🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
پاکستانی بھائیوں کے بھی صدقے واری ۔۔۔۔۔۔ پتا نہیں کہاں کہاں سے نکتےاخذ کرتے ہیں ۔ ابھی ایک بھائی کہتاہے: آج بڑی گیارھویں شریف ہے ، کیا مجھے چوری کرنے کی ضرورت تو پیش نہیں آئے گی ؟ میں نے کہا وہ کیوں ؟ کہتا ہے: حضور غوث پاک چوروں کو قطب بناتے رہے ہیں ۔…
جتنے پیسے ہم ہر ماہ گیارھویں شریف پہ خرچ کرتے ہیں اگر اس کا نصف بھی بغداد شریف کے فقرا و مساکین تک پہنچ جائے تو ان کی غربت ختم ہو سکتی ہے ۔
بغداد شریف کے گلی کوچوں میں بچے ، بوڑھے ، جوان ، مرد ، عورتیں " انا مسکین " کی صدائیں لگارہے ہوتے ہیں ۔
امریکی و شیعی ستم ظریفی ، مہنگائی اور غربت نے انھیں پیس کے رکھ دیا ہے ۔😥
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3331904953756337&id=100008105947430
بغداد شریف کے گلی کوچوں میں بچے ، بوڑھے ، جوان ، مرد ، عورتیں " انا مسکین " کی صدائیں لگارہے ہوتے ہیں ۔
امریکی و شیعی ستم ظریفی ، مہنگائی اور غربت نے انھیں پیس کے رکھ دیا ہے ۔😥
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3331904953756337&id=100008105947430
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
35 ﺳﮯ 40 ﺳﺎﻝ ﮐﮯ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﺍﻧﺴﺎﻧﯽ ﺟﺴﻢ ﮐﯽ ﮐﻤﺰﻭﺭﯼ ﮐﺎ ﺳﻔﺮ ﺷﺮﻭﻉ ﮨﻮﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ، ﻟﮩٰﺬﺍ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﮯ ﺍﺱ ﻣﻮﮌ ﭘﺮ ﺍﭘﻨﺎ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺧﯿﺎﻝ ﺭﮐﮭﻨﮯ ﺍﻭﺭ ﺩﺭﺝ ﺫﯾﻞ ﮨﺪﺍﯾﺎﺕ ﭘﮧ ﻋﻤﻞ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﮨﮯ:
👈 ﺭﺟﻮﻉ ﺍﻟﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﺎ ﺍﮨﺘﻤﺎﻡ ﺍﻭﺭ ﮔﻨﺎﮨﻮﮞ ﺳﮯ ﺑﭽﯿﮟ ، ﺣﻘﻮﻕ ﺍﻟﻠﮧ ﺍﻭﺭ ﺣﻘﻮﻕ ﺍﻟﻌﺒﺎﺩ ﮐﯽ ﺍﺩﺍﺋﯿﮕﯽ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﭘﻮﺭی ﺗﻮﺟﮧ ﺩﯾﮟ ۔
👈 ﻣﺴﺘﻘﻞ ﻭﺭﺯﺵ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﻋﺎﺩﺕ ﮈﺍﻟﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﺟﺴﻢ ﮐﻮ ﮐﺴﯽ ﻧﮧ ﮐﺴﯽ ﻃﺮﯾﻘﮯ ﺳﮯ ﺣﺮﮐﺖ ﻣﯿﮟ ﺭﮐﮭﯿﮟ ، ﭘﯿﺪﻝ ﭼﻠﯿﮟ ، ﺗﯿﺮﺍﮐﯽ ﮐﺮﯾﮟ ﯾﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﻣﺆﺛﺮ ﻭﺭﺯﺵ ۔
👈 ﺣﺪ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﭘﯿﻨﮯ کا ﺷﻮﻕ ﺍﺏ ﺧﺘﻢ ﮐﺮﺩﯾﮟ ، ﻣﻌﯿﺎﺭﯼ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﺑﻘﺪﺭِ ﺿﺮﻭﺭﺕ صرف ﺍﺗﻨﺎ ﮐﮭﺎﺋﯿﮟ ﮐﮧ ﭼﺎﻕ ﻭ ﭼﻮﺑﻨﺪ ﺭﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﮐﻤﺰﻭﺭی ﻣﺤﺴﻮﺱ ﻧﮧ ﮨﻮ ۔
👈 ﮔﺎﮌﯼ ﺍﻭﺭ ﺳﻮﺍﺭﯼ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﭘﮧ ﮐﻢ ﺳﮯ ﮐﻢ ﺳﻔﺮ ﮐﺮﯾﮟ ، ﮐﻮﺷﺶ ﮐﺮﯾﮟ ﮐﮧ ﻗﺮﯾﺐ ﮐﮯ ﮐﺎﻡ ﭘﯿﺪﻝ ﺳﺮ ﺍﻧﺠﺎﻡ ﺩﯾﮟ ، ﺟﯿﺴﮯ ﻣﺴﺠﺪ ﺟﺎﻧﺎ ، ﺑﺎﺯﺍﺭ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﺟﺎﻧﺎ ۔
👈 ﺑﮯﺟﺎ ﻏﺼﮧ ، ﺍﻭﺭ ﻓﻀﻮﻝ ﺑﺤﺚ ﻣﺒﺎحثے ﺳﮯ ﺍﺟﺘﻨﺎﺏ ﮐﺮﯾﮟ ، ﺍﺯﺧﻮﺩ ﺍﭘﻨﮯ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺗﻨﮕﯽ ﺍﻭﺭ ﭘﺮﯾﺸﺎﻧﯽ ﻣﯿﮟ ﻧﮧ ﮈﺍﻟﯿﮟ ؛ کیوں کہ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺩﻝ ﮐﺎ ﺳﮑﻮﻥ ﺍﻭﺭ ﺻﺤﺖ ﺑﺮﺑﺎﺩ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ۔
