This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
نواسۂ رسول ، جگر گوشۂ بتول ، امام عالی مقام ، امام عرش مقام ، سیدنا و مولانا امام حسین پاک رضی اللہ تعالیٰ عنہ و صلی اللہ تعالیٰ علی جدہ وابیہ وامہ واخیہ و علیہ وبنیہ وبارک وسلم کی درگاہِ عالی ، انوارِ الٰہیہ کا منبع ہے ؛ رب تعالی ﷻ اِس کے طفیل ہمارے دل پُرنور کردے !
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3312380882375411&id=100008105947430
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3312380882375411&id=100008105947430
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
مسند احمد میں صحیح حدیث ہے کہ صحابی رسول سیدنا حذیفہ بن یمان جب عراق تشریف لائے تھے تو کوفے کے ایک جوان نےکہاتھا:
" اے ابو عبداللہ ! اللہ کی قسم ، اگر ہم سیدِ عالم ﷺ کو پالیتے تو آپ ﷺ کو زمین پر نہ چلنے دیتے ، بلکہ اپنے کندھوں پر اُٹھالیتے ۔ "
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اے زمین کربلا ! واللہ اگر ہم امام عالی مقام کو پالیتے تو ہمارا حال بھی یہ ہوتا کہ امام پاک کے قدمین شریفین ہوتے اور ہمارے سر ۔
الوداع اے سرزمین کربلا الوداع ۔۔۔۔۔۔۔۔😥
تیرے نصیب کہ تجھ پر شہزادۂ گُلگوں قبا جلوہ فرما ہوگئے ۔
رب تعالیٰ ہمیں بار بار یہاں کی باادب حاضری نصیب فرمائے !
✍️لقمان شاہد
19-11-2021 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3313184682295031&id=100008105947430
" اے ابو عبداللہ ! اللہ کی قسم ، اگر ہم سیدِ عالم ﷺ کو پالیتے تو آپ ﷺ کو زمین پر نہ چلنے دیتے ، بلکہ اپنے کندھوں پر اُٹھالیتے ۔ "
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اے زمین کربلا ! واللہ اگر ہم امام عالی مقام کو پالیتے تو ہمارا حال بھی یہ ہوتا کہ امام پاک کے قدمین شریفین ہوتے اور ہمارے سر ۔
الوداع اے سرزمین کربلا الوداع ۔۔۔۔۔۔۔۔😥
تیرے نصیب کہ تجھ پر شہزادۂ گُلگوں قبا جلوہ فرما ہوگئے ۔
رب تعالیٰ ہمیں بار بار یہاں کی باادب حاضری نصیب فرمائے !
✍️لقمان شاہد
19-11-2021 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3313184682295031&id=100008105947430
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
سیدنا حُر بن یزید لشکر لے کر امام عالی مقام رضی اللہ عنہ کا راستہ روکنے آئے تھے ، لیکن خوش قسمتی نے ان کا ساتھ دیا اور یہ امامِ پاک پر فدا ہوگئے ۔ رحمہ اللہ تعالیٰ
ہزاروں میں بَہَتَّر تن تھے تسلیم و رضا والے
حقیقت میں خدا ان کا تھا اور یہ تھے خُدا والے
یہ نعرہ حُر کا تھا جس وقت فوجِ شام سے نکلا
کہ دیکھو یوں نکلتے ہیں جہنم سے خدا والے
حسین ابنِ علی کی کیا مدد کر سکتا تھا کوئی
وہ خود مشکل کشا تھے اور تھے مشکل کشا والے
شفائے درد عصیاں پنجتن کے در سے ملتی ہے
زمانے میں یہی مشہور ہیں دارالشفا والے
✍️لقمان شاہد
19-11-2021 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3313223428957823&id=100008105947430
ہزاروں میں بَہَتَّر تن تھے تسلیم و رضا والے
حقیقت میں خدا ان کا تھا اور یہ تھے خُدا والے
یہ نعرہ حُر کا تھا جس وقت فوجِ شام سے نکلا
کہ دیکھو یوں نکلتے ہیں جہنم سے خدا والے
حسین ابنِ علی کی کیا مدد کر سکتا تھا کوئی
وہ خود مشکل کشا تھے اور تھے مشکل کشا والے
شفائے درد عصیاں پنجتن کے در سے ملتی ہے
زمانے میں یہی مشہور ہیں دارالشفا والے
✍️لقمان شاہد
19-11-2021 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3313223428957823&id=100008105947430
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
سفرِ عراق سے بخیر و عافیت واپسی ہوگئی ۔
سفر میں بہت ساری نئی چیزیں دیکھنے کو ملتی ہیں اور تجربات میں خاطر خواہ اضافہ ہوتا ہے ۔
کوئی بندہ جب کسی نئی جگہ جاتاہے تو اپنی طبیعت اور مزاج کے مطابق چیزوں میں دل چسپی لیتاہے ۔
اپنی طبیعت چوں کہ شروع ہی سے علم کی طرف مائل رہی ہے ، اس لیے جہاں بھی گئے علم اور علما میں دل چسپی لیتے رہے ۔
بغداد شریف میں علما سے ملاقات اور استفادہ کیا ، نیز شارع متنبی پر واقع مکتبوں پر کتابیں ڈھونڈتے رہے ؛ پھر کربلاے معلا میں بھی کتابوں کی تلاش جاری تھی کہ ایک عالم صاحب نے کہا:
نجف شریف میں کافی سارے مکتبے ہیں ، آپ کی مطلوبہ کتابیں وہاں سے ملیں گی ، یہاں کوئی خاص مکتبہ نہیں ۔
جب نجفِ اشرف میں حاضری ہوئی تو وہاں کے ایک بندے سے واقفیت نکالی تو وہ سُوقُ الحوَیش میں لے گیا جہاں بہت سارے کتب خانے تھے ، ان میں زیادہ تر کتابیں رافضیوں کی تھی ، اور جو تھوڑی بہت اہل سنت کی تھیں وہ کافی مہنگی تھیں ؛ بہرحال حسب ضرورت و استطاعت کچھ نہ کچھ خرید ہی لیا ۔
نجف اشرف میں حوزہ ( یونیورسٹی ) کے ایک شیخ سے ملاقات ہوئی ، ( بغیر ہاتھ ملائے اور سلام کیے ) اس سے رافضیوں کی کچھ کتابوں کے متعلق سوال کیا تو وہ کہنےلگا:
" آپ کو مشورہ دیتا ہوں کہ آپ ایک آئی پیڈ لے لیں اور اس میں ہماری کتب کی ایپ ڈاؤن لوڈ کرلیں ، ایک کلک پر ہزاروں کتابوں تک آپ کی رسائی ہوجائے گی ۔
ویسے اگر آپ کتابیں خریدیں گے تو سب سے پہلے آپ کو خریداری پر کافی سارے پیسے خرچ کرنے پڑیں گے ، بعد ازاں ساتھ لے جانے میں مسئلہ ہوگا ۔ "
پھر اُس نے اپنے آئی پیڈ سے کتابیں دکھائیں اوراُن کا طریقہ کار بھی سمجھایا ۔
اس کی بات سن کر دل تو کیا کہ ابھی آئی پیڈ لے لوں اور اِس سے ساری کتابیں حاصل کرلوں ، لیکن آئی پیڈ کی قیمت نے کہا ایسا کرنا فی الحال آپ کےبس کی بات نہیں !
بہرحال کتابیں کچھ نہ کچھ پسند آ ہی گئیں۔
✍️لقمان شاہد
28-11-2021 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3321067214840111&id=100008105947430
سفر میں بہت ساری نئی چیزیں دیکھنے کو ملتی ہیں اور تجربات میں خاطر خواہ اضافہ ہوتا ہے ۔
کوئی بندہ جب کسی نئی جگہ جاتاہے تو اپنی طبیعت اور مزاج کے مطابق چیزوں میں دل چسپی لیتاہے ۔
اپنی طبیعت چوں کہ شروع ہی سے علم کی طرف مائل رہی ہے ، اس لیے جہاں بھی گئے علم اور علما میں دل چسپی لیتے رہے ۔
بغداد شریف میں علما سے ملاقات اور استفادہ کیا ، نیز شارع متنبی پر واقع مکتبوں پر کتابیں ڈھونڈتے رہے ؛ پھر کربلاے معلا میں بھی کتابوں کی تلاش جاری تھی کہ ایک عالم صاحب نے کہا:
نجف شریف میں کافی سارے مکتبے ہیں ، آپ کی مطلوبہ کتابیں وہاں سے ملیں گی ، یہاں کوئی خاص مکتبہ نہیں ۔
جب نجفِ اشرف میں حاضری ہوئی تو وہاں کے ایک بندے سے واقفیت نکالی تو وہ سُوقُ الحوَیش میں لے گیا جہاں بہت سارے کتب خانے تھے ، ان میں زیادہ تر کتابیں رافضیوں کی تھی ، اور جو تھوڑی بہت اہل سنت کی تھیں وہ کافی مہنگی تھیں ؛ بہرحال حسب ضرورت و استطاعت کچھ نہ کچھ خرید ہی لیا ۔
نجف اشرف میں حوزہ ( یونیورسٹی ) کے ایک شیخ سے ملاقات ہوئی ، ( بغیر ہاتھ ملائے اور سلام کیے ) اس سے رافضیوں کی کچھ کتابوں کے متعلق سوال کیا تو وہ کہنےلگا:
" آپ کو مشورہ دیتا ہوں کہ آپ ایک آئی پیڈ لے لیں اور اس میں ہماری کتب کی ایپ ڈاؤن لوڈ کرلیں ، ایک کلک پر ہزاروں کتابوں تک آپ کی رسائی ہوجائے گی ۔
ویسے اگر آپ کتابیں خریدیں گے تو سب سے پہلے آپ کو خریداری پر کافی سارے پیسے خرچ کرنے پڑیں گے ، بعد ازاں ساتھ لے جانے میں مسئلہ ہوگا ۔ "
پھر اُس نے اپنے آئی پیڈ سے کتابیں دکھائیں اوراُن کا طریقہ کار بھی سمجھایا ۔
اس کی بات سن کر دل تو کیا کہ ابھی آئی پیڈ لے لوں اور اِس سے ساری کتابیں حاصل کرلوں ، لیکن آئی پیڈ کی قیمت نے کہا ایسا کرنا فی الحال آپ کےبس کی بات نہیں !
بہرحال کتابیں کچھ نہ کچھ پسند آ ہی گئیں۔
✍️لقمان شاہد
28-11-2021 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3321067214840111&id=100008105947430
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
نجفِ اشرف میں جب کوئی بندہ فوت ہوجاتا ہے تو لوگ اُس کی میت اٹھا کر مولا علی پاک کی بارگاہ میں لے آتے ہیں اور آپ کے قدمین شریفین کی طرف سے گزار کر لے جاتے ہیں ۔
اللہاللہ وہ کیسا منظر ہوتا ہے ۔ 😥
وہ سُنی مسلمان کتنے خوش قسمت ہیں جنھیں آخری دیدار بھی اِس بارگاہ کا نصیب ہوتا ہے ؎
مِری خاک بھی اُڑے گی با ادب تِری گلی میں
تِرے آستاں سے اُونچا نہ مِرا غبار ہوگا
✍️لقمان شاہد
29-11-2021 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3321754904771342&id=100008105947430
اللہاللہ وہ کیسا منظر ہوتا ہے ۔ 😥
وہ سُنی مسلمان کتنے خوش قسمت ہیں جنھیں آخری دیدار بھی اِس بارگاہ کا نصیب ہوتا ہے ؎
مِری خاک بھی اُڑے گی با ادب تِری گلی میں
تِرے آستاں سے اُونچا نہ مِرا غبار ہوگا
✍️لقمان شاہد
29-11-2021 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3321754904771342&id=100008105947430
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
اے فراقِ محبت ! 😥
اس ویڈیو میں یہ تُرک مسلمان مسجد نبوی شریف کے احاطے میں کھڑے ہوکر اپنا آنکھوں دیکھا واقعہ بیان کررہا ہے کہ:
میں وہاں کھڑا دیکھ رہا تھا کہ چار پولیس والے کسی کا انتظار کر رہے ہیں ۔ پھر ایک شخص نمودار ہوا تو پولیس والوں نے بھاگ کر اُسے قابو کر لیا ، اور اس کے ہاتھ جکڑ لیے ۔
نوجوان نے کہا:
مجھے دعا اور توسل کی اجازت دے دو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میری بات سن لو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں کوئی بھکاری نہیں ہوں ، نہ چور ہوں - پھر وہ جوان چیخنے لگا ۔
میں نے اُسے دیکھا تو ایسے لگا جیسے میں اُسے جانتا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔ میں بتاتا ہوں کہ میں نے اُسے کیسے پہچانا:
دراصل میں نے اُسے کتنی ہی دفعہ بارگاہ رسالت میں روتے ہوئے دیکھا تھا ۔۔۔۔۔۔۔ یہ ایک البانوی نوجوان تھا ، جس کی عمر 35 یا 36 سال کے درمیان تھی ۔۔۔۔۔۔۔ اس کے سنہری بال اور ہلکی سی داڑھی تھی ۔
میں نے پولیس والوں سے کہا:
جب اس کا کوئی جرم نہیں ہے تو تم اس کے ساتھ ایسا کیوں کر رہے ہو ، آخر کیا الزام ہے اس پر؟
انھوں نے مجھے کہا:
ارے او تُرک ! تو پیچھے ہٹ اس معاملے میں بولنے کا تجھے کوئی حق نہیں ۔
لیکن میں نے پھر سے کہا:
آخر اس کا تمھارے ساتھ کیا مسئلہ ہے ؟ کیا اس نے کوئی چوری کی ہے ؟
انھوں نے کہا:
نہیں ، یہ بندہ 6 سال سے اِدھر مدینے شریف میں رہ رہا ہے ، لیکن اس کا یہ قیام غیر قانونی ہے ؛ ہم اسے پکڑ کر واپس اس کے ملک بھیجنا چاہتے ہیں ، لیکن یہ ہر دفعہ ہمیں چکمہ دےکر بھاگ جاتا ہے ، اور جا کر روضہ رسول میں پناہ لے لیتا ہے ، اور ہم اسے اندر جا کر گرفتار نہیں کرنا چاہتے تھے ۔
میں نے پوچھا:
تو اب اس کے ساتھ کیا کرو گے؟
کہنے لگے: ہم اسے پکڑ کر جہاز پر بٹھائیں گے اور واپس البانیا بھیج دیں گے ۔
نوجوان مسلسل روئے جا رہا تھا ، اور کَہ رہا تھا: کیا ہو جائے گا اگر تم مجھے چھوڑ دو گے تو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟
دیکھو ، میں کوئی چور نہیں ہوں ۔۔۔۔۔ میں کسی سے بھیک نہیں مانگتا ۔۔۔۔۔ میں تو ادھر بس محبت رسول میں رہ رہا ہوں ۔
پولیس والوں نے کہا: نہیں ، ایسا جائز نہیں ہے ۔
نوجوان نے کہا: اچھا مجھے ذرا آرام سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک عرض کر لینے دو !
پھر نوجوان نے اپنا منھ گنبد خضرا کی طرف کر لیا ۔
پولیس والوں نے کہا: چل ، کَہ جو کہنا ہے ۔
تو نوجوان نے گنبدخضرا کی طرف دیکھا اور جو کچھ عربی میں کہا ، میں نے سمجھ لیا ۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ نوجوان کَہ رہا تھا:
یا رسول اللہ ! کیا ہمارے درمیان اتفاق نہیں ہوا تھا ۔۔۔۔۔۔ کیا میں نے اپنے ماں باپ کو نہیں چھوڑا ۔۔۔۔۔۔۔ کیا اپنی دکان بند کر کے اپنا گھر بار نہیں چھوڑا ، اور یہ عہد کر کے یہاں نہیں آیا تھا کہ آپ کے جوارِ رحمت میں رہا کروں گا ؟
حضور! اب دیکھ لیجیے یہ مجھے ایسا کرنے سے منع کر رہے ہیں ۔
یا رسول اللہ ، یا رسول اللہ ، آپ مداخلت کیوں نہیں فرماتے !!
یارسول اللہ ! آپ مداخلت کیوں نہیں فرماتے ۔ 😥😥
اتنے میں نوجوان بے حال ہونے لگا ، تو پولیس والوں نے ذرا ڈھیل دی اور نوجوان نیچے گر گیا ۔
ایک پولیس والے نے اسے ٹُھڈا مارتے ہوئے کہا: او دھوکے باز اٹھ !
لیکن نوجوان نے کوئی ردعمل ظاہر نہ کیا۔
میں نے پولیس والوں سے کہا:
یہ نہیں بھاگے گا ، تم حمامات سے پانی لاؤ اور اس کے چہرے پر ڈالو -
لیکن نوجوان کوئی حرکت نہیں کررہا تھا ۔
ایک پولیس والے نے کہا:
اسے دیکھو تو سہی ، کہیں یہ سچ مچ مر ہی نہ گیا ہو ۔
دوسرا پولیس والاکہنے لگا:
اسے ہم نے کون سی ایسی ضرب لگائی ہے جس سے یہ مر جائے !
پھر انھوں نے ایمبولینس والوں کو فون کیا ، وہ اُدھر سامنے والے سات نمبر گیٹ سے ایک ایمبولینس لے آئے ۔
انھوں نے نوجوان کی شہ رگ پر ہاتھ رکھ کر حرکت نوٹ کی اور نبض چیک کی تو کہنے لگے:
اسے تو مَرے ہوئے 15 منٹ گزر چکے ہیں ۔ 😥😥
اب پولیس والے جیسے مجرم ہوں ، نیچے بیٹھ گئے اور رونے لگے ۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ منظر بھی دیکھنے والا تھا ۔
ان میں سے ایک تو اپنے دونوں زانووں پر ہاتھ مارتے ہوئے کہتاتھا:
ہائے ہمارے ہاتھ کیوں نہ ٹوٹ گئے ۔۔۔۔۔۔۔ کاش ہمیں معلوم ہوتا کہ اسے رسول اللہ سے اتنی شدید محبت ہے ، ہائے ہمارے ہاتھ کیوں نہ ٹوٹ گئے ۔ 😥
اس کے بعد ایمبولینس والوں نے اُسے وہاں سے اُٹھا لیا ، اور جنت البقیع کی طرف تجہیز و تکفین والے حصے میں لے گئے ۔
غسل کے وقت میں بھی وہیں موجود تھا ، میں انھیں کہتا تھا مجھے بھی ہاتھ لگانے دو ، مجھے بھی اس کی چارپائی کو اٹھانے دو !!
