔اوپن کیا تو قوال صاحب کی خاصی بے سُری آواز کانوں سے ٹکرائی۔آواز کو کسی طور برداشت کیا مگر قوال کے منہ سے نکلنے والا کلام کسی طور برداشت کرنے کے قابل نہیں تھا۔حسن مطلع کچھ اس طرح تھا؛
صابر کا ہوں میں بندہ، صابر میرا خدا ہے
میرا کافرانہ مسلک، مشرب میرا جدا ہے

مسلم معاشرے کا عام انسان بھی یہ بات اچھی طرح جانتا ہے کہ لفظ خدا، اللہ تعالیٰ ہی کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ کسی غیر کو خدا کہنا جائز نہیں مگر مذکورہ کلام لکھنے والے کی جسارت تو دیکھیے کہ کس بے باکی کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے محبوب بندے حضرت مخدوم صابر کلیری علیہ الرحمہ کو اپنا خدا قرار دیا، اور اتنے ہی پر بس نہیں کیا اپنے باطل نظریہ کو "کافرانہ مسلک" کہہ کر مکمل ڈھٹائی بھی دکھا رہا ہے۔

لفظ خدا کی تشریح______

_خدا فارسی زبان کا لفظ ہے۔اپنی اصل حالت اور معنی کے ساتھ اردو میں بھی استعمال ہوتا ہے۔لغوی اعتبار سے لفظ خدا کے مختلف معنی بیان کیے گیے ہیں:
١۔معبود۔٢۔دیوتا۔٣مالک۔٤۔آقا۔٥۔خود مختار۔٦۔باکمال۔٧۔ماہر وغیرہ لیکن صدیوں سے لفظ خدا کا استعمال اللہ تعالیٰ کے اسم صفاتی "رب" کے ترجمہ کے طور پر کیا جارہا ہے۔غیر اللہ کے لیے اس بولنا جائز نہیں جیسا کہ مشہور فارسی لغت غیاث اللغات میں ہے:
"خدا بالضم بمعنی مالک وصاحب۔چو لفظ خدا مطلق باشد بر غیر ذات باری تعالی اطلاق نکند۔"
(غیاث اللغات، ص:185)

یعنی لفظ خدا(پیش کے ساتھ) مالک اور صاحب کے معنی میں آتا ہے۔جب لفظ خدا مطلقاً استعمال کیا جائے تو اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کے لیے بولنا جائز نہیں۔
شرعاً کسی بندۂ خدا کو اپنا خدا ماننے کا کیا حکم ہے، یہ بتانے کی بھی حاجت نہیں رہی کہ قوال نے خود ہی اس کا حکم بتاتے ہوئے اپنے نظریہ کو "کافرانہ مسلک" قرار دیا ہے۔اب کوئی اضافی دانش ور یہاں اہل نظر اور مجاذيب کے ان اقوال کی بحث نہ چیھڑیں جو شذوذ کے قبیل سے ہیں حالانکہ ان کا بھی عوامی استعمال منع ہے۔

___ہر گزرتے دن قوالیوں میں ایسے گمراہانہ بلکہ کفریہ اشعار بڑھتے جارہے ہیں اس لیے اب دو پہلوؤں پر بات کرنا بے حد ضروری ہوگیا ہے:

1۔بزرگوں سے منسوب محفلوں میں ایسے کلام پڑھنا
2۔قائلین سماع کے اہل علم کی ان پر خاموشی

ایک ایسا مجمع جہاں مسلمانوں کے بچے، جوان، بوڑھے اور نسبتاً کم پڑھے لکھے افراد موجود ہوں، وہاں ایسا کلام پڑھنا کہاں تک درست قرار پائے گا؟
عام لوگوں کے لیے اس کلام میں حضرت صابر پاک کا نام ہی کلام پر اعتبار کرنے کے لیے کافی ہے، اگر ایسا کلام ان کی زبانوں پر جاری ہوجائے یا وہ یہ مان بیٹھیں کہ کسی محترم شخصیت کو خدا ماننے میں کوئی حرج نہیں ہے تو وہ اپنے پیر ومرشد، ماں باپ، اساتذہ اور ہر اس شخص کو اپنا خدا کہنے میں نہیں ہچکچائیں گے جو ذرا بھی رتبہ ورسوخ والا ہو۔جس طرح ہندو سماج میں ہر بڑے عہدے والے کو پربھو اور بھگوان کہنا عام ہے اسی طرح کل کو مسلمان بھی اونچے لوگوں کو خدا کہنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھیں گے۔

____قائلین سماع میں ایک ٹھیک ٹھاک تعداد علما اور دانش وران کی ہے جو واضح طور پر عقیدہ وتوحید ورسالت، الفاظ کی نزاکتوں اور باریکیوں کو اچھی طرح سمجھتے ہیں۔اس کے باوجود ان کا ایسے گمراہانہ کلام پر خاموش رہنا، تنبیہ نہ کرنا بہت زیادہ کھلتا ہے۔اگر یہ حضرات آگے آکر ایسے شتر بے مہار قوالوں کو تنبیہ کریں اور انہیں دائرہ شرع میں اشعار کہنے اور غیر اخلاقی حرکات وسکنات سے باز رکھنے کی تاکید کریں تو اس کا خاطر خواہ اثر ہوگا۔

قوالوں کی خر مستیاں _

🔸 پچھلے کچھ وقت سے دیکھا جارہا ہے کہ قوالی کے نام پر فکری اور عملی آوارگی لگاتار بڑھتی جارہی ہے۔بعض قوال صرف فلمی گانوں کی دُھن پر ہی قوالی بناتے ہیں۔جیسے ہی کوئی نیا فلمی گانا ریلیز ہوا ٹھیک اسی سُر تال کے ساتھ قوالی بھی مارکیٹ میں آجاتی ہے۔نقل میں کوئی کمی باقی نہ رہ جائے اس لیے سُر تال کے ساتھ ساتھ گانوں کے لٹکے جھٹکے بھی قوالی میں بھی شامل کیے جاتے ہیں، جس کے لیے قوال اور قوالہ باضابطہ اچھے خاصے dance moov بھی دکھاتے ہیں۔

🔹 قوالوں کا ایک گروہ ایسا سطحی اور بازارو کلام لکھتا ہے جو کسی طور پر ایک شریف اور مہذب معاشرے میں قبول نہیں کیا جاسکتا، ذرا یہ نمونہ دیکھیں؛
چلے ہیں سب ریڑی بھنڈاری اَپَن چلا ہے جم کے
ریل گاڑی کے ہر ڈبے میں دھوئیں اڑیں گے چِلم کے
ٹکٹ وِکٹ کی کَا ہے ٹینشن، ٹی ٹی اپنا جُٹ ہے
اب کی چھٹی میں اپنا تو نمبر بھی بالکل فٹ ہے
اے پَپّا!!!
خواجہ کا میلا آ ریلا، اَپُن اجمیر جا ریلا

ذرا غور کریں!
اس کلام کو سن کر ذہن میں خواجہ غریب نواز کے کسی عاشق کی تصویر ابھرتی ہے یا کسی چرسی اور چِلمیے کی؟

ذمہ داران سے گزارش _
قائلین سماع کے اہل علم اور ذمہ داران کو چاہیے کہ وہ آگے آئیں اور تصوف وقوالی کے نام پر چل رہے اس غیر شرعی اور غیر اخلاقی سسٹم کے خلاف آواز بلند کریں تاکہ صوفیا اور تصوف کا صحیح پیغام لوگوں تک پہنچ سکے۔اگر وقت رہتے اس سسٹم کو نہ روکا گیا تو آنے والے وقت میں محافل سماع میں دَم مارو دَم کی صدائیں اور چِِلم کے دھوئیں اڑانے سے شاید ہی کوئی روک پائے۔
اغیار ویسے ہی تصوف پر معترض ہیں، ایسی حرکات اور ایسے کلام انہیں مزید صوفیا اور تصوف پر اعتراض کا موقع فراہم کریں گے اس لیے ایسے قوالوں کی اصلاح اور بروقت تنبیہ کی جائے تاکہ دامن تصوف پر کوئی داغ نہ آسکے۔

١٨ جمادی الأول ١٤٤٣ھ
23 دسمبر 2022 بروز جمعرات

https://www.facebook.com/388280455075812/posts/1049953158908535/