*اعلی حضرت رحمة اللہ علیہ پر غیرمحرم کو دیکھنے کے اعتراض کا جواب*
دیوبندی مولوی نے یہ لکھا ہے کہ بریلوی مجدد مولوی احمد رضا خان صاحب بریلوی غیرمحرم کو دیکھنے کا واقعہ بیان کرتے ہیں کہ : میں ( احمد رضا ) نے خود دیکھا گاٶں میں ایک لڑکی 18 / 20 برس کی تھی ماں اس کی ضعیفہ تھی ، اس کا دودھ اس وقت تک نہ چھڑایا تھا ، ماں ہرچند منع کرتی وہ زور آور تھی پچھاڑتی اور سینے پہ چڑھ کر دودھ پینے لگتی ۔ ( ملفوظات ۔ ص 346 ) ۔۔۔ اب ذرا الیاس عطاری صاحب کی کی بھی سن لیں وہ کیا کہتے ہیں ایسے اعمال پر ! مرد عورت کو دیکھے یا عورت مرد کو بشہوت دیکھے یہ دونوں کام حرام ہیں اور ہر فعل حرام جہنم میں لے جانے والا کام ہے ( بیان عطاریہ ) ۔۔ الیاس عطاری صاحب کی اس تحریر سے اعلی حضرت کے متعلق فتوی صاف الفاظ میں نظر آرہا ہے ۔۔۔؟
📙 ( دست وگریباں ۔ ص 99 )
******* *الجواب* *******
قارٸین کرام ! دیوبندی مولوی نے اپنی ذہنی گندگی کے مطابق اس واقعہ کو بیان کرنے کی کوشش کی ہے حالانکہ اعلی حضرت رحمة اللہ تعالی علیہ کا یہ جواب محاورة ہے ۔ جیسے ہم کہتے ہیں کہ ہمارے سامنے کی بات ہے کہ ہمارے علاقے میں قتل ہوا ۔ اسی طرح اعلی حضرت علیہ رحمہ نے سننے کو دیکھنے پر محاورة محمول کیا ۔ پھر اس واقعہ میں ایسا کوٸی ایک لفظ بھی موجود نہیں جس سے یہ ثابت ہوتا ہو کہ اس بوڑھی عورت کا ستر کھل گیا تھا یا وہ لڑکی اپنی ماں کو سب کے سامنے ننگا کر کے دودھ پیتی تھی ۔ میں کہتا ہوں کہ محض ایسے کسی واقعے کو دیکھنے سے بھی جسم کا ننگا ہونا یا جسم کو دیکھنا لازم نہیں آتا ، اور دوسری بات یہ کہ مولانا الیاس عطاری کے بیان میں واضح لفظ *بشہوت* موجود ہے جو کہ ملفوظات میں موجود نہیں ، تو لہٰذا مولانا الیاس عطاری کی بات اعلی حضرت علیہ رحمہ پر فٹ نہیں ہوتی ۔؟ اگر دیوبندی بضد ہیں تو لیجیے صحیح بخاری شریف کی روایت کا ترجمہ خود اپنے دیوبندیوں سے پیش خدمت ہے ۔
🔅 دیوبندی مولوی ظہور الباری اعظمی فاضل دارالعلوم دیوبند نے حدیث کا ترجمہ ان الفاظ میں کیا کہ :
*🔴 ” عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ کے پاس کچھ قیدی آۓ ، قیدیوں میں ایک عورت تھی جس کا پستان دودھ سے بھرا ہوا تھا ، وہ جب کسی ( شیر خوار ) بچہ کو دیکھ لیتی تو اپنے پیٹ سے لگا لیتی اور اسے دودھ پلاتی “*
📘 ( تفہیم البخاری ج 3 ۔ کتاب الادب ۔ ح 937 ۔ ص 383 ۔ شاھانی)
🔅 دیوبندیوں کے شیخ الحدیث و صدرالمدرسین دارالعلوم دیوبند مفتی سعید احمد پالن پوری اپنی شرح میں لکھتے ہیں کہ :
*🔴 ” نبی پاک ﷺ کے پاس ہوازن کے قیدی لاۓ گٸے ، پس قیدیوں میں سے ایک عورت کی چھاتی دودھ سے ٹپک رہی تھی ، چنانچہ وہ قیدیوں میں جس بچہ کو پاتی اسکو لیتی اور اپنے پیٹ سے لگاتی اور اس کو دودھ پلاتی “*
📗 ( تحفة القاری ۔ ج 11 ۔ کتاب الادب ۔ ح 5998 )
بلکہ اس سے بھی بڑھ کر علماۓ دیوبند ہی کے شیخ الحدیث مولوی سلیم اللہ خان مہتمم جامعہ فاروقیہ کراچی نے جو ترجمہ ” کشف الباری “ میں کیا، دیوبندی اصول کے مطابق تو وہ اس سے بڑھ کر قابل تنقید ہوگا ( معاذ اللہ ) چنانچہ دیوبندی مولوی لکھتے ہیں کہ :
*🔴 ” حضرت فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں نبی کریم ﷺ کے پاس چند قیدی لاۓ گٸے ، ان قیدیوں میں ایک عورت تھی ۔ وہ چھاتی سے دودھ پلانے کے لیے نکال رہی تھی ، جب وہ کسی بچے کو قید میں دیکھتی تو اسے پکڑ کے اپنے پیٹ سے چمٹاتی اوراسکو دودھ پلاتی “*
📙 ( کشف الباری ۔ کتاب الادب ۔ ص 363 ۔شاھانی)
اسی روایت کا ترجمہ حسین احمد ٹانڈوی کے شاگرد رشید مولوی محمد عثمان غنی نے ” نصر الباری “ میں اس طرح کیا کہ :
*🔴 ” حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں کچھ قیدی آۓ ، قیدیوں میں ایک عورت تھی جس کی پستان سے دودھ اتر کر بہہ رہا تھا جب اس نے قیدیوں میں ایک بچے کو پایا تو اسے لے لیا ( غالباً یہ بچہ اسی عورت کا تھا جو گم ہوگیا تھا ) اس عورت نے اس بچہ کو لیا اور اپنے پیٹ سے لگایا اور اسے دودھ پلانے لگی “*
📘 ( نصر الباری ، ج 11 ، کتاب الادب ، ص 193 ، شاھانی)
تو اب ( معاذ اللہ ) وہابیہ گلابیہ دیابنہ علماء ! ہمت کریں اور بکواس کریں ، اگر بظاہر ایسے واقعہ سے بدنگاہی کا ہونا لازم آتا ہے تو پھر معاذ اللہ ثم معاذ اللہ ! ان کے اعتراض سے تو مقدس ہستیاں بلکہ ذات مصطفی ﷺ بھی محفوظ نہ رہی ۔ أَسْتَغْفِرُ اللّٰه !! اب اگر دیوکےبندوں کی خبیث سوچ و طرز کے مطابق کوٸی اس روایت کو پڑھے تو ان مقدس ہستیوں پر بھی زبان درازی کرتے ہوۓ نہیں شرماۓ گا ۔ ( معاذ اللہ )
معزز قارٸین کرام ! اب آپ انصاف کیجیے کہ یہاں اس قیدی عورت کا واقعہ بیان کیا گیا لیکن کوٸی ادنٰی سا صحیح العقیدہ مسلمان بھی یہ بدگمانی نہیں کر سکتا کہ معاذ اللہ ثم معاذ اللہ ان مقدس ہستیوں نے بدنگاہی کی ہو ، تو بالکل اسی طرح سیدی اعلی حضرت رحمة اللہ علیہ کا واقعہ ہے اس میں بھی کسی مسلمان کو ایسی بدگمانی ہرگز
دیوبندی مولوی نے یہ لکھا ہے کہ بریلوی مجدد مولوی احمد رضا خان صاحب بریلوی غیرمحرم کو دیکھنے کا واقعہ بیان کرتے ہیں کہ : میں ( احمد رضا ) نے خود دیکھا گاٶں میں ایک لڑکی 18 / 20 برس کی تھی ماں اس کی ضعیفہ تھی ، اس کا دودھ اس وقت تک نہ چھڑایا تھا ، ماں ہرچند منع کرتی وہ زور آور تھی پچھاڑتی اور سینے پہ چڑھ کر دودھ پینے لگتی ۔ ( ملفوظات ۔ ص 346 ) ۔۔۔ اب ذرا الیاس عطاری صاحب کی کی بھی سن لیں وہ کیا کہتے ہیں ایسے اعمال پر ! مرد عورت کو دیکھے یا عورت مرد کو بشہوت دیکھے یہ دونوں کام حرام ہیں اور ہر فعل حرام جہنم میں لے جانے والا کام ہے ( بیان عطاریہ ) ۔۔ الیاس عطاری صاحب کی اس تحریر سے اعلی حضرت کے متعلق فتوی صاف الفاظ میں نظر آرہا ہے ۔۔۔؟
📙 ( دست وگریباں ۔ ص 99 )
******* *الجواب* *******
قارٸین کرام ! دیوبندی مولوی نے اپنی ذہنی گندگی کے مطابق اس واقعہ کو بیان کرنے کی کوشش کی ہے حالانکہ اعلی حضرت رحمة اللہ تعالی علیہ کا یہ جواب محاورة ہے ۔ جیسے ہم کہتے ہیں کہ ہمارے سامنے کی بات ہے کہ ہمارے علاقے میں قتل ہوا ۔ اسی طرح اعلی حضرت علیہ رحمہ نے سننے کو دیکھنے پر محاورة محمول کیا ۔ پھر اس واقعہ میں ایسا کوٸی ایک لفظ بھی موجود نہیں جس سے یہ ثابت ہوتا ہو کہ اس بوڑھی عورت کا ستر کھل گیا تھا یا وہ لڑکی اپنی ماں کو سب کے سامنے ننگا کر کے دودھ پیتی تھی ۔ میں کہتا ہوں کہ محض ایسے کسی واقعے کو دیکھنے سے بھی جسم کا ننگا ہونا یا جسم کو دیکھنا لازم نہیں آتا ، اور دوسری بات یہ کہ مولانا الیاس عطاری کے بیان میں واضح لفظ *بشہوت* موجود ہے جو کہ ملفوظات میں موجود نہیں ، تو لہٰذا مولانا الیاس عطاری کی بات اعلی حضرت علیہ رحمہ پر فٹ نہیں ہوتی ۔؟ اگر دیوبندی بضد ہیں تو لیجیے صحیح بخاری شریف کی روایت کا ترجمہ خود اپنے دیوبندیوں سے پیش خدمت ہے ۔
🔅 دیوبندی مولوی ظہور الباری اعظمی فاضل دارالعلوم دیوبند نے حدیث کا ترجمہ ان الفاظ میں کیا کہ :
*🔴 ” عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ کے پاس کچھ قیدی آۓ ، قیدیوں میں ایک عورت تھی جس کا پستان دودھ سے بھرا ہوا تھا ، وہ جب کسی ( شیر خوار ) بچہ کو دیکھ لیتی تو اپنے پیٹ سے لگا لیتی اور اسے دودھ پلاتی “*
📘 ( تفہیم البخاری ج 3 ۔ کتاب الادب ۔ ح 937 ۔ ص 383 ۔ شاھانی)
🔅 دیوبندیوں کے شیخ الحدیث و صدرالمدرسین دارالعلوم دیوبند مفتی سعید احمد پالن پوری اپنی شرح میں لکھتے ہیں کہ :
*🔴 ” نبی پاک ﷺ کے پاس ہوازن کے قیدی لاۓ گٸے ، پس قیدیوں میں سے ایک عورت کی چھاتی دودھ سے ٹپک رہی تھی ، چنانچہ وہ قیدیوں میں جس بچہ کو پاتی اسکو لیتی اور اپنے پیٹ سے لگاتی اور اس کو دودھ پلاتی “*
📗 ( تحفة القاری ۔ ج 11 ۔ کتاب الادب ۔ ح 5998 )
بلکہ اس سے بھی بڑھ کر علماۓ دیوبند ہی کے شیخ الحدیث مولوی سلیم اللہ خان مہتمم جامعہ فاروقیہ کراچی نے جو ترجمہ ” کشف الباری “ میں کیا، دیوبندی اصول کے مطابق تو وہ اس سے بڑھ کر قابل تنقید ہوگا ( معاذ اللہ ) چنانچہ دیوبندی مولوی لکھتے ہیں کہ :
*🔴 ” حضرت فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں نبی کریم ﷺ کے پاس چند قیدی لاۓ گٸے ، ان قیدیوں میں ایک عورت تھی ۔ وہ چھاتی سے دودھ پلانے کے لیے نکال رہی تھی ، جب وہ کسی بچے کو قید میں دیکھتی تو اسے پکڑ کے اپنے پیٹ سے چمٹاتی اوراسکو دودھ پلاتی “*
📙 ( کشف الباری ۔ کتاب الادب ۔ ص 363 ۔شاھانی)
اسی روایت کا ترجمہ حسین احمد ٹانڈوی کے شاگرد رشید مولوی محمد عثمان غنی نے ” نصر الباری “ میں اس طرح کیا کہ :
*🔴 ” حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں کچھ قیدی آۓ ، قیدیوں میں ایک عورت تھی جس کی پستان سے دودھ اتر کر بہہ رہا تھا جب اس نے قیدیوں میں ایک بچے کو پایا تو اسے لے لیا ( غالباً یہ بچہ اسی عورت کا تھا جو گم ہوگیا تھا ) اس عورت نے اس بچہ کو لیا اور اپنے پیٹ سے لگایا اور اسے دودھ پلانے لگی “*
📘 ( نصر الباری ، ج 11 ، کتاب الادب ، ص 193 ، شاھانی)
تو اب ( معاذ اللہ ) وہابیہ گلابیہ دیابنہ علماء ! ہمت کریں اور بکواس کریں ، اگر بظاہر ایسے واقعہ سے بدنگاہی کا ہونا لازم آتا ہے تو پھر معاذ اللہ ثم معاذ اللہ ! ان کے اعتراض سے تو مقدس ہستیاں بلکہ ذات مصطفی ﷺ بھی محفوظ نہ رہی ۔ أَسْتَغْفِرُ اللّٰه !! اب اگر دیوکےبندوں کی خبیث سوچ و طرز کے مطابق کوٸی اس روایت کو پڑھے تو ان مقدس ہستیوں پر بھی زبان درازی کرتے ہوۓ نہیں شرماۓ گا ۔ ( معاذ اللہ )
معزز قارٸین کرام ! اب آپ انصاف کیجیے کہ یہاں اس قیدی عورت کا واقعہ بیان کیا گیا لیکن کوٸی ادنٰی سا صحیح العقیدہ مسلمان بھی یہ بدگمانی نہیں کر سکتا کہ معاذ اللہ ثم معاذ اللہ ان مقدس ہستیوں نے بدنگاہی کی ہو ، تو بالکل اسی طرح سیدی اعلی حضرت رحمة اللہ علیہ کا واقعہ ہے اس میں بھی کسی مسلمان کو ایسی بدگمانی ہرگز
نہیں ہے اور نہ ہی کوٸی ایسا قطعی ثبوت ہے جس سے دیوخانی وہابی حضرات کا بدنگاہی کا دعوی ثابت ہوتا ہو ۔ لہٰذا جب یہاں پر وہ بات ہی نہیں تو پھر اس پر حرام و جہنم والے فتوے ہرگز عاٸد نہیں ہوتے ۔ ؟
*مزید چول مارتے ہوۓ ابوایوب دیوبندی نے ایک بیہودہ اعتراض کیا کہ*
” ایک طرف یہ فاضل بریلوی کا فعل کہ جوانی میں غیرمحرم کو دودھ پیتے ہوۓ دیکھا ہے اور بچپن میں طواٸفوں کے سامنے ننگے ہوجایا کرتے تھے جیسا کہ لکھا ہے کہ : *” آپ کو بچپن ہی سے عادت رہی کہ اجنبی عورتیں اگر نظر آجاتے تو کرتے سے اپنا منہ چھپا لیتے “*
(سیرت اعلی حضرت ۔ ص 29 )
📘 [ دست و گریباں ۔ ج 1 ۔ ص 100 ۔ شاھانی]
میں کہتا ہوں دیوبندی مولوی نے یہاں سخت جھوٹ ، دجل و فریب کا مظاہرہ کیا ہے ، کذاب اعظم ابوایوب دیوبندی کو ہمارا چیلنج ہے کہ یہ جو بات دیوبندی مولوی نے لکھی ہے یعنی *” آپ کو بچپن ہی سے عادت رہی کہ اجنبی عورتیں اگر نظر آ جاتیں تو کرتے سے اپنا منہ چھپا لیتے “* اگر دیوبندی مولوی میں شرم و حیاء ہے تو اپنے پیش کردہ حوالے میں یہ الفاظ دکھا دے تو ہم اسے مبلغ دس روپے انعام دیں گے ( کیونکہ اس سے زیادہ کے یہ قابل نہیں ) یہ اس دیوبندی مولوی کذاب کا کالا سیاہ جھوٹ ہے ۔
*دیوبندی مولوی کی بدنگاہیاں اور حرام کاریاں*
اب آٸیے ہم دیوبندی اصول کے مطابق خود ہی انہی دیوبندیوں کے حوالے بتاتے ہیں جن میں دیوبندی اکابرین نے غیر عورتوں کو دیکھا اور بقول دیوبندی ایسا عمل کر کے وہ شیطان ثابت ہوۓ ۔ چنانچہ حسین احمد ٹانڈوی دیوبندی کہتے ہیں کہ :
*میں ( حسین احمد ) نے دیکھا ایک دو سالہ خوبصورت بچی اور اس کی شفیق ماں روسیوں سے بھاگتی تھی*
📙( ارشادات مدنی ۔ ص 259 )
ایسے ہی دیوبندی اکابرین کے پیر سید احمد کے متعلق موجود ہے کہ :
*ایک مرتبہ ارشاد فرمایا کہ سید صاحب کسی شہر سے گذرے ایک کسبی خوبصورت اپنے دروازے پر کھڑی تھی سید صاحب گھوڑے پر سوار جا رہے تھے آپ نے جو ایک نظر اس کی طرف دیکھا تو وہ رنڈی بے تحاشہ دوڑی*
📘 ( ارشادات گنگوہی ۔ ص 98 ۔ شاھانی)
اسی طرح دیوبندیوں کے شیخ التفسیر اور دیوبندی امام الاولیاء کے بارے میں یہ لکھا ہوا ہے کہ انہوں نے دیکھا کہ :
*وہیں ٹھٹھہ میں ایک عورت حال میں جھوم رہی تھی ۔۔۔۔۔ اسی طرح ایک اور عورت حال میں جھوم رہی تھی ، ایک مرد اسے تھامنے کی کوشش کر رہا تھا ، وہ بہت حسین تھی ۔۔۔۔۔۔ اس عورت نے فوراً پلٹ کر آپ کی طرف دیکھا*
📘 ( مولانا احمد علی لاہوری کے حیرت انگیز واقعات ۔ باب 14 ۔ ص ۔ شاھانی )
ان تینوں حوالوں میں دیوبندی اصول کے مطابق ثابت ہوا کہ دیوبندی علماء و اکابرین نے غیر عورتوں کو دیکھا، اب آٸیے ایسے فعل کے بارے میں دیوبندی علماء نے کیا فتوی دیا ہے چنانچہ عاشق الہی میرٹھی صاحب لکھتے ہیں کہ :
*” جب عورت باہر نکلتی ہے تو شیطان دیکھنے لگتا ہے “*
📗 ( شرعی پردہ ۔ص 68 )
اسی طرح دیوبندی مولوی زکریا کے خلیفہ مجاز صغیر احمد کی کتب میں یہ لکھا ہے کہ :
*” مردوں کے لیے نامحرم عورتوں کو دیکھنا اور عورتوں کے لیے نامحرم مردوں کو دیکھنا حرام ہے “*
📙( مجالس الابرار ۔ ص 133 ۔ بحوالہ ٹی وی کی تباہ کاریاں ۔ ص 29 )
اسی طرح دیوبندی کی کتاب ” چار فتنے “ میں ایک حدیث لکھی ہے کہ :
*رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ کی لعنت ہے اجنبی عورت کو دیکھنے والے پر اور اس عورت پر جس کو دیکھا جاۓ*
📙 (چار فتنے ۔ ص 19 ۔ شاھانی)
تو معلوم ہوا کہ دیوبندی علماء و اکابرین غیر عورتوں کو دیکھ کر حرام کام میں مبتلا ہوۓ ، دیوبندی مولویوں پر اللہ تعالی کی لعنت ہے ، دیوبندی مولوی شیطان ہیں جو غیر عورتوں کو دیکھتے ہیں ۔؟
*دیوبندی رشید گنگوہی بے حیاء یا اس سے بھی بڑا ؟*
اب دیوبندی اپنے امام رشید گنگوہی کی بےحیاٸی و بے غیرتی بھی ملاحظہ کریں ، گنگوہی سے کسی نے پوچھا کہ *عورت کی شرمگاہ کیسی ہوتی ہے تو فرماتے ہیں ” جیسے گیہوں کا دانہ “*
📘( تذکرة الرشید ج 2 ۔ ص 131 )
اور خود دیوبندی مولوی ابوایوب صاحب لکھتے ہیں کہ :
*” علماۓ کرام تو زن و شوہر ( بیوی و شوہر ) کو ایک دوسرے کی شرمگاہ پر نگاہ ڈالنے کو خلاف تہذیب فرماتے ہیں کہ اس سے بے حیاٸی پیدا ہونے کا خوف ہے “*
📗 ( پانچ سو باادب سوالات ۔ ص 129 ۔ شاھانی )
یعنی شوہر اپنی بیوی کی بھی شرمگاہ پر نگاہ نہیں ڈال سکتا کیونکہ یہ خلاف تہذیب ہے اور بے حیاٸی پیدا ہوتی ہے تو اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جناب رشید گنگوہی نے آخر کس دیوبندی عورت کی شرمگاہ کو دیکھا تھا جو اس نے بھرے مجمع میں اس کو بیان کیا ؟ اگر گنگوہی نے اپنی بیوی کی شرم گاہ کو دیکھا تو ابوایوب کے مطابق بے حیاء و بےغیرت ثابت ہوا ۔ اور اگر گنگوہی نے اپنی بیوی کے علاوہ کسی دوسری دیوبندی عورت کی شرمگاہ کو دیکھا تو علماۓ دیوبند بتاٸیں کہ وہ کون دیوبندی عورت تھی ؟
*مزید چول مارتے ہوۓ ابوایوب دیوبندی نے ایک بیہودہ اعتراض کیا کہ*
” ایک طرف یہ فاضل بریلوی کا فعل کہ جوانی میں غیرمحرم کو دودھ پیتے ہوۓ دیکھا ہے اور بچپن میں طواٸفوں کے سامنے ننگے ہوجایا کرتے تھے جیسا کہ لکھا ہے کہ : *” آپ کو بچپن ہی سے عادت رہی کہ اجنبی عورتیں اگر نظر آجاتے تو کرتے سے اپنا منہ چھپا لیتے “*
(سیرت اعلی حضرت ۔ ص 29 )
📘 [ دست و گریباں ۔ ج 1 ۔ ص 100 ۔ شاھانی]
میں کہتا ہوں دیوبندی مولوی نے یہاں سخت جھوٹ ، دجل و فریب کا مظاہرہ کیا ہے ، کذاب اعظم ابوایوب دیوبندی کو ہمارا چیلنج ہے کہ یہ جو بات دیوبندی مولوی نے لکھی ہے یعنی *” آپ کو بچپن ہی سے عادت رہی کہ اجنبی عورتیں اگر نظر آ جاتیں تو کرتے سے اپنا منہ چھپا لیتے “* اگر دیوبندی مولوی میں شرم و حیاء ہے تو اپنے پیش کردہ حوالے میں یہ الفاظ دکھا دے تو ہم اسے مبلغ دس روپے انعام دیں گے ( کیونکہ اس سے زیادہ کے یہ قابل نہیں ) یہ اس دیوبندی مولوی کذاب کا کالا سیاہ جھوٹ ہے ۔
*دیوبندی مولوی کی بدنگاہیاں اور حرام کاریاں*
اب آٸیے ہم دیوبندی اصول کے مطابق خود ہی انہی دیوبندیوں کے حوالے بتاتے ہیں جن میں دیوبندی اکابرین نے غیر عورتوں کو دیکھا اور بقول دیوبندی ایسا عمل کر کے وہ شیطان ثابت ہوۓ ۔ چنانچہ حسین احمد ٹانڈوی دیوبندی کہتے ہیں کہ :
*میں ( حسین احمد ) نے دیکھا ایک دو سالہ خوبصورت بچی اور اس کی شفیق ماں روسیوں سے بھاگتی تھی*
📙( ارشادات مدنی ۔ ص 259 )
ایسے ہی دیوبندی اکابرین کے پیر سید احمد کے متعلق موجود ہے کہ :
*ایک مرتبہ ارشاد فرمایا کہ سید صاحب کسی شہر سے گذرے ایک کسبی خوبصورت اپنے دروازے پر کھڑی تھی سید صاحب گھوڑے پر سوار جا رہے تھے آپ نے جو ایک نظر اس کی طرف دیکھا تو وہ رنڈی بے تحاشہ دوڑی*
📘 ( ارشادات گنگوہی ۔ ص 98 ۔ شاھانی)
اسی طرح دیوبندیوں کے شیخ التفسیر اور دیوبندی امام الاولیاء کے بارے میں یہ لکھا ہوا ہے کہ انہوں نے دیکھا کہ :
*وہیں ٹھٹھہ میں ایک عورت حال میں جھوم رہی تھی ۔۔۔۔۔ اسی طرح ایک اور عورت حال میں جھوم رہی تھی ، ایک مرد اسے تھامنے کی کوشش کر رہا تھا ، وہ بہت حسین تھی ۔۔۔۔۔۔ اس عورت نے فوراً پلٹ کر آپ کی طرف دیکھا*
📘 ( مولانا احمد علی لاہوری کے حیرت انگیز واقعات ۔ باب 14 ۔ ص ۔ شاھانی )
ان تینوں حوالوں میں دیوبندی اصول کے مطابق ثابت ہوا کہ دیوبندی علماء و اکابرین نے غیر عورتوں کو دیکھا، اب آٸیے ایسے فعل کے بارے میں دیوبندی علماء نے کیا فتوی دیا ہے چنانچہ عاشق الہی میرٹھی صاحب لکھتے ہیں کہ :
*” جب عورت باہر نکلتی ہے تو شیطان دیکھنے لگتا ہے “*
📗 ( شرعی پردہ ۔ص 68 )
اسی طرح دیوبندی مولوی زکریا کے خلیفہ مجاز صغیر احمد کی کتب میں یہ لکھا ہے کہ :
*” مردوں کے لیے نامحرم عورتوں کو دیکھنا اور عورتوں کے لیے نامحرم مردوں کو دیکھنا حرام ہے “*
📙( مجالس الابرار ۔ ص 133 ۔ بحوالہ ٹی وی کی تباہ کاریاں ۔ ص 29 )
اسی طرح دیوبندی کی کتاب ” چار فتنے “ میں ایک حدیث لکھی ہے کہ :
*رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ کی لعنت ہے اجنبی عورت کو دیکھنے والے پر اور اس عورت پر جس کو دیکھا جاۓ*
📙 (چار فتنے ۔ ص 19 ۔ شاھانی)
تو معلوم ہوا کہ دیوبندی علماء و اکابرین غیر عورتوں کو دیکھ کر حرام کام میں مبتلا ہوۓ ، دیوبندی مولویوں پر اللہ تعالی کی لعنت ہے ، دیوبندی مولوی شیطان ہیں جو غیر عورتوں کو دیکھتے ہیں ۔؟
*دیوبندی رشید گنگوہی بے حیاء یا اس سے بھی بڑا ؟*
اب دیوبندی اپنے امام رشید گنگوہی کی بےحیاٸی و بے غیرتی بھی ملاحظہ کریں ، گنگوہی سے کسی نے پوچھا کہ *عورت کی شرمگاہ کیسی ہوتی ہے تو فرماتے ہیں ” جیسے گیہوں کا دانہ “*
📘( تذکرة الرشید ج 2 ۔ ص 131 )
اور خود دیوبندی مولوی ابوایوب صاحب لکھتے ہیں کہ :
*” علماۓ کرام تو زن و شوہر ( بیوی و شوہر ) کو ایک دوسرے کی شرمگاہ پر نگاہ ڈالنے کو خلاف تہذیب فرماتے ہیں کہ اس سے بے حیاٸی پیدا ہونے کا خوف ہے “*
📗 ( پانچ سو باادب سوالات ۔ ص 129 ۔ شاھانی )
یعنی شوہر اپنی بیوی کی بھی شرمگاہ پر نگاہ نہیں ڈال سکتا کیونکہ یہ خلاف تہذیب ہے اور بے حیاٸی پیدا ہوتی ہے تو اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جناب رشید گنگوہی نے آخر کس دیوبندی عورت کی شرمگاہ کو دیکھا تھا جو اس نے بھرے مجمع میں اس کو بیان کیا ؟ اگر گنگوہی نے اپنی بیوی کی شرم گاہ کو دیکھا تو ابوایوب کے مطابق بے حیاء و بےغیرت ثابت ہوا ۔ اور اگر گنگوہی نے اپنی بیوی کے علاوہ کسی دوسری دیوبندی عورت کی شرمگاہ کو دیکھا تو علماۓ دیوبند بتاٸیں کہ وہ کون دیوبندی عورت تھی ؟
دیوبندی مولوی ابوایوب نے بکواس کی ہے اسی کے جواب میں ہم بھی کہتے ہیں کہ گنگوہی نے اپنی ماں کی شرمگاہ کو دیکھا تھا اور پھر بھرے مجمع میں اپنی ماں کی شرمگاہ کے بارے میں لوگوں کو بتایا تھا ۔ کاش کہ دیوبندی مولوی ایسی بکواسات نہ کرتے تو آج ہمیں بھی ان کی زبان میں ایسا جواب نہ دینا پڑتا ؟
( محمدعلی شاھانی )
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=1787266554791228&id=100005237021003
( محمدعلی شاھانی )
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=1787266554791228&id=100005237021003
اعلیٰ حضرت رحمة اللہ علیہ پر غیر محرم کو دیکھنے کے اعتراض کا جواب
https://t.me/islaamic_Knowledge/20594
https://t.me/islaamic_Knowledge/20594
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
آج شارجہ انٹر نیشنل بک فیئر میں جانا ہوا ، جیسا سنا تھا ویسا ہی پایا ۔
کتابوں کا ایک شہر آباد تھا ، جس کی مکمل سیر کرنے کے لیے کم ازکم ہفتہ چاہیے ۔
پہلے تو دو گھنٹے پوچھ پوچھ کے گزاردیے کہ فلاں فلاں موضوع کی کتابیں کہاں سے ملیں گی ، پھر عقل نے کام کیا اوروہاں لگی سکرینوں کی طرف رجوع کیا ، جیسے ہی سکرین میں موضوع سے متعلقہ ایک لفظ لکھ کر سرچ کیا تو اس موضوع کی ساری کتابیں سامنے آگئیں ؛ وہ کہاں سے چھپی تھیں ، اور کون سے ہال میں ، کس سٹال پر موجود تھیں ، سب معلوم ہوگیا ۔
آج چھے سات گھنٹے کی تگ و دو کے بعد کچھ کتابیں خریدیں اور بقیہ انشاءللہ کل خریدیں گے ۔
یہاں فنون کی ایسی ایسی کتابیں نظر سے گزریں جن کے نام بھی شاید ہم کئی سالوں بعد سنتے ۔
آپ سے شیئر کرنے کامقصد یہ ہے کہ:
لوگ یہاں سیر وسیاحت کے لیے آتے ہیں ، لیکن آپ آئیں توکتاب میلے کے لیے آئیں ؛ علم و شعور میں برکت بھی ہوگی ، اور بہترین سیاحت بھی ہوجائے گی ۔
بعض کتابوں کی زیارت کریں ۔۔۔۔۔۔ ہوسکتا ہے ان میں سے کوئی کتاب آپ کی بھی ضرورت ہو ۔
اگر اِن میں سے کچھ کتابیں عجیب لگیں تو ان پر تعجب نہ کریں ، یہ دنیا عجائبات کا مسکن ہے ۔
✍️طالب دعالقمان شاہد عفی عنہ
حال مقیم: شارجہ ۔ 5-11-2021 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3302350683378431&id=100008105947430
کتابوں کا ایک شہر آباد تھا ، جس کی مکمل سیر کرنے کے لیے کم ازکم ہفتہ چاہیے ۔
پہلے تو دو گھنٹے پوچھ پوچھ کے گزاردیے کہ فلاں فلاں موضوع کی کتابیں کہاں سے ملیں گی ، پھر عقل نے کام کیا اوروہاں لگی سکرینوں کی طرف رجوع کیا ، جیسے ہی سکرین میں موضوع سے متعلقہ ایک لفظ لکھ کر سرچ کیا تو اس موضوع کی ساری کتابیں سامنے آگئیں ؛ وہ کہاں سے چھپی تھیں ، اور کون سے ہال میں ، کس سٹال پر موجود تھیں ، سب معلوم ہوگیا ۔
آج چھے سات گھنٹے کی تگ و دو کے بعد کچھ کتابیں خریدیں اور بقیہ انشاءللہ کل خریدیں گے ۔
یہاں فنون کی ایسی ایسی کتابیں نظر سے گزریں جن کے نام بھی شاید ہم کئی سالوں بعد سنتے ۔
آپ سے شیئر کرنے کامقصد یہ ہے کہ:
لوگ یہاں سیر وسیاحت کے لیے آتے ہیں ، لیکن آپ آئیں توکتاب میلے کے لیے آئیں ؛ علم و شعور میں برکت بھی ہوگی ، اور بہترین سیاحت بھی ہوجائے گی ۔
بعض کتابوں کی زیارت کریں ۔۔۔۔۔۔ ہوسکتا ہے ان میں سے کوئی کتاب آپ کی بھی ضرورت ہو ۔
اگر اِن میں سے کچھ کتابیں عجیب لگیں تو ان پر تعجب نہ کریں ، یہ دنیا عجائبات کا مسکن ہے ۔
✍️طالب دعالقمان شاہد عفی عنہ
حال مقیم: شارجہ ۔ 5-11-2021 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3302350683378431&id=100008105947430
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
کل شارجہ بک فیئر سے اپنی ضرورت کی کچھ مزید کتابیں خریدیں ، دل تو چاہتاتھا مزید سے ، مزید خریدوں ۔۔۔۔۔۔۔ لیکن دل کی ہر چاہت ، ہر وقت پوری نہیں ہوسکتی ؛ چاہتوں کے پورا ہونے کا بھی ایک وقت ہوتاہے !
بعض کتابوں کی یہ فہرست ملاحظہ فرمالیں ، ہوسکتاہے اس میں کوئی کتاب آپ کی مطلوبہ بھی ہو ۔
ویسے بھی کتابوں کو دیکھتے رہنا چاہیے ، اگر دل مطالعے کی طرف مائل نہ ہوتا ہو تو کتابوں کو بار بار دیکھنے اور ان کے نام پڑھنے سے بھی دل مطالعے کی طرف مائل ہوجاتا ہے ۔
( ان کتابوں میں بعض جنات و سحر کے متعلق بھی ہیں ، اور یہ شاید آپ کی ضرورت نہ ہوں ۔۔۔۔۔ میری اشد ضرورت ہیں ؛ کیوں کہ میں ان معاملات کا معالج ہوں ۔
جیسے دیگر علوم و فنون میں آئے روز ترقی ہورہی ہے ، یہ شعبہ بھی عروج پر ہے ، اس لیے اس شعبے کے معالج کاجدید طرز کے سحر اور اس کے علاج سے آگاہ ہونا ضروی ہے ۔ )
✍️ لقمان شاہد
8-11-2021 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3303518119928354&id=100008105947430
بعض کتابوں کی یہ فہرست ملاحظہ فرمالیں ، ہوسکتاہے اس میں کوئی کتاب آپ کی مطلوبہ بھی ہو ۔
ویسے بھی کتابوں کو دیکھتے رہنا چاہیے ، اگر دل مطالعے کی طرف مائل نہ ہوتا ہو تو کتابوں کو بار بار دیکھنے اور ان کے نام پڑھنے سے بھی دل مطالعے کی طرف مائل ہوجاتا ہے ۔
( ان کتابوں میں بعض جنات و سحر کے متعلق بھی ہیں ، اور یہ شاید آپ کی ضرورت نہ ہوں ۔۔۔۔۔ میری اشد ضرورت ہیں ؛ کیوں کہ میں ان معاملات کا معالج ہوں ۔
جیسے دیگر علوم و فنون میں آئے روز ترقی ہورہی ہے ، یہ شعبہ بھی عروج پر ہے ، اس لیے اس شعبے کے معالج کاجدید طرز کے سحر اور اس کے علاج سے آگاہ ہونا ضروی ہے ۔ )
✍️ لقمان شاہد
8-11-2021 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3303518119928354&id=100008105947430
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
حضرت عروہ بن زبیر رضی الله عنه کہتے ہیں:
ایک شخص کے پاس سیدہ عائشہ صدیقہ رضی الله عنها کا ذکر کیا گیا تو وہ سیدہ رضی الله عنها کو برا بھلا کہنا شروع ہو گیا ۔
اس شخص سے کہا گیا: تُو اپنی ماں کو بُرا کَہ رہا ہے ؟
کہنے لگا: وہ میری ماں نہیں !
جب سیدہ عائشہ صدیقہ رضی الله عنها تک یہ بات پہنچی ، تو آپ نے فرمایا:
اس نے سچ کہا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں تو صرف مومنوں کی ماں ہوں ، کافروں کی نہیں !
( شرح أصول اعتقاد أهل السنة : 1523/8 )
( غلام رضا کی وال سے ، بتغیر یسیر )
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3306271476319685&id=100008105947430
ایک شخص کے پاس سیدہ عائشہ صدیقہ رضی الله عنها کا ذکر کیا گیا تو وہ سیدہ رضی الله عنها کو برا بھلا کہنا شروع ہو گیا ۔
اس شخص سے کہا گیا: تُو اپنی ماں کو بُرا کَہ رہا ہے ؟
کہنے لگا: وہ میری ماں نہیں !
جب سیدہ عائشہ صدیقہ رضی الله عنها تک یہ بات پہنچی ، تو آپ نے فرمایا:
اس نے سچ کہا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں تو صرف مومنوں کی ماں ہوں ، کافروں کی نہیں !
( شرح أصول اعتقاد أهل السنة : 1523/8 )
( غلام رضا کی وال سے ، بتغیر یسیر )
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3306271476319685&id=100008105947430
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
حبیب گنج اسٹیشن : حبیب میاں سے نظام شاہ کی بیوہ تک !!
غلام مصطفےٰ نعیمی
روشن مستقبل دہلی
مسلمانوں سے اپنی "دیرینہ محبت" کا ثبوت دیتے ہوئے بی جے پی نے ایک بار پھر مسلم نام سے منسوب جگہ کو ہندو نام سے بدل دیا۔اس بار زعفرانی پارٹی کے نشانے پر بھوپال کا حبیب گنج ریلوے اسٹیشن آیا۔جسے ایک ہندو خاتون رانی کملا پتی کے نام سے تبدیل کردیا گیا۔اس طرح حبیب گنج اسٹیشن بھی بی جے پی کی "تہذیبی" مہم کی بھینٹ چڑھ گیا۔
مزے کی بات یہ ہے کہ بی جے پی اور اس سے وابستہ افراد چوڑے سینے کے ساتھ یہ دعویٰ کرتے نہیں تھکتے؛
"ہم دنیا کی سب سے زیادہ وسیع القلب قوم ہیں۔"
اپنی اسی وسیع القلبی کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہ لوگ چن چن کر ایسے شہروں، محلوں، اداروں، سڑکوں اور اسٹیشنوں کے نام بدل ریے ہیں۔جن کے نام اسلام اور مسلمانوں کے نام پر رکھے ہوئے ہیں۔اس سے قبل یوپی کے مغل سرائے جنکشن کو دین دیال اپادھیائے کے نام سے بدلا گیا تھا۔اس وقت بی جے پی والے کہتے تھے کہ ہمیں مغلوں سے دقت ہے اس لیے مغل نام بدل رہے ہیں مگر ایسا تھا نہیں، اُنہیں اصل دقت مسلمانوں سے تھی اس لیے مسلم نام پر آباد شہر بھی جلد ہی ان کے نشانے پر آگیے۔تاریخی شہر الہ آباد کو پریاگ راج، فیض آباد کو ایودھیا بنا دیا گیا۔دلّی کا محمد پور گاؤں مادھو پور میں بدل دیا گیا۔شہروں سے جی نہیں بھرا تو محلوں اور چوک بازاروں تک آگیے، گورکھ پور کا اردو بازار، ہندی بازار اور محلہ علی نگر ہنومان نگر بنا دیا گیا۔آگرہ کا مغل میوزیم شواجی میوزیم میں تبدیل کردیا گیا۔معاملہ یہیں پر ختم نہیں ہوا، اس کے بعد باضابطہ انتظامی پروٹوکول کے مطابق کئی اور شہروں کے نام بدلنے کی سفارش حکومت سے کی گئ ہے۔جن میں علی گڑھ، سلطان پور، فیروزآباد، اورنگ آباد، کاس گنج اور مرادآباد جیسے شہر شامل ہیں۔ان شہروں اور محلوں کا قصور صرف اتنا ہے کہ وہ یہاں کی امن پسند اور بڑا دل رکھنے والی اکثریت کو مسلم سلطنت کی یاد دلاتے ہیں۔
_____ حبیب میاں اور رانی کملا پتی
حبیب گنج ریلوے اسٹیشن جس زمین پر بنا ہوا ہے وہ بھوپال کے آخری نواب حمید اللہ کے بڑے بھتیجے نواب حبیب اللہ کی جاگیر ہوا کرتی تھی۔انہوں نے عوامی سہولت کی خاطر ریلوے اسٹیشن کے لیے اپنی ذاتی زمین بہ طور عطیہ دی تھی۔ان کی اسی فیاضی کی بنیاد پر اسٹیشن کو حبیب گنج نام دیا گیا۔تب سے لیکر آج تک یہ اسٹیشن اپنے محسن حبیب میاں کو خراج تحسین پیش کرتا آرہا ہے۔بی جےپی لیڈران کو اس نام کی چبھن تو کافی دنوں سے تھی مگر کہنے سے بچتے تھے لیکن لگاتار دوسری بار مرکز میں حکومت بنتے ہی سب اصلی رنگ میں آگیے اور اس طرح رانی کملا پتی کا نام آگے بڑھا کر حبیب میاں کے نام سے چھٹکارا حاصل کرلیا گیا۔مزے کی بات یہ ہے کہ حبیب میاں سے چھٹکارا پانے کے لیے جس خاتون کا نام استعمال کیا گیا ہے وہ بھلے ہی ایک ہندو باپ کرپال سنگھ کی بیٹی تھیں مگر ایک مسلم نواب نظام شاہ کی بیوی بھی تھیں۔
_رانی کملا پتی کا پس منظر
اورنگ زیب عالمگیر کے انتقال بعد مغل سلطنت کمزور پڑ گئی۔جس سے حوصلہ پاکر علاقائی امیروں نے بغاوت کرکے اپنی اپنی خود مختار ریاستیں بنا لیں، ایسی ہی ایک ریاست گِنّور گڑھ بھی تھی۔جو بھوپال سے قریب پچاس کلومیٹر دور آباد تھی۔اس زمانے میں بھوپال ایک چھوٹا سا گاؤں ہوا کرتا تھا۔یہ ریاست قریب 750 مواضعات پر مشتمل تھی۔اس ریاست کے حاکم نظام شاہ ہوا کرتے تھے۔رانی کملا پتی انہیں نظام شاہ کی ساتویں اور سب سے چھوٹی بیوی تھیں۔تاریخ دانوں کے مطابق رانی کملا پتی بے حد حسین وجمیل اور ذہین خاتون تھیں۔نظام شاہ کا بھتیجہ عالم شاہ لالچی اور حکومت کا حریص تھا اسی لالچ میں اس نے اپنے چچا کے کھانے میں زہر ملا دیا جس سے نظام شاہ کی موت ہوگئی۔شوہر کی موت کے بعد ان کی بیوہ رانی کملا پتی نے افغان سردار دوست محمد خان کو راکھی باندھ کر اپنا منہ بولا بھائی بنایا اور مدد طلب کی۔دوست محمد خان نے بھائی ہونے کا حق ادا کرتے ہوئے عالم شاہ کو جنگ میں قتل کیا۔تاریخ میں رانی کملا پتی اور دوست محمد خان کے مابین راکھی اور بہن بھائی والا رشتہ عوام خواص میں بہت مشہور ہے۔کچھ متعصب تاریخ نویسوں نے دوست محمد خان کو لالچی قرار دے کر ان کی کردار کشی کی کوشش بھی کی ہے مگر اکثر تاریخ دانوں نے اسے تسلیم نہیں کیا۔
__بی جےپی کا ادھورا داؤں
مسلمانوں کے تئیں بی جےپی کی پالیسی کھلی کتاب کی طرح ہے اس لیے حبیب گنج کا نام بدلنے پر کسی کو حیرت نہیں ہوئی۔کیوں کہ اُنہیں رانی کملا پتی کو خراج عقیدت ہی پیش کرنا ہوتا تو ملک کے کسی بھی اسٹیشن کا نام بدلا جاسکتا تھا۔مگر بی جے پی کی ہر حصول یابی مسلم تہذیب کی بھینٹ پر ہی تعمیر ہوتی ہے۔
غلام مصطفےٰ نعیمی
روشن مستقبل دہلی
مسلمانوں سے اپنی "دیرینہ محبت" کا ثبوت دیتے ہوئے بی جے پی نے ایک بار پھر مسلم نام سے منسوب جگہ کو ہندو نام سے بدل دیا۔اس بار زعفرانی پارٹی کے نشانے پر بھوپال کا حبیب گنج ریلوے اسٹیشن آیا۔جسے ایک ہندو خاتون رانی کملا پتی کے نام سے تبدیل کردیا گیا۔اس طرح حبیب گنج اسٹیشن بھی بی جے پی کی "تہذیبی" مہم کی بھینٹ چڑھ گیا۔
مزے کی بات یہ ہے کہ بی جے پی اور اس سے وابستہ افراد چوڑے سینے کے ساتھ یہ دعویٰ کرتے نہیں تھکتے؛
"ہم دنیا کی سب سے زیادہ وسیع القلب قوم ہیں۔"
اپنی اسی وسیع القلبی کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہ لوگ چن چن کر ایسے شہروں، محلوں، اداروں، سڑکوں اور اسٹیشنوں کے نام بدل ریے ہیں۔جن کے نام اسلام اور مسلمانوں کے نام پر رکھے ہوئے ہیں۔اس سے قبل یوپی کے مغل سرائے جنکشن کو دین دیال اپادھیائے کے نام سے بدلا گیا تھا۔اس وقت بی جے پی والے کہتے تھے کہ ہمیں مغلوں سے دقت ہے اس لیے مغل نام بدل رہے ہیں مگر ایسا تھا نہیں، اُنہیں اصل دقت مسلمانوں سے تھی اس لیے مسلم نام پر آباد شہر بھی جلد ہی ان کے نشانے پر آگیے۔تاریخی شہر الہ آباد کو پریاگ راج، فیض آباد کو ایودھیا بنا دیا گیا۔دلّی کا محمد پور گاؤں مادھو پور میں بدل دیا گیا۔شہروں سے جی نہیں بھرا تو محلوں اور چوک بازاروں تک آگیے، گورکھ پور کا اردو بازار، ہندی بازار اور محلہ علی نگر ہنومان نگر بنا دیا گیا۔آگرہ کا مغل میوزیم شواجی میوزیم میں تبدیل کردیا گیا۔معاملہ یہیں پر ختم نہیں ہوا، اس کے بعد باضابطہ انتظامی پروٹوکول کے مطابق کئی اور شہروں کے نام بدلنے کی سفارش حکومت سے کی گئ ہے۔جن میں علی گڑھ، سلطان پور، فیروزآباد، اورنگ آباد، کاس گنج اور مرادآباد جیسے شہر شامل ہیں۔ان شہروں اور محلوں کا قصور صرف اتنا ہے کہ وہ یہاں کی امن پسند اور بڑا دل رکھنے والی اکثریت کو مسلم سلطنت کی یاد دلاتے ہیں۔
_____ حبیب میاں اور رانی کملا پتی
حبیب گنج ریلوے اسٹیشن جس زمین پر بنا ہوا ہے وہ بھوپال کے آخری نواب حمید اللہ کے بڑے بھتیجے نواب حبیب اللہ کی جاگیر ہوا کرتی تھی۔انہوں نے عوامی سہولت کی خاطر ریلوے اسٹیشن کے لیے اپنی ذاتی زمین بہ طور عطیہ دی تھی۔ان کی اسی فیاضی کی بنیاد پر اسٹیشن کو حبیب گنج نام دیا گیا۔تب سے لیکر آج تک یہ اسٹیشن اپنے محسن حبیب میاں کو خراج تحسین پیش کرتا آرہا ہے۔بی جےپی لیڈران کو اس نام کی چبھن تو کافی دنوں سے تھی مگر کہنے سے بچتے تھے لیکن لگاتار دوسری بار مرکز میں حکومت بنتے ہی سب اصلی رنگ میں آگیے اور اس طرح رانی کملا پتی کا نام آگے بڑھا کر حبیب میاں کے نام سے چھٹکارا حاصل کرلیا گیا۔مزے کی بات یہ ہے کہ حبیب میاں سے چھٹکارا پانے کے لیے جس خاتون کا نام استعمال کیا گیا ہے وہ بھلے ہی ایک ہندو باپ کرپال سنگھ کی بیٹی تھیں مگر ایک مسلم نواب نظام شاہ کی بیوی بھی تھیں۔
_رانی کملا پتی کا پس منظر
اورنگ زیب عالمگیر کے انتقال بعد مغل سلطنت کمزور پڑ گئی۔جس سے حوصلہ پاکر علاقائی امیروں نے بغاوت کرکے اپنی اپنی خود مختار ریاستیں بنا لیں، ایسی ہی ایک ریاست گِنّور گڑھ بھی تھی۔جو بھوپال سے قریب پچاس کلومیٹر دور آباد تھی۔اس زمانے میں بھوپال ایک چھوٹا سا گاؤں ہوا کرتا تھا۔یہ ریاست قریب 750 مواضعات پر مشتمل تھی۔اس ریاست کے حاکم نظام شاہ ہوا کرتے تھے۔رانی کملا پتی انہیں نظام شاہ کی ساتویں اور سب سے چھوٹی بیوی تھیں۔تاریخ دانوں کے مطابق رانی کملا پتی بے حد حسین وجمیل اور ذہین خاتون تھیں۔نظام شاہ کا بھتیجہ عالم شاہ لالچی اور حکومت کا حریص تھا اسی لالچ میں اس نے اپنے چچا کے کھانے میں زہر ملا دیا جس سے نظام شاہ کی موت ہوگئی۔شوہر کی موت کے بعد ان کی بیوہ رانی کملا پتی نے افغان سردار دوست محمد خان کو راکھی باندھ کر اپنا منہ بولا بھائی بنایا اور مدد طلب کی۔دوست محمد خان نے بھائی ہونے کا حق ادا کرتے ہوئے عالم شاہ کو جنگ میں قتل کیا۔تاریخ میں رانی کملا پتی اور دوست محمد خان کے مابین راکھی اور بہن بھائی والا رشتہ عوام خواص میں بہت مشہور ہے۔کچھ متعصب تاریخ نویسوں نے دوست محمد خان کو لالچی قرار دے کر ان کی کردار کشی کی کوشش بھی کی ہے مگر اکثر تاریخ دانوں نے اسے تسلیم نہیں کیا۔
__بی جےپی کا ادھورا داؤں
مسلمانوں کے تئیں بی جےپی کی پالیسی کھلی کتاب کی طرح ہے اس لیے حبیب گنج کا نام بدلنے پر کسی کو حیرت نہیں ہوئی۔کیوں کہ اُنہیں رانی کملا پتی کو خراج عقیدت ہی پیش کرنا ہوتا تو ملک کے کسی بھی اسٹیشن کا نام بدلا جاسکتا تھا۔مگر بی جے پی کی ہر حصول یابی مسلم تہذیب کی بھینٹ پر ہی تعمیر ہوتی ہے۔