🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسٸلے کے متعلق کہ زید نمازی ہے اور اس کی بیوی صحیح سے نماز پڑھنا نہیں جانتی تو *کیا زید اپنی بیوی کی امامت کرسکتا ہے؟* اور کن کن نمازوں (نماز پنجگانہ نماز وتر و نماز نفل) میں امامت کرسکتا ہے اور امام بننے کی صورت *زید اور اس کی بیوی کہاں کھڑے ہوں گے؟* قرآن و حدیث اور اقوال اٸمہ کی روشنی میں جواب دے کر شکریہ کا موقع دیں! نوزش ہوگی!
المستفتی: محبوب رضا صمدانی پٹنہ بھار
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وعلیکم السلام و رحمة اللہ و برکاتہ
*جواب* مرد حضرات کے لیے مسجد میں باجماعت نماز ادا کرنا زیادہ افضل ہے، بغیر کسی عذر شرعی کے مرد کا گھر میں نماز پڑھنا ناپسندیدہ ہے ۔ اگر کسی معقول عذر کی وجہ سے گھر میں نماز ادا کرتے ہیں تو میاں بیوی باجماعت نماز ادا کرسکتے ہیں۔

اس کی صورت یہ ہوگی کہ شوہر امامت کرے گا اور بیوی اس کی اقتداء میں بائیں جانب تھوڑا سا پیچھے کھڑی ہوگی۔

اور یہاں پر اقامت شوہر بھی کہہ سکتا اور بیوی بھی کیونکہ کوئی غیر مرد موجود نہیں ہے-

جیسا کہ امام کاسانی بدائع الصنائع میں تحریر فرماتے ہیں کہ " ایک مرتبہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام مسجد تشریف لائے تو نماز ہوچکی تھی۔ آپ گھر تشریف لے گے " فجمع اهله فصلی بهم جماعة " آپ نے اپنے  گھر والوں کو جمع کر کے ان کو نماز پڑھائی " (بدائع الصنائع ج 1 ص 153 ) اور ردالمحتار میں ہے " المرأۃ اذا صلت مع  زوجھا فی البیت ان کان قدمھا بحذاء قدم الزوج لا تجوز صلاتھا بالجماعة و ان قدماھا خلف قدم الزوج الا انھا طویلة تقع رأس المرأۃ فی السجود قبل رأس الزوج جازت صلاتھما بالجماعة لان العبرۃ للقدم " اھ ( ج 1 ص 423 )

*ترجمہ* : عورت جب گھر میں اپنے شوہر کے ساتھ (اس کی اقتداء میں) نماز ادا کرے اور اس کا قدم شوہر کے قدم کے مقابل اور برابر ہے تو دونوں کی نماز درست نہیں- اور اگر بیوی کے دونوں قدم شوہر کے قدم سے پیچھے ہوں تو دونوں کی نماز باجماعت درست ہے- اور اگر بیوی دراز قد کی ہو جس کی وجہ سے سجدہ میں اس کا سر شوہر کے سر کے آگے ہوجائے تو کوئی حرج نہیں- کیونکہ یہاں قدموں کا اعتبار ہے ۔

لہٰذا صورت مسئولہ میں زید اپنی بیوی کو نماز پڑھنا سیکھائے اور اپنا جماعت کے ساتھ مسجد میں نماز ادا کرے- کیونکہ مرد کا جماعت کے ساتھ مسجد میں نماز ادا کرنا زیادہ افضل ہے-

ہاں اگر کسی وجہ سے جماعت فوت ہوجائے تو مذکورہ صورت کے مطابق اپنی بیوی کے ساتھ گھر میں جماعت سے نماز پڑھ سکتا ہے- اور رہا سنت و نفل کی نماز جماعت کے ساتھ مکروہ ہے ۔

واللہ اعلم بالصواب
✍️ کریم اللہ رضوی
خادم التدریس دار العلوم مخدومیہ اوشیورہ برج جوگیشوری ویسٹ ممبئی فون نمبر 7666456313

https://t.me/Makhdoomiya_Darulifta/5045
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
Photo
امامت کا بیان
جماعت کا بیان
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM