ﺭﺣﻤﺖِ ﻋﺎﻟﻢ ﺣﻀﻮﺭ ﺍﺣﻤﺪ ﻣﺠﺘﺒﯽٰ ﻣﺤﻤﺪ ﻣﺼﻄﻔﯽٰ
ﺻﻠﯽ ﷲ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻟﻢ
ﺳﺮﻭﺭِ ﺑﻨﯽ ﺁﺩﻡ، ﺭﻭﺡِ ﺭﻭﺍﻥِ ﻋﺎﻟﻢ، ﺍﻧﺴﺎﻥ ﻋﯿﻦِ ﻭﺟﻮﺩ، ﺩﻟﯿﻞِ ﮐﻌﺒﮧٔ ﻣﻘﺼﻮﺩ، ﮐﺎﺷﻒِ ﺳﺮِ ﻣﮑﻨﻮﻥ، ﺧﺎﺯﻥِ ﻋﻠﻢِ ﻣﺨﺰﻭﻥ، ﺍﻗﺎﻣﺖِ ﺣﺪﻭﺩﻭﺍﺣﮑﺎﻡ، ﺗﻌﺪﯾﻞِ ﺍﺭﮐﺎﻥِ ﺍﺳﻼﻡ، ﺍﻣﺎﻡِ ﺟﻤﺎﻋﺖِ ﺍﻧﺒﯿﺎ، ﻣﻘﺘﺪﺍﮮ ﺯﻣﺮﮦٔ ﺍﺗﻘﯿﺎ، ﻗﺎﺿﯽِ ﻣﺴﻨﺪِ ﺣﮑﻮﻣﺖ، ﻣﻔﺘﯽِ ﺩﯾﻦ ﻭ ﻣﻠﺖ، ﻗﺒﻠﮧٔ ﺍﺻﺤﺎﺏِ ﺻﺪﻕ ﻭﺻﻔﺎ، ﮐﻌﺒﮧٔ ﺍﺭﺑﺎﺏِ ﺣﻠﻢ ﻭﺣﯿﺎ، ﻭﺍﺭﺙِ ﻋﻠﻮﻡِ ﺍﻭﻟﯿﻦ، ﻣﻮﺭﺙِ ﮐﻤﺎﻻﺕِ ﺁﺧﺮﯾﻦ، ﻣﺪﻟﻮﻝِ
ﺣﺮﻭﻑِ ﻣﻘﻄﻌﺎﺕ، ﻣﻨﺸﺎﮮ ﻓﻀﺎﺋﻞ ﻭ ﮐﻤﺎﻻﺕ، ﻣﻨﺰﻝِ ﻧﺼﻮﺹِﻗﻄﻌﯿﮧ، ﺻﺎﺣﺐِ ﺁﯾﺎﺕِ ﺑﯿﻨﮧ، ﺣﺠﺖِ ﺣﻖ ﺍﻟﯿﻘﯿﻦ، ﺗﻔﺴﯿﺮِﻗﺮﺁﻥِ ﻣﺒﯿﻦ، ﺗﺼﺤﯿﺢ ﻋﻠﻮﻡِ ﻣﺘﻘﺪﻣﯿﻦ، ﺳﻨﺪِ ﺍﻧﺒﯿﺎ ﻭ ﻣﺮﺳﻠﯿﻦ، ﻋﺰﯾﺰِ ﻣﺼﺮِﺍﺣﺴﺎﻥ، ﻓﺨﺮِ ﯾﻮﺳﻒِ ﮐﻨﻌﺎﻥ، ﺷﺎﮨﺪِ ﺩﯾﮟ ﺟﺎﻥِ ﺍﯾﻤﺎﮞ،ﺭﺣﻤﺖِ ﺣﻖ ﻟﻄﻒِ ﯾﺰﺩﺍﮞ ﮨﯿﮟ ....
ﻭﺭﻓﻌﻨﺎ ﻟﮏ ﺫﮐﺮﮎ ......
طالبِ بقیع:: مشاہد رضوی
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2175664172572758&id=100003875890529
ﺻﻠﯽ ﷲ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻟﻢ
ﺳﺮﻭﺭِ ﺑﻨﯽ ﺁﺩﻡ، ﺭﻭﺡِ ﺭﻭﺍﻥِ ﻋﺎﻟﻢ، ﺍﻧﺴﺎﻥ ﻋﯿﻦِ ﻭﺟﻮﺩ، ﺩﻟﯿﻞِ ﮐﻌﺒﮧٔ ﻣﻘﺼﻮﺩ، ﮐﺎﺷﻒِ ﺳﺮِ ﻣﮑﻨﻮﻥ، ﺧﺎﺯﻥِ ﻋﻠﻢِ ﻣﺨﺰﻭﻥ، ﺍﻗﺎﻣﺖِ ﺣﺪﻭﺩﻭﺍﺣﮑﺎﻡ، ﺗﻌﺪﯾﻞِ ﺍﺭﮐﺎﻥِ ﺍﺳﻼﻡ، ﺍﻣﺎﻡِ ﺟﻤﺎﻋﺖِ ﺍﻧﺒﯿﺎ، ﻣﻘﺘﺪﺍﮮ ﺯﻣﺮﮦٔ ﺍﺗﻘﯿﺎ، ﻗﺎﺿﯽِ ﻣﺴﻨﺪِ ﺣﮑﻮﻣﺖ، ﻣﻔﺘﯽِ ﺩﯾﻦ ﻭ ﻣﻠﺖ، ﻗﺒﻠﮧٔ ﺍﺻﺤﺎﺏِ ﺻﺪﻕ ﻭﺻﻔﺎ، ﮐﻌﺒﮧٔ ﺍﺭﺑﺎﺏِ ﺣﻠﻢ ﻭﺣﯿﺎ، ﻭﺍﺭﺙِ ﻋﻠﻮﻡِ ﺍﻭﻟﯿﻦ، ﻣﻮﺭﺙِ ﮐﻤﺎﻻﺕِ ﺁﺧﺮﯾﻦ، ﻣﺪﻟﻮﻝِ
ﺣﺮﻭﻑِ ﻣﻘﻄﻌﺎﺕ، ﻣﻨﺸﺎﮮ ﻓﻀﺎﺋﻞ ﻭ ﮐﻤﺎﻻﺕ، ﻣﻨﺰﻝِ ﻧﺼﻮﺹِﻗﻄﻌﯿﮧ، ﺻﺎﺣﺐِ ﺁﯾﺎﺕِ ﺑﯿﻨﮧ، ﺣﺠﺖِ ﺣﻖ ﺍﻟﯿﻘﯿﻦ، ﺗﻔﺴﯿﺮِﻗﺮﺁﻥِ ﻣﺒﯿﻦ، ﺗﺼﺤﯿﺢ ﻋﻠﻮﻡِ ﻣﺘﻘﺪﻣﯿﻦ، ﺳﻨﺪِ ﺍﻧﺒﯿﺎ ﻭ ﻣﺮﺳﻠﯿﻦ، ﻋﺰﯾﺰِ ﻣﺼﺮِﺍﺣﺴﺎﻥ، ﻓﺨﺮِ ﯾﻮﺳﻒِ ﮐﻨﻌﺎﻥ، ﺷﺎﮨﺪِ ﺩﯾﮟ ﺟﺎﻥِ ﺍﯾﻤﺎﮞ،ﺭﺣﻤﺖِ ﺣﻖ ﻟﻄﻒِ ﯾﺰﺩﺍﮞ ﮨﯿﮟ ....
ﻭﺭﻓﻌﻨﺎ ﻟﮏ ﺫﮐﺮﮎ ......
طالبِ بقیع:: مشاہد رضوی
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2175664172572758&id=100003875890529
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
ذکرِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خدائی اہتمام
آقا علیہ السلام کی آمد کی خوشیاں منانا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تذکارِ جمیلہ سے اپنے قلوب و ارواح کو منور کرنا ہر مومن پر واجب ہے۔ اس لئے کہ ذکرِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اہتمام خود رب کائنات بھی فرماتا ہے۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
اِنَّ ﷲَ وَمَلٰٓئِکَتَهٗ یُصَلُّوْنَ عَلَی النَّبِیِّط یٰٓـاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْهِ وَسَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا.