👈 ﻣﺎﻝ ﺟﻤﻊ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﮨﻮﺱ ﮐﮯ ﺑﺠﺎﺋﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺫﺍﺕ ، ﺍﮨﻞ ﻭ ﻋﯿﺎﻝ ﺍﻭﺭ ﻧﯿﮏ ﮐﺎﻣﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻣﺎﻝ ﺧﺮﭺ ﮐﺮﯾﮟ ، اور یہ سوچ بنائیں کہ ﻣﺎﻝ ﮐﻤﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﻣﻘﺼﺪ ﺍﭘﻨﮯ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺍﻭﺭ ﺍﺭﺩﮔﺮﺩ کے ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﺳﮑﮫ ﭘﮩﻨﭽﺎﻧﺎ ﮨﮯ ۔
👈 ﮔﮩﺮﮮ ﺻﺪﻣﮯ ﺳﮯ ﺑﭽﯿﮟ ، ﮐﺴﯽ ﺑﮭﯽ ﺍﯾﺴﯽ ﭼﯿﺰ ﭘﺮ ﺷﺪﯾﺪ ﺍﻓﺴﻮﺱ ﻧﮧ ﮐﺮﯾﮟ ﺟﻮ ﺁﭖ ﮐﮯ ﺑﺲ ﻣﯿﮟ ﻧﮧ ﮨﻮ ؛ بلکہ ایسی چیزوں کو ﺑﮭﻮﻝ ﮐﺮ اطمینان سے ﺁﮔﮯ ﺑﮍﮬ جائیں ۔
👈 ﻋﺎﺟﺰﯼ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﮐﺮﯾﮟ ۔۔۔۔۔ ﻣﺎﻝ ﻭ ﺩﻭﻟﺖ ، جاہ و ﻣﻨﺼﺐ اور طاقت و ﻗﻮﺕ ﺍﯾﺴﯽ ﭼﯿﺰﯾﮟ ہیں ﺟﻮ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﻮ ﻣﻐﺮﻭﺭ ﺑﻨﺎ ﮐﺮ ﺗﺒﺎﮨﯽ ﮐﮯ ﺩﮨﺎﻧﮯ ﭘﺮ ﻟﮯ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﯿﮟ ۔
👈 ﺑﺎﻟﻮﮞ ﮐﯽ ﺳﻔﯿﺪﯼ ﺳﮯ ﮨﺮﮔﺰ ﻧﮧ ﮈﺭﯾﮟ ، ﯾﮧ ﺁپ کی ﻋﻤﺮ ﺧﺘﻢ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﺎ ﺳﺒﺐ ﻧﮩﯿﮟ ، ﺑﻠﮑﮧ ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﮐﯽ ﻧﺸﺎﻧﯽ ہے ﮐﮧ ﺍﺏ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﮯ ﺑﮩﺘﺮﯾﻦ ﺩﻥ ﺷﺮﻭﻉ ﮨﻮﭼﮑﮯ ﮨﯿﮟ ؛ ﺍﺱ لیے ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﺳﮯ ﺍﭼﮭﺎ ﮔﻤﺎﻥ ﺭﮐﮭﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺭﻭﺯﻣﺮﮦ ﮐﮯ ﻣﺸﺎﻏﻞ ﺍﻭﺭ ﺣﻼﻝ ﮐﻤﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﺳﻔﺮ ﺟﺎﺭﯼ ﺭﮐﮭﯿﮟ ۔
👈 ﻧﯿﮑﯽ ﮐﮯﮐﺎﻡ ، بالخصوص ﺑﺎﺟﻤﺎﻋﺖ ﻧﻤﺎﺯ ، استغفار اور درود و سلام ﺑﺎﻟﮑﻞ ﻧﮧ ﭼﮭﻮﮌﯾﮟ ، ﺍﺱ لیے ﮐﮧ ﻧﯿﮑﯿﻮﮞ ﮐﺎ ﯾﮧ ﺳﺮﻣﺎﯾﮧ ﺍُﺱ ﺩﻥ آپ کے ﮐﺎﻡ ﺁﺋﮯ ﮔﺎ ﺟﺐ ﻧﮧ ﻣﺎﻝ ﻓﺎﺋﺪﮦ ﭘﮩﻨﭽﺎﺋﮯ ﮔﺎ ، ﻧﮧ ﺍﻭﻻﺩ -
( اس عمدہ تحریر کے محرر کانام معلوم نہیں ، اللہ کریم ہمیں اس پر عملکی توفیق بخشے ! )
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3332169130396586&id=100008105947430
👈 ﺭﺟﻮﻉ ﺍﻟﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﺎ ﺍﮨﺘﻤﺎﻡ ﺍﻭﺭ ﮔﻨﺎﮨﻮﮞ ﺳﮯ ﺑﭽﯿﮟ ، ﺣﻘﻮﻕ ﺍﻟﻠﮧ ﺍﻭﺭ ﺣﻘﻮﻕ ﺍﻟﻌﺒﺎﺩ ﮐﯽ ﺍﺩﺍﺋﯿﮕﯽ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﭘﻮﺭی ﺗﻮﺟﮧ ﺩﯾﮟ ۔
👈 ﻣﺴﺘﻘﻞ ﻭﺭﺯﺵ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﻋﺎﺩﺕ ﮈﺍﻟﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﺟﺴﻢ ﮐﻮ ﮐﺴﯽ ﻧﮧ ﮐﺴﯽ ﻃﺮﯾﻘﮯ ﺳﮯ ﺣﺮﮐﺖ ﻣﯿﮟ ﺭﮐﮭﯿﮟ ، ﭘﯿﺪﻝ ﭼﻠﯿﮟ ، ﺗﯿﺮﺍﮐﯽ ﮐﺮﯾﮟ ﯾﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﻣﺆﺛﺮ ﻭﺭﺯﺵ ۔
👈 ﺣﺪ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﭘﯿﻨﮯ کا ﺷﻮﻕ ﺍﺏ ﺧﺘﻢ ﮐﺮﺩﯾﮟ ، ﻣﻌﯿﺎﺭﯼ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﺑﻘﺪﺭِ ﺿﺮﻭﺭﺕ صرف ﺍﺗﻨﺎ ﮐﮭﺎﺋﯿﮟ ﮐﮧ ﭼﺎﻕ ﻭ ﭼﻮﺑﻨﺪ ﺭﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﮐﻤﺰﻭﺭی ﻣﺤﺴﻮﺱ ﻧﮧ ﮨﻮ ۔
👈 ﮔﺎﮌﯼ ﺍﻭﺭ ﺳﻮﺍﺭﯼ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﭘﮧ ﮐﻢ ﺳﮯ ﮐﻢ ﺳﻔﺮ ﮐﺮﯾﮟ ، ﮐﻮﺷﺶ ﮐﺮﯾﮟ ﮐﮧ ﻗﺮﯾﺐ ﮐﮯ ﮐﺎﻡ ﭘﯿﺪﻝ ﺳﺮ ﺍﻧﺠﺎﻡ ﺩﯾﮟ ، ﺟﯿﺴﮯ ﻣﺴﺠﺪ ﺟﺎﻧﺎ ، ﺑﺎﺯﺍﺭ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﺟﺎﻧﺎ ۔
👈 ﺑﮯﺟﺎ ﻏﺼﮧ ، ﺍﻭﺭ ﻓﻀﻮﻝ ﺑﺤﺚ ﻣﺒﺎحثے ﺳﮯ ﺍﺟﺘﻨﺎﺏ ﮐﺮﯾﮟ ، ﺍﺯﺧﻮﺩ ﺍﭘﻨﮯ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺗﻨﮕﯽ ﺍﻭﺭ ﭘﺮﯾﺸﺎﻧﯽ ﻣﯿﮟ ﻧﮧ ﮈﺍﻟﯿﮟ ؛ کیوں کہ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺩﻝ ﮐﺎ ﺳﮑﻮﻥ ﺍﻭﺭ ﺻﺤﺖ ﺑﺮﺑﺎﺩ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ۔
👈 ﻣﺎﻝ ﺟﻤﻊ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﮨﻮﺱ ﮐﮯ ﺑﺠﺎﺋﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺫﺍﺕ ، ﺍﮨﻞ ﻭ ﻋﯿﺎﻝ ﺍﻭﺭ ﻧﯿﮏ ﮐﺎﻣﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻣﺎﻝ ﺧﺮﭺ ﮐﺮﯾﮟ ، اور یہ سوچ بنائیں کہ ﻣﺎﻝ ﮐﻤﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﻣﻘﺼﺪ ﺍﭘﻨﮯ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺍﻭﺭ ﺍﺭﺩﮔﺮﺩ کے ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﺳﮑﮫ ﭘﮩﻨﭽﺎﻧﺎ ﮨﮯ ۔
👈 ﮔﮩﺮﮮ ﺻﺪﻣﮯ ﺳﮯ ﺑﭽﯿﮟ ، ﮐﺴﯽ ﺑﮭﯽ ﺍﯾﺴﯽ ﭼﯿﺰ ﭘﺮ ﺷﺪﯾﺪ ﺍﻓﺴﻮﺱ ﻧﮧ ﮐﺮﯾﮟ ﺟﻮ ﺁﭖ ﮐﮯ ﺑﺲ ﻣﯿﮟ ﻧﮧ ﮨﻮ ؛ بلکہ ایسی چیزوں کو ﺑﮭﻮﻝ ﮐﺮ اطمینان سے ﺁﮔﮯ ﺑﮍﮬ جائیں ۔
👈 ﻋﺎﺟﺰﯼ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﮐﺮﯾﮟ ۔۔۔۔۔ ﻣﺎﻝ ﻭ ﺩﻭﻟﺖ ، جاہ و ﻣﻨﺼﺐ اور طاقت و ﻗﻮﺕ ﺍﯾﺴﯽ ﭼﯿﺰﯾﮟ ہیں ﺟﻮ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﻮ ﻣﻐﺮﻭﺭ ﺑﻨﺎ ﮐﺮ ﺗﺒﺎﮨﯽ ﮐﮯ ﺩﮨﺎﻧﮯ ﭘﺮ ﻟﮯ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﯿﮟ ۔
👈 ﺑﺎﻟﻮﮞ ﮐﯽ ﺳﻔﯿﺪﯼ ﺳﮯ ﮨﺮﮔﺰ ﻧﮧ ﮈﺭﯾﮟ ، ﯾﮧ ﺁپ کی ﻋﻤﺮ ﺧﺘﻢ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﺎ ﺳﺒﺐ ﻧﮩﯿﮟ ، ﺑﻠﮑﮧ ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﮐﯽ ﻧﺸﺎﻧﯽ ہے ﮐﮧ ﺍﺏ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﮯ ﺑﮩﺘﺮﯾﻦ ﺩﻥ ﺷﺮﻭﻉ ﮨﻮﭼﮑﮯ ﮨﯿﮟ ؛ ﺍﺱ لیے ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﺳﮯ ﺍﭼﮭﺎ ﮔﻤﺎﻥ ﺭﮐﮭﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺭﻭﺯﻣﺮﮦ ﮐﮯ ﻣﺸﺎﻏﻞ ﺍﻭﺭ ﺣﻼﻝ ﮐﻤﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﺳﻔﺮ ﺟﺎﺭﯼ ﺭﮐﮭﯿﮟ ۔
👈 ﻧﯿﮑﯽ ﮐﮯﮐﺎﻡ ، بالخصوص ﺑﺎﺟﻤﺎﻋﺖ ﻧﻤﺎﺯ ، استغفار اور درود و سلام ﺑﺎﻟﮑﻞ ﻧﮧ ﭼﮭﻮﮌﯾﮟ ، ﺍﺱ لیے ﮐﮧ ﻧﯿﮑﯿﻮﮞ ﮐﺎ ﯾﮧ ﺳﺮﻣﺎﯾﮧ ﺍُﺱ ﺩﻥ آپ کے ﮐﺎﻡ ﺁﺋﮯ ﮔﺎ ﺟﺐ ﻧﮧ ﻣﺎﻝ ﻓﺎﺋﺪﮦ ﭘﮩﻨﭽﺎﺋﮯ ﮔﺎ ، ﻧﮧ ﺍﻭﻻﺩ -
( اس عمدہ تحریر کے محرر کانام معلوم نہیں ، اللہ کریم ہمیں اس پر عملکی توفیق بخشے ! )
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3332169130396586&id=100008105947430
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
پچھلے دنوں میڈیا پر ایک جاپانی کی خبر چل رہی تھی کہ وہ نو کروڑ ڈالر خرچ کرکے خلائی سیر کرنے گیا ہے ۔
یہ اس کاذوق تھا اسے مبارک ۔۔۔۔۔۔۔ ہمارا ذوق تو یہ ہے کہ خدا توفیق دے تو مکے مدینے جائیں اور باربار جائیں ؎
طیبہ کی سیر کو چلیں قدموں میں ان کے جان دیں
دفن ہوں ان کے شہر میں ، ہے یہی التجا فقط
دن رات میرے سامنے تذکرۀ حبیب ہو
مجھ سے مریضِ عشق کی ، ہے یہی اک دوا فقط
آقا و مولا ﷺ ارشاد فرماتے تھے:
حج اور عمرہ بار بار کیا کرو ، یقیناً یہ غربت اور گناہوں کو اس طرح ختم کردیتے ہیں جیسے بھٹی ۔۔۔۔۔ لوہے ، سونے اور چاندی کا زنگ اتار دیتی ہے ۔
( سنن نسائی شریف ، ر2632 ۔ صحیح )
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3332572837022882&id=100008105947430
یہ اس کاذوق تھا اسے مبارک ۔۔۔۔۔۔۔ ہمارا ذوق تو یہ ہے کہ خدا توفیق دے تو مکے مدینے جائیں اور باربار جائیں ؎
طیبہ کی سیر کو چلیں قدموں میں ان کے جان دیں
دفن ہوں ان کے شہر میں ، ہے یہی التجا فقط
دن رات میرے سامنے تذکرۀ حبیب ہو
مجھ سے مریضِ عشق کی ، ہے یہی اک دوا فقط
آقا و مولا ﷺ ارشاد فرماتے تھے:
حج اور عمرہ بار بار کیا کرو ، یقیناً یہ غربت اور گناہوں کو اس طرح ختم کردیتے ہیں جیسے بھٹی ۔۔۔۔۔ لوہے ، سونے اور چاندی کا زنگ اتار دیتی ہے ۔
( سنن نسائی شریف ، ر2632 ۔ صحیح )
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3332572837022882&id=100008105947430
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
آج یہ کتاب میری رفیقِ سفر ہے ، اللہ نے چاہا تو کل پرسوں تک اس کا مطالعہ مکمل کرلوں گا ۔
لکھنے والے نے اسے بڑی محنت سے لکھا ہے ، اور دو سو اکتالیس کتابوں کے حوالوں سے مزین کیا ہے ۔
اس میں کعبہ شریف کی تعریف ، کعبہ شریف کے نام ، کعبہ شریف کی بنیاد ، کعبہ شریف کے فضائل ، کعبہ شریف کے خصائص ، اور کعبہ شریف کے احکام بڑی خوب صورتی سے بیان کیے گئے ہیں ۔
اللہپاک ہمیں خانہ کعبہ شریف کی بار بار زیارت نصیب فرمائے ، یہی وہ مبارک گھر ہے جس سے دور ہوتے وقت اللہ کے پیارے رسول کی آنکھیں بھی نم ہوگئیں تھیں ۔
ہم اہل دنیا کے لیے کتنابڑا اعزاز ہے کہ ہمارے پاس " کعبہ شریف " ہے ۔
خدا کرے جب تک دم میں دم رہے اس پاک گھر کی طرف سفر کرتے نہ تھکیں ۔
✍️لقمان شاہد
13-12-2021 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3333491856930980&id=100008105947430
لکھنے والے نے اسے بڑی محنت سے لکھا ہے ، اور دو سو اکتالیس کتابوں کے حوالوں سے مزین کیا ہے ۔
اس میں کعبہ شریف کی تعریف ، کعبہ شریف کے نام ، کعبہ شریف کی بنیاد ، کعبہ شریف کے فضائل ، کعبہ شریف کے خصائص ، اور کعبہ شریف کے احکام بڑی خوب صورتی سے بیان کیے گئے ہیں ۔
اللہپاک ہمیں خانہ کعبہ شریف کی بار بار زیارت نصیب فرمائے ، یہی وہ مبارک گھر ہے جس سے دور ہوتے وقت اللہ کے پیارے رسول کی آنکھیں بھی نم ہوگئیں تھیں ۔
ہم اہل دنیا کے لیے کتنابڑا اعزاز ہے کہ ہمارے پاس " کعبہ شریف " ہے ۔
خدا کرے جب تک دم میں دم رہے اس پاک گھر کی طرف سفر کرتے نہ تھکیں ۔
✍️لقمان شاہد
13-12-2021 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3333491856930980&id=100008105947430
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
آج ایک مسجد میں نمازِ فجر پڑھی ، پیش امام نے نماز کے بعد جو درسِ قرآن دیا ۔۔۔۔۔۔۔۔ سبحان اللہ !
بڑی دیر بعد ایسا مختصر اور جامع درس سنا ۔
ایک تو جن آیات کا درس دے رہے تھے ان میں مہاجر و انصار صحابہ علیھم الرضوان کا ذکر خیر تھا ، اور دوسرا ایسے نَپے تُلے
الفاظ تھے کہ کوئی لفظ نہ کم تھا ، نہ زیادہ ، نہاضافی نہ متروک ۔
چند منٹوں میں سورت حشر کی آٹھویں ، نویں اور دسویں آیت کا ترجمہ ، تفسیر اور خلاصہ بیان کیا ؛ پوری روانی سے ۔۔۔۔ بغیر اٹکن کے بیان کیا ، اور زبانی بیان کیا ؛ نہ قرات میں غلطی ، نہ لہجے میں فرق ، نہ مفہوم میں کوئی رد و بدل ۔ سبحان اللہ !
کوئی عالم جب لکھتا یا بولتاہے تو اس کے الفاظ موتیوں کی طرح ہوتے ہیں ۔
اب یہ اُس پر ہے کہ اِن موتیوں کو لڑی میں پرو کر قارئین و سامعین کے گلے میں ڈالتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ سلیقے سے اُن پر نچھاور کرتا ہے ، یا بے ترتیبی سے ضائع کردیتا ہے !
✍️لقمان شاہد
14-12-2021 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3334057013541131&id=100008105947430
بڑی دیر بعد ایسا مختصر اور جامع درس سنا ۔
ایک تو جن آیات کا درس دے رہے تھے ان میں مہاجر و انصار صحابہ علیھم الرضوان کا ذکر خیر تھا ، اور دوسرا ایسے نَپے تُلے
الفاظ تھے کہ کوئی لفظ نہ کم تھا ، نہ زیادہ ، نہاضافی نہ متروک ۔
چند منٹوں میں سورت حشر کی آٹھویں ، نویں اور دسویں آیت کا ترجمہ ، تفسیر اور خلاصہ بیان کیا ؛ پوری روانی سے ۔۔۔۔ بغیر اٹکن کے بیان کیا ، اور زبانی بیان کیا ؛ نہ قرات میں غلطی ، نہ لہجے میں فرق ، نہ مفہوم میں کوئی رد و بدل ۔ سبحان اللہ !
