🔎 #Sacred_Traditions
یہ وعید ہر اس شخص کے لیے ہے جو الله کے مال پر مقرر کیا گیا ہو جیسے حاکم، متولی، عامل زکوٰۃ، چندہ لینے والے یا مالِ غنیمت پر مقرر کیے جانے والے افراد۔ الله کے مال سے مراد بیت المال کا مال، زکوٰۃ، خراج، جزیہ، فئ، مالِ غنیمت وغیرہ ہیں اور ان میں ناحق تصرف کرنا گناہ کبیرہ، حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔ حق سے مراد استحقاق ہے یا اجازت، یعنی ان کا حق نہیں اور وہ لے لیتے ہیں یا حق کم ہے وہ زیادہ لے لیتے ہیں۔ اگر یہ حلال سمجھ کر کرتے ہیں تو ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے، اگر حرام سمجھ کر کرتے ہیں تو فاسق ہیں، دوزخ میں سزا کے لیے جائیں گے۔ والعیاذ بالله تعالی!
https://www.facebook.com/114021443682673/posts/455091012909046/
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
Sacred Traditions Official
یہ وعید ہر اس شخص کے لیے ہے جو الله کے مال پر مقرر کیا گیا ہو جیسے حاکم، متولی، عامل زکوٰۃ، چندہ لینے والے یا مالِ غنیمت پر مقرر کیے جانے والے افراد۔ الله کے مال سے مراد بیت المال کا مال، زکوٰۃ، خراج، جزیہ، فئ، مالِ غنیمت وغیرہ ہیں اور ان میں ناحق تصرف کرنا گناہ کبیرہ، حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔ حق سے مراد استحقاق ہے یا اجازت، یعنی ان کا حق نہیں اور وہ لے لیتے ہیں یا حق کم ہے وہ زیادہ لے لیتے ہیں۔ اگر یہ حلال سمجھ کر کرتے ہیں تو ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے، اگر حرام سمجھ کر کرتے ہیں تو فاسق ہیں، دوزخ میں سزا کے لیے جائیں گے۔ والعیاذ بالله تعالی!
https://www.facebook.com/114021443682673/posts/455091012909046/
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
Sacred Traditions Official
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
اگر تمہیں کوئی مصیبت پہنچے تو یہ مت کہو : اگر میں ایسا کرتا تو مجھے فلاں مصیبت نہ پہنچتی - بلکہ یہ کہو : اللہ نے ایسا ہی لکھا تھا اور اس نے جو چاہا وہی کیا کیونکہ اگر کا لفظ شیطانی عمل کی ابتداء کرتا ہے -
🔎 #Sacred_Traditions
بعض لوگ اگر مگر کے چکر میں پڑ جاتے ہیں، اس طرح دراصل مشکل کا احساس مزید بڑھ جاتا ہے اور صدمے میں بھی اضافہ ہوتا ہے. یاد رہے کہ جس مشکل یا مصیبت کا پہنچنا تقدیر میں لکھا ہے وہ پہنچ کر رہے گی، یہ سوچ بنانے سے ایک تو ہمارا تقدیر پر ایمان مضبوط ہوگا اور دوسرا ہمارے دل و دماغ میں یہ بات پختہ ہو جائے گی کہ یہ مشکل میرے ربّ جلیل کی طرف سے ہے اور وہی اس کو دور بھی فرمائے گا. ایک اور حدیث پاک میں ارشاد ہوا: بندہ اس وقت تک مؤمن نہیں ہو سکتا جب تک کہ اچھی بری تقدیر پر ایمان نہ لے آئے اور اس بات پر یقین نہ کرے کہ اسے جو مصیبت پہنچنے والی ہے وہ اس سے خطا نہ ہو گی (یعنی پہنچ کر رہے گی) اور جو اس سے خطا ہونے (یعنی نہیں پہنچنے) والی ہے وہ اسے نہیں پہنچ سکتی. (جامع الترمذی، جلد 4، صفحہ 57، حدیث 2151)
https://www.facebook.com/114021443682673/posts/457564449328369/
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
Sacred Traditions Official
🔎 #Sacred_Traditions
بعض لوگ اگر مگر کے چکر میں پڑ جاتے ہیں، اس طرح دراصل مشکل کا احساس مزید بڑھ جاتا ہے اور صدمے میں بھی اضافہ ہوتا ہے. یاد رہے کہ جس مشکل یا مصیبت کا پہنچنا تقدیر میں لکھا ہے وہ پہنچ کر رہے گی، یہ سوچ بنانے سے ایک تو ہمارا تقدیر پر ایمان مضبوط ہوگا اور دوسرا ہمارے دل و دماغ میں یہ بات پختہ ہو جائے گی کہ یہ مشکل میرے ربّ جلیل کی طرف سے ہے اور وہی اس کو دور بھی فرمائے گا. ایک اور حدیث پاک میں ارشاد ہوا: بندہ اس وقت تک مؤمن نہیں ہو سکتا جب تک کہ اچھی بری تقدیر پر ایمان نہ لے آئے اور اس بات پر یقین نہ کرے کہ اسے جو مصیبت پہنچنے والی ہے وہ اس سے خطا نہ ہو گی (یعنی پہنچ کر رہے گی) اور جو اس سے خطا ہونے (یعنی نہیں پہنچنے) والی ہے وہ اسے نہیں پہنچ سکتی. (جامع الترمذی، جلد 4، صفحہ 57، حدیث 2151)
https://www.facebook.com/114021443682673/posts/457564449328369/
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
Sacred Traditions Official
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
اسکولی بچوں میں آزاد خیالی کیوں؟
از مفتی صادق مصباحی
____ہم نے بقدر ضرورت، اسکول اور کالج نہ کھولے،
یونیورسٹیاں اور جامعات نہ بنائے،
لوگوں کو دین سکھانے کے بجاے ان سے پیسے وصولنے کو دھندا بنا لیا ۔
ہماری ساری توجہ ایسے امور کی طرف رہی جو زیادہ سے زیادہ مباح ہیں،
بلکہ کچھ منع اور خلاف شرع بھی۔
نتیجہ یہ ہوا کہ ہمارے بچے غیروں کی تعلیم گاہوں کی طرف متوجہ ہوئے،
تعلیم کے ساتھ ان کی تہذیب وثقافت سیکھنے پر مجبور ہوئے ۔
وہ سکولوں میں خوشی خوشی " وندے ماترم " پڑھتے ہیں! " دھرتی ماتا کی جے" بولتے ہیں۔
اس لیے کہ انھیں ان کی حقیقت کے بارے میں کچھ پتا ہی نہیں !
ہمارے خطابات ، ضروری دینی عقائد واعمال کی تفہیم کے بجاے، عام طور پر فضائل ومناقب اور کشف وکرامات کے ارد گرد ہی گردش کرتے نظر آتے ہیں!
اب اگر انھیں سمجھایا جائے کہ یہ سب جائز نہیں، یہ مشرکانہ اعمال ہیں، یہ اسلامی عقیدے کے خلاف کام ہیں ۔
تو کیا جس امر کے وہ برسوں سے عادی رہے ہیں، ہماری اتنی سی فہمائش سے وہ ان سب سے فوراََ تائب ہو جائیں گے!؟
کیا ہماری ذمہ داری نہیں بنتی کہ ہم اپنے نونہالوں کے لیے ایسی تعلیم گاہوں کا انتظام کریں، جہاں وہ عصری علوم کے حصول کے ساتھ ساتھ ضروری دینی علوم وعقائد سے بھی واقف ہوں!؟ اور بلکل بے چارہ بن کر دوسروں کے لیے چارہء تر نہ ثابت ہوں!!!
سوچیے! لائحہ عمل تیار کیجیے! آپسی اختلافات کو پس پشت ڈالتے ہوئے اپنے، اور قوم کے مستقبل کی فکر کیجیے...!
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/1036085090295342/
از مفتی صادق مصباحی
____ہم نے بقدر ضرورت، اسکول اور کالج نہ کھولے،
یونیورسٹیاں اور جامعات نہ بنائے،
لوگوں کو دین سکھانے کے بجاے ان سے پیسے وصولنے کو دھندا بنا لیا ۔
ہماری ساری توجہ ایسے امور کی طرف رہی جو زیادہ سے زیادہ مباح ہیں،
بلکہ کچھ منع اور خلاف شرع بھی۔
نتیجہ یہ ہوا کہ ہمارے بچے غیروں کی تعلیم گاہوں کی طرف متوجہ ہوئے،
تعلیم کے ساتھ ان کی تہذیب وثقافت سیکھنے پر مجبور ہوئے ۔
وہ سکولوں میں خوشی خوشی " وندے ماترم " پڑھتے ہیں! " دھرتی ماتا کی جے" بولتے ہیں۔
اس لیے کہ انھیں ان کی حقیقت کے بارے میں کچھ پتا ہی نہیں !
ہمارے خطابات ، ضروری دینی عقائد واعمال کی تفہیم کے بجاے، عام طور پر فضائل ومناقب اور کشف وکرامات کے ارد گرد ہی گردش کرتے نظر آتے ہیں!
اب اگر انھیں سمجھایا جائے کہ یہ سب جائز نہیں، یہ مشرکانہ اعمال ہیں، یہ اسلامی عقیدے کے خلاف کام ہیں ۔
تو کیا جس امر کے وہ برسوں سے عادی رہے ہیں، ہماری اتنی سی فہمائش سے وہ ان سب سے فوراََ تائب ہو جائیں گے!؟
کیا ہماری ذمہ داری نہیں بنتی کہ ہم اپنے نونہالوں کے لیے ایسی تعلیم گاہوں کا انتظام کریں، جہاں وہ عصری علوم کے حصول کے ساتھ ساتھ ضروری دینی علوم وعقائد سے بھی واقف ہوں!؟ اور بلکل بے چارہ بن کر دوسروں کے لیے چارہء تر نہ ثابت ہوں!!!
سوچیے! لائحہ عمل تیار کیجیے! آپسی اختلافات کو پس پشت ڈالتے ہوئے اپنے، اور قوم کے مستقبل کی فکر کیجیے...!
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/1036085090295342/
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
#اکھلیش_اویسی_سے_اتحاد_کیوں_کرے؟
غلام مصطفےٰ نعیمی
روشن مستقبل دہلی
اکھلیش یادو نے اسدالدین اویسی کے ساتھ کسی بھی اتحاد سے صاف منع کردیا ہے۔بعض جذباتی مسلمان بڑے غصے میں ہیں کہ جب اکھلیش یادو آدھا درجن پارٹیوں سے اتحاد کر سکتے ہیں تو اویسی کی پارٹی سے اتحاد کرنے میں کیا برائی ہے؟
پہلی نظر میں دیکھا جائے تو اکھلیش پر غصہ تو آتا ہے مگر سیاسی نظریے سے دیکھا جائے تو اکھلیش کا فیصلہ سیاسی چالاکی اور پختہ سیاسی شعور کا مظاہرہ ہے۔
آپ سوچ رہے ہوں گے یہ کیسا سیاسی شعور ہے جس میں مہان دَل جیسی زیرو پوزیشن والی پارٹی کے لیے جگہ ہے لیکن تین صوبوں میں ممبران اسمبلی رکھنے والی پارٹی کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔آئیے اسے سیاسی اعداد و شمار کی روشنی میں سمجھتے ہیں تاکہ آپ اکھلیش کی سیاسی ہوشیاری کو اچھی طرح سمجھ سکیں۔
یوپی کی سیاسی تصویر:
یوپی میں ٧٥ ضلع ہیں جن میں اسّی پارلیمانی اور 403 اسمبلی سیٹیں ہیں۔یہاں کی سیاست ذات پات اور مذہب کے ارد گرد گھومتی ہے اس لیے پہلے یوپی کا سیاسی نقشہ سمجھ لیں:
🔹 دَلِت: 21.2 فیصد
🔸 مسلم : 20 فیصد
🔹 برہمن : 5.88 فیصد
🔸 راجپوت : 5.28 فیصد
🔹 بنیے : 2.28 فیصد
🔸 یَادَوْ : 6.47 فیصد
🔹 کُرمی : 3.2 فیصد
🔸 جاٹ : 1.7 فیصد
اس فہرست کو غور سے دیکھیں، ایک بار میں سمجھ نہ آئے تو دوبارہ پھر دیکھیں، اگر سمجھ آجائے تو بتائیں کہ ووٹ پرسنٹ کی بنیاد پر صوبے میں کس کی حکومت بننا چاہیے؟
معمولی عقل رکھنے والا بھی یہی جواب دے گا زیادہ ووٹنگ پرسنٹ کی بنیاد پر دَلت حکومت بنائیں گے یا مسلمان! کیوں کہ حکومت سازی کے لیے کم از کم 25 فیصد ووٹ حاصل کرنا ضروری ہوتا ہے۔صوبے میں دَلت اور مسلمانوں کی تعداد ہی بیس فیصد یا اس سے زیادہ ہے باقی سارے طبقات پانچ سے سات فیصد کے درمیان ہی سمٹ جاتے ہیں۔یعنی ان کی حیثیت اتنی نہیں کہ اپنے بوتے حکومت سازی کرسکیں، لیکن مزے دار بات تو یہ ہے تعداد میں کم ہونے کے باوجود ہندو اپر کاسٹ(Hindu upper caste) کے افراد سب سے زیادہ وزیر اعلیٰ بنے ہیں۔اب تک یوپی میں کل 20 افراد وزیر اعلیٰ کی کرسی تک پہنچے ہیں جن میں اپر کاسٹ کے 13 افراد ہیں۔یعنی 20 میں سے 13 افراد تو اپر کاسٹ کے ہوگیے باقی بچے سات میں سے 3 یادو، ایک جاٹ، ایک دلت، ایک کائستھ اور ایک لودھی سماج سے منتخب ہوا ہے۔آپ سوچ رہے ہوں گے کہ اس فہرست میں مسلمان کہاں ہیں؟
تو حضور والا!
دل تھام کر سنیں، یوپی کے مسلمان اس فہرست سے مکمل طور پر خارج ہیں، ان کے کھاتے میں صرف زیرو ہے۔سماجی اعتبار سے وزرائے اعلیٰ کی پوری تفصیل اس طرح ہے:
🔹 پنڈت سماج : چھ افراد وزیر اعلیٰ بنے
🔸راجپوت سماج : چار افراد وزیر اعلیٰ بنے
🔹بنیا سماج : تین افراد وزیر اعلیٰ بنے
🔸یادو سماج : تین لوگ وزیر اعلیٰ بنے
🔹دَلِت سماج : ایک فرد منتخب ہوا
🔸جاٹ سماج : ایک فرد منتخب ہوا
یہ فہرست محض افراد کے اعتبار سے ہے، اس میں شامل افراد ایک سے زائد بار بھی وزیر اعلیٰ بنے ہیں۔یادو سماج کے تین افراد رام نریش یادو، ملائم سنگھ یادو اور اکھلیش یادو وزیر اعلیٰ منتخب ہوئے مگر تنہا ملائم سنگھ ہی تین مرتبہ وزیر اعلیٰ بنے۔اسی طرح دلت سماج سے بھلے ہی ایک ہی فرد مایاوتی وزیر اعلیٰ بنیں، مگر وہ چار مرتبہ وزیر اعلیٰ منتخب ہوچکی ہیں۔
مسلمان کہاں ہیں؟
یوپی میں برہمن چھ فیصد سے کم ہیں مگر ان کے چھ افراد وزارت اعلیٰ تک پہنچے۔ راجپوتوں کی تعداد محض پانچ فیصد ہے مگر ان کے بھی چار افراد وزیر اعلیٰ منتخب ہوئے۔بنیا سماج بھلے ہی تین فیصد سے کم ہے مگر ان کے بھی تین افراد وزارت اعلیٰ کی کرسی پر فائز ہوچکے ہیں۔یادو سماج جنہیں اہیر بھی کہا جاتا ہے تعداد میں بھلے ہی چھ فیصد ہی ہیں مگر ان کے بھی تین افراد پانچ مرتبہ وزیر اعلیٰ ہوچکے ہیں جب کہ دلت سماج سے بھلے ہی ایک فرد کو موقع ملا مگر دلتوں کی سیاسی سوجھ بوجھ کی تعریف کرنا ہوگی کہ دیر سے ہی سہی لیکن انہوں بھی چار مرتبہ اپنا وزیر اعلیٰ بنانے میں کامیابی حاصل کی۔اور ہاں! سب سے زیادہ تعریف تو جاٹ سماج کی ہونا چاہیے جنہوں نے محض ڈیڑھ فیصد ہونے کے باوجود ایک بار ہی سہی مگر اپنا وزیر اعلیٰ بنانے کا کارنامہ انجام دیا ہے۔سوال اٹھتا ہے کہ جب چھ فیصد والے یادو اور ایک فیصد والے جاٹ، وزیر اعلیٰ منتخب ہوسکتے ہیں تو آخر بیس فیصد والے مسلمان کہاں چوک رہے ہیں جو آج تک وزیر اعلیٰ تو دور نائب وزیر اعلیٰ تک نہیں بن سکے! جواب صرف اتنا ہے کہ مذکورہ قومیں حکومت سازی میں اس لیے کامیاب ہوئیں کہ انہوں نے سیاسی میدان میں اپنی قیادت کو پروان چڑھایا اور حکومت بنائی مگر مسلمان آزادی سے لیکر آج تک دوسروں کا بوجھ ڈھونے میں لگے ہوئے ہیں۔آزادی سے 1990 تک آنکھ بند کرکے کانگریس کے وفادار بنے رہے۔بابری مسجد کی شہادت کے بعد غیرت بیدار تو ہوئی مگر غلط وقت اور غلط سمت کی طرف نکل گئی، جس کا بھرپور فائدہ ملائم سنگھ کی سماج وادی اور کانشی رام/مایاتی کی بہوجن سماج پارٹی نے اٹھایا۔مسلمانوں کی حمایت سے
غلام مصطفےٰ نعیمی
روشن مستقبل دہلی
اکھلیش یادو نے اسدالدین اویسی کے ساتھ کسی بھی اتحاد سے صاف منع کردیا ہے۔بعض جذباتی مسلمان بڑے غصے میں ہیں کہ جب اکھلیش یادو آدھا درجن پارٹیوں سے اتحاد کر سکتے ہیں تو اویسی کی پارٹی سے اتحاد کرنے میں کیا برائی ہے؟
پہلی نظر میں دیکھا جائے تو اکھلیش پر غصہ تو آتا ہے مگر سیاسی نظریے سے دیکھا جائے تو اکھلیش کا فیصلہ سیاسی چالاکی اور پختہ سیاسی شعور کا مظاہرہ ہے۔
آپ سوچ رہے ہوں گے یہ کیسا سیاسی شعور ہے جس میں مہان دَل جیسی زیرو پوزیشن والی پارٹی کے لیے جگہ ہے لیکن تین صوبوں میں ممبران اسمبلی رکھنے والی پارٹی کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔آئیے اسے سیاسی اعداد و شمار کی روشنی میں سمجھتے ہیں تاکہ آپ اکھلیش کی سیاسی ہوشیاری کو اچھی طرح سمجھ سکیں۔
یوپی کی سیاسی تصویر:
یوپی میں ٧٥ ضلع ہیں جن میں اسّی پارلیمانی اور 403 اسمبلی سیٹیں ہیں۔یہاں کی سیاست ذات پات اور مذہب کے ارد گرد گھومتی ہے اس لیے پہلے یوپی کا سیاسی نقشہ سمجھ لیں:
🔹 دَلِت: 21.2 فیصد
🔸 مسلم : 20 فیصد
🔹 برہمن : 5.88 فیصد
🔸 راجپوت : 5.28 فیصد
🔹 بنیے : 2.28 فیصد
🔸 یَادَوْ : 6.47 فیصد
🔹 کُرمی : 3.2 فیصد
🔸 جاٹ : 1.7 فیصد
اس فہرست کو غور سے دیکھیں، ایک بار میں سمجھ نہ آئے تو دوبارہ پھر دیکھیں، اگر سمجھ آجائے تو بتائیں کہ ووٹ پرسنٹ کی بنیاد پر صوبے میں کس کی حکومت بننا چاہیے؟
معمولی عقل رکھنے والا بھی یہی جواب دے گا زیادہ ووٹنگ پرسنٹ کی بنیاد پر دَلت حکومت بنائیں گے یا مسلمان! کیوں کہ حکومت سازی کے لیے کم از کم 25 فیصد ووٹ حاصل کرنا ضروری ہوتا ہے۔صوبے میں دَلت اور مسلمانوں کی تعداد ہی بیس فیصد یا اس سے زیادہ ہے باقی سارے طبقات پانچ سے سات فیصد کے درمیان ہی سمٹ جاتے ہیں۔یعنی ان کی حیثیت اتنی نہیں کہ اپنے بوتے حکومت سازی کرسکیں، لیکن مزے دار بات تو یہ ہے تعداد میں کم ہونے کے باوجود ہندو اپر کاسٹ(Hindu upper caste) کے افراد سب سے زیادہ وزیر اعلیٰ بنے ہیں۔اب تک یوپی میں کل 20 افراد وزیر اعلیٰ کی کرسی تک پہنچے ہیں جن میں اپر کاسٹ کے 13 افراد ہیں۔یعنی 20 میں سے 13 افراد تو اپر کاسٹ کے ہوگیے باقی بچے سات میں سے 3 یادو، ایک جاٹ، ایک دلت، ایک کائستھ اور ایک لودھی سماج سے منتخب ہوا ہے۔آپ سوچ رہے ہوں گے کہ اس فہرست میں مسلمان کہاں ہیں؟
تو حضور والا!
دل تھام کر سنیں، یوپی کے مسلمان اس فہرست سے مکمل طور پر خارج ہیں، ان کے کھاتے میں صرف زیرو ہے۔سماجی اعتبار سے وزرائے اعلیٰ کی پوری تفصیل اس طرح ہے:
🔹 پنڈت سماج : چھ افراد وزیر اعلیٰ بنے
🔸راجپوت سماج : چار افراد وزیر اعلیٰ بنے
🔹بنیا سماج : تین افراد وزیر اعلیٰ بنے
🔸یادو سماج : تین لوگ وزیر اعلیٰ بنے
🔹دَلِت سماج : ایک فرد منتخب ہوا
🔸جاٹ سماج : ایک فرد منتخب ہوا
یہ فہرست محض افراد کے اعتبار سے ہے، اس میں شامل افراد ایک سے زائد بار بھی وزیر اعلیٰ بنے ہیں۔یادو سماج کے تین افراد رام نریش یادو، ملائم سنگھ یادو اور اکھلیش یادو وزیر اعلیٰ منتخب ہوئے مگر تنہا ملائم سنگھ ہی تین مرتبہ وزیر اعلیٰ بنے۔اسی طرح دلت سماج سے بھلے ہی ایک ہی فرد مایاوتی وزیر اعلیٰ بنیں، مگر وہ چار مرتبہ وزیر اعلیٰ منتخب ہوچکی ہیں۔
مسلمان کہاں ہیں؟
یوپی میں برہمن چھ فیصد سے کم ہیں مگر ان کے چھ افراد وزارت اعلیٰ تک پہنچے۔ راجپوتوں کی تعداد محض پانچ فیصد ہے مگر ان کے بھی چار افراد وزیر اعلیٰ منتخب ہوئے۔بنیا سماج بھلے ہی تین فیصد سے کم ہے مگر ان کے بھی تین افراد وزارت اعلیٰ کی کرسی پر فائز ہوچکے ہیں۔یادو سماج جنہیں اہیر بھی کہا جاتا ہے تعداد میں بھلے ہی چھ فیصد ہی ہیں مگر ان کے بھی تین افراد پانچ مرتبہ وزیر اعلیٰ ہوچکے ہیں جب کہ دلت سماج سے بھلے ہی ایک فرد کو موقع ملا مگر دلتوں کی سیاسی سوجھ بوجھ کی تعریف کرنا ہوگی کہ دیر سے ہی سہی لیکن انہوں بھی چار مرتبہ اپنا وزیر اعلیٰ بنانے میں کامیابی حاصل کی۔اور ہاں! سب سے زیادہ تعریف تو جاٹ سماج کی ہونا چاہیے جنہوں نے محض ڈیڑھ فیصد ہونے کے باوجود ایک بار ہی سہی مگر اپنا وزیر اعلیٰ بنانے کا کارنامہ انجام دیا ہے۔سوال اٹھتا ہے کہ جب چھ فیصد والے یادو اور ایک فیصد والے جاٹ، وزیر اعلیٰ منتخب ہوسکتے ہیں تو آخر بیس فیصد والے مسلمان کہاں چوک رہے ہیں جو آج تک وزیر اعلیٰ تو دور نائب وزیر اعلیٰ تک نہیں بن سکے! جواب صرف اتنا ہے کہ مذکورہ قومیں حکومت سازی میں اس لیے کامیاب ہوئیں کہ انہوں نے سیاسی میدان میں اپنی قیادت کو پروان چڑھایا اور حکومت بنائی مگر مسلمان آزادی سے لیکر آج تک دوسروں کا بوجھ ڈھونے میں لگے ہوئے ہیں۔آزادی سے 1990 تک آنکھ بند کرکے کانگریس کے وفادار بنے رہے۔بابری مسجد کی شہادت کے بعد غیرت بیدار تو ہوئی مگر غلط وقت اور غلط سمت کی طرف نکل گئی، جس کا بھرپور فائدہ ملائم سنگھ کی سماج وادی اور کانشی رام/مایاتی کی بہوجن سماج پارٹی نے اٹھایا۔مسلمانوں کی حمایت سے