Forwarded from فیضـان دارالعــلوم امجـدیہ ناگپور
*🕯 « احــکامِ شــریعت » 🕯*
-----------------------------------------------------------
*📚مسلم کا کافر سے سودی قرض لینا کیسا؟ وضاحت و حکم!📚*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*الاستفتاء* السلام علیکم و رحمۃ اللہ تعالٰی و برکاتہ.__کیا فرماتے ہیں علماے کرام ومفتیانِ شرعِ متین اس مسئلہ میں کہ زیدکےپاس پیسےنہیں ہیں لیکن وہ ایساہنر رکھتاہےکہ اگر اسےایک معین رقم قلیل مدت کےلیےمل جائےتووہ خاطرخواہ منافع حاصل کرسکتاہےاور وہ معین رقم قرض حسنہ سےملناممکن نہیں.توزیدغیرمسلم سے سودپروہ رقم لےسکتاہے؟غير مسلم کو ٪3 سود دینا ہوگااس کےبالمقابل زیدکو ٪ 50منافع حاصل ہوگا.بینوا توجروا.
*المستفتی:* شکیل احمد قاضی برکاتی.مقام :راجکوٹ، گجرات.،الھند
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*وَعَلَيْكُم السَّلَام وَرَحْمَةُاللهِ وَبَرَكاتُهُ*
بسم اللہ الرحمن الرحیم
*الـــجــــــــــوابـــــــ :۔ ⇩*● *جب زید ہنر جانتاہے تو اپنی محنت سے کام کرکے قلیل مدت ہی میں رقم حاصل کرلے،کیونکہ بہت سے ہنر میں ابتداءً کچھ بھرتی نہیں لگتی، یا کوئی دوسرا کام کرکے رقم حاصل کرلے، پھر اپنا کام شروع کرے__رہا یہ کہ قرض حسن ملنا ناممکن ہے،تو یہ بعید معلوم ہوتا ہے کیونکہ دنیاسے امان بالکل نہیں اٹھ گیاہے، مسلمانوں میں سود کے بغیر قرض حسن دینالینا رائج ہے، لہذا زید کافر کی طرف نہ جائے،اپنوں میں قرض حسن تلاش کرےاور سود کاخیال ذہن سے نکال دے.*
● لیکن اگر نہ ملے تو یہ بھی تو ہوسکتا ہے کہ زید اپنے گھرکا کوئی سامان یا سونا چاندی ہوتو بقدر ضرورت بیچ کر کام نکالے. یوں ہی جائز طریقے پر اپنا کوئی سامان گروی رکھ کر رقم حاصل کرسکتاہے.
● لیکن زید اگر یہ کرنا نہ چاہے تو اپنی کوئی چیز قرض دینے والے کے ہاتھ مثلاً سوروپے میں بیچ دے، اُسے سوروپے مل گیے اور خریدار نے چیز پر قبضہ کرلیا، پھر زید وہی چیز قرض دینےوالےسے معین مدت کے وعدہ پر110 روپے میں خریدلے، اب قرض دینے والے نے سوروپے دیے لیکن 110روپے زید کے ذمہ لازم ہوگئے، جو قرض دینے والے کو مل جائیں گے، اور سود بھی نہیں ہوگا.یہ حیلہ(بہارشریعت، ج:٢،ص:٧٨٣،مجلس المدینہ)میں موجود ہے،وہاں اور بھی حیلے لکھےہیں.
● *یہ سود سے بچنے کی کچھ امکانی صورتیں لکھی گئیں، البتہ زید کے لیے یہ سب ممکن نہ ہو اور ضرورت شرعی ثابت ہو کہ بغیر سودی قرض کے کوئی چارہ نہ ہو تو سود پر قرض لے سکتاہے. البتہ اگر زید محتاج ہو لیکن ضرورت شرعی یا حاجت شدیدہ کے طور پر محتاج نہ ہو، اور تجارت کرنے کےلیےقرض لے رہاہو توکافر سے سود دے کر قرض لینا مطلقاً جائز نہیں، بلکہ یہ دیکھے کہ کافر کو جو زائد رقم ملےگی، اس سےاپنا نفع زیادہ ہونا یقینی ہو توجائز ہے ورنہ ناجائز. جیساکہ فتاوی فقیہ ملت،ج:٢،ص:٢١٥ پر اس کی وضاحت کی گئی ہے.*
_
فتاوی رضویہ میں ہے:*"مگر شریعت مطہرہ کا قاعدہ مقرر ہے کہ الضرورات تبیح المحظورات(ضرورتیں ممنوعات کو مباح کردیتی ہیں.) اسی لئے علماء فرماتے ہیں محتاج کو سودی قرض لینا جائز ہے،....اقول: محتاج کے یہ معنی جو واقعی حقیقی ضرورت قابل قبول شرع رکھتا ہو کہ نہ اس کے بغیر چارہ ہو نہ کسی طرح بے سودی روپیہ ملنے کا یارا ورنہ ہر گز جائز نہ ہوگا جیسے لوگوں میں رائج ہے کہ اولاد کی شادی کرنی چاہی سوروپے پاس ہیں ہزار روپے لگانے کو جی چاہا نوسو سودی نکلوائے یا مکان رہنے کو موجود ہے دل پکے محل کو ہوا سودی قرض لے کر بنایا...... ولہٰذا قوت اہل وعیال کے لئے سودی قرض لینے کی اجازت اسی وقت ہوسکتی ہے جب اس کے بغیر کوئی طریقہ بسر اوقات کا نہ ہو، نہ کوئی پیشہ جانتا ہو، نہ نوکری ملتی ہے جس کے ذریعہ سے دال روٹی اور موٹا کپڑا محتاج آدمی کی بسر کے لائق مل سکے ورنہ اس قدر پاسکتا ہے تو سودی روپے سے تجارت پھر وہی تونگری کی ہوس ہوگی نہ ضرورت قوت..."*(ج:١٧،کتاب البیوع،باب القرض،٢٩٨_٢٩٩،رضا فاؤنڈیشن، جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور)واللہ تعالی اعلم
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*✍🏻کتبــــــــــــــــــــــــــبه:*
*عدیل احمد قادری علیمی مصباحی، بلرام پور یوپی،انڈیا*
1/دسمبر،2021بروزجمعرات.
*📲+263780498811*
https://t.me/Faizan_E_DarulUloom_Amjadia_Ngp
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
-----------------------------------------------------------
*📚مسلم کا کافر سے سودی قرض لینا کیسا؟ وضاحت و حکم!📚*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*الاستفتاء* السلام علیکم و رحمۃ اللہ تعالٰی و برکاتہ.__کیا فرماتے ہیں علماے کرام ومفتیانِ شرعِ متین اس مسئلہ میں کہ زیدکےپاس پیسےنہیں ہیں لیکن وہ ایساہنر رکھتاہےکہ اگر اسےایک معین رقم قلیل مدت کےلیےمل جائےتووہ خاطرخواہ منافع حاصل کرسکتاہےاور وہ معین رقم قرض حسنہ سےملناممکن نہیں.توزیدغیرمسلم سے سودپروہ رقم لےسکتاہے؟غير مسلم کو ٪3 سود دینا ہوگااس کےبالمقابل زیدکو ٪ 50منافع حاصل ہوگا.بینوا توجروا.
*المستفتی:* شکیل احمد قاضی برکاتی.مقام :راجکوٹ، گجرات.،الھند
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*وَعَلَيْكُم السَّلَام وَرَحْمَةُاللهِ وَبَرَكاتُهُ*
بسم اللہ الرحمن الرحیم
*الـــجــــــــــوابـــــــ :۔ ⇩*● *جب زید ہنر جانتاہے تو اپنی محنت سے کام کرکے قلیل مدت ہی میں رقم حاصل کرلے،کیونکہ بہت سے ہنر میں ابتداءً کچھ بھرتی نہیں لگتی، یا کوئی دوسرا کام کرکے رقم حاصل کرلے، پھر اپنا کام شروع کرے__رہا یہ کہ قرض حسن ملنا ناممکن ہے،تو یہ بعید معلوم ہوتا ہے کیونکہ دنیاسے امان بالکل نہیں اٹھ گیاہے، مسلمانوں میں سود کے بغیر قرض حسن دینالینا رائج ہے، لہذا زید کافر کی طرف نہ جائے،اپنوں میں قرض حسن تلاش کرےاور سود کاخیال ذہن سے نکال دے.*
● لیکن اگر نہ ملے تو یہ بھی تو ہوسکتا ہے کہ زید اپنے گھرکا کوئی سامان یا سونا چاندی ہوتو بقدر ضرورت بیچ کر کام نکالے. یوں ہی جائز طریقے پر اپنا کوئی سامان گروی رکھ کر رقم حاصل کرسکتاہے.
● لیکن زید اگر یہ کرنا نہ چاہے تو اپنی کوئی چیز قرض دینے والے کے ہاتھ مثلاً سوروپے میں بیچ دے، اُسے سوروپے مل گیے اور خریدار نے چیز پر قبضہ کرلیا، پھر زید وہی چیز قرض دینےوالےسے معین مدت کے وعدہ پر110 روپے میں خریدلے، اب قرض دینے والے نے سوروپے دیے لیکن 110روپے زید کے ذمہ لازم ہوگئے، جو قرض دینے والے کو مل جائیں گے، اور سود بھی نہیں ہوگا.یہ حیلہ(بہارشریعت، ج:٢،ص:٧٨٣،مجلس المدینہ)میں موجود ہے،وہاں اور بھی حیلے لکھےہیں.
● *یہ سود سے بچنے کی کچھ امکانی صورتیں لکھی گئیں، البتہ زید کے لیے یہ سب ممکن نہ ہو اور ضرورت شرعی ثابت ہو کہ بغیر سودی قرض کے کوئی چارہ نہ ہو تو سود پر قرض لے سکتاہے. البتہ اگر زید محتاج ہو لیکن ضرورت شرعی یا حاجت شدیدہ کے طور پر محتاج نہ ہو، اور تجارت کرنے کےلیےقرض لے رہاہو توکافر سے سود دے کر قرض لینا مطلقاً جائز نہیں، بلکہ یہ دیکھے کہ کافر کو جو زائد رقم ملےگی، اس سےاپنا نفع زیادہ ہونا یقینی ہو توجائز ہے ورنہ ناجائز. جیساکہ فتاوی فقیہ ملت،ج:٢،ص:٢١٥ پر اس کی وضاحت کی گئی ہے.*
_
فتاوی رضویہ میں ہے:*"مگر شریعت مطہرہ کا قاعدہ مقرر ہے کہ الضرورات تبیح المحظورات(ضرورتیں ممنوعات کو مباح کردیتی ہیں.) اسی لئے علماء فرماتے ہیں محتاج کو سودی قرض لینا جائز ہے،....اقول: محتاج کے یہ معنی جو واقعی حقیقی ضرورت قابل قبول شرع رکھتا ہو کہ نہ اس کے بغیر چارہ ہو نہ کسی طرح بے سودی روپیہ ملنے کا یارا ورنہ ہر گز جائز نہ ہوگا جیسے لوگوں میں رائج ہے کہ اولاد کی شادی کرنی چاہی سوروپے پاس ہیں ہزار روپے لگانے کو جی چاہا نوسو سودی نکلوائے یا مکان رہنے کو موجود ہے دل پکے محل کو ہوا سودی قرض لے کر بنایا...... ولہٰذا قوت اہل وعیال کے لئے سودی قرض لینے کی اجازت اسی وقت ہوسکتی ہے جب اس کے بغیر کوئی طریقہ بسر اوقات کا نہ ہو، نہ کوئی پیشہ جانتا ہو، نہ نوکری ملتی ہے جس کے ذریعہ سے دال روٹی اور موٹا کپڑا محتاج آدمی کی بسر کے لائق مل سکے ورنہ اس قدر پاسکتا ہے تو سودی روپے سے تجارت پھر وہی تونگری کی ہوس ہوگی نہ ضرورت قوت..."*(ج:١٧،کتاب البیوع،باب القرض،٢٩٨_٢٩٩،رضا فاؤنڈیشن، جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور)واللہ تعالی اعلم
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*✍🏻کتبــــــــــــــــــــــــــبه:*
*عدیل احمد قادری علیمی مصباحی، بلرام پور یوپی،انڈیا*
1/دسمبر،2021بروزجمعرات.
*📲+263780498811*
https://t.me/Faizan_E_DarulUloom_Amjadia_Ngp
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
Telegram
فیضـان دارالعــلوم امجـدیہ ناگپور
اہلسنت و جماعت مسلک اعلیٰ حضرت کا ترجمان، وسط ہند کی عظیم درسگاہ " دارالعلوم امجدیہ ناگپور مہاراشٹرا" کے نام سے منسوب گروپ
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
🔎 #Sacred_Traditions Arabic الحَيَاءُ لَا يَأْتِي إِلَّا بِخَيْرٍ Urdu: -حیاء بھلائی (خیر) ہی لاتی ہے English: Modesty only brings good. Roman: Hayaa bhalaai (khayr) hi laati hay. Hindi: ह़या भलाई (ख़ैर) ही लाती है । https://www.facebook.com/11402144…
حضرت سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سرکارِ مدینہ ﷺ نے حضرت سیدنا براء بن مالک رضی اللہ عنہ سے ارشاد فرمایا: اے براء! آدمی جب اپنے بھائی کی اللہ کے لیے مہمانی کرتا ہے اور اس کی کوئی جزا اور شکریہ نہیں چاہتا تو اللہ اس کے گھر میں دس فرشتوں کو بھیج دیتا ہے جو پورے ایک سال تک اللہ کی تسبیح و تہلیل اور تکبیر پڑھتے ہیں اور اس کے لیے مغفرت کی دعا کرتے ہیں اور جب سال پورا ہو جاتا ہے تو ان فرشتوں کی پورے سال کی عبادت کے برابر اس کے نامۂ اعمال میں عبادت لکھ دی جاتی ہے اور اللہ کے ذمۂ کرم پر ہے کہ اس کو جنت کی لذیذ غذائیں جنتِ خُلد اور نہ فنا ہونے والی بادشاہی میں کھلائے۔ (كنزالعمال، كتاب الضيافة، الجزء التاسع، جلد ۵، صفحہ ۱۱۹، حديث ۲۵۹۷۲)
https://www.facebook.com/114021443682673/posts/424918249259656/
https://www.facebook.com/114021443682673/posts/424918249259656/
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🔎 #Sacred_Traditions
بے شوہر عورت کو ارملہ کہتے ہیں خواہ کنواری ہوں یا بیوہ یا خاوند نے طلاق دے دی ہو۔ اگر یہ فقیر ہے تو اس پر خرچ بھی کرے اور حد شرع میں رہتے ہوئے اس کا کام کاج بھی، اگر غنی ہے تو کام کاج کرے اور اس کا سودا سلف وغیرہ لا دیا کرے، لفظ ساعی ان دونوں کو شامل ہے۔ ایسے شخص کا ثواب تو مجاہد و غازی فی سبیل اللہ کی طرح یا اس کے برابر ہے اور یہ خدمت بھی ایک قسم کا جہاد ہے۔ (مرآۃ المناجیح، مرقاۃ المفاتیح، اشعۃ اللمعات)
https://www.facebook.com/114021443682673/posts/424986245919523/
بے شوہر عورت کو ارملہ کہتے ہیں خواہ کنواری ہوں یا بیوہ یا خاوند نے طلاق دے دی ہو۔ اگر یہ فقیر ہے تو اس پر خرچ بھی کرے اور حد شرع میں رہتے ہوئے اس کا کام کاج بھی، اگر غنی ہے تو کام کاج کرے اور اس کا سودا سلف وغیرہ لا دیا کرے، لفظ ساعی ان دونوں کو شامل ہے۔ ایسے شخص کا ثواب تو مجاہد و غازی فی سبیل اللہ کی طرح یا اس کے برابر ہے اور یہ خدمت بھی ایک قسم کا جہاد ہے۔ (مرآۃ المناجیح، مرقاۃ المفاتیح، اشعۃ اللمعات)
https://www.facebook.com/114021443682673/posts/424986245919523/