🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
آج ہم بادل نخواستہ‌ شہرِبغداد کو الوداع کَہ رہے ہیں ۔
ہم‌ یہاں موجود اولیا ، عرفا ، علما اور فقہا کا ظاہری زمانہ تو نہ پاسکے لیکن ان کی آرام گاہوں سے آنکھیں ٹھنڈی کر چلے ۔

آج حضرت حبیب عجمی اور شیخ منصور حلاج رحمھمااللہ کے مزارات کی زیارت کے ساتھ صالحہ خاتون ، حضرت زبیدہ ( زوجہ ہارون رشید ) کی قبر پر فاتحہ خوانی کی بھی سعادت ملی ۔
اللہ بخشے نیک سیرت ، انصاف پسند ، دریا دل اور نرم مزاج خاتون تھیں ۔
یہ ایک دفعہ بغداد سے مکہ شریف آئیں تو انھوں نے راستے میں ایک دیوار پر کسی محبت کرنے والے کے شعر لکھے ہوئے دیکھے تو مَنت مانی کہ اگر یہ شعر لکھنے والامجھے مل گیا تو اُسے اُس کے محبوب تک پہنچادوں گی ۔
جب یہ مقامِ مزدلفہ پہنچیں تو دیکھا کہ ایک شخص وہی اشعار گنگنا رہاہے ۔
اِنھوں نے اُسے بلا کرپوچھا ، تو وہ کہنے لگا:

” یہ اشعار میں نے اپنی چچا زاد کے لیے لکھے ہیں ، جس کے گھروالوں نے قسم کھا رکھی ہے کہ اُس کا نکاح میرے ساتھ نہیں کرنا “

زبیدہ خاتون کو اس کی حالت پر بڑا رحم آیا اور انھوں نے لڑکی کے اہلِ خانہ سے رابطہ کرکے انھیں بہت سارا مال دیا اور نکاح کے لیے راضی کرلیا ۔

نکاح کے بعد اِنھیں معلوم ہوا کہ لڑکا ہی نہیں ، لڑکی تو لڑکے سے بڑھ کر اُس سے عشق کرتی تھی ۔

حضرت زبیدہ رحمھااللہ اپنے اس کام کو عظیم نیکیوں میں شمار کیا کرتی تھیں ، اور کہتی تھیں:

مجھے اس کار خیر سے جتنی خوشی ملی ، کسی کام سے نہیں ملی ۔
میں نے دو محبت کرنے والوں کو جمع کردیا ۔

(ملخصاً: الداء والدواء ، ص 563 ، ط دارعالم الفوائدمکة المکرمة ، س1429 ھ )

آج میں نے ان کے مزار پر دعا کی ہے کہ:

یارب! محبت کرنے والوں کو خیر کے ساتھ جمع فرمادے ، اور اِس سلسے میں مجھے جو بھی دعا وغیرہ کے لیے کہے اس کی مراد پوری فرما دے ، تیرے خزانوں میں کوئی کمی نہیں ۔

اب حافظ شیرزای کے اس شعر پر سرزمین بغداد کو الوداع ؎

ره نبُردیم به مقصودِ خود اندر شیراز
خُرم آن روز که حافظ رهِ بغداد کند 😥

( ہم شیراز میں رہتے ہوئے اپنی مراد تک نہ پہنچ سکے ۔
وہ کتنا خوشی کا دن ہوگا جب حافظ بغداد کی طرف روانہ ہو گا ۔ 😥 )

✍️لقمان شاہد
1711-2021 ء

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3311581552455344&id=100008105947430
آج حضرت حبیب عجمی اور شیخ منصور حلاج رحمھمااللہ کے مزارات کی زیارت کے ساتھ صالحہ خاتون ، حضرت زبیدہ ( زوجہ ہارون رشید ) کی قبر پر فاتحہ خوانی کی بھی سعادت ملی ۔
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3311581552455344&id=100008105947430
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
اللہ اللہ یہ کس ہستی کا مزارِ پر انوار ہے !!

شہزادۂ رسول ، سیدنا و مولانا عون بن عبداللہ رضی اللہ عنہ ، جوکہ سیدہ زینب بنت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے لخت جگر اور امام عالی مقام امام حسین پاک کے بھانجے ہیں ۔

اللہ کریم اِن کے طفیل ہمیں صدق و خلوص کاپیکر بنائے ، ہمارے دینی و دنیوی معاملات درست فرمائے !

ہو گئے قرباں محمد اور عَون
سیِّدہ زَینب کے پیاروں کو سلام

کربلا تیری بہاروں کو سلام
جاں نثاری کے نظاروں کو سلام 😥

✍️لقمان شاہد
17-11-2021 ء

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3311946232418876&id=100008105947430
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
نواسۂ رسول ، جگر گوشۂ بتول ، امام عالی مقام ، امام عرش مقام ، سیدنا و مولانا امام حسین پاک رضی اللہ تعالیٰ عنہ و صلی اللہ تعالیٰ علی جدہ وابیہ وامہ واخیہ و علیہ وبنیہ وبارک وسلم کی درگاہِ عالی ، انوارِ الٰہیہ کا منبع ہے ؛ رب تعالی ﷻ اِس کے طفیل ہمارے دل پُرنور کردے !
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3312380882375411&id=100008105947430
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
مسند احمد میں صحیح حدیث ہے کہ صحابی رسول سیدنا حذیفہ بن یمان جب عراق تشریف لائے تھے تو کوفے کے ایک جوان نےکہاتھا:

" اے ابو عبداللہ ! اللہ کی قسم ، اگر ہم سیدِ عالم ﷺ کو پالیتے تو آپ ‌ﷺ کو زمین پر نہ چلنے دیتے ، بلکہ اپنے کندھوں پر اُٹھالیتے ۔ "

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اے زمین کربلا ! واللہ اگر ہم امام عالی مقام کو پالیتے تو ہمارا حال بھی یہ ہوتا کہ امام پاک کے قدمین شریفین ہوتے اور ہمارے سر ۔

الوداع اے سرزمین کربلا الوداع ۔۔۔۔۔۔۔۔😥
تیرے نصیب کہ تجھ پر شہزادۂ گُلگوں قبا جلوہ فرما ہوگئے ۔
رب تعالیٰ ہمیں بار بار یہاں کی باادب حاضری نصیب فرمائے !

✍️لقمان شاہد
19-11-2021 ء

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3313184682295031&id=100008105947430
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
سیدنا حُر بن یزید لشکر لے کر امام عالی مقام رضی اللہ عنہ کا راستہ روکنے آئے تھے ، لیکن خوش قسمتی نے ان کا ساتھ دیا اور یہ امامِ پاک پر فدا ہوگئے ۔ رحمہ اللہ تعالیٰ

ہزاروں میں بَہَتَّر تن تھے تسلیم و رضا والے
حقیقت میں خدا ان کا تھا اور یہ تھے خُدا والے

یہ نعرہ حُر کا تھا جس وقت فوجِ شام سے نکلا
کہ دیکھو یوں نکلتے ہیں جہنم سے خدا والے

حسین ابنِ علی کی کیا مدد کر سکتا تھا کوئی
وہ خود مشکل کشا تھے اور تھے مشکل کشا والے

شفائے درد عصیاں پنجتن کے در سے ملتی ہے
زمانے میں یہی مشہور ہیں دارالشفا والے

✍️لقمان شاہد
19-11-2021 ء

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3313223428957823&id=100008105947430