⭕ ﺣﺎﻓﻆِ ﻗﺮﺁﻥ، ﺗﺮﺍﻭﯾﺢ ﺍﻭﺭ ﮨﻢ ﻟﻮﮒ ⭕
🔴 ہر ایک ساتھی اِسے ضرور پڑھیں ‼
♦ ﺗﺮﺍﻭﯾﺢ ﻣﯿﮟ ﺣﺎﻓﻆ ﻗﺮﺁﻥ ﺟﻦ ﺑﺎﺗﻮﮞ ﺳﮯ ﺑﯿﮏ ﻭﻗﺖ ﻧﻤﭧ ﺭﮨﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﻣﺼﻠﮯ ﮐﺎ ﭘﺮﯾﺸﺮ ﮨﮯ
♦ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺑﯿﺲ ﺭﮐﻌﺘﻮﮞ ﮐﺎ ﺧﯿﺎﻝ ﺭﮐﮭﻨﺎ
♦ ﺗﯿﺴﺮﯼ ﺍﭘﻨﮯ ﯾﻮﻣﯿﮧ ﺳﺒﻖ ﮐﮯ ﮐﻮﭨﮯ ﮐﻮ ﺑﯿﺲ ﺭﮐﻌﺘﻮﮞ ﭘﺮ ﺗﻘﺴﯿﻢ ﮐﺮ ﮐﮯ ﭘﻮﺭﺍ ﮐﺮﻧﺎ ﮐﮧ ﮐﮩﯿﮟ ﺍﯾﺴﺎ ﻧﮧ ﮨﻮ ﮐﮧ ﺳﺒﻖ ﺭﮦ ﺟﺎﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﺭﮐﻌﺘﯿﮟ ﭘﻮﺭﯼ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﯾﺎ ﺭﮐﻌﺘﯿﮟ ﺭﮦ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺳﺒﻖ ﭘﻮﺭﺍ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ
♦ ﭼﻮﺗﮭﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﺳﭙﺎﺭﮮ ﮐﺎ ﻏﻢ ﮐﮧ ﻏﻠﻄﯿﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﻣﺘﺸﺎﺑﮩﺎﺕ ﺳﮯ ﺑﭽﺎ ﺟﺎﺋﮯ
♦ ﭘﺎﻧﭽﻮﯾﮟ ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﮐﯽ ﻓﮑﺮ ﮐﮧ ﮐﮩﯿﮟ ﻭﻗﺖ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻧﮧ ﻟﮓ ﺟﺎﺋﮯ
♦ ﭼﮭﭩﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﻠﮯ ﮐﺎ ﻓﮑﺮ ﮐﮧ ﮐﮩﯿﮟ ﺑﯿﭩﮫ ﮨﯽ ﻧﮧ ﺟﺎﺋﮯ
♦ ﺳﺎﺗﻮﯾﮟ ﺩﻥ ﮐﻮ ﺳﻨﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﺗﯿﺎﺭﯼ ﮐﺮﻧﺎ
♦ﺁﭨﮭﻮﯾﮟ ﻗﺮﺁﻥ ﻣﮑﻤﻞ ﮨﻮﻧﮯ ﺗﮏ ﺍﯾﮏ ﺍﻟﮓ ﻏﻢ ﺳﻮﺍﺭ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ
🔗 ﯾﮧ ﻭﮦ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﺻﺮﻑ ﺣﺎﻓﻆ ﺑﮭﮕﺖ ﺭﮨﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﻣﻘﺘﺪﯼ ﺍﻥ ﭘﺮﯾﺸﺎﻧﯿﻮﮞ ﺳﮯ ﻧﺎﺁﺷﻨﺎ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ
ﻟﯿﮑﻦ ﺟﺐ ﺗﺮﺍﻭﯾﺢ ﮐﮯ ﺍﺧﺘﺘﺎﻡ ﭘﺮ ﺑﮍﮮ ﻣﺰﮮ ﺳﮯ ﺁﮐﺮ ﺑﯿﭩﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﮐﻮﺋﯽ ﮐﮩﺘﺎ ﮨﮯ
ﺣﺎﻓﻆ ﺻﺎﺣﺐ ﮐﯿﺎ ﺑﺎﺕ ﮨﮯ ﺁﺝ ﺩﻭ ﺗﯿﻦ
ﻏﻠﻄﯿﺎﮞ ﺁﺋﯿﮟ ﮨﯿﮟ ﺧﯿﺮﯾﺖ ﺗﻮ ﮨﮯ ﻧﺎ ؟
ﮐﻮﺋﯽ ﮐﮩﺘﺎ ﮨﮯ ﺣﺎﻓﻆ ﺻﺎﺣﺐ !
ﺁﺝ ﺑﮩﺖ ﺗﯿﺰ ﭘﮍﮪ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ‼
ﺍﻭﺭ ﺍﮔﺮ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﺩﻥ ﺁﮨﺴﺘﮧ ﭘﮍﮬﺎ ﺟﺎﺋﮯ
ﺗﻮ ﮐُـــﻮﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﺁ ﮐﺮ یہ ﮐـــــﮩـــﺘﺎ ﮨﮯ کـہ
ﺁﺝ ﺗﻮ ﻗﺎﺭﯼ ﻋﺒﺪ ﺍﻟﺒﺎﺳﻂ ﺑﻦ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ؟
ﮐﻮﺋﯽ ﮐﮩﮯ ﮔﺎ ﺁﺝ ﭨﺎﺋِﻢ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻟﮕﺎ ﺩﯾﺎ ﮨﮯ
مُسلمانوں ‼
حافظِ قرآن كى قدر كيجيے ‼
🔴 ہر ایک ساتھی اِسے ضرور پڑھیں ‼
♦ ﺗﺮﺍﻭﯾﺢ ﻣﯿﮟ ﺣﺎﻓﻆ ﻗﺮﺁﻥ ﺟﻦ ﺑﺎﺗﻮﮞ ﺳﮯ ﺑﯿﮏ ﻭﻗﺖ ﻧﻤﭧ ﺭﮨﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﻣﺼﻠﮯ ﮐﺎ ﭘﺮﯾﺸﺮ ﮨﮯ
♦ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺑﯿﺲ ﺭﮐﻌﺘﻮﮞ ﮐﺎ ﺧﯿﺎﻝ ﺭﮐﮭﻨﺎ
♦ ﺗﯿﺴﺮﯼ ﺍﭘﻨﮯ ﯾﻮﻣﯿﮧ ﺳﺒﻖ ﮐﮯ ﮐﻮﭨﮯ ﮐﻮ ﺑﯿﺲ ﺭﮐﻌﺘﻮﮞ ﭘﺮ ﺗﻘﺴﯿﻢ ﮐﺮ ﮐﮯ ﭘﻮﺭﺍ ﮐﺮﻧﺎ ﮐﮧ ﮐﮩﯿﮟ ﺍﯾﺴﺎ ﻧﮧ ﮨﻮ ﮐﮧ ﺳﺒﻖ ﺭﮦ ﺟﺎﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﺭﮐﻌﺘﯿﮟ ﭘﻮﺭﯼ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﯾﺎ ﺭﮐﻌﺘﯿﮟ ﺭﮦ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺳﺒﻖ ﭘﻮﺭﺍ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ
♦ ﭼﻮﺗﮭﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﺳﭙﺎﺭﮮ ﮐﺎ ﻏﻢ ﮐﮧ ﻏﻠﻄﯿﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﻣﺘﺸﺎﺑﮩﺎﺕ ﺳﮯ ﺑﭽﺎ ﺟﺎﺋﮯ
♦ ﭘﺎﻧﭽﻮﯾﮟ ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﮐﯽ ﻓﮑﺮ ﮐﮧ ﮐﮩﯿﮟ ﻭﻗﺖ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻧﮧ ﻟﮓ ﺟﺎﺋﮯ
♦ ﭼﮭﭩﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﻠﮯ ﮐﺎ ﻓﮑﺮ ﮐﮧ ﮐﮩﯿﮟ ﺑﯿﭩﮫ ﮨﯽ ﻧﮧ ﺟﺎﺋﮯ
♦ ﺳﺎﺗﻮﯾﮟ ﺩﻥ ﮐﻮ ﺳﻨﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﺗﯿﺎﺭﯼ ﮐﺮﻧﺎ
♦ﺁﭨﮭﻮﯾﮟ ﻗﺮﺁﻥ ﻣﮑﻤﻞ ﮨﻮﻧﮯ ﺗﮏ ﺍﯾﮏ ﺍﻟﮓ ﻏﻢ ﺳﻮﺍﺭ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ
🔗 ﯾﮧ ﻭﮦ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﺻﺮﻑ ﺣﺎﻓﻆ ﺑﮭﮕﺖ ﺭﮨﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﻣﻘﺘﺪﯼ ﺍﻥ ﭘﺮﯾﺸﺎﻧﯿﻮﮞ ﺳﮯ ﻧﺎﺁﺷﻨﺎ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ
ﻟﯿﮑﻦ ﺟﺐ ﺗﺮﺍﻭﯾﺢ ﮐﮯ ﺍﺧﺘﺘﺎﻡ ﭘﺮ ﺑﮍﮮ ﻣﺰﮮ ﺳﮯ ﺁﮐﺮ ﺑﯿﭩﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﮐﻮﺋﯽ ﮐﮩﺘﺎ ﮨﮯ
ﺣﺎﻓﻆ ﺻﺎﺣﺐ ﮐﯿﺎ ﺑﺎﺕ ﮨﮯ ﺁﺝ ﺩﻭ ﺗﯿﻦ
ﻏﻠﻄﯿﺎﮞ ﺁﺋﯿﮟ ﮨﯿﮟ ﺧﯿﺮﯾﺖ ﺗﻮ ﮨﮯ ﻧﺎ ؟
ﮐﻮﺋﯽ ﮐﮩﺘﺎ ﮨﮯ ﺣﺎﻓﻆ ﺻﺎﺣﺐ !
ﺁﺝ ﺑﮩﺖ ﺗﯿﺰ ﭘﮍﮪ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ‼
ﺍﻭﺭ ﺍﮔﺮ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﺩﻥ ﺁﮨﺴﺘﮧ ﭘﮍﮬﺎ ﺟﺎﺋﮯ
ﺗﻮ ﮐُـــﻮﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﺁ ﮐﺮ یہ ﮐـــــﮩـــﺘﺎ ﮨﮯ کـہ
ﺁﺝ ﺗﻮ ﻗﺎﺭﯼ ﻋﺒﺪ ﺍﻟﺒﺎﺳﻂ ﺑﻦ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ؟
ﮐﻮﺋﯽ ﮐﮩﮯ ﮔﺎ ﺁﺝ ﭨﺎﺋِﻢ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻟﮕﺎ ﺩﯾﺎ ﮨﮯ
مُسلمانوں ‼
حافظِ قرآن كى قدر كيجيے ‼
🕋 اِســلام نِـــے عَــورت پر
سختیاں نہیں باندھی ہیں بلکہ
اس کے درجات بلند کِئے ہیں...‼
https://t.me/FaizaneSahabiyat
سختیاں نہیں باندھی ہیں بلکہ
اس کے درجات بلند کِئے ہیں...‼
https://t.me/FaizaneSahabiyat
🔥 جہنمی عورت 🔥
.
ایک عورت ایک بلی کے معاملہ میں
جہنم 🔥 کے اندر داخل کی گئی.... ‼
https://t.me/FaizaneSahabiyat
.
ایک عورت ایک بلی کے معاملہ میں
جہنم 🔥 کے اندر داخل کی گئی.... ‼
https://t.me/FaizaneSahabiyat
"عورت پوری کی پوری عورت ہَــے ‼
[ یعنی چھپانے کی چیز ہے ] جب کوئی
عورت باہر نکلتی ہے تو شیطان اس کو
جھانک جھانک کر دیکھتا ہے ........ ‼
https://t.me/FaizaneSahabiyat
[ یعنی چھپانے کی چیز ہے ] جب کوئی
عورت باہر نکلتی ہے تو شیطان اس کو
جھانک جھانک کر دیکھتا ہے ........ ‼
https://t.me/FaizaneSahabiyat
*امام جعفر صادق نے جانوروں کے بارے میں ایک حیران کر دینے والی بات بتائی* آپ نے فرمایا "پرندے،کیڑے اور جانور بھی یقینی طور پر طبعی موت مرتے ہیں لیکن ان طبعی موت مرنے والے پرندوں کے مردہ جسم کسی کو نظر نہیں آتے آخر یہ لاشیں کہاں چلی جاتی ہیں ؟
مثلا ہمارے علاقوں میں بےشمار پرندے ،بلیاں ، چوہے اور دوسرے جانور پائے جاتے ہیں یہ جانور بھی اپنی طبعی موت مرتے ہیں.روزانہ ہزاروں پرندے اور دوسرے جانور مرتے ہوں گے *لیکن انکے مردہ جسم ہمیں کہیں نظر نہیں آتے* ..البتہ ان مردہ جانوروں کی لاشیں ہمیں نظر آتی ہیں جو قید میں مر جائیں یا انہیں زہر دے دیا ہو یا شکاری نے یا کسی دوسرے پرندے نے اسے گھائل کیا ہو..آہستہ آہستہ دم نکلتے ہوئے اپنے کسی جانور کو نہیں دیکھا ہوگا یہاں تک کہ کسی چیونٹی کو بھی نہیں..
امام جعفر صادق نے فرمایا " *یہ مردہ اجسام تمھیں اس لئے نظر نہیں آتے کہ چوپایوں،پرندوں اور دوسرے جانوروں کو اپنی موت کا علم اللہ کی طرف سے پہلے ہی ہو جاتا ہے وہ اس مقرر وقت سے پہلے پہلے پہاڑوں کی غاروں ، کھووں ، درختوں کے کھوکھلے تنوں ، زمین کے سوراخوں یا گہرے گڑھوں میں جا کر بیٹھ جاتے ہیں اور وہیں مر جاتے ہیں*
یہ اللہ کا نظام ہے جس کی وجہ سے آج انسان سکون سے سانس لے رہا ہے ورنہ اگر باقی جانوروں ،کیڑوں کو چھوڑ کر صرف پرندوں کو لیا جائے تو ایک اندازے کے مطابق *دنیا میں پرندوں کی تعداد 700 ارب ہے اگر* یہ پرندے سرے عام طبعی موت مرتے تو زمین پر قدم رکھنے تک کی جگہ نہ ملتی ہر طرف انکے مردہ جسم ہوتے جو گندگی اور بےشمار بیماریوں کا سبب بنتے.. *"اور تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاو گے* " ..
مثلا ہمارے علاقوں میں بےشمار پرندے ،بلیاں ، چوہے اور دوسرے جانور پائے جاتے ہیں یہ جانور بھی اپنی طبعی موت مرتے ہیں.روزانہ ہزاروں پرندے اور دوسرے جانور مرتے ہوں گے *لیکن انکے مردہ جسم ہمیں کہیں نظر نہیں آتے* ..البتہ ان مردہ جانوروں کی لاشیں ہمیں نظر آتی ہیں جو قید میں مر جائیں یا انہیں زہر دے دیا ہو یا شکاری نے یا کسی دوسرے پرندے نے اسے گھائل کیا ہو..آہستہ آہستہ دم نکلتے ہوئے اپنے کسی جانور کو نہیں دیکھا ہوگا یہاں تک کہ کسی چیونٹی کو بھی نہیں..
امام جعفر صادق نے فرمایا " *یہ مردہ اجسام تمھیں اس لئے نظر نہیں آتے کہ چوپایوں،پرندوں اور دوسرے جانوروں کو اپنی موت کا علم اللہ کی طرف سے پہلے ہی ہو جاتا ہے وہ اس مقرر وقت سے پہلے پہلے پہاڑوں کی غاروں ، کھووں ، درختوں کے کھوکھلے تنوں ، زمین کے سوراخوں یا گہرے گڑھوں میں جا کر بیٹھ جاتے ہیں اور وہیں مر جاتے ہیں*
یہ اللہ کا نظام ہے جس کی وجہ سے آج انسان سکون سے سانس لے رہا ہے ورنہ اگر باقی جانوروں ،کیڑوں کو چھوڑ کر صرف پرندوں کو لیا جائے تو ایک اندازے کے مطابق *دنیا میں پرندوں کی تعداد 700 ارب ہے اگر* یہ پرندے سرے عام طبعی موت مرتے تو زمین پر قدم رکھنے تک کی جگہ نہ ملتی ہر طرف انکے مردہ جسم ہوتے جو گندگی اور بےشمار بیماریوں کا سبب بنتے.. *"اور تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاو گے* " ..
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
مسلمانوں رمضان المبارک کا احترام کرُو
رَمـضَـانُ الـمُــبـَارک کا اِحـترام کـرنے کی
بَرکـت سـے ایک مَـجُـوسِی کو مَرنے سے
پـہـلـے اِیمَـان اور مـرنـے کـے بـعـد جـنت
نصیب ہو گیا ‼ — سُبحانَ الله ‼
رَمـضَـانُ الـمُــبـَارک کا اِحـترام کـرنے کی
بَرکـت سـے ایک مَـجُـوسِی کو مَرنے سے
پـہـلـے اِیمَـان اور مـرنـے کـے بـعـد جـنت
نصیب ہو گیا ‼ — سُبحانَ الله ‼
*🌹روزہ رکھکر گل کر سکتے ہیں یا نہیں؟ ــ🌹*
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسلہ ذیل میں کہ روزہ رکھکر گل کر سکتے ہیں یا نہیں؟ ــ
*🌹سائل🌹محمد صادر حسین*
*✍الجواب اللھم ھدایۃ الحق والصواب" صورت مستفسرہ میں کلام یہ ھیکہ روزہ کی حالت میں گل منجن کے استعمال کی چند صورتیں ہیں ان لحاظ سے اس کے احکام کی تفصیل مندرجہ ذیل ہیں ــ*
*1⃣ زید اگر اس طرح گل کرتا ہے کہ دانتوں تلے دبا کر رکھے رہے تو اس کے ذرات لعاب کے ساتھ حلق کے نیچے اتر جائیں گے جیسے تمباکو کھانے میں ہوتا ہے اس صورت میں اس کا روزہ ٹوٹ جائیگا اور قضا و کفارہ دونوں لازم ہوگا ــ*
*2⃣اگر اس کے استعمال کی صورت یہ ہے کہ گل دانتوں پر لگا کر دس پانچ منٹ چھوڑ دیتا ہے بعد میں کلی کر لیتا ہے تو اس دس پانچ منٹ کے وقفہ میں ظن غالب یہی ہے کہ گل کے اجزا لعاب کے ساتھ حلق کے نیچے اتر جائیں گے اور روزہ ٹوٹ جائیگا اس صورت میں زید پر صرف اس روزہ کی قضا واجب ہوگی ــ*
*3⃣اگر اس کا طریقۂ استعمال یہ ہے کہ پہلے دانتوں پر گل مل لیتا ہے پھر فوراً کلی کر لیتا ہے تو روزے کی حالت میں اس طریقۂ استعمال کی بھی سخت ممانعت ہے کیونکہ اس صورت میں ایسا بھی ہوتا ہے کہ اجزا حلق تک پینچ جاتے ہیں اور زیر حلق اترنے اور روزہ ٹوٹنے کا احتمال ہوتا ہے ــ*
*( فیصلہ فقہی سیمنار بورڈ دہلی )*
*🏷مگر جب زید کو گل استعمال کئے بغیر پاخانہ نہیں ہوتا تو اس عذر کی وجہ سے اس کے لئے حکم میں اس قدر تخفیف ہوگی کہ وہ گل پہلے ہتھیلی وغیرہ پر نکال کر پانی سے بھگو دے پھر اسے احتیاط کے ساتھ دانتوں پر ملے اور جلد ہی کلی کر کے اچھی طرح اپنا منہ صاف کر لے ــ*
*( فتاوٰی مرکز تربیت افتاء جلد اول صفحہ 470 )*
*🌹؛والله تعالی اعـلم ؛🌹*
ـــــــــــــــــــــــــــ
*✍ازقلم؛ العبدالاثیم خاکسار*
*ابوالصدف محمد صادق رضا*
*مقام؛ سنگھیا ٹھاٹھول (پورنیه)*
*خادم شاہی جامع مسجد پٹنه بہار*
*امام اعظم گروپ ایڈ کیلئے👇*
*+91 7634 812 623*
ــــــــــــــــــــــــــ
*🖥المـرتـب؛اسـیرِ تـاج الـشـریعـه*
*محمد ریاض الدین رضوی ممبئ*
ـــــــــــــــــــــــــ
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسلہ ذیل میں کہ روزہ رکھکر گل کر سکتے ہیں یا نہیں؟ ــ
*🌹سائل🌹محمد صادر حسین*
*✍الجواب اللھم ھدایۃ الحق والصواب" صورت مستفسرہ میں کلام یہ ھیکہ روزہ کی حالت میں گل منجن کے استعمال کی چند صورتیں ہیں ان لحاظ سے اس کے احکام کی تفصیل مندرجہ ذیل ہیں ــ*
*1⃣ زید اگر اس طرح گل کرتا ہے کہ دانتوں تلے دبا کر رکھے رہے تو اس کے ذرات لعاب کے ساتھ حلق کے نیچے اتر جائیں گے جیسے تمباکو کھانے میں ہوتا ہے اس صورت میں اس کا روزہ ٹوٹ جائیگا اور قضا و کفارہ دونوں لازم ہوگا ــ*
*2⃣اگر اس کے استعمال کی صورت یہ ہے کہ گل دانتوں پر لگا کر دس پانچ منٹ چھوڑ دیتا ہے بعد میں کلی کر لیتا ہے تو اس دس پانچ منٹ کے وقفہ میں ظن غالب یہی ہے کہ گل کے اجزا لعاب کے ساتھ حلق کے نیچے اتر جائیں گے اور روزہ ٹوٹ جائیگا اس صورت میں زید پر صرف اس روزہ کی قضا واجب ہوگی ــ*
*3⃣اگر اس کا طریقۂ استعمال یہ ہے کہ پہلے دانتوں پر گل مل لیتا ہے پھر فوراً کلی کر لیتا ہے تو روزے کی حالت میں اس طریقۂ استعمال کی بھی سخت ممانعت ہے کیونکہ اس صورت میں ایسا بھی ہوتا ہے کہ اجزا حلق تک پینچ جاتے ہیں اور زیر حلق اترنے اور روزہ ٹوٹنے کا احتمال ہوتا ہے ــ*
*( فیصلہ فقہی سیمنار بورڈ دہلی )*
*🏷مگر جب زید کو گل استعمال کئے بغیر پاخانہ نہیں ہوتا تو اس عذر کی وجہ سے اس کے لئے حکم میں اس قدر تخفیف ہوگی کہ وہ گل پہلے ہتھیلی وغیرہ پر نکال کر پانی سے بھگو دے پھر اسے احتیاط کے ساتھ دانتوں پر ملے اور جلد ہی کلی کر کے اچھی طرح اپنا منہ صاف کر لے ــ*
*( فتاوٰی مرکز تربیت افتاء جلد اول صفحہ 470 )*
*🌹؛والله تعالی اعـلم ؛🌹*
ـــــــــــــــــــــــــــ
*✍ازقلم؛ العبدالاثیم خاکسار*
*ابوالصدف محمد صادق رضا*
*مقام؛ سنگھیا ٹھاٹھول (پورنیه)*
*خادم شاہی جامع مسجد پٹنه بہار*
*امام اعظم گروپ ایڈ کیلئے👇*
*+91 7634 812 623*
ــــــــــــــــــــــــــ
*🖥المـرتـب؛اسـیرِ تـاج الـشـریعـه*
*محمد ریاض الدین رضوی ممبئ*
ـــــــــــــــــــــــــ
※★※
╭━═══┅━┅━━━━━━┅━┅═══━╮
*DAURE HALAT KA MUHASARA*
*+91-7405457791* ╰━═══┅━┅━━━━━━┅━┅═══━╯
❥▍1⃣0⃣5⃣
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*BACHCHON KI TARBIYAT KI TIPS*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*1. बच्चों को ज़्यादा वक़्त तनहा मत रहने दें.*
आजकल बच्चों को अलग कमरा, कम्पयूटर और मोबाईल दे कर हम उनसे ग़ाफ़िल हो जाते हैं, यह बिल्कुल ग़लत है. बच्चों पर नज़र रखें और ख़ास तौर पर उन्हें अपने कमरे का दरवाज़ा बंद कर के बैठने मत दें.
*2. बच्चों के दोस्तों और बच्चियों की सहेलियों पे ख़ास नज़र रखें.* ताकि आपके इल्म में हो कि आपका बच्चा या बच्ची का मेलजोल किस क़िस्म के लोगों से है.
*3. बच्चों बच्चियों के दोस्तों और सहेलियों को भी उनके साथ कमरा बंद कर के मत बैठने दें.*
अगर आपका बच्चा कमरे में ही बैठने की ज़िद करे तो किसी न किसी बहाने चेक करते रहें.
*4. बच्चों को busy रखें.*
free ज़हन शैतान का घर होता है. बचपन से ही वह उमर के उस दौर में होते हैं, जब उनका ज़हन अच्छे और बुरे हर चीज़ के असर को फ़ौरन क़बूल करता है. इसलिये *उनकी दिलचस्पी देखते हुए उन्हें किसी सेहतमंद मशग़ले (healthy hobbies) में मसरूफ़ रखें.*
*5. ऐसे खेल, जिन में physical exercise ज़्यादा हो, वह बच्चों के लिये बेहतरीन होते है.* ताकि बच्चा खेलकूद में ख़ूब थके और अच्छी गहरी नींद सोए.
*6. बच्चों के दोस्तों और मसरूफ़ियात पर नज़र रखें.*
याद रखें, *वालदैन बनना full time job है.* अल्लाह ने आपको औलाद की नेअमत से नवाज़ कर एक भारी ज़िम्मेदारी सौंपी है.
*7. अच्छी तालीम देने के साथ साथ अच्छी तरबियत भी करना.*
बच्चों को रिज़्क़ की कमी के ख़ौफ़ से पैदाइश से पहले ही ख़त्म कर देना ही क़त्ल के ज़ुमरे में नहीं आता, बल्कि औलाद की नाक़िस तरबियत कर के उनको *जहन्नम का ईंधन बनने के लिये बे-लगाम छोड़ देना* भी उनके क़त्ल के बराबर है.
*8. अपने बच्चों को नमाज़ की ताकीद करें और हर वक़्त पाकीज़ा और साफ़ सुथरा रहने की आदत डालें.*
*9. बच्चियों को सीधा और लड़कों को उल्टा लेटने से मना करें. बच्चों को दायें करवट से लेटने का आदी बनाएँ.*
*10. बलूग़त (puberty) के नज़दीक बच्चे जब वॉशरूम में मामूल से ज़्यादा देर लगाएँ तो खटक जाएँ और उन्हें नरमी से समझाएँ.* लड़कों को उनके वालिद, जबकि लड़कियों को उनकी वालिदा समझाएँ.
*11. बच्चों को किसी भी रिश्तेदार के साथ हरगिज़ मत सोने दें और अजनबियों से घुलने-मिलने से मना करें* और अगर वह किसी रिश्तेदार से बिदकता है या ज़रूरत से ज़्यादा क़रीब है तो ग़ैर महसूस तौर पर प्यार से वजह मालूम करें.
बच्चों को आदी करें कि *किसी के पास तनहाई में न जाएँ, चाहे रिश्तेदार हो या अजनबी* और न ही किसी को अपने private parts को छूने दें.
*14. बच्चों को 5-6 साल की उमर से बिस्तर और मुमकिन हो तो कमरा भी अलग कर दें.* ताकि उनकी मासूमियत देर तक क़ाएम रह सके.
*15. बच्चों के कमरे और चीज़ों को ग़ैर महसूस तौर पर चेक करते रहें.*
आपके इल्म में होना चाहिये कि आपके बच्चों की अलमारी किस क़िस्म की चीज़ों से भरी है. क्योंकि *teenagers बच्चों की निगरानी भी वालदैन की ज़िम्मेदारी है.*
हमें अपने बच्चों को मुशफ़िक़ाना अमल से अपनी ख़ैरख़्वाही की एहसास दिलाना चाहिये और बलूग़त के अरसे में उनमें ज़ाहिर होने वाली जिस्मानी तब्दीलियों के मुतअल्लिक़ रहनुमाई करते रहना चाहिये. ताकि वह घर के बाहर से हासिल होने वाली ग़लत क़िस्म की मालूमात पे अमल कर के अपनी ज़िंदगी ख़राब न कर लें.
*16. बच्चों को बिस्तर पर तब जाने दें जब ख़ूब नींद आ रही हो और जब वह उठ जाएँ तो बिस्तर पर देर तक लेटे मत रहने दें.*
*17. वालदैन बच्चों के सामने एक दूसरे से जिस्मानी बेतकल्लुफ़ी से परहेज़ करें.*
वरना बच्चे वक़्त से पहले उन बातों के मुतअल्लिक़ बाशऊर हो जाएंगे, जिनसे एक मुनासिब उमर में जा कर ही फ़हम हासिल होना चाहिये.
*18. बच्चे 13-14 साल के हों तो लड़कों को उनके वालिद और लड़कियों को उनकी वालिदा 'सूरह यूसुफ़' और 'सूरह नूर' की तफ़सीर समझाएँ* या किसी आलिम, आलिमा से पढ़वाएँ. कि किस तरह हज़रत यूसुफ़ अलैहिस्सलाम ने बेहद ख़ूबसूरत और नौजवान होते हुए एक बेमिसाल हुस्न की मलिका औरत के बहकाने पर भटके नहीं. बदले में अल्लाह के नेक बंदों में शुमार हुए.
*19. वालदैन बच्चों की ग़लतियों पे डाँटते हुए भी बाहया और मुहज़्ज़ब अलफ़ाज का इस्तेमाल करें.* वरना बच्चों में वक़्त से पहले बेबाकी आ जाती है. जिसका ख़ामियाज़ा वालदैन को भी भुगतना पड़ता है.
*इस तरह बच्चे बच्चियाँ इंशा अल्लाह अपनी पाकदामनी को मामूली चीज़ नहीं समझेंगे और अपनी इज़्ज़त व पाकदामनी की ख़ूब हिफ़ाज़त करेंगे.*
*POST AS RECIEVED* ╒═━┅━┅┅━┅┅━┅┅━┅━┅━┅━┅═╕
📿 *ʀєαd,ғσʟʟσɯ αɳd ғσʀɯαʀd* 📿 ╘═━┅━┅━┅━┅┅━┅┅━┅┅━┅━┅═╛
╭━═══┅━┅━━━━━━┅━┅═══━╮
*DAURE HALAT KA MUHASARA*
*+91-7405457791* ╰━═══┅━┅━━━━━━┅━┅═══━╯
❥▍1⃣0⃣5⃣
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*BACHCHON KI TARBIYAT KI TIPS*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*1. बच्चों को ज़्यादा वक़्त तनहा मत रहने दें.*
आजकल बच्चों को अलग कमरा, कम्पयूटर और मोबाईल दे कर हम उनसे ग़ाफ़िल हो जाते हैं, यह बिल्कुल ग़लत है. बच्चों पर नज़र रखें और ख़ास तौर पर उन्हें अपने कमरे का दरवाज़ा बंद कर के बैठने मत दें.
*2. बच्चों के दोस्तों और बच्चियों की सहेलियों पे ख़ास नज़र रखें.* ताकि आपके इल्म में हो कि आपका बच्चा या बच्ची का मेलजोल किस क़िस्म के लोगों से है.
*3. बच्चों बच्चियों के दोस्तों और सहेलियों को भी उनके साथ कमरा बंद कर के मत बैठने दें.*
अगर आपका बच्चा कमरे में ही बैठने की ज़िद करे तो किसी न किसी बहाने चेक करते रहें.
*4. बच्चों को busy रखें.*
free ज़हन शैतान का घर होता है. बचपन से ही वह उमर के उस दौर में होते हैं, जब उनका ज़हन अच्छे और बुरे हर चीज़ के असर को फ़ौरन क़बूल करता है. इसलिये *उनकी दिलचस्पी देखते हुए उन्हें किसी सेहतमंद मशग़ले (healthy hobbies) में मसरूफ़ रखें.*
*5. ऐसे खेल, जिन में physical exercise ज़्यादा हो, वह बच्चों के लिये बेहतरीन होते है.* ताकि बच्चा खेलकूद में ख़ूब थके और अच्छी गहरी नींद सोए.
*6. बच्चों के दोस्तों और मसरूफ़ियात पर नज़र रखें.*
याद रखें, *वालदैन बनना full time job है.* अल्लाह ने आपको औलाद की नेअमत से नवाज़ कर एक भारी ज़िम्मेदारी सौंपी है.
*7. अच्छी तालीम देने के साथ साथ अच्छी तरबियत भी करना.*
बच्चों को रिज़्क़ की कमी के ख़ौफ़ से पैदाइश से पहले ही ख़त्म कर देना ही क़त्ल के ज़ुमरे में नहीं आता, बल्कि औलाद की नाक़िस तरबियत कर के उनको *जहन्नम का ईंधन बनने के लिये बे-लगाम छोड़ देना* भी उनके क़त्ल के बराबर है.
*8. अपने बच्चों को नमाज़ की ताकीद करें और हर वक़्त पाकीज़ा और साफ़ सुथरा रहने की आदत डालें.*
*9. बच्चियों को सीधा और लड़कों को उल्टा लेटने से मना करें. बच्चों को दायें करवट से लेटने का आदी बनाएँ.*
*10. बलूग़त (puberty) के नज़दीक बच्चे जब वॉशरूम में मामूल से ज़्यादा देर लगाएँ तो खटक जाएँ और उन्हें नरमी से समझाएँ.* लड़कों को उनके वालिद, जबकि लड़कियों को उनकी वालिदा समझाएँ.
*11. बच्चों को किसी भी रिश्तेदार के साथ हरगिज़ मत सोने दें और अजनबियों से घुलने-मिलने से मना करें* और अगर वह किसी रिश्तेदार से बिदकता है या ज़रूरत से ज़्यादा क़रीब है तो ग़ैर महसूस तौर पर प्यार से वजह मालूम करें.
बच्चों को आदी करें कि *किसी के पास तनहाई में न जाएँ, चाहे रिश्तेदार हो या अजनबी* और न ही किसी को अपने private parts को छूने दें.
*14. बच्चों को 5-6 साल की उमर से बिस्तर और मुमकिन हो तो कमरा भी अलग कर दें.* ताकि उनकी मासूमियत देर तक क़ाएम रह सके.
*15. बच्चों के कमरे और चीज़ों को ग़ैर महसूस तौर पर चेक करते रहें.*
आपके इल्म में होना चाहिये कि आपके बच्चों की अलमारी किस क़िस्म की चीज़ों से भरी है. क्योंकि *teenagers बच्चों की निगरानी भी वालदैन की ज़िम्मेदारी है.*
हमें अपने बच्चों को मुशफ़िक़ाना अमल से अपनी ख़ैरख़्वाही की एहसास दिलाना चाहिये और बलूग़त के अरसे में उनमें ज़ाहिर होने वाली जिस्मानी तब्दीलियों के मुतअल्लिक़ रहनुमाई करते रहना चाहिये. ताकि वह घर के बाहर से हासिल होने वाली ग़लत क़िस्म की मालूमात पे अमल कर के अपनी ज़िंदगी ख़राब न कर लें.
*16. बच्चों को बिस्तर पर तब जाने दें जब ख़ूब नींद आ रही हो और जब वह उठ जाएँ तो बिस्तर पर देर तक लेटे मत रहने दें.*
*17. वालदैन बच्चों के सामने एक दूसरे से जिस्मानी बेतकल्लुफ़ी से परहेज़ करें.*
वरना बच्चे वक़्त से पहले उन बातों के मुतअल्लिक़ बाशऊर हो जाएंगे, जिनसे एक मुनासिब उमर में जा कर ही फ़हम हासिल होना चाहिये.
*18. बच्चे 13-14 साल के हों तो लड़कों को उनके वालिद और लड़कियों को उनकी वालिदा 'सूरह यूसुफ़' और 'सूरह नूर' की तफ़सीर समझाएँ* या किसी आलिम, आलिमा से पढ़वाएँ. कि किस तरह हज़रत यूसुफ़ अलैहिस्सलाम ने बेहद ख़ूबसूरत और नौजवान होते हुए एक बेमिसाल हुस्न की मलिका औरत के बहकाने पर भटके नहीं. बदले में अल्लाह के नेक बंदों में शुमार हुए.
*19. वालदैन बच्चों की ग़लतियों पे डाँटते हुए भी बाहया और मुहज़्ज़ब अलफ़ाज का इस्तेमाल करें.* वरना बच्चों में वक़्त से पहले बेबाकी आ जाती है. जिसका ख़ामियाज़ा वालदैन को भी भुगतना पड़ता है.
*इस तरह बच्चे बच्चियाँ इंशा अल्लाह अपनी पाकदामनी को मामूली चीज़ नहीं समझेंगे और अपनी इज़्ज़त व पाकदामनी की ख़ूब हिफ़ाज़त करेंगे.*
*POST AS RECIEVED* ╒═━┅━┅┅━┅┅━┅┅━┅━┅━┅━┅═╕
📿 *ʀєαd,ғσʟʟσɯ αɳd ғσʀɯαʀd* 📿 ╘═━┅━┅━┅━┅┅━┅┅━┅┅━┅━┅═╛
سوال:
رمضان المبارک کے ایام میں روزے کی حالت میں کوئی شخص گل منجن کر سکتا ہے یا نہیں؟ اور اگر گل کر لیا تو روزے میں کیا خرابی لازم آئےگی؟
الجواب:
فتاویٰ رضویہ جلد چہارم (ص۵۸۷) میں تمباکو کو جسے کھینی کہا جاتا ہے منھ میں رکھنے کو روزہ توڑنے والا بتایا ہے، گل بھی اسی قسم کی ہے، کھینی کی طرح اس کا بھی لوگ استعمال کرتے ہیں اس لئے اس کا استعمال بھی مفسد صوم ہے -
واللہ تعالیٰ اعلم
✍ عبد المنان اعظمی
فتاویٰ بحر العلوم ج² ص²⁷⁶
رمضان المبارک کے ایام میں روزے کی حالت میں کوئی شخص گل منجن کر سکتا ہے یا نہیں؟ اور اگر گل کر لیا تو روزے میں کیا خرابی لازم آئےگی؟
الجواب:
فتاویٰ رضویہ جلد چہارم (ص۵۸۷) میں تمباکو کو جسے کھینی کہا جاتا ہے منھ میں رکھنے کو روزہ توڑنے والا بتایا ہے، گل بھی اسی قسم کی ہے، کھینی کی طرح اس کا بھی لوگ استعمال کرتے ہیں اس لئے اس کا استعمال بھی مفسد صوم ہے -
واللہ تعالیٰ اعلم
✍ عبد المنان اعظمی
فتاویٰ بحر العلوم ج² ص²⁷⁶
ماہ رمضان کی فضیلت و اہمیت
رضوی نیٹ ورک انٹر نیشنل ویب سائٹ : کی پیشکش
https://www.youtube.com/channel/UC8E7WlzlZI7uKKW_N-VGYLQ?view_as=subscriber
اسلامی سال کا نواں مہینہ رمضان المبارک ہے۔ اس ماہ مبارک کی برکتوں کے تو کیا کہنے۔ جیسے ہی ماہ رمضان کا ہلال نظر آتا ہے۔ہر طرف نور ہی نور، ہوا، فضا اور موسم میں ایک عجیب سا کیف و سرور نظر آتا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ سب کچھ بدل گیا ہے۔ آسمانوں سے رحمتوں کی بارش، زمین والوں پر ہر لمحہ نوازش، زمین پر معصوم ملائکہ کا نزول، عاصیوں کے لئے مغفرت کے پروانے تقسیم، نیکو کاروں کے لئے درجات میں بلندی کی بشارتیں، سحری کے ایمان افروز لمحات، افطار کی بابرکت گھڑیاں، دعائوں کی قبولیت کی ساعتیں، تراویح کی حلاوتیں، تہجد کی نماز کی چاشنی، تلاوت قرآن سے فضائوں کا گونجنا، نعت مصطفیﷺ سے مسلمانوں کا جھومنا، حالت روزہ میں دلوں کا جگمگانا، روزہ داروں کے پررونق چہرے، مساجد میں مسلمانوں کا جم غفیر، صدقات و خیرات و زکوٰۃ کا تقسیم ہونا، کوئی اشارہ مل رہا ہے، دل گواہی دے رہا ہے، خشوع و خضوع بڑھتا چلا جارہا ہے۔ عبادت کا ذوق و شوق بڑھتا چلا جارہا ہے۔ یقینا یقینا کریم مہینہ جلوہ افروز ہوچکا ہے۔ کریم پروردگار جل جلالہ کے در سے، کریم رسول ﷺ کے صدقے میں، رمضان کریم تشریف لایا ہے۔
اس کی لذت اہل عشق ہی محسوس کرسکتے ہیں۔ ہم جیسے ناتواں، کمزور، گنہگار، بدکار، سیاہ کار، عصیاں شعار، ہر طرح سے بے کار اور بے قدرے لوگ اس کی قدورمنزلت کیا جانیں؟ اہل دل ہی اس ماہ کا مقام و مرتبہ جان سکتے ہیں۔
اس ماہ کی سب سے بڑی فضیلت یہ ہے کہ اس ماہ میں قرآن مجید کا نزول ہوا، سورۂ بقرہ کے 23 ویں رکوع کی آیت 185 میں ارشاد ہوتا ہے۔
القرآن: شہر رمضان الذی انزل فیہ القرآن، ہدی للناس وبینٰت من الہدی والفرقان
ترجمہ: رمضان کا مہینہ، جس میں قرآن اترا، لوگوں کے لئے ہدایت اور رہنمائی اور فیصلہ کی روشن باتیں (سورۂ بقرہ،آیت 185، پارہ 2)
جب کلام الٰہی سب کلاموں کا سردار ہے تو جس ماہ مقدس میں اس کا نزول ہوا، وہ مہینہ دیگر مہینوں کا سردار کیونکر نہ ہو؟ قرآن مجید کے علاوہ اﷲ تعالیٰ کی اور کتابیں بھی اسی ماہ رمضان میں نازل ہوئی ہیں۔ چنانچہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے صحیفے یکم یا تین رمضان کو نازل ہوئے، حضرت موسیٰ علیہ السلام پر توریت چھ رمضان المبارک کو، حضرت عیسٰی علیہ السلام پر انجیل بارہ یا چودہ رمضان المبارک کو، حضرت دائود علیہ السلام پر زبور بارہ یا اٹھارہ رمضان المبارک کو نازل ہوئی اور قرآن مجید لیلۃ القدر (ستائیسویں شب) میں نازل ہوا۔ لہذا اس مہینے کو قرآن مجید سے خاص مناسبت ہے۔ اسی لئے حضور اکرم نور مجسمﷺ اس مہینے میں جبریل علیہ السلام کے ساتھ قرآن مجید کا دور فرماتے تھے اور آپ اس مہینے میں چھوٹی ہوئی تیز ہوائوں سے بھی زیادہ سخاوت فرماتے تھے۔
ماہ رمضان المبارک کے فضائل و برکات
حدیث شریف: حضرت ابو سعید خدری رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ حضورﷺ نے فرمایا جب ماہ رمضان کی پہلی رات آتی ہے تو آسمانوں اور جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور آخر رات تک بند نہیں ہوتے جو کوئی بندہ اس ماہ مبارک کی کسی بھی رات میں نماز پڑھتا ہے، تو اﷲ تعالیٰ اس کے ہر سجدہ کے عوض(یعنی بدلہ میں) اس کے لئے پندرہ سو نیکیاں لکھتا ہے اور اس کے لئے جنت میں سرخ یاقوت کا گھر بناتا ہے جس میں ساٹھ ہزار دروازے ہوں گے اور ہر دروازے کے پٹ سونے کے بنے ہوں گے جن میں یاقوت سرخ جڑے ہوں گے۔ پس جو کوئی ماہ رمضان کا پہلا روزہ رکھتا ہے تو اﷲ تعالیٰ مہینے کے آخر دن اس کے گناہ معاف فرما دیتا ہے اور اس کے لئے صبح سے شام تک ستر ہزار فرشتے دعائے مغفرت کرتے رہتے ہیں۔ رات اور دن میں جب بھی وہ سجدہ کرتا ہے اس ہر سجدہ کے عوض (یعنی بدلے) اسے (جنت میں) ایک ایسا درخت عطا کیا جاتا ہے کہ اس کے سائے میں گھوڑے سوار پانچ سو برس تک چلتا رہے (شعب الایمان جلد 3 صفحہ نمبر 314)
حدیث شریف: حضرت عبداﷲ ابن عباس رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ حضورﷺ کا فرمان ہے کہ اﷲ تعالیٰ ماہ رمضان میں روزانہ افطار کے وقت دس لاکھ ایسے گنہ گاروں کو جہنم سے آزاد فرماتا ہے جن پر گناہوں کی وجہ سے جہنم واجب ہوچکا تھا، نیز شب جمعہ اور روز جمعہ (یعنی جمعرات کو غروب آفتاب سے لے کر جمعہ کو غروب آفتاب تک) کی ہر ہر گھڑی میں ایسے دس دس لاکھ گنہ گاروں کو جہنم سے آزاد کیا جاتا ہے جو عذاب کے حقدار قرار دیئے جاچکے ہوتے ہیں ۔
(کنزالعمال جلد 8 صفحہ نمبر 223)
حدیث شریف: حضرت ضمرہ رضی اﷲ عنہ سے مروی ہے کہ سید عالمﷺ کا فرمان ہے کہ ماہ رمضان میں گھر والوں کے خرچ میں کشادگی کرو کیونکہ ماہ رمضان میں خرچ کرنا اﷲ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے کی طرح ہیں (کنزالعمال جلد 8، صفحہ نمبر 216)
حدیث شریف: حضرت جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ حضورﷺ کا فرمان ہے کہ میری امت کو ماہ رمضان میں پانچ چیزیں ایسی عطا کی گئیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی علیہ السلام کو نہ ملیں۔
1۔ پہلی یہ کہ
رضوی نیٹ ورک انٹر نیشنل ویب سائٹ : کی پیشکش
https://www.youtube.com/channel/UC8E7WlzlZI7uKKW_N-VGYLQ?view_as=subscriber
اسلامی سال کا نواں مہینہ رمضان المبارک ہے۔ اس ماہ مبارک کی برکتوں کے تو کیا کہنے۔ جیسے ہی ماہ رمضان کا ہلال نظر آتا ہے۔ہر طرف نور ہی نور، ہوا، فضا اور موسم میں ایک عجیب سا کیف و سرور نظر آتا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ سب کچھ بدل گیا ہے۔ آسمانوں سے رحمتوں کی بارش، زمین والوں پر ہر لمحہ نوازش، زمین پر معصوم ملائکہ کا نزول، عاصیوں کے لئے مغفرت کے پروانے تقسیم، نیکو کاروں کے لئے درجات میں بلندی کی بشارتیں، سحری کے ایمان افروز لمحات، افطار کی بابرکت گھڑیاں، دعائوں کی قبولیت کی ساعتیں، تراویح کی حلاوتیں، تہجد کی نماز کی چاشنی، تلاوت قرآن سے فضائوں کا گونجنا، نعت مصطفیﷺ سے مسلمانوں کا جھومنا، حالت روزہ میں دلوں کا جگمگانا، روزہ داروں کے پررونق چہرے، مساجد میں مسلمانوں کا جم غفیر، صدقات و خیرات و زکوٰۃ کا تقسیم ہونا، کوئی اشارہ مل رہا ہے، دل گواہی دے رہا ہے، خشوع و خضوع بڑھتا چلا جارہا ہے۔ عبادت کا ذوق و شوق بڑھتا چلا جارہا ہے۔ یقینا یقینا کریم مہینہ جلوہ افروز ہوچکا ہے۔ کریم پروردگار جل جلالہ کے در سے، کریم رسول ﷺ کے صدقے میں، رمضان کریم تشریف لایا ہے۔
اس کی لذت اہل عشق ہی محسوس کرسکتے ہیں۔ ہم جیسے ناتواں، کمزور، گنہگار، بدکار، سیاہ کار، عصیاں شعار، ہر طرح سے بے کار اور بے قدرے لوگ اس کی قدورمنزلت کیا جانیں؟ اہل دل ہی اس ماہ کا مقام و مرتبہ جان سکتے ہیں۔
اس ماہ کی سب سے بڑی فضیلت یہ ہے کہ اس ماہ میں قرآن مجید کا نزول ہوا، سورۂ بقرہ کے 23 ویں رکوع کی آیت 185 میں ارشاد ہوتا ہے۔
القرآن: شہر رمضان الذی انزل فیہ القرآن، ہدی للناس وبینٰت من الہدی والفرقان
ترجمہ: رمضان کا مہینہ، جس میں قرآن اترا، لوگوں کے لئے ہدایت اور رہنمائی اور فیصلہ کی روشن باتیں (سورۂ بقرہ،آیت 185، پارہ 2)
جب کلام الٰہی سب کلاموں کا سردار ہے تو جس ماہ مقدس میں اس کا نزول ہوا، وہ مہینہ دیگر مہینوں کا سردار کیونکر نہ ہو؟ قرآن مجید کے علاوہ اﷲ تعالیٰ کی اور کتابیں بھی اسی ماہ رمضان میں نازل ہوئی ہیں۔ چنانچہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے صحیفے یکم یا تین رمضان کو نازل ہوئے، حضرت موسیٰ علیہ السلام پر توریت چھ رمضان المبارک کو، حضرت عیسٰی علیہ السلام پر انجیل بارہ یا چودہ رمضان المبارک کو، حضرت دائود علیہ السلام پر زبور بارہ یا اٹھارہ رمضان المبارک کو نازل ہوئی اور قرآن مجید لیلۃ القدر (ستائیسویں شب) میں نازل ہوا۔ لہذا اس مہینے کو قرآن مجید سے خاص مناسبت ہے۔ اسی لئے حضور اکرم نور مجسمﷺ اس مہینے میں جبریل علیہ السلام کے ساتھ قرآن مجید کا دور فرماتے تھے اور آپ اس مہینے میں چھوٹی ہوئی تیز ہوائوں سے بھی زیادہ سخاوت فرماتے تھے۔
ماہ رمضان المبارک کے فضائل و برکات
حدیث شریف: حضرت ابو سعید خدری رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ حضورﷺ نے فرمایا جب ماہ رمضان کی پہلی رات آتی ہے تو آسمانوں اور جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور آخر رات تک بند نہیں ہوتے جو کوئی بندہ اس ماہ مبارک کی کسی بھی رات میں نماز پڑھتا ہے، تو اﷲ تعالیٰ اس کے ہر سجدہ کے عوض(یعنی بدلہ میں) اس کے لئے پندرہ سو نیکیاں لکھتا ہے اور اس کے لئے جنت میں سرخ یاقوت کا گھر بناتا ہے جس میں ساٹھ ہزار دروازے ہوں گے اور ہر دروازے کے پٹ سونے کے بنے ہوں گے جن میں یاقوت سرخ جڑے ہوں گے۔ پس جو کوئی ماہ رمضان کا پہلا روزہ رکھتا ہے تو اﷲ تعالیٰ مہینے کے آخر دن اس کے گناہ معاف فرما دیتا ہے اور اس کے لئے صبح سے شام تک ستر ہزار فرشتے دعائے مغفرت کرتے رہتے ہیں۔ رات اور دن میں جب بھی وہ سجدہ کرتا ہے اس ہر سجدہ کے عوض (یعنی بدلے) اسے (جنت میں) ایک ایسا درخت عطا کیا جاتا ہے کہ اس کے سائے میں گھوڑے سوار پانچ سو برس تک چلتا رہے (شعب الایمان جلد 3 صفحہ نمبر 314)
حدیث شریف: حضرت عبداﷲ ابن عباس رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ حضورﷺ کا فرمان ہے کہ اﷲ تعالیٰ ماہ رمضان میں روزانہ افطار کے وقت دس لاکھ ایسے گنہ گاروں کو جہنم سے آزاد فرماتا ہے جن پر گناہوں کی وجہ سے جہنم واجب ہوچکا تھا، نیز شب جمعہ اور روز جمعہ (یعنی جمعرات کو غروب آفتاب سے لے کر جمعہ کو غروب آفتاب تک) کی ہر ہر گھڑی میں ایسے دس دس لاکھ گنہ گاروں کو جہنم سے آزاد کیا جاتا ہے جو عذاب کے حقدار قرار دیئے جاچکے ہوتے ہیں ۔
(کنزالعمال جلد 8 صفحہ نمبر 223)
حدیث شریف: حضرت ضمرہ رضی اﷲ عنہ سے مروی ہے کہ سید عالمﷺ کا فرمان ہے کہ ماہ رمضان میں گھر والوں کے خرچ میں کشادگی کرو کیونکہ ماہ رمضان میں خرچ کرنا اﷲ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے کی طرح ہیں (کنزالعمال جلد 8، صفحہ نمبر 216)
حدیث شریف: حضرت جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ حضورﷺ کا فرمان ہے کہ میری امت کو ماہ رمضان میں پانچ چیزیں ایسی عطا کی گئیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی علیہ السلام کو نہ ملیں۔
1۔ پہلی یہ کہ
جب رمضان المبارک کی پہلی رات ہوتی ہے تو اﷲ تعالیٰ ان کی طرف رحمت کی نظر فرماتا ہے اور جس کی طرف اﷲ تعالیٰ نظر رحمت فرمائے اسے کبھی بھی عذاب نہ دے گا۔
2۔ دوسری یہ کہ شام کے وقت ان کے منہ کی بو (جو بھوک کی وجہ سے ہوتی ہے) اﷲ تعالیٰ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے بھی بہتر ہے۔
3۔ تیسرے یہ کہ فرشتے ہر رات اور دن ان کے لئے مغفرت کی دعائیں کرتے رہتے ہیں۔
4۔ چوتھے یہ کہ اﷲ تعالیٰ جنت کو حکم دیتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے ’’میرے (نیک) بندوںکے لئے مزین (یعنی آراستہ) ہوجا عنقریب وہ دنیا کی مشقت سے میرے گھر اور کرم میں راحت پائیں گے‘‘
5۔ پانچواں یہ کہ جب ماہ رمضان کی آخری رات آتی ہے تو اﷲ تعالیٰ سب کی مغفرت فرمادیتا ہے۔
قوم میں سے ایک شخص کھڑا ہوا اور عرض کی، یارسول اﷲﷺ کیا یہ لیلۃ القدر ہے؟ ارشاد فرمایا نہیں۔ کیا تم نہیں دیکھتے کہ مزدور جب اپنے کاموں سے فارغ ہوجاتے ہیں تو انہیں اجرت دی جاتی ہے (الترغیب والترہیب جلد دوم صفحہ نمبر 20)محترم حضرات! آپ نے ماہ رمضان شریف کے فضائل و مناقب احادیث کی روشنی میں ملاحظہ فرمائیں۔ حقیقت میں کیاشان ہے ماہ رحمت و مغفرت کی۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ یہ مہینہ اﷲ تعالیٰ کی جانب سے ہر صورت ہماری مغفرت کروانے کے لئے تشریف لاتا ہے۔ جنت کے پروانے تقسیم کرنے کے لئے تشریف لاتا ہے۔
٭ حضرت فاروق اعظم رضی اﷲ عنہ فرمایا کرتے ’’اس مہینہ کو خوش آمدید ہے جو ہمیں پاک کرنے والا ہے۔ پورا رمضان خیر ہی خیر ہے۔ دن کا روزہ ہو یا رات کا قیام۔ اس مہینہ میں خرچ کرنا جہاد میں خرچ کرنے کا درجہ رکھتا ہے‘‘ (تنبیہ الغافلین صفحہ نمبر 321)
٭ حضرت مولیٰ علی شیر خدا کرم اﷲ وجہہ الکریم فرماتے ہیں ’’اگر اﷲ تعالیٰ کو امت محمدیﷺ پر عذاب کرنا مقصود ہوتا تو ان کو رمضان اور سورۂ اخلاص ہرگز عنایت نہ فرماتا‘‘ (نزہۃ المجالس، جلد اول صفحہ نمبر 163)
٭ منقول ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے حضرت عیسٰی علیہ السلام سے فرمایا کہ میں نے امت محمدیہﷺ کو دو نور عطا کئے ہیں تاکہ وہ دو اندھیروں کے ضرر (یعنی نقصان) سے محفوظ رہیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عرض کی یااﷲ جل جلالہ! وہ کون کون سے نور ہیں؟ ارشاد ہوا نور رمضان اور نور قرآن۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عرض کی دو اندھیرے کون کون سے ہیں، فرمایا! ایک قبر کا اور دوسرا قیامت کا (درۃ الناصحین ص 11)
رمضان المبارک میں گناہ کرنے والوں کا انجام
حدیث شریف: سیدہ ام ہانی رضی اﷲ عنہا سے روایت ہے کہ حضور اکرم نور مجسمﷺ نے ارشاد فرمایا ’’میری امت ذلیل و رسوا نہ ہوگی جب تک ماہ رمضان کے حق کو ادا کرتی رہے گی۔‘‘ عرض کی گئی یارسول اﷲﷺ! رمضان کے حق کو ضائع کرنے میں ان کا ذلیل و رسوا ہونا کیا ہے؟ فرمایا اس ماہ میں ان کا حرام کاموں کا کرنا، پھر ارشاد فرمایا جس نے اس ماہ میں زنا کیا، یا شراب پی تو اگلے رمضان تک اﷲ تعالیٰ اور جتنے آسمانی فرشتے ہیں سب اس پر لعنت کرتے ہیں۔ پس اگر یہ شخص اگلے ماہ رمضان کو پانے سے پہلے ہی مرگیا تو اس کے پاس کوئی ایسی نیکی نہ ہوگی جو اسے جہنم کی آگ سے بچا سکے۔ پس تم ماہ رمضان کے معاملے میں ڈرو کیونکہ جس طرح اس ماہ میں اور مہینوں کے مقابلے میں نیکیاں بڑھا دی جاتی ہیں، اسی طرح گناہوں کا بھی معاملہ ہے (طبرانی معجم صغیر جلد اول صفحہ نمبر 248)
٭ ایک بار حضرت علی رضی اﷲ عنہ زیارت قبور کے لئے کوفہ کے قبرستان تشریف لے گئے۔ وہاں ایک تازہ قبر پر نظر پڑی۔ آپ کو اس کے حالات معلوم کرنے کی خواہش ہوئی۔ چنانچہ بارگاہ خداوندی میں عرض گزار ہوئے۔ یااﷲ جل جلالہ! اس میت کے حالات مجھ پر منکشف (یعنی ظاہر) فرما۔ فورا اﷲ تعالیٰ کی بارگاہ میں آپ کی التجا مسموع ہوئی (یعنی سنی گئی) اور دیکھتے ہی دیکھتے آپ کے اور اس مردے کے درمیان جتنے پردے تھے، تمام اٹھا دیئے گئے۔ اب ایک ہیبت ناک منظر آپ کے سامنے تھا۔ کیا دیکھتے ہیں کہ مردہ آگ کی لپیٹ میں ہے اور رو رو کر اس طرح آپ سے فریاد کررہاہے۔ اے علی رضی اﷲ عنہ میں آگ میں جل رہا ہوں۔ قبر کے دہشت ناک منظر اور مردہ کی چیخ و پکار اور دردناک فریاد نے حضرت علی رضی اﷲ عنہ کو بے قرار کردیا۔ آپ نے اپنے رحمت والے رب جل جلالہ کے دربار میں ہاتھ اٹھا دیئے اور نہایت ہی عاجزی کے ساتھ اس میت کی بخشش کی درخواست پیش کی۔ غیب سے آواز آئی ’’اے علی رضی اﷲ عنہ! آپ اس کی سفارش نہ ہی فرمائیں کیونکہ روزے رکھنے کے باوجود یہ شخص رمضان المبارک کی بے حرمتی کرتا، رمضان میں بھی گناہوں سے باز نہ آتا تھا۔ دن کو روزے تو رکھ لیتا مگر راتوں کو گناہوں میں مبتلا رہتا تھا۔‘‘ مولیٰ علی رضی اﷲ عنہ یہ سن کر اور بھی رنجیدہ ہوگئے اور سجدے میں گر کر رو رو کر عرض کرنے لگے یااﷲ جل جلالہ! میری لاج تیرے ہاتھ میں ہے۔ اس بندے نے بڑی امید کے ساتھ مجھے پکارا ہے میرے مالک! تو مجھے اس کے آگے رسوا نہ فرمانا۔ اس کی بے بسی پر رحم فرمادے اور اس بے چارے کو بخش دے۔ حضرت علی رضی اﷲ عنہ رو رو کر مناجات کررہے تھے۔ اﷲ تعالیٰ کی رحمت کا دریا جوش میں آگیا اور ندا آئی، اے علی ر
2۔ دوسری یہ کہ شام کے وقت ان کے منہ کی بو (جو بھوک کی وجہ سے ہوتی ہے) اﷲ تعالیٰ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے بھی بہتر ہے۔
3۔ تیسرے یہ کہ فرشتے ہر رات اور دن ان کے لئے مغفرت کی دعائیں کرتے رہتے ہیں۔
4۔ چوتھے یہ کہ اﷲ تعالیٰ جنت کو حکم دیتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے ’’میرے (نیک) بندوںکے لئے مزین (یعنی آراستہ) ہوجا عنقریب وہ دنیا کی مشقت سے میرے گھر اور کرم میں راحت پائیں گے‘‘
5۔ پانچواں یہ کہ جب ماہ رمضان کی آخری رات آتی ہے تو اﷲ تعالیٰ سب کی مغفرت فرمادیتا ہے۔
قوم میں سے ایک شخص کھڑا ہوا اور عرض کی، یارسول اﷲﷺ کیا یہ لیلۃ القدر ہے؟ ارشاد فرمایا نہیں۔ کیا تم نہیں دیکھتے کہ مزدور جب اپنے کاموں سے فارغ ہوجاتے ہیں تو انہیں اجرت دی جاتی ہے (الترغیب والترہیب جلد دوم صفحہ نمبر 20)محترم حضرات! آپ نے ماہ رمضان شریف کے فضائل و مناقب احادیث کی روشنی میں ملاحظہ فرمائیں۔ حقیقت میں کیاشان ہے ماہ رحمت و مغفرت کی۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ یہ مہینہ اﷲ تعالیٰ کی جانب سے ہر صورت ہماری مغفرت کروانے کے لئے تشریف لاتا ہے۔ جنت کے پروانے تقسیم کرنے کے لئے تشریف لاتا ہے۔
٭ حضرت فاروق اعظم رضی اﷲ عنہ فرمایا کرتے ’’اس مہینہ کو خوش آمدید ہے جو ہمیں پاک کرنے والا ہے۔ پورا رمضان خیر ہی خیر ہے۔ دن کا روزہ ہو یا رات کا قیام۔ اس مہینہ میں خرچ کرنا جہاد میں خرچ کرنے کا درجہ رکھتا ہے‘‘ (تنبیہ الغافلین صفحہ نمبر 321)
٭ حضرت مولیٰ علی شیر خدا کرم اﷲ وجہہ الکریم فرماتے ہیں ’’اگر اﷲ تعالیٰ کو امت محمدیﷺ پر عذاب کرنا مقصود ہوتا تو ان کو رمضان اور سورۂ اخلاص ہرگز عنایت نہ فرماتا‘‘ (نزہۃ المجالس، جلد اول صفحہ نمبر 163)
٭ منقول ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے حضرت عیسٰی علیہ السلام سے فرمایا کہ میں نے امت محمدیہﷺ کو دو نور عطا کئے ہیں تاکہ وہ دو اندھیروں کے ضرر (یعنی نقصان) سے محفوظ رہیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عرض کی یااﷲ جل جلالہ! وہ کون کون سے نور ہیں؟ ارشاد ہوا نور رمضان اور نور قرآن۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عرض کی دو اندھیرے کون کون سے ہیں، فرمایا! ایک قبر کا اور دوسرا قیامت کا (درۃ الناصحین ص 11)
رمضان المبارک میں گناہ کرنے والوں کا انجام
حدیث شریف: سیدہ ام ہانی رضی اﷲ عنہا سے روایت ہے کہ حضور اکرم نور مجسمﷺ نے ارشاد فرمایا ’’میری امت ذلیل و رسوا نہ ہوگی جب تک ماہ رمضان کے حق کو ادا کرتی رہے گی۔‘‘ عرض کی گئی یارسول اﷲﷺ! رمضان کے حق کو ضائع کرنے میں ان کا ذلیل و رسوا ہونا کیا ہے؟ فرمایا اس ماہ میں ان کا حرام کاموں کا کرنا، پھر ارشاد فرمایا جس نے اس ماہ میں زنا کیا، یا شراب پی تو اگلے رمضان تک اﷲ تعالیٰ اور جتنے آسمانی فرشتے ہیں سب اس پر لعنت کرتے ہیں۔ پس اگر یہ شخص اگلے ماہ رمضان کو پانے سے پہلے ہی مرگیا تو اس کے پاس کوئی ایسی نیکی نہ ہوگی جو اسے جہنم کی آگ سے بچا سکے۔ پس تم ماہ رمضان کے معاملے میں ڈرو کیونکہ جس طرح اس ماہ میں اور مہینوں کے مقابلے میں نیکیاں بڑھا دی جاتی ہیں، اسی طرح گناہوں کا بھی معاملہ ہے (طبرانی معجم صغیر جلد اول صفحہ نمبر 248)
٭ ایک بار حضرت علی رضی اﷲ عنہ زیارت قبور کے لئے کوفہ کے قبرستان تشریف لے گئے۔ وہاں ایک تازہ قبر پر نظر پڑی۔ آپ کو اس کے حالات معلوم کرنے کی خواہش ہوئی۔ چنانچہ بارگاہ خداوندی میں عرض گزار ہوئے۔ یااﷲ جل جلالہ! اس میت کے حالات مجھ پر منکشف (یعنی ظاہر) فرما۔ فورا اﷲ تعالیٰ کی بارگاہ میں آپ کی التجا مسموع ہوئی (یعنی سنی گئی) اور دیکھتے ہی دیکھتے آپ کے اور اس مردے کے درمیان جتنے پردے تھے، تمام اٹھا دیئے گئے۔ اب ایک ہیبت ناک منظر آپ کے سامنے تھا۔ کیا دیکھتے ہیں کہ مردہ آگ کی لپیٹ میں ہے اور رو رو کر اس طرح آپ سے فریاد کررہاہے۔ اے علی رضی اﷲ عنہ میں آگ میں جل رہا ہوں۔ قبر کے دہشت ناک منظر اور مردہ کی چیخ و پکار اور دردناک فریاد نے حضرت علی رضی اﷲ عنہ کو بے قرار کردیا۔ آپ نے اپنے رحمت والے رب جل جلالہ کے دربار میں ہاتھ اٹھا دیئے اور نہایت ہی عاجزی کے ساتھ اس میت کی بخشش کی درخواست پیش کی۔ غیب سے آواز آئی ’’اے علی رضی اﷲ عنہ! آپ اس کی سفارش نہ ہی فرمائیں کیونکہ روزے رکھنے کے باوجود یہ شخص رمضان المبارک کی بے حرمتی کرتا، رمضان میں بھی گناہوں سے باز نہ آتا تھا۔ دن کو روزے تو رکھ لیتا مگر راتوں کو گناہوں میں مبتلا رہتا تھا۔‘‘ مولیٰ علی رضی اﷲ عنہ یہ سن کر اور بھی رنجیدہ ہوگئے اور سجدے میں گر کر رو رو کر عرض کرنے لگے یااﷲ جل جلالہ! میری لاج تیرے ہاتھ میں ہے۔ اس بندے نے بڑی امید کے ساتھ مجھے پکارا ہے میرے مالک! تو مجھے اس کے آگے رسوا نہ فرمانا۔ اس کی بے بسی پر رحم فرمادے اور اس بے چارے کو بخش دے۔ حضرت علی رضی اﷲ عنہ رو رو کر مناجات کررہے تھے۔ اﷲ تعالیٰ کی رحمت کا دریا جوش میں آگیا اور ندا آئی، اے علی ر