’’بے شک اللہ اور ا س کے (سب) فرشتے نبیِ (مکرمّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر درود بھیجتے رہتے ہیں، اے ایمان والو! تم (بھی) اُن پر درود بھیجا کرو اور خوب سلام بھیجا کرو۔‘‘
(الاحزاب، 33: 56)
اللہ تعالیٰ نے کسی بڑے سے بڑے کام میں بھی کسی کو اپنا شریک نہیں کیا مگر ذکرمحبوب درود و سلام جو درحقیقت ذکرِ محبوب ہے، اس عمل میں اللہ تعالیٰ نے پہلے اپنے آپ کو شامل کیا کہ میں اپنے محبوب پر درود و سلام بھیجتا ہوں مرے فرشتے بھی یہی وظیفہ کرتے ہیں لہذا مومنین بھی اگر میری رضا و خوشنودی کے طالب اور میرے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت بھرا تعلق قائم کرنا چاہتے ہیں تو اُن پر درود و سلام پڑھا کریں۔ اللہ تعالیٰ نے ذکرِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اِس اہتمام میں خود کو اس لئے شامل فرمایا تاکہ کسی کے ذہن میں یہ خیال نہ آئے کہ محبوب کسی کے ذکر کا محتاج ہے، اس لیے کہ جس کے ذکر کو رب کائنات بلند کرے اس کو کسی اور کی محتاجی نہیں بلکہ محض اہل ایمان کی بھلائی اور انہیں اپنی رحمتوں، برکتوں اور مغفرتوں سے بہرہ ور فرماتے ہوئے ان کو اس کار سعادت میں شریک کردیا۔ یہ سراسر اس کا کرم ہے،شفقت ہے جیسے اللہ کو کسی کی عبادت کی ضرورت نہیں، جو کرے گا اپنے بھلے کو کرے گا۔ اسی طرح رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی کے ذکر و نعت، درود و سلام کے محتاج نہیں جو یہ عمل صالح کرے گا اپنے بھلے کو کرے گا اور جو بدنصیب شیطانی وساوس کا شکار ہوکر اس سعادت سے محروم رہا وہ اپنا ہی نقصان کرے گا۔ اسی لیے رب کریم فرماتا ہے:
وَرَفَعْنَا لَکَ ذِکْرَکَ.
’’اور ہم نے آپ کی خاطر آپ کا ذکر (اپنے ذکر کے ساتھ ملا کر دنیا و آخرت میں ہر جگہ) بلند فرما دیا۔‘‘
(الانشراح، 94: 4)
(منتخباتِ مشاہد سے ایک ورق)
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2175665582572617&id=100003875890529
آقا علیہ السلام کی آمد کی خوشیاں منانا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تذکارِ جمیلہ سے اپنے قلوب و ارواح کو منور کرنا ہر مومن پر واجب ہے۔ اس لئے کہ ذکرِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اہتمام خود رب کائنات بھی فرماتا ہے۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
اِنَّ ﷲَ وَمَلٰٓئِکَتَهٗ یُصَلُّوْنَ عَلَی النَّبِیِّط یٰٓـاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْهِ وَسَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا.
’’بے شک اللہ اور ا س کے (سب) فرشتے نبیِ (مکرمّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر درود بھیجتے رہتے ہیں، اے ایمان والو! تم (بھی) اُن پر درود بھیجا کرو اور خوب سلام بھیجا کرو۔‘‘
(الاحزاب، 33: 56)
اللہ تعالیٰ نے کسی بڑے سے بڑے کام میں بھی کسی کو اپنا شریک نہیں کیا مگر ذکرمحبوب درود و سلام جو درحقیقت ذکرِ محبوب ہے، اس عمل میں اللہ تعالیٰ نے پہلے اپنے آپ کو شامل کیا کہ میں اپنے محبوب پر درود و سلام بھیجتا ہوں مرے فرشتے بھی یہی وظیفہ کرتے ہیں لہذا مومنین بھی اگر میری رضا و خوشنودی کے طالب اور میرے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت بھرا تعلق قائم کرنا چاہتے ہیں تو اُن پر درود و سلام پڑھا کریں۔ اللہ تعالیٰ نے ذکرِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اِس اہتمام میں خود کو اس لئے شامل فرمایا تاکہ کسی کے ذہن میں یہ خیال نہ آئے کہ محبوب کسی کے ذکر کا محتاج ہے، اس لیے کہ جس کے ذکر کو رب کائنات بلند کرے اس کو کسی اور کی محتاجی نہیں بلکہ محض اہل ایمان کی بھلائی اور انہیں اپنی رحمتوں، برکتوں اور مغفرتوں سے بہرہ ور فرماتے ہوئے ان کو اس کار سعادت میں شریک کردیا۔ یہ سراسر اس کا کرم ہے،شفقت ہے جیسے اللہ کو کسی کی عبادت کی ضرورت نہیں، جو کرے گا اپنے بھلے کو کرے گا۔ اسی طرح رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی کے ذکر و نعت، درود و سلام کے محتاج نہیں جو یہ عمل صالح کرے گا اپنے بھلے کو کرے گا اور جو بدنصیب شیطانی وساوس کا شکار ہوکر اس سعادت سے محروم رہا وہ اپنا ہی نقصان کرے گا۔ اسی لیے رب کریم فرماتا ہے:
وَرَفَعْنَا لَکَ ذِکْرَکَ.
’’اور ہم نے آپ کی خاطر آپ کا ذکر (اپنے ذکر کے ساتھ ملا کر دنیا و آخرت میں ہر جگہ) بلند فرما دیا۔‘‘
(الانشراح، 94: 4)
(منتخباتِ مشاہد سے ایک ورق)
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2175665582572617&id=100003875890529
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
﷽ آج بتاریخ ⁶ربیع الآخر ¹⁴⁴³ھ مطابق ¹²نومبر ²⁰²¹ء بروز جمعۃ المبارکہ بوقتِ دوپہر ایک بجکر پندرہ مِنٹ [01:15ᵖᵐ] پر ہماری دادی جان (مرحومہ نور جہاں قادِریہ زوجہ مرحوم محمد اِبراہیم خان قادِری) کا اِنتقال ہو گیا ہے - اِنَّا لِلهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیۡهِ رٰجِعُوۡنَ -
دُعا کریں کہ اَللہۡ تَبَارَكَ وَ تَعَالیٰ ﷻ تمام نبی رَسُول (عَلَیۡہِمُ السَّلَامۡ)، صحابہ اہلِ بیت اور سب ولیوں (رَضِیَ اللہُ تَعَالیٰ عَنۡہُمۡ اَجۡمَعِیۡنۡ) کے صدقہ و طفیل ہماری دادی جان اور تمام اہلِ ایمان مرحومین و مرحومات کے گناہ صغیرہ و کبیرہ کو معاف فرمائے -
اور عذابِ قبر، عذابِ حشر، عذابِ نار سے محفوظ فرمائے - اور رسولِ اعظم ﷺ کی شفاعت سے جنت الفردوس میں اعلیٰ سے اعلیٰ مقام عطا فرمائے -
اور اہلِ خانہ، رشتہ دار، دوست احباب کو صبرِ جمیل اور اجر جزیل عطا فرمائے - اور ان کے نام زیادہ سے زیادہ ایصالِ ثواب کرنے کی توفیق عطا فرمائے - اور تمام مسلمانوں کا خاتمہ ایمان پر فرمائے - آمِیۡنۡ اللّٰهُمَّ رَبَّنَا ثُمَّ آمِیۡنۡ بِجَاهِ النَّبِیِّ الۡاَمِیۡنِ الۡکَرِیۡمۡ ﷺ
دُعَا گُوۡ: مُحَمَّدۡ جَمَالُ الدِّیۡنۡ خَانۡ قَادِرِیۡ
رَضَوِیۡ ضِلَعۡ بَہۡرَائِچۡ شَرِیۡفۡ یُوۡ پِیۡ اَلۡہِنۡدۡ
دُعا کریں کہ اَللہۡ تَبَارَكَ وَ تَعَالیٰ ﷻ تمام نبی رَسُول (عَلَیۡہِمُ السَّلَامۡ)، صحابہ اہلِ بیت اور سب ولیوں (رَضِیَ اللہُ تَعَالیٰ عَنۡہُمۡ اَجۡمَعِیۡنۡ) کے صدقہ و طفیل ہماری دادی جان اور تمام اہلِ ایمان مرحومین و مرحومات کے گناہ صغیرہ و کبیرہ کو معاف فرمائے -
اور عذابِ قبر، عذابِ حشر، عذابِ نار سے محفوظ فرمائے - اور رسولِ اعظم ﷺ کی شفاعت سے جنت الفردوس میں اعلیٰ سے اعلیٰ مقام عطا فرمائے -
اور اہلِ خانہ، رشتہ دار، دوست احباب کو صبرِ جمیل اور اجر جزیل عطا فرمائے - اور ان کے نام زیادہ سے زیادہ ایصالِ ثواب کرنے کی توفیق عطا فرمائے - اور تمام مسلمانوں کا خاتمہ ایمان پر فرمائے - آمِیۡنۡ اللّٰهُمَّ رَبَّنَا ثُمَّ آمِیۡنۡ بِجَاهِ النَّبِیِّ الۡاَمِیۡنِ الۡکَرِیۡمۡ ﷺ
دُعَا گُوۡ: مُحَمَّدۡ جَمَالُ الدِّیۡنۡ خَانۡ قَادِرِیۡ
رَضَوِیۡ ضِلَعۡ بَہۡرَائِچۡ شَرِیۡفۡ یُوۡ پِیۡ اَلۡہِنۡدۡ
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
آخر یہ "بند" کب تک؟
تحریر : محمد زاہد علی مرکزی، کالپی شریف
چیئرمین : تحریک علمائے بندیل کھنڈ۔
کہتے ہیں جب حکومت بیساکھی کے سہارے ہو تو بہت سارے لنگڑے بہادر بن جاتے ہیں ، مہاراشٹرا حکومت بھی کئی بیساکھیوں کے ذریعے کھڑی ہے، برسر اقتدار پارٹی شو سینا کی آئیڈیا لوجی بی جے پی سے جدا نہیں ہے، یونہی کانگریس اور شرد پوار کی نیشنل کانگریس کی آئیڈیا لوجی شو سینا سے میل نہیں کھاتی ، لیکن سیاست میں مفاد ہی سب سے اہم ہوتا ہے جو شو سینا کو مل رہا ہے اس لیے آئیڈیالوجی میں قدرے نرمی ہے یا یوں کہہ لیں کہ جب گھی سیدھی انگلی سے نکل رہا ہو تو انگلی ٹیڑھی کرنے کی کیا ضرورت ہے، کسی وجہ سے اگر آج حکومت گر جائے تو آپ شو سینا اور بی جے پی کو ہاتھ ملا تے ہوئے دیکھیں گے، کیونکہ سیاست میں ہمیشہ کا نہ کوئی دوست ہوتا ہے اور نہ دشمن، انھیں جہاں مفاد دکھے گا وہاں ساتھ ہونگے -
ویسے تو انڈین سیاست میں ہم نے بہت سے مفاد والے گٹھ جوڑ دیکھے ہیں لیکن حالیہ سالوں کے دو گٹھ جوڑ یادگار ہیں پہلا گٹھبندھن ایسا بھاری پڑا کہ سارے صوبے کی تقدیر ہی بدل گئی یہ صوبہ ہے" کشمیر" سیاسی جماعتوں کو یہ گٹھبندھن بہت کچھ سبق دیتا ہے، جب سیاسی مفاد کے لئے کشمیر میں محبوبہ مفتی نے اپنی آئیڈیالوجی کے خلاف جاتے ہوئے بی جے پی سے گٹھبندھن کیا تو اس وقت کسی کے خواب و خیال میں بھی آرٹیکل 370 ہٹانے اور کشمیری سیاست کو معطل کرنے کا وہم بھی نہ گزرا ہوگا، کاش! کشمیری جماعتیں آپس میں مل کر حکومت بناتیں تو شاید اتنا آسان نہ ہوتا - لیکن یہ دنیا ہے یہاں کئی دفعہ کنواں کھودنے والا ہی کنویں میں گرجاتا ہے، جس طرح بی جے پی نے چال چل کر اپنے آپ کو کشمیر میں مضبوط کیا تھا ٹھیک اسی کا بدلہ بی جے پی کو شو سینا نے مہاراشٹرا میں دے دیا، تقریباً تین دہائیوں کا اتحاد پارہ پارہ ہوگیا اور وزیر اعلیٰ کی کرسی کے لیے شو سینا بی جے پی چھوڑ گئی، آج مہاراشٹرا میں شو سینا کی حکومت ہے اور وہاں تریپورا میں ہوے فسادات اور آقا علیہ السلام کی گستاخیوں پر احتجاجی مظاہرے اور ممبئی بند کی کال دی گئی تھی، مہاراشٹر کے ساتھ ساتھ ملک کے دیگر علاقوں میں میں بھی احتجاج درج کرایا گیا اور ممبئی میں بند کا کافی اثر رہا -
رضا اکیڈمی کے سربراہ جناب سعید نوری صاحب اور ممبئی و اطراف کے علمائے اہل سنت جن کی مشترکہ کاوشوں سے یہ بند بلایا گیا تھا اس میں شام ہوتے ہوتے مہاراشٹر کے تین شہروں سے نازیبا خبریں گردش کر رہی ہیں، اتر پردیش کے اگرہ سے بھی مسلم دوکانوں میں لوٹ پاٹ کی خبریں ہیں، اے بی پی نیوز کے مطابق احتجاجی جلوس کے دوران مہاراشٹرا کے تین مشہور شہر ناندیڑ، امراوتی اور مالیگاؤں سے جلوس میں پتھراؤ کی خبریں ہیں وہیں ناندیڑ کے ایس پی صاحب کا ٹویٹ بھی اس کی توثیق کرتا ہے کہ شہر میں تین چار جگہوں پر پتھراؤ ہوا ہے -
کیا گستاخیوں کا حل مظاہرے ہیں؟
سعید نوری صاحب اور دیگر حضرات کی نیتوں پر کسی قسم کا شک نہیں کیا جا سکتا(اللہ ان سب کی عمریں دراز اور کاوشیں قبول فرمائے) لیکن کیا ہم دھرنا کرکے، بھیڑ دکھا کر کچھ اثر ڈال سکتے ہیں؟ کیا اس سے یہ گستاخیاں رک جائیں گی؟ کیا کسانوں کے احتجاج کی ناکامی اور قریب چھ سو کسانوں کی جان جانے کے بعد بھی ہمیں ابھی احتجاج کی ضرورت ہے؟ اگر ان سوالات کے جوابات ہم جانتے ہیں اور یقینا جانتے ہیں تو عوام اہل سنت کو اس سخت ماحول میں آزمائش میں ڈالنا درست ہے؟ جب مظاہرے بے اثر ہو چکے ہوں، پارلیمنٹ میں قوانین آپ کے خلاف آسانی سے بن رہے ہوں، اور گستاخ نرسمها نند اور ملعون وسیم جیسے لوگ ہزاروں ایف آئی آر کے بعد بھی آزاد ہوں، جہاں دنگائی بھیڑ جے سی بی (jcb) مشین لے کر چلتی ہو اور پولیس ساتھ میں نعرے لگا رہی ہو، ایسی جگہوں پر آپ کے مظاہروں سے کیا ہونے والا ہے؟ کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ تریپورا کے دنگائی آزاد ہیں اور ہماری جماعت کی ایک دردمند اور متحرک شخصیت تحریک فروغ اسلام کے بانی جناب قمر غنی عثمانی صاحب صرف اس لیے جیل میں ہیں کیونکہ وہ متاثرین سے مل کر دنیا کو اصل حالات سے آگاہ کرنا چاہ رہے تھے۔ جہاں ساری سیاسی جماعتیں آپ کا نام لینے سے ڈرتی ہوں اس وقت مجھے نہیں لگتا کہ ان احتجاجی مظاہروں سے کچھ ہونے والا ہے -
مروجہ احتجاج کے نقصانات
عام طور پر ہم ایک بڑی بھیڑ جمع کرکے یہ سمجھتے ہیں کہ ہم نے ایک بڑا کام کیا ہے، مگر کیا کبھی آپ نے اس طرف توجہ فرمائی کہ آپ کو احتجاج کی پرمیشن کیوں دی جاتی ہے؟ آپ کہہ سکتے ہیں کہ جمہوری قوانین اس کی اجازت دیتے ہیں اس لیے پرمیشن ملتی ہے۔ ہو سکتا ہے ایسا ہی ہو لیکن یہ بھی ہو سکتا ہے آپ کو احتجاج کی اجازت اس لیے بھی دی جاتی ہو تاکہ آپ کے سرخیل افراد کو ڈرایا جا سکے، ہزاروں لاکھوں کی تعداد میں لوگ مظاہرے کریں اور کسی بھی قسم کی بدامنی نہ ہو یہ مسلمانوں سے عین ممکن ہے لیکن آپ کے مخالفین کی طرف سے آپ کے اسی احتجاج میں چند عناصر ایسے بھی شامل کردیے جاتے ہیں جو ہلکا پھلکا غلط کام
تحریر : محمد زاہد علی مرکزی، کالپی شریف
چیئرمین : تحریک علمائے بندیل کھنڈ۔
کہتے ہیں جب حکومت بیساکھی کے سہارے ہو تو بہت سارے لنگڑے بہادر بن جاتے ہیں ، مہاراشٹرا حکومت بھی کئی بیساکھیوں کے ذریعے کھڑی ہے، برسر اقتدار پارٹی شو سینا کی آئیڈیا لوجی بی جے پی سے جدا نہیں ہے، یونہی کانگریس اور شرد پوار کی نیشنل کانگریس کی آئیڈیا لوجی شو سینا سے میل نہیں کھاتی ، لیکن سیاست میں مفاد ہی سب سے اہم ہوتا ہے جو شو سینا کو مل رہا ہے اس لیے آئیڈیالوجی میں قدرے نرمی ہے یا یوں کہہ لیں کہ جب گھی سیدھی انگلی سے نکل رہا ہو تو انگلی ٹیڑھی کرنے کی کیا ضرورت ہے، کسی وجہ سے اگر آج حکومت گر جائے تو آپ شو سینا اور بی جے پی کو ہاتھ ملا تے ہوئے دیکھیں گے، کیونکہ سیاست میں ہمیشہ کا نہ کوئی دوست ہوتا ہے اور نہ دشمن، انھیں جہاں مفاد دکھے گا وہاں ساتھ ہونگے -
ویسے تو انڈین سیاست میں ہم نے بہت سے مفاد والے گٹھ جوڑ دیکھے ہیں لیکن حالیہ سالوں کے دو گٹھ جوڑ یادگار ہیں پہلا گٹھبندھن ایسا بھاری پڑا کہ سارے صوبے کی تقدیر ہی بدل گئی یہ صوبہ ہے" کشمیر" سیاسی جماعتوں کو یہ گٹھبندھن بہت کچھ سبق دیتا ہے، جب سیاسی مفاد کے لئے کشمیر میں محبوبہ مفتی نے اپنی آئیڈیالوجی کے خلاف جاتے ہوئے بی جے پی سے گٹھبندھن کیا تو اس وقت کسی کے خواب و خیال میں بھی آرٹیکل 370 ہٹانے اور کشمیری سیاست کو معطل کرنے کا وہم بھی نہ گزرا ہوگا، کاش! کشمیری جماعتیں آپس میں مل کر حکومت بناتیں تو شاید اتنا آسان نہ ہوتا - لیکن یہ دنیا ہے یہاں کئی دفعہ کنواں کھودنے والا ہی کنویں میں گرجاتا ہے، جس طرح بی جے پی نے چال چل کر اپنے آپ کو کشمیر میں مضبوط کیا تھا ٹھیک اسی کا بدلہ بی جے پی کو شو سینا نے مہاراشٹرا میں دے دیا، تقریباً تین دہائیوں کا اتحاد پارہ پارہ ہوگیا اور وزیر اعلیٰ کی کرسی کے لیے شو سینا بی جے پی چھوڑ گئی، آج مہاراشٹرا میں شو سینا کی حکومت ہے اور وہاں تریپورا میں ہوے فسادات اور آقا علیہ السلام کی گستاخیوں پر احتجاجی مظاہرے اور ممبئی بند کی کال دی گئی تھی، مہاراشٹر کے ساتھ ساتھ ملک کے دیگر علاقوں میں میں بھی احتجاج درج کرایا گیا اور ممبئی میں بند کا کافی اثر رہا -
رضا اکیڈمی کے سربراہ جناب سعید نوری صاحب اور ممبئی و اطراف کے علمائے اہل سنت جن کی مشترکہ کاوشوں سے یہ بند بلایا گیا تھا اس میں شام ہوتے ہوتے مہاراشٹر کے تین شہروں سے نازیبا خبریں گردش کر رہی ہیں، اتر پردیش کے اگرہ سے بھی مسلم دوکانوں میں لوٹ پاٹ کی خبریں ہیں، اے بی پی نیوز کے مطابق احتجاجی جلوس کے دوران مہاراشٹرا کے تین مشہور شہر ناندیڑ، امراوتی اور مالیگاؤں سے جلوس میں پتھراؤ کی خبریں ہیں وہیں ناندیڑ کے ایس پی صاحب کا ٹویٹ بھی اس کی توثیق کرتا ہے کہ شہر میں تین چار جگہوں پر پتھراؤ ہوا ہے -
کیا گستاخیوں کا حل مظاہرے ہیں؟
سعید نوری صاحب اور دیگر حضرات کی نیتوں پر کسی قسم کا شک نہیں کیا جا سکتا(اللہ ان سب کی عمریں دراز اور کاوشیں قبول فرمائے) لیکن کیا ہم دھرنا کرکے، بھیڑ دکھا کر کچھ اثر ڈال سکتے ہیں؟ کیا اس سے یہ گستاخیاں رک جائیں گی؟ کیا کسانوں کے احتجاج کی ناکامی اور قریب چھ سو کسانوں کی جان جانے کے بعد بھی ہمیں ابھی احتجاج کی ضرورت ہے؟ اگر ان سوالات کے جوابات ہم جانتے ہیں اور یقینا جانتے ہیں تو عوام اہل سنت کو اس سخت ماحول میں آزمائش میں ڈالنا درست ہے؟ جب مظاہرے بے اثر ہو چکے ہوں، پارلیمنٹ میں قوانین آپ کے خلاف آسانی سے بن رہے ہوں، اور گستاخ نرسمها نند اور ملعون وسیم جیسے لوگ ہزاروں ایف آئی آر کے بعد بھی آزاد ہوں، جہاں دنگائی بھیڑ جے سی بی (jcb) مشین لے کر چلتی ہو اور پولیس ساتھ میں نعرے لگا رہی ہو، ایسی جگہوں پر آپ کے مظاہروں سے کیا ہونے والا ہے؟ کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ تریپورا کے دنگائی آزاد ہیں اور ہماری جماعت کی ایک دردمند اور متحرک شخصیت تحریک فروغ اسلام کے بانی جناب قمر غنی عثمانی صاحب صرف اس لیے جیل میں ہیں کیونکہ وہ متاثرین سے مل کر دنیا کو اصل حالات سے آگاہ کرنا چاہ رہے تھے۔ جہاں ساری سیاسی جماعتیں آپ کا نام لینے سے ڈرتی ہوں اس وقت مجھے نہیں لگتا کہ ان احتجاجی مظاہروں سے کچھ ہونے والا ہے -
مروجہ احتجاج کے نقصانات
عام طور پر ہم ایک بڑی بھیڑ جمع کرکے یہ سمجھتے ہیں کہ ہم نے ایک بڑا کام کیا ہے، مگر کیا کبھی آپ نے اس طرف توجہ فرمائی کہ آپ کو احتجاج کی پرمیشن کیوں دی جاتی ہے؟ آپ کہہ سکتے ہیں کہ جمہوری قوانین اس کی اجازت دیتے ہیں اس لیے پرمیشن ملتی ہے۔ ہو سکتا ہے ایسا ہی ہو لیکن یہ بھی ہو سکتا ہے آپ کو احتجاج کی اجازت اس لیے بھی دی جاتی ہو تاکہ آپ کے سرخیل افراد کو ڈرایا جا سکے، ہزاروں لاکھوں کی تعداد میں لوگ مظاہرے کریں اور کسی بھی قسم کی بدامنی نہ ہو یہ مسلمانوں سے عین ممکن ہے لیکن آپ کے مخالفین کی طرف سے آپ کے اسی احتجاج میں چند عناصر ایسے بھی شامل کردیے جاتے ہیں جو ہلکا پھلکا غلط کام
کر دیتے ہیں۔ کل کے احتجاج/بند کے بعد نیوز اینکرس اپنے کام میں لگ گئے ہیں۔ ملک کے مختلف علاقوں سے اس بند کے خلاف اکثریتی طبقے کو مشتعل کیا جارہا ہے۔ نیز آج بی جے پی نے بند بلایا ہے۔ سی سی ٹی وی کے ذریعے ان نوجوانوں کی پہچان کی جارہی ہے جنھوں نے دوکانوں پر پتھراؤ کیا ہے، مہاراشٹر کے تینوں شہروں میں حالات نازک بنے ہوے ہیں اور آج کے بی جے پی کے بند کے اعلان سے دیکھیے کیا ہوتا ہے۔ اگر مزید حالات خراب ہوتے ہیں تو پریشانیاں بھی بڑھ جائیں گی، ظاہر ہے ایسے کسی کام کی ساری ذمہ داری بند بلانے والے پر ڈال دی جاتی ہے ، پھر پولیس حرکت میں آتی ہے اور آپ پر مقدمہ ہوتا ہے اور یہ مقدمہ حکومت کی شہ پر ہوتا ہے، حکومت کو اس کے کافی فائدے ہوتے ہیں، مقدمہ لگنے کے بعد بندہ بڑے لیڈران کی ضرورت محسوس کرتا ہے اور وہ آپ کو بچا لیتے ہیں، نتیجہ آپ سے الیکشن کے وقت اپنی حمایت کا اعلان کروا لیتے ہیں، اگر آپ اس سے دور رہنا چاہتے ہیں تو انھیں مقدموں میں تیزی لاکر گرفتاری کرا دی جاتی ہے - طرح طرح سے پریشان کیا جاتا ہے، اب آپ یا تو حکومت کے کارندے بن جائیے یا پھر جیل کی ہوا کھائیے، بہر صورت حکومت کا فائدہ ہے، پہلی صورت میں حکومت غیر مسلموں کو آپ کا ڈر دکھا کر ووٹ لے لے گی، دوسری صورت میں آپ کی صورت دکھا کر ووٹ لے لے گی۔ اب آپ کو یا آپ کی قوم کو کیا ملا؟
یاد رہے احتجاج صرف وہی کامیاب ہوتے ہیں جن احتجاجات میں حکومت کو جھکانے کا مادہ ہو،ورنہ حکومت کے سامنے ان کی حیثیت مذہبی جلوس سے زیادہ کی نہیں ہوتی، تاریخ اٹھا کر دیکھ لیجیے مسلمانوں کے احتجاجات سے کبھی کوئی لیڈر نہیں بنا جب کہ غیر مسلموں کے مظاہروں سے کنہیا، کیجریوال، ہاردک پٹیل جیسے سیکڑوں لیڈر بنے ہیں -
اگر کرنا ہے تو یہ کریں -
دلت لیڈر ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر نے ایک جگہ لکھا ہے کہ "میں اتنا پڑھ لکھ کر بھی انڈیا کی سیاست میں اس لیا گیا کیونکہ یہاں سیاست کے بغیر میں اپنی قوم کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتا" دنیا نے دیکھا کہ سیاست میں آکر انھوں نے اپنی قوم کو فرش سے عرش پر پہنچا دیا -
جمہوری نظام میں اصل کام ہے سیاسی طاقت حاصل کرنا اور اس پر ہم آنکھ بند کرکے بیٹھے ہیں، جتنی محنت ہم بھیڑ جمع کرنے میں لگاتے ہیں اگر اس کا دسواں حصہ مسلمانوں میں سیاسی شعور بیدار کرنے میں لگا دیں تو حکومتیں آپ کے بغیر ایک منٹ نہ چل سکیں گی، یہی عشق رسالت کا جذبہ اس وقت تک بیدار رکھیے جب تک الیکشن نہ آجائے اور پھر پوری قوت کے ساتھ خاموشی سے میدان میں آجائیں، ایک بار آپ سیاسی طاقت بن گیے تو ایسی بیساکھی والی سرکاروں کو جب چاہیں تب گرا بھی سکتے ہیں اور اپنی بات منوا بھی سکتے ہیں، آج آپ ناموس رسالت پر قانون بنانے کی تگ و دو کر رہے ہیں لیکن اس پر کوئ کان دھرنے کو تیار نہیں ہے، اگر آپ حکومت میں ہوں تو یہ قانون لانا مجبوری ہو - سیاست اصل ہے باقی سب فرع، جب تک اصل پر کام نہیں ہوگا، فرع کی فرح اگر حاصل بھی ہوئی تو وقتی ہی ہوگی - جب تک آپ لوک سبھا اور راجیہ سبھا نہیں پہنچیں گے لیڈر حضرات کے ساتھ ملاقات کی تصویری جھلکیاں ہی لے سکتے ہیں بقیہ کچھ نہیں، اور اس سیلفی کی قیمت پوری قوم چکاتی رہے گی -
بھارتی سیاست میں ہر اس قوم کو حق مل رہا ہے جس کی اپنی قیادت ہے اور ہر وہ قوم پریشان ہے جس کی اپنی قیادت نہیں ہے، ہم لاکھوں کی اسی بھیڑ کو اگر ووٹ کی شکل میں تبدیل کر لیں تو یقین جانیے آپ وہ سب کچھ کر سکیں گے جو اور لوگ کر سکتے ہیں، آج ہمارے لوگ اگر جلسوں، عرسوں میں اپنے اپنے معتقدین کو یہ سمجھانے لگیں کہ آپ کو خاموشی سے اپنی قیادت کی طرف توجہ دینا ہے تبھی آپ کی جان، مال، عزت، آبرو، مذہب سلامت رہ سکتا ہے تو کل ہی ایک بڑا بدلاؤ ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہونگے - آپ کچھ بھی ہوجائیں اگر جمہوری ملک میں آپ نے سیاسی طاقت نہیں بنائی تو آپ کی کوئی حیثیت نہیں ہے -
نوٹ :یہ میری ذاتی رائے ہے۔ آپ کو اختلاف کا پورا حق حاصل ہے -
13/11 /2021
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/1025595271344324/
یاد رہے احتجاج صرف وہی کامیاب ہوتے ہیں جن احتجاجات میں حکومت کو جھکانے کا مادہ ہو،ورنہ حکومت کے سامنے ان کی حیثیت مذہبی جلوس سے زیادہ کی نہیں ہوتی، تاریخ اٹھا کر دیکھ لیجیے مسلمانوں کے احتجاجات سے کبھی کوئی لیڈر نہیں بنا جب کہ غیر مسلموں کے مظاہروں سے کنہیا، کیجریوال، ہاردک پٹیل جیسے سیکڑوں لیڈر بنے ہیں -
اگر کرنا ہے تو یہ کریں -
دلت لیڈر ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر نے ایک جگہ لکھا ہے کہ "میں اتنا پڑھ لکھ کر بھی انڈیا کی سیاست میں اس لیا گیا کیونکہ یہاں سیاست کے بغیر میں اپنی قوم کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتا" دنیا نے دیکھا کہ سیاست میں آکر انھوں نے اپنی قوم کو فرش سے عرش پر پہنچا دیا -
جمہوری نظام میں اصل کام ہے سیاسی طاقت حاصل کرنا اور اس پر ہم آنکھ بند کرکے بیٹھے ہیں، جتنی محنت ہم بھیڑ جمع کرنے میں لگاتے ہیں اگر اس کا دسواں حصہ مسلمانوں میں سیاسی شعور بیدار کرنے میں لگا دیں تو حکومتیں آپ کے بغیر ایک منٹ نہ چل سکیں گی، یہی عشق رسالت کا جذبہ اس وقت تک بیدار رکھیے جب تک الیکشن نہ آجائے اور پھر پوری قوت کے ساتھ خاموشی سے میدان میں آجائیں، ایک بار آپ سیاسی طاقت بن گیے تو ایسی بیساکھی والی سرکاروں کو جب چاہیں تب گرا بھی سکتے ہیں اور اپنی بات منوا بھی سکتے ہیں، آج آپ ناموس رسالت پر قانون بنانے کی تگ و دو کر رہے ہیں لیکن اس پر کوئ کان دھرنے کو تیار نہیں ہے، اگر آپ حکومت میں ہوں تو یہ قانون لانا مجبوری ہو - سیاست اصل ہے باقی سب فرع، جب تک اصل پر کام نہیں ہوگا، فرع کی فرح اگر حاصل بھی ہوئی تو وقتی ہی ہوگی - جب تک آپ لوک سبھا اور راجیہ سبھا نہیں پہنچیں گے لیڈر حضرات کے ساتھ ملاقات کی تصویری جھلکیاں ہی لے سکتے ہیں بقیہ کچھ نہیں، اور اس سیلفی کی قیمت پوری قوم چکاتی رہے گی -
بھارتی سیاست میں ہر اس قوم کو حق مل رہا ہے جس کی اپنی قیادت ہے اور ہر وہ قوم پریشان ہے جس کی اپنی قیادت نہیں ہے، ہم لاکھوں کی اسی بھیڑ کو اگر ووٹ کی شکل میں تبدیل کر لیں تو یقین جانیے آپ وہ سب کچھ کر سکیں گے جو اور لوگ کر سکتے ہیں، آج ہمارے لوگ اگر جلسوں، عرسوں میں اپنے اپنے معتقدین کو یہ سمجھانے لگیں کہ آپ کو خاموشی سے اپنی قیادت کی طرف توجہ دینا ہے تبھی آپ کی جان، مال، عزت، آبرو، مذہب سلامت رہ سکتا ہے تو کل ہی ایک بڑا بدلاؤ ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہونگے - آپ کچھ بھی ہوجائیں اگر جمہوری ملک میں آپ نے سیاسی طاقت نہیں بنائی تو آپ کی کوئی حیثیت نہیں ہے -
نوٹ :یہ میری ذاتی رائے ہے۔ آپ کو اختلاف کا پورا حق حاصل ہے -
13/11 /2021
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/1025595271344324/
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
*اعلی حضرت رحمة اللہ علیہ پر غیرمحرم کو دیکھنے کے اعتراض کا جواب*
دیوبندی مولوی نے یہ لکھا ہے کہ بریلوی مجدد مولوی احمد رضا خان صاحب بریلوی غیرمحرم کو دیکھنے کا واقعہ بیان کرتے ہیں کہ : میں ( احمد رضا ) نے خود دیکھا گاٶں میں ایک لڑکی 18 / 20 برس کی تھی ماں اس کی ضعیفہ تھی ، اس کا دودھ اس وقت تک نہ چھڑایا تھا ، ماں ہرچند منع کرتی وہ زور آور تھی پچھاڑتی اور سینے پہ چڑھ کر دودھ پینے لگتی ۔ ( ملفوظات ۔ ص 346 ) ۔۔۔ اب ذرا الیاس عطاری صاحب کی کی بھی سن لیں وہ کیا کہتے ہیں ایسے اعمال پر ! مرد عورت کو دیکھے یا عورت مرد کو بشہوت دیکھے یہ دونوں کام حرام ہیں اور ہر فعل حرام جہنم میں لے جانے والا کام ہے ( بیان عطاریہ ) ۔۔ الیاس عطاری صاحب کی اس تحریر سے اعلی حضرت کے متعلق فتوی صاف الفاظ میں نظر آرہا ہے ۔۔۔؟
📙 ( دست وگریباں ۔ ص 99 )
******* *الجواب* *******
قارٸین کرام ! دیوبندی مولوی نے اپنی ذہنی گندگی کے مطابق اس واقعہ کو بیان کرنے کی کوشش کی ہے حالانکہ اعلی حضرت رحمة اللہ تعالی علیہ کا یہ جواب محاورة ہے ۔ جیسے ہم کہتے ہیں کہ ہمارے سامنے کی بات ہے کہ ہمارے علاقے میں قتل ہوا ۔ اسی طرح اعلی حضرت علیہ رحمہ نے سننے کو دیکھنے پر محاورة محمول کیا ۔ پھر اس واقعہ میں ایسا کوٸی ایک لفظ بھی موجود نہیں جس سے یہ ثابت ہوتا ہو کہ اس بوڑھی عورت کا ستر کھل گیا تھا یا وہ لڑکی اپنی ماں کو سب کے سامنے ننگا کر کے دودھ پیتی تھی ۔ میں کہتا ہوں کہ محض ایسے کسی واقعے کو دیکھنے سے بھی جسم کا ننگا ہونا یا جسم کو دیکھنا لازم نہیں آتا ، اور دوسری بات یہ کہ مولانا الیاس عطاری کے بیان میں واضح لفظ *بشہوت* موجود ہے جو کہ ملفوظات میں موجود نہیں ، تو لہٰذا مولانا الیاس عطاری کی بات اعلی حضرت علیہ رحمہ پر فٹ نہیں ہوتی ۔؟ اگر دیوبندی بضد ہیں تو لیجیے صحیح بخاری شریف کی روایت کا ترجمہ خود اپنے دیوبندیوں سے پیش خدمت ہے ۔
🔅 دیوبندی مولوی ظہور الباری اعظمی فاضل دارالعلوم دیوبند نے حدیث کا ترجمہ ان الفاظ میں کیا کہ :
*🔴 ” عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ کے پاس کچھ قیدی آۓ ، قیدیوں میں ایک عورت تھی جس کا پستان دودھ سے بھرا ہوا تھا ، وہ جب کسی ( شیر خوار ) بچہ کو دیکھ لیتی تو اپنے پیٹ سے لگا لیتی اور اسے دودھ پلاتی “*
📘 ( تفہیم البخاری ج 3 ۔ کتاب الادب ۔ ح 937 ۔ ص 383 ۔ شاھانی)
🔅 دیوبندیوں کے شیخ الحدیث و صدرالمدرسین دارالعلوم دیوبند مفتی سعید احمد پالن پوری اپنی شرح میں لکھتے ہیں کہ :
*🔴 ” نبی پاک ﷺ کے پاس ہوازن کے قیدی لاۓ گٸے ، پس قیدیوں میں سے ایک عورت کی چھاتی دودھ سے ٹپک رہی تھی ، چنانچہ وہ قیدیوں میں جس بچہ کو پاتی اسکو لیتی اور اپنے پیٹ سے لگاتی اور اس کو دودھ پلاتی “*
📗 ( تحفة القاری ۔ ج 11 ۔ کتاب الادب ۔ ح 5998 )
بلکہ اس سے بھی بڑھ کر علماۓ دیوبند ہی کے شیخ الحدیث مولوی سلیم اللہ خان مہتمم جامعہ فاروقیہ کراچی نے جو ترجمہ ” کشف الباری “ میں کیا، دیوبندی اصول کے مطابق تو وہ اس سے بڑھ کر قابل تنقید ہوگا ( معاذ اللہ ) چنانچہ دیوبندی مولوی لکھتے ہیں کہ :
*🔴 ” حضرت فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں نبی کریم ﷺ کے پاس چند قیدی لاۓ گٸے ، ان قیدیوں میں ایک عورت تھی ۔ وہ چھاتی سے دودھ پلانے کے لیے نکال رہی تھی ، جب وہ کسی بچے کو قید میں دیکھتی تو اسے پکڑ کے اپنے پیٹ سے چمٹاتی اوراسکو دودھ پلاتی “*
📙 ( کشف الباری ۔ کتاب الادب ۔ ص 363 ۔شاھانی)
اسی روایت کا ترجمہ حسین احمد ٹانڈوی کے شاگرد رشید مولوی محمد عثمان غنی نے ” نصر الباری “ میں اس طرح کیا کہ :
*🔴 ” حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں کچھ قیدی آۓ ، قیدیوں میں ایک عورت تھی جس کی پستان سے دودھ اتر کر بہہ رہا تھا جب اس نے قیدیوں میں ایک بچے کو پایا تو اسے لے لیا ( غالباً یہ بچہ اسی عورت کا تھا جو گم ہوگیا تھا ) اس عورت نے اس بچہ کو لیا اور اپنے پیٹ سے لگایا اور اسے دودھ پلانے لگی “*
📘 ( نصر الباری ، ج 11 ، کتاب الادب ، ص 193 ، شاھانی)
تو اب ( معاذ اللہ ) وہابیہ گلابیہ دیابنہ علماء ! ہمت کریں اور بکواس کریں ، اگر بظاہر ایسے واقعہ سے بدنگاہی کا ہونا لازم آتا ہے تو پھر معاذ اللہ ثم معاذ اللہ ! ان کے اعتراض سے تو مقدس ہستیاں بلکہ ذات مصطفی ﷺ بھی محفوظ نہ رہی ۔ أَسْتَغْفِرُ اللّٰه !! اب اگر دیوکےبندوں کی خبیث سوچ و طرز کے مطابق کوٸی اس روایت کو پڑھے تو ان مقدس ہستیوں پر بھی زبان درازی کرتے ہوۓ نہیں شرماۓ گا ۔ ( معاذ اللہ )
معزز قارٸین کرام ! اب آپ انصاف کیجیے کہ یہاں اس قیدی عورت کا واقعہ بیان کیا گیا لیکن کوٸی ادنٰی سا صحیح العقیدہ مسلمان بھی یہ بدگمانی نہیں کر سکتا کہ معاذ اللہ ثم معاذ اللہ ان مقدس ہستیوں نے بدنگاہی کی ہو ، تو بالکل اسی طرح سیدی اعلی حضرت رحمة اللہ علیہ کا واقعہ ہے اس میں بھی کسی مسلمان کو ایسی بدگمانی ہرگز
دیوبندی مولوی نے یہ لکھا ہے کہ بریلوی مجدد مولوی احمد رضا خان صاحب بریلوی غیرمحرم کو دیکھنے کا واقعہ بیان کرتے ہیں کہ : میں ( احمد رضا ) نے خود دیکھا گاٶں میں ایک لڑکی 18 / 20 برس کی تھی ماں اس کی ضعیفہ تھی ، اس کا دودھ اس وقت تک نہ چھڑایا تھا ، ماں ہرچند منع کرتی وہ زور آور تھی پچھاڑتی اور سینے پہ چڑھ کر دودھ پینے لگتی ۔ ( ملفوظات ۔ ص 346 ) ۔۔۔ اب ذرا الیاس عطاری صاحب کی کی بھی سن لیں وہ کیا کہتے ہیں ایسے اعمال پر ! مرد عورت کو دیکھے یا عورت مرد کو بشہوت دیکھے یہ دونوں کام حرام ہیں اور ہر فعل حرام جہنم میں لے جانے والا کام ہے ( بیان عطاریہ ) ۔۔ الیاس عطاری صاحب کی اس تحریر سے اعلی حضرت کے متعلق فتوی صاف الفاظ میں نظر آرہا ہے ۔۔۔؟
📙 ( دست وگریباں ۔ ص 99 )
******* *الجواب* *******
قارٸین کرام ! دیوبندی مولوی نے اپنی ذہنی گندگی کے مطابق اس واقعہ کو بیان کرنے کی کوشش کی ہے حالانکہ اعلی حضرت رحمة اللہ تعالی علیہ کا یہ جواب محاورة ہے ۔ جیسے ہم کہتے ہیں کہ ہمارے سامنے کی بات ہے کہ ہمارے علاقے میں قتل ہوا ۔ اسی طرح اعلی حضرت علیہ رحمہ نے سننے کو دیکھنے پر محاورة محمول کیا ۔ پھر اس واقعہ میں ایسا کوٸی ایک لفظ بھی موجود نہیں جس سے یہ ثابت ہوتا ہو کہ اس بوڑھی عورت کا ستر کھل گیا تھا یا وہ لڑکی اپنی ماں کو سب کے سامنے ننگا کر کے دودھ پیتی تھی ۔ میں کہتا ہوں کہ محض ایسے کسی واقعے کو دیکھنے سے بھی جسم کا ننگا ہونا یا جسم کو دیکھنا لازم نہیں آتا ، اور دوسری بات یہ کہ مولانا الیاس عطاری کے بیان میں واضح لفظ *بشہوت* موجود ہے جو کہ ملفوظات میں موجود نہیں ، تو لہٰذا مولانا الیاس عطاری کی بات اعلی حضرت علیہ رحمہ پر فٹ نہیں ہوتی ۔؟ اگر دیوبندی بضد ہیں تو لیجیے صحیح بخاری شریف کی روایت کا ترجمہ خود اپنے دیوبندیوں سے پیش خدمت ہے ۔
🔅 دیوبندی مولوی ظہور الباری اعظمی فاضل دارالعلوم دیوبند نے حدیث کا ترجمہ ان الفاظ میں کیا کہ :
*🔴 ” عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ کے پاس کچھ قیدی آۓ ، قیدیوں میں ایک عورت تھی جس کا پستان دودھ سے بھرا ہوا تھا ، وہ جب کسی ( شیر خوار ) بچہ کو دیکھ لیتی تو اپنے پیٹ سے لگا لیتی اور اسے دودھ پلاتی “*
📘 ( تفہیم البخاری ج 3 ۔ کتاب الادب ۔ ح 937 ۔ ص 383 ۔ شاھانی)
🔅 دیوبندیوں کے شیخ الحدیث و صدرالمدرسین دارالعلوم دیوبند مفتی سعید احمد پالن پوری اپنی شرح میں لکھتے ہیں کہ :
*🔴 ” نبی پاک ﷺ کے پاس ہوازن کے قیدی لاۓ گٸے ، پس قیدیوں میں سے ایک عورت کی چھاتی دودھ سے ٹپک رہی تھی ، چنانچہ وہ قیدیوں میں جس بچہ کو پاتی اسکو لیتی اور اپنے پیٹ سے لگاتی اور اس کو دودھ پلاتی “*
📗 ( تحفة القاری ۔ ج 11 ۔ کتاب الادب ۔ ح 5998 )
بلکہ اس سے بھی بڑھ کر علماۓ دیوبند ہی کے شیخ الحدیث مولوی سلیم اللہ خان مہتمم جامعہ فاروقیہ کراچی نے جو ترجمہ ” کشف الباری “ میں کیا، دیوبندی اصول کے مطابق تو وہ اس سے بڑھ کر قابل تنقید ہوگا ( معاذ اللہ ) چنانچہ دیوبندی مولوی لکھتے ہیں کہ :
*🔴 ” حضرت فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں نبی کریم ﷺ کے پاس چند قیدی لاۓ گٸے ، ان قیدیوں میں ایک عورت تھی ۔ وہ چھاتی سے دودھ پلانے کے لیے نکال رہی تھی ، جب وہ کسی بچے کو قید میں دیکھتی تو اسے پکڑ کے اپنے پیٹ سے چمٹاتی اوراسکو دودھ پلاتی “*
📙 ( کشف الباری ۔ کتاب الادب ۔ ص 363 ۔شاھانی)
اسی روایت کا ترجمہ حسین احمد ٹانڈوی کے شاگرد رشید مولوی محمد عثمان غنی نے ” نصر الباری “ میں اس طرح کیا کہ :
*🔴 ” حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں کچھ قیدی آۓ ، قیدیوں میں ایک عورت تھی جس کی پستان سے دودھ اتر کر بہہ رہا تھا جب اس نے قیدیوں میں ایک بچے کو پایا تو اسے لے لیا ( غالباً یہ بچہ اسی عورت کا تھا جو گم ہوگیا تھا ) اس عورت نے اس بچہ کو لیا اور اپنے پیٹ سے لگایا اور اسے دودھ پلانے لگی “*
📘 ( نصر الباری ، ج 11 ، کتاب الادب ، ص 193 ، شاھانی)
تو اب ( معاذ اللہ ) وہابیہ گلابیہ دیابنہ علماء ! ہمت کریں اور بکواس کریں ، اگر بظاہر ایسے واقعہ سے بدنگاہی کا ہونا لازم آتا ہے تو پھر معاذ اللہ ثم معاذ اللہ ! ان کے اعتراض سے تو مقدس ہستیاں بلکہ ذات مصطفی ﷺ بھی محفوظ نہ رہی ۔ أَسْتَغْفِرُ اللّٰه !! اب اگر دیوکےبندوں کی خبیث سوچ و طرز کے مطابق کوٸی اس روایت کو پڑھے تو ان مقدس ہستیوں پر بھی زبان درازی کرتے ہوۓ نہیں شرماۓ گا ۔ ( معاذ اللہ )
معزز قارٸین کرام ! اب آپ انصاف کیجیے کہ یہاں اس قیدی عورت کا واقعہ بیان کیا گیا لیکن کوٸی ادنٰی سا صحیح العقیدہ مسلمان بھی یہ بدگمانی نہیں کر سکتا کہ معاذ اللہ ثم معاذ اللہ ان مقدس ہستیوں نے بدنگاہی کی ہو ، تو بالکل اسی طرح سیدی اعلی حضرت رحمة اللہ علیہ کا واقعہ ہے اس میں بھی کسی مسلمان کو ایسی بدگمانی ہرگز
نہیں ہے اور نہ ہی کوٸی ایسا قطعی ثبوت ہے جس سے دیوخانی وہابی حضرات کا بدنگاہی کا دعوی ثابت ہوتا ہو ۔ لہٰذا جب یہاں پر وہ بات ہی نہیں تو پھر اس پر حرام و جہنم والے فتوے ہرگز عاٸد نہیں ہوتے ۔ ؟
*مزید چول مارتے ہوۓ ابوایوب دیوبندی نے ایک بیہودہ اعتراض کیا کہ*
” ایک طرف یہ فاضل بریلوی کا فعل کہ جوانی میں غیرمحرم کو دودھ پیتے ہوۓ دیکھا ہے اور بچپن میں طواٸفوں کے سامنے ننگے ہوجایا کرتے تھے جیسا کہ لکھا ہے کہ : *” آپ کو بچپن ہی سے عادت رہی کہ اجنبی عورتیں اگر نظر آجاتے تو کرتے سے اپنا منہ چھپا لیتے “*
(سیرت اعلی حضرت ۔ ص 29 )
📘 [ دست و گریباں ۔ ج 1 ۔ ص 100 ۔ شاھانی]
میں کہتا ہوں دیوبندی مولوی نے یہاں سخت جھوٹ ، دجل و فریب کا مظاہرہ کیا ہے ، کذاب اعظم ابوایوب دیوبندی کو ہمارا چیلنج ہے کہ یہ جو بات دیوبندی مولوی نے لکھی ہے یعنی *” آپ کو بچپن ہی سے عادت رہی کہ اجنبی عورتیں اگر نظر آ جاتیں تو کرتے سے اپنا منہ چھپا لیتے “* اگر دیوبندی مولوی میں شرم و حیاء ہے تو اپنے پیش کردہ حوالے میں یہ الفاظ دکھا دے تو ہم اسے مبلغ دس روپے انعام دیں گے ( کیونکہ اس سے زیادہ کے یہ قابل نہیں ) یہ اس دیوبندی مولوی کذاب کا کالا سیاہ جھوٹ ہے ۔
*دیوبندی مولوی کی بدنگاہیاں اور حرام کاریاں*
اب آٸیے ہم دیوبندی اصول کے مطابق خود ہی انہی دیوبندیوں کے حوالے بتاتے ہیں جن میں دیوبندی اکابرین نے غیر عورتوں کو دیکھا اور بقول دیوبندی ایسا عمل کر کے وہ شیطان ثابت ہوۓ ۔ چنانچہ حسین احمد ٹانڈوی دیوبندی کہتے ہیں کہ :
*میں ( حسین احمد ) نے دیکھا ایک دو سالہ خوبصورت بچی اور اس کی شفیق ماں روسیوں سے بھاگتی تھی*
📙( ارشادات مدنی ۔ ص 259 )
ایسے ہی دیوبندی اکابرین کے پیر سید احمد کے متعلق موجود ہے کہ :
*ایک مرتبہ ارشاد فرمایا کہ سید صاحب کسی شہر سے گذرے ایک کسبی خوبصورت اپنے دروازے پر کھڑی تھی سید صاحب گھوڑے پر سوار جا رہے تھے آپ نے جو ایک نظر اس کی طرف دیکھا تو وہ رنڈی بے تحاشہ دوڑی*
📘 ( ارشادات گنگوہی ۔ ص 98 ۔ شاھانی)
اسی طرح دیوبندیوں کے شیخ التفسیر اور دیوبندی امام الاولیاء کے بارے میں یہ لکھا ہوا ہے کہ انہوں نے دیکھا کہ :
*وہیں ٹھٹھہ میں ایک عورت حال میں جھوم رہی تھی ۔۔۔۔۔ اسی طرح ایک اور عورت حال میں جھوم رہی تھی ، ایک مرد اسے تھامنے کی کوشش کر رہا تھا ، وہ بہت حسین تھی ۔۔۔۔۔۔ اس عورت نے فوراً پلٹ کر آپ کی طرف دیکھا*
📘 ( مولانا احمد علی لاہوری کے حیرت انگیز واقعات ۔ باب 14 ۔ ص ۔ شاھانی )
ان تینوں حوالوں میں دیوبندی اصول کے مطابق ثابت ہوا کہ دیوبندی علماء و اکابرین نے غیر عورتوں کو دیکھا، اب آٸیے ایسے فعل کے بارے میں دیوبندی علماء نے کیا فتوی دیا ہے چنانچہ عاشق الہی میرٹھی صاحب لکھتے ہیں کہ :
*” جب عورت باہر نکلتی ہے تو شیطان دیکھنے لگتا ہے “*
📗 ( شرعی پردہ ۔ص 68 )
اسی طرح دیوبندی مولوی زکریا کے خلیفہ مجاز صغیر احمد کی کتب میں یہ لکھا ہے کہ :
*” مردوں کے لیے نامحرم عورتوں کو دیکھنا اور عورتوں کے لیے نامحرم مردوں کو دیکھنا حرام ہے “*
📙( مجالس الابرار ۔ ص 133 ۔ بحوالہ ٹی وی کی تباہ کاریاں ۔ ص 29 )
اسی طرح دیوبندی کی کتاب ” چار فتنے “ میں ایک حدیث لکھی ہے کہ :
*رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ کی لعنت ہے اجنبی عورت کو دیکھنے والے پر اور اس عورت پر جس کو دیکھا جاۓ*
📙 (چار فتنے ۔ ص 19 ۔ شاھانی)
تو معلوم ہوا کہ دیوبندی علماء و اکابرین غیر عورتوں کو دیکھ کر حرام کام میں مبتلا ہوۓ ، دیوبندی مولویوں پر اللہ تعالی کی لعنت ہے ، دیوبندی مولوی شیطان ہیں جو غیر عورتوں کو دیکھتے ہیں ۔؟
*دیوبندی رشید گنگوہی بے حیاء یا اس سے بھی بڑا ؟*
اب دیوبندی اپنے امام رشید گنگوہی کی بےحیاٸی و بے غیرتی بھی ملاحظہ کریں ، گنگوہی سے کسی نے پوچھا کہ *عورت کی شرمگاہ کیسی ہوتی ہے تو فرماتے ہیں ” جیسے گیہوں کا دانہ “*
📘( تذکرة الرشید ج 2 ۔ ص 131 )
اور خود دیوبندی مولوی ابوایوب صاحب لکھتے ہیں کہ :
*” علماۓ کرام تو زن و شوہر ( بیوی و شوہر ) کو ایک دوسرے کی شرمگاہ پر نگاہ ڈالنے کو خلاف تہذیب فرماتے ہیں کہ اس سے بے حیاٸی پیدا ہونے کا خوف ہے “*
📗 ( پانچ سو باادب سوالات ۔ ص 129 ۔ شاھانی )
یعنی شوہر اپنی بیوی کی بھی شرمگاہ پر نگاہ نہیں ڈال سکتا کیونکہ یہ خلاف تہذیب ہے اور بے حیاٸی پیدا ہوتی ہے تو اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جناب رشید گنگوہی نے آخر کس دیوبندی عورت کی شرمگاہ کو دیکھا تھا جو اس نے بھرے مجمع میں اس کو بیان کیا ؟ اگر گنگوہی نے اپنی بیوی کی شرم گاہ کو دیکھا تو ابوایوب کے مطابق بے حیاء و بےغیرت ثابت ہوا ۔ اور اگر گنگوہی نے اپنی بیوی کے علاوہ کسی دوسری دیوبندی عورت کی شرمگاہ کو دیکھا تو علماۓ دیوبند بتاٸیں کہ وہ کون دیوبندی عورت تھی ؟
*مزید چول مارتے ہوۓ ابوایوب دیوبندی نے ایک بیہودہ اعتراض کیا کہ*
” ایک طرف یہ فاضل بریلوی کا فعل کہ جوانی میں غیرمحرم کو دودھ پیتے ہوۓ دیکھا ہے اور بچپن میں طواٸفوں کے سامنے ننگے ہوجایا کرتے تھے جیسا کہ لکھا ہے کہ : *” آپ کو بچپن ہی سے عادت رہی کہ اجنبی عورتیں اگر نظر آجاتے تو کرتے سے اپنا منہ چھپا لیتے “*
(سیرت اعلی حضرت ۔ ص 29 )
📘 [ دست و گریباں ۔ ج 1 ۔ ص 100 ۔ شاھانی]
میں کہتا ہوں دیوبندی مولوی نے یہاں سخت جھوٹ ، دجل و فریب کا مظاہرہ کیا ہے ، کذاب اعظم ابوایوب دیوبندی کو ہمارا چیلنج ہے کہ یہ جو بات دیوبندی مولوی نے لکھی ہے یعنی *” آپ کو بچپن ہی سے عادت رہی کہ اجنبی عورتیں اگر نظر آ جاتیں تو کرتے سے اپنا منہ چھپا لیتے “* اگر دیوبندی مولوی میں شرم و حیاء ہے تو اپنے پیش کردہ حوالے میں یہ الفاظ دکھا دے تو ہم اسے مبلغ دس روپے انعام دیں گے ( کیونکہ اس سے زیادہ کے یہ قابل نہیں ) یہ اس دیوبندی مولوی کذاب کا کالا سیاہ جھوٹ ہے ۔
*دیوبندی مولوی کی بدنگاہیاں اور حرام کاریاں*
اب آٸیے ہم دیوبندی اصول کے مطابق خود ہی انہی دیوبندیوں کے حوالے بتاتے ہیں جن میں دیوبندی اکابرین نے غیر عورتوں کو دیکھا اور بقول دیوبندی ایسا عمل کر کے وہ شیطان ثابت ہوۓ ۔ چنانچہ حسین احمد ٹانڈوی دیوبندی کہتے ہیں کہ :
*میں ( حسین احمد ) نے دیکھا ایک دو سالہ خوبصورت بچی اور اس کی شفیق ماں روسیوں سے بھاگتی تھی*
📙( ارشادات مدنی ۔ ص 259 )
ایسے ہی دیوبندی اکابرین کے پیر سید احمد کے متعلق موجود ہے کہ :
*ایک مرتبہ ارشاد فرمایا کہ سید صاحب کسی شہر سے گذرے ایک کسبی خوبصورت اپنے دروازے پر کھڑی تھی سید صاحب گھوڑے پر سوار جا رہے تھے آپ نے جو ایک نظر اس کی طرف دیکھا تو وہ رنڈی بے تحاشہ دوڑی*
📘 ( ارشادات گنگوہی ۔ ص 98 ۔ شاھانی)
اسی طرح دیوبندیوں کے شیخ التفسیر اور دیوبندی امام الاولیاء کے بارے میں یہ لکھا ہوا ہے کہ انہوں نے دیکھا کہ :
*وہیں ٹھٹھہ میں ایک عورت حال میں جھوم رہی تھی ۔۔۔۔۔ اسی طرح ایک اور عورت حال میں جھوم رہی تھی ، ایک مرد اسے تھامنے کی کوشش کر رہا تھا ، وہ بہت حسین تھی ۔۔۔۔۔۔ اس عورت نے فوراً پلٹ کر آپ کی طرف دیکھا*
📘 ( مولانا احمد علی لاہوری کے حیرت انگیز واقعات ۔ باب 14 ۔ ص ۔ شاھانی )
ان تینوں حوالوں میں دیوبندی اصول کے مطابق ثابت ہوا کہ دیوبندی علماء و اکابرین نے غیر عورتوں کو دیکھا، اب آٸیے ایسے فعل کے بارے میں دیوبندی علماء نے کیا فتوی دیا ہے چنانچہ عاشق الہی میرٹھی صاحب لکھتے ہیں کہ :
*” جب عورت باہر نکلتی ہے تو شیطان دیکھنے لگتا ہے “*
📗 ( شرعی پردہ ۔ص 68 )
اسی طرح دیوبندی مولوی زکریا کے خلیفہ مجاز صغیر احمد کی کتب میں یہ لکھا ہے کہ :
*” مردوں کے لیے نامحرم عورتوں کو دیکھنا اور عورتوں کے لیے نامحرم مردوں کو دیکھنا حرام ہے “*
📙( مجالس الابرار ۔ ص 133 ۔ بحوالہ ٹی وی کی تباہ کاریاں ۔ ص 29 )
اسی طرح دیوبندی کی کتاب ” چار فتنے “ میں ایک حدیث لکھی ہے کہ :
*رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ کی لعنت ہے اجنبی عورت کو دیکھنے والے پر اور اس عورت پر جس کو دیکھا جاۓ*
📙 (چار فتنے ۔ ص 19 ۔ شاھانی)
تو معلوم ہوا کہ دیوبندی علماء و اکابرین غیر عورتوں کو دیکھ کر حرام کام میں مبتلا ہوۓ ، دیوبندی مولویوں پر اللہ تعالی کی لعنت ہے ، دیوبندی مولوی شیطان ہیں جو غیر عورتوں کو دیکھتے ہیں ۔؟
*دیوبندی رشید گنگوہی بے حیاء یا اس سے بھی بڑا ؟*
اب دیوبندی اپنے امام رشید گنگوہی کی بےحیاٸی و بے غیرتی بھی ملاحظہ کریں ، گنگوہی سے کسی نے پوچھا کہ *عورت کی شرمگاہ کیسی ہوتی ہے تو فرماتے ہیں ” جیسے گیہوں کا دانہ “*
📘( تذکرة الرشید ج 2 ۔ ص 131 )
اور خود دیوبندی مولوی ابوایوب صاحب لکھتے ہیں کہ :
*” علماۓ کرام تو زن و شوہر ( بیوی و شوہر ) کو ایک دوسرے کی شرمگاہ پر نگاہ ڈالنے کو خلاف تہذیب فرماتے ہیں کہ اس سے بے حیاٸی پیدا ہونے کا خوف ہے “*
📗 ( پانچ سو باادب سوالات ۔ ص 129 ۔ شاھانی )
یعنی شوہر اپنی بیوی کی بھی شرمگاہ پر نگاہ نہیں ڈال سکتا کیونکہ یہ خلاف تہذیب ہے اور بے حیاٸی پیدا ہوتی ہے تو اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جناب رشید گنگوہی نے آخر کس دیوبندی عورت کی شرمگاہ کو دیکھا تھا جو اس نے بھرے مجمع میں اس کو بیان کیا ؟ اگر گنگوہی نے اپنی بیوی کی شرم گاہ کو دیکھا تو ابوایوب کے مطابق بے حیاء و بےغیرت ثابت ہوا ۔ اور اگر گنگوہی نے اپنی بیوی کے علاوہ کسی دوسری دیوبندی عورت کی شرمگاہ کو دیکھا تو علماۓ دیوبند بتاٸیں کہ وہ کون دیوبندی عورت تھی ؟
دیوبندی مولوی ابوایوب نے بکواس کی ہے اسی کے جواب میں ہم بھی کہتے ہیں کہ گنگوہی نے اپنی ماں کی شرمگاہ کو دیکھا تھا اور پھر بھرے مجمع میں اپنی ماں کی شرمگاہ کے بارے میں لوگوں کو بتایا تھا ۔ کاش کہ دیوبندی مولوی ایسی بکواسات نہ کرتے تو آج ہمیں بھی ان کی زبان میں ایسا جواب نہ دینا پڑتا ؟
( محمدعلی شاھانی )
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=1787266554791228&id=100005237021003
( محمدعلی شاھانی )
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=1787266554791228&id=100005237021003
اعلیٰ حضرت رحمة اللہ علیہ پر غیر محرم کو دیکھنے کے اعتراض کا جواب
https://t.me/islaamic_Knowledge/20594
https://t.me/islaamic_Knowledge/20594