کوئی عالم جب لکھتا یا بولتاہے تو اس کے الفاظ موتیوں کی طرح ہوتے ہیں ۔
اب یہ اُس پر ہے کہ اِن موتیوں کو لڑی میں پرو کر قارئین و سامعین کے گلے میں ڈالتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ سلیقے سے اُن پر نچھاور کرتا ہے ، یا بے ترتیبی سے ضائع کردیتا ہے !
✍️لقمان شاہد
14-12-2021 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3334057013541131&id=100008105947430
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
دو سالہ حمل 🤔
سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس ایک آدمی آکرکہنے لگا:
امیر المومنین ! میں اپنی بیوی سے دو سال دور رہا ، اور جب گھر آیا تو دیکھا کہ بیوی حاملہ تھی ۔ ( اس معاملے کا فیصلہ کریں ۔ )
سیدنا عمر پاک نے ( غور و فکر کرکے اور شوری سے ) مشورہ لے کر یہ فیصلہ کیا کہ:
عورت ( گناہ گار ہے لہذا اس ) کو رجم کردیا جائے ۔
سیدنا معاذ بن جبل وہاں بیٹھے تھے ، آپ نے اس فیصلے سے اختلاف کیا اور کہا:
جب تک بچہ پیدا نہیں ہوجاتا ایسا کسی صورت نہیں کیا جاسکتا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چنانچہ عورت کو وضع حمل تک کی مدت کے لیے چھوڑدیا گیا ۔
پھر جب اس عورت کے ہاں بچے کی ولادت ہوئی تو وہ ہو بہو اپنے باپ جیساتھا ، اور ( اللہ کی شان کہ ) اس کے سامنے والے دانت بھی نکلے ہوئے تھے ۔
( جن سے اس کا بڑی عمر کا ہونا معلوم ہورہاتھا )
جب اس کے باپ نے اُسے دیکھا ، تو کہنے لگا:
ربِ کعبہ کی قسم ، یہ تو میرا ہی بیٹا ہے !
یہ معاملہ دیکھ کر سیدنا عمر کہنے لگے:
عورتیں معاذ بن جبل جیسے ( ذہین و فطین لوگوں ) کو جنم دینے سے عاجز آگئیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اگر معاذ نہ ہوتے تو عمر ہلاک ہوجاتا ۔
( انظر: تاریخ مدینۃ دمشق ، ج 58 ، ص422 ، ط دارالفکر بیروت ۔ اسنادہ حسن )
•••••••••••••••••••••🌸🌸
اس واقعہ میں ہمارے لیے بہت سارے سبق ہیں ، جن میں سے ایک یہ بھی ہےکہ:
بیوی کے ساتھ شوہر کا رشتہ محبت اور اعتماد کا ہوتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ دو چیزیں جتنی زیادہ مضبوط ہوں گی رشتہ اتنا ہی محفوظ رہے گا ۔
اگر کبھی بیوی کے متعلق کوئی ناگفتہ بہ صورت پیش آجائے تو فوراً بدگمان ہوکر جذباتی فیصلہ کرنے سے پہلے ، کسی امانت دار اور معاملہ فہم عالم کی طرف ضرور رجوع کرلینا چاہیے ۔۔۔۔۔۔۔ تاکہ اللہ کریم نجات کا راستہ نکال دے اور بندہ ہلاکت سے بچ جائے ۔
✍️لقمان شاہد
16-12-2021 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3335652656714900&id=100008105947430
سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس ایک آدمی آکرکہنے لگا:
امیر المومنین ! میں اپنی بیوی سے دو سال دور رہا ، اور جب گھر آیا تو دیکھا کہ بیوی حاملہ تھی ۔ ( اس معاملے کا فیصلہ کریں ۔ )
سیدنا عمر پاک نے ( غور و فکر کرکے اور شوری سے ) مشورہ لے کر یہ فیصلہ کیا کہ:
عورت ( گناہ گار ہے لہذا اس ) کو رجم کردیا جائے ۔
سیدنا معاذ بن جبل وہاں بیٹھے تھے ، آپ نے اس فیصلے سے اختلاف کیا اور کہا:
جب تک بچہ پیدا نہیں ہوجاتا ایسا کسی صورت نہیں کیا جاسکتا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چنانچہ عورت کو وضع حمل تک کی مدت کے لیے چھوڑدیا گیا ۔
پھر جب اس عورت کے ہاں بچے کی ولادت ہوئی تو وہ ہو بہو اپنے باپ جیساتھا ، اور ( اللہ کی شان کہ ) اس کے سامنے والے دانت بھی نکلے ہوئے تھے ۔
( جن سے اس کا بڑی عمر کا ہونا معلوم ہورہاتھا )
جب اس کے باپ نے اُسے دیکھا ، تو کہنے لگا:
ربِ کعبہ کی قسم ، یہ تو میرا ہی بیٹا ہے !
یہ معاملہ دیکھ کر سیدنا عمر کہنے لگے:
عورتیں معاذ بن جبل جیسے ( ذہین و فطین لوگوں ) کو جنم دینے سے عاجز آگئیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اگر معاذ نہ ہوتے تو عمر ہلاک ہوجاتا ۔
( انظر: تاریخ مدینۃ دمشق ، ج 58 ، ص422 ، ط دارالفکر بیروت ۔ اسنادہ حسن )
•••••••••••••••••••••🌸🌸
اس واقعہ میں ہمارے لیے بہت سارے سبق ہیں ، جن میں سے ایک یہ بھی ہےکہ:
بیوی کے ساتھ شوہر کا رشتہ محبت اور اعتماد کا ہوتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ دو چیزیں جتنی زیادہ مضبوط ہوں گی رشتہ اتنا ہی محفوظ رہے گا ۔
اگر کبھی بیوی کے متعلق کوئی ناگفتہ بہ صورت پیش آجائے تو فوراً بدگمان ہوکر جذباتی فیصلہ کرنے سے پہلے ، کسی امانت دار اور معاملہ فہم عالم کی طرف ضرور رجوع کرلینا چاہیے ۔۔۔۔۔۔۔ تاکہ اللہ کریم نجات کا راستہ نکال دے اور بندہ ہلاکت سے بچ جائے ۔
✍️لقمان شاہد
16-12-2021 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3335652656714900&id=100008105947430
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
💥 باعث ہلاکت عشق
اگر کوئی صاحبِ استطاعت ہے ، اور انصاف بھی کرسکتا ہے تو بے شک دوسرا نکاح کرے ، شرعاً اور اخلاقاً اس میں کوئی ہرج نہیں ۔
لیکن نکاح میں کوئی اور ہو ، اور دل کہیں اور لگائے رکھنا ( جیسے آج کل عام چل رہاہے ) یہ سراسر غلط ، اورباعثِ ہلاکت ہے ۔
اگر کسی کی طرف دل مائل ہوجائےتو معزز طریقے سے اس کے گھر نکاح کاپیغام بھیجنا چاہیے ، وہ قبول کرلیں تو مسنون طریقے سے علانیہ نکاح کرلینا چاہیے ، ورنہ اس کاخیال دل سے نکال دیناچاہیے ۔
چُھپ چُھپ کے میسجز اور کالیں کرنا ، ملاقاتوں کا سلسلہ رکھنا ۔۔۔۔ بندے کو بہت ساری ذلتوں اور کبیرہ گناہوں میں مبتلا کر دیتاہے ، اور اس کی دنیا و آخرت خراب ہوجاتی ہے ۔
ایسی محبت کے بارے میں کسی عربی شاعر نے بحرِ طویل میں ایک مختصر سی نصیحت کی تھی کہ ؎
وعش خالیاً ۔۔۔۔ فالحب اولہ غنی
و اوسطہ سقم ، وآخرہ قتل !
( زندگی محبت کے بغیر گزارو ۔۔۔۔ کیوں کہ محبت کی ابتدا اَمیری ، درمیان بیماری اور انجام موت ہے ۔ )
ایسی محبت بیوی کی حق تلفی کا سبب بھی بنتی ہے ، اور بعض دفعہ اِس کا بڑا بُرا انجام ہوتا ہے ۔
کسی نے کہاتھا:
فإن المرأة إذا رأت بعلها عاشقاً لغيرها ، اتخذت معشوقاً هي لنفسها .
فيصير الرجل متردداً بين خراب بيته بالطلاق وبين القيادة ۔۔۔۔۔ فمن الناس من يؤثر هذا ، ومنهم من يؤثر هذا .
( جب ایک عورت دیکھتی ہے کہ اس کا شوہر میرے علاوہ کسی اور پر عاشق ہو گیا ہے ، تو وہ بھی اپنے لیے کوئی معشوق ڈھونڈ لیتی ہے ۔
اب شوہر کے لیے پریشانی بن جاتی ہے ، وہ بیوی کو طلاق دے کر گھر برباد کرلے یا اُسے اس کی حالت پر چھوڑ دے ، اور خود دیوث بنا رہے ۔۔۔۔۔
تو بعض لوگ اس صورت میں طلاق دے دیتے ہیں ، اور بعض یوں ہی دیوث بنے رہتے ہیں ۔ )
اس لیے اگر کوئی مرد ایسی حماقت میں مبتلا ہے تو فوراً اس سے نکلنے کی کوشش کرے ( کوشش کرنے سے انشاءللہ نکل جائے ) ۔
اس سلسلے میں کسی عقل مند اور اِن معاملات کو سمجھنے والے کی طرف رجوع کرنا بڑا مفید ثابت ہوتا ہے ، کیوں کہ ایسے عشق نے عاشق کی عقل کو نیم مردہ کردیا ہوتا ہے اور وہ ازخود سوچنےسمجھنے کی صلاحیت سے محروم ہوچکا ہوتا ہے ؛ اس لیے جب وہ کسی کی طرف رجوع کرے گا تو اللہ کی رحمت سے اس کی مدد ہوگی ، اور مردہ عقل میں جان پڑ جائے گی ۔
رب تعالیٰ ہمارے گھروں کو امن اور سکون کا گہوارہ بنائے ، اپنی بیویوں کے ساتھ ہمیشہ خلوص و محبت کا برتاؤ کرنے کی توفیق بخشے اوران کی حق تلفی سے محفوظ رکھے !
✍️لقمان شاہد
17-12-2021 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3336295293317303&id=100008105947430
اگر کوئی صاحبِ استطاعت ہے ، اور انصاف بھی کرسکتا ہے تو بے شک دوسرا نکاح کرے ، شرعاً اور اخلاقاً اس میں کوئی ہرج نہیں ۔
لیکن نکاح میں کوئی اور ہو ، اور دل کہیں اور لگائے رکھنا ( جیسے آج کل عام چل رہاہے ) یہ سراسر غلط ، اورباعثِ ہلاکت ہے ۔
اگر کسی کی طرف دل مائل ہوجائےتو معزز طریقے سے اس کے گھر نکاح کاپیغام بھیجنا چاہیے ، وہ قبول کرلیں تو مسنون طریقے سے علانیہ نکاح کرلینا چاہیے ، ورنہ اس کاخیال دل سے نکال دیناچاہیے ۔
چُھپ چُھپ کے میسجز اور کالیں کرنا ، ملاقاتوں کا سلسلہ رکھنا ۔۔۔۔ بندے کو بہت ساری ذلتوں اور کبیرہ گناہوں میں مبتلا کر دیتاہے ، اور اس کی دنیا و آخرت خراب ہوجاتی ہے ۔
ایسی محبت کے بارے میں کسی عربی شاعر نے بحرِ طویل میں ایک مختصر سی نصیحت کی تھی کہ ؎
وعش خالیاً ۔۔۔۔ فالحب اولہ غنی
و اوسطہ سقم ، وآخرہ قتل !
( زندگی محبت کے بغیر گزارو ۔۔۔۔ کیوں کہ محبت کی ابتدا اَمیری ، درمیان بیماری اور انجام موت ہے ۔ )
ایسی محبت بیوی کی حق تلفی کا سبب بھی بنتی ہے ، اور بعض دفعہ اِس کا بڑا بُرا انجام ہوتا ہے ۔
کسی نے کہاتھا:
فإن المرأة إذا رأت بعلها عاشقاً لغيرها ، اتخذت معشوقاً هي لنفسها .
فيصير الرجل متردداً بين خراب بيته بالطلاق وبين القيادة ۔۔۔۔۔ فمن الناس من يؤثر هذا ، ومنهم من يؤثر هذا .
( جب ایک عورت دیکھتی ہے کہ اس کا شوہر میرے علاوہ کسی اور پر عاشق ہو گیا ہے ، تو وہ بھی اپنے لیے کوئی معشوق ڈھونڈ لیتی ہے ۔
اب شوہر کے لیے پریشانی بن جاتی ہے ، وہ بیوی کو طلاق دے کر گھر برباد کرلے یا اُسے اس کی حالت پر چھوڑ دے ، اور خود دیوث بنا رہے ۔۔۔۔۔
تو بعض لوگ اس صورت میں طلاق دے دیتے ہیں ، اور بعض یوں ہی دیوث بنے رہتے ہیں ۔ )
اس لیے اگر کوئی مرد ایسی حماقت میں مبتلا ہے تو فوراً اس سے نکلنے کی کوشش کرے ( کوشش کرنے سے انشاءللہ نکل جائے ) ۔
اس سلسلے میں کسی عقل مند اور اِن معاملات کو سمجھنے والے کی طرف رجوع کرنا بڑا مفید ثابت ہوتا ہے ، کیوں کہ ایسے عشق نے عاشق کی عقل کو نیم مردہ کردیا ہوتا ہے اور وہ ازخود سوچنےسمجھنے کی صلاحیت سے محروم ہوچکا ہوتا ہے ؛ اس لیے جب وہ کسی کی طرف رجوع کرے گا تو اللہ کی رحمت سے اس کی مدد ہوگی ، اور مردہ عقل میں جان پڑ جائے گی ۔
رب تعالیٰ ہمارے گھروں کو امن اور سکون کا گہوارہ بنائے ، اپنی بیویوں کے ساتھ ہمیشہ خلوص و محبت کا برتاؤ کرنے کی توفیق بخشے اوران کی حق تلفی سے محفوظ رکھے !
✍️لقمان شاہد
17-12-2021 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3336295293317303&id=100008105947430
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے سِیَر میں لکھا ہے کہ:
امام حافط محمد بن قاسم ( ابن الانباری ) رحمہاللہ ، متوفی 328 ھ بہت بڑے سُنی عالم ، محدث ، مفسر اور زاہد و متواضع تھے ۔
آپ نے تین لاکھ اشعار زبانی یاد کر رکھے تھے ، جن سے ( الفاظِ ) قران پر استدلال کیا کرتے تھے ۔
•••••••••••••••••••🌸
اللہ کرے آج کے علما بھی کچھ اشعار زبانی یادکرلیں ، اور دورانِ تقریر و تحریر اُن کا برمحل استعمال کیا کریں ؛ تاکہ قوتِ نُطق میں اضافہ ہو ، استدلال میں نکھار آئے ، اور حُسنِ بیان کو چار چاند لگ جائیں ۔
اردو اشعار یاد کرنے کے لیے ، اگر آپ مناسب سمجھیں تو کتاب: " معین الادب " سے استفادہ کرسکتے ہیں ؛ یہ اس سلسلے میں بہترین معاون ثابت ہوگی ۔
یہ ایسی کتاب ہے جس میں ہر لفظ کا استعمال ، شعری دلیل سے ثابت کیا گیا ہے ؛ اس لفظ کی تذکیر و تانیث بیان کی گئی ہے ، اور ابجد کے اعتبار سےاس کے عدد بھی بیان کردیے گئے ہیں ۔
اس میں پچاسی شعرا کے ، تقریباًسات ہزار اشعار ہیں ۔
کل سے میرا دل کررہا ہے اس کتاب کوحفظ کرلوں ۔۔۔۔۔۔۔ چلو لاکھوں نہ سہی ، کم ازکم ہزاروں شعر تو زبانی یاد ہو ہی جائیں گے ۔ اب اللہ ہی میرا مددگار ہے ، اُسی سے قوتِ حافظہ کاسوال ہے اور اسی کی رحمت میرا مآل ہے ۔
✍️لقمان شاہد
20-12-2021 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3338835543063278&id=100008105947430
امام حافط محمد بن قاسم ( ابن الانباری ) رحمہاللہ ، متوفی 328 ھ بہت بڑے سُنی عالم ، محدث ، مفسر اور زاہد و متواضع تھے ۔
آپ نے تین لاکھ اشعار زبانی یاد کر رکھے تھے ، جن سے ( الفاظِ ) قران پر استدلال کیا کرتے تھے ۔
•••••••••••••••••••🌸
اللہ کرے آج کے علما بھی کچھ اشعار زبانی یادکرلیں ، اور دورانِ تقریر و تحریر اُن کا برمحل استعمال کیا کریں ؛ تاکہ قوتِ نُطق میں اضافہ ہو ، استدلال میں نکھار آئے ، اور حُسنِ بیان کو چار چاند لگ جائیں ۔
اردو اشعار یاد کرنے کے لیے ، اگر آپ مناسب سمجھیں تو کتاب: " معین الادب " سے استفادہ کرسکتے ہیں ؛ یہ اس سلسلے میں بہترین معاون ثابت ہوگی ۔
یہ ایسی کتاب ہے جس میں ہر لفظ کا استعمال ، شعری دلیل سے ثابت کیا گیا ہے ؛ اس لفظ کی تذکیر و تانیث بیان کی گئی ہے ، اور ابجد کے اعتبار سےاس کے عدد بھی بیان کردیے گئے ہیں ۔
اس میں پچاسی شعرا کے ، تقریباًسات ہزار اشعار ہیں ۔
کل سے میرا دل کررہا ہے اس کتاب کوحفظ کرلوں ۔۔۔۔۔۔۔ چلو لاکھوں نہ سہی ، کم ازکم ہزاروں شعر تو زبانی یاد ہو ہی جائیں گے ۔ اب اللہ ہی میرا مددگار ہے ، اُسی سے قوتِ حافظہ کاسوال ہے اور اسی کی رحمت میرا مآل ہے ۔
✍️لقمان شاہد
20-12-2021 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3338835543063278&id=100008105947430
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
*📚 « مختصــر ســوانح حیــات » 📚*
-----------------------------------------------------------
*🕯حضرت مولانا شاہ حامد رضا بریلوی رحمۃ اللّٰه علیہ🕯*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*نام:* محمد۔ معروف بہ حامد رضا۔
*لقب:* حجۃ الاسلام
اعلیٰ حضرت امام اہلسنت علیہ الرحمہ کے بڑے شہزادے۔
*تاریخِ ولادت:* ماہ ربیع الاول 1292ھ بمطابق 1875ء میں اپنے دادا مولانا نقی علی خان کے گھر بریلی میں پیدا ہوئے۔
*تحصیلِ علم:* آباؤ اجداد کی شاندار روایات کے مطابق درسیات تمام و کمال والد ماجد سے پڑھی 19 سال کی عمر میں تمام مروجہ درسیات کی کتب سے فارغ التحصیل ہوۓ۔ علم و عمل میں باکمال والدِ ماجد کے جانشین، عربی نظم و نثر میں منفرد اسلوب رکھتے تھے۔ زمانۂ تعلیم میں ہی آپ نے درسیات کی امہات الکتب ،خیالی، توضیح تلویح، ہدایہ اخیرین، صحیح بخاری پر حواشی لکھ کر اپنے والد کی خدمت میں پیش کیا تو اعلیٰ حضرت نے "قال الولد الاعز" لکھ کر اپنے صاحبزادے کو دادِ تحسین فرمائی۔ جب گلستانِ رضا کا یہ پھول ہر سو خوشبو پھیلانے لگا تو مجدد دین و ملت نے اپنے اکابر خلفاء کی موجودگی میں!
