This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from فیضـان دارالعــلوم امجـدیہ ناگپور
*📚 « امجــــدی مضــــامین » 📚*
-----------------------------------------------------------
*🕯درود پاک کی فضیلتیں اور برکتیں🕯*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
📬 لك الحمد يا الله، والصلاة والسلام عليك يا رسول الله صلى الله تعالىٰ عليه وآله وصحبه وسلم وبعد!۔۔
اللہ کے حبیب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم پر درود و سلام بھیجنا ایک محبوب و مقبول ترین عمل ہے۔ اس کے فضائل اور برکات، کتب احادیث میں بہ کثرت وارد ہیں۔ درود پاک پڑھنے سے بڑی سعادتیں اور برکتیں حاصل ہوتی ہیں۔ اس کی ایک جھلک پیش ہے، ملاحظہ فرمائیں۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے:۔ اِنَّ اللّٰهَ وَمَلٰٓئِکَتَہٗ یُصَلُّوۡنَ عَلَی النَّبِیِّ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا صَلُّوۡا عَلَیۡهِ وَسَلِّمُوۡا تَسۡلِیۡمًا [سورة الأحزاب: ٣٣، الآية: ٥٦]۔ بےشک اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو! ان پر درود اور خوب سلام بھیجو[کنز العرفان]۔
آیت کریمہ سے درود پاک کی فضیلت، اور سنت ربوبیت ہر شخص پر واضح ہے۔
تفسیر “صراط الجنان” میں اس آیت کے تحت ہے کہ علامہ احمد صاوی -رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ- فرماتے ہیں کہ:۔ ” اس آیت مبارکہ میں اس بات پر بہت بڑی دلیل ہے کہ تاج دار رسالت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم رحمتوں کے نازل ہونے کی جگہ ہیں، اور علی الاطلاق ساری مخلوق سے افضل ہیں۔” [سورة الأحزاب: ٣٣، تحت الآية]۔
درود پاک کی فضیلتیں اور برکتیں احادیث کریمہ کی روشنی میں:
احادیث کریمہ میں درود پاک پڑھنے کی بہ کثرت ترغیب دلائی گئی ہے، اور کثیر مقامات پر اس کی فضیلت بیان کی گئی ہے، ترغیب کے لیے یہاں 20/ احادیث کریمہ پیش ہیں، ملاحظہ ہوں۔
درود پاک پڑھنے کا وجوب:
حديث نمبر:[1] حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:۔ بخیل وہ ہے جس کے پاس میرا ذکر کیا جائے؛ پھر وہ مجھ پر درود نہ پڑھے [السنن الکبریٰ للنسائی، باب المجلد السابع]۔
حديث نمبر:[2] حضرت ابو ذررضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ایک دن میں نکلا اور نبی پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی بارگاہ اقدس میں آیا تو آقاے کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:۔کیا میں تمہیں سب سے بڑے بخیل کے بارے میں خبر نہ دوں
صحابہ کرام نے عرض کیا: کیوں نہیں یا رسول اللہ! صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم تو آقاے کریم صلی اللہ علیہ تعالیٰ وسلم نے فرمایا:۔
جس کے پاس میرا تذکرہ ہو؛ پھر وہ مجھ پر درود نہ پڑھے؛ وہ سب سے بڑا بخیل ہے [الصلاۃ علی النبی -صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم-، حدیث: 29] ۔
ایک روایت میں یوں مذکور ہے آدمی کے بخیل ہونے کے لیے اتنا کافی ہے کہ اس کے پاس میں ذکر کیا جاؤں اور وہ مجھ پر درود شریف نہ پڑھے [فضل الصلاۃ علی النبی -صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم-، حدیث: 38]۔
حديث نمبر:[3] حضرت ابو ہریرہ -رضی اللہ تعالیٰ عنہ- سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:۔ وہ شخص ذلیل و خوار ہو جس کے سامنے میرا ذکر ہو، اور وہ مجھ پر درود نہ پڑھے۔ وہ شخص ذلیل و خوار ہو جس نے رمضان شریف کا مہینہ پایا، اور اس کی بخشش سے پہلے رمضان گزر گیا۔
اور وہ شخص ذلیل وخوار ہو جس نے ماں باپ دونوں کو ان کے بڑھاپے میں پایا، اور انہوں نے اس کو جنت میں داخل نہ کیا یعنی ان کی خدمت و اطاعت نہ کی کہ جنت کا مستحق ہو جاتا- [سنن ترمذی، باب قول رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم- رغم انف رجل]۔
حديث نمبر:[4] حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:۔ جو شخص مجھ پر درود نہ بھیجے؛ اس کا وضو ہی نہیں [الصلاۃ علی النبی -صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم-، حدیث: 80]۔
ایک روایت میں ہے: اس شخص کی نماز ہی نہیں؛ جو اپنے نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم پر درود نہ بھیجے [السنن للدار قطنی، باب ذکر وجوب الصلاۃ علی النبی -صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم-]۔
دوسری روایت میں اس طرح ہے: نماز، طہارت اور مجھ پر درود بھیجنے ہی سے مقبول ہوتی ہے [السنن للدار قطنی الخ]۔
صـــــل اللہ تعا لیٰ علیٰ محمد ﷺ
حديث نمبر:[5] حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما روایت کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا:۔ جو شخص مجھ پر درود پڑھنا بھول گیا؛ وہ جنت کا راستہ بھول گیا [سنن ابن ماجہ، باب الصلاۃ علی النبی -صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم-]۔
کثرت کے ساتھ درود پاک پڑھنے کا ثبوت:
-----------------------------------------------------------
*🕯درود پاک کی فضیلتیں اور برکتیں🕯*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
📬 لك الحمد يا الله، والصلاة والسلام عليك يا رسول الله صلى الله تعالىٰ عليه وآله وصحبه وسلم وبعد!۔۔
اللہ کے حبیب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم پر درود و سلام بھیجنا ایک محبوب و مقبول ترین عمل ہے۔ اس کے فضائل اور برکات، کتب احادیث میں بہ کثرت وارد ہیں۔ درود پاک پڑھنے سے بڑی سعادتیں اور برکتیں حاصل ہوتی ہیں۔ اس کی ایک جھلک پیش ہے، ملاحظہ فرمائیں۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے:۔ اِنَّ اللّٰهَ وَمَلٰٓئِکَتَہٗ یُصَلُّوۡنَ عَلَی النَّبِیِّ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا صَلُّوۡا عَلَیۡهِ وَسَلِّمُوۡا تَسۡلِیۡمًا [سورة الأحزاب: ٣٣، الآية: ٥٦]۔ بےشک اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو! ان پر درود اور خوب سلام بھیجو[کنز العرفان]۔
آیت کریمہ سے درود پاک کی فضیلت، اور سنت ربوبیت ہر شخص پر واضح ہے۔
تفسیر “صراط الجنان” میں اس آیت کے تحت ہے کہ علامہ احمد صاوی -رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ- فرماتے ہیں کہ:۔ ” اس آیت مبارکہ میں اس بات پر بہت بڑی دلیل ہے کہ تاج دار رسالت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم رحمتوں کے نازل ہونے کی جگہ ہیں، اور علی الاطلاق ساری مخلوق سے افضل ہیں۔” [سورة الأحزاب: ٣٣، تحت الآية]۔
درود پاک کی فضیلتیں اور برکتیں احادیث کریمہ کی روشنی میں:
احادیث کریمہ میں درود پاک پڑھنے کی بہ کثرت ترغیب دلائی گئی ہے، اور کثیر مقامات پر اس کی فضیلت بیان کی گئی ہے، ترغیب کے لیے یہاں 20/ احادیث کریمہ پیش ہیں، ملاحظہ ہوں۔
درود پاک پڑھنے کا وجوب:
حديث نمبر:[1] حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:۔ بخیل وہ ہے جس کے پاس میرا ذکر کیا جائے؛ پھر وہ مجھ پر درود نہ پڑھے [السنن الکبریٰ للنسائی، باب المجلد السابع]۔
حديث نمبر:[2] حضرت ابو ذررضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ایک دن میں نکلا اور نبی پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی بارگاہ اقدس میں آیا تو آقاے کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:۔کیا میں تمہیں سب سے بڑے بخیل کے بارے میں خبر نہ دوں
صحابہ کرام نے عرض کیا: کیوں نہیں یا رسول اللہ! صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم تو آقاے کریم صلی اللہ علیہ تعالیٰ وسلم نے فرمایا:۔
جس کے پاس میرا تذکرہ ہو؛ پھر وہ مجھ پر درود نہ پڑھے؛ وہ سب سے بڑا بخیل ہے [الصلاۃ علی النبی -صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم-، حدیث: 29] ۔
ایک روایت میں یوں مذکور ہے آدمی کے بخیل ہونے کے لیے اتنا کافی ہے کہ اس کے پاس میں ذکر کیا جاؤں اور وہ مجھ پر درود شریف نہ پڑھے [فضل الصلاۃ علی النبی -صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم-، حدیث: 38]۔
حديث نمبر:[3] حضرت ابو ہریرہ -رضی اللہ تعالیٰ عنہ- سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:۔ وہ شخص ذلیل و خوار ہو جس کے سامنے میرا ذکر ہو، اور وہ مجھ پر درود نہ پڑھے۔ وہ شخص ذلیل و خوار ہو جس نے رمضان شریف کا مہینہ پایا، اور اس کی بخشش سے پہلے رمضان گزر گیا۔
اور وہ شخص ذلیل وخوار ہو جس نے ماں باپ دونوں کو ان کے بڑھاپے میں پایا، اور انہوں نے اس کو جنت میں داخل نہ کیا یعنی ان کی خدمت و اطاعت نہ کی کہ جنت کا مستحق ہو جاتا- [سنن ترمذی، باب قول رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم- رغم انف رجل]۔
حديث نمبر:[4] حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:۔ جو شخص مجھ پر درود نہ بھیجے؛ اس کا وضو ہی نہیں [الصلاۃ علی النبی -صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم-، حدیث: 80]۔
ایک روایت میں ہے: اس شخص کی نماز ہی نہیں؛ جو اپنے نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم پر درود نہ بھیجے [السنن للدار قطنی، باب ذکر وجوب الصلاۃ علی النبی -صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم-]۔
دوسری روایت میں اس طرح ہے: نماز، طہارت اور مجھ پر درود بھیجنے ہی سے مقبول ہوتی ہے [السنن للدار قطنی الخ]۔
صـــــل اللہ تعا لیٰ علیٰ محمد ﷺ
حديث نمبر:[5] حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما روایت کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا:۔ جو شخص مجھ پر درود پڑھنا بھول گیا؛ وہ جنت کا راستہ بھول گیا [سنن ابن ماجہ، باب الصلاۃ علی النبی -صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم-]۔
کثرت کے ساتھ درود پاک پڑھنے کا ثبوت:
👍1
Forwarded from فیضـان دارالعــلوم امجـدیہ ناگپور
حدیث نمبر:[1] حضرت عبد اللہ بن عباس -رضی اللہ تعالیٰ عنہما- روایت کرتے ہیں کہ میں نے تمہارے نبی -صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم- کو فرماتے ہویے سنا: ((اپنے نبی -صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم- پر روشن رات اور روشن دن یعنی جمعہ کی رات اور جمعہ کے دن میں کثرت کے ساتھ درود پڑھو)) [شعب الایمان للبیہقی، باب فضل الجمعۃ]۔
حديث نمبر:[2] حضرت عمر بن خطاب -رضی اللہ تعالیٰ عنہ- سے مروی ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: روشن رات اور روشن دن میں مجھ پر کثرت کے ساتھ درود بھیجو؛ اس لیے کہ تمھارا درود مجھ پر پیش کیا جاتا ہے تو میں تمہارے لیے دعا اور استغفار کرتا ہوں ” روشن رات ” سے جمعہ کی رات، اور “روشن دن” سے جمعہ کا دن مراد ہے۔ [القربۃ الی رب العالمین الخ، باب فضل الصلاۃ علی النبی عشیۃ الخمیس ویوم الجمعۃ، حدیث: 110، ص: 112]۔
حديث نمبر:[3] حضرت حبان بن منقذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے بارگاہ رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم میں عرض کیا: اے اللہ کے رسول! صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کیا میں اپنی دعا کا ایک ثلث آپ پر درود پڑھنے کے لیے خاص کر دوں؟ تو نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاں! اگر تو چاہے ۔ پھر اس نے کہا: کیا دو ثلث آپ پر درود بھیجنے کے لیے خاص کر دوں؟ تو آقاے کریم -صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہاں
پھر اس نے کہا: کیا آپ پر مکمل درود ہی بھیجوں؟ تو پیارے آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تب تو اللہ تعالیٰ تیرے دنیا و آخرت کے معاملات کے لیے کافی ہوگا [المعجم الکبیر للطبرانی، باب: 1، جزء: 4]۔
حديث نمبر:[4] حضرت ابو امامہ باہلی رضی اللہ تعالیٰ عنہ- سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:۔ ہر جمعہ کو کثرت کے ساتھ مجھ پر درود پڑھا کرو؛ کیوں کہ میری امت کا درود ہر جمعہ کو پیش کیا جاتا ہے، تو ان میں سے جو کثرت کے ساتھ مجھ پر درود پڑھے گا؛ قدر و منزلت کے اعتبار سے مجھ سے زیادہ قریب ہوگا)) [سنن کبریٰ، باب ما یؤمر بہ فی لیلۃ الجمعۃ ویومھا إلخ]۔
حديث نمبر:[5] حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو مجھ پر کثرت کے ساتھ درود بھیجے گا؛ وہ قیامت کے دن مجھ سے زیادہ قریب ہوگا [سنن ترمذی، باب ما جاء فی فضل الصلاۃ علی النبی -صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم-]۔
درود پاک پڑھنے کی فضیلت:
حديث نمبر:[1] حضرت علی بن ابی طالب -رضی اللہ تعالیٰ عنہ- سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جب تک نبی پر درود نہیں پڑھا جاتا؛ اس وقت تک دعا اور آسمان کے درمیان ایک حجاب رہتا ہے، پھر جب محمد عربی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم پر درود پڑھ لیا جاتا ہے تو حجاب پھٹ جاتا ہے اور دعا قبول کر لی جاتی ہے، اور اگر درود نہ پڑھا جائے تو اللہ رب العزت دعا کو قبول نہیں فرماتا ہے [وسیلۃ الطالبین]۔
حديث نمبر:[2] حضرت عمر بن ربیعہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا جو مجھ پر ایک بار درود پڑھتا ہے؛ فرشتے اس کے لیے استغفار کرتے رہتے ہیں جب تک وہ درود پڑھتا رہے، اب بندہ چاہے اس میں کمی کرے یا زیادتی کرے [سنن ابن ماجہ، باب الصلاۃ علی النبی -صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم-، مسند احمد بن حنبل، باب حدیث عامر بن ربیعۃ]۔
حديث نمبر:[3] حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ میں نماز پڑھ رہا تھا، اور نبی پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم تشریف فرما تھے، حضرت ابوبکر اور عمر -رضی الله تعالیٰ عنہما بھی آپ کے ساتھ تھے، جب میں نماز سے فارغ ہوا تو اولاً اللہ کی حمد وثنا کی، پھر نبی پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجا، پھر اپنے لیے دعا کی، تو نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو مانگو؛ دیا جائے گا [سنن ترمذی، باب ما ذکر فی الثناء علی اللہ والصلاۃ علی النبی -صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم-]۔
حديث نمبر:[4]حضرت ابو سعید خدری -رضی اللہ تعالیٰ عنہ- سے مروی ہے، انہوں نے فرمایا کہ اللہ کے رسول -صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو لوگ مجلس میں بیٹھتے ہیں، اور مجھ پر درود پڑھے بغیر اٹھ جاتے ہیں تو قیامت کے دن وہ مجلس ان کے لیے باعث حسرت ہوگی، اگر جنت میں داخل بھی ہو گئے تو ثواب سے محرومی کے باعث انہیں ندامت ہوگی [شعب الایمان للبیھقی]۔
حديث نمبر:[2] حضرت عمر بن خطاب -رضی اللہ تعالیٰ عنہ- سے مروی ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: روشن رات اور روشن دن میں مجھ پر کثرت کے ساتھ درود بھیجو؛ اس لیے کہ تمھارا درود مجھ پر پیش کیا جاتا ہے تو میں تمہارے لیے دعا اور استغفار کرتا ہوں ” روشن رات ” سے جمعہ کی رات، اور “روشن دن” سے جمعہ کا دن مراد ہے۔ [القربۃ الی رب العالمین الخ، باب فضل الصلاۃ علی النبی عشیۃ الخمیس ویوم الجمعۃ، حدیث: 110، ص: 112]۔
حديث نمبر:[3] حضرت حبان بن منقذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے بارگاہ رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم میں عرض کیا: اے اللہ کے رسول! صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کیا میں اپنی دعا کا ایک ثلث آپ پر درود پڑھنے کے لیے خاص کر دوں؟ تو نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاں! اگر تو چاہے ۔ پھر اس نے کہا: کیا دو ثلث آپ پر درود بھیجنے کے لیے خاص کر دوں؟ تو آقاے کریم -صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہاں
پھر اس نے کہا: کیا آپ پر مکمل درود ہی بھیجوں؟ تو پیارے آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تب تو اللہ تعالیٰ تیرے دنیا و آخرت کے معاملات کے لیے کافی ہوگا [المعجم الکبیر للطبرانی، باب: 1، جزء: 4]۔
حديث نمبر:[4] حضرت ابو امامہ باہلی رضی اللہ تعالیٰ عنہ- سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:۔ ہر جمعہ کو کثرت کے ساتھ مجھ پر درود پڑھا کرو؛ کیوں کہ میری امت کا درود ہر جمعہ کو پیش کیا جاتا ہے، تو ان میں سے جو کثرت کے ساتھ مجھ پر درود پڑھے گا؛ قدر و منزلت کے اعتبار سے مجھ سے زیادہ قریب ہوگا)) [سنن کبریٰ، باب ما یؤمر بہ فی لیلۃ الجمعۃ ویومھا إلخ]۔
حديث نمبر:[5] حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو مجھ پر کثرت کے ساتھ درود بھیجے گا؛ وہ قیامت کے دن مجھ سے زیادہ قریب ہوگا [سنن ترمذی، باب ما جاء فی فضل الصلاۃ علی النبی -صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم-]۔
درود پاک پڑھنے کی فضیلت:
حديث نمبر:[1] حضرت علی بن ابی طالب -رضی اللہ تعالیٰ عنہ- سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جب تک نبی پر درود نہیں پڑھا جاتا؛ اس وقت تک دعا اور آسمان کے درمیان ایک حجاب رہتا ہے، پھر جب محمد عربی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم پر درود پڑھ لیا جاتا ہے تو حجاب پھٹ جاتا ہے اور دعا قبول کر لی جاتی ہے، اور اگر درود نہ پڑھا جائے تو اللہ رب العزت دعا کو قبول نہیں فرماتا ہے [وسیلۃ الطالبین]۔
حديث نمبر:[2] حضرت عمر بن ربیعہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا جو مجھ پر ایک بار درود پڑھتا ہے؛ فرشتے اس کے لیے استغفار کرتے رہتے ہیں جب تک وہ درود پڑھتا رہے، اب بندہ چاہے اس میں کمی کرے یا زیادتی کرے [سنن ابن ماجہ، باب الصلاۃ علی النبی -صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم-، مسند احمد بن حنبل، باب حدیث عامر بن ربیعۃ]۔
حديث نمبر:[3] حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ میں نماز پڑھ رہا تھا، اور نبی پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم تشریف فرما تھے، حضرت ابوبکر اور عمر -رضی الله تعالیٰ عنہما بھی آپ کے ساتھ تھے، جب میں نماز سے فارغ ہوا تو اولاً اللہ کی حمد وثنا کی، پھر نبی پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجا، پھر اپنے لیے دعا کی، تو نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو مانگو؛ دیا جائے گا [سنن ترمذی، باب ما ذکر فی الثناء علی اللہ والصلاۃ علی النبی -صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم-]۔
حديث نمبر:[4]حضرت ابو سعید خدری -رضی اللہ تعالیٰ عنہ- سے مروی ہے، انہوں نے فرمایا کہ اللہ کے رسول -صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو لوگ مجلس میں بیٹھتے ہیں، اور مجھ پر درود پڑھے بغیر اٹھ جاتے ہیں تو قیامت کے دن وہ مجلس ان کے لیے باعث حسرت ہوگی، اگر جنت میں داخل بھی ہو گئے تو ثواب سے محرومی کے باعث انہیں ندامت ہوگی [شعب الایمان للبیھقی]۔
Forwarded from فیضـان دارالعــلوم امجـدیہ ناگپور
ایک روایت میں ہے جو لوگ کسی مجلس میں بیٹھیں، اور اس میں نہ اللہ کا ذکر کریں، اور نہ اپنے نبی پر درود پڑھیں تو وہ مجلس ان کے لیے قیامت کے دن وبال ہوگی، اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو انھیں عذاب دے اور اگر چاہے تو انہیں بخش دے [سنن ترمذی، باب فی القوم یجلسون ولا یذکرون اللہ]۔
*حديث نمبر:[5] حضرت انس بن مالک -رضی اللہ تعالیٰ عنہ- سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ -صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم- نے فرمایا جب دو مسلمان ملاقات کرتے ہیں، پھر ایک، دوسرے سے مصافحہ کرتا ہے، اور دونوں نبی پاک -صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم- پر درود بھیجتے ہیں تو جدا ہونے سے پہلے ان کے اگلے پچھلے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں [القربۃ الی رب العالمین الخ، باب حدیث مسلسل فی الصلاۃ علی النبی -صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم-، حدیث: 25، ص: 40]۔
دوسری روایت میں یوں ہے دو ایسے بندے جو اللہ کی رضا کی خاطر باہم محبت کرتے ہیں، جب ان کا سامنا ہوتا ہے تو وہ مصافحہ کرتے ہیں، اور نبی پاک -صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم- پر درود بھیجتے ہیں تو ان کے جدا ہونے سے پہلے ان کے اگلے پچھلے سارے گناہ بخش دیے جاتے ہیں [وسیلۃ الطالبین]۔
درود پاک پڑھنے والے کے اجر کا دو گنا ہونا:
حديث نمبر:[1] حضرت ابو ہریرہ -رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو مجھ پر ایک بار درود بھیجے گا؛ اللہ اس پر دس رحمتیں نازل فرمائے گا [مسلم، باب: الصلاه على النبي -صلى الله تعالىٰ عليه وسلم- بعد التشهد]۔
*حديث نمبر:[2] حضرت ابو طلحہ انصاری -رضی اللہ تعالیٰ عنہ- سے روایت ہے کہ ایک دن اللہ کے پیارے رسول صل اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے، آپ کے چہرۂ اقدس پر خوش خبری کے آثار نمایاں تھے، تو ہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ہم آپ کے چہرۂ اقدس پر خوشی کے آثار دیکھ رہے ہیں، تو نبی پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:۔
میرے پاس ایک فرشتہ (جبریل) آیا اور کہا: اے محمد! صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم آپ کا رب فرماتا ہے: کیا آپ اس سے راضی نہیں کہ اگر کوئی آپ پر ایک بار درود بھیجے؛ تو میں اس پر دس رحمتیں بھیجوں، اور اگر ایک بار سلام بھیجے؛ تو میں اس پر دس بار سلامتی نازل فرماؤں [نسائي، باب: فضل التسليم على النبي -صلى الله تعالىٰ عليه وسلم-]۔
*حديث نمبر:[3] حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرا جو بھی امتی مجھ پر صدق دل سے اپنی طرف سے درود بھیجتا ہے؛ اللہ رب العزت اس کے بدلے اس پر دس رحمتیں نازل فرماتا ہے، اس کے نامۂ اعمال میں دس نیکیاں لکھی جاتی ہیں، دس درجات بلند کیا جاتا ہے، اور اس کے دس گناہ مٹا دیے جاتے ہیں [الصلاة على النبي -صلى الله تعالىٰ عليه وسلم- لإبن ابي عاصم، حديث: 42]۔
حديث نمبر:[4] حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم مؤذن (اذان) کو سنو تو اسی کے مثل کہو، پھر مجھ پر درود پڑھو؛ اس لیے کہ جو مجھ پر ایک بار درود پڑھتا ہے؛ اللہ رب العزت اس کے عوض اس پر دس رحمتیں نازل فرماتا ہے [صحیح مسلم، باب استحباب القول مثل قول المؤذن]۔
ایک روایت میں ہے: جو مسلمان مجھ پر درود بھیجتا ہے؛ اس کے حق میں فرشتے استغفار کرتے ہیں جب تک وہ درود بھیجتا رہے، تو چاہے بندہ اس میں کمی کرے یا زیادتی کرے [سنن ابن ماجہ، باب الصلاۃ علی النبی -صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم-]۔
حديث نمبر:[5] حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ- سے مروی ہے، فرمایا کہ میں آقاے کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ حالت سجدہ میں تھے، تو آپ نے سجدہ کو طول فرما دیا، پھر اپنے سر اقدس کو اٹھایا، تو میں نے اس بارے میں آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا، آپ نے فرمایا:۔
جبرئیل آئے اور کہا: جو آپ پر درود بھیجے گا؛ میں اس پر درود بھیجوں گا۔ جو آپ پر سلام بھیجے گا؛ میں اس پر سلام بھیجوں گا؛ اس لیے میں نے بہ طور تشکر و امتنان اللہ کی بارگاہ میں سجدہ کیا [فضل الصلاۃ علی النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم-، حدیث نمبر: 7]۔
درود پاک کے فوائد
یوں تو درود پاک پڑھنے کے کثیر فوائد کتابوں میں مذکور ہیں، یہاں 37/ فوائد ذکر کیے جا رہے ہیں، ملاحظہ فرمائیں
۔ 1] جو خوش نصیب اللہ کے رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم پر درود پاک بھیجتا ہے، اس پر اللہ تعالیٰ، فرشتے اور رسول پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم خود درود بھیجتے ہیں۔
۔ [2] درود شریف خطاؤں کا کفارہ بن جاتا ہے۔
۔ [3] درود شریف سے اعمال پاکیزہ ہو جاتے ہیں۔
۔ [4] درود شریف سے درجات بلند ہوتے ہیں۔
*حديث نمبر:[5] حضرت انس بن مالک -رضی اللہ تعالیٰ عنہ- سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ -صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم- نے فرمایا جب دو مسلمان ملاقات کرتے ہیں، پھر ایک، دوسرے سے مصافحہ کرتا ہے، اور دونوں نبی پاک -صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم- پر درود بھیجتے ہیں تو جدا ہونے سے پہلے ان کے اگلے پچھلے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں [القربۃ الی رب العالمین الخ، باب حدیث مسلسل فی الصلاۃ علی النبی -صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم-، حدیث: 25، ص: 40]۔
دوسری روایت میں یوں ہے دو ایسے بندے جو اللہ کی رضا کی خاطر باہم محبت کرتے ہیں، جب ان کا سامنا ہوتا ہے تو وہ مصافحہ کرتے ہیں، اور نبی پاک -صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم- پر درود بھیجتے ہیں تو ان کے جدا ہونے سے پہلے ان کے اگلے پچھلے سارے گناہ بخش دیے جاتے ہیں [وسیلۃ الطالبین]۔
درود پاک پڑھنے والے کے اجر کا دو گنا ہونا:
حديث نمبر:[1] حضرت ابو ہریرہ -رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو مجھ پر ایک بار درود بھیجے گا؛ اللہ اس پر دس رحمتیں نازل فرمائے گا [مسلم، باب: الصلاه على النبي -صلى الله تعالىٰ عليه وسلم- بعد التشهد]۔
*حديث نمبر:[2] حضرت ابو طلحہ انصاری -رضی اللہ تعالیٰ عنہ- سے روایت ہے کہ ایک دن اللہ کے پیارے رسول صل اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے، آپ کے چہرۂ اقدس پر خوش خبری کے آثار نمایاں تھے، تو ہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ہم آپ کے چہرۂ اقدس پر خوشی کے آثار دیکھ رہے ہیں، تو نبی پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:۔
میرے پاس ایک فرشتہ (جبریل) آیا اور کہا: اے محمد! صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم آپ کا رب فرماتا ہے: کیا آپ اس سے راضی نہیں کہ اگر کوئی آپ پر ایک بار درود بھیجے؛ تو میں اس پر دس رحمتیں بھیجوں، اور اگر ایک بار سلام بھیجے؛ تو میں اس پر دس بار سلامتی نازل فرماؤں [نسائي، باب: فضل التسليم على النبي -صلى الله تعالىٰ عليه وسلم-]۔
*حديث نمبر:[3] حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرا جو بھی امتی مجھ پر صدق دل سے اپنی طرف سے درود بھیجتا ہے؛ اللہ رب العزت اس کے بدلے اس پر دس رحمتیں نازل فرماتا ہے، اس کے نامۂ اعمال میں دس نیکیاں لکھی جاتی ہیں، دس درجات بلند کیا جاتا ہے، اور اس کے دس گناہ مٹا دیے جاتے ہیں [الصلاة على النبي -صلى الله تعالىٰ عليه وسلم- لإبن ابي عاصم، حديث: 42]۔
حديث نمبر:[4] حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم مؤذن (اذان) کو سنو تو اسی کے مثل کہو، پھر مجھ پر درود پڑھو؛ اس لیے کہ جو مجھ پر ایک بار درود پڑھتا ہے؛ اللہ رب العزت اس کے عوض اس پر دس رحمتیں نازل فرماتا ہے [صحیح مسلم، باب استحباب القول مثل قول المؤذن]۔
ایک روایت میں ہے: جو مسلمان مجھ پر درود بھیجتا ہے؛ اس کے حق میں فرشتے استغفار کرتے ہیں جب تک وہ درود بھیجتا رہے، تو چاہے بندہ اس میں کمی کرے یا زیادتی کرے [سنن ابن ماجہ، باب الصلاۃ علی النبی -صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم-]۔
حديث نمبر:[5] حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ- سے مروی ہے، فرمایا کہ میں آقاے کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ حالت سجدہ میں تھے، تو آپ نے سجدہ کو طول فرما دیا، پھر اپنے سر اقدس کو اٹھایا، تو میں نے اس بارے میں آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا، آپ نے فرمایا:۔
جبرئیل آئے اور کہا: جو آپ پر درود بھیجے گا؛ میں اس پر درود بھیجوں گا۔ جو آپ پر سلام بھیجے گا؛ میں اس پر سلام بھیجوں گا؛ اس لیے میں نے بہ طور تشکر و امتنان اللہ کی بارگاہ میں سجدہ کیا [فضل الصلاۃ علی النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم-، حدیث نمبر: 7]۔
درود پاک کے فوائد
یوں تو درود پاک پڑھنے کے کثیر فوائد کتابوں میں مذکور ہیں، یہاں 37/ فوائد ذکر کیے جا رہے ہیں، ملاحظہ فرمائیں
۔ 1] جو خوش نصیب اللہ کے رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم پر درود پاک بھیجتا ہے، اس پر اللہ تعالیٰ، فرشتے اور رسول پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم خود درود بھیجتے ہیں۔
۔ [2] درود شریف خطاؤں کا کفارہ بن جاتا ہے۔
۔ [3] درود شریف سے اعمال پاکیزہ ہو جاتے ہیں۔
۔ [4] درود شریف سے درجات بلند ہوتے ہیں۔
Forwarded from فیضـان دارالعــلوم امجـدیہ ناگپور
۔ [5] درود پڑھنے والے کے گناہوں کی مغفرت کر دی جاتی ہے۔
۔ [6] درود بھیجنے والے کے لیے درود خود استغفار کرتا ہے۔
۔ [7] اس کے نامۂ اعمال میں اجر کا ایک قیراط لکھا جاتا ہے جو احد پہاڑ کی مثل ہوتاہے۔
۔ [8] درود پاک پڑھنے والے کو اجر کا پورا پورا پیمانہ ملے گا۔
۔ [9] درود پاک پڑھنے سے مصائب سے نجات مل جاتی ہے۔
۔ [10] درود پاک پڑھنے والے کے درود کی حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم گواہی دیں گے۔
۔ [11] درود پاک پڑھنے والے کے لیے شفاعت واجب ہو جاتی ہے۔
۔ [12] درود شریف سے اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کی رحمت حاصل ہوتی ہے۔
۔ [13] اللہ تعالیٰ کی ناراضی سے امن ملتا ہے۔
۔ [14] درود پاک پڑھنے والے کو عرش کے سایہ کے نیچے جگہ ملے گی۔
۔ [15] درود پاک پڑھنے سے میزان میں نیکیوں کا پلڑا بھاری ہوگا۔
۔ [16] درود پاک پڑھنے سے حوض کوثر پر حاضری کا موقع میسر آئے گا۔
۔ [17] درود پاک پڑھنے والا قیامت کی پیاس سے محفوظ ہو جائے گا۔
۔ [18] درود پاک پڑھنے والا جہنم کی آگ سے چھٹکارا پائے گا۔
۔ [19] درود پاک کی برکت سے پل صراط پر چلنا آسان ہوگا۔
۔ [20] درود پاک پڑھنے والا، مرنے سے پہلے جنت کی منزل دیکھ لے گا۔
۔ [21] درود پاک پڑھنے والے کو جنت میں کثیر بیویاں ملیں گی۔
۔ [22] درود شریف پڑھنے والے کو بیس غزوات سے بھی زیادہ ثواب ملے گا۔
۔ [23] درود شریف تنگ دست کے حق میں صدقہ کے قائم مقام ہوگا۔
۔ [24] درود کے ورد سے مال میں برکت ہوتی ہے۔
۔ [25] درود پاک کی وجہ سے سو بلکہ اس سے بھی زیادہ حاجات پوری ہوتی ہیں۔
۔ [26] درود پاک ایک عبادت ہے۔
۔ [27] درود شریف اللہ تعالیٰ کے نزدیک پسندیدہ اعمال میں سے ہے۔
۔ [28] درود شریف مجالس کی زینت ہے۔
۔ [29] درود شریف سے غربت و فقر دور ہوتا ہے۔
۔ [30] درود پاک سے زندگی کی تنگی دور ہو جاتی ہے۔
۔ [31] درود پاک پڑھنے والا قیامت کے دن تمام لوگوں سے زیادہ، حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے قریب ہوگا۔
۔ [32] درود پاک ایک نور ہے، اس کے ذریعے دشمنوں پر فتح حاصل کی جاتی ہے۔
۔ [33] درود پاک کی برکت سے نفاق اور زنگ سے دل پاک ہو جاتا ہے۔
۔ [34] درود شریف پڑھنے والے سے لوگ محبت کرتے ہیں۔
۔ [35] خواب میں حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت ہوتی ہے۔
۔ [36] درود شریف پڑھنے والا، لوگوں کی غیبت سے محفوظ رہتا ہے۔
۔ [37] درود شریف تمام اعمال سے زیادہ برکت والا اور افضل عمل ہے۔
عین ممکن ہے کہ اتنا پڑھنے کے بعد ہر مؤمن کی ایمانی غیرت تقاضا کرے کہ آئیں! اپنے کریم آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم پر درود پاک پڑھیں؛ اس لیے اب یہاں 8/ درود پاک اور ان کے فضائل درج کیے جا رہے ہیں۔
درود پاک اور ان کے فضائل:
۔ [1] اَلَّلهُمَّ صَلِّ عَلىٰ مُحَمَّدٍ وَعَلىٰ آلِ مُحَمَّدٍ وَسَلِّمْ حضرت اسماعیل حقی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے ریاض الاحادیث کے حوالے سے لکھا ہے کہ حضور سرور کائنات صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا بہشت میں ایک درخت بنام “محبوبہ” مشہور ہے، اس کے میوے انار سے چھوٹے اور سیب سے بڑے ہیں، وہ میوے دودھ سے زیادہ سفید، شہد سے زیادہ میٹھے اور مکھن سے زیادہ نرم ہیں، انھیں وہ کھائے گا جو مذکورہ درود پاک پر مداومت کرے گا [تفسیر الروح البیان، الاحزاب، ص: 233]۔
۔ [2] صَلَ اللّٰهُ عَلیٰ مُحَمَّدْ جو شخص یہ درود پاک پڑھتا ہے؛ اس پر رحمت کے ستر دروازے کھول دیے جاتے ہیں۔ [القول البدیع، ص: 236]۔
۔ [3] اَلَّلهُمَّ صَلِّ عَلىٰ مُحَمَّدٍ وَأنْزِلْهُ الْمَقْعَدَ الْمُقَرَّبَ عِنْدَكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ نبی پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص اسے پڑھے اس کے لیے میری شفاعت واجب ہے۔ [الترغیب والترہیب، ج: 2، ص: 329، حديث: 2587]۔
۔ [4] اَلَّلهُمَّ صَلِّ عَلىٰ رُوْحِيْ مُحَمَّدٍ فِي الْاَرْوَاْحِ وَعَلىٰ جَسَدِهٖ فِي الْاَجْسَادِ وَعَلىٰ قَبْرِهٖ فِي الْقُبُوْرِ علامہ نبھانی، امام عبدالوہاب شعرانی -رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ- کے حوالے سے نقل کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم -صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم- نے فرمایا: جس شخص نے ان الفاظ سے مجھ پر درود پڑھا؛ وہ خواب میں مجھ کو دیکھے گا
جس نے مجھ کو خواب میں دیکھا؛ وہ قیامت کے روز بھی مجھے دیکھے گا، اور جس نے قیامت کے روز مجھے دیکھا؛ میں اس کی شفاعت کروں گا، اور جس کی میں شفاعت کروں گا؛ وہ میرے حوضِ کوثر سے سیراب ہوگا، اور اللہ تعالیٰ اس کے جسم کو آگ پر حرام کر دے گا۔ [افضل الصلاۃ علی سید السادات، ص: 234]۔
۔ [6] درود بھیجنے والے کے لیے درود خود استغفار کرتا ہے۔
۔ [7] اس کے نامۂ اعمال میں اجر کا ایک قیراط لکھا جاتا ہے جو احد پہاڑ کی مثل ہوتاہے۔
۔ [8] درود پاک پڑھنے والے کو اجر کا پورا پورا پیمانہ ملے گا۔
۔ [9] درود پاک پڑھنے سے مصائب سے نجات مل جاتی ہے۔
۔ [10] درود پاک پڑھنے والے کے درود کی حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم گواہی دیں گے۔
۔ [11] درود پاک پڑھنے والے کے لیے شفاعت واجب ہو جاتی ہے۔
۔ [12] درود شریف سے اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کی رحمت حاصل ہوتی ہے۔
۔ [13] اللہ تعالیٰ کی ناراضی سے امن ملتا ہے۔
۔ [14] درود پاک پڑھنے والے کو عرش کے سایہ کے نیچے جگہ ملے گی۔
۔ [15] درود پاک پڑھنے سے میزان میں نیکیوں کا پلڑا بھاری ہوگا۔
۔ [16] درود پاک پڑھنے سے حوض کوثر پر حاضری کا موقع میسر آئے گا۔
۔ [17] درود پاک پڑھنے والا قیامت کی پیاس سے محفوظ ہو جائے گا۔
۔ [18] درود پاک پڑھنے والا جہنم کی آگ سے چھٹکارا پائے گا۔
۔ [19] درود پاک کی برکت سے پل صراط پر چلنا آسان ہوگا۔
۔ [20] درود پاک پڑھنے والا، مرنے سے پہلے جنت کی منزل دیکھ لے گا۔
۔ [21] درود پاک پڑھنے والے کو جنت میں کثیر بیویاں ملیں گی۔
۔ [22] درود شریف پڑھنے والے کو بیس غزوات سے بھی زیادہ ثواب ملے گا۔
۔ [23] درود شریف تنگ دست کے حق میں صدقہ کے قائم مقام ہوگا۔
۔ [24] درود کے ورد سے مال میں برکت ہوتی ہے۔
۔ [25] درود پاک کی وجہ سے سو بلکہ اس سے بھی زیادہ حاجات پوری ہوتی ہیں۔
۔ [26] درود پاک ایک عبادت ہے۔
۔ [27] درود شریف اللہ تعالیٰ کے نزدیک پسندیدہ اعمال میں سے ہے۔
۔ [28] درود شریف مجالس کی زینت ہے۔
۔ [29] درود شریف سے غربت و فقر دور ہوتا ہے۔
۔ [30] درود پاک سے زندگی کی تنگی دور ہو جاتی ہے۔
۔ [31] درود پاک پڑھنے والا قیامت کے دن تمام لوگوں سے زیادہ، حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے قریب ہوگا۔
۔ [32] درود پاک ایک نور ہے، اس کے ذریعے دشمنوں پر فتح حاصل کی جاتی ہے۔
۔ [33] درود پاک کی برکت سے نفاق اور زنگ سے دل پاک ہو جاتا ہے۔
۔ [34] درود شریف پڑھنے والے سے لوگ محبت کرتے ہیں۔
۔ [35] خواب میں حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت ہوتی ہے۔
۔ [36] درود شریف پڑھنے والا، لوگوں کی غیبت سے محفوظ رہتا ہے۔
۔ [37] درود شریف تمام اعمال سے زیادہ برکت والا اور افضل عمل ہے۔
عین ممکن ہے کہ اتنا پڑھنے کے بعد ہر مؤمن کی ایمانی غیرت تقاضا کرے کہ آئیں! اپنے کریم آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم پر درود پاک پڑھیں؛ اس لیے اب یہاں 8/ درود پاک اور ان کے فضائل درج کیے جا رہے ہیں۔
درود پاک اور ان کے فضائل:
۔ [1] اَلَّلهُمَّ صَلِّ عَلىٰ مُحَمَّدٍ وَعَلىٰ آلِ مُحَمَّدٍ وَسَلِّمْ حضرت اسماعیل حقی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے ریاض الاحادیث کے حوالے سے لکھا ہے کہ حضور سرور کائنات صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا بہشت میں ایک درخت بنام “محبوبہ” مشہور ہے، اس کے میوے انار سے چھوٹے اور سیب سے بڑے ہیں، وہ میوے دودھ سے زیادہ سفید، شہد سے زیادہ میٹھے اور مکھن سے زیادہ نرم ہیں، انھیں وہ کھائے گا جو مذکورہ درود پاک پر مداومت کرے گا [تفسیر الروح البیان، الاحزاب، ص: 233]۔
۔ [2] صَلَ اللّٰهُ عَلیٰ مُحَمَّدْ جو شخص یہ درود پاک پڑھتا ہے؛ اس پر رحمت کے ستر دروازے کھول دیے جاتے ہیں۔ [القول البدیع، ص: 236]۔
۔ [3] اَلَّلهُمَّ صَلِّ عَلىٰ مُحَمَّدٍ وَأنْزِلْهُ الْمَقْعَدَ الْمُقَرَّبَ عِنْدَكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ نبی پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص اسے پڑھے اس کے لیے میری شفاعت واجب ہے۔ [الترغیب والترہیب، ج: 2، ص: 329، حديث: 2587]۔
۔ [4] اَلَّلهُمَّ صَلِّ عَلىٰ رُوْحِيْ مُحَمَّدٍ فِي الْاَرْوَاْحِ وَعَلىٰ جَسَدِهٖ فِي الْاَجْسَادِ وَعَلىٰ قَبْرِهٖ فِي الْقُبُوْرِ علامہ نبھانی، امام عبدالوہاب شعرانی -رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ- کے حوالے سے نقل کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم -صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم- نے فرمایا: جس شخص نے ان الفاظ سے مجھ پر درود پڑھا؛ وہ خواب میں مجھ کو دیکھے گا
جس نے مجھ کو خواب میں دیکھا؛ وہ قیامت کے روز بھی مجھے دیکھے گا، اور جس نے قیامت کے روز مجھے دیکھا؛ میں اس کی شفاعت کروں گا، اور جس کی میں شفاعت کروں گا؛ وہ میرے حوضِ کوثر سے سیراب ہوگا، اور اللہ تعالیٰ اس کے جسم کو آگ پر حرام کر دے گا۔ [افضل الصلاۃ علی سید السادات، ص: 234]۔
Forwarded from فیضـان دارالعــلوم امجـدیہ ناگپور
۔ [5] اَلَّلهُمَّ صَلِّ عَلىٰ مُحَمَّدٍ عَبْدِكَ وَنَبِيِّكَ وَرَسُوْلِكَ النَّبِيِّ الْاُمِّيِّ جو شخص جمعہ کے دن مجھ پر اَسّی بار درود بھیجے، اسّی برس کے گناہ اس کے بخشے جائیں۔ [سرور القلوب، ص: 282]۔
۔ [6] اَلَّلهُمَّ صَلَّ عَلىٰ مُحَمَّدٍ النَّبِيِّ الْاُمِّيِّ وَعَلىٰ آلِهٖ وَسَلِّمْ تَسْلِيْمًا. جو شخص جمعہ کے دن نماز عصر پڑھ کر اٹھنے سے پہلے اس درود پاک کو پڑھے، اسّی برس کے گناہ اس کے بخشے جائیں، اسّی برس کی عبادت کا ثواب اس کے لیے لکھا جائے۔ [سرور القلوب، ص:283]۔
۔ [7] اَلَّلهُمَّ صَلِّ عَلىٰ مُحَمَّدٍ وَآل مُحَمَّدٍ بِعَدَدِ كُلِّ دَاْءٍ وََدوَاءٍ جو شخص اسے پڑھے گا؛ وہ طاعون اور وبا سے محفوظ رہے گا۔ [تفسیر روح البیان، الاحزاب، ص: 234]۔
۔ [8] اَلَّلهُمَّ صَلِّ عَلىٰ مُحَمَّدٍ وَعَلىٰ آلِ مُحَمَّدٍ صَلَاۃً تَكُوْنُ لَكَ رِضَاْءً وَلِحَقِّهٖ اَدَاءً وأعْطِہٖ الْوَسِيْلَةَ وَالْمَقَامَ الَّذِيْ وَعَدْتَّهٗ علامہ نبہانی، علامہ امام شعرانی -رضی اللہ تعالیٰ عنہ- کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ نبی کریم -صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم- نے فرمایا: جس نے یہ درود شریف پڑھا؛ اس کے لیے میری شفاعت واجب ہوگئی۔ [افضل الصلاۃ علی سید السادات، ص: 236]۔
نوٹ : اس مضمون کے اکثر مندرجات، استاذ گرامی حضرت مولانا عبدالقدوس صاحب مصباحی -دام ظلہ العالی- کی مترجَم کتاب بنام “ فضائل درود و سلام ” سے ماخوذ ہیں۔
https://t.me/Faizan_E_DarulUloom_Amjadia_Ngp
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*از قلم✍🏻 عبدالماجد قادری، دارالعلوم فیض رضا شاہین نگر، حیدرآباد، تلنگانہ۔*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
۔ [6] اَلَّلهُمَّ صَلَّ عَلىٰ مُحَمَّدٍ النَّبِيِّ الْاُمِّيِّ وَعَلىٰ آلِهٖ وَسَلِّمْ تَسْلِيْمًا. جو شخص جمعہ کے دن نماز عصر پڑھ کر اٹھنے سے پہلے اس درود پاک کو پڑھے، اسّی برس کے گناہ اس کے بخشے جائیں، اسّی برس کی عبادت کا ثواب اس کے لیے لکھا جائے۔ [سرور القلوب، ص:283]۔
۔ [7] اَلَّلهُمَّ صَلِّ عَلىٰ مُحَمَّدٍ وَآل مُحَمَّدٍ بِعَدَدِ كُلِّ دَاْءٍ وََدوَاءٍ جو شخص اسے پڑھے گا؛ وہ طاعون اور وبا سے محفوظ رہے گا۔ [تفسیر روح البیان، الاحزاب، ص: 234]۔
۔ [8] اَلَّلهُمَّ صَلِّ عَلىٰ مُحَمَّدٍ وَعَلىٰ آلِ مُحَمَّدٍ صَلَاۃً تَكُوْنُ لَكَ رِضَاْءً وَلِحَقِّهٖ اَدَاءً وأعْطِہٖ الْوَسِيْلَةَ وَالْمَقَامَ الَّذِيْ وَعَدْتَّهٗ علامہ نبہانی، علامہ امام شعرانی -رضی اللہ تعالیٰ عنہ- کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ نبی کریم -صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم- نے فرمایا: جس نے یہ درود شریف پڑھا؛ اس کے لیے میری شفاعت واجب ہوگئی۔ [افضل الصلاۃ علی سید السادات، ص: 236]۔
نوٹ : اس مضمون کے اکثر مندرجات، استاذ گرامی حضرت مولانا عبدالقدوس صاحب مصباحی -دام ظلہ العالی- کی مترجَم کتاب بنام “ فضائل درود و سلام ” سے ماخوذ ہیں۔
https://t.me/Faizan_E_DarulUloom_Amjadia_Ngp
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*از قلم✍🏻 عبدالماجد قادری، دارالعلوم فیض رضا شاہین نگر، حیدرآباد، تلنگانہ۔*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
Telegram
فیضـان دارالعــلوم امجـدیہ ناگپور
اہلسنت و جماعت مسلک اعلیٰ حضرت کا ترجمان، وسط ہند کی عظیم درسگاہ " دارالعلوم امجدیہ ناگپور مہاراشٹرا" کے نام سے منسوب گروپ
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM