This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from 🌹 شرعی عدالت چینل 🌸 (✩ ندیم ابن علیم المصبور العینی ✩)
⚡ اگر صرف دو مقتدی ہوں ⚡
(مسئلہ) زید اور بکر دونوں موجود ہیں اور یہ دونوں مقتدی ہیں اور عمرو امام ہے تو کل یہ تین آدمی ہوئے تو کیا اب جماعت ہو سکتی ہے؟ یہ تینوں موجود ہیں اور عمرو امام ہے دائیں زید ہے اور بائیں بکر اور بیچ میں امام صاحب یعنی عمرو. تو کیا اب نماز ہو جائے گی؟جب دو مقتدی ہوں تو امام صاحب کہاں رہیں گے بیچ میں یا آگے مصلے پر؟
⚡⚡⚡⚡⚡
(الجواب) جماعت بالکل ہوسکتی. بلکہ اگر ایک ہی مقتدی ہو تو جماعت ہوجائے گی. قال الإمام: دو آدمی مل کر سوائے جمعہ سب نماز وں پنجگانہ وعید و جنازہ وغیرہ میں جماعت کرسکتے ہیں ایک اور ایک مقتدی بس کافی ہے اور جمعہ کے لئے ایک شخص اہل کو امام مقرر کیجئے کہ وہی عیدین کی بھی امامت کرے اور جمعہ میں کم سے کم تین مقتدی ہوں جمعہ ہوجائے گا زیادہ نہ مل سکیں تو کچھ حرج نہیں. (فتاوی رضویہ، ٥٧٤/٦).
اگر دو مقتدی ہوں تو دونوں امام کے پیچھے کھڑے ہوں امام کے برابر نہیں. امام کے دو مقتدی کے بیچ کھڑا ہونا مکروہ تنزیہی ہے. یعنی نماز بہر حال ہوجائے گی. در مختار میں ہے: لو توسط اثنین کرہ تنزیها وتحریما لو اکثر. (درمختار، ۱ /۸۳)
اگرامام دومقتدیوں کے درمیان کھڑا ہوا تو مکروہ تنزیہی ہے اور اگر دو سے زیادہ کے درمیان کھڑا ہوا تو مکروہ تحریمی ہے. والله اعلم.
⚡⚡⚡⚡⚡
کتبه: ندیم ابن علیم المصبور العینی
(مسئلہ) زید اور بکر دونوں موجود ہیں اور یہ دونوں مقتدی ہیں اور عمرو امام ہے تو کل یہ تین آدمی ہوئے تو کیا اب جماعت ہو سکتی ہے؟ یہ تینوں موجود ہیں اور عمرو امام ہے دائیں زید ہے اور بائیں بکر اور بیچ میں امام صاحب یعنی عمرو. تو کیا اب نماز ہو جائے گی؟جب دو مقتدی ہوں تو امام صاحب کہاں رہیں گے بیچ میں یا آگے مصلے پر؟
⚡⚡⚡⚡⚡
(الجواب) جماعت بالکل ہوسکتی. بلکہ اگر ایک ہی مقتدی ہو تو جماعت ہوجائے گی. قال الإمام: دو آدمی مل کر سوائے جمعہ سب نماز وں پنجگانہ وعید و جنازہ وغیرہ میں جماعت کرسکتے ہیں ایک اور ایک مقتدی بس کافی ہے اور جمعہ کے لئے ایک شخص اہل کو امام مقرر کیجئے کہ وہی عیدین کی بھی امامت کرے اور جمعہ میں کم سے کم تین مقتدی ہوں جمعہ ہوجائے گا زیادہ نہ مل سکیں تو کچھ حرج نہیں. (فتاوی رضویہ، ٥٧٤/٦).
اگر دو مقتدی ہوں تو دونوں امام کے پیچھے کھڑے ہوں امام کے برابر نہیں. امام کے دو مقتدی کے بیچ کھڑا ہونا مکروہ تنزیہی ہے. یعنی نماز بہر حال ہوجائے گی. در مختار میں ہے: لو توسط اثنین کرہ تنزیها وتحریما لو اکثر. (درمختار، ۱ /۸۳)
اگرامام دومقتدیوں کے درمیان کھڑا ہوا تو مکروہ تنزیہی ہے اور اگر دو سے زیادہ کے درمیان کھڑا ہوا تو مکروہ تحریمی ہے. والله اعلم.
⚡⚡⚡⚡⚡
کتبه: ندیم ابن علیم المصبور العینی
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from 🌹 شرعی عدالت چینل 🌸 (✩ ندیم ابن علیم المصبور العینی ✩)
⚡️ نماز وتر میں دعائے قنوت کا حکم ⚡️
(سئل) وتر کی نماز میں دعائے قنوت پڑھنا کیا ہے سنت ہے یا واجب یا مستحب. کتب معتبرہ سے جواب عنایت فرمائیں.
⚡️⚡️⚡️⚡️⚡️
(فأجاب) وتر کی نماز میں دعائے قنوت پڑھنا واجب ہے. اس کے لیے کوئی دعا مقرر نہیں کہ وہی پڑھنا واجب ہے.تبیین میں ہے: ليس في القنوت دعاء مؤقت. بدائع میں فرمایا: لو قرأ غيره جاز ولو قرأ معه غيره كان حسنا. (تبیین الحقائق، ١٧٠/١؛ بدائع الصنائع، ٢٧٣/١)
ہاں، معروف دعائے قنوت {اللهم انا نستعينك.. الخ} پڑھنا سنت ہے. قال المجدد رحمه الله: دعائے قنوت (ای: اللهم إنا نستعينك.. الخ) اگر یاد نہیں یاد کرنا چاہئے کہ خاص اس کا پڑھنا سنت ہے، اور جب تک یاد نہ ہو {اللهم ربنا اتنا في الدنيا حسنة وفي الآخرة حسنة وقنا عذاب النار} پڑھ لیا کرے. (فتاوی رضویہ، ٤٨٥/٧) وقال: ہر دعا پڑھنے سے واجب قنوت ساقط ہوجاتا ہے. (فتاوی رضویہ، ٤٨٤/٧)
⚡️⚡⚡️⚡
کتبه: ندیم ابن علیم المصبور العینی
(سئل) وتر کی نماز میں دعائے قنوت پڑھنا کیا ہے سنت ہے یا واجب یا مستحب. کتب معتبرہ سے جواب عنایت فرمائیں.
⚡️⚡️⚡️⚡️⚡️
(فأجاب) وتر کی نماز میں دعائے قنوت پڑھنا واجب ہے. اس کے لیے کوئی دعا مقرر نہیں کہ وہی پڑھنا واجب ہے.تبیین میں ہے: ليس في القنوت دعاء مؤقت. بدائع میں فرمایا: لو قرأ غيره جاز ولو قرأ معه غيره كان حسنا. (تبیین الحقائق، ١٧٠/١؛ بدائع الصنائع، ٢٧٣/١)
ہاں، معروف دعائے قنوت {اللهم انا نستعينك.. الخ} پڑھنا سنت ہے. قال المجدد رحمه الله: دعائے قنوت (ای: اللهم إنا نستعينك.. الخ) اگر یاد نہیں یاد کرنا چاہئے کہ خاص اس کا پڑھنا سنت ہے، اور جب تک یاد نہ ہو {اللهم ربنا اتنا في الدنيا حسنة وفي الآخرة حسنة وقنا عذاب النار} پڑھ لیا کرے. (فتاوی رضویہ، ٤٨٥/٧) وقال: ہر دعا پڑھنے سے واجب قنوت ساقط ہوجاتا ہے. (فتاوی رضویہ، ٤٨٤/٧)
⚡️⚡⚡️⚡
کتبه: ندیم ابن علیم المصبور العینی
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسٸلے کے متعلق کہ زید نمازی ہے اور اس کی بیوی صحیح سے نماز پڑھنا نہیں جانتی تو *کیا زید اپنی بیوی کی امامت کرسکتا ہے؟* اور کن کن نمازوں (نماز پنجگانہ نماز وتر و نماز نفل) میں امامت کرسکتا ہے اور امام بننے کی صورت *زید اور اس کی بیوی کہاں کھڑے ہوں گے؟* قرآن و حدیث اور اقوال اٸمہ کی روشنی میں جواب دے کر شکریہ کا موقع دیں! نوزش ہوگی!
