🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
Photo
#دینی_معلومات #اسلامک_نالج
#جامعۃ_الرضا 🌹 پوسٹ نمبر ⁵²
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
مرکز الدراسات الاسلامیہ جامعۃ الرضا
جنتی بالا خانے | جنت میں بالا خانے
سب سے زیادہ نا پسندیدہ شخص
امت کے شریر لوگ | جو بڑا جھگڑالو
#جامعۃ_الرضا 🌹 پوسٹ نمبر ⁵²
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
مرکز الدراسات الاسلامیہ جامعۃ الرضا
جنتی بالا خانے | جنت میں بالا خانے
سب سے زیادہ نا پسندیدہ شخص
امت کے شریر لوگ | جو بڑا جھگڑالو
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from فیضـان دارالعــلوم امجـدیہ ناگپور
*📚 « مختصــر ســوانح حیــات » 📚*
-----------------------------------------------------------
*🕯سید الاولیاء شیخ الکبیر حضرت سید احمد کبیر رفاعی علیہ الرحمۃ🕯*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*نام و لقب:* السید السند، قطبِ اوحد، امام الاولیاء، سلطان الرجال، شیخ المسلمین، شیخ ِ کبیر، محی الدین، سلطان العارفین، عارف باللّٰه، بحر شریعت و طریقت ابوالعباس احمد الرفاعی۔ اباً حسینی، اُماًّ اَنصاری، مذہباً شافعی، بلداً واسطی، بانیِ سلسلہ رفاعی۔
*ولادت :* امام احمد رفاعی بروز جمعرات، ماہِ رجب کے نصف اوّل (15/رجب) کو 512ھ میں مسترشد باللّٰه عباسی کے زمانہ خلافت میں مقام اُم عبیدہ کے حسن نامی ایک قصبہ میں پیدا ہوئے۔
ایک روایت کے مطابق تاریخ پیدائش یکم رجب المرجب 512ھ ہے۔ اور ایک روایت کے مطابق محرم الحرام 500ھ ہے۔
(الدارالمنظم، ج 1 ص 198/ مراۃ الجنان ج 3 ص 409/ مقالات احسانی 190، رموز الفقراء)
اُم عبیدہ علاقہ بطائح میں واسط وبصرہ کے درمیان واقع ہے۔
*سیرت و کردار:* سیرت و کردار میں آپ اپنے جد امجد سرکارِ دوعالم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے کامل نمونہ تھے۔ سنت و شریعت کی اسی پیروی نے آپ کو اپنے زمانے ہی میں شہرت و عظمت کی اعلیٰ بلندیوں پر فائز کر دیا تھا۔ آپ فرماتے!
طریقی دین بلا بدعۃ، وھمۃ بلا کسل، وعمل بلا ریائ، وقلب بلا شغل، ونفس بلا شہوۃ۔
یعنی میرا طریقہ یہ ہے کہ دین میں بدعت کی آمیزش نہ ہو۔ ہمت سستی پر غالب ہو۔ عمل ریا سے پاک ہو۔ (یادِ محبوب میں محویت کے باعث) قلب دیگر مشغولیات سے آزاد ہو۔
اور نفس شہوت کے بکھیڑوں سے دور ہو۔خدمت خلق کا عنصر آپ کی حیاتِ طیبہ میں بہت غالب نظر آتا ہے۔
اگر کسی بیمار کا سن لیتے تو وہ خواہ کتنی ہی دور کیوں نہ سکونت پذیر ہو، اس کی عیادت کے لیے ضرور جاتے تھے۔ اور (بعدِ مسافت کے باعث) ایک دو دن کے بعد اُدھر سے لوٹتے تھے۔ نیز عالم یہ تھا کہ راستے میں جا کر اندھوں کی آمد کا اِنتظار کرتے کہ ان کا ہاتھ پکڑ کر انھیں منزل تک پہنچائیں۔ اور جب بھی کوئی بزرگ دیکھتے، انھیں علاقے تک پہنچا آتے۔
*شیخ اجل کیلئے رسول اللّٰهﷺ کا ہاتھ نمودار ہوا:*
علامہ شہاب الدین خفاجی مصری نسیم الریاض شفاء قاضی عیاض میں فرماتے ہیں !
کان الشیخ احمد بن الرفاعی کل عام یرسل مع الحجاج السلام علی النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فلما زارہ وقف تجاہ مرقدہ وانشد:
؎ فی حالۃ البعد روحی کنت ارسلھا تقبل الارض عنی فھی نائبتی
وھذہ نوبۃ الاشباح قد حضرت فامدد یدیک لکی تحظی بھا شفتی
فقیل ان الید الشریفۃ بدت لہ فقبلھا فھنیئا لہ ثم ھنیئا ۱؎.
ترجمہ: یعنی امام اجل قطب اکمل حضرت سید احمد رفاعی رضی اللہ تعالٰی عنہ ہر سال حاجیوں کے ہاتھ حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم پر سلام عرض کربھیجتے ،جب خود حاضر آئے مزار اقدس کے سامنے کھڑے ہوئے اور عرض کی:
''میں جب دور تھا تو اپنی روح بھیج دیتا کہ میری طر ف سے زمین کو بوسہ دے تو وہ میری نائب تھی، اور اب باری بدن کی ہے۔ کہ جسم خود حاضر ہے دست مبارک عطا ہو کہ میرے لب اس سے بہرہ پائیں۔ کہا گیا کہ دست اقدس ان کے لئے ظاہر ہوا انھوں نے بوسہ دیا تو بہت بہت مبارکی ہو ان کو۔
(۱؎ فتاویٰ رضویہ ۔ج،۲۲، ص: ۳۷۵ (رضا فاؤنڈیشن لاہور)
بحوالہ ۔نسیم الریاض شرح الشفاء فصل ومن اعظامہ واکبارہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم دارالفکر بیروت ۳/ ۴۴۲)
*وصال:* 66 سال کی عمر پا کر جمعرات 12/جمادی الاولی 578ھ کو شریعت و طریقت کا یہ آفتاب عالم تاب ہمیشہ کے لیے غروب ہو گیا۔ آپ اپنے دادا شیخ یحییٰ بخاری کے گنبد تلے عراق کے مقام اُم عبیدہ میں مدفون ہوئے، جو زیارت گاہِ ہر خاص و عام ہے۔
https://t.me/Faizan_E_DarulUloom_Amjadia_Ngp
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*المرتب⬅ محـمد یـوسـف رضـا رضـوی امجـدی نائب مدیر "فیضـانِ دارالعـلوم امجـدیہ ناگپور گروپ" 9604397443*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
-----------------------------------------------------------
*🕯سید الاولیاء شیخ الکبیر حضرت سید احمد کبیر رفاعی علیہ الرحمۃ🕯*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*نام و لقب:* السید السند، قطبِ اوحد، امام الاولیاء، سلطان الرجال، شیخ المسلمین، شیخ ِ کبیر، محی الدین، سلطان العارفین، عارف باللّٰه، بحر شریعت و طریقت ابوالعباس احمد الرفاعی۔ اباً حسینی، اُماًّ اَنصاری، مذہباً شافعی، بلداً واسطی، بانیِ سلسلہ رفاعی۔
*ولادت :* امام احمد رفاعی بروز جمعرات، ماہِ رجب کے نصف اوّل (15/رجب) کو 512ھ میں مسترشد باللّٰه عباسی کے زمانہ خلافت میں مقام اُم عبیدہ کے حسن نامی ایک قصبہ میں پیدا ہوئے۔
ایک روایت کے مطابق تاریخ پیدائش یکم رجب المرجب 512ھ ہے۔ اور ایک روایت کے مطابق محرم الحرام 500ھ ہے۔
(الدارالمنظم، ج 1 ص 198/ مراۃ الجنان ج 3 ص 409/ مقالات احسانی 190، رموز الفقراء)
اُم عبیدہ علاقہ بطائح میں واسط وبصرہ کے درمیان واقع ہے۔
*سیرت و کردار:* سیرت و کردار میں آپ اپنے جد امجد سرکارِ دوعالم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے کامل نمونہ تھے۔ سنت و شریعت کی اسی پیروی نے آپ کو اپنے زمانے ہی میں شہرت و عظمت کی اعلیٰ بلندیوں پر فائز کر دیا تھا۔ آپ فرماتے!
طریقی دین بلا بدعۃ، وھمۃ بلا کسل، وعمل بلا ریائ، وقلب بلا شغل، ونفس بلا شہوۃ۔
یعنی میرا طریقہ یہ ہے کہ دین میں بدعت کی آمیزش نہ ہو۔ ہمت سستی پر غالب ہو۔ عمل ریا سے پاک ہو۔ (یادِ محبوب میں محویت کے باعث) قلب دیگر مشغولیات سے آزاد ہو۔
اور نفس شہوت کے بکھیڑوں سے دور ہو۔خدمت خلق کا عنصر آپ کی حیاتِ طیبہ میں بہت غالب نظر آتا ہے۔
اگر کسی بیمار کا سن لیتے تو وہ خواہ کتنی ہی دور کیوں نہ سکونت پذیر ہو، اس کی عیادت کے لیے ضرور جاتے تھے۔ اور (بعدِ مسافت کے باعث) ایک دو دن کے بعد اُدھر سے لوٹتے تھے۔ نیز عالم یہ تھا کہ راستے میں جا کر اندھوں کی آمد کا اِنتظار کرتے کہ ان کا ہاتھ پکڑ کر انھیں منزل تک پہنچائیں۔ اور جب بھی کوئی بزرگ دیکھتے، انھیں علاقے تک پہنچا آتے۔
*شیخ اجل کیلئے رسول اللّٰهﷺ کا ہاتھ نمودار ہوا:*
علامہ شہاب الدین خفاجی مصری نسیم الریاض شفاء قاضی عیاض میں فرماتے ہیں !
کان الشیخ احمد بن الرفاعی کل عام یرسل مع الحجاج السلام علی النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فلما زارہ وقف تجاہ مرقدہ وانشد:
؎ فی حالۃ البعد روحی کنت ارسلھا تقبل الارض عنی فھی نائبتی
وھذہ نوبۃ الاشباح قد حضرت فامدد یدیک لکی تحظی بھا شفتی
فقیل ان الید الشریفۃ بدت لہ فقبلھا فھنیئا لہ ثم ھنیئا ۱؎.
ترجمہ: یعنی امام اجل قطب اکمل حضرت سید احمد رفاعی رضی اللہ تعالٰی عنہ ہر سال حاجیوں کے ہاتھ حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم پر سلام عرض کربھیجتے ،جب خود حاضر آئے مزار اقدس کے سامنے کھڑے ہوئے اور عرض کی:
''میں جب دور تھا تو اپنی روح بھیج دیتا کہ میری طر ف سے زمین کو بوسہ دے تو وہ میری نائب تھی، اور اب باری بدن کی ہے۔ کہ جسم خود حاضر ہے دست مبارک عطا ہو کہ میرے لب اس سے بہرہ پائیں۔ کہا گیا کہ دست اقدس ان کے لئے ظاہر ہوا انھوں نے بوسہ دیا تو بہت بہت مبارکی ہو ان کو۔
(۱؎ فتاویٰ رضویہ ۔ج،۲۲، ص: ۳۷۵ (رضا فاؤنڈیشن لاہور)
بحوالہ ۔نسیم الریاض شرح الشفاء فصل ومن اعظامہ واکبارہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم دارالفکر بیروت ۳/ ۴۴۲)
*وصال:* 66 سال کی عمر پا کر جمعرات 12/جمادی الاولی 578ھ کو شریعت و طریقت کا یہ آفتاب عالم تاب ہمیشہ کے لیے غروب ہو گیا۔ آپ اپنے دادا شیخ یحییٰ بخاری کے گنبد تلے عراق کے مقام اُم عبیدہ میں مدفون ہوئے، جو زیارت گاہِ ہر خاص و عام ہے۔
https://t.me/Faizan_E_DarulUloom_Amjadia_Ngp
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*المرتب⬅ محـمد یـوسـف رضـا رضـوی امجـدی نائب مدیر "فیضـانِ دارالعـلوم امجـدیہ ناگپور گروپ" 9604397443*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
Telegram
فیضـان دارالعــلوم امجـدیہ ناگپور
اہلسنت و جماعت مسلک اعلیٰ حضرت کا ترجمان، وسط ہند کی عظیم درسگاہ " دارالعلوم امجدیہ ناگپور مہاراشٹرا" کے نام سے منسوب گروپ
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
پاکستانی بھائیوں کے بھی صدقے واری ۔۔۔۔۔۔ پتا نہیں کہاں کہاں سے نکتےاخذ کرتے ہیں ۔ ابھی ایک بھائی کہتاہے: آج بڑی گیارھویں شریف ہے ، کیا مجھے چوری کرنے کی ضرورت تو پیش نہیں آئے گی ؟ میں نے کہا وہ کیوں ؟ کہتا ہے: حضور غوث پاک چوروں کو قطب بناتے رہے ہیں ۔…
جتنے پیسے ہم ہر ماہ گیارھویں شریف پہ خرچ کرتے ہیں اگر اس کا نصف بھی بغداد شریف کے فقرا و مساکین تک پہنچ جائے تو ان کی غربت ختم ہو سکتی ہے ۔
بغداد شریف کے گلی کوچوں میں بچے ، بوڑھے ، جوان ، مرد ، عورتیں " انا مسکین " کی صدائیں لگارہے ہوتے ہیں ۔
امریکی و شیعی ستم ظریفی ، مہنگائی اور غربت نے انھیں پیس کے رکھ دیا ہے ۔😥
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3331904953756337&id=100008105947430
بغداد شریف کے گلی کوچوں میں بچے ، بوڑھے ، جوان ، مرد ، عورتیں " انا مسکین " کی صدائیں لگارہے ہوتے ہیں ۔
امریکی و شیعی ستم ظریفی ، مہنگائی اور غربت نے انھیں پیس کے رکھ دیا ہے ۔😥
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3331904953756337&id=100008105947430
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
35 ﺳﮯ 40 ﺳﺎﻝ ﮐﮯ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﺍﻧﺴﺎﻧﯽ ﺟﺴﻢ ﮐﯽ ﮐﻤﺰﻭﺭﯼ ﮐﺎ ﺳﻔﺮ ﺷﺮﻭﻉ ﮨﻮﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ، ﻟﮩٰﺬﺍ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﮯ ﺍﺱ ﻣﻮﮌ ﭘﺮ ﺍﭘﻨﺎ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺧﯿﺎﻝ ﺭﮐﮭﻨﮯ ﺍﻭﺭ ﺩﺭﺝ ﺫﯾﻞ ﮨﺪﺍﯾﺎﺕ ﭘﮧ ﻋﻤﻞ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﮨﮯ:
👈 ﺭﺟﻮﻉ ﺍﻟﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﺎ ﺍﮨﺘﻤﺎﻡ ﺍﻭﺭ ﮔﻨﺎﮨﻮﮞ ﺳﮯ ﺑﭽﯿﮟ ، ﺣﻘﻮﻕ ﺍﻟﻠﮧ ﺍﻭﺭ ﺣﻘﻮﻕ ﺍﻟﻌﺒﺎﺩ ﮐﯽ ﺍﺩﺍﺋﯿﮕﯽ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﭘﻮﺭی ﺗﻮﺟﮧ ﺩﯾﮟ ۔
👈 ﻣﺴﺘﻘﻞ ﻭﺭﺯﺵ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﻋﺎﺩﺕ ﮈﺍﻟﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﺟﺴﻢ ﮐﻮ ﮐﺴﯽ ﻧﮧ ﮐﺴﯽ ﻃﺮﯾﻘﮯ ﺳﮯ ﺣﺮﮐﺖ ﻣﯿﮟ ﺭﮐﮭﯿﮟ ، ﭘﯿﺪﻝ ﭼﻠﯿﮟ ، ﺗﯿﺮﺍﮐﯽ ﮐﺮﯾﮟ ﯾﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﻣﺆﺛﺮ ﻭﺭﺯﺵ ۔
👈 ﺣﺪ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﭘﯿﻨﮯ کا ﺷﻮﻕ ﺍﺏ ﺧﺘﻢ ﮐﺮﺩﯾﮟ ، ﻣﻌﯿﺎﺭﯼ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﺑﻘﺪﺭِ ﺿﺮﻭﺭﺕ صرف ﺍﺗﻨﺎ ﮐﮭﺎﺋﯿﮟ ﮐﮧ ﭼﺎﻕ ﻭ ﭼﻮﺑﻨﺪ ﺭﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﮐﻤﺰﻭﺭی ﻣﺤﺴﻮﺱ ﻧﮧ ﮨﻮ ۔
👈 ﮔﺎﮌﯼ ﺍﻭﺭ ﺳﻮﺍﺭﯼ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﭘﮧ ﮐﻢ ﺳﮯ ﮐﻢ ﺳﻔﺮ ﮐﺮﯾﮟ ، ﮐﻮﺷﺶ ﮐﺮﯾﮟ ﮐﮧ ﻗﺮﯾﺐ ﮐﮯ ﮐﺎﻡ ﭘﯿﺪﻝ ﺳﺮ ﺍﻧﺠﺎﻡ ﺩﯾﮟ ، ﺟﯿﺴﮯ ﻣﺴﺠﺪ ﺟﺎﻧﺎ ، ﺑﺎﺯﺍﺭ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﺟﺎﻧﺎ ۔
👈 ﺑﮯﺟﺎ ﻏﺼﮧ ، ﺍﻭﺭ ﻓﻀﻮﻝ ﺑﺤﺚ ﻣﺒﺎحثے ﺳﮯ ﺍﺟﺘﻨﺎﺏ ﮐﺮﯾﮟ ، ﺍﺯﺧﻮﺩ ﺍﭘﻨﮯ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺗﻨﮕﯽ ﺍﻭﺭ ﭘﺮﯾﺸﺎﻧﯽ ﻣﯿﮟ ﻧﮧ ﮈﺍﻟﯿﮟ ؛ کیوں کہ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺩﻝ ﮐﺎ ﺳﮑﻮﻥ ﺍﻭﺭ ﺻﺤﺖ ﺑﺮﺑﺎﺩ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ۔
👈 ﻣﺎﻝ ﺟﻤﻊ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﮨﻮﺱ ﮐﮯ ﺑﺠﺎﺋﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺫﺍﺕ ، ﺍﮨﻞ ﻭ ﻋﯿﺎﻝ ﺍﻭﺭ ﻧﯿﮏ ﮐﺎﻣﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻣﺎﻝ ﺧﺮﭺ ﮐﺮﯾﮟ ، اور یہ سوچ بنائیں کہ ﻣﺎﻝ ﮐﻤﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﻣﻘﺼﺪ ﺍﭘﻨﮯ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺍﻭﺭ ﺍﺭﺩﮔﺮﺩ کے ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﺳﮑﮫ ﭘﮩﻨﭽﺎﻧﺎ ﮨﮯ ۔
👈 ﮔﮩﺮﮮ ﺻﺪﻣﮯ ﺳﮯ ﺑﭽﯿﮟ ، ﮐﺴﯽ ﺑﮭﯽ ﺍﯾﺴﯽ ﭼﯿﺰ ﭘﺮ ﺷﺪﯾﺪ ﺍﻓﺴﻮﺱ ﻧﮧ ﮐﺮﯾﮟ ﺟﻮ ﺁﭖ ﮐﮯ ﺑﺲ ﻣﯿﮟ ﻧﮧ ﮨﻮ ؛ بلکہ ایسی چیزوں کو ﺑﮭﻮﻝ ﮐﺮ اطمینان سے ﺁﮔﮯ ﺑﮍﮬ جائیں ۔
👈 ﻋﺎﺟﺰﯼ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﮐﺮﯾﮟ ۔۔۔۔۔ ﻣﺎﻝ ﻭ ﺩﻭﻟﺖ ، جاہ و ﻣﻨﺼﺐ اور طاقت و ﻗﻮﺕ ﺍﯾﺴﯽ ﭼﯿﺰﯾﮟ ہیں ﺟﻮ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﻮ ﻣﻐﺮﻭﺭ ﺑﻨﺎ ﮐﺮ ﺗﺒﺎﮨﯽ ﮐﮯ ﺩﮨﺎﻧﮯ ﭘﺮ ﻟﮯ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﯿﮟ ۔
👈 ﺑﺎﻟﻮﮞ ﮐﯽ ﺳﻔﯿﺪﯼ ﺳﮯ ﮨﺮﮔﺰ ﻧﮧ ﮈﺭﯾﮟ ، ﯾﮧ ﺁپ کی ﻋﻤﺮ ﺧﺘﻢ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﺎ ﺳﺒﺐ ﻧﮩﯿﮟ ، ﺑﻠﮑﮧ ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﮐﯽ ﻧﺸﺎﻧﯽ ہے ﮐﮧ ﺍﺏ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﮯ ﺑﮩﺘﺮﯾﻦ ﺩﻥ ﺷﺮﻭﻉ ﮨﻮﭼﮑﮯ ﮨﯿﮟ ؛ ﺍﺱ لیے ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﺳﮯ ﺍﭼﮭﺎ ﮔﻤﺎﻥ ﺭﮐﮭﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺭﻭﺯﻣﺮﮦ ﮐﮯ ﻣﺸﺎﻏﻞ ﺍﻭﺭ ﺣﻼﻝ ﮐﻤﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﺳﻔﺮ ﺟﺎﺭﯼ ﺭﮐﮭﯿﮟ ۔
👈 ﻧﯿﮑﯽ ﮐﮯﮐﺎﻡ ، بالخصوص ﺑﺎﺟﻤﺎﻋﺖ ﻧﻤﺎﺯ ، استغفار اور درود و سلام ﺑﺎﻟﮑﻞ ﻧﮧ ﭼﮭﻮﮌﯾﮟ ، ﺍﺱ لیے ﮐﮧ ﻧﯿﮑﯿﻮﮞ ﮐﺎ ﯾﮧ ﺳﺮﻣﺎﯾﮧ ﺍُﺱ ﺩﻥ آپ کے ﮐﺎﻡ ﺁﺋﮯ ﮔﺎ ﺟﺐ ﻧﮧ ﻣﺎﻝ ﻓﺎﺋﺪﮦ ﭘﮩﻨﭽﺎﺋﮯ ﮔﺎ ، ﻧﮧ ﺍﻭﻻﺩ -
( اس عمدہ تحریر کے محرر کانام معلوم نہیں ، اللہ کریم ہمیں اس پر عملکی توفیق بخشے ! )
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3332169130396586&id=100008105947430
👈 ﺭﺟﻮﻉ ﺍﻟﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﺎ ﺍﮨﺘﻤﺎﻡ ﺍﻭﺭ ﮔﻨﺎﮨﻮﮞ ﺳﮯ ﺑﭽﯿﮟ ، ﺣﻘﻮﻕ ﺍﻟﻠﮧ ﺍﻭﺭ ﺣﻘﻮﻕ ﺍﻟﻌﺒﺎﺩ ﮐﯽ ﺍﺩﺍﺋﯿﮕﯽ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﭘﻮﺭی ﺗﻮﺟﮧ ﺩﯾﮟ ۔
👈 ﻣﺴﺘﻘﻞ ﻭﺭﺯﺵ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﻋﺎﺩﺕ ﮈﺍﻟﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﺟﺴﻢ ﮐﻮ ﮐﺴﯽ ﻧﮧ ﮐﺴﯽ ﻃﺮﯾﻘﮯ ﺳﮯ ﺣﺮﮐﺖ ﻣﯿﮟ ﺭﮐﮭﯿﮟ ، ﭘﯿﺪﻝ ﭼﻠﯿﮟ ، ﺗﯿﺮﺍﮐﯽ ﮐﺮﯾﮟ ﯾﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﻣﺆﺛﺮ ﻭﺭﺯﺵ ۔
👈 ﺣﺪ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﭘﯿﻨﮯ کا ﺷﻮﻕ ﺍﺏ ﺧﺘﻢ ﮐﺮﺩﯾﮟ ، ﻣﻌﯿﺎﺭﯼ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﺑﻘﺪﺭِ ﺿﺮﻭﺭﺕ صرف ﺍﺗﻨﺎ ﮐﮭﺎﺋﯿﮟ ﮐﮧ ﭼﺎﻕ ﻭ ﭼﻮﺑﻨﺪ ﺭﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﮐﻤﺰﻭﺭی ﻣﺤﺴﻮﺱ ﻧﮧ ﮨﻮ ۔
👈 ﮔﺎﮌﯼ ﺍﻭﺭ ﺳﻮﺍﺭﯼ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﭘﮧ ﮐﻢ ﺳﮯ ﮐﻢ ﺳﻔﺮ ﮐﺮﯾﮟ ، ﮐﻮﺷﺶ ﮐﺮﯾﮟ ﮐﮧ ﻗﺮﯾﺐ ﮐﮯ ﮐﺎﻡ ﭘﯿﺪﻝ ﺳﺮ ﺍﻧﺠﺎﻡ ﺩﯾﮟ ، ﺟﯿﺴﮯ ﻣﺴﺠﺪ ﺟﺎﻧﺎ ، ﺑﺎﺯﺍﺭ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﺟﺎﻧﺎ ۔
👈 ﺑﮯﺟﺎ ﻏﺼﮧ ، ﺍﻭﺭ ﻓﻀﻮﻝ ﺑﺤﺚ ﻣﺒﺎحثے ﺳﮯ ﺍﺟﺘﻨﺎﺏ ﮐﺮﯾﮟ ، ﺍﺯﺧﻮﺩ ﺍﭘﻨﮯ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺗﻨﮕﯽ ﺍﻭﺭ ﭘﺮﯾﺸﺎﻧﯽ ﻣﯿﮟ ﻧﮧ ﮈﺍﻟﯿﮟ ؛ کیوں کہ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺩﻝ ﮐﺎ ﺳﮑﻮﻥ ﺍﻭﺭ ﺻﺤﺖ ﺑﺮﺑﺎﺩ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ۔
👈 ﻣﺎﻝ ﺟﻤﻊ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﮨﻮﺱ ﮐﮯ ﺑﺠﺎﺋﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺫﺍﺕ ، ﺍﮨﻞ ﻭ ﻋﯿﺎﻝ ﺍﻭﺭ ﻧﯿﮏ ﮐﺎﻣﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻣﺎﻝ ﺧﺮﭺ ﮐﺮﯾﮟ ، اور یہ سوچ بنائیں کہ ﻣﺎﻝ ﮐﻤﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﻣﻘﺼﺪ ﺍﭘﻨﮯ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺍﻭﺭ ﺍﺭﺩﮔﺮﺩ کے ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﺳﮑﮫ ﭘﮩﻨﭽﺎﻧﺎ ﮨﮯ ۔
👈 ﮔﮩﺮﮮ ﺻﺪﻣﮯ ﺳﮯ ﺑﭽﯿﮟ ، ﮐﺴﯽ ﺑﮭﯽ ﺍﯾﺴﯽ ﭼﯿﺰ ﭘﺮ ﺷﺪﯾﺪ ﺍﻓﺴﻮﺱ ﻧﮧ ﮐﺮﯾﮟ ﺟﻮ ﺁﭖ ﮐﮯ ﺑﺲ ﻣﯿﮟ ﻧﮧ ﮨﻮ ؛ بلکہ ایسی چیزوں کو ﺑﮭﻮﻝ ﮐﺮ اطمینان سے ﺁﮔﮯ ﺑﮍﮬ جائیں ۔
👈 ﻋﺎﺟﺰﯼ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﮐﺮﯾﮟ ۔۔۔۔۔ ﻣﺎﻝ ﻭ ﺩﻭﻟﺖ ، جاہ و ﻣﻨﺼﺐ اور طاقت و ﻗﻮﺕ ﺍﯾﺴﯽ ﭼﯿﺰﯾﮟ ہیں ﺟﻮ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﻮ ﻣﻐﺮﻭﺭ ﺑﻨﺎ ﮐﺮ ﺗﺒﺎﮨﯽ ﮐﮯ ﺩﮨﺎﻧﮯ ﭘﺮ ﻟﮯ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﯿﮟ ۔
👈 ﺑﺎﻟﻮﮞ ﮐﯽ ﺳﻔﯿﺪﯼ ﺳﮯ ﮨﺮﮔﺰ ﻧﮧ ﮈﺭﯾﮟ ، ﯾﮧ ﺁپ کی ﻋﻤﺮ ﺧﺘﻢ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﺎ ﺳﺒﺐ ﻧﮩﯿﮟ ، ﺑﻠﮑﮧ ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﮐﯽ ﻧﺸﺎﻧﯽ ہے ﮐﮧ ﺍﺏ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﮯ ﺑﮩﺘﺮﯾﻦ ﺩﻥ ﺷﺮﻭﻉ ﮨﻮﭼﮑﮯ ﮨﯿﮟ ؛ ﺍﺱ لیے ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﺳﮯ ﺍﭼﮭﺎ ﮔﻤﺎﻥ ﺭﮐﮭﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺭﻭﺯﻣﺮﮦ ﮐﮯ ﻣﺸﺎﻏﻞ ﺍﻭﺭ ﺣﻼﻝ ﮐﻤﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﺳﻔﺮ ﺟﺎﺭﯼ ﺭﮐﮭﯿﮟ ۔
👈 ﻧﯿﮑﯽ ﮐﮯﮐﺎﻡ ، بالخصوص ﺑﺎﺟﻤﺎﻋﺖ ﻧﻤﺎﺯ ، استغفار اور درود و سلام ﺑﺎﻟﮑﻞ ﻧﮧ ﭼﮭﻮﮌﯾﮟ ، ﺍﺱ لیے ﮐﮧ ﻧﯿﮑﯿﻮﮞ ﮐﺎ ﯾﮧ ﺳﺮﻣﺎﯾﮧ ﺍُﺱ ﺩﻥ آپ کے ﮐﺎﻡ ﺁﺋﮯ ﮔﺎ ﺟﺐ ﻧﮧ ﻣﺎﻝ ﻓﺎﺋﺪﮦ ﭘﮩﻨﭽﺎﺋﮯ ﮔﺎ ، ﻧﮧ ﺍﻭﻻﺩ -
( اس عمدہ تحریر کے محرر کانام معلوم نہیں ، اللہ کریم ہمیں اس پر عملکی توفیق بخشے ! )
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3332169130396586&id=100008105947430
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
پچھلے دنوں میڈیا پر ایک جاپانی کی خبر چل رہی تھی کہ وہ نو کروڑ ڈالر خرچ کرکے خلائی سیر کرنے گیا ہے ۔
یہ اس کاذوق تھا اسے مبارک ۔۔۔۔۔۔۔ ہمارا ذوق تو یہ ہے کہ خدا توفیق دے تو مکے مدینے جائیں اور باربار جائیں ؎
طیبہ کی سیر کو چلیں قدموں میں ان کے جان دیں
دفن ہوں ان کے شہر میں ، ہے یہی التجا فقط
دن رات میرے سامنے تذکرۀ حبیب ہو
مجھ سے مریضِ عشق کی ، ہے یہی اک دوا فقط
آقا و مولا ﷺ ارشاد فرماتے تھے:
حج اور عمرہ بار بار کیا کرو ، یقیناً یہ غربت اور گناہوں کو اس طرح ختم کردیتے ہیں جیسے بھٹی ۔۔۔۔۔ لوہے ، سونے اور چاندی کا زنگ اتار دیتی ہے ۔
( سنن نسائی شریف ، ر2632 ۔ صحیح )
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3332572837022882&id=100008105947430
یہ اس کاذوق تھا اسے مبارک ۔۔۔۔۔۔۔ ہمارا ذوق تو یہ ہے کہ خدا توفیق دے تو مکے مدینے جائیں اور باربار جائیں ؎
طیبہ کی سیر کو چلیں قدموں میں ان کے جان دیں
دفن ہوں ان کے شہر میں ، ہے یہی التجا فقط
دن رات میرے سامنے تذکرۀ حبیب ہو
مجھ سے مریضِ عشق کی ، ہے یہی اک دوا فقط
آقا و مولا ﷺ ارشاد فرماتے تھے:
حج اور عمرہ بار بار کیا کرو ، یقیناً یہ غربت اور گناہوں کو اس طرح ختم کردیتے ہیں جیسے بھٹی ۔۔۔۔۔ لوہے ، سونے اور چاندی کا زنگ اتار دیتی ہے ۔
( سنن نسائی شریف ، ر2632 ۔ صحیح )
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3332572837022882&id=100008105947430
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
آج یہ کتاب میری رفیقِ سفر ہے ، اللہ نے چاہا تو کل پرسوں تک اس کا مطالعہ مکمل کرلوں گا ۔
لکھنے والے نے اسے بڑی محنت سے لکھا ہے ، اور دو سو اکتالیس کتابوں کے حوالوں سے مزین کیا ہے ۔
اس میں کعبہ شریف کی تعریف ، کعبہ شریف کے نام ، کعبہ شریف کی بنیاد ، کعبہ شریف کے فضائل ، کعبہ شریف کے خصائص ، اور کعبہ شریف کے احکام بڑی خوب صورتی سے بیان کیے گئے ہیں ۔
اللہپاک ہمیں خانہ کعبہ شریف کی بار بار زیارت نصیب فرمائے ، یہی وہ مبارک گھر ہے جس سے دور ہوتے وقت اللہ کے پیارے رسول کی آنکھیں بھی نم ہوگئیں تھیں ۔
ہم اہل دنیا کے لیے کتنابڑا اعزاز ہے کہ ہمارے پاس " کعبہ شریف " ہے ۔
خدا کرے جب تک دم میں دم رہے اس پاک گھر کی طرف سفر کرتے نہ تھکیں ۔
✍️لقمان شاہد
13-12-2021 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3333491856930980&id=100008105947430
لکھنے والے نے اسے بڑی محنت سے لکھا ہے ، اور دو سو اکتالیس کتابوں کے حوالوں سے مزین کیا ہے ۔
اس میں کعبہ شریف کی تعریف ، کعبہ شریف کے نام ، کعبہ شریف کی بنیاد ، کعبہ شریف کے فضائل ، کعبہ شریف کے خصائص ، اور کعبہ شریف کے احکام بڑی خوب صورتی سے بیان کیے گئے ہیں ۔
اللہپاک ہمیں خانہ کعبہ شریف کی بار بار زیارت نصیب فرمائے ، یہی وہ مبارک گھر ہے جس سے دور ہوتے وقت اللہ کے پیارے رسول کی آنکھیں بھی نم ہوگئیں تھیں ۔
ہم اہل دنیا کے لیے کتنابڑا اعزاز ہے کہ ہمارے پاس " کعبہ شریف " ہے ۔
خدا کرے جب تک دم میں دم رہے اس پاک گھر کی طرف سفر کرتے نہ تھکیں ۔
✍️لقمان شاہد
13-12-2021 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3333491856930980&id=100008105947430
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
آج ایک مسجد میں نمازِ فجر پڑھی ، پیش امام نے نماز کے بعد جو درسِ قرآن دیا ۔۔۔۔۔۔۔۔ سبحان اللہ !
بڑی دیر بعد ایسا مختصر اور جامع درس سنا ۔
ایک تو جن آیات کا درس دے رہے تھے ان میں مہاجر و انصار صحابہ علیھم الرضوان کا ذکر خیر تھا ، اور دوسرا ایسے نَپے تُلے
الفاظ تھے کہ کوئی لفظ نہ کم تھا ، نہ زیادہ ، نہاضافی نہ متروک ۔
چند منٹوں میں سورت حشر کی آٹھویں ، نویں اور دسویں آیت کا ترجمہ ، تفسیر اور خلاصہ بیان کیا ؛ پوری روانی سے ۔۔۔۔ بغیر اٹکن کے بیان کیا ، اور زبانی بیان کیا ؛ نہ قرات میں غلطی ، نہ لہجے میں فرق ، نہ مفہوم میں کوئی رد و بدل ۔ سبحان اللہ !
کوئی عالم جب لکھتا یا بولتاہے تو اس کے الفاظ موتیوں کی طرح ہوتے ہیں ۔
اب یہ اُس پر ہے کہ اِن موتیوں کو لڑی میں پرو کر قارئین و سامعین کے گلے میں ڈالتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ سلیقے سے اُن پر نچھاور کرتا ہے ، یا بے ترتیبی سے ضائع کردیتا ہے !
✍️لقمان شاہد
14-12-2021 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3334057013541131&id=100008105947430
بڑی دیر بعد ایسا مختصر اور جامع درس سنا ۔
ایک تو جن آیات کا درس دے رہے تھے ان میں مہاجر و انصار صحابہ علیھم الرضوان کا ذکر خیر تھا ، اور دوسرا ایسے نَپے تُلے
الفاظ تھے کہ کوئی لفظ نہ کم تھا ، نہ زیادہ ، نہاضافی نہ متروک ۔
چند منٹوں میں سورت حشر کی آٹھویں ، نویں اور دسویں آیت کا ترجمہ ، تفسیر اور خلاصہ بیان کیا ؛ پوری روانی سے ۔۔۔۔ بغیر اٹکن کے بیان کیا ، اور زبانی بیان کیا ؛ نہ قرات میں غلطی ، نہ لہجے میں فرق ، نہ مفہوم میں کوئی رد و بدل ۔ سبحان اللہ !
کوئی عالم جب لکھتا یا بولتاہے تو اس کے الفاظ موتیوں کی طرح ہوتے ہیں ۔
اب یہ اُس پر ہے کہ اِن موتیوں کو لڑی میں پرو کر قارئین و سامعین کے گلے میں ڈالتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ سلیقے سے اُن پر نچھاور کرتا ہے ، یا بے ترتیبی سے ضائع کردیتا ہے !
✍️لقمان شاہد
14-12-2021 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3334057013541131&id=100008105947430
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
دو سالہ حمل 🤔
سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس ایک آدمی آکرکہنے لگا:
امیر المومنین ! میں اپنی بیوی سے دو سال دور رہا ، اور جب گھر آیا تو دیکھا کہ بیوی حاملہ تھی ۔ ( اس معاملے کا فیصلہ کریں ۔ )
سیدنا عمر پاک نے ( غور و فکر کرکے اور شوری سے ) مشورہ لے کر یہ فیصلہ کیا کہ:
عورت ( گناہ گار ہے لہذا اس ) کو رجم کردیا جائے ۔
سیدنا معاذ بن جبل وہاں بیٹھے تھے ، آپ نے اس فیصلے سے اختلاف کیا اور کہا:
جب تک بچہ پیدا نہیں ہوجاتا ایسا کسی صورت نہیں کیا جاسکتا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چنانچہ عورت کو وضع حمل تک کی مدت کے لیے چھوڑدیا گیا ۔
پھر جب اس عورت کے ہاں بچے کی ولادت ہوئی تو وہ ہو بہو اپنے باپ جیساتھا ، اور ( اللہ کی شان کہ ) اس کے سامنے والے دانت بھی نکلے ہوئے تھے ۔
( جن سے اس کا بڑی عمر کا ہونا معلوم ہورہاتھا )
جب اس کے باپ نے اُسے دیکھا ، تو کہنے لگا:
ربِ کعبہ کی قسم ، یہ تو میرا ہی بیٹا ہے !
یہ معاملہ دیکھ کر سیدنا عمر کہنے لگے:
عورتیں معاذ بن جبل جیسے ( ذہین و فطین لوگوں ) کو جنم دینے سے عاجز آگئیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اگر معاذ نہ ہوتے تو عمر ہلاک ہوجاتا ۔
( انظر: تاریخ مدینۃ دمشق ، ج 58 ، ص422 ، ط دارالفکر بیروت ۔ اسنادہ حسن )
•••••••••••••••••••••🌸🌸
اس واقعہ میں ہمارے لیے بہت سارے سبق ہیں ، جن میں سے ایک یہ بھی ہےکہ:
بیوی کے ساتھ شوہر کا رشتہ محبت اور اعتماد کا ہوتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ دو چیزیں جتنی زیادہ مضبوط ہوں گی رشتہ اتنا ہی محفوظ رہے گا ۔
اگر کبھی بیوی کے متعلق کوئی ناگفتہ بہ صورت پیش آجائے تو فوراً بدگمان ہوکر جذباتی فیصلہ کرنے سے پہلے ، کسی امانت دار اور معاملہ فہم عالم کی طرف ضرور رجوع کرلینا چاہیے ۔۔۔۔۔۔۔ تاکہ اللہ کریم نجات کا راستہ نکال دے اور بندہ ہلاکت سے بچ جائے ۔
✍️لقمان شاہد
16-12-2021 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3335652656714900&id=100008105947430
سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس ایک آدمی آکرکہنے لگا:
امیر المومنین ! میں اپنی بیوی سے دو سال دور رہا ، اور جب گھر آیا تو دیکھا کہ بیوی حاملہ تھی ۔ ( اس معاملے کا فیصلہ کریں ۔ )
سیدنا عمر پاک نے ( غور و فکر کرکے اور شوری سے ) مشورہ لے کر یہ فیصلہ کیا کہ:
عورت ( گناہ گار ہے لہذا اس ) کو رجم کردیا جائے ۔
سیدنا معاذ بن جبل وہاں بیٹھے تھے ، آپ نے اس فیصلے سے اختلاف کیا اور کہا:
جب تک بچہ پیدا نہیں ہوجاتا ایسا کسی صورت نہیں کیا جاسکتا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چنانچہ عورت کو وضع حمل تک کی مدت کے لیے چھوڑدیا گیا ۔
پھر جب اس عورت کے ہاں بچے کی ولادت ہوئی تو وہ ہو بہو اپنے باپ جیساتھا ، اور ( اللہ کی شان کہ ) اس کے سامنے والے دانت بھی نکلے ہوئے تھے ۔
( جن سے اس کا بڑی عمر کا ہونا معلوم ہورہاتھا )
جب اس کے باپ نے اُسے دیکھا ، تو کہنے لگا:
ربِ کعبہ کی قسم ، یہ تو میرا ہی بیٹا ہے !
یہ معاملہ دیکھ کر سیدنا عمر کہنے لگے:
عورتیں معاذ بن جبل جیسے ( ذہین و فطین لوگوں ) کو جنم دینے سے عاجز آگئیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اگر معاذ نہ ہوتے تو عمر ہلاک ہوجاتا ۔
( انظر: تاریخ مدینۃ دمشق ، ج 58 ، ص422 ، ط دارالفکر بیروت ۔ اسنادہ حسن )
•••••••••••••••••••••🌸🌸
اس واقعہ میں ہمارے لیے بہت سارے سبق ہیں ، جن میں سے ایک یہ بھی ہےکہ:
بیوی کے ساتھ شوہر کا رشتہ محبت اور اعتماد کا ہوتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ دو چیزیں جتنی زیادہ مضبوط ہوں گی رشتہ اتنا ہی محفوظ رہے گا ۔
اگر کبھی بیوی کے متعلق کوئی ناگفتہ بہ صورت پیش آجائے تو فوراً بدگمان ہوکر جذباتی فیصلہ کرنے سے پہلے ، کسی امانت دار اور معاملہ فہم عالم کی طرف ضرور رجوع کرلینا چاہیے ۔۔۔۔۔۔۔ تاکہ اللہ کریم نجات کا راستہ نکال دے اور بندہ ہلاکت سے بچ جائے ۔
✍️لقمان شاہد
16-12-2021 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3335652656714900&id=100008105947430
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM