This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🔎 #Sacred_Traditions
ہمارے بزرگوں کا معمول تھا کہ قبر کو دیکھتے ہی روتے روتے ان کی ہچکی بندھ جاتی تھی حتی کہ امیرالمؤمنین سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ تعالٰی عنہ جب کسی کی قبر پر تشریف لاتے تو قبر کی ہیبت میں اور عذاب قبر کے خوف سے اس قدر آنسو بہاتے کہ آپ کی داڑھی مبارک بھیگ جاتی تھی. اللہ اکبر! جب محفوظین کا یہ خوف ہے تو ہم گنہگاروں کو کتنا خوف ہونا چاہیئے؟ یاد رہے کہ قبر کا دائمی عذاب کفار کے لیے ہے جبکہ گنہگار مؤمن کے لیے قبر کا عارضی عذاب بھی اس کے گناہوں کا کفارہ ہوگا. سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم! مؤمن کے لیے وہ سختی بھی رحمت ہوگی. اللہ کریم رحمٰن رحیم ہم سب کی بے عذاب و عتاب و حساب و کتاب مغفرت فرمائے!
https://www.facebook.com/114021443682673/posts/444353277316153/
ہمارے بزرگوں کا معمول تھا کہ قبر کو دیکھتے ہی روتے روتے ان کی ہچکی بندھ جاتی تھی حتی کہ امیرالمؤمنین سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ تعالٰی عنہ جب کسی کی قبر پر تشریف لاتے تو قبر کی ہیبت میں اور عذاب قبر کے خوف سے اس قدر آنسو بہاتے کہ آپ کی داڑھی مبارک بھیگ جاتی تھی. اللہ اکبر! جب محفوظین کا یہ خوف ہے تو ہم گنہگاروں کو کتنا خوف ہونا چاہیئے؟ یاد رہے کہ قبر کا دائمی عذاب کفار کے لیے ہے جبکہ گنہگار مؤمن کے لیے قبر کا عارضی عذاب بھی اس کے گناہوں کا کفارہ ہوگا. سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم! مؤمن کے لیے وہ سختی بھی رحمت ہوگی. اللہ کریم رحمٰن رحیم ہم سب کی بے عذاب و عتاب و حساب و کتاب مغفرت فرمائے!
https://www.facebook.com/114021443682673/posts/444353277316153/
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🔎 #Sacred_Traditions
علماء فرماتے ہیں کہ حضور علیہ الصلاۃ والسلام کا اپنی امت کے معاملے میں اندیشے کا اظہار کرنا اس وجہ سے تھا کہ کہیں دنیا کی محبت ان کے دل میں نہ بیٹھ جائے، دنیا کی خوبصورتی ان کو اپنی طرف کھینچ نہ لے. مال کی کثرت کہیں انہیں اعمالِ صالحہ سے نہ روک دے اور انہیں علوم نافعہ یعنی قرآن و حدیث اور فقہ کے علم سے غافل نہ کر دے، اور پھر وہ ان اسباب میں مبتلا ہو جائیں جو دین میں بگاڑ کی طرف لے جانے والے ہوں۔ عام مشاہدہ بھی یہی ہے کہ غریبی میں خدا یاد رہتا ہے اور امیری میں بھول جاتا ہے۔ (دلیل الفالحین، مرقاۃ المفاتیح و مرآۃ المناجیح)
https://www.facebook.com/114021443682673/posts/446693517082129/
Ulama Farmaate Haiñ Ki Huzoor ﷺ Ka Apni Ummat Ke Mu’aamle Meiñ Andeshe Ka Izhaar Karna Is Wajah Se Tha Ki Kahiñ Dunya Ki Mahabbat Un Ke Dil Meiñ Na Baith Jaaye, Dunya Ki Khoobsurati Un Ko Apni Taraf Kheeñch Na Le, Maal Ki Kasrat Kahiñ Unheiñ A’maale-e-Saaliha Se Na Rok De aur Unheiñ Uloom-e-Nafe’a Ya’ni Qur'an-o-Hadees aur Fiqh Ke Ilm Se Ghaafil Na Kar De, aur Phir Woh Un Asbaab Meiñ Mutalaa Ho Jaayeiñ Jo D
علماء فرماتے ہیں کہ حضور علیہ الصلاۃ والسلام کا اپنی امت کے معاملے میں اندیشے کا اظہار کرنا اس وجہ سے تھا کہ کہیں دنیا کی محبت ان کے دل میں نہ بیٹھ جائے، دنیا کی خوبصورتی ان کو اپنی طرف کھینچ نہ لے. مال کی کثرت کہیں انہیں اعمالِ صالحہ سے نہ روک دے اور انہیں علوم نافعہ یعنی قرآن و حدیث اور فقہ کے علم سے غافل نہ کر دے، اور پھر وہ ان اسباب میں مبتلا ہو جائیں جو دین میں بگاڑ کی طرف لے جانے والے ہوں۔ عام مشاہدہ بھی یہی ہے کہ غریبی میں خدا یاد رہتا ہے اور امیری میں بھول جاتا ہے۔ (دلیل الفالحین، مرقاۃ المفاتیح و مرآۃ المناجیح)
https://www.facebook.com/114021443682673/posts/446693517082129/
Ulama Farmaate Haiñ Ki Huzoor ﷺ Ka Apni Ummat Ke Mu’aamle Meiñ Andeshe Ka Izhaar Karna Is Wajah Se Tha Ki Kahiñ Dunya Ki Mahabbat Un Ke Dil Meiñ Na Baith Jaaye, Dunya Ki Khoobsurati Un Ko Apni Taraf Kheeñch Na Le, Maal Ki Kasrat Kahiñ Unheiñ A’maale-e-Saaliha Se Na Rok De aur Unheiñ Uloom-e-Nafe’a Ya’ni Qur'an-o-Hadees aur Fiqh Ke Ilm Se Ghaafil Na Kar De, aur Phir Woh Un Asbaab Meiñ Mutalaa Ho Jaayeiñ Jo D