🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
امام احمد رضا کا عشق رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم اور کثرت علوم و فنون


افتخار احمد قادری

اس دنیا میں انسان کسی نہ کسی سے محبت کرتاہے-اور جس سے محبت کرتاہے اس کی یاد میں بے چین رہتا ہے-ہر وقت ہر لمحہ اپنے اس محبوب کی مدح و ستائش میں مصروف رہتا ہے-دل میں محبوب کی عظمت اور زبان پر نام کا وظیفہ رہتا ہے-آنکھیں محبوب کے جمال جہاں آراء کا مشاہدہ کرتی ہیں-کان صرف محبوب کا ذکر سننا پسند کرتے ہیں-نظروں میں دیار محبوب کی ہر ایک شئ مکرم و معظم ہوتی ہے-عاشق کا سرمایہ حیات عشق ہے-عشق اس کی زندگی کا جزو لاینفک ہے-اب عاشق کا دل ودماغ اس کے اختیار میں ہے-وہ محبوب کی زلفوں کا اسیر ہو چکا ہے اس کے دل ودماغ میں کوئے محبوب کا تصور ہوتا ہے-استاذ زمن حضرت علامہ حسن رضا خان بریلوی ارشاد فرماتے ہیں-
دل کو جاناں سے حسن سمجھا بجھاکر لائے تھے
دل ہمیں سمجھا بجھاکر کوئے جاناں لے چلا
اس خاندان گیتی پر ایک ایسا عاشق پیداہوا تھا،جس کی نگاہ جلوہ محبوب کے علاوہ کسی دوسری چیز کے دیکھنے کی قائل نہ تھی،وہ دیکھتا تھا تو اپنے محبوب کے رخ انور کو دیکھتا تھا،وہ بولتا تھا تو اپنے محبوب کے فرمان کو پیش کرتا تھا،وہ مسکراتا تو ادائے محبوب لے کر مسکراتا،اس کی فکر میں ادائے محبوب شامل تھی،وہ چلتا تو محبوب کی متعین کردہ حدود میں چلتا،بلکہ وہ ان حدود کا آخری وقت تک محافظ تھا،وہ سوتا تو نام محبوب بن جاتا،ایک طرف وہ دنیا کا سب سے بڑا عاشق رسول تھا،تو دوسری طرف دنیائے اسلام کا سب سے بڑا عالم تھا،سب سے بڑا محدث تھا،سب سے بڑا مفسر تھا،جو علم معانی،علم بیان،علم بدیع،کا سب سے بڑا عالم تھا- جو علم تکسیر،علم ہئیات،علم حساب اور علم ہندسہ کا امام ہو،جو قرآت و تجوید کا بحر ذخار ہو،تصوف وسلوک میں یگانہ روزگار ہو،جس کے دیوان نعت میں حضرت حسان کی شاعری کی جھلک ہو،علم ریاضی میں جس کی مثال نہ ملتی ہو،علم فقہ میں جو امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللّٰہ تعالیٰ علیہ کا مظہر اتم ہو،علم عقائد و کلام میں جس کی نظیر نہ ہو جس کے منطقیانہ،اور فلسفیانہ،اقوال و براہین کو دیکھ کر بوعلی سینا،فارابی حیرت و استعجاب میں پڑ جائیں،جس کے علم نحو و صرف کو دیکھ کر بصرئین اور کوفئین حیران ہوں،جو علم ریاضی کا سب سے بڑا عالم ہو،ارشماطیقی حساب،توقیت،زیجات اور زائچہ جیسے دیگر بہت سے علوم محبوب کی بارگاہ سے تحفتہ ملے ہوں،جو عاشق اور عاشق گر تھا،جو دنیاکا سب سے بڑا پرہیزگار تھا،جو قطب الارشاد تھا،جو مجدد اعظم تھا،جس کی زیارت سے اس کے محبوب کی زیارت ہوتی،جو اس کے پاس بیٹھا اس کے محبوب کے پاس بیٹھا،جس نے اس کو دیکھا اس نے اس کے محبوب کو دیکھا،جسے پوری دنیائے عرب وعجم اعلیٰ حضرت امام اہلسنت مجدد اعظم امام احمد رضا خان رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کے نام سے جانتی اور پہچانتی ہے-
حیرت سر پیٹ رہی ہے دنیا ششدر ہے کہ یہ کون ہے؟ جس کی ذات میں اتنے اوصاف جمع ہوگئے ہیں-جو ایک طرف سب سے بڑا عاشق مصطفیٰ ہے ،تو دوسری جانب علم کا موجیں مارتا ہوا سمندر- ایک طرف حدائقِ بخشش ہے تو دوسری طرف فتویٰ رضویہ کی بارہ جلدیں،جو تفقہ فی الدین میں امام اعظم ابوحنیفہ کا جانشین ہوا،اور نعت گوئی میں حضرت حسان کا متبع،امام احمد رضا اپنے محبوب کی یادوں میں محو رہتے تھے اپنے محبوب کی یادوں میں مستغرق رہتے تھے- من تو شدم تو من شدی من تن شدم تو جاں شدی کی کیفیت طاری رہتی ہے-جس کی یہ حالت ہو اس کو دیکھ کر پہلو پر طبع آزمائی کرنے کا موقع نہیں ملتا،ہاں وہ امام احمد رضا ہے جو تمام علوم وفنون کا جامع ہونے کے باوجود سب سے بڑا عاشق مصطفیٰ ہے جو اپنے محبوب کے دشمن کو دشمن اور اپنے محبوب کے دوست کو دوست سمجھتا ہے-جس نے ہر موڑ پر ناموسِ مصطفیٰ کی حفاظت کی جس کی زندگی کا کوئی لمحہ عشقِ رسول سے خالی ہے جس کے دل پر ایک طرف لا الہ الااللہ اور دوسری طرف محمد رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم لکھا ہے-جس کا دل عشق کی گرمی کی وجہ سے جل کباب ہوگیا ہے-امام احمد رضا ارشاد فرماتے ہیں-
جلی جلی بو سے اس کی پیدا،ہے سوزشِ عشق چشمِ بالا
کباب آہو میں بھی نہ پایا،مزا جو دل کے کباب میں ہے
امام احمد رضا کا دل عشقِ رسول میں جل کر کباب ہو گیا-ہے من تو شدم تو من شدی کی مکمل کیفیت طاری ہے-
امام احمد رضا کو ہر ایک چیز میں عشقِ رسول کی جھلک نظر آرہی ہے-پھول ہو یا گلاب،بیلا چمبیلی ہو یا نسترن،رات ہو یا دن،صبح ہو یا شامل،باد بہاری ہو یا نسیم سحری،باد صبا ہو یا دیگر ہوا،فقہ ہو یا اصول حدیث ہو یا علم معانی ہو یا بیان،نحو ہو یا صرف،منطق ہو یا فلسفہ،علم ریاضی ہو یا ہندسہ،درس گاہ ہو یا آرام گاہ،سفر ہو یا حضر،زمین ہند ہو یا عرب،مکہ ہو یا مدینہ،ہر جگہ ہر چیز میں محبوب کا جلوہ نظر آتا ہے آپ خود فرماتے ہیں کہ-
انہیں کی بو مایہ سمن ہے انہیں کا جلوہ چمن چمن ہے
انہیں سے گلشن مہک رہےہیں انہیں کی رنگت گلاپ میں ہے
امام احمد ایک طرف عشق میں فنا فی الرسول کے مقام پر فائز ہیں تو دوسری طرف وقت کے امام اعظم ہیں-
احمد رضا مجتہد فی المذہب اور مجتہد فی المسائل ہیں- حیرت خود حیرت میں ہے،کیوں؟ اس لئے کہ امام احمد رضا تعجب بالائے تعجب کا نام ہے امام احمد رضا حیرت کا نام ہے امام احمد رضا یونیورسٹی کا نام ہے امام احمد رضا لائبریری کا نام ہے امام احمد رضا تاریخ کا نام ہے امام احمد رضا کمالات کا نام ہے امام احمد رضا فکر کا نام ہے امام احمد رضا علم کا نام ہے امام احمد رضا فن کا نام ہے امام احمد رضا ناموس رسالت و نبوت کا نام ہے امام احمد رضا فقہ کا نام ہے امام احمد رضا تحریک کا نام ہے بلکہ امام احمد رضا سراپا عشق کا نام ہے آپ کی تحریر ہو یا تقریر ہر ایک سے عشق نبی کا درس ملتا ہے عشق رسول امام احمد رضا کی زندگی کا نمایاں ترین وصف ہے آپ اطاعت کے بغیر عشق کے قائل نہ تھے امام احمد رضا سنت نبوی کا بہترین نمونہ تھے-
امام احمد رضا نے اپنی پوری زندگی عشقِ رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم میں گزاری جس محفل میں بھی یوتے ذکر نبی کرتے آپ کی فکر و نظر میں بھی ذکر نبی کے حسین نغمات ہوتے ہند ہو یا دیار حرم بریلی ہو یا مدینہ منورہ کی پر کیف وادی ہر جگہ ذکر نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کرتے درسگاہ میں طالبان علوم نبوت کو عسق نبی کا جام پلاتے خانقاہ میں مریدوں کو عشق بنی کی شراب پلا کر مست کر دیتے وعظ و نصیحت کی محفل میں عوام الناس کے سینوں کو عشق و مستی کا گنجینہ بنا دیتے امام احمد رضا نے اپنے خلفاء کو عشقِ نبی کی شراب پلا کر ایسا مست کر دیا کہ وہ دنیا کے ہر خطے میں عشق رسول کابھی درس دیتے اور ایمان و عمل کی بھی حفاظت فرماتے امام احمد رضا کی آرزو تھی کہ دنیا کا ہر شخص عاشق رسول بن جائے امام احمد رضا زائرین مدینہ منورہ کو دیکھ کر تڑپ جاتے تھے ان کا سکون ختم ہوجاتا امام احمد رضا نبی کی یاد میں بلک بلک کر روتے ان کا جسم بریلی شریف کی دھرتی پر ہوتا مگر دل ودماغ خیالات و تصورات میں مدینہ منورہ کا طواف کرتے امام احمد رضا کے نزدیک سب سے ذیادہ محبوب اور مکرم حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی ذات تھی تمام شہروں میں محبوب ترین شہر مدینہ منورہ تھا مدینہ کے درو دیوار سے بے پناہ محبت کرتے تھے امام احمد بے پناہ عشق نبی کی بنیاد پر سراپا عشق بن گئے-
کثرتِ علوم و فنون:
امام احمد رضا جہان علوم و فنون کا پہلا وہ شخص ہے جنکے نام سے اتنے علوم و فنون کے جاننے کا ذکر کیا جاتاہے-
پروفیسر مسعود احمد صاحب لکھتے ہیں کہ کثرتِ علوم پر امام احمد رضا کو جو عبور اور مہارت حاصل تھی اس کی نظیر اس کے عہد میں کیا،ماضی میں بھی شاذ ہی نظر آتی ہے (امام احمد رضا اور عالم اسلام)
پہلے مولانا اقبال احمد اختر القادری صاحب کراچی کی زبانی سنئے-(1)علم قرآن (2) علم حدیث (3)اصول حدیث (4) فقہ حنفی (5) کتب فقہ جملہ مذاہب (6) اصول فقہ (7)جدل مہذب (8)علم تفسیر (9)علم العقائد والکلام (10)علم نحو (11)علم صرف (12)علم معانی (13)علم بیان (14) علم بدیع (15)علم منطق (16)علم مناظرہ (17) فلسفہ (18) تکسیر (19)ہئیت (20) حساب (21) ہندسہ (22)قرآت (23) تجوید (24)تصوف (25) سلوک (26)اخلاق (27)اسما الرجال (28) سیر(29) تواریخ (30)لغت (31)ادب مع جملہ علوم و فنون (32)ارثماطیفی (33)جبر و مقابلہ (34)حساب (35)لوغات ثمات (36)توقیت (37) مناظرہ و مرایا (38)علم الاکبر (39)زیجات(40)مثلث کروی (41)مثلث مسطح (42)ہئیت جدیدہ (43)مربعات (44)جفر (45)زائرچہ (46)نظم عربی (47)نظم فارسی (48)نظم ہندی (49)نثر عربی (50)نثر فارسی (12)نثر ہندی (23)خط نسخ (53)خط نستعلیق (54)تلاوت مع تجوید (55) علم الفرائض (56)علم طبعیات (57)علم صوتیات (58) علم نور (59) علم کیمیا (60)علم طب (61)علم الادویہ (62)علم معاشیات (63)علم اقتصادیات (64) علم تجارت (65)علم شماریات (66)علم ارضیات (67)علم جغرافیہ (68)علم سیاسیات (69)علم بین الاقوامی امور (70)علم معدنیات (71)علم اخلاقیات-(ماہنامہ کنزالایمان دہلی جون 2001)
عرض کروں کہ ان تمام موئلفین نے جنہوں نے امام احمد رضا کی حیات وخدمات پر کتابیں تصنیف فرمائی ہیں اور ان کے علوم وفنون کی کثرت بیان کرنے کی سعی کی ہے سب نے ہی غیر استحضار ذہنی کا ثبوت دیا ہے کیونکہ پچاس اور پچاس سے زیادہ علوم بیان کرنے کا التزام تو سبھی نے کیا ہے مگر شناریا میں کسی نے نجوم چھوڑ دیا ہے تو کسی نے رمل کسی نے اگر چھوڑ دیا ہے تو کسی نے موسیقی یہی وہ علوم ہیں کہ آج تک امام احمد رضا کے سارے علوم صفحہ قرطاس پر نقش بن کے کسی کا سرمہ نگاہ نہیں بن سکے ہیں جبکہ علوم ایک سو تین بتائیں ہیں حالانکہ میں ایک بے مایہ اور بے بضاعت انسان جس کا مطالعہ صفر برابر ہے جب میں نے مختلف جگہوں میں مختلف کتابیں پڑھیں اور امام احمد رضا کے اعداد علوم کو گوشہ ذہن میں بسانے کی کوشش کی تو میں اس مقام پر
پہنچا کہ امام احمد رضا کو بیک وقت تقریباً ایک سو تیس علوم و فنون سے مہارت تامہ حاصل تھی اگر مستقبل قریب میں کسی رضوی ماہر نے اس پر کاوش کی تو میں امید کرتا ہوں کہ انشاء اللہ تعالیٰ امام احمد رضا کے ایک سو تیس سے بھی زائد علوم پر عبور کی ہماہمی جہاں اپنوں کے دامن کو مسرت و شادمانی کے گل نشتر سے بھر دے گی وہیں حاسدین کی آنکھوں پر لہو کے بیل جیسی پٹی چڑھ جائے گی-

https://www.facebook.com/1493359047596563/posts/3065530780379374/
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Gulam Mustafa Razvi
مبلغ اسلام علامہ عبدالعلیم میرٹھی کی تصنیف
*’’انسانی مسائل کا حل‘‘* ایک تجزیاتی مطالعہ

غلام مصطفٰی رضوی
نوری مشن مالیگاؤں

    خیر کے مقابل شر ہمیشہ سرگرم عمل رہا ہے۔ اسلام کی صداقت و حقانیت نے جب دلوں کی دنیا کو مسخر کر لیا تو وہ مذاہب جن کی بنیاد اوہام پر تھی اور وہ انسانی عقل کی اختراع تھے، تلملا اُٹھے۔ جن آسمانی مذاہب کی شکلیں ان کے ماننے والوں نے بگاڑ کر رکھ دی تھیں انھیں بھی اسلام کی سچائی اور صداقت سے بیر تھا، اور وہ حسد و بغض کے جذبات سے مغلوب۔ اسلام کے مقابل ’’شر‘‘ کا یہ عمل سامنے آیا کہ نئے نئے افکار و نظریات وجود میں آئے۔ تمدنی و تہذیبی، ثقافتی و نظریاتی، سیاسی و اقتصادی ہرطرح کے حملے کیے گئے۔ لیکن یہ فطری بات ہے کہ حق و صداقت کو دوام و استقرار ہے اور باطل کو ہزیمت و زوال۔

    فطرت سے انحراف ہی انسانی مسائل کا سبب بنتا ہے۔ اسلام سے عداوت و بغض رکھنے والے افکار و نظریات کی بنیاد چوں کہ انسانوں کے ہاتھوں بنائے ہوئے اُصولوں پر تھی اس لیے ان کی فکر نے انتشار و فساد کی فضا استوار کی اور تخریب و تباہی کا سامان ہوا۔ ادیانِ باطلہ جور و ستم کی راہ پر گامزن تھے۔ انسانی سہاگ لٹ کر رہ گیا تھا، عصمتیں تار تار تھیں، دہشت گردی کا بازار گرم تھا ایسے ماحول میں رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد ہوتی ہے، اور دینِ فطرت کی ضیا پھیلتی ہے، انسانیت کی زلفِ برہم سنورتی ہے، سچائی راہ پاتی ہے، ہدایت و صداقت کا آفتاب طلوع ہوتا ہے۔ امام محمد شرف الدین بوصیری (م۶۹۴ھ) فرماتے ہیں   ؎

فَاِنَّہٗ شَمْسُ فَضْلٍ ھُمْ کَوَاکِبُھَا
یُظْھِرْنَ اَنْوَارَھَا لِلنَّاسِ فِي الظُّلَمٖ

*ترجمہ:* کیوں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم آفتابِ فضل و کمال ہیں؛ اور انبیاے کرام ستارے ہیں؛ جو اسی آفتاب کی روشنی انسانوں کو تاریکیوں میں دکھاتے رہے ہیں۔ ۱؎

    جس ذات پاک کے فیض سے انبیاے کرام ظلمتوں میں اُجالا پھیلاتے اور انسانیت کو فطرت کی راہ ’’شاہراہِ حق‘‘ دکھا کر عزت و عظمت عطا کرتے رہے؛ وہ ذات کیسی انسانیت نواز اور مرکزِ حق و صداقت ہوگی۔ اس کی عظمتوں کا اندازہ ہم اپنی عقلِ خام سے کیسے لگا سکتے ہیں۔ رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے دینِ فطرت کی طرف بلایا اور جبیں کا وَقار پامال ہونے سے بچا کر انسان کا دامن ستھرا فرمادیا۔

*منفی اندازِ فکر:*
    جریدۂ عالم پر اسلام کے اثرات جیسے جیسے بڑھتے گئے؛ ادیانِ باطلہ میں اضطراب بڑھتا گیا اور دینِ فطرت سے متعلق پروپیگنڈا کیا گیا کہ اسلام ایک عسکری دین ہے اور علم و فن سے اس کا کوئی رشتہ و تعلق نہیں، اس کی اشاعت بہ زورِ شمشیر و سناں کی گئی ہے۔ اس فکرِ غلط کے پرچار میں مغرب میں وجود پانے والے طبقۂ مستشرقین کا زیادہ حصہ رہا، گرچہ جنھوں نے سنجیدگی کے ساتھ اسلام کا مطالعہ کیا اور سیرت کا تجزیہ کیا ان میں اکثر نے اعترافِ حق کیا کہ اسلام ایک الہامی دین ہے اور یہ فطرت کے تقاضوں کو پورا کرتا ہے۔ اس کے فیصلے اورضابطے نقص و عیب سے مبرا ہیں۔ بہر کیف اسلام سے جدا راہوں کو کشادہ کرنے کی کوشش کی گئی، اس کے لیے تشدد اور ظلم کا سہارا لیا گیا۔ اسلام چوں کہ امن و محبت اور اخوت کا درس دیتا ہے اس لیے اس کے مقابلے میں برائیوں کو پروان چڑھایا گیا؛ جس سے انسانیت کا وَقار داغ دار ہوا اور یہ منفی اندازِ فکر باعثِ زوال ثابت ہوا۔

*مبلغ اسلام اور اشاعت اسلام:*
    مبلغِ اسلام علامہ شاہ عبدالعلیم صدیقی میرٹھی (ولادت: ۱۵؍رمضان المبارک ۱۳۱۰ھ / ۱۳؍اپریل ۱۸۹۲ء- رحلت: ۲۳؍ ذی الحجہ ۱۳۷۲ھ/۲۲؍ اگست ۱۹۵۴ء) اسلام کے سرگرم و مثالی مبلغ اور دانشِ نورانی سے آراستہ کامیاب داعی تھے۔ امام اہلِ سنت اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قادری برکاتی محدث بریلوی (م۱۳۴۰ھ/۱۹۲۱ء) کی صحبتِ با برکت نے داعیانہ فہم و فراست کو مہمیز کیا اور جذبات کو عزم و حوصلہ دیا۔ جب ہم دعاۃ و مبلغین کی خدمات کا جائزہ لیتے ہیں تو مبلغِ اسلام علامہ شاہ عبدالعلیم صدیقی جیسا ان کے عہد میں اور مابعد دور میں کوئی نہیں دکھائی پڑتا۔ وہ اپنے داعیانہ اوصاف میں انفرادی شان کے حامل اور نمایاں نظر آتے ہیں۔ آپ نے دنیاکے بیشتر ملکوں میں اسلام کا پیغام پہنچایا، پڑھے لکھے افراد بھی قبولِ حق پر مائل ہوئے۔ نو مسلموں کی تعلیم و تربیت کا انتظام و اہتمام کیا۔ مساجد و مدارس، جامعات و تعلیمی مراکز، اسکول و کالجز اور رفاہی و فلاحی ادارے قائم کیے، مختلف زبانوں میں رسائل و جرائد جاری فرمائے۔

    بساطِ دعوت و تبلیغ پر اسلوب کی اہمیت مسلّم ہے۔ قرآن مقدس میں رب تعالیٰ کا ارشاد اس پر غماز ہے:
    اُدْعُ اِلٰی سَبِیْلِ رَبِّکَ بِالْحِکْمَۃِ وَ الْمَوْعِظَۃِ الْحَسَنَۃِ وَجَادِلْھُمْ بِالَّتِیْ ھِیَ اَحْسَنُ  ۲؎
    ’’اپنے رب کی راہ کی طرف بلاؤ پکی تدبیر اور اچھی نصیحت سے اور ان سے اس طریقہ پر بحث کرو جو سب سے بہترہو-‘‘ (کنزالایمان)

    آپ نے اسی اسلوب کا اپنا کر ایسے نقوش قائم کیے کہ جن کے زاویے متاثر کن ہیں۔ اس کی جھلک آپ کے لیکچرز
Forwarded from Gulam Mustafa Razvi
اور تصانیف دونوں جگہ دکھائی دیتی ہے۔

    ۱۷؍ ویں صدی عیسوی میں جو مادی انقلاب رونما ہوا؛ اس نے ایک نئی فکر کو پروان چڑھایا۔ اور اسلام سے عار رکھنے والے زعماے مغرب کا یہ ذہن بنا کہ ہم اپنی عقلی تحریک کے بل بوتے پر اسلام کو ختم کر دیں گے۔ شاید یہ وہم اسی لیے پیدا ہواکہ وہ عقل کو قبلہ قرار دے لیے تھے اور اس کے مقابلے میں روحانیت کو کم تر سمجھتے تھے۔ ان کا یہ گمان زیادہ مدت تک قائم نہ رہ سکا، اس لیے کہ اسلام جہاں اپنی صداقت و حقانیت کے ناقابلِ تردید روحانی دلائل رکھتا ہے وہیں عقلی استدلال کی بے پناہ قوت بھی۔ اور عقل اس کے اصولوں کی تائید پر مجبور ہے۔ ہر عقلی موشگافی کا نتیجہ اسلام کے دل کش حسن کو اجاگر کرے گا-

    عقلی تحریک کے دعوے داروں نے دھریت و لادینیت کے فتنے کو جنم دیا اور دنیا تباہی کے دہانے پر جا پہنچی۔ عقلی تحریک نے فطری نظام کو سبوتاژ و ملیامیٹ کرنے کی کوشش کی۔ حقوق سلب کیے گئے، غریبوں کو کچلا گیا۔ عدم توازن کی ایسی فضا تیار کی گئی کہ معاشرتی بگاڑ پیدا ہوا۔ نا انصافی، ظلم و تعدی عقلی تحریک کی پیداوار ہیں جن کی کوکھ سے دہشت گردی کا وجود ہوا؛ اس طرح کائنات میں افراتفری واقع ہوئی۔ ایسے روح فرسا ماحول میں اسلام ہی انسانی مسائل کا حل ہے اور انسانیت کا رہنما و محافظ۔

*انسانی مسائل کا حل:*
    مبلغِ اسلام علامہ عبد العلیم صدیقی میرٹھی علیہ الرحمہ نے مادی انقلاب سے پیدا ہونے والے زوال کا مشاہدہ کیا تھا اور مادی معاشرے میں انسانی اقدار کی بربادی دیکھی تھی، اس لیے درد کا درماں بھی کیا اور جہاں اپنے دعوتی پیغام کو روحانی دلائل کے ساتھ عقلی دلائل سے سجایا، وہیں ایسی کتابیں بھی لکھیں، جن میں دعوتِ فکر دی اور قبولِ حق کا پیام بھی۔ آپ کی تصنیف ’’انسانی مسائل کا حل‘‘ ایسی ہی ہے۔ جو در اصل آپ کے ایک انگریزی لیکچر کا اُردو ترجمہ ہے۔

    راقم کے پیشِ نظر اس کا جو مطبوعہ نسخہ ہے وہ ورلڈ اسلامک مشن کراچی کا شائع کردہ اور ۲۲؍ صفحات پر مشتمل ہے، لیکن معیار کے اعتبار سے کثیر صفحات پر بھاری۔ اس کا سنِ اشاعت ۲۰۰۸ء ہے اور مترجم پروفیسر محمد حسین آسی ایم۔اے ہیں۔

    کتاب کی زبان سادہ، اسلوب عام فہم اور استدلال کی قوت غالب ہے۔ عقلی دلائل نے مادیت سے مرعوب ذہنوں کو اپیل کی ہے اور اسلام کی سچائی کو تمثیلی انداز اور سنجیدہ طریقے سے پیش کیا ہے، مترجم نے مبلغ اسلام کی تحریر کے اسلوب کا پورا پورا خیال رکھا، یہی سبب ہے کہ پوری کتاب پڑھ جانے پر بھی کہیں یہ محسوس نہیں ہوتا کہ ترجمہ پڑھ رہے ہیں بلکہ ایسا لگتا ہے کہ اصل تحریر سے استفادہ کر رہے ہیں… راقم اس مقالے میں ’’انسانی مسائل کا حل‘‘ کے چند گوشوں کا اجمالی جائزہ پیش کرے گا۔

    مبلغ اسلام کی دعوت کا یہ انداز بڑا اہم ہے کہ پہلے زمین ہموار کرتے ہیں، مسائل ذکر کرتے ہیں پھر ان کا تصفیہ اور حل پیش کرتے ہیں۔ مثالوں سے بات کی وضاحت بھی خوب کرتے ہیں۔ ہر جگہ اشاعتِ حق کا جذبہ موجیں مارتا دکھائی دیتا ہے، جس سے آپ کی تحریر میں اصلاح کا پہلو صاف محسوس ہوتا ہے۔ آپ کی مومنانہ فراست کے اثرات نے شوریدہ زمینوں کو گلزار بنا دیا اور تحریر میں اثر پذیری بھی بہ درجۂ اتم موجود  ؎

ہر لحظہ ہے مومن کی نئی شان نئی آن
گفتار میں کردار میں اللہ کی برہان

    مبلغ اسلام کی تحریر کا انداز داعیانہ ہے، اس لیے موضوع چاہے کوئی بھی ہو یہی انداز جلوہ گر رہتا ہے، حتیٰ کہ سائنسی و اقتصادی، سیاسی و سماجی اور تعلیمی و فکری مسائل پر بھی جو کچھ لکھا اس میں بھی یہ فضا برقرار ہے۔ اس پر کتاب ’’انسانی مسائل کا حل'‘ دلیل ہے۔

*فکر کی پرواز:*
    انسانی مسائل کا حل میں مبلغ اسلام منطقی انداز میں ذہن میں اٹھنے والے سوالات کو پہلے بیان کرتے ہیں… انسان کا ذہن بڑا عالی ہے، اس کی پرواز فکر کو وسیع فضائیں عطا کی گئی ہیں، فطرت نے اسے بڑی صلاحیتوں سے نوازا ہے مبلغ اسلام کے الفاظ میں: ’’انسان عالم گیر اصولوں سے خاص نتائج اور خاص واقعات سے عالم گیر اصول اخذ کرنے کی اہلیت رکھتا ہے، وہ حکیمانہ اقوال اور ضرب الامثال وضع کر سکتا ہے، شاعرانہ تصور اور بلند پرواز تخیل سے مجردات کی سیر کر سکتا ہے، وہ اگر مادے کے خواص کی تحلیل سے عاجز نہیں تو ذرے کا سینہ چیر سکتا ہے، لیکن ان سب حقائق کے باوجود اسے اپنے ننھے سے ذہین دماغ کے مقابلے میں دنیا بہت وسیع معلوم ہوتی ہے۔ جوں جوں وہ (انسان) علم کی تلاش میں آگے بڑھتا جاتا ہے توں توں اسے حقیقت کی بے پایاں وسعت کا یقین ہوتا جاتا ہے۔ گویا وہ کسی تازہ انکشاف سے اس حقیقت کو بھی پا لیتا ہے کہ بے شمار حقائق ابھی پردۂ خفا میں ہیں۔ (جنھیں دریافت کرنا ابھی باقی ہے) اس طرح علم کی پیاس کبھی بجھتی ہی نہیں ہے۔‘‘ ۳؎

*انسان کی بے بسی:*
    مبلغ اسلام لکھتے ہیں: ’’حصولِ علم کی اس تمام جدوجہد کے باوجود انسان صرف جزوی طور پر ہی کسی ایسی حقیقت کو پا سکتا ہے جس کا انکشاف حال میں ہو رہا ہے یا ماضی میں ہو چکا ہے۔ مستقبل کے بارے میں وہ با
Forwarded from Gulam Mustafa Razvi
لکل بے خبر ہے۔ وہ استقرائی طریقے سے نتیجہ نکالنا چاہتا ہے مگر اس نتیجے پر خود اسے مکمل یقین نہیں ہوتا۔ اس سلسلے میں علم ہیئت سے بھی مدد لینے کی کوشش کرتا ہے مگر بے سود۔ ماضی، حال اور مستقبل کا جامع اور یقینی علم اس کے بس سے باہر ہے۔‘‘ ۴؎

*مادیت کی ناکامی:*
    مادی دنیا کے مشاہدے سے بہ آسانی روح کی قدر کا اندازا ہو سکتا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ انسان مستقبل کا حتمی علم نہیں رکھتا۔ اس لیے انسانی فکر ٹھوس رہنمائی نہیں کر سکتی۔ اس لیے کہ ان سب کی بنیاد مادیت پر ہے روحانیت پر نہیں، مبلغ اسلام فرماتے ہیں:

    ’’انسان (ذہنی) سکون اور (قلبی) چین کے حصول کی خاطر لگا تار جدوجہد کرتا تو ہے مگر صرف مادیات میں، اسی لیے ناکام رہتا ہے کسی مادی سمت سے (اپنی جستجو کا) آغاز کر کے تھوڑی بہت کامیابی حاصل کر بھی لیتا ہے مگر جب اسے اپنے انتہائی مقصود کے آئینے میں دیکھتا ہے تو وہ اسے دور ہی نظر آتا ہے۔ مال و دولت ، صحت و تندرستی اور شاندار عائلی زندگی بھی اسے وہ ذہنی و روحانی سکون مہیا نہیں کر سکتی جس کے ہم سب تہِ دل سے متمنی ہیں، یہ چیزیں تو ضمنی عناصر کا کام ہی دے سکتی ہیں اور وہ بھی کب؟ جب مقصود کا صحیح احساس ہو۔‘‘ ۵؎

    اس مقام پر مبلغ اسلام اپنے مخصوص دعوتی اسلوب میں مشاہدہ بیان کرتے ہیں جس میں تمثیل کا پہلو بھی ہے:

    ’’بحیثیت ایک فرد کے میں نے اسے (ذاتی) تجربے سے سمجھنے اور حل کرنے کی کوشش کی ہے۔ میں ایک ملک سے دوسرے ملک اور ایک بر اعظم سے دوسرے بر اعظم میں گیا ہوں، دنیا کے ایک سرے سے لے کر دوسرے سرے تک دیکھ چکا ہوں۔ میں نے یونیورسٹیوں اور لائبریریوں میں حقیقت کی تلاش کی ہے، میں نے تجربہ گاہوں میں سائنسی جدوجہد سے رابطہ قائم کیا ہے، بازار اور صنعتی میدان میں انسانیت کے رجحانات کا مشاہدہ کیا ہے، زندگی کے نشیب و فراز سے گزرا ہوں اور اس طرح مادی وسائل سے حاصل ہونے والی خوشی اور تسکین سے بے خبر نہیں ہوں، لیکن ان تجربات میں اگر کوئی یقینی،صاف اور واضح ہے تو صرف یہ کہ ایسی خوشی ہمیشہ وقتی اور لمحاتی ہوتی ہے جو آخر کار دکھوں اور پریشانیوں کے طوفان کے پیچھے رو پوش ہو جاتی ہے۔ بالکل اسی طرح جیسے بارش اور کڑک والی سخت اندھیری رات میں گھنگھور سیاہ بادل چاند کا خوبصورت چہرہ چھپا دیتے ہیں۔ میں نے ذہنی سکون اور قلبی تسکین یعنی حقیقی مسرت کی تلاش کی مگر وہ مادی دنیا مہیا نہ کر سکی۔‘‘ ۶؎

    اپنے مشاہدے سے جو نتیجہ اخذ کیا ہے وہ اس طرح ہے: ’’یہ چیز مذہبیت میں دستیاب ہو سکتی ہے جس سے روحانی اور اخلاقی دنیا کے نئے نئے افق سامنے آتے ہیں۔ مذہب ہی میں اس کی جستجو ممکن ہے کیوں کہ وہی اس کا مدعی بھی ہے، حقیقت بھی یہی ہے کہ یہ (حقیقی مسرت فراہم کرنا) مذہب کا اہم مسئلہ ہے۔‘‘ ۷؎

*مذہب اور ازم:*
    یہاں ایک سوال یہ بھی سر ابھارتا ہے کہ مذہب کیا ہے؟ انسانوں نے جن افکار کی تشکیل کی وہ در اصل ازم ہیں جن کی ناکامی ظاہر ہو گئی بہ زعم وہ اسے مذہب کہیں لیکن وہ مذہب نہیں، وہ رہنمائی سے محروم ہیں۔ مبلغ اسلام فرماتے ہیں؛

    ’’آج دنیا میں بیسیوں مذاہب، فرقے اور ازم ہیں۔ اگر اس کی تعریف یوں کی جائے کہ مذہب اس نظریے کا نام ہے جو بنیادی زندگی سے متعلق ہے اور جو مجموعی طور پر گویا فلسفۂ حیات ہے تو مختلف نظریات کی کثیر تعداد کا یہی دعویٰ ہے۔ موجودہ دور میں کئی اسکالرز اور مفکر، معلم کی حیثیت سے سامنے آئے ہیں،اور انھوں نے کوئی نہ کوئی ازم پیش کر کے اسی کو مذہب کا درجہ دے دیاہے۔ مارکس ازم، ہٹلر ازم اور گاندھی ازم اسی کی چند مثالیں ہیں۔‘‘ ۸؎

    ازموں کی ناکامی کے اسباب پر روشنی ڈالتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’جب ہم سنجیدگی سے ان ازموں پر غور کرتے ہیں توپہلی چیز جو ہمیں کھٹکتی ہے یہ ہے کہ وہ سب انسانی دماغوں کی پیداوار ہیں، کتنے ہی ذہنی ارتقا سے آراستہ کیوں نہ ہوں مگر ہیں تو انسانی فکر کا نتیجہ… انسان ہونے کی حیثیت سے ان کی اہلیت، علم اور زاویۂ نگاہ محدود تھا لہٰذا نہ تو ان کا علم یقینی ہو سکتا ہے اور نہ وہ فیصلے ہی جو انھوں نے صادر کیے۔ چنانچہ اس صورت حال میں ان ازموں اور ان کے معلموں پر ابدی نجات و فلاح اور حقیقی مسرت کے حصول کے لیے کیوں کر اعتماد کیا جا سکتاہے۔‘‘ (اس کے بعد ان کی فطری خامی کی طرف اس طرح اشارہ کرتے ہیں۔)

    ’’معلوم ہوا کہ اولین ضرورت ہی جو ان ازموں کو معتبر بنا سکتی تھی، مفقود ہے۔ رہیں وہ غلط سلط چیزیں جو ان کی تعلیم میں بنیادی طور پر شامل ہیں سو انھیں تفصیل سے زیر بحث لانے کا یہ موقع نہیں، یہی کہنا کافی ہے کہ وہ انسانی ذہنوں کی پیداوار ہیں جو فطری طور پر نہ تو اب بے عیب ہیں اور نہ کبھی تھے۔‘‘ ۹؎

    ۱۹۵۰ء میں دعوتی سفر کے دوران مبلغ اسلام جاپان بھی گئے جہاں دانش وروں کے ایک اجتماع میں ایک مقالہ مسلمانوں کے سائنسی کارناموں سے متعلق بہ عنوان  The Cultivation of Science by the Muslims پیش کیا، اس میں بھی نظریاتی یلغار کے مابین مذہب (اسلام) کی قدر و صداقت سے مت
Forwarded from Gulam Mustafa Razvi
علق فرمایا تھا:

    ’’رائل ایشیاٹک سوسائٹی آف سنگھائی( Royal Asiatic Society of Shanghai) کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے میں نے واضح کیا تھا کہ سائنس اور مذہب کے باہمی تضاد کا مفروضہ صرف غلط فہمیوں کی بنیاد پر ہے، اور مجھے انتہائی مسرت ہوئی کہ میری اس بات کو غیر معمولی طور پر سراہا گیا۔ بلا شبہہ جن لوگوں کے نزدیک مذہب اور سائنس کے مابین تضاد موجود ہے وہ حقیقتاً مذہبی نظریہ کو غلط معانی دیتے ہیں، وہ در اصل مذہب نہیں ہے وہ دیومالائی قصے ہیں اور توہمات کے سوا کچھ نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ مذہب بہ ذات خود ایک سائنس ہے۔‘‘۱۰؎

*مطالعۂ کائنات اور خالق کائنات:*
    مخلوق کا مشاہدہ خالق کی سمت رہنمائی کرتا ہے۔ مبلغ اسلام فرماتے ہیں: ’’جب ہم اپنے ارد گرد (ایک وسیع) کائنات، ستاروں سے بھر پور آسمان اوپر، گونا گوں مخلوق نیچے دیکھتے ہیں اور جا بجا ایک (حسین) ترتیب اور (متوازن) نمونے کا مشاہدہ کرتے ہیں توہم مجبوراً اس نتیجے پر پہنچ جاتے ہیں کہ یقیناً کسی نہ کسی مصور و صانع اور خالق کا ہونا ضروری ہے۔ جسے بجا طور پر کائنات کا موجد عظیم باعث اول کہا جا سکے۔ عقل اسے کیوں کر تسلیم کر سکتی ہے کہ یہ وسیع کائناتی نظام کسی بنانے والے کے بغیر ہی ظہور پذیر ہو گیا ہو۔ (بہ الفاظ دیگر) مخلوق خود ہی اپنے خالق کی نشان دہی کر رہی ہے۔‘‘ ۱۱؎

    مبلغ اسلام کے اس نکتے پر قرآن مقدس سے ایک دلیل دینا زیادہ مناسب سمجھتا ہوں، جس میں نظام کائنات میں غور و خوض کی تعلیم دے کر خالق حقیقی کی سمت رہنمائی کی گئی ہے اور دعوتِ فکر بھی ہے:

    اِنَّ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَاخْتِلَافِ الَّیْلِ وَ النَّھَارِ وَالْفُلْکِ الَّتِیْ تَجْرِیْ فِی الْبَحَرِ بِمَا یَنْفَعُ النَّاسَ وَمَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ مِنَ السَّمَآئِ مِنْ مَّآئٍ فَاَحْیَا بِہِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِھَاوَ بَثَّ فِیْھَا مِنْ کُلّ ِ دَآبَّۃٍ وَّتَصْرِیْفِ الرِّیٰحِ وَ السَّحَابِ الْمُسَخَّرِ بَیْنَ السَّمَآئِ وَالْاَرْضِ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ ۱۲؎

    ’’بے شک آسمانوں اورزمین کی پیدائش اور رات و دن کا بدلتے آنا اور کشتی کہ دریا میں لوگوں کے فائدے لے کر چلتی ہے اور وہ جو اللہ نے آسمان سے پانی اتار کر مردہ زمین کو اس سے جلا دیا اور زمین میں ہر قسم کے جانور پھیلائے اور ہواؤں کی گردش اور وہ بادل کہ آسمان و زمین کے بیچ میں حکم کاباندھا ہے ان سب میں عقل مندوں کے لیے ضرور نشانیاں ہیں۔‘‘ (کنزالایمان)

    مبلغ اسلام کے بیان کردہ اس پہلو کی مزید توضیح انھیں کے ایک اصول سے کرتے ہیں، فرماتے ہیں:

    ’’اب ہر عقل مند کا فرض ہے کہ وہ اپنی عقل کو بروئے کار لائے اور سوچے کہ کیا اسے انسان کے گھڑے ہوئے نا مکمل نظریات کو اختیار کرنا ہے، یا ہر چیز کے جاننے والے خدا کی طرف سے آئی ہوئی مکمل راہِ ہدایت کو…‘‘۱۳؎

*دعوت فکر:*
    وجود باری سے متعلق عقلاے زمانہ کو غور و فکر کی دعوت دیتے ہوئے مبلغ اسلام علامہ شاہ عبدالعلیم میرٹھی فرماتے ہیں: ’’اسے معمولی عقل سے بھی سمجھا جا سکتا ہے، ہر سچا اور غیر متعصبانہ فلسفہ اور سائنسی نظریہ بھی اس کا موید ہے۔ (یہ طے ہو چکا تو) منطقی جرح وقدح کے مطابق یہ بھی ضروری ہے کہ وہ (باعث ہستی) خلاق اکبر، ہمہ داں اور (اپنے علم و قدرت سے) ہر جگہ موجود ہے۔‘‘

    منکرین! عقل سے بے بہرہ تھے، اسی لیے یہ بات جو آسان بھی ہے اور مشاہداتی بھی ان کی سمجھ میں نہ آئی، مبلغ اسلام فرماتے ہیں: ’’حیاتِ انسانی میں اس اعتقاد کو (وجود باری تعالیٰ کے عقیدے کو) عالم گیر حیثیت حاصل رہی ہے اس سے فقط انہی افرادنے انکار کیا ہے جن کے جذباتی تعصب نے انھیں عقل و خرد سے بے نیاز ہو کر سوچنے پر آمادہ کیا۔‘‘۱۴؎

عقل گو آستاں سے دور نہیں
اس کی تقدیر میں حضور نہیں

    نظام کائنات پر تفکر یہ بتاتا ہے کہ پورا نظام کسی کے تابع ہے اور ہر ایک فطرت کے مطابق حرکت پذیر۔ دوسرے الفاظ میں کائنات کا ہر جز اللہ تعالیٰ کے احکام کی متابعت کی بنیاد پر ’’مسلم‘‘ ہے:

    وَلَہٗ اَسْلَمَ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ طَوْعًا وَّکَرْھًا وَّاِلَیْہِ یُرْجَعُوْنَ  ۱۵؎

    ’’اور اسی کے حضور گردن رکھے ہیں جو کوئی آسمانوں اور زمین میں ہیں خوشی سے اور مجبوری سے اور اسی کی طرف پھریں گے-‘‘ (کنزالایمان)

*انبیا کا آفاقی پیغام:*
    انسانوں کی رہنمائی کے لیے انبیا تشریف لائے اور خدا کی اطاعت کی تعلیم دی۔ فطرت سے انحراف کرنے والوں کو۔ مبلغ اسلام، انبیاے کرام کے مشن سے متعلق عقلی بات سمجھاتے ہیں:

    ’’خدا سے پیغامات حاصل کرنے اور خلق تک پہنچانے کی بنا پر انھیں مذہبی اصطلاح میں رسول یا نبی کہا جاتا ہے۔ مکتبی بلکہ ہر قسم کی ظاہری تعلیم حاصل نہ کرنے کے باوجود ، وہ بلند ترین عقل و علم کی باتیں سکھاتے ہیں۔‘‘ ۱۶؎

    انبیا کے پیغام کو جب فراموش کر دیا جاتا تب دوسرے نبی جلوہ گر ہوتے اور پیغام کی تکمیل فرما دیتے اور حقانیت کی راہ دکھاتے۔ بعثتِ انبیا
Forwarded from Gulam Mustafa Razvi
کا سلسلہ جاری رہا اور آخر وہ وقت بھی آیا جب پوری انسانیت تاریکی کی نذر ہو گئی، اور عالم گیر رہنمائی کی محتاج ، مبلغ اسلام کے الفاظ میں:

    ’’یہ سب (حضرات انبیاے کرام علیہم السلام باری باری) تشریف لا کر اپنا اپنا کام (یعنی خلق کی ہدایت) کرتے گئے، حتیٰ کہ ایک ایسا وقت بھی آ گیا جب حیاتِ انسانی ایک عالم گیر تاریکی میں محصور ہو گئی… عالم گیر اصلاح کے لیے ایک عالم گیر پیغام کی ضرورت تھی اور جس خداے واحد و یکتا نے حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت عیسیٰ علیہ السلام تک سب رسولوں کو وحی بھیجی تھی، حضرت محمد مصطفیٰ علیہ الصلاۃ والسلام والتحیۃ والثنا کو بھی وحی بھیجی۔ وہی جنھوں نے تاریخ انسانیت میں بالکل پہلی بار خدائی حکم کے مطابق یہ دعویٰ کیا:

    یٰٓاَ یُّھَا النَّاسُ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ اِلَیْکُمْ جَمِیْعًا (پ۹،ع۱۰)
    ’’اے لوگو! میں تم سب کی طرف اس اللہ کا رسول ہوں‘‘۱۷؎

    اس میں ختمِ نبوت کی یہ دلیل بھی مل گئی کہ دوسرے انبیا کسی خاص علاقہ یا قوم میں جلوہ گر ہوتے تھے، لیکن سرکار اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے جو دعوت پیش کی وہ عالم گیر تھی، اور اس آفاقی دعوت سے تمام انسانیت کو رہنمائی و ہدایت ملی جس کی مثال تاریخِ انسانی میں نہیں ملتی۔

*آخری پیغام کی عقلی دلیل:*
    مبلغ اسلام اپنے دعوتی اسلوب میں عقلی تجزیہ پیش کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

    حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت تشریف لائے جب پریس (Press) اور پیغام کو ہمیشہ کے لیے محفوظ رکھنے کے دوسرے ذرائع ان سائنسی کوششوں کے نتیجے میں رونما ہونے ہی والے تھے جن کا آغاز خود آپ کے غلاموں نے کیا۔ آپ کا پیغام مستقل اور ابدی ہے، کیوں کہ رب تعالیٰ نے خود درج ذیل الفاظ میں اس کی حفاظت کا وعدہ فرمایا ہے:

    اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَاِنَّالَہٗ لَحٰفِظُوْنَ  (سورۃالحجر:۹)
    ’’بے شک ہم نے اتارا ہے یہ قرآن اور بے شک ہم خود اس کے نگہبان ہیں‘‘ (کنزالایمان)

اور اس کے کامل ہونے کا اعلان یوں فرمایا ہے:
    اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ اَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِیْ وَرَضِیْتُ لَکُمُ الْاِ سْلَامَ دِیْنًا  ( المائدۃ:۴)

    ’’آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین کامل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی اور تمہارے لیے اسلام کو دین پسند کیا‘‘ (کنزالایمان)۱۸؎

    یہاں قرآن کے الفاظ میں یہی پیغام کھل کر سامنے آتا ہے:
    اِنَّ الدِّ یْنَ عِنْدَاللّٰہِ الْاِسْلَامُ   ۱۹؎ ’’بے شک اللہ کے یہاں اسلام ہی دین ہے‘‘ (کنزالایمان)

    اسلام کے اصولوں پر عمل بالخصوص سرکار اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے طریقوں پر عمل کی ترغیب دیتے ہوئے حقیقی مسرت کے حصول کا راز ان الفاظ میں ذکر کرتے ہیں اور قوانین الٰہی کی اطاعت و پیروی کی تلقین بھی:

    ’’سچی مسرت اور حقیقی کامرانی خداے تعالیٰ کے مقرر کردہ اور برگزیدہ رسولانِ کرام کے لائے ہوئے قوانین کے مطابق زندگی کے جسمانی اخلاقی اور روحانی پہلوؤں کی متوازن نشو و نما ہی سے حاصل کی جا سکتی ہے۔‘‘۲۰؎

    قوانین اسلام پر عمل کرنے کے نتیجے میں سکون قلب، تسکین روح اور مسرت کا حصول ہو گا۔ مبلغ اسلام نے ’’انسانی مسائل کاحل‘‘ میں مذہب کی ضرورت کے ضمن میں محسوسات پر بھی سائنٹیفک انداز میں گفتگو کی ہے اور حقیقی مسرت کے حصول کے لیے رجوع الی اللہ اور قرب الٰہی کے پہلو پر قرآن مقدس سے دلیل قائم کر کے روشنی ڈالی ہے۔

*قرب الٰہی:*
    مبلغ اسلام اس پہلو سے ایک مثال دیتے ہیں جو ہر ذی شعور کی سمجھ میں بہ آسانی آئے گی:

    ’’روز مرہ کی زندگی میں اگر آپ کسی ایسے شخص سے اچھی طرح منسلک ہو جائیں جو کسی قسم کی طاقت رکھتا ہو تو آپ اپنے اندر بھی ایک نئی قوت محسوس کریں گے۔ اب اس ذات سے حصول قرب کا اندازا کیجیے جو زندگی، نور کمال اور قوت کا حقیقی منبع ہے۔‘‘۲۱؎

    اس مقام پر مبلغ اسلام نے ان انسانوں کی حالت زار کو بیان فرمایا ہے جو محرومی کا شکار ہیں نیز اس کے اسباب بھی بیان فرمائے جن  کے باعث بندہ قرب الٰہی سے محروم ہو رہتا ہے۔

*عبادت:*
    کیا رب قدیر نے جو ہم پر والدین سے زیادہ مہربان ہے اور جس نے اسی بنا پر اپنے رسولان کرام علیہم السلام کے ذریعے ہماری رہنمائی کا بندوبست فرمایا، اپنے ذکر کا کوئی بہترین طریقہ بھی سکھایا ہے، کیا عبادت کی معینہ صورتیں یا ایک ہی وقت کی عبادت سود مند یا کافی ہے۔ یہ وہ سوالات ہیں جو ہمارے دماغ میں ابھرتے ہیں، اور جن کا جواب خود قرآن حکیم نے دیا ہے، ہمیں حکم ہے کہ پانچ دفعہ تو فرض نمازیں ادا کریں اور ان کے علاوہ زندگی کا لمحہ لمحہ اپنے رب کی یاد سے معمور رکھیں، الہامی کلام کے الفاظ میں:

    الذِیْنَ یُذْکُرُوْنَ اللّٰہَ قِیَاماً وَّقُعُوْداً وَّ عَلٰی جُنُوْبِھِمْ (آل عمران:۱۹۱)
    ’’جواللہ کی یاد کرتے ہیں کھڑے اور بیٹھے اور کروٹ پر لیٹے‘‘ (کنزالایمان)

    اس مقام پر مبلغ اسلام عبادت و ذکر الٰہی کی دو صورتیں ذکر کر
Forwarded from Gulam Mustafa Razvi
تے ہیں:

(۱)  ہم ہر لمحے کے اختتام پر یہ یاد رکھیں کہ تمام قوت و خوبی اسی (ذات باری) سے ملتی ہے، وہی اصل میں ہر حسن وکمال دینے والا اور ہم تو محض اس کے بھکاری ہیں۔
(۲)  کوئی بھی عمل کرتے وقت با خبر رہیں کہ یہ کام خدا کے اتارے ہوئے اور خدا کے سکھائے ہوئے قوانین کے مطابق ہے کہ نہیں۔ ۲۲؎

*عمل کی ترغیب کا منطقی انداز:*
    ایک مشفق استاذ یہ چاہتا ہے کہ اپنا درس طالب علم کے ذہن میں اتار دے اور ایسا کہ وہ اسے پھر نہ بھولے اس لیے استاذ مثالوں سے اپنی بات کو آسان اور قابلِ فہم بناتا ہے، مبلغ اور داعی کا وصف یہی بتایا گیا ہے کہ وہ پُر از حکمت کلام کرتا ہے اور اسلام کی تعلیمات کو سلجھے ہوئے انداز میں پیش کر کے فکر پر خوشگوار اثرات مرتب کرتا ہے۔ مبلغ اسلام اس جوہر سے مرصع تھے اور ایک مشفق و کامیاب استاذ بھی، جو حق کی دعوت کے نکات کو ذہن نشین کرانے کا فن خوب جانتے تھے، کچھ ایسا ہی انداز اس اقتباس میں دکھائی دیتا ہے، جس میں عمل کی ترغیب بھی ہے اور اسلام کی تعلیمات کی سچائی پر دعوتِ فکر بھی:

    ’’جس طرح سائنس کا کوئی نظریہ عملی تجربے سے تائید لیے بغیر مکمل طور پر سمجھ میں نہیں آ سکتا بالکل اسی طرح آپ اسے بھی عملی طور پر آزمائیں یہ کارروائی خود نظریے کی صداقت کا ثبوت پیش کر دے گی۔ جب آپ اپنے اعمال کی بنیاد ذکر خدا پر رکھیں گے تو جلدہی اپنی زندگی کو خداے الٰہی کے مطابق ایک متوازن سانچے میں ڈھلی ہوئی پائیں گے۔‘‘ ۲۳؎

*انسانی مسائل کے حل کا پیغام:*
    اپنے معرکۃالآرا مقالہ ’’انسانی مسائل کا حل‘‘ کے آخر میں مبلغ اسلام ، اسلام پر ثابت قدمی کا پیغام عقیدے کی بنیاد پر ان الفاظ میں دیتے ہیں، جن میں ادیانِ باطلہ کی تردید کے ساتھ ہی تنبیہ بھی ہے اور قلبی واردات کی کیفیت بھی:

    ’’خبردار! خدا ہی آپ کا مالکِ حقیقی اور شہنشاہِ ازلی ہے، اس کے احکام کے آگے سرِ تسلیم خم کر کے اس کے رسولوں کی اتباع کیجیے، جن میں آخری حضرت محمد مصطفیٰ علیہ التحیۃ والثنا ہیں۔ اسی راستے پر خود چلیے اور اسی کی دوسروں کو تلقین کیجیے اور اسی پر چل کر فوز و فلاح، ابدی سکون اور دوامی مسرت حاصل کیجیے۔‘‘۲۴؎

    اس پیغام کو ہم مبلغ اسلام کی ’’اذانِ سحر‘‘ بھی کہہ سکتے ہیں جس میں حق کی اشاعت کا جذبۂ صادق موجود ہے، جس سے گلستانِ حیات میں تازگی کا احساس ہوتا ہے، اقبالؔ نے کہا تھا   ؎

وہ سحر جس سے لرزتا ہے شبستان وجود
ہوتی ہے بندۂ مومن کی اذاں سے پیدا

*اختتامیہ:*
    نجات و مسرت کا حصول صرف قوانین فطرت کی اطاعت میں پنہاں ہے۔ اس سے بغاوت کی کوکھ سے ہی مسائل سر ابھارتے ہیں اور انسانیت ذلت و پستی اور رسوائی سے دوچار ہوتی ہے۔ مبلغ اسلام نے انسانی کمزوریوں کی خوب نشاندہی کی ہے، اور اس کے تدارک کی دوا تجویز کی ہے۔ ’’انسانی مسائل کا حل‘‘ میں آپ نے یہی فکر دی کہ فطرت کو اپنایا جائے اور خلافِ فطرت سے اجتناب برتا جائے، تب دنیا مسرت کا گہوارا بنے گی، اور امن و سکوں کا گلستاں۔ اور یہ حقیقی مسرت دین فطرت میں ہے جسے ’’اسلام‘‘ کے نام سے جانا پہچانا جاتا ہے۔ یہاں اس مفہوم کی وضاحت میں مبلغ اسلام کے افکار کے عطر سے ایک نمونہ پیش کرنا مناسب سمجھتا ہوں جس کی خوشبو یقیناً وجود کو مہکا دے گی:

    ’’اسلامی تعلیمات کے مطابق قادرِ مطلق رب پر ایمان رکھنا اور اس کے احکامات کے آگے سرِ تسلیم خم کر دینا انسانی فطرت ہے۔ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کُلُّ مَوْلُوْدٍ یُوْلَدُ عَلَی الْفِطْرَۃِ (صحیح بخاری،کتاب الجنائز؛ باب:ماقیل فی أولادالمشرکین) یعنی ہر پیدا ہونے والا فطرت پر پیدا کیا جاتا ہے۔

    صحابہ نے عرض کی: فطرت کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: طبیعتِ اسلام۔ اس لیے اسلام فطرت کا مترادف ہے اور فطرت ’’اسلام‘‘ کے مترادف۔ اسلام کی ساری تعلیمات فطرت سے ہم آہنگ ہیں۔‘‘۲۵؎

    اس فطرت سے انحراف کی بنیاد پر ہی دنیا طرح طرح کے مسائل سے گزر رہی ہے۔ انسانی مسائل کا حل صرف اسلام میں ہے اور حق کی راہ روشن ہے۔ مبلغ اسلام علامہ شاہ عبدالعلیم صدیقی کے مرشد گرامی امام احمد رضا نے بجا ہی فرمایا ہے   ؎

ترے دین پاک کی وہ ضیا کہ چمک اٹھی رہِ اصطفا
جو نہ مانے آپ سقر گیا کہیں نور ہے کہیں نار ہے
***

*حوالہ جات:*
(۱)    نفیس احمد مصباحی،مولانا، کشف بردہ، طبع المجمع القادری مبارک پور۲۰۰۵ء، ص۲۱۶
(۲)    سورۃ النحل:۱۲۵
(۳)    عبدالعلیم میرٹھی، علامہ، انسانی مسائل کا حل، مترجم محمد حسین آسی، پروفیسر، ورلڈ اسلامک مشن کراچی ۲۰۰۸ء، ص۲
(۴)    مرجع سابق،ص۲۔۳
(۵)    مرجع سابق،ص۳
(۶)    مرجع سابق،ص۵۔۶
(۷)    مرجع سابق،ص۶
(۸)    مرجع سابق،ص۶۔۷
(۹)    مرجع سابق،ص۷۔۸
(۱۰)    عبدالعلیم میرٹھی، علامہ، سائنس کے فروغ میں مسلمانوں کا حصہ، مترجم رضا فاروقی، مشمولہ تبرکات مبلغ اسلام، اویسی بک اسٹال گوجرانوالہ ۲۰۰۴ء، ص۴۹۱
(۱۱)    عبدالعلیم میرٹھی، علامہ، انسانی مسائل کا حل، مترجم محمد حسین آسی، پروفیسر، ورلڈ اسلامک مشن کراچی ۲۰۰۸ء، ص۸
Forwarded from Gulam Mustafa Razvi
۔۹
(۱۲)    سورۃالبقرۃ:۱۶۴
(۱۳)    عبدالعلیم میرٹھی، علامہ، اسلام کے اصول، مترجم محمد حسین آسی، پروفیسر، مشمولہ تبرکات مبلغ اسلام، اویسی بک اسٹال گوجراں والہ ۲۰۰۴ء، ص۱۹۲
(۱۴)    عبدالعلیم میرٹھی، علامہ، انسانی مسائل کا حل، مترجم محمد حسین آسی، پروفیسر، ورلڈ اسلامک مشن کراچی ۲۰۰۸ء، ص۹
(۱۵)    سورۃ آل عمران:۸۳
(۱۶)    عبدالعلیم میرٹھی، علامہ، انسانی مسائل کا حل، مترجم محمد حسین آسی، پروفیسر، ورلڈ اسلامک مشن کراچی ۲۰۰۸ء، ص۱۰
(۱۷)    مرجع سابق،ص۱۱۔۱۲
(۱۸)    مرجع سابق،ص۱۳۔۱۴
(۱۹)    سورۃ آل عمران:۱۹
(۲۰)    عبدالعلیم میرٹھی، علامہ، انسانی مسائل کا حل، مترجم محمد حسین آسی، پروفیسر، ورلڈ اسلامک مشن کراچی ۲۰۰۸ء، ص۱۴
(۲۱)    مرجع سابق،ص۱۶۔۱۷
(۲۲)    مرجع سابق،ص۱۹۔۲۰
(۲۳)    مرجع سابق،ص۲۰
(۲۴)    مرجع سابق،ص۲۱۔۲۲
(۲۵)    عبدالعلیم میرٹھی، علامہ، تبلیغ اسلام کے اصول و فلسفہ، خورشید احمد سعیدی، تحریک فکر رضا ممبئی، ص۲۱۔۲۲

gmrazvi92@gmail.com
9325028586
***
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
بیکل اُتساہی – نئے عہد کا سب رنگ شاعر
🖋️ محمد حسین مُشاہدؔ رضوی

(یومِ وفات پر خراجِ تحسین)

زندگی جھوٹ ہے سب حیلے بہانے کر لو
موت اک سچ ہے کلیجے سے لگانا ہو گا
بیکلؔ اتساہی

حسانِ وقت، پدم بھوشن عالی قدر سرِ معانی بیکلؔ اتساہی کا اصل نام لودی محمد شفیع خاں تھا۔ آپ یکم جون ۱۹۲۸ء بروز جمعہ موضع گورر موا پور، اُترولہ ضلع گونڈہ کے ایک جاگیردار گھرانے میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد لودی محمد جعفر خاں اور والدہ بسم اللہ بی بی خلیل زئی پورے علاقے میں ایک ممتاز مقام رکھتے تھے۔ بیکلؔ اتساہی کی پرورش و پرداخت نہایت صحت مند، جاگیردارانہ لاڈ و پیار سے رعب و جلال کے گھن گرج ماحول میں ہوئی۔ بیکلؔ اتساہی دینی و ادبی، تعلیمی و سیاسی اجلاس اور مشاعروں کی آبرو تھے۔ عزت و اکرام کی زندگی گذار کر وہ درویش صفت شاعر آج ۳ ؍ربیع الاول ۱۴۳۸ھ / ۳ ؍ دسمبر ۲۰۱۶ء بروز سنیچر اپنے مالک حقیقی سے جا ملا، کیا شان کی موت ہے کہ جس ذاتِ پاک رحمت عالم و عالمیان صلی اللہ علیہ و سلم کے گیت زندگی بھر گاتے اور سناتے رہے اسی پاک ذات کے مبارک مہینے میں بارگاہِ حقیقی سے طلبی نصیب میں آئی۔ گذشتہ شب افواہوں کے چلتے اُن کی صاحب زادی ڈاکٹر صوفیہ بلقیس سے برین ہیمبریج کی جاں کاہ خبر نئی دہلی سے ملی۔ انھوں نے بتایا کہ رام منوہر لوہیا اسپتال میں زیر علاج ہیں لیکن ڈاکٹرز نے جواب دے دیا ہے۔ آج علی الصبح یہ افسوسناک اطلاع ملی کہ بیکلؔ صاحب سفر آخرت کو سدھار گئے، ان للہ و انا الیہ راجعون! برادر عزیز مدثر حسین رضوی کے توسط سے جناب اعجازؔ اتساہی ابن بیکلؔ اتساہی سے بھی بات ہوئی انھوں نے بتایا کہ کل بروز اتوار۴؍ ربیع الاول ۱۴۳۸ھ/ ۴؍ دسمبر ۲۰۱۶ء بعد ظہر بلرام پور میں تدفین عمل میں آئے گی۔ بیکلؔ صاحب جلالۃ العلم حضور حافظ ملت قدس سرہٗ کے چہیتے مریدوں میں تھے۔ آپ ہی کی کاوش سے حافظ ملت علیہ الرحمہ نے بغیر فوٹو کے حج فرمایا اس سفر حج میں بیکلؔ صاحب بھی ساتھ ساتھ رہے۔ ۱۹۷۲ء میں مجلس شوریٰ عربک یونی ورسٹی مبارک پور، اعظم گڑھ بنائی اور جامعہ اشرفیہ مبارک پور کے لیے نمایاں خدمات انجام دیں۔ آپ مذہب، ادب، تعلیم اور سیاست کے میدانوں میں نمایاں مقام رکھتے تھے۔ ہندوستانی پارلمینٹ کے رکن بھی رہے۔ ہندوستانی حکومت نے ان کی خدماتِ جلیلہ کا اعتراف کرتے ہوئے انھیں ۱۹۷۶ء میں ’’ پدم بھوشن‘‘ اعزاز سے نوازا۔ پنڈت نہرو جب ملک کے وزیر اعظم تھے اس وقت وہ اکثر یوم جمہوریہ اور یوم آزادی کے موقع پر لال قلعہ کی فصیل سے حب الوطنی پر مشتمل گیت اپنے مخصوص ترنم میں گایا کرتے تھے۔ آپ تاعمر ادب کے ساتھ ساتھ انسانیت کی خدمت میں بھی مصروف رہے۔ مختلف سیاسی و سرکاری کمیٹیوں کے رکن رہے۔ مختلف اداروں نے آپ کی ادبی و سماجی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے مختلف اعزازات سے نوازا جس کی فہرست کافی طویل ہے۔

نعت گوئی بیکل ؔ صاحب کا اوڑھنا بچھونا تھی۔ بیکل ؔاتساہی کی نعت گوئی بالخصوص نعتیہ گیت نگاری اردو نعت کے سفر میں بہت اہمیت رکھتی ہے۔ یوں تو بیکلؔ نے اردو کی ہر صنف کو اپنی جودتِ طبع سے جگمگایا۔ بلکہ غزل کی ہیئت کے علاوہ دیگر ماہیئتوں میں بھی انھوں نے مدحتِ مصطفی صلی اللہ علیہ و سلم کے گل بوٹے بکھیرے۔ حمد، مناجات، نعت، درود، سلام، مناقب، قصائد، مرثیے، دوہے، غزلیں ، نظمیں، گیت، گیت نما، ہائیکو، ماہیے، ترائیلے وغیرہ وغیرہ اصناف پر ان کی تقدیسی، بہاریہ، غزلیہ، قومی اور طفلی شاعری پر مبنی ایک کلیات بہ نام ’’ کلیات بیکلؔ ‘‘ ۱۱۰۵ ؍ صفحات کو محیط جناب فاروق ارگلی کا مرتبہ فرید بک ڈپو دہلی سے منظر عام پر آ چکا ہے۔ بیکل ؔاتساہی کی شعری کائنات کی تفصیل ذیل میں پیشِ خدمت ہے :خزینۂ نعت و سلام کے تحت : (۱) نغمۂ بیکل (۲) حسنِ مجلّیٰ(۳) تحفۂ بطحا(۴) سرورِ جاوداں (۵) بیانِ رحمت (۶) جامِ گل (۷) توشۂ عقبیٰ (۸) نورِ یزداں (۹) والضحیٰ (۱۰) والنجوم (۱۱) والفجر ہیں جب کہ غزل غزل بیکل کے ضمن میں (۱) غزل سانوری (۲) پروائیاں (۳) موتی اُگے دھان کے کھیت (۴) موسموں کی ہوائیں (۵) دوہا پورم بیکل کے مجموعوں کے نام ہیں۔ اسی طرح قومی شاعری کے حوالے سے (۱) اپنی دھرتی چاند کا درپن (۲) رنگ ہزاروں خوشبو ایک (۳) مٹی، ریت، چٹان (۴) کومل مکھڑے بیکل گیت (۵) نظماوت۔ جب کہ بچوں کے لیے لکھی گئی نظموں اور گیتوں کے مجموعے کا نام ’’ بچوں کی پھلواری ‘‘ ہے۔ آپ کی شعری خدمات پر کئی رسرچ اسکارز نے ایم فل اور پی ایچ ڈی کی ڈگریاں بھی حاصل کی ہیں۔ راقم الحروف ناچیز مشاہدؔرضوی پر بیکلؔ صاحب بڑا کرم فرماتے تھے۔ اکثر ٹیلی فونک رابطہ رہتا تھا۔ ناچیز کی نعت گوئی پر آپ نے دسمبر ۲۰۱۰ء میں اپنا گراں قدر تاثر بھی قلمی صورت میں ارسال کیا تھا جو میرے لیے کسی نعمت سے کم نہیں۔ آپ بڑے نفیس انداز میں خطوط لکھا کرتے تھے اور فون پر اُن کی گفتگو بھی شفقت آمیز رہا کرتی تھی۔ بڑوں کا ادب کرتے تھے۔ اصاغر نواز تھے۔