🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
Forwarded from Gulam Mustafa Razvi
علق فرمایا تھا:

    ’’رائل ایشیاٹک سوسائٹی آف سنگھائی( Royal Asiatic Society of Shanghai) کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے میں نے واضح کیا تھا کہ سائنس اور مذہب کے باہمی تضاد کا مفروضہ صرف غلط فہمیوں کی بنیاد پر ہے، اور مجھے انتہائی مسرت ہوئی کہ میری اس بات کو غیر معمولی طور پر سراہا گیا۔ بلا شبہہ جن لوگوں کے نزدیک مذہب اور سائنس کے مابین تضاد موجود ہے وہ حقیقتاً مذہبی نظریہ کو غلط معانی دیتے ہیں، وہ در اصل مذہب نہیں ہے وہ دیومالائی قصے ہیں اور توہمات کے سوا کچھ نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ مذہب بہ ذات خود ایک سائنس ہے۔‘‘۱۰؎

*مطالعۂ کائنات اور خالق کائنات:*
    مخلوق کا مشاہدہ خالق کی سمت رہنمائی کرتا ہے۔ مبلغ اسلام فرماتے ہیں: ’’جب ہم اپنے ارد گرد (ایک وسیع) کائنات، ستاروں سے بھر پور آسمان اوپر، گونا گوں مخلوق نیچے دیکھتے ہیں اور جا بجا ایک (حسین) ترتیب اور (متوازن) نمونے کا مشاہدہ کرتے ہیں توہم مجبوراً اس نتیجے پر پہنچ جاتے ہیں کہ یقیناً کسی نہ کسی مصور و صانع اور خالق کا ہونا ضروری ہے۔ جسے بجا طور پر کائنات کا موجد عظیم باعث اول کہا جا سکے۔ عقل اسے کیوں کر تسلیم کر سکتی ہے کہ یہ وسیع کائناتی نظام کسی بنانے والے کے بغیر ہی ظہور پذیر ہو گیا ہو۔ (بہ الفاظ دیگر) مخلوق خود ہی اپنے خالق کی نشان دہی کر رہی ہے۔‘‘ ۱۱؎

    مبلغ اسلام کے اس نکتے پر قرآن مقدس سے ایک دلیل دینا زیادہ مناسب سمجھتا ہوں، جس میں نظام کائنات میں غور و خوض کی تعلیم دے کر خالق حقیقی کی سمت رہنمائی کی گئی ہے اور دعوتِ فکر بھی ہے:

    اِنَّ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَاخْتِلَافِ الَّیْلِ وَ النَّھَارِ وَالْفُلْکِ الَّتِیْ تَجْرِیْ فِی الْبَحَرِ بِمَا یَنْفَعُ النَّاسَ وَمَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ مِنَ السَّمَآئِ مِنْ مَّآئٍ فَاَحْیَا بِہِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِھَاوَ بَثَّ فِیْھَا مِنْ کُلّ ِ دَآبَّۃٍ وَّتَصْرِیْفِ الرِّیٰحِ وَ السَّحَابِ الْمُسَخَّرِ بَیْنَ السَّمَآئِ وَالْاَرْضِ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ ۱۲؎

    ’’بے شک آسمانوں اورزمین کی پیدائش اور رات و دن کا بدلتے آنا اور کشتی کہ دریا میں لوگوں کے فائدے لے کر چلتی ہے اور وہ جو اللہ نے آسمان سے پانی اتار کر مردہ زمین کو اس سے جلا دیا اور زمین میں ہر قسم کے جانور پھیلائے اور ہواؤں کی گردش اور وہ بادل کہ آسمان و زمین کے بیچ میں حکم کاباندھا ہے ان سب میں عقل مندوں کے لیے ضرور نشانیاں ہیں۔‘‘ (کنزالایمان)

    مبلغ اسلام کے بیان کردہ اس پہلو کی مزید توضیح انھیں کے ایک اصول سے کرتے ہیں، فرماتے ہیں:

    ’’اب ہر عقل مند کا فرض ہے کہ وہ اپنی عقل کو بروئے کار لائے اور سوچے کہ کیا اسے انسان کے گھڑے ہوئے نا مکمل نظریات کو اختیار کرنا ہے، یا ہر چیز کے جاننے والے خدا کی طرف سے آئی ہوئی مکمل راہِ ہدایت کو…‘‘۱۳؎

*دعوت فکر:*
    وجود باری سے متعلق عقلاے زمانہ کو غور و فکر کی دعوت دیتے ہوئے مبلغ اسلام علامہ شاہ عبدالعلیم میرٹھی فرماتے ہیں: ’’اسے معمولی عقل سے بھی سمجھا جا سکتا ہے، ہر سچا اور غیر متعصبانہ فلسفہ اور سائنسی نظریہ بھی اس کا موید ہے۔ (یہ طے ہو چکا تو) منطقی جرح وقدح کے مطابق یہ بھی ضروری ہے کہ وہ (باعث ہستی) خلاق اکبر، ہمہ داں اور (اپنے علم و قدرت سے) ہر جگہ موجود ہے۔‘‘

    منکرین! عقل سے بے بہرہ تھے، اسی لیے یہ بات جو آسان بھی ہے اور مشاہداتی بھی ان کی سمجھ میں نہ آئی، مبلغ اسلام فرماتے ہیں: ’’حیاتِ انسانی میں اس اعتقاد کو (وجود باری تعالیٰ کے عقیدے کو) عالم گیر حیثیت حاصل رہی ہے اس سے فقط انہی افرادنے انکار کیا ہے جن کے جذباتی تعصب نے انھیں عقل و خرد سے بے نیاز ہو کر سوچنے پر آمادہ کیا۔‘‘۱۴؎

عقل گو آستاں سے دور نہیں
اس کی تقدیر میں حضور نہیں

    نظام کائنات پر تفکر یہ بتاتا ہے کہ پورا نظام کسی کے تابع ہے اور ہر ایک فطرت کے مطابق حرکت پذیر۔ دوسرے الفاظ میں کائنات کا ہر جز اللہ تعالیٰ کے احکام کی متابعت کی بنیاد پر ’’مسلم‘‘ ہے:

    وَلَہٗ اَسْلَمَ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ طَوْعًا وَّکَرْھًا وَّاِلَیْہِ یُرْجَعُوْنَ  ۱۵؎

    ’’اور اسی کے حضور گردن رکھے ہیں جو کوئی آسمانوں اور زمین میں ہیں خوشی سے اور مجبوری سے اور اسی کی طرف پھریں گے-‘‘ (کنزالایمان)

*انبیا کا آفاقی پیغام:*
    انسانوں کی رہنمائی کے لیے انبیا تشریف لائے اور خدا کی اطاعت کی تعلیم دی۔ فطرت سے انحراف کرنے والوں کو۔ مبلغ اسلام، انبیاے کرام کے مشن سے متعلق عقلی بات سمجھاتے ہیں:

    ’’خدا سے پیغامات حاصل کرنے اور خلق تک پہنچانے کی بنا پر انھیں مذہبی اصطلاح میں رسول یا نبی کہا جاتا ہے۔ مکتبی بلکہ ہر قسم کی ظاہری تعلیم حاصل نہ کرنے کے باوجود ، وہ بلند ترین عقل و علم کی باتیں سکھاتے ہیں۔‘‘ ۱۶؎

    انبیا کے پیغام کو جب فراموش کر دیا جاتا تب دوسرے نبی جلوہ گر ہوتے اور پیغام کی تکمیل فرما دیتے اور حقانیت کی راہ دکھاتے۔ بعثتِ انبیا
Forwarded from Gulam Mustafa Razvi
کا سلسلہ جاری رہا اور آخر وہ وقت بھی آیا جب پوری انسانیت تاریکی کی نذر ہو گئی، اور عالم گیر رہنمائی کی محتاج ، مبلغ اسلام کے الفاظ میں:

    ’’یہ سب (حضرات انبیاے کرام علیہم السلام باری باری) تشریف لا کر اپنا اپنا کام (یعنی خلق کی ہدایت) کرتے گئے، حتیٰ کہ ایک ایسا وقت بھی آ گیا جب حیاتِ انسانی ایک عالم گیر تاریکی میں محصور ہو گئی… عالم گیر اصلاح کے لیے ایک عالم گیر پیغام کی ضرورت تھی اور جس خداے واحد و یکتا نے حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت عیسیٰ علیہ السلام تک سب رسولوں کو وحی بھیجی تھی، حضرت محمد مصطفیٰ علیہ الصلاۃ والسلام والتحیۃ والثنا کو بھی وحی بھیجی۔ وہی جنھوں نے تاریخ انسانیت میں بالکل پہلی بار خدائی حکم کے مطابق یہ دعویٰ کیا:

    یٰٓاَ یُّھَا النَّاسُ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ اِلَیْکُمْ جَمِیْعًا (پ۹،ع۱۰)
    ’’اے لوگو! میں تم سب کی طرف اس اللہ کا رسول ہوں‘‘۱۷؎

    اس میں ختمِ نبوت کی یہ دلیل بھی مل گئی کہ دوسرے انبیا کسی خاص علاقہ یا قوم میں جلوہ گر ہوتے تھے، لیکن سرکار اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے جو دعوت پیش کی وہ عالم گیر تھی، اور اس آفاقی دعوت سے تمام انسانیت کو رہنمائی و ہدایت ملی جس کی مثال تاریخِ انسانی میں نہیں ملتی۔

*آخری پیغام کی عقلی دلیل:*
    مبلغ اسلام اپنے دعوتی اسلوب میں عقلی تجزیہ پیش کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

    حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت تشریف لائے جب پریس (Press) اور پیغام کو ہمیشہ کے لیے محفوظ رکھنے کے دوسرے ذرائع ان سائنسی کوششوں کے نتیجے میں رونما ہونے ہی والے تھے جن کا آغاز خود آپ کے غلاموں نے کیا۔ آپ کا پیغام مستقل اور ابدی ہے، کیوں کہ رب تعالیٰ نے خود درج ذیل الفاظ میں اس کی حفاظت کا وعدہ فرمایا ہے:

    اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَاِنَّالَہٗ لَحٰفِظُوْنَ  (سورۃالحجر:۹)
    ’’بے شک ہم نے اتارا ہے یہ قرآن اور بے شک ہم خود اس کے نگہبان ہیں‘‘ (کنزالایمان)

اور اس کے کامل ہونے کا اعلان یوں فرمایا ہے:
    اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ اَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِیْ وَرَضِیْتُ لَکُمُ الْاِ سْلَامَ دِیْنًا  ( المائدۃ:۴)

    ’’آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین کامل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی اور تمہارے لیے اسلام کو دین پسند کیا‘‘ (کنزالایمان)۱۸؎

    یہاں قرآن کے الفاظ میں یہی پیغام کھل کر سامنے آتا ہے:
    اِنَّ الدِّ یْنَ عِنْدَاللّٰہِ الْاِسْلَامُ   ۱۹؎ ’’بے شک اللہ کے یہاں اسلام ہی دین ہے‘‘ (کنزالایمان)

    اسلام کے اصولوں پر عمل بالخصوص سرکار اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے طریقوں پر عمل کی ترغیب دیتے ہوئے حقیقی مسرت کے حصول کا راز ان الفاظ میں ذکر کرتے ہیں اور قوانین الٰہی کی اطاعت و پیروی کی تلقین بھی:

    ’’سچی مسرت اور حقیقی کامرانی خداے تعالیٰ کے مقرر کردہ اور برگزیدہ رسولانِ کرام کے لائے ہوئے قوانین کے مطابق زندگی کے جسمانی اخلاقی اور روحانی پہلوؤں کی متوازن نشو و نما ہی سے حاصل کی جا سکتی ہے۔‘‘۲۰؎

    قوانین اسلام پر عمل کرنے کے نتیجے میں سکون قلب، تسکین روح اور مسرت کا حصول ہو گا۔ مبلغ اسلام نے ’’انسانی مسائل کاحل‘‘ میں مذہب کی ضرورت کے ضمن میں محسوسات پر بھی سائنٹیفک انداز میں گفتگو کی ہے اور حقیقی مسرت کے حصول کے لیے رجوع الی اللہ اور قرب الٰہی کے پہلو پر قرآن مقدس سے دلیل قائم کر کے روشنی ڈالی ہے۔

*قرب الٰہی:*
    مبلغ اسلام اس پہلو سے ایک مثال دیتے ہیں جو ہر ذی شعور کی سمجھ میں بہ آسانی آئے گی:

    ’’روز مرہ کی زندگی میں اگر آپ کسی ایسے شخص سے اچھی طرح منسلک ہو جائیں جو کسی قسم کی طاقت رکھتا ہو تو آپ اپنے اندر بھی ایک نئی قوت محسوس کریں گے۔ اب اس ذات سے حصول قرب کا اندازا کیجیے جو زندگی، نور کمال اور قوت کا حقیقی منبع ہے۔‘‘۲۱؎

    اس مقام پر مبلغ اسلام نے ان انسانوں کی حالت زار کو بیان فرمایا ہے جو محرومی کا شکار ہیں نیز اس کے اسباب بھی بیان فرمائے جن  کے باعث بندہ قرب الٰہی سے محروم ہو رہتا ہے۔

*عبادت:*
    کیا رب قدیر نے جو ہم پر والدین سے زیادہ مہربان ہے اور جس نے اسی بنا پر اپنے رسولان کرام علیہم السلام کے ذریعے ہماری رہنمائی کا بندوبست فرمایا، اپنے ذکر کا کوئی بہترین طریقہ بھی سکھایا ہے، کیا عبادت کی معینہ صورتیں یا ایک ہی وقت کی عبادت سود مند یا کافی ہے۔ یہ وہ سوالات ہیں جو ہمارے دماغ میں ابھرتے ہیں، اور جن کا جواب خود قرآن حکیم نے دیا ہے، ہمیں حکم ہے کہ پانچ دفعہ تو فرض نمازیں ادا کریں اور ان کے علاوہ زندگی کا لمحہ لمحہ اپنے رب کی یاد سے معمور رکھیں، الہامی کلام کے الفاظ میں:

    الذِیْنَ یُذْکُرُوْنَ اللّٰہَ قِیَاماً وَّقُعُوْداً وَّ عَلٰی جُنُوْبِھِمْ (آل عمران:۱۹۱)
    ’’جواللہ کی یاد کرتے ہیں کھڑے اور بیٹھے اور کروٹ پر لیٹے‘‘ (کنزالایمان)

    اس مقام پر مبلغ اسلام عبادت و ذکر الٰہی کی دو صورتیں ذکر کر
Forwarded from Gulam Mustafa Razvi
تے ہیں:

(۱)  ہم ہر لمحے کے اختتام پر یہ یاد رکھیں کہ تمام قوت و خوبی اسی (ذات باری) سے ملتی ہے، وہی اصل میں ہر حسن وکمال دینے والا اور ہم تو محض اس کے بھکاری ہیں۔
(۲)  کوئی بھی عمل کرتے وقت با خبر رہیں کہ یہ کام خدا کے اتارے ہوئے اور خدا کے سکھائے ہوئے قوانین کے مطابق ہے کہ نہیں۔ ۲۲؎

*عمل کی ترغیب کا منطقی انداز:*
    ایک مشفق استاذ یہ چاہتا ہے کہ اپنا درس طالب علم کے ذہن میں اتار دے اور ایسا کہ وہ اسے پھر نہ بھولے اس لیے استاذ مثالوں سے اپنی بات کو آسان اور قابلِ فہم بناتا ہے، مبلغ اور داعی کا وصف یہی بتایا گیا ہے کہ وہ پُر از حکمت کلام کرتا ہے اور اسلام کی تعلیمات کو سلجھے ہوئے انداز میں پیش کر کے فکر پر خوشگوار اثرات مرتب کرتا ہے۔ مبلغ اسلام اس جوہر سے مرصع تھے اور ایک مشفق و کامیاب استاذ بھی، جو حق کی دعوت کے نکات کو ذہن نشین کرانے کا فن خوب جانتے تھے، کچھ ایسا ہی انداز اس اقتباس میں دکھائی دیتا ہے، جس میں عمل کی ترغیب بھی ہے اور اسلام کی تعلیمات کی سچائی پر دعوتِ فکر بھی:

    ’’جس طرح سائنس کا کوئی نظریہ عملی تجربے سے تائید لیے بغیر مکمل طور پر سمجھ میں نہیں آ سکتا بالکل اسی طرح آپ اسے بھی عملی طور پر آزمائیں یہ کارروائی خود نظریے کی صداقت کا ثبوت پیش کر دے گی۔ جب آپ اپنے اعمال کی بنیاد ذکر خدا پر رکھیں گے تو جلدہی اپنی زندگی کو خداے الٰہی کے مطابق ایک متوازن سانچے میں ڈھلی ہوئی پائیں گے۔‘‘ ۲۳؎

*انسانی مسائل کے حل کا پیغام:*
    اپنے معرکۃالآرا مقالہ ’’انسانی مسائل کا حل‘‘ کے آخر میں مبلغ اسلام ، اسلام پر ثابت قدمی کا پیغام عقیدے کی بنیاد پر ان الفاظ میں دیتے ہیں، جن میں ادیانِ باطلہ کی تردید کے ساتھ ہی تنبیہ بھی ہے اور قلبی واردات کی کیفیت بھی:

    ’’خبردار! خدا ہی آپ کا مالکِ حقیقی اور شہنشاہِ ازلی ہے، اس کے احکام کے آگے سرِ تسلیم خم کر کے اس کے رسولوں کی اتباع کیجیے، جن میں آخری حضرت محمد مصطفیٰ علیہ التحیۃ والثنا ہیں۔ اسی راستے پر خود چلیے اور اسی کی دوسروں کو تلقین کیجیے اور اسی پر چل کر فوز و فلاح، ابدی سکون اور دوامی مسرت حاصل کیجیے۔‘‘۲۴؎

    اس پیغام کو ہم مبلغ اسلام کی ’’اذانِ سحر‘‘ بھی کہہ سکتے ہیں جس میں حق کی اشاعت کا جذبۂ صادق موجود ہے، جس سے گلستانِ حیات میں تازگی کا احساس ہوتا ہے، اقبالؔ نے کہا تھا   ؎

وہ سحر جس سے لرزتا ہے شبستان وجود
ہوتی ہے بندۂ مومن کی اذاں سے پیدا

*اختتامیہ:*
    نجات و مسرت کا حصول صرف قوانین فطرت کی اطاعت میں پنہاں ہے۔ اس سے بغاوت کی کوکھ سے ہی مسائل سر ابھارتے ہیں اور انسانیت ذلت و پستی اور رسوائی سے دوچار ہوتی ہے۔ مبلغ اسلام نے انسانی کمزوریوں کی خوب نشاندہی کی ہے، اور اس کے تدارک کی دوا تجویز کی ہے۔ ’’انسانی مسائل کا حل‘‘ میں آپ نے یہی فکر دی کہ فطرت کو اپنایا جائے اور خلافِ فطرت سے اجتناب برتا جائے، تب دنیا مسرت کا گہوارا بنے گی، اور امن و سکوں کا گلستاں۔ اور یہ حقیقی مسرت دین فطرت میں ہے جسے ’’اسلام‘‘ کے نام سے جانا پہچانا جاتا ہے۔ یہاں اس مفہوم کی وضاحت میں مبلغ اسلام کے افکار کے عطر سے ایک نمونہ پیش کرنا مناسب سمجھتا ہوں جس کی خوشبو یقیناً وجود کو مہکا دے گی:

    ’’اسلامی تعلیمات کے مطابق قادرِ مطلق رب پر ایمان رکھنا اور اس کے احکامات کے آگے سرِ تسلیم خم کر دینا انسانی فطرت ہے۔ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کُلُّ مَوْلُوْدٍ یُوْلَدُ عَلَی الْفِطْرَۃِ (صحیح بخاری،کتاب الجنائز؛ باب:ماقیل فی أولادالمشرکین) یعنی ہر پیدا ہونے والا فطرت پر پیدا کیا جاتا ہے۔

    صحابہ نے عرض کی: فطرت کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: طبیعتِ اسلام۔ اس لیے اسلام فطرت کا مترادف ہے اور فطرت ’’اسلام‘‘ کے مترادف۔ اسلام کی ساری تعلیمات فطرت سے ہم آہنگ ہیں۔‘‘۲۵؎

    اس فطرت سے انحراف کی بنیاد پر ہی دنیا طرح طرح کے مسائل سے گزر رہی ہے۔ انسانی مسائل کا حل صرف اسلام میں ہے اور حق کی راہ روشن ہے۔ مبلغ اسلام علامہ شاہ عبدالعلیم صدیقی کے مرشد گرامی امام احمد رضا نے بجا ہی فرمایا ہے   ؎

ترے دین پاک کی وہ ضیا کہ چمک اٹھی رہِ اصطفا
جو نہ مانے آپ سقر گیا کہیں نور ہے کہیں نار ہے
***

*حوالہ جات:*
(۱)    نفیس احمد مصباحی،مولانا، کشف بردہ، طبع المجمع القادری مبارک پور۲۰۰۵ء، ص۲۱۶
(۲)    سورۃ النحل:۱۲۵
(۳)    عبدالعلیم میرٹھی، علامہ، انسانی مسائل کا حل، مترجم محمد حسین آسی، پروفیسر، ورلڈ اسلامک مشن کراچی ۲۰۰۸ء، ص۲
(۴)    مرجع سابق،ص۲۔۳
(۵)    مرجع سابق،ص۳
(۶)    مرجع سابق،ص۵۔۶
(۷)    مرجع سابق،ص۶
(۸)    مرجع سابق،ص۶۔۷
(۹)    مرجع سابق،ص۷۔۸
(۱۰)    عبدالعلیم میرٹھی، علامہ، سائنس کے فروغ میں مسلمانوں کا حصہ، مترجم رضا فاروقی، مشمولہ تبرکات مبلغ اسلام، اویسی بک اسٹال گوجرانوالہ ۲۰۰۴ء، ص۴۹۱
(۱۱)    عبدالعلیم میرٹھی، علامہ، انسانی مسائل کا حل، مترجم محمد حسین آسی، پروفیسر، ورلڈ اسلامک مشن کراچی ۲۰۰۸ء، ص۸
Forwarded from Gulam Mustafa Razvi
۔۹
(۱۲)    سورۃالبقرۃ:۱۶۴
(۱۳)    عبدالعلیم میرٹھی، علامہ، اسلام کے اصول، مترجم محمد حسین آسی، پروفیسر، مشمولہ تبرکات مبلغ اسلام، اویسی بک اسٹال گوجراں والہ ۲۰۰۴ء، ص۱۹۲
(۱۴)    عبدالعلیم میرٹھی، علامہ، انسانی مسائل کا حل، مترجم محمد حسین آسی، پروفیسر، ورلڈ اسلامک مشن کراچی ۲۰۰۸ء، ص۹
(۱۵)    سورۃ آل عمران:۸۳
(۱۶)    عبدالعلیم میرٹھی، علامہ، انسانی مسائل کا حل، مترجم محمد حسین آسی، پروفیسر، ورلڈ اسلامک مشن کراچی ۲۰۰۸ء، ص۱۰
(۱۷)    مرجع سابق،ص۱۱۔۱۲
(۱۸)    مرجع سابق،ص۱۳۔۱۴
(۱۹)    سورۃ آل عمران:۱۹
(۲۰)    عبدالعلیم میرٹھی، علامہ، انسانی مسائل کا حل، مترجم محمد حسین آسی، پروفیسر، ورلڈ اسلامک مشن کراچی ۲۰۰۸ء، ص۱۴
(۲۱)    مرجع سابق،ص۱۶۔۱۷
(۲۲)    مرجع سابق،ص۱۹۔۲۰
(۲۳)    مرجع سابق،ص۲۰
(۲۴)    مرجع سابق،ص۲۱۔۲۲
(۲۵)    عبدالعلیم میرٹھی، علامہ، تبلیغ اسلام کے اصول و فلسفہ، خورشید احمد سعیدی، تحریک فکر رضا ممبئی، ص۲۱۔۲۲

gmrazvi92@gmail.com
9325028586
***
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
بیکل اُتساہی – نئے عہد کا سب رنگ شاعر
🖋️ محمد حسین مُشاہدؔ رضوی

(یومِ وفات پر خراجِ تحسین)

زندگی جھوٹ ہے سب حیلے بہانے کر لو
موت اک سچ ہے کلیجے سے لگانا ہو گا
بیکلؔ اتساہی

حسانِ وقت، پدم بھوشن عالی قدر سرِ معانی بیکلؔ اتساہی کا اصل نام لودی محمد شفیع خاں تھا۔ آپ یکم جون ۱۹۲۸ء بروز جمعہ موضع گورر موا پور، اُترولہ ضلع گونڈہ کے ایک جاگیردار گھرانے میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد لودی محمد جعفر خاں اور والدہ بسم اللہ بی بی خلیل زئی پورے علاقے میں ایک ممتاز مقام رکھتے تھے۔ بیکلؔ اتساہی کی پرورش و پرداخت نہایت صحت مند، جاگیردارانہ لاڈ و پیار سے رعب و جلال کے گھن گرج ماحول میں ہوئی۔ بیکلؔ اتساہی دینی و ادبی، تعلیمی و سیاسی اجلاس اور مشاعروں کی آبرو تھے۔ عزت و اکرام کی زندگی گذار کر وہ درویش صفت شاعر آج ۳ ؍ربیع الاول ۱۴۳۸ھ / ۳ ؍ دسمبر ۲۰۱۶ء بروز سنیچر اپنے مالک حقیقی سے جا ملا، کیا شان کی موت ہے کہ جس ذاتِ پاک رحمت عالم و عالمیان صلی اللہ علیہ و سلم کے گیت زندگی بھر گاتے اور سناتے رہے اسی پاک ذات کے مبارک مہینے میں بارگاہِ حقیقی سے طلبی نصیب میں آئی۔ گذشتہ شب افواہوں کے چلتے اُن کی صاحب زادی ڈاکٹر صوفیہ بلقیس سے برین ہیمبریج کی جاں کاہ خبر نئی دہلی سے ملی۔ انھوں نے بتایا کہ رام منوہر لوہیا اسپتال میں زیر علاج ہیں لیکن ڈاکٹرز نے جواب دے دیا ہے۔ آج علی الصبح یہ افسوسناک اطلاع ملی کہ بیکلؔ صاحب سفر آخرت کو سدھار گئے، ان للہ و انا الیہ راجعون! برادر عزیز مدثر حسین رضوی کے توسط سے جناب اعجازؔ اتساہی ابن بیکلؔ اتساہی سے بھی بات ہوئی انھوں نے بتایا کہ کل بروز اتوار۴؍ ربیع الاول ۱۴۳۸ھ/ ۴؍ دسمبر ۲۰۱۶ء بعد ظہر بلرام پور میں تدفین عمل میں آئے گی۔ بیکلؔ صاحب جلالۃ العلم حضور حافظ ملت قدس سرہٗ کے چہیتے مریدوں میں تھے۔ آپ ہی کی کاوش سے حافظ ملت علیہ الرحمہ نے بغیر فوٹو کے حج فرمایا اس سفر حج میں بیکلؔ صاحب بھی ساتھ ساتھ رہے۔ ۱۹۷۲ء میں مجلس شوریٰ عربک یونی ورسٹی مبارک پور، اعظم گڑھ بنائی اور جامعہ اشرفیہ مبارک پور کے لیے نمایاں خدمات انجام دیں۔ آپ مذہب، ادب، تعلیم اور سیاست کے میدانوں میں نمایاں مقام رکھتے تھے۔ ہندوستانی پارلمینٹ کے رکن بھی رہے۔ ہندوستانی حکومت نے ان کی خدماتِ جلیلہ کا اعتراف کرتے ہوئے انھیں ۱۹۷۶ء میں ’’ پدم بھوشن‘‘ اعزاز سے نوازا۔ پنڈت نہرو جب ملک کے وزیر اعظم تھے اس وقت وہ اکثر یوم جمہوریہ اور یوم آزادی کے موقع پر لال قلعہ کی فصیل سے حب الوطنی پر مشتمل گیت اپنے مخصوص ترنم میں گایا کرتے تھے۔ آپ تاعمر ادب کے ساتھ ساتھ انسانیت کی خدمت میں بھی مصروف رہے۔ مختلف سیاسی و سرکاری کمیٹیوں کے رکن رہے۔ مختلف اداروں نے آپ کی ادبی و سماجی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے مختلف اعزازات سے نوازا جس کی فہرست کافی طویل ہے۔

نعت گوئی بیکل ؔ صاحب کا اوڑھنا بچھونا تھی۔ بیکل ؔاتساہی کی نعت گوئی بالخصوص نعتیہ گیت نگاری اردو نعت کے سفر میں بہت اہمیت رکھتی ہے۔ یوں تو بیکلؔ نے اردو کی ہر صنف کو اپنی جودتِ طبع سے جگمگایا۔ بلکہ غزل کی ہیئت کے علاوہ دیگر ماہیئتوں میں بھی انھوں نے مدحتِ مصطفی صلی اللہ علیہ و سلم کے گل بوٹے بکھیرے۔ حمد، مناجات، نعت، درود، سلام، مناقب، قصائد، مرثیے، دوہے، غزلیں ، نظمیں، گیت، گیت نما، ہائیکو، ماہیے، ترائیلے وغیرہ وغیرہ اصناف پر ان کی تقدیسی، بہاریہ، غزلیہ، قومی اور طفلی شاعری پر مبنی ایک کلیات بہ نام ’’ کلیات بیکلؔ ‘‘ ۱۱۰۵ ؍ صفحات کو محیط جناب فاروق ارگلی کا مرتبہ فرید بک ڈپو دہلی سے منظر عام پر آ چکا ہے۔ بیکل ؔاتساہی کی شعری کائنات کی تفصیل ذیل میں پیشِ خدمت ہے :خزینۂ نعت و سلام کے تحت : (۱) نغمۂ بیکل (۲) حسنِ مجلّیٰ(۳) تحفۂ بطحا(۴) سرورِ جاوداں (۵) بیانِ رحمت (۶) جامِ گل (۷) توشۂ عقبیٰ (۸) نورِ یزداں (۹) والضحیٰ (۱۰) والنجوم (۱۱) والفجر ہیں جب کہ غزل غزل بیکل کے ضمن میں (۱) غزل سانوری (۲) پروائیاں (۳) موتی اُگے دھان کے کھیت (۴) موسموں کی ہوائیں (۵) دوہا پورم بیکل کے مجموعوں کے نام ہیں۔ اسی طرح قومی شاعری کے حوالے سے (۱) اپنی دھرتی چاند کا درپن (۲) رنگ ہزاروں خوشبو ایک (۳) مٹی، ریت، چٹان (۴) کومل مکھڑے بیکل گیت (۵) نظماوت۔ جب کہ بچوں کے لیے لکھی گئی نظموں اور گیتوں کے مجموعے کا نام ’’ بچوں کی پھلواری ‘‘ ہے۔ آپ کی شعری خدمات پر کئی رسرچ اسکارز نے ایم فل اور پی ایچ ڈی کی ڈگریاں بھی حاصل کی ہیں۔ راقم الحروف ناچیز مشاہدؔرضوی پر بیکلؔ صاحب بڑا کرم فرماتے تھے۔ اکثر ٹیلی فونک رابطہ رہتا تھا۔ ناچیز کی نعت گوئی پر آپ نے دسمبر ۲۰۱۰ء میں اپنا گراں قدر تاثر بھی قلمی صورت میں ارسال کیا تھا جو میرے لیے کسی نعمت سے کم نہیں۔ آپ بڑے نفیس انداز میں خطوط لکھا کرتے تھے اور فون پر اُن کی گفتگو بھی شفقت آمیز رہا کرتی تھی۔ بڑوں کا ادب کرتے تھے۔ اصاغر نواز تھے۔
بیکلؔ اتساہی کی شاعری میں ہندوستانیت کا بڑا گہرا رچاؤ پایا جاتا ہے۔ پاسبانِ ملت علامہ مشتاق احمد نظامی علیہ الرحمہ نے بیکلؔ مرحوم کے بارے میں لکھا ہے کہ : ’’ ہمالہ کی ترائی، کھیتوں کی ہریالی، درختوں کی قطار ، پھولوں کی مہکار، پپیہے کی رت، کوئل کی پکار، بلبل کی نوا سنجی، چکور کا اضطراب، کسانوں کی مشقت، مزدوروں کا افلاس، گاؤں کا پیار اور دیہات کا بے لوث اخلاص یہی وہ مناظر قدرت اور شواہد فطرت کا نکھرا ہوا ماحول تھا جس کی حسین گود میں اس بچے نے آنکھ کھولی۔ ‘‘( ماہ نامہ شاعر جنوری ۲۰۱۰ء) شاید یہی وجہ ہے کہ بیکلؔ اتساہی کی نعتوں، سلام، مناقب، قصائد، نظموں، غزلوں اور گیتوں میں فطری مناظر سے والہانہ شیفتگی اور لگاؤ پایا جاتا ہے۔ بیکل ؔاتساہی عہدِ حاضر کے اُس مہان بھارتیہ شاعر کا نام ہے جن کے نطق سے بیک وقت خسروؔ، جائسیؔ، تلسیؔ، کبیرؔ، سورؔ، میراؔ اور رسکھانؔ کی سُر لہری سنائی دیتی ہے۔ بیکلؔ کا طرزِ بیان دیس کی مٹی سے عقیدت، دیش واسیوں سے محبت، پاکیزہ انسانی جذبوں اور محسوسات کی مرقع آفرینی اور سماج میں پھیلی نا انصافی، نابرابری اور ظلم و استحصال کے خلاف صدائے حق بن کر رسیلے نغموں میں ڈھل جاتا ہے۔ بیکلؔ اتساہی شخصی طور پر ایک سچے اور پکے مسلمان تھے۔ وہ صوفی منش صاحبِ سلسلہ تھے۔ وقت کے عظیم محدث حافظ ملت شاہ عبدالعزیز محدث مرادآبادی (بانی جامعہ اشرفیہ، مبارک پور) کے مرید تھے۔ امام نعت گویاں مولانا احمد رضا بریلوی کے پیغامِ عشقِ رسالت کے امین تھے۔ محبتِ رسول اُن کی زندگی کاسرمایہ تھا۔ اُن کی نعتیہ شاعری سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ و سلم سے ان کے بے پناہ اور والہانہ عشق و محبت کا آئینہ ہے۔ آپ کی شعری کائنات میں ۱۱ ؍ مجموعوں پر مشتمل نعت و سلام اور مناجات و مناقب کا اتنا بڑا خزینہ ہے جو اپنی مثال آپ ہے۔ جس سے بیکلؔ صاحب کی قادرالکلامی، روحانی پاکیزگی اور والہانہ عشق رسول صلی اللہ علیہ و سلم کا اظہار ہوتا ہے۔ آپ کی نعتوں میں محتاط وارفتگی ہے۔ خلوص و للہیت ہے۔ جذبات کی صداقت ہے۔ احساسات کی پاکیزگی ہے۔ بیکلؔ کی ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ انھوں نے اپنی نعتوں میں مختلف علاقائی بولیوں، مثلاً اودھی، بھوجپوری اور پوربی وغیرہ کے الفاظ کو نہایت فطری انداز میں جذب کر کے محض اردو کا دامن وسیع نہیں کیا بلکہ ایک نئے اسلوب کی طرح ڈالی جسے بہ قول ڈاکٹر کرامت علی کرامت : ’’ اتساہیؔ شیلی کے نام سے پکارا جا سکتا ہے۔ ‘‘بیکلؔ کے چند نمائندہ نعتیہ اشعار ؎



جب حُسن تھا ان کا جلوہ نما انوار کا عالم کیا ہو گا
ہر کوئی فدا ہے بِن دیکھے دیدار کا عالم کیا ہو گا

جدھر سے وہ گزر گئے حیات بانٹتے گئے
حیات کیا، حیات کو ثبات بانٹتے گئے

جمالِ مصطفی کا نور ہے دل کے نگینے میں
سمندر میں سفینہ ہے، سمندر ہے سفینے میں

ہر ایک سانس چلی ضبط و احترام کے ساتھ
بسوے طیبہ جو شوقِ سفر مہکنے لگے

میں مانتا ہوں اے عقل والو! مرا محمد(ﷺ) خدا نہیں ہے
مگر دلوں پہ یہ نقش کر لو کہ وہ خدا سے جدا نہیں ہے

لذتِ یادِ نبی، حب نبی، ذکرِ نبی
تو نہیں ہے تو دو عالم میں کوئی چیز نہیں

غم کے ماروں کا سہارا ہے ترا لطف و کرم
رہ گیا حشر میں ایمان و عقیدت کا بھرم

دولتِ کون و مکاں ہے ترے دیوانے کا غم
تیری توقیر سے کونین کی تقدیر بنی

اردو ادب میں ’’ گیت ‘‘ کی صنف کو بام عروج تک پہنچانے اور اسے مقبولِ عام بنانے میں بیکلؔ اتساہی کا نام ناقابلِ فراموش ہے۔ بیکلؔ نے گیتوں کی روایت کو اردو شاعری میں ایک لافانی مقام تک پہنچا دیا ہے۔ انھوں نے گاؤں کے عوام کی زندگی اور دبی کچلی انسانیت کے کرب سے اردو شاعری کو روشناس کرایا ۔ نظم نما گیتوں کے ذریعے بیکلؔ نے جو کارنامے انجام دئیے وہ فراموش نہیں کیے جا سکتے۔ بہ قول ظ انصاری : ’’ بیکلؔ غزلوں کو لوگ گیتوں کی، گیت کو غزل کی چاشنی دے کر ایسا آمیزہ تیار کرتے ہیں جو زود ہضم بھی ہو اور پُر کیف بھی۔ بیکلؔ گیتوں اور غزلوں کو یک جان کر کے نہایت کامیاب بلکہ میں کہوں گا مستقبل کی عام پسند اردو شاعری کے دل رُبا نمونے پیش کر چکے ہیں۔ بیکلؔ کے یہاں گنگا کی ترائی یا ویشالی کی اصل گپھا ہے، بلرام پور کے کھیتوں، باغوں اور جنگلوں کی سگندھ ہے۔ بیکلؔ کے پیش رَو ہم وطن سردار جعفری نے بجا طور پر ان کے کلام کو ’اردو گیت ‘کہا ہے۔ واقعی ان پر دھات لوک گیت کی ہے، قلعی اردو شاعری کی۔ سرل، سادھارن گیتوں میں تجلیِ فردوس کا بانکپن، مشعلوں کے سیال، جبینِ شفق ، جیسی تراکیب بیکلؔ بھرنے سے نہیں چوکتے غرض بحر طویل کے اس شناور نے شاعری سے اپنی شرطوں کے ساتھ معاملہ کر رکھا ہے۔ ‘‘ ( ماہ نامہ شاعر جنوری ۲۰۱۰ء ص ۱۵)بیکلؔ کے مشہور گیتوں سے چند بند ؎

ندیاں کھا گئیں گاؤں
بادل پی گئے چھپر چھاؤں
گیت سب ڈوب گئے
—-
ندیا پیاسیکھیت اُپاسے، اجڑے ہیں کھلیان،
میں کیسے گیت سناؤں

روٹی کھا گئی بھوکی دھرتی سورج پی گیا پانی
چاند نے چھین لیا پیراہن، ننگی ہوئی جوانی
دھرم کرم انجان،
میں کیسے گیت سناؤں

—-
ڈالی ڈالی پھول پھول کروٹ لیں انگارے
شبنم شبنم پتی پتی شعلے بانہہ پسارے
سانسوں سانسوں قید ہے خوشبو، آنکھوں آنکھوں رنگ
میں کس کے گیت لکھوں

نئے عہد کا سب رنگ فن کار بیکلؔ اتساہی کا غزلیہ رنگ و آہنگ بھی اپنی جگہ پوری آب و تاب کے ساتھ ادبی افق پر جگمگ جگمگ کر رہا ہے۔ ان کی غزلوں میں داخلی اور خارجی حقائق کی کہانیاں پیوست ہیں۔ بیکلؔ کی غزلوں میں عموماً اضطرابی کیفیات، اداسی، مایوسی، سماجی نابرابری، لوٹ کھسوٹ، بے عملی، لاقانونیت وغیرہ کا احساس ہوتا ہے۔ بیکلؔ کی غزلیات کے مطالعہ سے پتا چلتا ہے کہ وہ چند مخصوص موضوعات حسن و عشق، فلسفہ، تصوف، سیاست وغیرہ تک محدود نہیں رہتے بلکہ ان کی شاعری میں وارداتِ قلبی اور کیفیاتِ ذہنی کے علاوہ حیات و کائنات کے بیشتر موضوعات کا بڑے فنکارانہ طور پر ابلاغ دکھائی دیتا ہے۔ وہ غزل کے فنی رموز و اسرار سے واقف ہیں۔ وہ غزل کے مزاج کے مطابق اپنے اشہبِ قلم کو مہمیز دیتے ہوئے عصری حسیت کے مکمل ادراک کے ساتھ صفحۂ قرطاس پر غزلیہ اشعار بکھیرتے ہیں، بیکلؔ کا غزل رنگ نشانِ خاطر کریں ؎

یہ شہر منصفوں کا، وہ نگر ہے مجرموں کا
یہاں قاتلوں کے جلسے وہاں سادھوؤں کے پہرے

حسن تھا حسنِ کشش تھا کہ ترا حسنِ ادا
جانے کیا بات تھی جو تجھ پہ مرا دل آیا

چاندی کے گھروندوں کی بات جب چلی ہو گی
مٹی کے کھلونوں سے بہلائے گئے ہوں گے

عزم محکم ہو تو ہوتی ہیں بلائیں پسپا
کتنے طوفان پلٹ دیتا ہے ساحل تنہا

دورِ حاضر کی بزم میں بیکلؔ
کون ہے آدمی نہیں معلوم

ہنگاموں کے شہر میں کوئی دل کی بزم سجائے ہے
میراؔ کی رچنائیں کھو گئیں جیسے ڈھول مجیروں میں

جلوۂ طور سے شمعِ حرم یا حلقۂ نور سے حسنِ صنم تک
ایک اکیلے تم ہو حقیقت، باقی سب افسانے ہیں

بیکلؔ نے دوہے بھی لکھے اور ہائیکو میں بھی طبع آزمائی کی۔ بہ قول نظام صدیقی: ’’ بیکلؔ اتساہی کی ’نودوہا نگاری‘ دوہا شکنی کی ایک معنی خیز تخلیقیت کشا کاوش ہے۔ ‘‘ بیکلؔ دوہوں کی عظیم اور قدیم روایت اور اس کی روح سے روشناس تھے۔ لوک ادب میں دوہا امیر خسرو ؔاور بوعلی شاہ قلندرؔ سے پہلے بھی مقبول تھا۔ بیکلؔ کی نگاہوں میں کبیرؔ، گرونانکؔ، شیخ فرید الدین گنج شکرؔ، ملک محمد جائسیؔ، تلسیؔ داس، سورداسؔ، رسکھاؔن، ملا داؤدؔ، سہجوؔ بائی، میرا ؔبائی، بہاری ؔاور امیر خسروؔجیسے نامور دوہا نگاروں کی شعری کائنات کا پورا منظر نامہ تھا۔ یہی وجہ ہے کہ بیکلؔ کے دوہوں کے رنگ و روپ، زبان و بیان، لہجہ اور فکر و احساس میں دوہے کی قدیم ترین روایت پائی جاتی ہے یہ بھی سچ ہے کہ بیکلؔ نے اپنے دوہوں کو جدیدیت کے آہنگ سے بھی ہم رشتہ کیا۔ ان کی دوہا نگاری میں ہندوستانی تہذیب و ثقافت کے عناصر مکمل آب و تاب کے ساتھ جلوہ گر دکھائی دیتے ہیں۔ بیکل ؔ جس طرح اردو گیت میں منفرد مقام پر فائز ہیں اسی طرح دوہا نگاری میں بھی اپنی مثال آپ ہیں۔ بیکلؔ نے اردو دوہا نگاری اور ہندی دوہا نگاری سے الگ تھلگ ایک جیتی جاگتی اور جگمگاتی پہچان بنائی ہے۔ بہ قول نظام صدیقی: بیکلؔ کی منفرد نَو دوہا نگاری کا اسلوب اردو دوہا نگاری کی ساخت اکبر میں بہ ذاتِ خود مختلف جمالیاتی اور اقداری ساخت اصغر ہے جونئی دوہا نگاری کے لسانیاتی، اسلوبیاتی اور ساختیاتی مستقبل کا نشانِ امتیاز بھی ہے ۔ ‘‘ بیکلؔ کے دوہا پورم سے چند دوہے خاطر نشین کیجیے ؎

دوجا ہوتا ہی نہیں جب تم ہوتے پاس
رتبہ ہجر کو دے گیا مومنؔ کا احساس
—-
گوری پنگھٹ سے چلی بھرے گگریا نیر
غزل بھجن سب تیاگ دیں غالبؔ اور کبیرؔ
—-
ندیاں بہیں ہواؤں میں، ساگر تھوکے دھول
اُپجیں شعلے برف سے، اُگے راکھ سے پھول
—-
شبنم سے آتش ملے، ملے سنگ سے خون
دھوپ کھلائے چاند کو، اندھے کا قانون

نئے عہد کے سب رنگ فن کار بیکلؔ اتساہی کی شعری کائنات کافی وسعت اور ہمہ گیریت کی حامل ہے۔ اس مختصر سے مضمون میں ان کے شعری و فنی در و بست کو کماحقہٗ اجاگر کرنا ناممکن ہے۔ بیکلؔ کی شاعری کا ایک اجمالی تعارف قارئین کی نگاہوں میں آ جائے اور بیکلؔ کی جانب سے مشاہدؔ نوازی کے لیے ہدیۂ عقیدت کے طور پر بہ عجلت یہ چند سطریں بیکلؔ اتساہی کی نذر کرتے ہوئے اُن کے درج ذیل اشعار پر قلم روکتا ہوں ؎

سنا ہے مومنؔ و غالبؔ نہ میرؔ جیسا تھا
ہمارے گاؤں کا شاعر نظیرؔ جیسا تھا
بساطِ شہرِ سخن دسترس میں تھی اُس کے
وہ بادشاہ، مگر مجھ فقیر جیسا تھا

٭٭٭

https://www.facebook.com/190656494845261/posts/1038222696755299/
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
🔎 #Sacred_Traditions اس حدیث سے چند مسئلے معلوم ہوئے: ایک یہ کہ معمولی سالن بھی پڑوسیوں کو بھیجتے رہنا چاہئیے کیونکہ سرکار ﷺ نے یہاں شوربہ فرمایا گوشت کا ہو یا کسی اور چیز کا۔ دوسرے یہ کہ ہر پڑوسی کو ہدیہ دینا چاہئیے، قریب ہو یا دور اگرچہ قریب کا حق زیادہ…
🔎 #Sacred_Traditions
Arabic ‌الحَيَاءُ ‌لَا ‌يَأْتِي ‌إِلَّا ‌بِخَيْرٍ
Urdu: -حیاء بھلائی (خیر) ہی لاتی ہے
English: Modesty only brings good.
Roman: Hayaa bhalaai (khayr) hi laati hay.
Hindi: ह़या भलाई (ख़ैर) ही लाती है ।
https://www.facebook.com/114021443682673/posts/424809945937153/
Hawala صحيح البخاري، كتاب الأدب، باب الحياء، الحدیث 6117
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
حیا تو ایسا وصف ہے کہ جتنا زیادہ ہو خیر ہی بڑھاتا ہے. بلاشبہ، نورِ ایمان جتنا زیادہ ہوگا شرم و حیا بھی اسی قدر پروان چڑھے گی. آقا کریم ﷺ نے فرمایا: حیا ایمان سے ہے. (مسند ابی یعلیٰ، جلد ٦، صفحہ ٢٩١، حدیث ٧٤٦٣)

وہ لوگ جو مخلوط محفلوں (جہاں مرد و عورت میں بے پردگی ہوتی ہو)، مکمل بدن نہ ڈھانپنے والے لباس، روشن خیالی اور مادر پِدر آزادی جدت و ترقی کا زینہ سمجھ کر انہیں فروغ دیتے ہیں انہیں سوچنا چاہیے کہ ان میں نورِ ایمان کتنا کم ہو گیا ہے؟ والعیاذ باللہ تعالی!