المستفتی: محبوب رضا صمدانی پٹنہ بھار
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وعلیکم السلام و رحمة اللہ و برکاتہ
*جواب* مرد حضرات کے لیے مسجد میں باجماعت نماز ادا کرنا زیادہ افضل ہے، بغیر کسی عذر شرعی کے مرد کا گھر میں نماز پڑھنا ناپسندیدہ ہے ۔ اگر کسی معقول عذر کی وجہ سے گھر میں نماز ادا کرتے ہیں تو میاں بیوی باجماعت نماز ادا کرسکتے ہیں۔
اس کی صورت یہ ہوگی کہ شوہر امامت کرے گا اور بیوی اس کی اقتداء میں بائیں جانب تھوڑا سا پیچھے کھڑی ہوگی۔
اور یہاں پر اقامت شوہر بھی کہہ سکتا اور بیوی بھی کیونکہ کوئی غیر مرد موجود نہیں ہے-
جیسا کہ امام کاسانی بدائع الصنائع میں تحریر فرماتے ہیں کہ " ایک مرتبہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام مسجد تشریف لائے تو نماز ہوچکی تھی۔ آپ گھر تشریف لے گے " فجمع اهله فصلی بهم جماعة " آپ نے اپنے گھر والوں کو جمع کر کے ان کو نماز پڑھائی " (بدائع الصنائع ج 1 ص 153 ) اور ردالمحتار میں ہے " المرأۃ اذا صلت مع زوجھا فی البیت ان کان قدمھا بحذاء قدم الزوج لا تجوز صلاتھا بالجماعة و ان قدماھا خلف قدم الزوج الا انھا طویلة تقع رأس المرأۃ فی السجود قبل رأس الزوج جازت صلاتھما بالجماعة لان العبرۃ للقدم " اھ ( ج 1 ص 423 )
*ترجمہ* : عورت جب گھر میں اپنے شوہر کے ساتھ (اس کی اقتداء میں) نماز ادا کرے اور اس کا قدم شوہر کے قدم کے مقابل اور برابر ہے تو دونوں کی نماز درست نہیں- اور اگر بیوی کے دونوں قدم شوہر کے قدم سے پیچھے ہوں تو دونوں کی نماز باجماعت درست ہے- اور اگر بیوی دراز قد کی ہو جس کی وجہ سے سجدہ میں اس کا سر شوہر کے سر کے آگے ہوجائے تو کوئی حرج نہیں- کیونکہ یہاں قدموں کا اعتبار ہے ۔
لہٰذا صورت مسئولہ میں زید اپنی بیوی کو نماز پڑھنا سیکھائے اور اپنا جماعت کے ساتھ مسجد میں نماز ادا کرے- کیونکہ مرد کا جماعت کے ساتھ مسجد میں نماز ادا کرنا زیادہ افضل ہے-
ہاں اگر کسی وجہ سے جماعت فوت ہوجائے تو مذکورہ صورت کے مطابق اپنی بیوی کے ساتھ گھر میں جماعت سے نماز پڑھ سکتا ہے- اور رہا سنت و نفل کی نماز جماعت کے ساتھ مکروہ ہے ۔
واللہ اعلم بالصواب
✍️ کریم اللہ رضوی
خادم التدریس دار العلوم مخدومیہ اوشیورہ برج جوگیشوری ویسٹ ممبئی فون نمبر 7666456313
https://t.me/Makhdoomiya_Darulifta/5045
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسٸلے کے متعلق کہ زید نمازی ہے اور اس کی بیوی صحیح سے نماز پڑھنا نہیں جانتی تو *کیا زید اپنی بیوی کی امامت کرسکتا ہے؟* اور کن کن نمازوں (نماز پنجگانہ نماز وتر و نماز نفل) میں امامت کرسکتا ہے اور امام بننے کی صورت *زید اور اس کی بیوی کہاں کھڑے ہوں گے؟* قرآن و حدیث اور اقوال اٸمہ کی روشنی میں جواب دے کر شکریہ کا موقع دیں! نوزش ہوگی!
المستفتی: محبوب رضا صمدانی پٹنہ بھار
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وعلیکم السلام و رحمة اللہ و برکاتہ
*جواب* مرد حضرات کے لیے مسجد میں باجماعت نماز ادا کرنا زیادہ افضل ہے، بغیر کسی عذر شرعی کے مرد کا گھر میں نماز پڑھنا ناپسندیدہ ہے ۔ اگر کسی معقول عذر کی وجہ سے گھر میں نماز ادا کرتے ہیں تو میاں بیوی باجماعت نماز ادا کرسکتے ہیں۔
اس کی صورت یہ ہوگی کہ شوہر امامت کرے گا اور بیوی اس کی اقتداء میں بائیں جانب تھوڑا سا پیچھے کھڑی ہوگی۔
اور یہاں پر اقامت شوہر بھی کہہ سکتا اور بیوی بھی کیونکہ کوئی غیر مرد موجود نہیں ہے-
جیسا کہ امام کاسانی بدائع الصنائع میں تحریر فرماتے ہیں کہ " ایک مرتبہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام مسجد تشریف لائے تو نماز ہوچکی تھی۔ آپ گھر تشریف لے گے " فجمع اهله فصلی بهم جماعة " آپ نے اپنے گھر والوں کو جمع کر کے ان کو نماز پڑھائی " (بدائع الصنائع ج 1 ص 153 ) اور ردالمحتار میں ہے " المرأۃ اذا صلت مع زوجھا فی البیت ان کان قدمھا بحذاء قدم الزوج لا تجوز صلاتھا بالجماعة و ان قدماھا خلف قدم الزوج الا انھا طویلة تقع رأس المرأۃ فی السجود قبل رأس الزوج جازت صلاتھما بالجماعة لان العبرۃ للقدم " اھ ( ج 1 ص 423 )
*ترجمہ* : عورت جب گھر میں اپنے شوہر کے ساتھ (اس کی اقتداء میں) نماز ادا کرے اور اس کا قدم شوہر کے قدم کے مقابل اور برابر ہے تو دونوں کی نماز درست نہیں- اور اگر بیوی کے دونوں قدم شوہر کے قدم سے پیچھے ہوں تو دونوں کی نماز باجماعت درست ہے- اور اگر بیوی دراز قد کی ہو جس کی وجہ سے سجدہ میں اس کا سر شوہر کے سر کے آگے ہوجائے تو کوئی حرج نہیں- کیونکہ یہاں قدموں کا اعتبار ہے ۔
لہٰذا صورت مسئولہ میں زید اپنی بیوی کو نماز پڑھنا سیکھائے اور اپنا جماعت کے ساتھ مسجد میں نماز ادا کرے- کیونکہ مرد کا جماعت کے ساتھ مسجد میں نماز ادا کرنا زیادہ افضل ہے-
ہاں اگر کسی وجہ سے جماعت فوت ہوجائے تو مذکورہ صورت کے مطابق اپنی بیوی کے ساتھ گھر میں جماعت سے نماز پڑھ سکتا ہے- اور رہا سنت و نفل کی نماز جماعت کے ساتھ مکروہ ہے ۔
واللہ اعلم بالصواب
✍️ کریم اللہ رضوی
خادم التدریس دار العلوم مخدومیہ اوشیورہ برج جوگیشوری ویسٹ ممبئی فون نمبر 7666456313
https://t.me/Makhdoomiya_Darulifta/5045
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
Photo
امامت کا بیان
جماعت کا بیان
جماعت کا بیان
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM