🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
Photo
#عید_غوثیہ#غوث_الاعظم
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
#منقبت_شان_غوث_الاعظم
م‍ِنجانِب: #نعت_اکیڈمی فِیۡسۡ ب‍ُکۡ
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
*📚 « امجــــدی مضــــامین » 📚*
-----------------------------------------------------------
*🕯سِيرَتِ غَوثِ اَعظم رَضِىَ اللّٰهُ تَعَالىٰ عَنهُ🕯*

*💎 پَہلى /دوسری قِسط 💎*

*📖 شجرہ عالیہ غوثیہ و سلسلۂ بیعت و خلافتِ جدّیہ*

*🌼 سَیّدنا غوثِ اعظم:*
آپ کی وِلادَتِ بَا سَعَادَت طبرستان کے مشہور شہر گیلان میں اُنتیس شَعبَانُ المُعَظم ســـنه ۴۷۱ ھ بلكہ يَكُم رَمَضَانُ المُبَارَک کی شَب میں تَہَجُّد کے وَقت ہوئی۔
ماہِ رَجَبُ المُرَجَّب ســـنه ۴۸۸ ھ میں اپنے وَالِدِ مُحتَرَم حَضرَت اَبُوصَالِح مُوسیٰ دوست جَنگی سے بَیعَت ہو کر سِلسِلۂ حَسَنِیَّہ جَدّیَہ میں خِلافَت پائی۔
۱۱ رَبِیعُ الآخِر یا ۱۷ رَبیعُ الآخِر ســـنه ۵۶۱ ھ میں رِحلت فرمائی۔
مَزَار شریف بَغدَاد شریف میں ہے۔

*🌼 سَیّد نا اَبُوصَالِح مُوسیٰ:*
۲۷ رَجَبُ المُرَجَّب ســـنه ۴۰۰ ھ میں گیلان میں وِلادَت ہوئی.
ســـنه ۴۶۰ ھ میں اپنے وَالِدِ مُکرَّم حضرت اَبُوعَبدُاللّٰه سے خِلافَت پائی۔
ســـنه ۱۱ ذیقعد ۴۸۹ ھ میں وِصَال ہوا۔
مَزَارِ مُبَارَک گیلان میں ہے۔

*🌼 سَیّد اَبُوعَبدُاللّٰه جیلی:*
۱۳ رَمَضَانُ المُبَارَک ســـنه ۳۶۵ ھ میں گیلان ہی میں آپ کی وِلادَت ہوئی۔
۱۴ رَجَبُ المُرَجَّب ســـنه ۳۸۷ ھ میں اپنے پِدرِ بُزرگوار حَضَرت یَحییٰ زاہد سے بَیعَت ہو کر خِلافت حَاصِل کی۔
رَبیعُ الاَوَّل ســـنه ۴۷۳ ھ میں وَفَات پائی۔
مَزَارِ مُبَارَک گیلان میں ہے۔

*🌼 سَیّد نا یَحییٰ زاہد:*
۱۷ شَعبَانُ المُعَظم ســـنه ۳۴۰ھ کو مَدَائِن میں آپ کی وِلادَت ہوئی.
ســـنه ۳۷۰ ھ میں اپنے وَالِدِ مُکرَّم حَضرَت مُحَمَّد روحِی سے خِلافت پائی۔
۲۴ رَمَضَانُ المُبَارَک میں وَفَات پائی۔
مَزَارِ مُبَارَک بَغدَادِ قَدِیم میں ہے۔

*🌼 سَیّدنا مُحَمَّد مورِث روحِی:*
۱۲ رَمَضَانُ المُبَارَک ســـنه ۲۹۹ ھ میں مَدِینَہ مُنَوَّرَہ میں وِلادَت ہوئی۔
وَالدِ گِرَامی حَضرَت دَاؤد اَمِیر سے ســـنه ۳۴۹ ھ میں بَیعَت ہو کر خِلافت پائی۔
۱۷ رَبیعُ الاَوَّل ســـنه ۴۱۵ ھ میں رِحلت فرمائی۔
قبرِ مُبَارَک جَنَّتُ البَقِیع میں ہے۔

*🌼 سَیّدنا دَاؤد اَمِیر اَمجَد:*
آپ کی وِلادَت ۱۱ شَعبَانُ المُعَظم ســـنه ۲۴۵ھ میں مَدِينَہ طیّبَہ میں ہوئی۔
ذِی الحِجَّہ ســـنه ۲۷۷ ھ میں اپنے وَالدِ مَاجِد حَضرَت مُوسیٰ ثانی سے خِلافت پائی۔
۱۲ شَعبَانُ المُعظم ســـنه ۳۲۱ ھ میں وِصَال فرمایا۔
مَزَار شریف آپ کا مَکَّہ مُکرَّمَہ میں ہے۔

*🌼 سَیّدنا مُوسیٰ ثانی:*
۶ مُحَرَّمُ الحَرَام ســـنه ۱۹۳ھ میں مَدِینَہ مُنَوَّرَہ میں وِلادَت ہوئی۔
رَبیعُ الآخِر ســـنه ۲۳۸ھ میں وَالدِ مُکرَّم عَبدُاللّٰه ثانی سے خِلافت پائی۔
مَاہِ صَفَرُالمُظفَّر ســـنه ۲۸۸ھ میں رِحلت پائی۔
مَزَارِ مُقَدَّس مَدِینَہ طیّبَہ میں ہے۔

*🌼 سَیّدنا عَبدُاللّٰه ثانی:*
۱۴ رَمَضَانُ المُبَارَک ســـنه ۱۵۲ھ میں مَدِینَہ طیّبَہ میں وِلادَت ہوئی.
رَبیعُ الاَوَّل ســـنه ۱۹۸ھ میں اپنے وَالدِ گِرَامِی سے خِلافت پائی۔
مَاہِ رَبیعُ الآخِر ســـنه ۲۱۳ھ میں جُمعَہ کے دِن وَفات پائی۔
مَرقَدِ پَاک مَدِینَہ مُنَوَّرَہ میں ہے۔

*🌼 سَیّد نا مُوسیٰ جون:*
رَجَبُ المُرَجَّب ســـنه ۱۰۳ ھ میں مَدِینَہ مُنَوَّرَہ میں وِلادَت ہوئی۔
ســـنه ۱۳۳ ھ میں وَالدِ مُحتَرَم حَضرَت عَبدُاللّٰه المحض نے خِلافتِ جَدّیَہ سے سَرفراز فرمایا.
مَاہِ جَمَادِی الآخِر ســـنه ۱۵۶ھ میں مَدِینَہ طیّبَہ میں رِحلت فرمائی۔
مَزَارِ مُقدَّس اسی سَرزمینِ پَاک میں ہے۔

*🌼 سَیّدنا عَبدُاللّٰه المحض:*
۱۱ رَبیعُ الآخِر بَروز دو شنبہ ســـنه ۷۰ھ میں مَدِینَہ مُنَوَّرَہ میں آپ کی وِلادَت ہوئی۔
شَعبَانُ المُعَظم ســـنه ۹۲ھ میں وَالدِ مَاجِد حَضرَت حَسَنِ مُثَنّیٰ سے خِلافت پائی۔
۱۸ رَمَضَانُ المُبَارَک ســـنه ۱۴۵ ھ میں وِصَال فرمایا۔
مَرقدِ مُبَارَک جَنَّتُ البَقِیع میں ہے۔

*🌼 سَیّدنا حَسَنِ مُثَنّیٰ:*
۱۲ رَمَضَانُ المُبَارَک ســـنه ۲۹ ھ میں آپ کی وِلادَت ہوئی۔
اپنے وَالدِ مُحتَرَم سَیّدنا اِمَامِ حَسَن سے ســـنه ۴۵ ھ میں خِلافت پائی۔
۱۷ رَجَبُ المُرَجَّب ســـنه ۹۷ ھ میں رِحلت ہوئی۔
مَزَار شریف جَنَّتُ البَقِیع میں ہے۔

*🌼 اِمَام حَسَنِ مُجتَبےٰ:*
۱۵ رَمَضَانُ المُبَارَک ســـنه ۳ ھ میں بَروز پَنج شنبہ مَدِینَہ طیِّبَہ میں وِلادَت ہوئی۔ جَنابِ فَاطِمَةُالزَّهرَا بِنتِ رَسُول اللّٰه صَلَّى اللّٰهُ تَعَالىٰ عَلَيهِ وَآلِهٖ وَسَلَّم آپ کی وَالِدَۂ مَاجِدَہ ہیں۔
رَبیعُ الاَوَّل ســـنه ۳۵ ھ وَالِدِ مَاجِد حَضرَت عَلِی کرَّمَ اللّٰهُ وَجہَہ سے خِلافت و اِمَامَت کا شَرَف پایا.
۲۸ صَفَرُالمُظفَّر ســـنه ۴۵ ھ میں جَامِ شَہَادَت نوش فرمایا۔
(رَضِىَ اللّٰهُ تَعَالىٰ عَلَيهِم اَجمَعِين)



*💎 دوسری قِسط 💎*

*🌼 سَیّدنا غَوثِ اَعظم:*
*(سَوانِحِ حَیَات ایک نظر میں)*

🌅 آپ کی وِلادَتِ بَاسَعَادَت مُلکِ اِیرَان کے صُوبَۂ طبرِستَان کے علاقہ گیلان یا جیلان کے نَحِیف نامی قصبہ میں سَادَات خاندان (جو دو تین پُشتوں سے یہاں آباد تھا) میں ہوئی۔
جس کی وَجہ سے آپ جیلانی یا گیلانی کے لقب سے مُلَقَّب ہوئے۔
ایک روایت میں آپ کی پیدائش اُنتِیس شَعبَان ســـنه ٤٧٠ ھ میں ہے۔
لیکن آپ کی صَحِیح تاریخِ پيدائش یَکُم رَمَضَانُ المُبَارَک ســـنه ٤٧٠ ھ بَوَقتِ شَب ہے۔
(📖 بہجۃالاسرارومعدن الانوار/ ذکرنسبہ وصفتہ ، ص۱۷۱/ الطبقات الکبرٰی للشعرانی/ ابو صالح سیدی عبدالقادرالجیلی، ج۱ ، ص۱٧٨)

*🌼 غَوثِ اَعظم رَضِىَ اللّٰهُ عَنهُ کے آبَاء و اَجدَاد:*

آپ کا خاندان صَالِحِین کا گھرانا تھا آپ کے داداجان ، ناناجان ، والد ماجد ، والدهٔ محترمہ ، پُھوپھی جان ، بھائی اور صَاحبزادگان سب مُتَّقِی و پرہیزگار تھے.
اسی وجہ سے لوگ آپ کے خَاندان کو اشراف کا خَاندان کہتے تھے۔

سَیِّد و عَالِی نَسَب دَر اَولیَاء اَست
نُورِ چَشمِ مُصطفےٰ و مُرتَضےٰ اَست


*🌼 آپ رَضِىَ اللّٰهُ عَنهُ کے وَالدِ مَاجِد:*

آپ کے والدِ مُحترم حضرت سَيّد اَبُوصَالِح مُوسیٰ جَنگی دوست رَضِىَ اللّٰهُ عَنهُ تھے.
آپ کا اِسمِ گِرامی ''سَیِّد مُوسیٰ'' کُنّيَّت ''اَبُوصَالِح'' اورلقَب ''جَنگی دوست'' تھا.
آپ جیلان شریف کے اکابر مَشائِخ کِرام رَضِىَ اللّٰهُ عَنهُم میں سے تھے۔


*🌼 لقَب ''جَنگی دوست'' کی وَجہ:*

آپ رَضِىَ اللّٰهُ عَنهُ کالقَب جَنگی دوست اس لیے ہوا کہ آپ خَالِصَۃً اللّٰه کی رضا کے لیے نَفس کُشِی اور رِیَاضَت و مُجَاهِدَه میں یَکتَائے زمانہ تھے.
نیکی کے کاموں کا حُکم کرنے اور بُرائی سے روکنے کے لیے مشہور تھے اور اس معاملہ میں اپنی جَان تک کی بھی پَروا نہ کرتے تھے.

💎 چُنانچہ ایک دن آپ جامع مسجد کو جا رہے تھے کہ خَلِیفَۂ وَقت کے چَند مُلازِم شَرَاب کے مَٹکے نہایت ہی اِحتیاط سے سَروں پر اُٹھائے جا رہے تھے ،
آپ نے جب اُن کی طرف دیکھا تو جَلال میں آگئے اور اُن مَٹکوں کوتوڑ دیا۔
آپ کے رُعب اور بُزرگی کے سامنے کسی ملازم کو دَم مَارنے کی جُرأت نہ ہوئی تو اُنہوں نے خَلِیفَۂ وَقت کے سامنے واقعہ کا اِظہار کیا اور آپ کے خِلاف خليفہ کو اُكسايا ،
تو خَليفہ نے کہا:
''سَیّد مُوسیٰ (رَضِىَ اللّٰهُ عَنهُ) کو فَوراً میرے دَربار میں پیش کرو۔''
چُنانچہ آپ کو دَربار میں پیش کیا گیا.
خَلیفَہ اُس وقت غَیظ و غَضَب كے عَالَم ميں کُرسِی پر بيٹھا تھا،
خَليفہ نے للکار کر کہا:
''آپ کو میرے مُلازمین سے اُلجهنے کی جُرأت كيسے ہوئی؟''
آپ نے فرمایا:
''میں مُحتَسِب ہوں اورمیں نے اپنا فرضِ مَنصَبِی اَدَا کیاہے۔''
خلیفہ نے کہا:
''آپ کس کے حُکم سے مُحتَسِب مُقَرَّر کئے گئے ہیں؟''
آپ نے رُعب دَار لہجَہ میں جواب دیا:
''جس کے حُکم سے تم حُکومَت کر رہے ہو۔''
آپ کے اس اِرشاد پر خَلیفہ پر ایسی رِقَّت طاری ہُوئی کہ سَربَزَانُوں ہوگیا (یعنی گھُٹنوں پر سَر رَکھ کر بَیٹھ گیا) اورتھوڑی دیر کے بعد سَر کو اُٹھا کر عَرض کیا:
''حُضُورِ وَالا ! اَمر بِالمَعرُوف اور نَہِی عَنِ المُنکر کے عِلاوَہ مَٹکوں کو توڑنے میں کیا حِکمَت تھى؟''
آپ نے اِرشَاد فرمایا:
''تمہارے حَال پر شَفقَت کرنا نِیز تُجھ کو دُنیا اور آخرَت کی رُسوَائِی اور ذِلَّت سے بَچَانا۔''
خَلِیفَہ پر آپ کی اس حِکمت بھری گفتگو کا بہت اثر ہوا اور مُتأثّر ہوکر آپ کی خِدمَتِ اَقدَس میں عَرض گُزَار ہوا:
''عَالیجاہ! آپ میری طرف سے بھی مُحتَسِب کے عُہدَہ پر مَامُور ہیں۔''
آپ نے اپنے مُتَوَکّلانہ انداز میں فرمایا: ''جب میں حَق تَعَالیٰ کی طرف سے مَامُور ہوں تو پھر مجھے خَلق کی طرف سے مَامُور ہونے کی کیا حَاجَت ہے۔''
اُسی دِن سے آپ ''جَنگی دوست'' کے لقب سے مشہور ہوگئے۔
(📖 سِیرتِ غَوثُ الثَّقلین، ص۵۲)

*🌼 آپ رضى اللّٰه عنه کا نَسَب شریف:*

سیّد اَبُوصَالِح مُوسیٰ جَنگی دوست
بن سیّد اَبُو عَبدُاللّٰه جیلی
بن سیّد یَحیٰ زاهد
بن سیّد محمد مُورِث رُوحى
بن سیّد داؤد امير امجد
بن سیّد مُوسیٰ ثانی
بن سیّد عَبدُاللّٰه ثانى
بن سیّد مُوسیٰ جون
بن سیّد عَبدُاللّٰه محض
بن سیّد امام حَسَنِ مُثنّیٰ
بن سیّدنا امام حَسَنِ مُجتَبىٰ
بن سیّدنا علی المرتضی
رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین

💎 حُضُور غَوثِ اَعظم کی وَالدَہُ مَاجدَہ کا اِسمِ گِرامی سَیِّدَہ فَاطِمَہ اُمُّ الخَیر اَمَةُ الجَبَّار تھا جو خَاندَانِ سَادَاتِ رَضوِی (بَنِسبَتِ اِمَام عَلِى رَضَا) سے تھیں۔

*🌼 آپ کی وَالدَۂ طَاہِرَہ کا شجرۂ نَسَب ذیل میں ہے۔*

سَیِّدَہ اُمُّ الخَیر فَاطِمَہ
بِنتِ سَیِّد عَبدُاللّٰه صُومَعِی
بِن اَبِی جَمَالُ الدِّین مُحَمَّد
بِن سَیِّد مَحمُود
بِن سَیِّد اَبِی العَطَاء عَبدُاللّٰه
بِن سَیِّد کمَالُ الدِّین عِیسیٰ
بِن سَیِّداَبِی عَلاءُ الدِّین مُحَمَّد الجَوَّاد
بِن اِمَام عَلِی الرَّضَا
👍1
بِن اِمَام مُوسیٰ الکاظِم
بِن اِمَام جَعفَر الصَّادِق
بِن اِمَام مُحَمَّد بَاقَر
بِن اِمَام زَینُ العَابِدِین عَلِی
بِن اَلاِمَامُ الہمَام اَلحُسَین شَہیدِ کربَلا
بِن اَلاِمَامُ الہمَام اَمِیرُالمُؤمِنِین سَیِّدنَا عَلِی اِبنِ اَبِی طَالِب
رَضِىَ اللّٰهُ تَعَالىٰ عَلَيهِم اَجمَعِين.

🌅 يعنى سركار غوث اعظم رَضِىَ اللّٰهُ عَنهُ اپنے وَالدِ مَاجد کی نِسبَت سے حَسَنِی اور وَالدَۂ مَاجدَہ کی نِسبَت سے حُسَینِی سَیِّد ہیں۔
(📖 بہجۃالاسرار، معدن الانوار، ذکرنسبہ، ص۱۷۱)
https://t.me/Faizan_E_DarulUloom_Amjadia_Ngp

*از قلم✍🏻 سراج تاباؔنی ـ کلکتہ*
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
*📚 « امجــــدی مضــــامین » 📚*
-----------------------------------------------------------
*🕯سِيرَتِ غَوثِ اَعظم رَضِىَ اللّٰهُ تَعَالىٰ عَنهُ🕯*


*💎 پانچویں/ چھٹی قِسط 💎*
🌅 سیّدنا غَوثِ اَعظم کے سَوَانِح و حَالات رَقَم کرنے والے تمام مُصَنّفِین و تَذکرہ نِگاروں کا اِس پر اِتّفاق ہے کہ:
شَیخ عَبدُالقادر جیلانی قدّس سِرّہ نے ایک مرتبہ بہت بڑی مَجلِس میں
(جس میں اپنے دَور کے اَقطاب و اَبدَال اور بہت بڑی تعداد میں اَولیاء و صُلحَاء بھی مَوجُود تھے، جبکہ عَام لوگ بھی ہزاروں كى تَعداد ميں مَوجُود تھے.)
دَورانِ وَعظ اپنی غَوثیَتِ کُبریٰ کی شان کا اِس طرح اظہار فرمایا کہ:
"قَدَمِی ھٰذِہِ عَلیٰ رَقبَة کُلِّ وَلِیِ اللّٰهِ" "ترجمہ:- میرایہ قدم تمام ولیوں کی گردنوں پر ہے"
تو مَجلِس میں موجود تمام اَولیاء نے اپنی گردنوں کو جُھکا دیا اور دُنیا کے دُوسرے عِلاقوں کے اَولیاء نے کشف کے ذریعے آپ کے اِعلان کو سُنا اور اپنے اپنے مَقام پر اپنی اپنی گردَنیں خَم کر دیں.
سُلطان الہند حضرت خَواجَہ غَريب نَواز سَيّدنا شیخ مُعِینُ الدِّین چِشتِى اَجمیری رَضِىَ اللّٰهُ عَنهُ اُس وقت خُرَاسَان كى پَہاڑی ميں حَالتِ مُراقبَہ ميں تھے آپ نے وہیں اپنی گردَن خَم کرتے ہوئے فرمايا:
"آقا! آپ کا قَدَم میری گردَن پر ہى نہيں بلکہ میرے سَر اور آنكھوں پر بھی ہے."
(📖 اخبار الاخیار/ شمائم امدادیہ/ سفینہ اولیأ/ قلائدالجواہر/ نزہةالخاطرالفاطر/ فتاویٰ افریقہ)

*💡 مُجَاہِدَات و رِیَاضَات :*

🌅 شیخ اَحمَد بِن اَبُوبَكر حَریمِی عَلَيهِمَاالرَّحمَہ فرماتے ہیں کہ سیّدنا غَوثِ اَعظم رَضِىَ اللّٰهُ عَنهُ نے فرمایا:
"میں پچیس سَال تک تَنِ تَنہا عِرَاق کے بیابانوں اور ویرانوں میں چلتا رہا۔
نہ ہی لوگ مجھے جانتے تھے اور نہ میں کسی کو جانتا تھا۔
اَلبَتَّہ جِنَّات رِجَالُ الغَیب عِلمِ طریقت کی تعلیم حاصل کرتے۔"

🌅 شیخ اَبُوالقَاسِم عُمَر بِن مَسعُود عَلَيهِمَاالرَّحمَہ فرماتے ہیں کہ سیّدنا غَوثِ اَعظم رَضِىَ اللّٰهُ عَنهُ نے فرمایا:
"اِبتدائے سِیَاحَت میں مجھ پر بہت اَحوَال طاری ہوتے تھے، میں اپنے وَجُود سے غَائِب ہو جاتا اور اکثر اوقات بیہوشی میں دوڑا کرتا تھا، جب وہ حالت مجھ سے اُٹھ جاتی تو میں اپنے آپ کو ایک دُور دَرَاز مَقام میں پاتا تھا۔"

🌅 شیخ اَبُو العَبَّاس اَحمَد بِن یَحییٰ بَغدَادِی عَلَيهِمَاالرَّحمَہ فرماتے ہیں کہ سیّدنا غوثِ اعظم رَضِىَ اللّٰهُ عَنهُ نے فرمایا کہ:
"میں چالیس سَال عِشَاء کے وَضُو سے فَجر کی نماز پڑھتا رہا اور پندرہ سال ساری ساری رات ایک پاؤں پر کھڑے ہو کر صُبح تک پُورا قرآنِ مَجید فِی شَب ختم کرتا رہا۔"

🌅 شیخ اَبُو العَبَّاس عَلَيهِ الرَّحمَہ فرماتے ہیں کہ سَیّدنا غوث اعظم رَضِىَ اللّٰهُ عَنهُ نے فرمایا کہ:
"میں بُرجِ عَجمِی (اُس بُرج کا نام جو آپ کے طویل قیام کی وَجہ سے بُرجِ عَجمِی مشہور ہو گیا تھا) گیارہ سال رہا، میں نے اُس میں اللّٰه تَعَالیٰ سے عَہد کیا کہ جب تک تو نہ کھلائے گا میں نہ کھاؤں گا نہ پیوں گا۔
اس عَہد کے چالیس اَیَّام بعد شیخ اَبُو سَعِید مَخزُومِی عَلَيهِ الرَّحمَہ تشريف لائے اور فرمایا کہ مُجھے اللّٰه تعالیٰ کا حُکم ہے کہ میں اپنے ہاتھ سے آپ کو کھانا کھلاؤں۔"

*💡 مُحِیُ الدِّین کی وَجہِ تَسمِیَہ:*

🌅 حضرت غَوثِ اَعظم رَضِىَ اللّٰهُ عَنهُ اِرشاد فرماتے ہیں کہ:
"ایک دِن میں بَغَرضِ سَیر و سِیَاحَت شہرِ بَغداد سے باہر گیا۔
واپسی پر راستہ میں ایک آدمی بیمار، زندگی سے لاچار، خَستَہ حَال میرے سَامنے آ مَوجُود ہوا۔ ضُعف و نَاتَوَانی کی حَالت میں زمین پر گِر پڑا اور اُس نے اِلتِجَا کی۔
یَاسَیّدِی! میری دَستگیری کرو اور میرے اِس بُرے حَال پر رَحم فرما کر نَفسِ مَسِیحَا سے پُھونک مَارو تاکہ میری حَالت دُرُست ہو جائے۔
میں نے اُس پر دَم کیا۔
دَم کرنا تھا کہ وہ پُھول کی مَانِند تَر و تَازَہ ہو گیا ، اُس کی لاغری کافور ہو گئی اور جِسم میں توانائی آ گئی۔
بعد ازاں اُس نے مجھ سے کہا:
اے عَبدُالقَادِر! مجھ کو پہچانتے ہو؟
میں نے کہا:
ہاں! تو میرے نانا حضرت مُحَمَّدُ رَّسُولُ اللّٰه صَلَّى اللّٰهُ تَعَالىٰ عَلَيهِ وَسَلَّم کا دِین اِسلام ہے۔
اس نے کہا:
آپ نے دُرُست فرمایا۔
اَب مُجھے اللّٰه تَعَالىٰ نے آپ کے ہاتھ سے زِندَہ کیا ہے۔
آپ مُحِیُ الدِّین ہیں۔
دِین کے مُجَدِّدِ اَعظم اور اِسلام کے مُصلِحِ اَکبَر ہیں۔
بعد ازاں میں شہرِ بَغداد کی جَامع مَسجِد میں گیا۔
جَامع مَسجِد کے راستہ میں ایک شخص نے بَآوازِ بُلند کہا۔
یَاسَیّدِی مُحِی الدِّین۔
میں نے مسجد میں پہنچ کر دوگانہ نفل شُکرانہ اَدَا کی اور مسجد میں اپنے وَظائِف میں مَصرُوف ہو گیا۔
بَعدِ فراغتِ وَظائِف مسجد سے نِکلا تو ایک بڑا ہُجُوم دو قطار میں کھڑا ہو گیا۔
اور ہر ایک نے بَآوازِ بُلند مُحِیُ الدِّین پُکارنا شروع کیا۔
اس سے قَبل مجھے کِسی نے اس لقَب سے نہیں پُکارا تھا۔
(📖 سَوَانِحِ غَوثِ اَعظَم)


*سِيرَتِ غَوثِ اَعظم رَضِىَ اللّٰهُ تَعَالىٰ عَنهُ*

*💎 چھٹی قِسط 💎*

*💡 آپ مُستَجَابُ الدَّعوَات تھے :*

شیخ اَبُو مُحَمَّدالدَّاربَانی عَلَيهِ الرَّحمَه فرماتے ہیں:
''سیّدنا عَبدُالقادِر جیلانی رَحمَةُاللّٰهِ تَعَالىٰ عَلَيه مُستَجَابُ الدَّعوَات تھے (یعنی آپ کی دُعائیں قبول ہوتی تھیں)
اگر آپ کسی شخص سے ناراض ہوتے تو اللّٰه عِزّوجَل اُس شخص سے بدلہ لیتا اور جس سے آپ خوش ہوتے تو اللّٰه عزوجل اُس کو اِنعام و اِکرَام سے نوازتا.
ضَعِیفُ الجِسم اور نَحِیفُ البَدَن ہونے کے باوجود آپ نوافل کی کثرت کیا کرتے اور ذکر واذکار میں مَصرُوف رہتے تھے۔
آپ اکثر اُمُور کے واقع ہونے سے پہلے اُن کی خبر دے دیا کرتے تھے اور جس طرح آپ ان کے رُونُما ہونے کی اِطلاع دیتے تھے اُسی طرح ہی واقعات رُوپذیر ہوتے تھے۔''
(📖 بہجۃالاسرار، ص۱۷۲)


*💡 آپ کی نیک سِیرَت بیویاں :*

حضرت شیخ شہابُ الدِّین سُہَروَردِی رَحمَةُاللّٰهِ تَعَالىٰ عَلَيه اپنی شُہرہ آفاق تَصنِیف "عَوَارفُ المعَارف" میں تحریر فرماتے ہیں:
''ایک شخص نے حضور سیّدنا غَوثُ الاَعظم رَضِىَ اللّٰهُ عَنهُ سے پُوچھا: ''یاسَیّدِی! آپ نے نکاح کیوں کیا؟
آپ نے فرمایا:
بے شک میں نکاح کرنا نہیں چاہتا تھا کہ اس سے میرے دُوسرے کاموں میں خَلل پَیدا ہو جائے گا ، مگر رسول اللہ ﷺ نے مجھے حُکم فرمایا کہ
''عَبدُالقادِر! تم نکاح کر لو ، اللّٰه عزّوجل کے ہاں ہر کام کا ایک وقت مُقرَّر ہے۔''
پھرجب یہ وقت آیا تو اللّٰه عزّوجل نے مجھے چار بیویاں عطا فرمائیں ، جن میں سے ہر ایک مجھ سے کامِل مُحبَّت رکھتی ہے۔''
(📖 عَوَارِفُ المَعَارِف، ص۱۰۱)

🌅 حضورسَیّدی غَوثِ اَعظم رَضِىَ اللّٰهُ عَنهُ کی بیویاں بھی آپ رَضِىَ اللّٰهُ عَنهُ کے رُوحانی کمالات سے فیضیَاب تھیں ، آپ کے صَاحبزادے حضرت شیخ عَبدُالجَبَّار اپنی وَالدَۂ مَاجدَہ کے مُتعَلّق بیان کرتے ہیں کہ:
''جب بھی وَالدۂ مُحترمہ کسی اندھیرے مکان میں تشریف لے جاتی تھیں تو وہاں چراغ کی طرح روشنی ہو جاتی تھى۔
ایک موقع پر میرے وَالدِ مُحترم غَوثِ پَاک رَحمَةُاللّٰهِ عَلَيه بھی وہاں تشریف لے آئے ، جیسے ہی آپ رَحمَةُاللّٰهِ عَلَيه کی نظر اس روشنی پر پڑی تو وہ روشنی فَوراً غَائِب ہوگئی ، تو آپ رَحمَةُاللّٰهِ عَلَيه نے اِرشاد فرمایا کہ:
''یہ شیطان تھا جو تیری خِدمَت کرتا تھا اسی لیے میں نے اسے خَتم کر دیا ، اب میں اس روشنی کو رَحمَانی نُور میں تبدیل کِیے دیتا ہوں۔"
''اس کے بعد وَالدۂ مُحترمہ جب بھی کسی تاریک مکان میں جاتی تھیں تو وہاں ایسا نُور ہوتا جو چَاند کی روشنی کی طرح معلوم ہوتا تھا۔''
(📖 بَہجَةُالاَسرَار وَ مَعدنِ الاَنوَار، ص۱۹۶)

💎 سَیّدنا غَوثِ اَعظم قُدّسَ سِرّہ کی لاتعداد و بےشُمار کرامات ہیں۔
چُنانچہ شیخ عَلی بِن اَبِی نَصرالہَیتِی نے ســـنه ۵٦٢ ھ میں فرمایا:
میں نے اپنے اَہلِ زمانہ میں سے کِسی کو حضور غَوثِ اَعظم رَضِىَ اللّٰهُ عَنهُ سے بڑھ کر صَاحبِ کرَامت نہیں دیکھا۔
جس وقت کوئی شخص آپ رَضِىَ اللّٰهُ عَنهُ کی کرَامت دیکھنے کی خَواہِش کرتا تو دیکھ لیتا۔

💎 شیخ اَبُو عُمَر عُثمَان صریفینی کا قول ہے کہ:
سَیّدنا غَوثِ اَعظم رَضِىَ اللّٰهُ عَنهُ کی کرَامَات سِلکِ مَروَارید کی مِثل تھیں جس میں یکے بعد دیگرے لگاتار موتی ہوں۔
اگر ہم میں سے ہر یَوم کوئی شخص کئی کرامات دیکھنی چاہتا تو دیکھ لیتا۔

💎 شیخ عَزیزُالدّین بِن عَبدالاسلام اور اِمَام نَووی فرماتے ہیں:
کرَامَاتِ سَیّدنا غَوثِ اَعظم رَضِىَ اللّٰهُ عَنهُ بہت کثرَت سے ہیں۔

💡 مُندَرجَہ بَالا اَولیَاءاللّٰه کے اَقوَال سے ظاہر ہے کہ سَیّدنا غَوثِ اَعظم رَضِىَ اللّٰهُ عَنهُ سے لا تعداد و بیشُمار کرامات كا ظہُور هُوا.

*💡 تَفویضِ سَجَّادگِی :*

شیخ اَبُو مُحَمَّد عَلَيهِ الرَّحمَه فرماتے ہیں کہ:
حَضرَت اِمَام حَسَن عَسکری رَضِىَ اللّٰهُ عَنهُ نے بَوَقتِ شَہَادَت اپنى سَجَّادگی ایک مُعتَمد بُزرگ کے حَوَالے کر کے وَصِیَّت فرمائی تھی کہ پَانچویں صَدِی کے آخری میں اَولادِ اِمَام حَسَنِ مُجتَبىٰ رَضِىَ اللّٰهُ تَعَالىٰ عَنهُ سے ایک بُزُرگ سَیّد عَبدُالقادِر بِن سَيّد مُوسیٰ تَوَلُّد ہوں گے ، یہ سَجَّادگی اُن کے لیے ہے ، لِہٰذا اُن کے ظہُور تک ایک دُوسرے سے مُنتَقِل ہوتی ہوئی ان کے پاس پہنچنی چاہیئے۔
چُنانچہ وہ سَجَّادگی حضور غَوثیت مَآب کے ظہُور تک اَمَانتاً مُنتَقِل ہوتی رہی۔
آخِر مِاہِ شَوَّالُ المُكرَّم ســـنه ۴۹۷ ھ میں ایک عَارِف نے حضور غَوثِ اَعظم رَضِىَ اللّٰهُ عَنهُ کی خِدمَت میں پیش کیا۔
https://t.me/Faizan_E_DarulUloom_Amjadia_Ngp

*از قلم✍🏻 سراج تاباؔنی ـ کلکتہ*
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
*📚 « امجــــدی مضــــامین » 📚*
-----------------------------------------------------------
*🕯سِيرَتِ غَوثِ اَعظم رَضِىَ اللّٰهُ تَعَالىٰ عَنهُ🕯*


*💎 پانچویں/ چھٹی قِسط 💎*
🌅 سیّدنا غَوثِ اَعظم کے سَوَانِح و حَالات رَقَم کرنے والے تمام مُصَنّفِین و تَذکرہ نِگاروں کا اِس پر اِتّفاق ہے کہ:
شَیخ عَبدُالقادر جیلانی قدّس سِرّہ نے ایک مرتبہ بہت بڑی مَجلِس میں
(جس میں اپنے دَور کے اَقطاب و اَبدَال اور بہت بڑی تعداد میں اَولیاء و صُلحَاء بھی مَوجُود تھے، جبکہ عَام لوگ بھی ہزاروں كى تَعداد ميں مَوجُود تھے.)
دَورانِ وَعظ اپنی غَوثیَتِ کُبریٰ کی شان کا اِس طرح اظہار فرمایا کہ:
"قَدَمِی ھٰذِہِ عَلیٰ رَقبَة کُلِّ وَلِیِ اللّٰهِ" "ترجمہ:- میرایہ قدم تمام ولیوں کی گردنوں پر ہے"
تو مَجلِس میں موجود تمام اَولیاء نے اپنی گردنوں کو جُھکا دیا اور دُنیا کے دُوسرے عِلاقوں کے اَولیاء نے کشف کے ذریعے آپ کے اِعلان کو سُنا اور اپنے اپنے مَقام پر اپنی اپنی گردَنیں خَم کر دیں.
سُلطان الہند حضرت خَواجَہ غَريب نَواز سَيّدنا شیخ مُعِینُ الدِّین چِشتِى اَجمیری رَضِىَ اللّٰهُ عَنهُ اُس وقت خُرَاسَان كى پَہاڑی ميں حَالتِ مُراقبَہ ميں تھے آپ نے وہیں اپنی گردَن خَم کرتے ہوئے فرمايا:
"آقا! آپ کا قَدَم میری گردَن پر ہى نہيں بلکہ میرے سَر اور آنكھوں پر بھی ہے."
(📖 اخبار الاخیار/ شمائم امدادیہ/ سفینہ اولیأ/ قلائدالجواہر/ نزہةالخاطرالفاطر/ فتاویٰ افریقہ)

*💡 مُجَاہِدَات و رِیَاضَات :*

🌅 شیخ اَحمَد بِن اَبُوبَكر حَریمِی عَلَيهِمَاالرَّحمَہ فرماتے ہیں کہ سیّدنا غَوثِ اَعظم رَضِىَ اللّٰهُ عَنهُ نے فرمایا:
"میں پچیس سَال تک تَنِ تَنہا عِرَاق کے بیابانوں اور ویرانوں میں چلتا رہا۔
نہ ہی لوگ مجھے جانتے تھے اور نہ میں کسی کو جانتا تھا۔
اَلبَتَّہ جِنَّات رِجَالُ الغَیب عِلمِ طریقت کی تعلیم حاصل کرتے۔"

🌅 شیخ اَبُوالقَاسِم عُمَر بِن مَسعُود عَلَيهِمَاالرَّحمَہ فرماتے ہیں کہ سیّدنا غَوثِ اَعظم رَضِىَ اللّٰهُ عَنهُ نے فرمایا:
"اِبتدائے سِیَاحَت میں مجھ پر بہت اَحوَال طاری ہوتے تھے، میں اپنے وَجُود سے غَائِب ہو جاتا اور اکثر اوقات بیہوشی میں دوڑا کرتا تھا، جب وہ حالت مجھ سے اُٹھ جاتی تو میں اپنے آپ کو ایک دُور دَرَاز مَقام میں پاتا تھا۔"

🌅 شیخ اَبُو العَبَّاس اَحمَد بِن یَحییٰ بَغدَادِی عَلَيهِمَاالرَّحمَہ فرماتے ہیں کہ سیّدنا غوثِ اعظم رَضِىَ اللّٰهُ عَنهُ نے فرمایا کہ:
"میں چالیس سَال عِشَاء کے وَضُو سے فَجر کی نماز پڑھتا رہا اور پندرہ سال ساری ساری رات ایک پاؤں پر کھڑے ہو کر صُبح تک پُورا قرآنِ مَجید فِی شَب ختم کرتا رہا۔"

🌅 شیخ اَبُو العَبَّاس عَلَيهِ الرَّحمَہ فرماتے ہیں کہ سَیّدنا غوث اعظم رَضِىَ اللّٰهُ عَنهُ نے فرمایا کہ:
"میں بُرجِ عَجمِی (اُس بُرج کا نام جو آپ کے طویل قیام کی وَجہ سے بُرجِ عَجمِی مشہور ہو گیا تھا) گیارہ سال رہا، میں نے اُس میں اللّٰه تَعَالیٰ سے عَہد کیا کہ جب تک تو نہ کھلائے گا میں نہ کھاؤں گا نہ پیوں گا۔
اس عَہد کے چالیس اَیَّام بعد شیخ اَبُو سَعِید مَخزُومِی عَلَيهِ الرَّحمَہ تشريف لائے اور فرمایا کہ مُجھے اللّٰه تعالیٰ کا حُکم ہے کہ میں اپنے ہاتھ سے آپ کو کھانا کھلاؤں۔"

*💡 مُحِیُ الدِّین کی وَجہِ تَسمِیَہ:*

🌅 حضرت غَوثِ اَعظم رَضِىَ اللّٰهُ عَنهُ اِرشاد فرماتے ہیں کہ:
"ایک دِن میں بَغَرضِ سَیر و سِیَاحَت شہرِ بَغداد سے باہر گیا۔
واپسی پر راستہ میں ایک آدمی بیمار، زندگی سے لاچار، خَستَہ حَال میرے سَامنے آ مَوجُود ہوا۔ ضُعف و نَاتَوَانی کی حَالت میں زمین پر گِر پڑا اور اُس نے اِلتِجَا کی۔
یَاسَیّدِی! میری دَستگیری کرو اور میرے اِس بُرے حَال پر رَحم فرما کر نَفسِ مَسِیحَا سے پُھونک مَارو تاکہ میری حَالت دُرُست ہو جائے۔
میں نے اُس پر دَم کیا۔
دَم کرنا تھا کہ وہ پُھول کی مَانِند تَر و تَازَہ ہو گیا ، اُس کی لاغری کافور ہو گئی اور جِسم میں توانائی آ گئی۔
بعد ازاں اُس نے مجھ سے کہا:
اے عَبدُالقَادِر! مجھ کو پہچانتے ہو؟
میں نے کہا:
ہاں! تو میرے نانا حضرت مُحَمَّدُ رَّسُولُ اللّٰه صَلَّى اللّٰهُ تَعَالىٰ عَلَيهِ وَسَلَّم کا دِین اِسلام ہے۔
اس نے کہا:
آپ نے دُرُست فرمایا۔
اَب مُجھے اللّٰه تَعَالىٰ نے آپ کے ہاتھ سے زِندَہ کیا ہے۔
آپ مُحِیُ الدِّین ہیں۔
دِین کے مُجَدِّدِ اَعظم اور اِسلام کے مُصلِحِ اَکبَر ہیں۔
بعد ازاں میں شہرِ بَغداد کی جَامع مَسجِد میں گیا۔
جَامع مَسجِد کے راستہ میں ایک شخص نے بَآوازِ بُلند کہا۔
یَاسَیّدِی مُحِی الدِّین۔
میں نے مسجد میں پہنچ کر دوگانہ نفل شُکرانہ اَدَا کی اور مسجد میں اپنے وَظائِف میں مَصرُوف ہو گیا۔
بَعدِ فراغتِ وَظائِف مسجد سے نِکلا تو ایک بڑا ہُجُوم دو قطار میں کھڑا ہو گیا۔
اور ہر ایک نے بَآوازِ بُلند مُحِیُ الدِّین پُکارنا شروع کیا۔
اس سے قَبل مجھے کِسی نے اس لقَب سے نہیں پُکارا تھا۔
(📖 سَوَانِحِ غَوثِ اَعظَم)


*سِيرَتِ غَوثِ اَعظم رَضِىَ اللّٰهُ تَعَالىٰ عَنهُ*

*💎 چھٹی قِسط 💎*

*💡 آپ مُستَجَابُ الدَّعوَات تھے :*

شیخ اَبُو مُحَمَّدالدَّاربَانی عَلَيهِ الرَّحمَه فرماتے ہیں:
''سیّدنا عَبدُالقادِر جیلانی رَحمَةُاللّٰهِ تَعَالىٰ عَلَيه مُستَجَابُ الدَّعوَات تھے (یعنی آپ کی دُعائیں قبول ہوتی تھیں)
اگر آپ کسی شخص سے ناراض ہوتے تو اللّٰه عِزّوجَل اُس شخص سے بدلہ لیتا اور جس سے آپ خوش ہوتے تو اللّٰه عزوجل اُس کو اِنعام و اِکرَام سے نوازتا.
ضَعِیفُ الجِسم اور نَحِیفُ البَدَن ہونے کے باوجود آپ نوافل کی کثرت کیا کرتے اور ذکر واذکار میں مَصرُوف رہتے تھے۔
آپ اکثر اُمُور کے واقع ہونے سے پہلے اُن کی خبر دے دیا کرتے تھے اور جس طرح آپ ان کے رُونُما ہونے کی اِطلاع دیتے تھے اُسی طرح ہی واقعات رُوپذیر ہوتے تھے۔''
(📖 بہجۃالاسرار، ص۱۷۲)


*💡 آپ کی نیک سِیرَت بیویاں :*

حضرت شیخ شہابُ الدِّین سُہَروَردِی رَحمَةُاللّٰهِ تَعَالىٰ عَلَيه اپنی شُہرہ آفاق تَصنِیف "عَوَارفُ المعَارف" میں تحریر فرماتے ہیں:
''ایک شخص نے حضور سیّدنا غَوثُ الاَعظم رَضِىَ اللّٰهُ عَنهُ سے پُوچھا: ''یاسَیّدِی! آپ نے نکاح کیوں کیا؟
آپ نے فرمایا:
بے شک میں نکاح کرنا نہیں چاہتا تھا کہ اس سے میرے دُوسرے کاموں میں خَلل پَیدا ہو جائے گا ، مگر رسول اللہ ﷺ نے مجھے حُکم فرمایا کہ
''عَبدُالقادِر! تم نکاح کر لو ، اللّٰه عزّوجل کے ہاں ہر کام کا ایک وقت مُقرَّر ہے۔''
پھرجب یہ وقت آیا تو اللّٰه عزّوجل نے مجھے چار بیویاں عطا فرمائیں ، جن میں سے ہر ایک مجھ سے کامِل مُحبَّت رکھتی ہے۔''
(📖 عَوَارِفُ المَعَارِف، ص۱۰۱)

🌅 حضورسَیّدی غَوثِ اَعظم رَضِىَ اللّٰهُ عَنهُ کی بیویاں بھی آپ رَضِىَ اللّٰهُ عَنهُ کے رُوحانی کمالات سے فیضیَاب تھیں ، آپ کے صَاحبزادے حضرت شیخ عَبدُالجَبَّار اپنی وَالدَۂ مَاجدَہ کے مُتعَلّق بیان کرتے ہیں کہ:
''جب بھی وَالدۂ مُحترمہ کسی اندھیرے مکان میں تشریف لے جاتی تھیں تو وہاں چراغ کی طرح روشنی ہو جاتی تھى۔
ایک موقع پر میرے وَالدِ مُحترم غَوثِ پَاک رَحمَةُاللّٰهِ عَلَيه بھی وہاں تشریف لے آئے ، جیسے ہی آپ رَحمَةُاللّٰهِ عَلَيه کی نظر اس روشنی پر پڑی تو وہ روشنی فَوراً غَائِب ہوگئی ، تو آپ رَحمَةُاللّٰهِ عَلَيه نے اِرشاد فرمایا کہ:
''یہ شیطان تھا جو تیری خِدمَت کرتا تھا اسی لیے میں نے اسے خَتم کر دیا ، اب میں اس روشنی کو رَحمَانی نُور میں تبدیل کِیے دیتا ہوں۔"
''اس کے بعد وَالدۂ مُحترمہ جب بھی کسی تاریک مکان میں جاتی تھیں تو وہاں ایسا نُور ہوتا جو چَاند کی روشنی کی طرح معلوم ہوتا تھا۔''
(📖 بَہجَةُالاَسرَار وَ مَعدنِ الاَنوَار، ص۱۹۶)

💎 سَیّدنا غَوثِ اَعظم قُدّسَ سِرّہ کی لاتعداد و بےشُمار کرامات ہیں۔
چُنانچہ شیخ عَلی بِن اَبِی نَصرالہَیتِی نے ســـنه ۵٦٢ ھ میں فرمایا:
میں نے اپنے اَہلِ زمانہ میں سے کِسی کو حضور غَوثِ اَعظم رَضِىَ اللّٰهُ عَنهُ سے بڑھ کر صَاحبِ کرَامت نہیں دیکھا۔
جس وقت کوئی شخص آپ رَضِىَ اللّٰهُ عَنهُ کی کرَامت دیکھنے کی خَواہِش کرتا تو دیکھ لیتا۔

💎 شیخ اَبُو عُمَر عُثمَان صریفینی کا قول ہے کہ:
سَیّدنا غَوثِ اَعظم رَضِىَ اللّٰهُ عَنهُ کی کرَامَات سِلکِ مَروَارید کی مِثل تھیں جس میں یکے بعد دیگرے لگاتار موتی ہوں۔
اگر ہم میں سے ہر یَوم کوئی شخص کئی کرامات دیکھنی چاہتا تو دیکھ لیتا۔

💎 شیخ عَزیزُالدّین بِن عَبدالاسلام اور اِمَام نَووی فرماتے ہیں:
کرَامَاتِ سَیّدنا غَوثِ اَعظم رَضِىَ اللّٰهُ عَنهُ بہت کثرَت سے ہیں۔

💡 مُندَرجَہ بَالا اَولیَاءاللّٰه کے اَقوَال سے ظاہر ہے کہ سَیّدنا غَوثِ اَعظم رَضِىَ اللّٰهُ عَنهُ سے لا تعداد و بیشُمار کرامات كا ظہُور هُوا.

*💡 تَفویضِ سَجَّادگِی :*

شیخ اَبُو مُحَمَّد عَلَيهِ الرَّحمَه فرماتے ہیں کہ:
حَضرَت اِمَام حَسَن عَسکری رَضِىَ اللّٰهُ عَنهُ نے بَوَقتِ شَہَادَت اپنى سَجَّادگی ایک مُعتَمد بُزرگ کے حَوَالے کر کے وَصِیَّت فرمائی تھی کہ پَانچویں صَدِی کے آخری میں اَولادِ اِمَام حَسَنِ مُجتَبىٰ رَضِىَ اللّٰهُ تَعَالىٰ عَنهُ سے ایک بُزُرگ سَیّد عَبدُالقادِر بِن سَيّد مُوسیٰ تَوَلُّد ہوں گے ، یہ سَجَّادگی اُن کے لیے ہے ، لِہٰذا اُن کے ظہُور تک ایک دُوسرے سے مُنتَقِل ہوتی ہوئی ان کے پاس پہنچنی چاہیئے۔
چُنانچہ وہ سَجَّادگی حضور غَوثیت مَآب کے ظہُور تک اَمَانتاً مُنتَقِل ہوتی رہی۔
آخِر مِاہِ شَوَّالُ المُكرَّم ســـنه ۴۹۷ ھ میں ایک عَارِف نے حضور غَوثِ اَعظم رَضِىَ اللّٰهُ عَنهُ کی خِدمَت میں پیش کیا۔
https://t.me/Faizan_E_DarulUloom_Amjadia_Ngp

*از قلم✍🏻 سراج تاباؔنی ـ کلکتہ*
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM