The Prophet of Rahmah, the Intercessor of Ummah ﷺ said,
🔎 #Sacred_Traditions
Arabic:إِنَّ اللَّهَ يَقْبَلُ تَوْبَةَ العَبْدِ مَا لَمْ يُغَرْغِرْ
Urdu: بیشک اللہ بندے کی توبہ اس وقت تک قبول فرماتا ہے جب تک کہ اس پر غرغرہ کی کیفیت طاری نہ ہو جائے۔
English: Indeed Allah accepts the repentance of a slave as long as his death rattle has not yet reached his throat.
Roman: Beshak Allah banday ki taubah uss waqt tak qubool farmata hay jab tak ke us par gargarah ki kefiyat tari na ho jaey.
Hindi: बे-शक अल्लाह बन्दे की तौबा उस वक़्त तक क़बूल फ़रमाता है जब तक कि उस पर ग़रग़रह की कैफ़ियत त़ारी न हो जाये ।
Gujarati: ખરેખર અલ્લાહ ગુલામ બનદા નો પસ્તાવો કબૂલ કરે છે જ્યાં સુધી તેના ગળા સુધી મૃત્યુનો ખડકલો ન પહોંચે.
Marathi: खरोखर अल्लाह गुलामाचा पश्चात्ताप स्वीकारतो जोपर्यंत त्याच्या मृत्यूची धडपड त्याच्या घशात जात नाही.
Chinese: 崇高伟大的真主接受仆人的忏悔,只要其尚存一口气。
جامع الترمذي، أبواب الدعوات، باب في فضل التوبة والاستغفار، الحدیث 3537
https://www.facebook.com/114021443682673/posts/440526474365500/
🔎 #Sacred_Traditions
Arabic:إِنَّ اللَّهَ يَقْبَلُ تَوْبَةَ العَبْدِ مَا لَمْ يُغَرْغِرْ
Urdu: بیشک اللہ بندے کی توبہ اس وقت تک قبول فرماتا ہے جب تک کہ اس پر غرغرہ کی کیفیت طاری نہ ہو جائے۔
English: Indeed Allah accepts the repentance of a slave as long as his death rattle has not yet reached his throat.
Roman: Beshak Allah banday ki taubah uss waqt tak qubool farmata hay jab tak ke us par gargarah ki kefiyat tari na ho jaey.
Hindi: बे-शक अल्लाह बन्दे की तौबा उस वक़्त तक क़बूल फ़रमाता है जब तक कि उस पर ग़रग़रह की कैफ़ियत त़ारी न हो जाये ।
Gujarati: ખરેખર અલ્લાહ ગુલામ બનદા નો પસ્તાવો કબૂલ કરે છે જ્યાં સુધી તેના ગળા સુધી મૃત્યુનો ખડકલો ન પહોંચે.
Marathi: खरोखर अल्लाह गुलामाचा पश्चात्ताप स्वीकारतो जोपर्यंत त्याच्या मृत्यूची धडपड त्याच्या घशात जात नाही.
Chinese: 崇高伟大的真主接受仆人的忏悔,只要其尚存一口气。
جامع الترمذي، أبواب الدعوات، باب في فضل التوبة والاستغفار، الحدیث 3537
https://www.facebook.com/114021443682673/posts/440526474365500/
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🔎 #Sacred_Traditions
ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ امید اور خوف کے درمیان رہے اور الله تعالی کی رحمت کی وسعت دیکھ کر گناہوں پر بے باک نہ ہو اور نہ ہی الله تعالی کے عذاب کی شدت دیکھ کر اس کی رحمت سے مایوس ہو۔ صوفیہ فرماتے ہیں کہ زندگی میں بندے پر خوف غالب ہونا چاہیے اور موت کے وقت امید۔ امیر المؤمنین حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم رضی الله تعالی عنہ فرماتے ہیں: ’’اگر آسمان سے ندا کی جائے کہ تمام روئے زمین کے آدمی بخش دیئے گئے ہیں سوائے ایک شخص کے۔ تو میں خوف کروں گا کہ وہ شخص میں ہی نہ ہوں۔ اور اگر ندا کی جائے کہ روئے زمین کے تمام آدمی دوزخی ہیں سوائے ایک شخص کے تو میں امید کروں گا کہ وہ ایک شخص بھی میں ہی ہوں۔‘‘ خوف و رَجا کا مرتبہ ایسا مرتبہ ایسا معتدل ہونا چاہیے۔
https://www.facebook.com/114021443682673/posts/442291327522348/
ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ امید اور خوف کے درمیان رہے اور الله تعالی کی رحمت کی وسعت دیکھ کر گناہوں پر بے باک نہ ہو اور نہ ہی الله تعالی کے عذاب کی شدت دیکھ کر اس کی رحمت سے مایوس ہو۔ صوفیہ فرماتے ہیں کہ زندگی میں بندے پر خوف غالب ہونا چاہیے اور موت کے وقت امید۔ امیر المؤمنین حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم رضی الله تعالی عنہ فرماتے ہیں: ’’اگر آسمان سے ندا کی جائے کہ تمام روئے زمین کے آدمی بخش دیئے گئے ہیں سوائے ایک شخص کے۔ تو میں خوف کروں گا کہ وہ شخص میں ہی نہ ہوں۔ اور اگر ندا کی جائے کہ روئے زمین کے تمام آدمی دوزخی ہیں سوائے ایک شخص کے تو میں امید کروں گا کہ وہ ایک شخص بھی میں ہی ہوں۔‘‘ خوف و رَجا کا مرتبہ ایسا مرتبہ ایسا معتدل ہونا چاہیے۔
https://www.facebook.com/114021443682673/posts/442291327522348/
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🔎 #Sacred_Traditions
ہمارے بزرگوں کا معمول تھا کہ قبر کو دیکھتے ہی روتے روتے ان کی ہچکی بندھ جاتی تھی حتی کہ امیرالمؤمنین سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ تعالٰی عنہ جب کسی کی قبر پر تشریف لاتے تو قبر کی ہیبت میں اور عذاب قبر کے خوف سے اس قدر آنسو بہاتے کہ آپ کی داڑھی مبارک بھیگ جاتی تھی. اللہ اکبر! جب محفوظین کا یہ خوف ہے تو ہم گنہگاروں کو کتنا خوف ہونا چاہیئے؟ یاد رہے کہ قبر کا دائمی عذاب کفار کے لیے ہے جبکہ گنہگار مؤمن کے لیے قبر کا عارضی عذاب بھی اس کے گناہوں کا کفارہ ہوگا. سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم! مؤمن کے لیے وہ سختی بھی رحمت ہوگی. اللہ کریم رحمٰن رحیم ہم سب کی بے عذاب و عتاب و حساب و کتاب مغفرت فرمائے!
https://www.facebook.com/114021443682673/posts/444353277316153/
ہمارے بزرگوں کا معمول تھا کہ قبر کو دیکھتے ہی روتے روتے ان کی ہچکی بندھ جاتی تھی حتی کہ امیرالمؤمنین سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ تعالٰی عنہ جب کسی کی قبر پر تشریف لاتے تو قبر کی ہیبت میں اور عذاب قبر کے خوف سے اس قدر آنسو بہاتے کہ آپ کی داڑھی مبارک بھیگ جاتی تھی. اللہ اکبر! جب محفوظین کا یہ خوف ہے تو ہم گنہگاروں کو کتنا خوف ہونا چاہیئے؟ یاد رہے کہ قبر کا دائمی عذاب کفار کے لیے ہے جبکہ گنہگار مؤمن کے لیے قبر کا عارضی عذاب بھی اس کے گناہوں کا کفارہ ہوگا. سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم! مؤمن کے لیے وہ سختی بھی رحمت ہوگی. اللہ کریم رحمٰن رحیم ہم سب کی بے عذاب و عتاب و حساب و کتاب مغفرت فرمائے!
https://www.facebook.com/114021443682673/posts/444353277316153/