جب جنازہ تیار ہو کر نماز کے لے جانے لگا تو پولیس والوں نے مجھے کہا:
ہم نے جتنا گناہ اٹھایا ہے بس اتنا کافی ہے ، اسے ہمارے سوا اور کوئی نہیں اٹھائے گا ، شاید اسی طرح ہمیں آخرت میں کچھ رعایت مل جائے ۔ 😥
میرے سامنے ہی وہ نوجوان بار بار کَہ رہا تھا کہ یا رسول اللہ ! آپ مداخلت کیوں نہیں فرما رہے ؟
اس ویڈیو میں یہ تُرک مسلمان مسجد نبوی شریف کے احاطے میں کھڑے ہوکر اپنا آنکھوں دیکھا واقعہ بیان کررہا ہے کہ:
میں وہاں کھڑا دیکھ رہا تھا کہ چار پولیس والے کسی کا انتظار کر رہے ہیں ۔ پھر ایک شخص نمودار ہوا تو پولیس والوں نے بھاگ کر اُسے قابو کر لیا ، اور اس کے ہاتھ جکڑ لیے ۔
نوجوان نے کہا:
مجھے دعا اور توسل کی اجازت دے دو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میری بات سن لو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں کوئی بھکاری نہیں ہوں ، نہ چور ہوں - پھر وہ جوان چیخنے لگا ۔
میں نے اُسے دیکھا تو ایسے لگا جیسے میں اُسے جانتا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔ میں بتاتا ہوں کہ میں نے اُسے کیسے پہچانا:
دراصل میں نے اُسے کتنی ہی دفعہ بارگاہ رسالت میں روتے ہوئے دیکھا تھا ۔۔۔۔۔۔۔ یہ ایک البانوی نوجوان تھا ، جس کی عمر 35 یا 36 سال کے درمیان تھی ۔۔۔۔۔۔۔ اس کے سنہری بال اور ہلکی سی داڑھی تھی ۔
میں نے پولیس والوں سے کہا:
جب اس کا کوئی جرم نہیں ہے تو تم اس کے ساتھ ایسا کیوں کر رہے ہو ، آخر کیا الزام ہے اس پر؟
انھوں نے مجھے کہا:
ارے او تُرک ! تو پیچھے ہٹ اس معاملے میں بولنے کا تجھے کوئی حق نہیں ۔
لیکن میں نے پھر سے کہا:
آخر اس کا تمھارے ساتھ کیا مسئلہ ہے ؟ کیا اس نے کوئی چوری کی ہے ؟
انھوں نے کہا:
نہیں ، یہ بندہ 6 سال سے اِدھر مدینے شریف میں رہ رہا ہے ، لیکن اس کا یہ قیام غیر قانونی ہے ؛ ہم اسے پکڑ کر واپس اس کے ملک بھیجنا چاہتے ہیں ، لیکن یہ ہر دفعہ ہمیں چکمہ دےکر بھاگ جاتا ہے ، اور جا کر روضہ رسول میں پناہ لے لیتا ہے ، اور ہم اسے اندر جا کر گرفتار نہیں کرنا چاہتے تھے ۔
میں نے پوچھا:
تو اب اس کے ساتھ کیا کرو گے؟
کہنے لگے: ہم اسے پکڑ کر جہاز پر بٹھائیں گے اور واپس البانیا بھیج دیں گے ۔
نوجوان مسلسل روئے جا رہا تھا ، اور کَہ رہا تھا: کیا ہو جائے گا اگر تم مجھے چھوڑ دو گے تو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟
دیکھو ، میں کوئی چور نہیں ہوں ۔۔۔۔۔ میں کسی سے بھیک نہیں مانگتا ۔۔۔۔۔ میں تو ادھر بس محبت رسول میں رہ رہا ہوں ۔
پولیس والوں نے کہا: نہیں ، ایسا جائز نہیں ہے ۔
نوجوان نے کہا: اچھا مجھے ذرا آرام سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک عرض کر لینے دو !
پھر نوجوان نے اپنا منھ گنبد خضرا کی طرف کر لیا ۔
پولیس والوں نے کہا: چل ، کَہ جو کہنا ہے ۔
تو نوجوان نے گنبدخضرا کی طرف دیکھا اور جو کچھ عربی میں کہا ، میں نے سمجھ لیا ۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ نوجوان کَہ رہا تھا:
یا رسول اللہ ! کیا ہمارے درمیان اتفاق نہیں ہوا تھا ۔۔۔۔۔۔ کیا میں نے اپنے ماں باپ کو نہیں چھوڑا ۔۔۔۔۔۔۔ کیا اپنی دکان بند کر کے اپنا گھر بار نہیں چھوڑا ، اور یہ عہد کر کے یہاں نہیں آیا تھا کہ آپ کے جوارِ رحمت میں رہا کروں گا ؟
حضور! اب دیکھ لیجیے یہ مجھے ایسا کرنے سے منع کر رہے ہیں ۔
یا رسول اللہ ، یا رسول اللہ ، آپ مداخلت کیوں نہیں فرماتے !!
یارسول اللہ ! آپ مداخلت کیوں نہیں فرماتے ۔ 😥😥
اتنے میں نوجوان بے حال ہونے لگا ، تو پولیس والوں نے ذرا ڈھیل دی اور نوجوان نیچے گر گیا ۔
ایک پولیس والے نے اسے ٹُھڈا مارتے ہوئے کہا: او دھوکے باز اٹھ !
لیکن نوجوان نے کوئی ردعمل ظاہر نہ کیا۔
میں نے پولیس والوں سے کہا:
یہ نہیں بھاگے گا ، تم حمامات سے پانی لاؤ اور اس کے چہرے پر ڈالو -
لیکن نوجوان کوئی حرکت نہیں کررہا تھا ۔
ایک پولیس والے نے کہا:
اسے دیکھو تو سہی ، کہیں یہ سچ مچ مر ہی نہ گیا ہو ۔
دوسرا پولیس والاکہنے لگا:
اسے ہم نے کون سی ایسی ضرب لگائی ہے جس سے یہ مر جائے !
پھر انھوں نے ایمبولینس والوں کو فون کیا ، وہ اُدھر سامنے والے سات نمبر گیٹ سے ایک ایمبولینس لے آئے ۔
انھوں نے نوجوان کی شہ رگ پر ہاتھ رکھ کر حرکت نوٹ کی اور نبض چیک کی تو کہنے لگے:
اسے تو مَرے ہوئے 15 منٹ گزر چکے ہیں ۔ 😥😥
اب پولیس والے جیسے مجرم ہوں ، نیچے بیٹھ گئے اور رونے لگے ۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ منظر بھی دیکھنے والا تھا ۔
ان میں سے ایک تو اپنے دونوں زانووں پر ہاتھ مارتے ہوئے کہتاتھا:
ہائے ہمارے ہاتھ کیوں نہ ٹوٹ گئے ۔۔۔۔۔۔۔ کاش ہمیں معلوم ہوتا کہ اسے رسول اللہ سے اتنی شدید محبت ہے ، ہائے ہمارے ہاتھ کیوں نہ ٹوٹ گئے ۔ 😥
اس کے بعد ایمبولینس والوں نے اُسے وہاں سے اُٹھا لیا ، اور جنت البقیع کی طرف تجہیز و تکفین والے حصے میں لے گئے ۔
غسل کے وقت میں بھی وہیں موجود تھا ، میں انھیں کہتا تھا مجھے بھی ہاتھ لگانے دو ، مجھے بھی اس کی چارپائی کو اٹھانے دو !!
جب جنازہ تیار ہو کر نماز کے لے جانے لگا تو پولیس والوں نے مجھے کہا:
ہم نے جتنا گناہ اٹھایا ہے بس اتنا کافی ہے ، اسے ہمارے سوا اور کوئی نہیں اٹھائے گا ، شاید اسی طرح ہمیں آخرت میں کچھ رعایت مل جائے ۔ 😥
میرے سامنے ہی وہ نوجوان بار بار کَہ رہا تھا کہ یا رسول اللہ ! آپ مداخلت کیوں نہیں فرما رہے ؟
دیکھا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مداخلت فرما دی ، اور ملک الموت نے اپنا فریضہ ادا کر ( کے اسے آپ تک ہمیشہ کے لیے پہنچا ) دیا ۔
اللہ ہمیں اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کی ویسی ہی محبت عطا فرمائے جیسی اس البانی نوجوان کو عطا فرمائی تھی !!
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3321883591425140&id=100008105947430
اللہ ہمیں اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کی ویسی ہی محبت عطا فرمائے جیسی اس البانی نوجوان کو عطا فرمائی تھی !!
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3321883591425140&id=100008105947430
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
کوڑے لگنے کے سبب امام السنہ احمد بن حنبل(رحمہ اللہ) کا گوشت بعض جگہ سے مردہ ہو گیا تھا ۔
وہ کافی تکلیف میں رہتے تھے ، جس کے سبب ان کے جسم سے وہ گوشت کاٹ کر علیحدہ کرنا پڑا ۔
میں جب آلہ جراحت سے ان کی پشت چیر کر گوشت علیحدہ کر رہا تھا تو آپ فرماتے جا رہے تھے:
اے اللہ معتصم کی مغفرت فرما !
میں نے کہا:
لوگوں پر ظلم ہو تو وہ بدعائیں دیتے ہیں ، اور آپ معتصم کی مغفرت کی دعا کرتے ہیں ؛ جب کہ اس نے آپ پر ظلم کے پہاڑ توڑے !!
فرمانے لگے:
"یہ سب باتیں اپنی جگہ ۔۔۔۔۔۔۔ مگر وہ رسول اللہ ﷺ کے چچا کی اولاد میں سے ہے ۔
مجھے حیا آتی ہے کہ میں روز محشر حضور علیہ السلام کے پاس اس حال میں جاؤں کہ اُن کے قرابت دار اور میرے درمیان جھگڑا ہو ، پس میں نے اُسے معاف کر دیا "
(طبیب القراء ، روضۃ العقلاء لابن حبان :224)
( علی سنان کی وال سے )
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3324275671185932&id=100008105947430
وہ کافی تکلیف میں رہتے تھے ، جس کے سبب ان کے جسم سے وہ گوشت کاٹ کر علیحدہ کرنا پڑا ۔
میں جب آلہ جراحت سے ان کی پشت چیر کر گوشت علیحدہ کر رہا تھا تو آپ فرماتے جا رہے تھے:
اے اللہ معتصم کی مغفرت فرما !
میں نے کہا:
لوگوں پر ظلم ہو تو وہ بدعائیں دیتے ہیں ، اور آپ معتصم کی مغفرت کی دعا کرتے ہیں ؛ جب کہ اس نے آپ پر ظلم کے پہاڑ توڑے !!
فرمانے لگے:
"یہ سب باتیں اپنی جگہ ۔۔۔۔۔۔۔ مگر وہ رسول اللہ ﷺ کے چچا کی اولاد میں سے ہے ۔
مجھے حیا آتی ہے کہ میں روز محشر حضور علیہ السلام کے پاس اس حال میں جاؤں کہ اُن کے قرابت دار اور میرے درمیان جھگڑا ہو ، پس میں نے اُسے معاف کر دیا "
(طبیب القراء ، روضۃ العقلاء لابن حبان :224)
( علی سنان کی وال سے )
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3324275671185932&id=100008105947430
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
پاکستانی بھائیوں کے بھی صدقے واری ۔۔۔۔۔۔ پتا نہیں کہاں کہاں سے نکتےاخذ کرتے ہیں ۔
ابھی ایک بھائی کہتاہے:
آج بڑی گیارھویں شریف ہے ، کیا مجھے چوری کرنے کی ضرورت تو پیش نہیں آئے گی ؟
میں نے کہا وہ کیوں ؟
کہتا ہے:
حضور غوث پاک چوروں کو قطب بناتے رہے ہیں ۔
میری بے ساختہ ہنسی نکل گئی ۔😃
میں نے کہا او اللہ کے بندے اس کا یہ مطلب نہیں کہ تو آج چوری کر ۔۔۔۔۔۔۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پہلےکبھی یہ حرکت کربیٹھا ہے تو آج سچی توبہ کرلے ، بطفیل غوث پاک قبول ہوجائے گی ۔
✍️لقمان شاہد
15-11-2021 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3309628839317282&id=100008105947430
ابھی ایک بھائی کہتاہے:
آج بڑی گیارھویں شریف ہے ، کیا مجھے چوری کرنے کی ضرورت تو پیش نہیں آئے گی ؟
میں نے کہا وہ کیوں ؟
کہتا ہے:
حضور غوث پاک چوروں کو قطب بناتے رہے ہیں ۔
میری بے ساختہ ہنسی نکل گئی ۔😃
میں نے کہا او اللہ کے بندے اس کا یہ مطلب نہیں کہ تو آج چوری کر ۔۔۔۔۔۔۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پہلےکبھی یہ حرکت کربیٹھا ہے تو آج سچی توبہ کرلے ، بطفیل غوث پاک قبول ہوجائے گی ۔
✍️لقمان شاہد
15-11-2021 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3309628839317282&id=100008105947430