Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
امام احمد رضا کا عشق رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم اور کثرت علوم و فنون
افتخار احمد قادری
اس دنیا میں انسان کسی نہ کسی سے محبت کرتاہے-اور جس سے محبت کرتاہے اس کی یاد میں بے چین رہتا ہے-ہر وقت ہر لمحہ اپنے اس محبوب کی مدح و ستائش میں مصروف رہتا ہے-دل میں محبوب کی عظمت اور زبان پر نام کا وظیفہ رہتا ہے-آنکھیں محبوب کے جمال جہاں آراء کا مشاہدہ کرتی ہیں-کان صرف محبوب کا ذکر سننا پسند کرتے ہیں-نظروں میں دیار محبوب کی ہر ایک شئ مکرم و معظم ہوتی ہے-عاشق کا سرمایہ حیات عشق ہے-عشق اس کی زندگی کا جزو لاینفک ہے-اب عاشق کا دل ودماغ اس کے اختیار میں ہے-وہ محبوب کی زلفوں کا اسیر ہو چکا ہے اس کے دل ودماغ میں کوئے محبوب کا تصور ہوتا ہے-استاذ زمن حضرت علامہ حسن رضا خان بریلوی ارشاد فرماتے ہیں-
دل کو جاناں سے حسن سمجھا بجھاکر لائے تھے
دل ہمیں سمجھا بجھاکر کوئے جاناں لے چلا
اس خاندان گیتی پر ایک ایسا عاشق پیداہوا تھا،جس کی نگاہ جلوہ محبوب کے علاوہ کسی دوسری چیز کے دیکھنے کی قائل نہ تھی،وہ دیکھتا تھا تو اپنے محبوب کے رخ انور کو دیکھتا تھا،وہ بولتا تھا تو اپنے محبوب کے فرمان کو پیش کرتا تھا،وہ مسکراتا تو ادائے محبوب لے کر مسکراتا،اس کی فکر میں ادائے محبوب شامل تھی،وہ چلتا تو محبوب کی متعین کردہ حدود میں چلتا،بلکہ وہ ان حدود کا آخری وقت تک محافظ تھا،وہ سوتا تو نام محبوب بن جاتا،ایک طرف وہ دنیا کا سب سے بڑا عاشق رسول تھا،تو دوسری طرف دنیائے اسلام کا سب سے بڑا عالم تھا،سب سے بڑا محدث تھا،سب سے بڑا مفسر تھا،جو علم معانی،علم بیان،علم بدیع،کا سب سے بڑا عالم تھا- جو علم تکسیر،علم ہئیات،علم حساب اور علم ہندسہ کا امام ہو،جو قرآت و تجوید کا بحر ذخار ہو،تصوف وسلوک میں یگانہ روزگار ہو،جس کے دیوان نعت میں حضرت حسان کی شاعری کی جھلک ہو،علم ریاضی میں جس کی مثال نہ ملتی ہو،علم فقہ میں جو امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللّٰہ تعالیٰ علیہ کا مظہر اتم ہو،علم عقائد و کلام میں جس کی نظیر نہ ہو جس کے منطقیانہ،اور فلسفیانہ،اقوال و براہین کو دیکھ کر بوعلی سینا،فارابی حیرت و استعجاب میں پڑ جائیں،جس کے علم نحو و صرف کو دیکھ کر بصرئین اور کوفئین حیران ہوں،جو علم ریاضی کا سب سے بڑا عالم ہو،ارشماطیقی حساب،توقیت،زیجات اور زائچہ جیسے دیگر بہت سے علوم محبوب کی بارگاہ سے تحفتہ ملے ہوں،جو عاشق اور عاشق گر تھا،جو دنیاکا سب سے بڑا پرہیزگار تھا،جو قطب الارشاد تھا،جو مجدد اعظم تھا،جس کی زیارت سے اس کے محبوب کی زیارت ہوتی،جو اس کے پاس بیٹھا اس کے محبوب کے پاس بیٹھا،جس نے اس کو دیکھا اس نے اس کے محبوب کو دیکھا،جسے پوری دنیائے عرب وعجم اعلیٰ حضرت امام اہلسنت مجدد اعظم امام احمد رضا خان رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کے نام سے جانتی اور پہچانتی ہے-
حیرت سر پیٹ رہی ہے دنیا ششدر ہے کہ یہ کون ہے؟ جس کی ذات میں اتنے اوصاف جمع ہوگئے ہیں-جو ایک طرف سب سے بڑا عاشق مصطفیٰ ہے ،تو دوسری جانب علم کا موجیں مارتا ہوا سمندر- ایک طرف حدائقِ بخشش ہے تو دوسری طرف فتویٰ رضویہ کی بارہ جلدیں،جو تفقہ فی الدین میں امام اعظم ابوحنیفہ کا جانشین ہوا،اور نعت گوئی میں حضرت حسان کا متبع،امام احمد رضا اپنے محبوب کی یادوں میں محو رہتے تھے اپنے محبوب کی یادوں میں مستغرق رہتے تھے- من تو شدم تو من شدی من تن شدم تو جاں شدی کی کیفیت طاری رہتی ہے-جس کی یہ حالت ہو اس کو دیکھ کر پہلو پر طبع آزمائی کرنے کا موقع نہیں ملتا،ہاں وہ امام احمد رضا ہے جو تمام علوم وفنون کا جامع ہونے کے باوجود سب سے بڑا عاشق مصطفیٰ ہے جو اپنے محبوب کے دشمن کو دشمن اور اپنے محبوب کے دوست کو دوست سمجھتا ہے-جس نے ہر موڑ پر ناموسِ مصطفیٰ کی حفاظت کی جس کی زندگی کا کوئی لمحہ عشقِ رسول سے خالی ہے جس کے دل پر ایک طرف لا الہ الااللہ اور دوسری طرف محمد رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم لکھا ہے-جس کا دل عشق کی گرمی کی وجہ سے جل کباب ہوگیا ہے-امام احمد رضا ارشاد فرماتے ہیں-
جلی جلی بو سے اس کی پیدا،ہے سوزشِ عشق چشمِ بالا
کباب آہو میں بھی نہ پایا،مزا جو دل کے کباب میں ہے
امام احمد رضا کا دل عشقِ رسول میں جل کر کباب ہو گیا-ہے من تو شدم تو من شدی کی مکمل کیفیت طاری ہے-
امام احمد رضا کو ہر ایک چیز میں عشقِ رسول کی جھلک نظر آرہی ہے-پھول ہو یا گلاب،بیلا چمبیلی ہو یا نسترن،رات ہو یا دن،صبح ہو یا شامل،باد بہاری ہو یا نسیم سحری،باد صبا ہو یا دیگر ہوا،فقہ ہو یا اصول حدیث ہو یا علم معانی ہو یا بیان،نحو ہو یا صرف،منطق ہو یا فلسفہ،علم ریاضی ہو یا ہندسہ،درس گاہ ہو یا آرام گاہ،سفر ہو یا حضر،زمین ہند ہو یا عرب،مکہ ہو یا مدینہ،ہر جگہ ہر چیز میں محبوب کا جلوہ نظر آتا ہے آپ خود فرماتے ہیں کہ-
افتخار احمد قادری
اس دنیا میں انسان کسی نہ کسی سے محبت کرتاہے-اور جس سے محبت کرتاہے اس کی یاد میں بے چین رہتا ہے-ہر وقت ہر لمحہ اپنے اس محبوب کی مدح و ستائش میں مصروف رہتا ہے-دل میں محبوب کی عظمت اور زبان پر نام کا وظیفہ رہتا ہے-آنکھیں محبوب کے جمال جہاں آراء کا مشاہدہ کرتی ہیں-کان صرف محبوب کا ذکر سننا پسند کرتے ہیں-نظروں میں دیار محبوب کی ہر ایک شئ مکرم و معظم ہوتی ہے-عاشق کا سرمایہ حیات عشق ہے-عشق اس کی زندگی کا جزو لاینفک ہے-اب عاشق کا دل ودماغ اس کے اختیار میں ہے-وہ محبوب کی زلفوں کا اسیر ہو چکا ہے اس کے دل ودماغ میں کوئے محبوب کا تصور ہوتا ہے-استاذ زمن حضرت علامہ حسن رضا خان بریلوی ارشاد فرماتے ہیں-
دل کو جاناں سے حسن سمجھا بجھاکر لائے تھے
دل ہمیں سمجھا بجھاکر کوئے جاناں لے چلا
اس خاندان گیتی پر ایک ایسا عاشق پیداہوا تھا،جس کی نگاہ جلوہ محبوب کے علاوہ کسی دوسری چیز کے دیکھنے کی قائل نہ تھی،وہ دیکھتا تھا تو اپنے محبوب کے رخ انور کو دیکھتا تھا،وہ بولتا تھا تو اپنے محبوب کے فرمان کو پیش کرتا تھا،وہ مسکراتا تو ادائے محبوب لے کر مسکراتا،اس کی فکر میں ادائے محبوب شامل تھی،وہ چلتا تو محبوب کی متعین کردہ حدود میں چلتا،بلکہ وہ ان حدود کا آخری وقت تک محافظ تھا،وہ سوتا تو نام محبوب بن جاتا،ایک طرف وہ دنیا کا سب سے بڑا عاشق رسول تھا،تو دوسری طرف دنیائے اسلام کا سب سے بڑا عالم تھا،سب سے بڑا محدث تھا،سب سے بڑا مفسر تھا،جو علم معانی،علم بیان،علم بدیع،کا سب سے بڑا عالم تھا- جو علم تکسیر،علم ہئیات،علم حساب اور علم ہندسہ کا امام ہو،جو قرآت و تجوید کا بحر ذخار ہو،تصوف وسلوک میں یگانہ روزگار ہو،جس کے دیوان نعت میں حضرت حسان کی شاعری کی جھلک ہو،علم ریاضی میں جس کی مثال نہ ملتی ہو،علم فقہ میں جو امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللّٰہ تعالیٰ علیہ کا مظہر اتم ہو،علم عقائد و کلام میں جس کی نظیر نہ ہو جس کے منطقیانہ،اور فلسفیانہ،اقوال و براہین کو دیکھ کر بوعلی سینا،فارابی حیرت و استعجاب میں پڑ جائیں،جس کے علم نحو و صرف کو دیکھ کر بصرئین اور کوفئین حیران ہوں،جو علم ریاضی کا سب سے بڑا عالم ہو،ارشماطیقی حساب،توقیت،زیجات اور زائچہ جیسے دیگر بہت سے علوم محبوب کی بارگاہ سے تحفتہ ملے ہوں،جو عاشق اور عاشق گر تھا،جو دنیاکا سب سے بڑا پرہیزگار تھا،جو قطب الارشاد تھا،جو مجدد اعظم تھا،جس کی زیارت سے اس کے محبوب کی زیارت ہوتی،جو اس کے پاس بیٹھا اس کے محبوب کے پاس بیٹھا،جس نے اس کو دیکھا اس نے اس کے محبوب کو دیکھا،جسے پوری دنیائے عرب وعجم اعلیٰ حضرت امام اہلسنت مجدد اعظم امام احمد رضا خان رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کے نام سے جانتی اور پہچانتی ہے-
حیرت سر پیٹ رہی ہے دنیا ششدر ہے کہ یہ کون ہے؟ جس کی ذات میں اتنے اوصاف جمع ہوگئے ہیں-جو ایک طرف سب سے بڑا عاشق مصطفیٰ ہے ،تو دوسری جانب علم کا موجیں مارتا ہوا سمندر- ایک طرف حدائقِ بخشش ہے تو دوسری طرف فتویٰ رضویہ کی بارہ جلدیں،جو تفقہ فی الدین میں امام اعظم ابوحنیفہ کا جانشین ہوا،اور نعت گوئی میں حضرت حسان کا متبع،امام احمد رضا اپنے محبوب کی یادوں میں محو رہتے تھے اپنے محبوب کی یادوں میں مستغرق رہتے تھے- من تو شدم تو من شدی من تن شدم تو جاں شدی کی کیفیت طاری رہتی ہے-جس کی یہ حالت ہو اس کو دیکھ کر پہلو پر طبع آزمائی کرنے کا موقع نہیں ملتا،ہاں وہ امام احمد رضا ہے جو تمام علوم وفنون کا جامع ہونے کے باوجود سب سے بڑا عاشق مصطفیٰ ہے جو اپنے محبوب کے دشمن کو دشمن اور اپنے محبوب کے دوست کو دوست سمجھتا ہے-جس نے ہر موڑ پر ناموسِ مصطفیٰ کی حفاظت کی جس کی زندگی کا کوئی لمحہ عشقِ رسول سے خالی ہے جس کے دل پر ایک طرف لا الہ الااللہ اور دوسری طرف محمد رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم لکھا ہے-جس کا دل عشق کی گرمی کی وجہ سے جل کباب ہوگیا ہے-امام احمد رضا ارشاد فرماتے ہیں-
جلی جلی بو سے اس کی پیدا،ہے سوزشِ عشق چشمِ بالا
کباب آہو میں بھی نہ پایا،مزا جو دل کے کباب میں ہے
امام احمد رضا کا دل عشقِ رسول میں جل کر کباب ہو گیا-ہے من تو شدم تو من شدی کی مکمل کیفیت طاری ہے-
امام احمد رضا کو ہر ایک چیز میں عشقِ رسول کی جھلک نظر آرہی ہے-پھول ہو یا گلاب،بیلا چمبیلی ہو یا نسترن،رات ہو یا دن،صبح ہو یا شامل،باد بہاری ہو یا نسیم سحری،باد صبا ہو یا دیگر ہوا،فقہ ہو یا اصول حدیث ہو یا علم معانی ہو یا بیان،نحو ہو یا صرف،منطق ہو یا فلسفہ،علم ریاضی ہو یا ہندسہ،درس گاہ ہو یا آرام گاہ،سفر ہو یا حضر،زمین ہند ہو یا عرب،مکہ ہو یا مدینہ،ہر جگہ ہر چیز میں محبوب کا جلوہ نظر آتا ہے آپ خود فرماتے ہیں کہ-
انہیں کی بو مایہ سمن ہے انہیں کا جلوہ چمن چمن ہے
انہیں سے گلشن مہک رہےہیں انہیں کی رنگت گلاپ میں ہے
امام احمد ایک طرف عشق میں فنا فی الرسول کے مقام پر فائز ہیں تو دوسری طرف وقت کے امام اعظم ہیں-
احمد رضا مجتہد فی المذہب اور مجتہد فی المسائل ہیں- حیرت خود حیرت میں ہے،کیوں؟ اس لئے کہ امام احمد رضا تعجب بالائے تعجب کا نام ہے امام احمد رضا حیرت کا نام ہے امام احمد رضا یونیورسٹی کا نام ہے امام احمد رضا لائبریری کا نام ہے امام احمد رضا تاریخ کا نام ہے امام احمد رضا کمالات کا نام ہے امام احمد رضا فکر کا نام ہے امام احمد رضا علم کا نام ہے امام احمد رضا فن کا نام ہے امام احمد رضا ناموس رسالت و نبوت کا نام ہے امام احمد رضا فقہ کا نام ہے امام احمد رضا تحریک کا نام ہے بلکہ امام احمد رضا سراپا عشق کا نام ہے آپ کی تحریر ہو یا تقریر ہر ایک سے عشق نبی کا درس ملتا ہے عشق رسول امام احمد رضا کی زندگی کا نمایاں ترین وصف ہے آپ اطاعت کے بغیر عشق کے قائل نہ تھے امام احمد رضا سنت نبوی کا بہترین نمونہ تھے-
امام احمد رضا نے اپنی پوری زندگی عشقِ رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم میں گزاری جس محفل میں بھی یوتے ذکر نبی کرتے آپ کی فکر و نظر میں بھی ذکر نبی کے حسین نغمات ہوتے ہند ہو یا دیار حرم بریلی ہو یا مدینہ منورہ کی پر کیف وادی ہر جگہ ذکر نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کرتے درسگاہ میں طالبان علوم نبوت کو عسق نبی کا جام پلاتے خانقاہ میں مریدوں کو عشق بنی کی شراب پلا کر مست کر دیتے وعظ و نصیحت کی محفل میں عوام الناس کے سینوں کو عشق و مستی کا گنجینہ بنا دیتے امام احمد رضا نے اپنے خلفاء کو عشقِ نبی کی شراب پلا کر ایسا مست کر دیا کہ وہ دنیا کے ہر خطے میں عشق رسول کابھی درس دیتے اور ایمان و عمل کی بھی حفاظت فرماتے امام احمد رضا کی آرزو تھی کہ دنیا کا ہر شخص عاشق رسول بن جائے امام احمد رضا زائرین مدینہ منورہ کو دیکھ کر تڑپ جاتے تھے ان کا سکون ختم ہوجاتا امام احمد رضا نبی کی یاد میں بلک بلک کر روتے ان کا جسم بریلی شریف کی دھرتی پر ہوتا مگر دل ودماغ خیالات و تصورات میں مدینہ منورہ کا طواف کرتے امام احمد رضا کے نزدیک سب سے ذیادہ محبوب اور مکرم حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی ذات تھی تمام شہروں میں محبوب ترین شہر مدینہ منورہ تھا مدینہ کے درو دیوار سے بے پناہ محبت کرتے تھے امام احمد بے پناہ عشق نبی کی بنیاد پر سراپا عشق بن گئے-
کثرتِ علوم و فنون:
امام احمد رضا جہان علوم و فنون کا پہلا وہ شخص ہے جنکے نام سے اتنے علوم و فنون کے جاننے کا ذکر کیا جاتاہے-
پروفیسر مسعود احمد صاحب لکھتے ہیں کہ کثرتِ علوم پر امام احمد رضا کو جو عبور اور مہارت حاصل تھی اس کی نظیر اس کے عہد میں کیا،ماضی میں بھی شاذ ہی نظر آتی ہے (امام احمد رضا اور عالم اسلام)
پہلے مولانا اقبال احمد اختر القادری صاحب کراچی کی زبانی سنئے-(1)علم قرآن (2) علم حدیث (3)اصول حدیث (4) فقہ حنفی (5) کتب فقہ جملہ مذاہب (6) اصول فقہ (7)جدل مہذب (8)علم تفسیر (9)علم العقائد والکلام (10)علم نحو (11)علم صرف (12)علم معانی (13)علم بیان (14) علم بدیع (15)علم منطق (16)علم مناظرہ (17) فلسفہ (18) تکسیر (19)ہئیت (20) حساب (21) ہندسہ (22)قرآت (23) تجوید (24)تصوف (25) سلوک (26)اخلاق (27)اسما الرجال (28) سیر(29) تواریخ (30)لغت (31)ادب مع جملہ علوم و فنون (32)ارثماطیفی (33)جبر و مقابلہ (34)حساب (35)لوغات ثمات (36)توقیت (37) مناظرہ و مرایا (38)علم الاکبر (39)زیجات(40)مثلث کروی (41)مثلث مسطح (42)ہئیت جدیدہ (43)مربعات (44)جفر (45)زائرچہ (46)نظم عربی (47)نظم فارسی (48)نظم ہندی (49)نثر عربی (50)نثر فارسی (12)نثر ہندی (23)خط نسخ (53)خط نستعلیق (54)تلاوت مع تجوید (55) علم الفرائض (56)علم طبعیات (57)علم صوتیات (58) علم نور (59) علم کیمیا (60)علم طب (61)علم الادویہ (62)علم معاشیات (63)علم اقتصادیات (64) علم تجارت (65)علم شماریات (66)علم ارضیات (67)علم جغرافیہ (68)علم سیاسیات (69)علم بین الاقوامی امور (70)علم معدنیات (71)علم اخلاقیات-(ماہنامہ کنزالایمان دہلی جون 2001)
عرض کروں کہ ان تمام موئلفین نے جنہوں نے امام احمد رضا کی حیات وخدمات پر کتابیں تصنیف فرمائی ہیں اور ان کے علوم وفنون کی کثرت بیان کرنے کی سعی کی ہے سب نے ہی غیر استحضار ذہنی کا ثبوت دیا ہے کیونکہ پچاس اور پچاس سے زیادہ علوم بیان کرنے کا التزام تو سبھی نے کیا ہے مگر شناریا میں کسی نے نجوم چھوڑ دیا ہے تو کسی نے رمل کسی نے اگر چھوڑ دیا ہے تو کسی نے موسیقی یہی وہ علوم ہیں کہ آج تک امام احمد رضا کے سارے علوم صفحہ قرطاس پر نقش بن کے کسی کا سرمہ نگاہ نہیں بن سکے ہیں جبکہ علوم ایک سو تین بتائیں ہیں حالانکہ میں ایک بے مایہ اور بے بضاعت انسان جس کا مطالعہ صفر برابر ہے جب میں نے مختلف جگہوں میں مختلف کتابیں پڑھیں اور امام احمد رضا کے اعداد علوم کو گوشہ ذہن میں بسانے کی کوشش کی تو میں اس مقام پر
انہیں سے گلشن مہک رہےہیں انہیں کی رنگت گلاپ میں ہے
امام احمد ایک طرف عشق میں فنا فی الرسول کے مقام پر فائز ہیں تو دوسری طرف وقت کے امام اعظم ہیں-
احمد رضا مجتہد فی المذہب اور مجتہد فی المسائل ہیں- حیرت خود حیرت میں ہے،کیوں؟ اس لئے کہ امام احمد رضا تعجب بالائے تعجب کا نام ہے امام احمد رضا حیرت کا نام ہے امام احمد رضا یونیورسٹی کا نام ہے امام احمد رضا لائبریری کا نام ہے امام احمد رضا تاریخ کا نام ہے امام احمد رضا کمالات کا نام ہے امام احمد رضا فکر کا نام ہے امام احمد رضا علم کا نام ہے امام احمد رضا فن کا نام ہے امام احمد رضا ناموس رسالت و نبوت کا نام ہے امام احمد رضا فقہ کا نام ہے امام احمد رضا تحریک کا نام ہے بلکہ امام احمد رضا سراپا عشق کا نام ہے آپ کی تحریر ہو یا تقریر ہر ایک سے عشق نبی کا درس ملتا ہے عشق رسول امام احمد رضا کی زندگی کا نمایاں ترین وصف ہے آپ اطاعت کے بغیر عشق کے قائل نہ تھے امام احمد رضا سنت نبوی کا بہترین نمونہ تھے-
امام احمد رضا نے اپنی پوری زندگی عشقِ رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم میں گزاری جس محفل میں بھی یوتے ذکر نبی کرتے آپ کی فکر و نظر میں بھی ذکر نبی کے حسین نغمات ہوتے ہند ہو یا دیار حرم بریلی ہو یا مدینہ منورہ کی پر کیف وادی ہر جگہ ذکر نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کرتے درسگاہ میں طالبان علوم نبوت کو عسق نبی کا جام پلاتے خانقاہ میں مریدوں کو عشق بنی کی شراب پلا کر مست کر دیتے وعظ و نصیحت کی محفل میں عوام الناس کے سینوں کو عشق و مستی کا گنجینہ بنا دیتے امام احمد رضا نے اپنے خلفاء کو عشقِ نبی کی شراب پلا کر ایسا مست کر دیا کہ وہ دنیا کے ہر خطے میں عشق رسول کابھی درس دیتے اور ایمان و عمل کی بھی حفاظت فرماتے امام احمد رضا کی آرزو تھی کہ دنیا کا ہر شخص عاشق رسول بن جائے امام احمد رضا زائرین مدینہ منورہ کو دیکھ کر تڑپ جاتے تھے ان کا سکون ختم ہوجاتا امام احمد رضا نبی کی یاد میں بلک بلک کر روتے ان کا جسم بریلی شریف کی دھرتی پر ہوتا مگر دل ودماغ خیالات و تصورات میں مدینہ منورہ کا طواف کرتے امام احمد رضا کے نزدیک سب سے ذیادہ محبوب اور مکرم حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی ذات تھی تمام شہروں میں محبوب ترین شہر مدینہ منورہ تھا مدینہ کے درو دیوار سے بے پناہ محبت کرتے تھے امام احمد بے پناہ عشق نبی کی بنیاد پر سراپا عشق بن گئے-
کثرتِ علوم و فنون:
امام احمد رضا جہان علوم و فنون کا پہلا وہ شخص ہے جنکے نام سے اتنے علوم و فنون کے جاننے کا ذکر کیا جاتاہے-
پروفیسر مسعود احمد صاحب لکھتے ہیں کہ کثرتِ علوم پر امام احمد رضا کو جو عبور اور مہارت حاصل تھی اس کی نظیر اس کے عہد میں کیا،ماضی میں بھی شاذ ہی نظر آتی ہے (امام احمد رضا اور عالم اسلام)
پہلے مولانا اقبال احمد اختر القادری صاحب کراچی کی زبانی سنئے-(1)علم قرآن (2) علم حدیث (3)اصول حدیث (4) فقہ حنفی (5) کتب فقہ جملہ مذاہب (6) اصول فقہ (7)جدل مہذب (8)علم تفسیر (9)علم العقائد والکلام (10)علم نحو (11)علم صرف (12)علم معانی (13)علم بیان (14) علم بدیع (15)علم منطق (16)علم مناظرہ (17) فلسفہ (18) تکسیر (19)ہئیت (20) حساب (21) ہندسہ (22)قرآت (23) تجوید (24)تصوف (25) سلوک (26)اخلاق (27)اسما الرجال (28) سیر(29) تواریخ (30)لغت (31)ادب مع جملہ علوم و فنون (32)ارثماطیفی (33)جبر و مقابلہ (34)حساب (35)لوغات ثمات (36)توقیت (37) مناظرہ و مرایا (38)علم الاکبر (39)زیجات(40)مثلث کروی (41)مثلث مسطح (42)ہئیت جدیدہ (43)مربعات (44)جفر (45)زائرچہ (46)نظم عربی (47)نظم فارسی (48)نظم ہندی (49)نثر عربی (50)نثر فارسی (12)نثر ہندی (23)خط نسخ (53)خط نستعلیق (54)تلاوت مع تجوید (55) علم الفرائض (56)علم طبعیات (57)علم صوتیات (58) علم نور (59) علم کیمیا (60)علم طب (61)علم الادویہ (62)علم معاشیات (63)علم اقتصادیات (64) علم تجارت (65)علم شماریات (66)علم ارضیات (67)علم جغرافیہ (68)علم سیاسیات (69)علم بین الاقوامی امور (70)علم معدنیات (71)علم اخلاقیات-(ماہنامہ کنزالایمان دہلی جون 2001)
عرض کروں کہ ان تمام موئلفین نے جنہوں نے امام احمد رضا کی حیات وخدمات پر کتابیں تصنیف فرمائی ہیں اور ان کے علوم وفنون کی کثرت بیان کرنے کی سعی کی ہے سب نے ہی غیر استحضار ذہنی کا ثبوت دیا ہے کیونکہ پچاس اور پچاس سے زیادہ علوم بیان کرنے کا التزام تو سبھی نے کیا ہے مگر شناریا میں کسی نے نجوم چھوڑ دیا ہے تو کسی نے رمل کسی نے اگر چھوڑ دیا ہے تو کسی نے موسیقی یہی وہ علوم ہیں کہ آج تک امام احمد رضا کے سارے علوم صفحہ قرطاس پر نقش بن کے کسی کا سرمہ نگاہ نہیں بن سکے ہیں جبکہ علوم ایک سو تین بتائیں ہیں حالانکہ میں ایک بے مایہ اور بے بضاعت انسان جس کا مطالعہ صفر برابر ہے جب میں نے مختلف جگہوں میں مختلف کتابیں پڑھیں اور امام احمد رضا کے اعداد علوم کو گوشہ ذہن میں بسانے کی کوشش کی تو میں اس مقام پر
پہنچا کہ امام احمد رضا کو بیک وقت تقریباً ایک سو تیس علوم و فنون سے مہارت تامہ حاصل تھی اگر مستقبل قریب میں کسی رضوی ماہر نے اس پر کاوش کی تو میں امید کرتا ہوں کہ انشاء اللہ تعالیٰ امام احمد رضا کے ایک سو تیس سے بھی زائد علوم پر عبور کی ہماہمی جہاں اپنوں کے دامن کو مسرت و شادمانی کے گل نشتر سے بھر دے گی وہیں حاسدین کی آنکھوں پر لہو کے بیل جیسی پٹی چڑھ جائے گی-
https://www.facebook.com/1493359047596563/posts/3065530780379374/
https://www.facebook.com/1493359047596563/posts/3065530780379374/
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Gulam Mustafa Razvi
مبلغ اسلام علامہ عبدالعلیم میرٹھی کی تصنیف
*’’انسانی مسائل کا حل‘‘* ایک تجزیاتی مطالعہ
غلام مصطفٰی رضوی
نوری مشن مالیگاؤں
خیر کے مقابل شر ہمیشہ سرگرم عمل رہا ہے۔ اسلام کی صداقت و حقانیت نے جب دلوں کی دنیا کو مسخر کر لیا تو وہ مذاہب جن کی بنیاد اوہام پر تھی اور وہ انسانی عقل کی اختراع تھے، تلملا اُٹھے۔ جن آسمانی مذاہب کی شکلیں ان کے ماننے والوں نے بگاڑ کر رکھ دی تھیں انھیں بھی اسلام کی سچائی اور صداقت سے بیر تھا، اور وہ حسد و بغض کے جذبات سے مغلوب۔ اسلام کے مقابل ’’شر‘‘ کا یہ عمل سامنے آیا کہ نئے نئے افکار و نظریات وجود میں آئے۔ تمدنی و تہذیبی، ثقافتی و نظریاتی، سیاسی و اقتصادی ہرطرح کے حملے کیے گئے۔ لیکن یہ فطری بات ہے کہ حق و صداقت کو دوام و استقرار ہے اور باطل کو ہزیمت و زوال۔
فطرت سے انحراف ہی انسانی مسائل کا سبب بنتا ہے۔ اسلام سے عداوت و بغض رکھنے والے افکار و نظریات کی بنیاد چوں کہ انسانوں کے ہاتھوں بنائے ہوئے اُصولوں پر تھی اس لیے ان کی فکر نے انتشار و فساد کی فضا استوار کی اور تخریب و تباہی کا سامان ہوا۔ ادیانِ باطلہ جور و ستم کی راہ پر گامزن تھے۔ انسانی سہاگ لٹ کر رہ گیا تھا، عصمتیں تار تار تھیں، دہشت گردی کا بازار گرم تھا ایسے ماحول میں رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد ہوتی ہے، اور دینِ فطرت کی ضیا پھیلتی ہے، انسانیت کی زلفِ برہم سنورتی ہے، سچائی راہ پاتی ہے، ہدایت و صداقت کا آفتاب طلوع ہوتا ہے۔ امام محمد شرف الدین بوصیری (م۶۹۴ھ) فرماتے ہیں ؎
فَاِنَّہٗ شَمْسُ فَضْلٍ ھُمْ کَوَاکِبُھَا
یُظْھِرْنَ اَنْوَارَھَا لِلنَّاسِ فِي الظُّلَمٖ
*ترجمہ:* کیوں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم آفتابِ فضل و کمال ہیں؛ اور انبیاے کرام ستارے ہیں؛ جو اسی آفتاب کی روشنی انسانوں کو تاریکیوں میں دکھاتے رہے ہیں۔ ۱؎
جس ذات پاک کے فیض سے انبیاے کرام ظلمتوں میں اُجالا پھیلاتے اور انسانیت کو فطرت کی راہ ’’شاہراہِ حق‘‘ دکھا کر عزت و عظمت عطا کرتے رہے؛ وہ ذات کیسی انسانیت نواز اور مرکزِ حق و صداقت ہوگی۔ اس کی عظمتوں کا اندازہ ہم اپنی عقلِ خام سے کیسے لگا سکتے ہیں۔ رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے دینِ فطرت کی طرف بلایا اور جبیں کا وَقار پامال ہونے سے بچا کر انسان کا دامن ستھرا فرمادیا۔
*منفی اندازِ فکر:*
جریدۂ عالم پر اسلام کے اثرات جیسے جیسے بڑھتے گئے؛ ادیانِ باطلہ میں اضطراب بڑھتا گیا اور دینِ فطرت سے متعلق پروپیگنڈا کیا گیا کہ اسلام ایک عسکری دین ہے اور علم و فن سے اس کا کوئی رشتہ و تعلق نہیں، اس کی اشاعت بہ زورِ شمشیر و سناں کی گئی ہے۔ اس فکرِ غلط کے پرچار میں مغرب میں وجود پانے والے طبقۂ مستشرقین کا زیادہ حصہ رہا، گرچہ جنھوں نے سنجیدگی کے ساتھ اسلام کا مطالعہ کیا اور سیرت کا تجزیہ کیا ان میں اکثر نے اعترافِ حق کیا کہ اسلام ایک الہامی دین ہے اور یہ فطرت کے تقاضوں کو پورا کرتا ہے۔ اس کے فیصلے اورضابطے نقص و عیب سے مبرا ہیں۔ بہر کیف اسلام سے جدا راہوں کو کشادہ کرنے کی کوشش کی گئی، اس کے لیے تشدد اور ظلم کا سہارا لیا گیا۔ اسلام چوں کہ امن و محبت اور اخوت کا درس دیتا ہے اس لیے اس کے مقابلے میں برائیوں کو پروان چڑھایا گیا؛ جس سے انسانیت کا وَقار داغ دار ہوا اور یہ منفی اندازِ فکر باعثِ زوال ثابت ہوا۔
*مبلغ اسلام اور اشاعت اسلام:*
مبلغِ اسلام علامہ شاہ عبدالعلیم صدیقی میرٹھی (ولادت: ۱۵؍رمضان المبارک ۱۳۱۰ھ / ۱۳؍اپریل ۱۸۹۲ء- رحلت: ۲۳؍ ذی الحجہ ۱۳۷۲ھ/۲۲؍ اگست ۱۹۵۴ء) اسلام کے سرگرم و مثالی مبلغ اور دانشِ نورانی سے آراستہ کامیاب داعی تھے۔ امام اہلِ سنت اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قادری برکاتی محدث بریلوی (م۱۳۴۰ھ/۱۹۲۱ء) کی صحبتِ با برکت نے داعیانہ فہم و فراست کو مہمیز کیا اور جذبات کو عزم و حوصلہ دیا۔ جب ہم دعاۃ و مبلغین کی خدمات کا جائزہ لیتے ہیں تو مبلغِ اسلام علامہ شاہ عبدالعلیم صدیقی جیسا ان کے عہد میں اور مابعد دور میں کوئی نہیں دکھائی پڑتا۔ وہ اپنے داعیانہ اوصاف میں انفرادی شان کے حامل اور نمایاں نظر آتے ہیں۔ آپ نے دنیاکے بیشتر ملکوں میں اسلام کا پیغام پہنچایا، پڑھے لکھے افراد بھی قبولِ حق پر مائل ہوئے۔ نو مسلموں کی تعلیم و تربیت کا انتظام و اہتمام کیا۔ مساجد و مدارس، جامعات و تعلیمی مراکز، اسکول و کالجز اور رفاہی و فلاحی ادارے قائم کیے، مختلف زبانوں میں رسائل و جرائد جاری فرمائے۔
بساطِ دعوت و تبلیغ پر اسلوب کی اہمیت مسلّم ہے۔ قرآن مقدس میں رب تعالیٰ کا ارشاد اس پر غماز ہے:
اُدْعُ اِلٰی سَبِیْلِ رَبِّکَ بِالْحِکْمَۃِ وَ الْمَوْعِظَۃِ الْحَسَنَۃِ وَجَادِلْھُمْ بِالَّتِیْ ھِیَ اَحْسَنُ ۲؎
’’اپنے رب کی راہ کی طرف بلاؤ پکی تدبیر اور اچھی نصیحت سے اور ان سے اس طریقہ پر بحث کرو جو سب سے بہترہو-‘‘ (کنزالایمان)
آپ نے اسی اسلوب کا اپنا کر ایسے نقوش قائم کیے کہ جن کے زاویے متاثر کن ہیں۔ اس کی جھلک آپ کے لیکچرز
*’’انسانی مسائل کا حل‘‘* ایک تجزیاتی مطالعہ
غلام مصطفٰی رضوی
نوری مشن مالیگاؤں
خیر کے مقابل شر ہمیشہ سرگرم عمل رہا ہے۔ اسلام کی صداقت و حقانیت نے جب دلوں کی دنیا کو مسخر کر لیا تو وہ مذاہب جن کی بنیاد اوہام پر تھی اور وہ انسانی عقل کی اختراع تھے، تلملا اُٹھے۔ جن آسمانی مذاہب کی شکلیں ان کے ماننے والوں نے بگاڑ کر رکھ دی تھیں انھیں بھی اسلام کی سچائی اور صداقت سے بیر تھا، اور وہ حسد و بغض کے جذبات سے مغلوب۔ اسلام کے مقابل ’’شر‘‘ کا یہ عمل سامنے آیا کہ نئے نئے افکار و نظریات وجود میں آئے۔ تمدنی و تہذیبی، ثقافتی و نظریاتی، سیاسی و اقتصادی ہرطرح کے حملے کیے گئے۔ لیکن یہ فطری بات ہے کہ حق و صداقت کو دوام و استقرار ہے اور باطل کو ہزیمت و زوال۔
فطرت سے انحراف ہی انسانی مسائل کا سبب بنتا ہے۔ اسلام سے عداوت و بغض رکھنے والے افکار و نظریات کی بنیاد چوں کہ انسانوں کے ہاتھوں بنائے ہوئے اُصولوں پر تھی اس لیے ان کی فکر نے انتشار و فساد کی فضا استوار کی اور تخریب و تباہی کا سامان ہوا۔ ادیانِ باطلہ جور و ستم کی راہ پر گامزن تھے۔ انسانی سہاگ لٹ کر رہ گیا تھا، عصمتیں تار تار تھیں، دہشت گردی کا بازار گرم تھا ایسے ماحول میں رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد ہوتی ہے، اور دینِ فطرت کی ضیا پھیلتی ہے، انسانیت کی زلفِ برہم سنورتی ہے، سچائی راہ پاتی ہے، ہدایت و صداقت کا آفتاب طلوع ہوتا ہے۔ امام محمد شرف الدین بوصیری (م۶۹۴ھ) فرماتے ہیں ؎
فَاِنَّہٗ شَمْسُ فَضْلٍ ھُمْ کَوَاکِبُھَا
یُظْھِرْنَ اَنْوَارَھَا لِلنَّاسِ فِي الظُّلَمٖ
*ترجمہ:* کیوں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم آفتابِ فضل و کمال ہیں؛ اور انبیاے کرام ستارے ہیں؛ جو اسی آفتاب کی روشنی انسانوں کو تاریکیوں میں دکھاتے رہے ہیں۔ ۱؎
جس ذات پاک کے فیض سے انبیاے کرام ظلمتوں میں اُجالا پھیلاتے اور انسانیت کو فطرت کی راہ ’’شاہراہِ حق‘‘ دکھا کر عزت و عظمت عطا کرتے رہے؛ وہ ذات کیسی انسانیت نواز اور مرکزِ حق و صداقت ہوگی۔ اس کی عظمتوں کا اندازہ ہم اپنی عقلِ خام سے کیسے لگا سکتے ہیں۔ رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے دینِ فطرت کی طرف بلایا اور جبیں کا وَقار پامال ہونے سے بچا کر انسان کا دامن ستھرا فرمادیا۔
*منفی اندازِ فکر:*
جریدۂ عالم پر اسلام کے اثرات جیسے جیسے بڑھتے گئے؛ ادیانِ باطلہ میں اضطراب بڑھتا گیا اور دینِ فطرت سے متعلق پروپیگنڈا کیا گیا کہ اسلام ایک عسکری دین ہے اور علم و فن سے اس کا کوئی رشتہ و تعلق نہیں، اس کی اشاعت بہ زورِ شمشیر و سناں کی گئی ہے۔ اس فکرِ غلط کے پرچار میں مغرب میں وجود پانے والے طبقۂ مستشرقین کا زیادہ حصہ رہا، گرچہ جنھوں نے سنجیدگی کے ساتھ اسلام کا مطالعہ کیا اور سیرت کا تجزیہ کیا ان میں اکثر نے اعترافِ حق کیا کہ اسلام ایک الہامی دین ہے اور یہ فطرت کے تقاضوں کو پورا کرتا ہے۔ اس کے فیصلے اورضابطے نقص و عیب سے مبرا ہیں۔ بہر کیف اسلام سے جدا راہوں کو کشادہ کرنے کی کوشش کی گئی، اس کے لیے تشدد اور ظلم کا سہارا لیا گیا۔ اسلام چوں کہ امن و محبت اور اخوت کا درس دیتا ہے اس لیے اس کے مقابلے میں برائیوں کو پروان چڑھایا گیا؛ جس سے انسانیت کا وَقار داغ دار ہوا اور یہ منفی اندازِ فکر باعثِ زوال ثابت ہوا۔
*مبلغ اسلام اور اشاعت اسلام:*
مبلغِ اسلام علامہ شاہ عبدالعلیم صدیقی میرٹھی (ولادت: ۱۵؍رمضان المبارک ۱۳۱۰ھ / ۱۳؍اپریل ۱۸۹۲ء- رحلت: ۲۳؍ ذی الحجہ ۱۳۷۲ھ/۲۲؍ اگست ۱۹۵۴ء) اسلام کے سرگرم و مثالی مبلغ اور دانشِ نورانی سے آراستہ کامیاب داعی تھے۔ امام اہلِ سنت اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قادری برکاتی محدث بریلوی (م۱۳۴۰ھ/۱۹۲۱ء) کی صحبتِ با برکت نے داعیانہ فہم و فراست کو مہمیز کیا اور جذبات کو عزم و حوصلہ دیا۔ جب ہم دعاۃ و مبلغین کی خدمات کا جائزہ لیتے ہیں تو مبلغِ اسلام علامہ شاہ عبدالعلیم صدیقی جیسا ان کے عہد میں اور مابعد دور میں کوئی نہیں دکھائی پڑتا۔ وہ اپنے داعیانہ اوصاف میں انفرادی شان کے حامل اور نمایاں نظر آتے ہیں۔ آپ نے دنیاکے بیشتر ملکوں میں اسلام کا پیغام پہنچایا، پڑھے لکھے افراد بھی قبولِ حق پر مائل ہوئے۔ نو مسلموں کی تعلیم و تربیت کا انتظام و اہتمام کیا۔ مساجد و مدارس، جامعات و تعلیمی مراکز، اسکول و کالجز اور رفاہی و فلاحی ادارے قائم کیے، مختلف زبانوں میں رسائل و جرائد جاری فرمائے۔
بساطِ دعوت و تبلیغ پر اسلوب کی اہمیت مسلّم ہے۔ قرآن مقدس میں رب تعالیٰ کا ارشاد اس پر غماز ہے:
اُدْعُ اِلٰی سَبِیْلِ رَبِّکَ بِالْحِکْمَۃِ وَ الْمَوْعِظَۃِ الْحَسَنَۃِ وَجَادِلْھُمْ بِالَّتِیْ ھِیَ اَحْسَنُ ۲؎
’’اپنے رب کی راہ کی طرف بلاؤ پکی تدبیر اور اچھی نصیحت سے اور ان سے اس طریقہ پر بحث کرو جو سب سے بہترہو-‘‘ (کنزالایمان)
آپ نے اسی اسلوب کا اپنا کر ایسے نقوش قائم کیے کہ جن کے زاویے متاثر کن ہیں۔ اس کی جھلک آپ کے لیکچرز