🔎 #Sacred_Traditions
زمین و آسمان جتنا فاصلہ یعنی پانچ سو سال کی راہ، یہ سو درجے مجاہدین فی سبیل اللہ کے لیے خاص ہیں. ترمذی کی روایت میں ہے کہ ہر درجہ اتنا وسیع ہے کہ ان میں سے ایک درجے میں عالمین جمع ہو جائیں تو سب کو کافی ہو جائے. مجاہدین سے مراد جہاد کرنے والوں کے ساتھ ساتھ نمازی، حاجی، اور نفس سے مجاہدہ کرنے والے سب ہی شامل ہیں؛ بشرطیکہ یہ کام خالصتاً رضائے الٰہی کے لیے ہوں. اللہ کریم بہادری، استقامت و اخلاص عطا فرمائے!
https://www.facebook.com/114021443682673/posts/453753916376089/
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
Sacred Traditions Official
زمین و آسمان جتنا فاصلہ یعنی پانچ سو سال کی راہ، یہ سو درجے مجاہدین فی سبیل اللہ کے لیے خاص ہیں. ترمذی کی روایت میں ہے کہ ہر درجہ اتنا وسیع ہے کہ ان میں سے ایک درجے میں عالمین جمع ہو جائیں تو سب کو کافی ہو جائے. مجاہدین سے مراد جہاد کرنے والوں کے ساتھ ساتھ نمازی، حاجی، اور نفس سے مجاہدہ کرنے والے سب ہی شامل ہیں؛ بشرطیکہ یہ کام خالصتاً رضائے الٰہی کے لیے ہوں. اللہ کریم بہادری، استقامت و اخلاص عطا فرمائے!
https://www.facebook.com/114021443682673/posts/453753916376089/
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
Sacred Traditions Official
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🔎 #Sacred_Traditions
یہ وعید ہر اس شخص کے لیے ہے جو الله کے مال پر مقرر کیا گیا ہو جیسے حاکم، متولی، عامل زکوٰۃ، چندہ لینے والے یا مالِ غنیمت پر مقرر کیے جانے والے افراد۔ الله کے مال سے مراد بیت المال کا مال، زکوٰۃ، خراج، جزیہ، فئ، مالِ غنیمت وغیرہ ہیں اور ان میں ناحق تصرف کرنا گناہ کبیرہ، حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔ حق سے مراد استحقاق ہے یا اجازت، یعنی ان کا حق نہیں اور وہ لے لیتے ہیں یا حق کم ہے وہ زیادہ لے لیتے ہیں۔ اگر یہ حلال سمجھ کر کرتے ہیں تو ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے، اگر حرام سمجھ کر کرتے ہیں تو فاسق ہیں، دوزخ میں سزا کے لیے جائیں گے۔ والعیاذ بالله تعالی!
https://www.facebook.com/114021443682673/posts/455091012909046/
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
Sacred Traditions Official
یہ وعید ہر اس شخص کے لیے ہے جو الله کے مال پر مقرر کیا گیا ہو جیسے حاکم، متولی، عامل زکوٰۃ، چندہ لینے والے یا مالِ غنیمت پر مقرر کیے جانے والے افراد۔ الله کے مال سے مراد بیت المال کا مال، زکوٰۃ، خراج، جزیہ، فئ، مالِ غنیمت وغیرہ ہیں اور ان میں ناحق تصرف کرنا گناہ کبیرہ، حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔ حق سے مراد استحقاق ہے یا اجازت، یعنی ان کا حق نہیں اور وہ لے لیتے ہیں یا حق کم ہے وہ زیادہ لے لیتے ہیں۔ اگر یہ حلال سمجھ کر کرتے ہیں تو ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے، اگر حرام سمجھ کر کرتے ہیں تو فاسق ہیں، دوزخ میں سزا کے لیے جائیں گے۔ والعیاذ بالله تعالی!
https://www.facebook.com/114021443682673/posts/455091012909046/
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
Sacred Traditions Official