"حامدمنی و انا من حامد" فرما کر آپ کی عظمت و فضیلت پر مہر ثبت کردی ۔
*بیعت و خلافت:* آپ حضرت مخدوم شاہ ابو الحسن احمد نوری مارہروی قدس سرہٗ کے مرید و خلیفہ تھے۔ والد ماجد سے بھی تمام سلاسل میں اجازت و خلافت حاصل تھی۔
*سیرت:* حسن معنوی کیساتھ ساتھ حُسن ظاہری میں بھی وحیدِ زمانہ تھے۔ صاف ستھری طبیعت کے مالک، تلامذہ، مریدین اور ناداروں کی دستگیری آپ کا شیوہ تھا۔ آپ اُن تمام خوبیوں کے جامع تھے جو ایک مجدد کے جانشین میں ہونی چاہئے تھیں۔ ساری زندگی اپنے والد گرامی کے مشن کو پھیلاتے رہے، ہر قسم کی گمراہ کن تحریکوں کے اثراتِ بد سے ملت اسلامیہ کی حفاظت فرماتے رہے۔
*وصال:* 17/ جمادی الاول 1362ھ، کو وصال فرمایا۔ مزار شریف بریلی میں مرجعِ خلائق ہے۔
https://t.me/Faizan_E_DarulUloom_Amjadia_Ngp6179
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*المرتب⬅ محـمد یـوسـف رضـا رضـوی امجـدی نائب مدیر "فیضـانِ دارالعـلوم امجـدیہ ناگپور گروپ" 9604397443*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
-----------------------------------------------------------
*🕯حضرت مولانا شاہ حامد رضا بریلوی رحمۃ اللّٰه علیہ🕯*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*نام:* محمد۔ معروف بہ حامد رضا۔
*لقب:* حجۃ الاسلام
اعلیٰ حضرت امام اہلسنت علیہ الرحمہ کے بڑے شہزادے۔
*تاریخِ ولادت:* ماہ ربیع الاول 1292ھ بمطابق 1875ء میں اپنے دادا مولانا نقی علی خان کے گھر بریلی میں پیدا ہوئے۔
*تحصیلِ علم:* آباؤ اجداد کی شاندار روایات کے مطابق درسیات تمام و کمال والد ماجد سے پڑھی 19 سال کی عمر میں تمام مروجہ درسیات کی کتب سے فارغ التحصیل ہوۓ۔ علم و عمل میں باکمال والدِ ماجد کے جانشین، عربی نظم و نثر میں منفرد اسلوب رکھتے تھے۔ زمانۂ تعلیم میں ہی آپ نے درسیات کی امہات الکتب ،خیالی، توضیح تلویح، ہدایہ اخیرین، صحیح بخاری پر حواشی لکھ کر اپنے والد کی خدمت میں پیش کیا تو اعلیٰ حضرت نے "قال الولد الاعز" لکھ کر اپنے صاحبزادے کو دادِ تحسین فرمائی۔ جب گلستانِ رضا کا یہ پھول ہر سو خوشبو پھیلانے لگا تو مجدد دین و ملت نے اپنے اکابر خلفاء کی موجودگی میں!
"حامدمنی و انا من حامد" فرما کر آپ کی عظمت و فضیلت پر مہر ثبت کردی ۔
*بیعت و خلافت:* آپ حضرت مخدوم شاہ ابو الحسن احمد نوری مارہروی قدس سرہٗ کے مرید و خلیفہ تھے۔ والد ماجد سے بھی تمام سلاسل میں اجازت و خلافت حاصل تھی۔
*سیرت:* حسن معنوی کیساتھ ساتھ حُسن ظاہری میں بھی وحیدِ زمانہ تھے۔ صاف ستھری طبیعت کے مالک، تلامذہ، مریدین اور ناداروں کی دستگیری آپ کا شیوہ تھا۔ آپ اُن تمام خوبیوں کے جامع تھے جو ایک مجدد کے جانشین میں ہونی چاہئے تھیں۔ ساری زندگی اپنے والد گرامی کے مشن کو پھیلاتے رہے، ہر قسم کی گمراہ کن تحریکوں کے اثراتِ بد سے ملت اسلامیہ کی حفاظت فرماتے رہے۔
*وصال:* 17/ جمادی الاول 1362ھ، کو وصال فرمایا۔ مزار شریف بریلی میں مرجعِ خلائق ہے۔
https://t.me/Faizan_E_DarulUloom_Amjadia_Ngp6179
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*المرتب⬅ محـمد یـوسـف رضـا رضـوی امجـدی نائب مدیر "فیضـانِ دارالعـلوم امجـدیہ ناگپور گروپ" 9604397443*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