This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
*استبراء کیاہے اور کہاں کہاں اس کا اطلاق ہے؟*
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
علمائے کرام کی بارگاہ میں عرض ہے کہ استبراء کے بارے میں مکمل وضاحت فرما ئیں استبراء کیا چیز ہے شریعت میں اس کا کیا حکم ہے
المستفتی۔۔۔ محمد اجمل رضا؛
ا_______(♟️)____________
*وعلیکم السلام ورحمةاللہ وبرکاتہ*
*الجواب بتوفیق اللہ التواب* استبرا علم فقہ کا ایک اصطلاحی لفظ ہے یہ باب الاستنجا اور کتاب النکاح دونوں جگہوں میں آیاہے-
باب الاستنجا میں اس کا مطلب یہ ہےکہ پیشاب کے بعد ایسا کام کرنا کہ جس سے رکا ہوا پیشاب کا قطرہ باہر آ جاٸے - یہ اسی آدمی پر واجب ہے کہ جسے بعدِ فراغت یہ احتمال ہو کہ کچھ قطرے باقی رہ گٸے ہیں پھر آنا ممکن ہے - استبرا ٹہلنے سے ہوتا ہے یا زمین پر زور سے پاٶں مارنے سے یا کھنکھار کرنے سے یاکروٹ لیٹنے سے یاداہنے پیر کو باٸیں پر اور باٸیں کو داہنے پر زور لگانے سے، وغیرہ -
نیز یہ حکم مردوں کے لیے ہے عورت بعدِ فراغت کچھ وقفہ کے بعد پاکی حاصل کر لے،
نور الایضاح میں ہے”یلزم الرجل الاستبرإ حتی یزول اثر البول و یطمٸن قلبہ علی حسب عادتہ اما بالمشی اوالتنحنح والاضطجاع او غیرہ“ فصل فی الاستنجإ
*(📙اور رد المحتار میں ہے”)*
*یجب الاستبرإ بمشی او تنحنح او نوم علی شقہ الایسر و یختلف بطباع الناس “ج١ص٥٥٨باب الانجاس*
مگر حدیث میں بہترین طریقہ یہ بتایا گیا ہے کہ عضو مخصوص کی جڑ کو پکڑ کر آگے کی طرف تین مرتبہ نچوڑے مگر باٸیں ہاتھ سے، داٸیں سے مکروہ ہے جبکہ بلا عذر ہو -
حدیث شریف ہے”ان النبی ﷺ کان اذابال نترذکرہ ثلاث نترات“نبی ﷺ پیشاب شریف کے بعد تین مرتبہ عضو مبارک کو نچوڑتے، سنن بہیقی باب الاستبرإ عن البول ج١ص١٨٣ *(📕ایسا ہی بہار شریعت ح٢، ص٤١٢ پر ہے،)*
واللہ تعالی اعلم
نیز کتاب النکاح میں استبرا سے مراد نکاح سے پہلے یا بعد ایک حیض کا انتظار کرنا ہے تاکہ رحم کی فراغت معلوم ہو جاٸے ورنہ احتمال رہےگا کہ حاملہ ہے یا نہیں - پھر غیر کی کھیتی سیراب کرنا لازم آٸےگا - مثلاً آقا اپنی باندی سے وطی کرتا تھا اب باندی کا نکاح کرنا چاہتا ہے تو وہ اب ایک حیض آنے تک وطی بند کر دے اور یہ استبرا آقا پر واجب ہے مگر بعدِ نکاح شوہر پر واجب نہیں ہاں مستحب ضرور ہے -
*(📙شرح وقایہ میں ہے”)* *یجوزنکاح امة* *وطٸھا سیدھا ولا یجب علی الزوج الاستبرإ“ اھ - ج٢، کتاب النکاح*
*(📗ایسا ہی بہار شریعت ح٧، ص٣٤، محرمات کے بیان میں ہے،)*
*واللہ تعالی اعلم*
٧رمضان المبارک ١٤٤١ھ
ا_______(🖊)________
*کتبـــہ؛* مفتی محمد عثمان غنی مصباحی صاحب صدر شعبئہ افتاء دارالعلوم فدائیہ خانقاہ سمر قندیہ دربھنگہ بہار؛*
https://t.me/AlHalqatulilmia/832
ا________(🖊)________
*🖊المشتـــہر فضل کبیر🖊*
*منجانب؛منتظمین الحلقةالعلمیہ گروپ محمد عقیل احمد قادری حنفی سورت گجرات انڈیا؛*
ا_________(🖊)__________
680
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
علمائے کرام کی بارگاہ میں عرض ہے کہ استبراء کے بارے میں مکمل وضاحت فرما ئیں استبراء کیا چیز ہے شریعت میں اس کا کیا حکم ہے
المستفتی۔۔۔ محمد اجمل رضا؛
ا_______(♟️)____________
*وعلیکم السلام ورحمةاللہ وبرکاتہ*
*الجواب بتوفیق اللہ التواب* استبرا علم فقہ کا ایک اصطلاحی لفظ ہے یہ باب الاستنجا اور کتاب النکاح دونوں جگہوں میں آیاہے-
باب الاستنجا میں اس کا مطلب یہ ہےکہ پیشاب کے بعد ایسا کام کرنا کہ جس سے رکا ہوا پیشاب کا قطرہ باہر آ جاٸے - یہ اسی آدمی پر واجب ہے کہ جسے بعدِ فراغت یہ احتمال ہو کہ کچھ قطرے باقی رہ گٸے ہیں پھر آنا ممکن ہے - استبرا ٹہلنے سے ہوتا ہے یا زمین پر زور سے پاٶں مارنے سے یا کھنکھار کرنے سے یاکروٹ لیٹنے سے یاداہنے پیر کو باٸیں پر اور باٸیں کو داہنے پر زور لگانے سے، وغیرہ -
نیز یہ حکم مردوں کے لیے ہے عورت بعدِ فراغت کچھ وقفہ کے بعد پاکی حاصل کر لے،
نور الایضاح میں ہے”یلزم الرجل الاستبرإ حتی یزول اثر البول و یطمٸن قلبہ علی حسب عادتہ اما بالمشی اوالتنحنح والاضطجاع او غیرہ“ فصل فی الاستنجإ
*(📙اور رد المحتار میں ہے”)*
*یجب الاستبرإ بمشی او تنحنح او نوم علی شقہ الایسر و یختلف بطباع الناس “ج١ص٥٥٨باب الانجاس*
مگر حدیث میں بہترین طریقہ یہ بتایا گیا ہے کہ عضو مخصوص کی جڑ کو پکڑ کر آگے کی طرف تین مرتبہ نچوڑے مگر باٸیں ہاتھ سے، داٸیں سے مکروہ ہے جبکہ بلا عذر ہو -
حدیث شریف ہے”ان النبی ﷺ کان اذابال نترذکرہ ثلاث نترات“نبی ﷺ پیشاب شریف کے بعد تین مرتبہ عضو مبارک کو نچوڑتے، سنن بہیقی باب الاستبرإ عن البول ج١ص١٨٣ *(📕ایسا ہی بہار شریعت ح٢، ص٤١٢ پر ہے،)*
واللہ تعالی اعلم
نیز کتاب النکاح میں استبرا سے مراد نکاح سے پہلے یا بعد ایک حیض کا انتظار کرنا ہے تاکہ رحم کی فراغت معلوم ہو جاٸے ورنہ احتمال رہےگا کہ حاملہ ہے یا نہیں - پھر غیر کی کھیتی سیراب کرنا لازم آٸےگا - مثلاً آقا اپنی باندی سے وطی کرتا تھا اب باندی کا نکاح کرنا چاہتا ہے تو وہ اب ایک حیض آنے تک وطی بند کر دے اور یہ استبرا آقا پر واجب ہے مگر بعدِ نکاح شوہر پر واجب نہیں ہاں مستحب ضرور ہے -
*(📙شرح وقایہ میں ہے”)* *یجوزنکاح امة* *وطٸھا سیدھا ولا یجب علی الزوج الاستبرإ“ اھ - ج٢، کتاب النکاح*
*(📗ایسا ہی بہار شریعت ح٧، ص٣٤، محرمات کے بیان میں ہے،)*
*واللہ تعالی اعلم*
٧رمضان المبارک ١٤٤١ھ
ا_______(🖊)________
*کتبـــہ؛* مفتی محمد عثمان غنی مصباحی صاحب صدر شعبئہ افتاء دارالعلوم فدائیہ خانقاہ سمر قندیہ دربھنگہ بہار؛*
https://t.me/AlHalqatulilmia/832
ا________(🖊)________
*🖊المشتـــہر فضل کبیر🖊*
*منجانب؛منتظمین الحلقةالعلمیہ گروپ محمد عقیل احمد قادری حنفی سورت گجرات انڈیا؛*
ا_________(🖊)__________
680