🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
بِن اِمَام مُوسیٰ الکاظِم
بِن اِمَام جَعفَر الصَّادِق
بِن اِمَام مُحَمَّد بَاقَر
بِن اِمَام زَینُ العَابِدِین عَلِی
بِن اَلاِمَامُ الہمَام اَلحُسَین شَہیدِ کربَلا
بِن اَلاِمَامُ الہمَام اَمِیرُالمُؤمِنِین سَیِّدنَا عَلِی اِبنِ اَبِی طَالِب
رَضِىَ اللّٰهُ تَعَالىٰ عَلَيهِم اَجمَعِين.

🌅 يعنى سركار غوث اعظم رَضِىَ اللّٰهُ عَنهُ اپنے وَالدِ مَاجد کی نِسبَت سے حَسَنِی اور وَالدَۂ مَاجدَہ کی نِسبَت سے حُسَینِی سَیِّد ہیں۔
(📖 بہجۃالاسرار، معدن الانوار، ذکرنسبہ، ص۱۷۱)
https://t.me/Faizan_E_DarulUloom_Amjadia_Ngp

*از قلم✍🏻 سراج تاباؔنی ـ کلکتہ*
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
*📚 « امجــــدی مضــــامین » 📚*
-----------------------------------------------------------
*🕯سِيرَتِ غَوثِ اَعظم رَضِىَ اللّٰهُ تَعَالىٰ عَنهُ🕯*


*💎 پانچویں/ چھٹی قِسط 💎*
🌅 سیّدنا غَوثِ اَعظم کے سَوَانِح و حَالات رَقَم کرنے والے تمام مُصَنّفِین و تَذکرہ نِگاروں کا اِس پر اِتّفاق ہے کہ:
شَیخ عَبدُالقادر جیلانی قدّس سِرّہ نے ایک مرتبہ بہت بڑی مَجلِس میں
(جس میں اپنے دَور کے اَقطاب و اَبدَال اور بہت بڑی تعداد میں اَولیاء و صُلحَاء بھی مَوجُود تھے، جبکہ عَام لوگ بھی ہزاروں كى تَعداد ميں مَوجُود تھے.)
دَورانِ وَعظ اپنی غَوثیَتِ کُبریٰ کی شان کا اِس طرح اظہار فرمایا کہ:
"قَدَمِی ھٰذِہِ عَلیٰ رَقبَة کُلِّ وَلِیِ اللّٰهِ" "ترجمہ:- میرایہ قدم تمام ولیوں کی گردنوں پر ہے"
تو مَجلِس میں موجود تمام اَولیاء نے اپنی گردنوں کو جُھکا دیا اور دُنیا کے دُوسرے عِلاقوں کے اَولیاء نے کشف کے ذریعے آپ کے اِعلان کو سُنا اور اپنے اپنے مَقام پر اپنی اپنی گردَنیں خَم کر دیں.
سُلطان الہند حضرت خَواجَہ غَريب نَواز سَيّدنا شیخ مُعِینُ الدِّین چِشتِى اَجمیری رَضِىَ اللّٰهُ عَنهُ اُس وقت خُرَاسَان كى پَہاڑی ميں حَالتِ مُراقبَہ ميں تھے آپ نے وہیں اپنی گردَن خَم کرتے ہوئے فرمايا:
"آقا! آپ کا قَدَم میری گردَن پر ہى نہيں بلکہ میرے سَر اور آنكھوں پر بھی ہے."
(📖 اخبار الاخیار/ شمائم امدادیہ/ سفینہ اولیأ/ قلائدالجواہر/ نزہةالخاطرالفاطر/ فتاویٰ افریقہ)

*💡 مُجَاہِدَات و رِیَاضَات :*

🌅 شیخ اَحمَد بِن اَبُوبَكر حَریمِی عَلَيهِمَاالرَّحمَہ فرماتے ہیں کہ سیّدنا غَوثِ اَعظم رَضِىَ اللّٰهُ عَنهُ نے فرمایا:
"میں پچیس سَال تک تَنِ تَنہا عِرَاق کے بیابانوں اور ویرانوں میں چلتا رہا۔
نہ ہی لوگ مجھے جانتے تھے اور نہ میں کسی کو جانتا تھا۔
اَلبَتَّہ جِنَّات رِجَالُ الغَیب عِلمِ طریقت کی تعلیم حاصل کرتے۔"

🌅 شیخ اَبُوالقَاسِم عُمَر بِن مَسعُود عَلَيهِمَاالرَّحمَہ فرماتے ہیں کہ سیّدنا غَوثِ اَعظم رَضِىَ اللّٰهُ عَنهُ نے فرمایا:
"اِبتدائے سِیَاحَت میں مجھ پر بہت اَحوَال طاری ہوتے تھے، میں اپنے وَجُود سے غَائِب ہو جاتا اور اکثر اوقات بیہوشی میں دوڑا کرتا تھا، جب وہ حالت مجھ سے اُٹھ جاتی تو میں اپنے آپ کو ایک دُور دَرَاز مَقام میں پاتا تھا۔"

🌅 شیخ اَبُو العَبَّاس اَحمَد بِن یَحییٰ بَغدَادِی عَلَيهِمَاالرَّحمَہ فرماتے ہیں کہ سیّدنا غوثِ اعظم رَضِىَ اللّٰهُ عَنهُ نے فرمایا کہ:
"میں چالیس سَال عِشَاء کے وَضُو سے فَجر کی نماز پڑھتا رہا اور پندرہ سال ساری ساری رات ایک پاؤں پر کھڑے ہو کر صُبح تک پُورا قرآنِ مَجید فِی شَب ختم کرتا رہا۔"

🌅 شیخ اَبُو العَبَّاس عَلَيهِ الرَّحمَہ فرماتے ہیں کہ سَیّدنا غوث اعظم رَضِىَ اللّٰهُ عَنهُ نے فرمایا کہ:
"میں بُرجِ عَجمِی (اُس بُرج کا نام جو آپ کے طویل قیام کی وَجہ سے بُرجِ عَجمِی مشہور ہو گیا تھا) گیارہ سال رہا، میں نے اُس میں اللّٰه تَعَالیٰ سے عَہد کیا کہ جب تک تو نہ کھلائے گا میں نہ کھاؤں گا نہ پیوں گا۔
اس عَہد کے چالیس اَیَّام بعد شیخ اَبُو سَعِید مَخزُومِی عَلَيهِ الرَّحمَہ تشريف لائے اور فرمایا کہ مُجھے اللّٰه تعالیٰ کا حُکم ہے کہ میں اپنے ہاتھ سے آپ کو کھانا کھلاؤں۔"

*💡 مُحِیُ الدِّین کی وَجہِ تَسمِیَہ:*

🌅 حضرت غَوثِ اَعظم رَضِىَ اللّٰهُ عَنهُ اِرشاد فرماتے ہیں کہ:
"ایک دِن میں بَغَرضِ سَیر و سِیَاحَت شہرِ بَغداد سے باہر گیا۔
واپسی پر راستہ میں ایک آدمی بیمار، زندگی سے لاچار، خَستَہ حَال میرے سَامنے آ مَوجُود ہوا۔ ضُعف و نَاتَوَانی کی حَالت میں زمین پر گِر پڑا اور اُس نے اِلتِجَا کی۔
یَاسَیّدِی! میری دَستگیری کرو اور میرے اِس بُرے حَال پر رَحم فرما کر نَفسِ مَسِیحَا سے پُھونک مَارو تاکہ میری حَالت دُرُست ہو جائے۔
میں نے اُس پر دَم کیا۔
دَم کرنا تھا کہ وہ پُھول کی مَانِند تَر و تَازَہ ہو گیا ، اُس کی لاغری کافور ہو گئی اور جِسم میں توانائی آ گئی۔
بعد ازاں اُس نے مجھ سے کہا:
اے عَبدُالقَادِر! مجھ کو پہچانتے ہو؟
میں نے کہا:
ہاں! تو میرے نانا حضرت مُحَمَّدُ رَّسُولُ اللّٰه صَلَّى اللّٰهُ تَعَالىٰ عَلَيهِ وَسَلَّم کا دِین اِسلام ہے۔
اس نے کہا:
آپ نے دُرُست فرمایا۔
اَب مُجھے اللّٰه تَعَالىٰ نے آپ کے ہاتھ سے زِندَہ کیا ہے۔
آپ مُحِیُ الدِّین ہیں۔
دِین کے مُجَدِّدِ اَعظم اور اِسلام کے مُصلِحِ اَکبَر ہیں۔
بعد ازاں میں شہرِ بَغداد کی جَامع مَسجِد میں گیا۔
جَامع مَسجِد کے راستہ میں ایک شخص نے بَآوازِ بُلند کہا۔
یَاسَیّدِی مُحِی الدِّین۔
میں نے مسجد میں پہنچ کر دوگانہ نفل شُکرانہ اَدَا کی اور مسجد میں اپنے وَظائِف میں مَصرُوف ہو گیا۔
بَعدِ فراغتِ وَظائِف مسجد سے نِکلا تو ایک بڑا ہُجُوم دو قطار میں کھڑا ہو گیا۔
اور ہر ایک نے بَآوازِ بُلند مُحِیُ الدِّین پُکارنا شروع کیا۔
اس سے قَبل مجھے کِسی نے اس لقَب سے نہیں پُکارا تھا۔
(📖 سَوَانِحِ غَوثِ اَعظَم)


*سِيرَتِ غَوثِ اَعظم رَضِىَ اللّٰهُ تَعَالىٰ عَنهُ*

*💎 چھٹی قِسط 💎*

*💡 آپ مُستَجَابُ الدَّعوَات تھے :*

شیخ اَبُو مُحَمَّدالدَّاربَانی عَلَيهِ الرَّحمَه فرماتے ہیں:
''سیّدنا عَبدُالقادِر جیلانی رَحمَةُاللّٰهِ تَعَالىٰ عَلَيه مُستَجَابُ الدَّعوَات تھے (یعنی آپ کی دُعائیں قبول ہوتی تھیں)
اگر آپ کسی شخص سے ناراض ہوتے تو اللّٰه عِزّوجَل اُس شخص سے بدلہ لیتا اور جس سے آپ خوش ہوتے تو اللّٰه عزوجل اُس کو اِنعام و اِکرَام سے نوازتا.
ضَعِیفُ الجِسم اور نَحِیفُ البَدَن ہونے کے باوجود آپ نوافل کی کثرت کیا کرتے اور ذکر واذکار میں مَصرُوف رہتے تھے۔
آپ اکثر اُمُور کے واقع ہونے سے پہلے اُن کی خبر دے دیا کرتے تھے اور جس طرح آپ ان کے رُونُما ہونے کی اِطلاع دیتے تھے اُسی طرح ہی واقعات رُوپذیر ہوتے تھے۔''
(📖 بہجۃالاسرار، ص۱۷۲)


*💡 آپ کی نیک سِیرَت بیویاں :*

حضرت شیخ شہابُ الدِّین سُہَروَردِی رَحمَةُاللّٰهِ تَعَالىٰ عَلَيه اپنی شُہرہ آفاق تَصنِیف "عَوَارفُ المعَارف" میں تحریر فرماتے ہیں:
''ایک شخص نے حضور سیّدنا غَوثُ الاَعظم رَضِىَ اللّٰهُ عَنهُ سے پُوچھا: ''یاسَیّدِی! آپ نے نکاح کیوں کیا؟
آپ نے فرمایا:
بے شک میں نکاح کرنا نہیں چاہتا تھا کہ اس سے میرے دُوسرے کاموں میں خَلل پَیدا ہو جائے گا ، مگر رسول اللہ ﷺ نے مجھے حُکم فرمایا کہ
''عَبدُالقادِر! تم نکاح کر لو ، اللّٰه عزّوجل کے ہاں ہر کام کا ایک وقت مُقرَّر ہے۔''
پھرجب یہ وقت آیا تو اللّٰه عزّوجل نے مجھے چار بیویاں عطا فرمائیں ، جن میں سے ہر ایک مجھ سے کامِل مُحبَّت رکھتی ہے۔''
(📖 عَوَارِفُ المَعَارِف، ص۱۰۱)

🌅 حضورسَیّدی غَوثِ اَعظم رَضِىَ اللّٰهُ عَنهُ کی بیویاں بھی آپ رَضِىَ اللّٰهُ عَنهُ کے رُوحانی کمالات سے فیضیَاب تھیں ، آپ کے صَاحبزادے حضرت شیخ عَبدُالجَبَّار اپنی وَالدَۂ مَاجدَہ کے مُتعَلّق بیان کرتے ہیں کہ:
''جب بھی وَالدۂ مُحترمہ کسی اندھیرے مکان میں تشریف لے جاتی تھیں تو وہاں چراغ کی طرح روشنی ہو جاتی تھى۔
ایک موقع پر میرے وَالدِ مُحترم غَوثِ پَاک رَحمَةُاللّٰهِ عَلَيه بھی وہاں تشریف لے آئے ، جیسے ہی آپ رَحمَةُاللّٰهِ عَلَيه کی نظر اس روشنی پر پڑی تو وہ روشنی فَوراً غَائِب ہوگئی ، تو آپ رَحمَةُاللّٰهِ عَلَيه نے اِرشاد فرمایا کہ:
''یہ شیطان تھا جو تیری خِدمَت کرتا تھا اسی لیے میں نے اسے خَتم کر دیا ، اب میں اس روشنی کو رَحمَانی نُور میں تبدیل کِیے دیتا ہوں۔"
''اس کے بعد وَالدۂ مُحترمہ جب بھی کسی تاریک مکان میں جاتی تھیں تو وہاں ایسا نُور ہوتا جو چَاند کی روشنی کی طرح معلوم ہوتا تھا۔''
(📖 بَہجَةُالاَسرَار وَ مَعدنِ الاَنوَار، ص۱۹۶)

💎 سَیّدنا غَوثِ اَعظم قُدّسَ سِرّہ کی لاتعداد و بےشُمار کرامات ہیں۔
چُنانچہ شیخ عَلی بِن اَبِی نَصرالہَیتِی نے ســـنه ۵٦٢ ھ میں فرمایا:
میں نے اپنے اَہلِ زمانہ میں سے کِسی کو حضور غَوثِ اَعظم رَضِىَ اللّٰهُ عَنهُ سے بڑھ کر صَاحبِ کرَامت نہیں دیکھا۔
جس وقت کوئی شخص آپ رَضِىَ اللّٰهُ عَنهُ کی کرَامت دیکھنے کی خَواہِش کرتا تو دیکھ لیتا۔

💎 شیخ اَبُو عُمَر عُثمَان صریفینی کا قول ہے کہ:
سَیّدنا غَوثِ اَعظم رَضِىَ اللّٰهُ عَنهُ کی کرَامَات سِلکِ مَروَارید کی مِثل تھیں جس میں یکے بعد دیگرے لگاتار موتی ہوں۔
اگر ہم میں سے ہر یَوم کوئی شخص کئی کرامات دیکھنی چاہتا تو دیکھ لیتا۔

💎 شیخ عَزیزُالدّین بِن عَبدالاسلام اور اِمَام نَووی فرماتے ہیں:
کرَامَاتِ سَیّدنا غَوثِ اَعظم رَضِىَ اللّٰهُ عَنهُ بہت کثرَت سے ہیں۔

💡 مُندَرجَہ بَالا اَولیَاءاللّٰه کے اَقوَال سے ظاہر ہے کہ سَیّدنا غَوثِ اَعظم رَضِىَ اللّٰهُ عَنهُ سے لا تعداد و بیشُمار کرامات كا ظہُور هُوا.

*💡 تَفویضِ سَجَّادگِی :*

شیخ اَبُو مُحَمَّد عَلَيهِ الرَّحمَه فرماتے ہیں کہ:
حَضرَت اِمَام حَسَن عَسکری رَضِىَ اللّٰهُ عَنهُ نے بَوَقتِ شَہَادَت اپنى سَجَّادگی ایک مُعتَمد بُزرگ کے حَوَالے کر کے وَصِیَّت فرمائی تھی کہ پَانچویں صَدِی کے آخری میں اَولادِ اِمَام حَسَنِ مُجتَبىٰ رَضِىَ اللّٰهُ تَعَالىٰ عَنهُ سے ایک بُزُرگ سَیّد عَبدُالقادِر بِن سَيّد مُوسیٰ تَوَلُّد ہوں گے ، یہ سَجَّادگی اُن کے لیے ہے ، لِہٰذا اُن کے ظہُور تک ایک دُوسرے سے مُنتَقِل ہوتی ہوئی ان کے پاس پہنچنی چاہیئے۔
چُنانچہ وہ سَجَّادگی حضور غَوثیت مَآب کے ظہُور تک اَمَانتاً مُنتَقِل ہوتی رہی۔
آخِر مِاہِ شَوَّالُ المُكرَّم ســـنه ۴۹۷ ھ میں ایک عَارِف نے حضور غَوثِ اَعظم رَضِىَ اللّٰهُ عَنهُ کی خِدمَت میں پیش کیا۔
https://t.me/Faizan_E_DarulUloom_Amjadia_Ngp

*از قلم✍🏻 سراج تاباؔنی ـ کلکتہ*
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
*📚 « امجــــدی مضــــامین » 📚*
-----------------------------------------------------------
*🕯سِيرَتِ غَوثِ اَعظم رَضِىَ اللّٰهُ تَعَالىٰ عَنهُ🕯*


*💎 پانچویں/ چھٹی قِسط 💎*
🌅 سیّدنا غَوثِ اَعظم کے سَوَانِح و حَالات رَقَم کرنے والے تمام مُصَنّفِین و تَذکرہ نِگاروں کا اِس پر اِتّفاق ہے کہ:
شَیخ عَبدُالقادر جیلانی قدّس سِرّہ نے ایک مرتبہ بہت بڑی مَجلِس میں
(جس میں اپنے دَور کے اَقطاب و اَبدَال اور بہت بڑی تعداد میں اَولیاء و صُلحَاء بھی مَوجُود تھے، جبکہ عَام لوگ بھی ہزاروں كى تَعداد ميں مَوجُود تھے.)
دَورانِ وَعظ اپنی غَوثیَتِ کُبریٰ کی شان کا اِس طرح اظہار فرمایا کہ:
"قَدَمِی ھٰذِہِ عَلیٰ رَقبَة کُلِّ وَلِیِ اللّٰهِ" "ترجمہ:- میرایہ قدم تمام ولیوں کی گردنوں پر ہے"
تو مَجلِس میں موجود تمام اَولیاء نے اپنی گردنوں کو جُھکا دیا اور دُنیا کے دُوسرے عِلاقوں کے اَولیاء نے کشف کے ذریعے آپ کے اِعلان کو سُنا اور اپنے اپنے مَقام پر اپنی اپنی گردَنیں خَم کر دیں.
سُلطان الہند حضرت خَواجَہ غَريب نَواز سَيّدنا شیخ مُعِینُ الدِّین چِشتِى اَجمیری رَضِىَ اللّٰهُ عَنهُ اُس وقت خُرَاسَان كى پَہاڑی ميں حَالتِ مُراقبَہ ميں تھے آپ نے وہیں اپنی گردَن خَم کرتے ہوئے فرمايا:
"آقا! آپ کا قَدَم میری گردَن پر ہى نہيں بلکہ میرے سَر اور آنكھوں پر بھی ہے."
(📖 اخبار الاخیار/ شمائم امدادیہ/ سفینہ اولیأ/ قلائدالجواہر/ نزہةالخاطرالفاطر/ فتاویٰ افریقہ)

*💡 مُجَاہِدَات و رِیَاضَات :*

🌅 شیخ اَحمَد بِن اَبُوبَكر حَریمِی عَلَيهِمَاالرَّحمَہ فرماتے ہیں کہ سیّدنا غَوثِ اَعظم رَضِىَ اللّٰهُ عَنهُ نے فرمایا:
"میں پچیس سَال تک تَنِ تَنہا عِرَاق کے بیابانوں اور ویرانوں میں چلتا رہا۔
نہ ہی لوگ مجھے جانتے تھے اور نہ میں کسی کو جانتا تھا۔
اَلبَتَّہ جِنَّات رِجَالُ الغَیب عِلمِ طریقت کی تعلیم حاصل کرتے۔"

🌅 شیخ اَبُوالقَاسِم عُمَر بِن مَسعُود عَلَيهِمَاالرَّحمَہ فرماتے ہیں کہ سیّدنا غَوثِ اَعظم رَضِىَ اللّٰهُ عَنهُ نے فرمایا:
"اِبتدائے سِیَاحَت میں مجھ پر بہت اَحوَال طاری ہوتے تھے، میں اپنے وَجُود سے غَائِب ہو جاتا اور اکثر اوقات بیہوشی میں دوڑا کرتا تھا، جب وہ حالت مجھ سے اُٹھ جاتی تو میں اپنے آپ کو ایک دُور دَرَاز مَقام میں پاتا تھا۔"

🌅 شیخ اَبُو العَبَّاس اَحمَد بِن یَحییٰ بَغدَادِی عَلَيهِمَاالرَّحمَہ فرماتے ہیں کہ سیّدنا غوثِ اعظم رَضِىَ اللّٰهُ عَنهُ نے فرمایا کہ:
"میں چالیس سَال عِشَاء کے وَضُو سے فَجر کی نماز پڑھتا رہا اور پندرہ سال ساری ساری رات ایک پاؤں پر کھڑے ہو کر صُبح تک پُورا قرآنِ مَجید فِی شَب ختم کرتا رہا۔"

🌅 شیخ اَبُو العَبَّاس عَلَيهِ الرَّحمَہ فرماتے ہیں کہ سَیّدنا غوث اعظم رَضِىَ اللّٰهُ عَنهُ نے فرمایا کہ:
"میں بُرجِ عَجمِی (اُس بُرج کا نام جو آپ کے طویل قیام کی وَجہ سے بُرجِ عَجمِی مشہور ہو گیا تھا) گیارہ سال رہا، میں نے اُس میں اللّٰه تَعَالیٰ سے عَہد کیا کہ جب تک تو نہ کھلائے گا میں نہ کھاؤں گا نہ پیوں گا۔
اس عَہد کے چالیس اَیَّام بعد شیخ اَبُو سَعِید مَخزُومِی عَلَيهِ الرَّحمَہ تشريف لائے اور فرمایا کہ مُجھے اللّٰه تعالیٰ کا حُکم ہے کہ میں اپنے ہاتھ سے آپ کو کھانا کھلاؤں۔"

*💡 مُحِیُ الدِّین کی وَجہِ تَسمِیَہ:*

🌅 حضرت غَوثِ اَعظم رَضِىَ اللّٰهُ عَنهُ اِرشاد فرماتے ہیں کہ:
"ایک دِن میں بَغَرضِ سَیر و سِیَاحَت شہرِ بَغداد سے باہر گیا۔
واپسی پر راستہ میں ایک آدمی بیمار، زندگی سے لاچار، خَستَہ حَال میرے سَامنے آ مَوجُود ہوا۔ ضُعف و نَاتَوَانی کی حَالت میں زمین پر گِر پڑا اور اُس نے اِلتِجَا کی۔
یَاسَیّدِی! میری دَستگیری کرو اور میرے اِس بُرے حَال پر رَحم فرما کر نَفسِ مَسِیحَا سے پُھونک مَارو تاکہ میری حَالت دُرُست ہو جائے۔
میں نے اُس پر دَم کیا۔
دَم کرنا تھا کہ وہ پُھول کی مَانِند تَر و تَازَہ ہو گیا ، اُس کی لاغری کافور ہو گئی اور جِسم میں توانائی آ گئی۔
بعد ازاں اُس نے مجھ سے کہا:
اے عَبدُالقَادِر! مجھ کو پہچانتے ہو؟
میں نے کہا:
ہاں! تو میرے نانا حضرت مُحَمَّدُ رَّسُولُ اللّٰه صَلَّى اللّٰهُ تَعَالىٰ عَلَيهِ وَسَلَّم کا دِین اِسلام ہے۔
اس نے کہا:
آپ نے دُرُست فرمایا۔
اَب مُجھے اللّٰه تَعَالىٰ نے آپ کے ہاتھ سے زِندَہ کیا ہے۔
آپ مُحِیُ الدِّین ہیں۔
دِین کے مُجَدِّدِ اَعظم اور اِسلام کے مُصلِحِ اَکبَر ہیں۔
بعد ازاں میں شہرِ بَغداد کی جَامع مَسجِد میں گیا۔
جَامع مَسجِد کے راستہ میں ایک شخص نے بَآوازِ بُلند کہا۔
یَاسَیّدِی مُحِی الدِّین۔
میں نے مسجد میں پہنچ کر دوگانہ نفل شُکرانہ اَدَا کی اور مسجد میں اپنے وَظائِف میں مَصرُوف ہو گیا۔
بَعدِ فراغتِ وَظائِف مسجد سے نِکلا تو ایک بڑا ہُجُوم دو قطار میں کھڑا ہو گیا۔
اور ہر ایک نے بَآوازِ بُلند مُحِیُ الدِّین پُکارنا شروع کیا۔
اس سے قَبل مجھے کِسی نے اس لقَب سے نہیں پُکارا تھا۔
(📖 سَوَانِحِ غَوثِ اَعظَم)


*سِيرَتِ غَوثِ اَعظم رَضِىَ اللّٰهُ تَعَالىٰ عَنهُ*

*💎 چھٹی قِسط 💎*

*💡 آپ مُستَجَابُ الدَّعوَات تھے :*

شیخ اَبُو مُحَمَّدالدَّاربَانی عَلَيهِ الرَّحمَه فرماتے ہیں:
''سیّدنا عَبدُالقادِر جیلانی رَحمَةُاللّٰهِ تَعَالىٰ عَلَيه مُستَجَابُ الدَّعوَات تھے (یعنی آپ کی دُعائیں قبول ہوتی تھیں)
اگر آپ کسی شخص سے ناراض ہوتے تو اللّٰه عِزّوجَل اُس شخص سے بدلہ لیتا اور جس سے آپ خوش ہوتے تو اللّٰه عزوجل اُس کو اِنعام و اِکرَام سے نوازتا.
ضَعِیفُ الجِسم اور نَحِیفُ البَدَن ہونے کے باوجود آپ نوافل کی کثرت کیا کرتے اور ذکر واذکار میں مَصرُوف رہتے تھے۔
آپ اکثر اُمُور کے واقع ہونے سے پہلے اُن کی خبر دے دیا کرتے تھے اور جس طرح آپ ان کے رُونُما ہونے کی اِطلاع دیتے تھے اُسی طرح ہی واقعات رُوپذیر ہوتے تھے۔''
(📖 بہجۃالاسرار، ص۱۷۲)


*💡 آپ کی نیک سِیرَت بیویاں :*

حضرت شیخ شہابُ الدِّین سُہَروَردِی رَحمَةُاللّٰهِ تَعَالىٰ عَلَيه اپنی شُہرہ آفاق تَصنِیف "عَوَارفُ المعَارف" میں تحریر فرماتے ہیں:
''ایک شخص نے حضور سیّدنا غَوثُ الاَعظم رَضِىَ اللّٰهُ عَنهُ سے پُوچھا: ''یاسَیّدِی! آپ نے نکاح کیوں کیا؟
آپ نے فرمایا:
بے شک میں نکاح کرنا نہیں چاہتا تھا کہ اس سے میرے دُوسرے کاموں میں خَلل پَیدا ہو جائے گا ، مگر رسول اللہ ﷺ نے مجھے حُکم فرمایا کہ
''عَبدُالقادِر! تم نکاح کر لو ، اللّٰه عزّوجل کے ہاں ہر کام کا ایک وقت مُقرَّر ہے۔''
پھرجب یہ وقت آیا تو اللّٰه عزّوجل نے مجھے چار بیویاں عطا فرمائیں ، جن میں سے ہر ایک مجھ سے کامِل مُحبَّت رکھتی ہے۔''
(📖 عَوَارِفُ المَعَارِف، ص۱۰۱)

🌅 حضورسَیّدی غَوثِ اَعظم رَضِىَ اللّٰهُ عَنهُ کی بیویاں بھی آپ رَضِىَ اللّٰهُ عَنهُ کے رُوحانی کمالات سے فیضیَاب تھیں ، آپ کے صَاحبزادے حضرت شیخ عَبدُالجَبَّار اپنی وَالدَۂ مَاجدَہ کے مُتعَلّق بیان کرتے ہیں کہ:
''جب بھی وَالدۂ مُحترمہ کسی اندھیرے مکان میں تشریف لے جاتی تھیں تو وہاں چراغ کی طرح روشنی ہو جاتی تھى۔
ایک موقع پر میرے وَالدِ مُحترم غَوثِ پَاک رَحمَةُاللّٰهِ عَلَيه بھی وہاں تشریف لے آئے ، جیسے ہی آپ رَحمَةُاللّٰهِ عَلَيه کی نظر اس روشنی پر پڑی تو وہ روشنی فَوراً غَائِب ہوگئی ، تو آپ رَحمَةُاللّٰهِ عَلَيه نے اِرشاد فرمایا کہ:
''یہ شیطان تھا جو تیری خِدمَت کرتا تھا اسی لیے میں نے اسے خَتم کر دیا ، اب میں اس روشنی کو رَحمَانی نُور میں تبدیل کِیے دیتا ہوں۔"
''اس کے بعد وَالدۂ مُحترمہ جب بھی کسی تاریک مکان میں جاتی تھیں تو وہاں ایسا نُور ہوتا جو چَاند کی روشنی کی طرح معلوم ہوتا تھا۔''
(📖 بَہجَةُالاَسرَار وَ مَعدنِ الاَنوَار، ص۱۹۶)

💎 سَیّدنا غَوثِ اَعظم قُدّسَ سِرّہ کی لاتعداد و بےشُمار کرامات ہیں۔
چُنانچہ شیخ عَلی بِن اَبِی نَصرالہَیتِی نے ســـنه ۵٦٢ ھ میں فرمایا:
میں نے اپنے اَہلِ زمانہ میں سے کِسی کو حضور غَوثِ اَعظم رَضِىَ اللّٰهُ عَنهُ سے بڑھ کر صَاحبِ کرَامت نہیں دیکھا۔
جس وقت کوئی شخص آپ رَضِىَ اللّٰهُ عَنهُ کی کرَامت دیکھنے کی خَواہِش کرتا تو دیکھ لیتا۔

💎 شیخ اَبُو عُمَر عُثمَان صریفینی کا قول ہے کہ:
سَیّدنا غَوثِ اَعظم رَضِىَ اللّٰهُ عَنهُ کی کرَامَات سِلکِ مَروَارید کی مِثل تھیں جس میں یکے بعد دیگرے لگاتار موتی ہوں۔
اگر ہم میں سے ہر یَوم کوئی شخص کئی کرامات دیکھنی چاہتا تو دیکھ لیتا۔

💎 شیخ عَزیزُالدّین بِن عَبدالاسلام اور اِمَام نَووی فرماتے ہیں:
کرَامَاتِ سَیّدنا غَوثِ اَعظم رَضِىَ اللّٰهُ عَنهُ بہت کثرَت سے ہیں۔

💡 مُندَرجَہ بَالا اَولیَاءاللّٰه کے اَقوَال سے ظاہر ہے کہ سَیّدنا غَوثِ اَعظم رَضِىَ اللّٰهُ عَنهُ سے لا تعداد و بیشُمار کرامات كا ظہُور هُوا.

*💡 تَفویضِ سَجَّادگِی :*

شیخ اَبُو مُحَمَّد عَلَيهِ الرَّحمَه فرماتے ہیں کہ:
حَضرَت اِمَام حَسَن عَسکری رَضِىَ اللّٰهُ عَنهُ نے بَوَقتِ شَہَادَت اپنى سَجَّادگی ایک مُعتَمد بُزرگ کے حَوَالے کر کے وَصِیَّت فرمائی تھی کہ پَانچویں صَدِی کے آخری میں اَولادِ اِمَام حَسَنِ مُجتَبىٰ رَضِىَ اللّٰهُ تَعَالىٰ عَنهُ سے ایک بُزُرگ سَیّد عَبدُالقادِر بِن سَيّد مُوسیٰ تَوَلُّد ہوں گے ، یہ سَجَّادگی اُن کے لیے ہے ، لِہٰذا اُن کے ظہُور تک ایک دُوسرے سے مُنتَقِل ہوتی ہوئی ان کے پاس پہنچنی چاہیئے۔
چُنانچہ وہ سَجَّادگی حضور غَوثیت مَآب کے ظہُور تک اَمَانتاً مُنتَقِل ہوتی رہی۔
آخِر مِاہِ شَوَّالُ المُكرَّم ســـنه ۴۹۷ ھ میں ایک عَارِف نے حضور غَوثِ اَعظم رَضِىَ اللّٰهُ عَنهُ کی خِدمَت میں پیش کیا۔
https://t.me/Faizan_E_DarulUloom_Amjadia_Ngp

*از قلم✍🏻 سراج تاباؔنی ـ کلکتہ*
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
*📚 « امجــــدی مضــــامین » 📚*
-----------------------------------------------------------
*🕯سِيرَتِ غَوثِ اَعظم رَضِىَ اللّٰهُ تَعَالىٰ عَنهُ🕯*

*💎 ساتویں/آٹھویں قِسط 💎*

*🌅 مجلس کی کیفیت:*

آپ کی مجلس شریف میں نہ تو کسی کو تُھوک آتا تھا ، نہ کوئی کھنکارتا تھا اور نہ ہی کوئی کسی سے کلام کرتا تھا ، کسی فرد کو مجلس میں سے کھڑے ہونے کی جرات بھی نہ ہوتی تھی ، آپ کی تقریرِ دِلپذیر سے لوگوں کی وِجدانی کیفیت ہوتی تھی-
آپ کے دستِ حق پرست پر کثیر تعداد میں لوگوں نے توبہ کی ـ
شیخ عمر کیمانی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں: "آپ کی مجالسِ شریفہ میں سے کوئی مجلس ایسی نہیں ہوتی تھی جس میں یہود و نصاریٰ اسلام قبول نہ کرتے ہوں ، یا ڈاکو ، قزَّاق ، قاتل ، مُفسد اور بد اعتقاد لوگ آپ کے دستِ حق پرست پر توبہ نہ کرتے ہوں۔"
(📖 بہجۃ الاسرار ص ٩٦ - قلائد الجواہر ص ١٨)

*🌅 مجلسِ وعظ میں ہجوم:*

حضور سیدنا غوثِ اعظم رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ابتداء میں میرے پاس دو یا تین آدمی بیٹھا کرتے تھے پھر جب شہرت ہوئی تو میرے پاس خِلقت کا ہجوم آنے لگا ، اس وقت میں بغداد شریف کے محلّہ حلیہ کی عیدگاہ میں بیٹھا کرتا تھا ، لوگ رات کو مشعلیں اور لالٹینیں لے کر آتے پھر اتنا اجتماع ہونے لگا کہ یہ عیدگاہ بھی لوگوں کے لیے ناکافی ہوگئی ، اس وجہ سے باہر بڑی عیدگاہ میں منبر رکھا گیا ، لوگ کثیر تعداد میں دور دراز سے گھوڑوں ، خچروں ، گدھوں اور اونٹوں پر سوار ہوکر آتے ، تقریباً ستّر ہزار کا اجتماع ہوتا تھا۔
(📖 بہجۃ الاسرار ص ٩٢ ، قلائد الجواہر ص ١٢/١٣)

💎 حضرت کے صاحبزادہ والا شان سیدنا عبدالوہاب رضی اللہ عنہ کا ارشاد گرامی ہے:
"کان یحضرہ العلماء والفقھاء و المشائخ وغیرھم و یکتب ما یقول فی مجلسه اربع مائة محبرۃ عالم۔"
یعنی آپ کی مبارک مجلس میں علماء ، فقہاء اور مشائخ وغیرہم بکثرت تعداد حاضر ہوتے تھےـ اور آپ کی مجلس میں افاضل علماء جن کی تعداد چار سو تھی ، قلم اور دوات لے کر حاضر ہوتے تھے۔
(📖 قلائد الجواہر ص ١٨ ، بہجۃ الاسرار ص ٩٨)

*🌅 آوازِ مبارک کا فیضانِ اثر:*

آپ کی مجلسِ مبارک میں باوجودیکہ ہجوم بہت زیادہ ہوتا تھا ، لیکن آپ کی آوازِ مبارک جتنی نزدیک والوں کو سُنائی دیتی تھی اتنی ہی دور والوں کو سنائی دیتی تھی ، یعنی دُور اور نزدیک والے حضرات یکساں آپ کی آوازِ مبارک بالکل صاف سُنتے تھے۔
(📖 قلائد الجواہر ص ٧٤ ، بہجۃ الاسرار ص ٩٤)

*💎 قابلِ غَور نُکتہ:*

بغیر كِسى سَاؤنڈ سِسٹم کے سَتَّر ہَزَار کے مَجمَع تک اپنی آواز پہنچانا اور سب کا یَکسَاں اَنداز میں سَماعَت کرنا آپ کی ایسی کرامت ہے کہ روزانہ ظاہر ہوتی رہتی تھی۔



*💎 آٹھویں قِسط 💎*

*بغرضِ امتحان ایک سو ١٠٠ فقہاء کی حاضری:*

🌅 حضرت غوثِ اعظم رضی اللہ عنہ کے عِلم و عِرفان کی شہرت جب دور دراز کے مُلکوں اور شہروں میں ہوئی تو بغداد شریف کے اَجلّۂ فقہاء میں سے ایک سو فقہاء آپ کے علم کا امتحان لینے کی غرض سے حاضر ہوئے اور ان فقہاء میں سے ہر ایک فقیہ بہت سے پیچیدہ مسائل لے کر حاضر ہوا ، جب وہ سب فقیہ بیٹھ گئے تو آپ نے اپنی گردنِ مبارک جُھکالی اور آپ کے سِینۂ مُبارک سے نُور کی ایک کِرَن ظاہر ہوئی جو اُن سب فقہاء کے سِینوں پر پڑی جس سے اُن کے دل میں جو جو سوالات تھے وہ سب مَحو ہوگئے ، وہ سخت پریشان اور مُضطرب ہوئے ، سب نے مِل کر زور سے چیخ ماری اور بعض نے اپنے کپڑے (گریبان) پھاڑ ڈالے ، اپنی پگڑیاں پھینک دیں۔
اس کے بعد آپ کرسی پر جلوہ افروز ہوئے اور یکے بعد دیگرے ان سب کے سوالات کے جوابات ارشاد فرمائے جس پر سب فقہاء نے آپ کے علم و فضل کا اِعتراف کیا۔
(📖 جامع کرامات الاولیاء للعلامۃ النبھانی ج ١ ، ص ٢٠١ ، قلائد الجواہر ص ٣٣ ، الطبقات الکبری ج ١ ، ص ١٢٨)

💎 حافظ عماد الدین ابن کثیر علیہ الرحمہ نے اپنی تاریخ میں فرمایا ہے: "کان له الید الطولی فی الحدیث والفقه والوعظ و علوم الحقائق۔"
یعنی آپ علمِ حدیث ، فقہ ، وعظ اور علومِ حقائق میں یدِ طولیٰ رکھتے تھے۔
(📖 قلائد الجواہر ص ٨)

*مجلسِ وَعظ سے بارش کا مَوقوف ہوکر اِرد گِرد بَرسنا:*

🌅 ایک دفعہ حضرت سیدنا غوثِ اعظم رضی اللہ عنہ اہلِ مجلس سے خطاب فرما رہے تھے کہ اس دوران بارش ہونے لگی ، آپ نے آسمان کی طرف نظر مبارک اُٹھا کر کہا: میں لوگوں کو جمع کرتا ہوں اور تو ان کو مُنتشر کرتا ہے ، آپ کا یہ کہنا ہی تھا کہ مجلس پر بارش کا برسنا موقوف ہوگیا اور اس کے اِرد گِرد بارش برستی رہی۔
(📖 قلائد الجواہر ص ٢٩ ، بہجۃ الاسرار ص ٧٥)

*حضرت سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی بشارت سے پادری کا مُشرَّف بہ اسلام ہونا:*
🌅 ایک دفعہ سنان نامی عیسائی پادری نے غوثِ اعظم رضی اللہ عنہ کی مجلس شریف میں حاضر ہوکر سلام عرض کیا اور اجتماع میں کھڑا ہوکر بیان کیا کہ میں یمن کا رہنے والا ہوں ، میرے دل میں یہ بات پیدا ہوئی کہ میں اسلام قبول کرلوں اور اس پر میرا مُصمَّم ارادہ ہوگیا کہ یمن میں سب سے افضل و اعلیٰ شخصیت کے ہاتھ پر اسلام قبول کروں گا۔
اسی سوچ بچار میں تھا کہ مجھے نیند آئی اور میں نے حضرت عیسیٰ علیٰ نبینا علیہ الصلوٰۃ والسلام کو خواب میں دیکھا ، آپ نے مجھے ارشاد فرمایا: "یا سنان اذھب الی بغداد و اسلم علی ید الشیخ عبدالقادر فانه خیر اھل الارض فی ھٰذا الوقت۔"
یعنی اے سنان ! بغداد شریف جاؤ اور شیخ عبدالقادر جیلانی کے دستِ حق پر اسلام قبول کرو ، کیونکہ وہ اس وقت رُوۓ زمین کے تمام لوگوں سے افضل و اعلیٰ ہیں۔
(📖 قلائد الجواہر ص ١٨ ، بہجۃ الاسرار ص ٩٦)

💎 شیخ عمر کیمانی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ آپ کی خدمتِ اقدس میں تیرہ افراد اسلام قبول کرنے کے لیے حاضر ہوئے ، مسلمان ہونے کے بعد اُنہوں نے بیان کیا کہ ہم لوگ عرب کے عیسائی تھے ، ہم نے اسلام قبول کرنے کا ارادہ کیا تھا اور یہ سوچ رہے تھے کہ کسی مردِ کامل کے دستِ حق پرست پر اسلام قبول کریں۔
اسی اثناء میں ہاتفِ غیب سے آواز آئی کہ بغداد شریف جاؤ اور شیخ عبدالقادر جیلانی کے مبارک ہاتھوں پر اسلام قبول کرو ، کیونکہ اس وقت جس قدر ایمان ان کی برکت سے تمہارے دِلوں میں جاگزیں ہوگا ، اس قدر ایمان اس زمانہ میں کسی دوسری جگہ سے ناممکن ہے۔
(📖 قلائد الجواہر ص ١٨ ، بہجۃ الاسرار ص ٩٦)
https://t.me/Faizan_E_DarulUloom_Amjadia_Ngp

*از قلم✍🏻 سراج تاباؔنی ـ کلکتہ*
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
*📚 « امجــــدی مضــــامین » 📚*
-----------------------------------------------------------
*🕯سِيرَتِ غَوثِ اَعظم رَضِىَ اللّٰهُ تَعَالىٰ عَنهُ🕯*


*💎 نویں / دسویں قِسط 💎*

*آپ کی چند مشہور کرامتیں:*

🌅 پیدا ہوتے ہی رمضان شریف کے روزے رکھنا.
(📖 بہجۃ الاسرار ص ٨٩ ، طبقات کبری ج ١ ص ١٢٦ ، قلائدالجواہر ص ٣)

🌅 بچپن میں گاۓ سے کلام کرنا.
(📖 قلائد الجواہر فی مناقب عبدالقادر ٨٩)

🌅 جیلان سے عرفات کے حاجیوں کو ملاحظہ کرنا.
(📖 قلائد الجواہر فی مناقب عبدالقادر ٨٩)

🌅 فرشتوں کا مکتب تک ساتھ جانا اور آپ کی ولایت کا اعلان کرنا.
(📖 بہجۃ الاسرار ص ٤۸)

🌅 ڈاکوؤں کا اسلام قبول کرنا.
(📖 بہجۃ الاسرار ص ١٦٨)

🌅 نگاہِ کرم سے چور کو قُطب کے درجے پر فائز کر دینا.
(📖 سیرت غوث الثقلین ص ١٣٠)

🌅 عَصا کو چراغ کی طرح روشن کر دینا.
(📖 بہجۃ الاسرار ، ذکر فصول من کلامہ الخ ص ١٥٠)

🌅 اندھوں کو بینائی عطا کرنا.
(📖 بہجۃ الاسرار ص ١٢٣)

🌅 بیماروں کو شفا یاب کر دینا.
(📖 بہجۃ الاسرار ص ١٢٤)

🌅 مُردوں کو زندہ کر دینا.
(📖 بہجۃ الاسرار ص ١٢٤)

🌅 لاغر اونٹنی کو تیز رفتار بنا دینا.
(📖 بہجۃ الاسرار ، ذکر فصول من کلامہ مرصعابشی من عجائب ص ١٥٣)

🌅 سانپ سے گفتکو کرنا.
(📖 بہجۃ الاسرار ، ذکر فصول من کلامہ مرصعابشی من عجائب ص ١٦٨)

🌅 جِنوں کا آپ رَضِىَ اللّٰهُ عَنهُ کی بارگاہ میں توبہ کرنا.
(📖 بہجۃ الاسرار ، ذکر اخبار المشایخ بالکشف عن ہیۃ الحال ... ص ٢٥)

🌅 روشن ضمیری ، یعنی اللہ کی عطا سے دلوں کے حال جان لینا.
(📖 بہجۃ الاسرار ص ٢١١ ـ قلائد الجواہر، ص ٥٧)

🌅 دور دراز مُریدوں کی مدد فرمانا.
(📖 بہجۃ الاسرار ، ذکر فضل اصحابہ و بشراہم ص ١٩٧)

🌅 مصائب و آلام کا دور فرما دینا.
(📖 بہجۃ الاسرار ص ١٩٧)

🌅 جانوروں کا آپ کی فرمانبرادری کرنا.
(📖 بہجۃ الاسرار ، ذکر فصول من کلامہ مرصعابشی من عجائب ص ١٥٣)

🌅 اللہ کی عطا سے اولادِ نرینہ کی دولت عطا کرنا.
(📖 تفریح الخاطر ، ص ١٨)

🌅 بیداری میں حضور سیدِ عالم جانِ رحمت ﷺ کے دیدار کا شرف ملنا.
(📖 بہجۃ الاسرار ذکر فصول من کلامہ مرصعا من عجائب ص ٥٨)

🌅 تمام اولیاء کرام کا آپ کا قدم اپنی گردنوں پر ہونے کا اقرار کرنا.
(📖 اخبار الاخیار/ شمائم امدادیہ/ سفینہ اولیأ/ قلائدالجواہر/ نزہةالخاطرالفاطر/ فتاویٰ افریقہ)

🌅 ایک ہی وقت میں کئی جگہ پر ظاہر ہو جانا.
(📖 برکاتِ قادریت ص ٤٩)

🌅 اللہ کے حکم سے بارہ سالہ ڈوبی ہوئی بارات کو زندہ کر دینا. وغیرہ
(📖 سلطان الاذکارفی مناقب غوث الابرار)

*☝🏻 نوٹ:* اعلیٰحضرت امامِ اہلسنت الشاہ مولانا احمد رضا خان علیہ الرحمۃ والرضوان سے اس آخر الذکر واقعہ کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے ارشاد فرمایا: “اگرچہ (یہ روایت) نظر سے نہ گزری مگر زبان پر مشہور ہے اور اس میں کوئی امر خلافِ شرع نہیں، اس کا انکار نہ کیا جائے۔"
(📖 فتاوٰی رضویہ جدید ج ٢٩ ص ٦٢٩)

💎 آپ رَضِىَ اللّٰهُ عَنهُ کی کرامتوں کو شمار نہیں کیا جا سکتا۔ پیدائش سے لے کر وصالِ پُر ملال تک آپ رَضِىَ اللّٰهُ عَنهُ سراپا کرامت تھے۔ بلکہ بعد از وصال بھی آپ کی کرامتیں جاری و ساری ہیں اور اہلِ محبت آج بھی آپ کی کرامتوں سے اور فیض و جُود و کرم سے مُستفیض ہو رہے ہیں۔

*کثرتِ کرامات کے ظُہور کی وَجہ:*

🌅 جس قدر خَوَارِق حضرت سید محی الدّین جیلانی قدّس اللہ تعالیٰ سِرّہٗ سے ظاہر ہوئے ہیں اس قدر خوارق کسی اور سے ظاہر نہیں ہوئے ہیں ۔ ۔ ۔ اللہ سبحانہٗ و تعالیٰ نے اس معمّا کا راز ظاہر کردیا اور معلوم ہوا کہ آپ کا عُروج اکثر اولیاء سے بلند تر واقع ہوا ہے اور نزول کی جانب میں مقامِ رُوح تک نیچے اُترے ہیں جو عالمِ اسباب سے بلند تر ہے۔
(📖 مکتوبات امام ربانی، ص ٩٨ ، مکتوب نمبر ٢١٦)

*سَابقہ اُمَّتو ں میں بھی آ پ جیسا کوئی نہیں گزرا:*

🌅 حضرت غوثِ اعظم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں بغداد شریف میں تخت پر بیٹھا ہوا تھا کہ سرورِ کائنات عَلَیہِ اَفضَلُ الصَّلوَاتِ وَالتَّسلِیمَات کی زیارت سے مُشَرَّف ہوا۔ آپ سوار تھے اور آپ کی ایک جانب حضرت مُوسیٰ عَلَیہِ السَّلام تھے ، آپ نے فرمایا:
"یَا مُوْسٰی أَ فِی أُمَّتِکَ رَجُلٌ ھٰکَذَا ؟" اے موسیٰ (علیہ السلام) کیا آپ کی اُمَّت میں بھی اس شان کا کوئی شخص ہے ؟
تو حضرت موسیٰ علیہ السَّلام نے عرض کیا: "نہیں۔"
اور پھر حضور اکرم ﷺ نے مجھے خلعت پہنائی۔
(📖 قلائد الجواہر، ص ٢٢) 👇🏻



*💎 دسویں قِسط 💎*

*غوثِ اعظم کے شیخِ طریقت :*
🌅 سرکار غوثِ اعظم رضی اللہ عنہ ٤۸۸ھ مطابق ۱۰۹۵ء تقریباً ۱۸ سال کی عمر میں علومِ ظاہری کی تحصیل کے لیے بغداد پہنچے اور نامورانِ فن سے بھرپور استفادہ کیا جن میں ابو الوفا علی بن عقیل حنبلی ، ابو الخطاب محفوظ کلوذانی حنبلی ، ابو غالب محمد بن الحسن باقلانی ، ابوسعید محمد بن عبدالکریم ، ابو زکریا یحییٰ بن علی تبریزی ، عارف بِاللہ حضرت حماد باس اور قاضی ابو سعید مبارک مخزومی قدس سرہم العزیز خاص طور سے قابل ذکر ہیں۔
ان میں آخر الذکر شیخ یعنی قاضی *ابو سعید مبارک مخزومی* رضی اللہ عنہ سے آپ کو غایت درجہ عقیدت تھی اور پھر یہی آپ کے شیخِ طریقت ٹھہرے۔
آپ کا اسمِ گرامی مُبارک ، کُنّیت ابو سعید اور ابو یوسف ہے ، آپ کے والدِ گرامی کا نام علی بن حسین مخزومی ہے۔
مخزوم بغداد کے ایک محلہ کا نام ہے اسی وجہ سے آپ مخزومی مشہور ہوئے۔ اپنے زمانے کے سلطانُ الاولیاء اور بُرہانُ الاصفیا تھے۔
سرکار اعلیٰ حضرت رضی المولیٰ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں.

بوالفرح کا صدقہ کر غم کو فرح دے حسن و سعد
بوالحسن اور بو سعيد سعد زا کے واسطے

قادری کر قادری رکھ قادریوں میں اٹھا
قدر عبد القادر قدرت نما کے واسطے

*بیعت و خرقۂ خلافت :*

🌅 حضرت قاضی ابو سعید مبارک مخزومی رضی اللہ عنہ جب سیّدنا غوثِ اعظم رضی اللہ عنہ سے بیعت لے چکے تو آپ کو اپنے ہاتھوں سے کھانا کھلایا جس سے آپ کو اتنا فیض ملا کہ خود فرماتے ہیں "میرے شیخِ طریقت جو لقمہ میرے منہ میں ڈالتے تھے وہ ہر لقمہ میرے سینے کو نورِ معرفت سے بھر دیتا تھا۔"
پھر حضرت شیخ قاضی ابو سعید مبارک مخزومی رضی اللہ عنہ نے آپ کو خرقۂ خلافت پہنایا اور فرمایا: "اے عبدالقادر یہ خرقہ حضور سرورِ کونین ﷺ نے امیر المؤمنین حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو عطا فرمایا اُن سے حضرت خواجہ حسن بصری رضی اللہ عنہ کو ملا اور پھر اُن سے دست بدست مجھ تک پہنچا اور اب میں تمہیں دے رہا ہوں۔"
یہ خرقہ پہننے کے بعد حضور سیّدنا غوثِ اعظم رضی اللہ عنہ پر برکات و تجلیات اور بے شمار انوارِ الہٰیہ کا نزول ہوا۔

💎 حضرت مبارک مخزومی فرماتے ہیں:
’’عبدالقادرجیلانی نے مجھ سے خرقۂ خلافت پہنا اور میں نے ان سے پہنا ہم میں سے ہر ایک دوسرے سے برکت حاصل کرے گا۔‘‘
(📖 قلائد الجواہر ص ٤ / ۵)

*آغازِ رشد و ہدایات :*

🌅 حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ جب بغداد میں شریعت و طریقت کے علوم و معارف حاصل کر چکے تو مخلوقِ خدا کو فیضیاب کرنے کا وقت آگیا۔ ماہ شوال ۵۲۱ھ مطابق ۱۱۲۷ء کو محلہ حلبہ براینہ میں آپ نے وعظ کا آغاز فرمایا۔
(📖 بہجۃ الاسرار ص ۹۰)

💎 بغداد کے محلہ باب الزج میں حضرت شیخ ابو سعید مبارک مخزومی رضی اللہ عنہ کا ایک مدرسہ تھا جو انہوں نے حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کے سپرد کردیا۔ آپ کے قدومِ میمنت لزوم سے طلبا کا اس قدر ازدحام ہوا کہ قدیم عمارت ناکافی ہوگئی تو بغداد کے علم دوست حضرات نے اسے وسعت دے کر شاندار نئی عمارت تیار کرائی۔ ۵۲۸ھ مطابق ۱۱۳۴ء میں یہ مدرسہ پایۂ تکمیل کو پہنچ گیا اور حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی نسبت سے مدرسۂ قادریہ مشہور ہوا۔
(📖 قلائد الجواہر ص ۵)

*فتاویٰ مبارکہ :*

🌅 شیخ محقق شاہ عبد الحق مُحدّث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے اخبار الاخیار میں نقل کیا ہے: "حضرت غوثِ پاک رضی اللہ عنہ کے صاحبزادہ سیدی عبد الوہاب علیہ الرحمہ نے فرمایا کہ آپ نے ؁ ٥٢٨ھ تا ٥٦١ھ تینتیس ٣٣ سال درس و تدریس اور فتاویٰ نویسی کے فرائض سر انجام دیئے۔"
(📖 اخبار الاخیار ص ١٥ ، قلائد الجواہر ص ١٨)
https://t.me/Faizan_E_DarulUloom_Amjadia_Ngp

*از قلم✍🏻 سراج تاباؔنی ـ کلکتہ*
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
Photo
#عید_غوثیہ#غوث_الاعظم
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
#منقبت_شان_غوث_الاعظم
م‍ِنجانِب: #نعت_اکیڈمی فِیۡسۡ ب‍ُکۡ