🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.85K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
《دنیاے "غیرت" کا امام 》

سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے دافع بلا ہونے کا انکار کرنے والوں کو سیدی اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

"بالجملہ وہ تمہارے لیے دافع البلاء نہ سہی مگر لا واللہ ہمارا ٹهکانا تو ان کی بارگاهِ بیکس پناہ کے سوا نہیں:

منکر اپنا اور حامی ڈھونڈهه لیں
آپ ہی ہم پر تو رحمت کیجیے

بلکہ لا واللہ اگر بفرض غلط، بفرض باطل عالم میں ان سے جدا کوئی دوسرا حامی بن کر آئے بهی تو ہمیں اس کا احسان لینا منظور نہیں وہ اپنی حمایت اٹھا رکهے ہمیں ہمارے مولاے کریم جل جلالہ نے بے ہمارے استحقاق، بے ہماری لیاقت کے اپنے محبوب کا کرلیا اور اسی کی وجہِ کریم کو حمدِ قدیم ہے، اب ہم دوسرے کا بننا نہیں چاہتے، جس کا کهائیے اسی کا گائیے:

چو دل با دلبرے آرام گیرد
ز وصلِ دیگرے کَے کام گیرد

( یعنی جب ایک محبوب سے دل آرام پاتا ہے تو دوسرے کے وصل سے اسے کیا کام)

یا تو یوں ہی تڑپ کے جائیں یا وہی دام سے چھڑائیں
منتِ غیر کیوں اٹهائیں کوئی ترس جتائے کیوں

اے واہ دہ حبیب را کلیدِ ہمہ کار
باراں دُرود بر رخِ پاکش بار بار
دستے کہ بدامانِ کریمش زدہ ایم
زنہار بدست دیگرایش مسپار

( یعنی اے اللہ! اس حبیب کو ہر معاملے کی چابی عطا فرما، اس کے رخِ زیبا پر دُرود کی بارش برسا، جس ہاتھ سے ہم نے اس کا دامنِ کرم تهاما ہے ہرگز ہم کو دوسروں کا دست نگر نہ بنا)

تیرے ٹکڑوں سے پلے غیر کی ٹهوکر پہ نہ ڈال
جھڑکیاں کهائیں کہاں چهوڑ کے صدقہ تیرا

صلی اللہ تعالیٰ علیک وسلم وعلی آلک و صحبک وبارک و کرم، والحمد للہ رب العالمین!"

( فتاویٰ رضویہ جلد 30 صفحہ 475)

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2171341649671677&id=100003875890529
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ امید اور خوف کے درمیان رہے اور اللہ تعالی کی رحمت کی وسعت دیکھ کر گناہوں پر بے باک نہ ہو اور نہ ہی اللہ تعالیٰ کے عذاب کی شدت دیکھ کر اس کی رحمت سے مایوس ہو۔ صوفیہ فرماتے ہیں کہ زندگی میں بندے پر خوف غالب ہونا چاہیے اور موت کے وقت امید۔ امیر المؤمنین حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:

’’اگر آسمان سے ندا کی جائے کہ تمام روے زمین کے آدمی بخش دیے گئے ہیں سواے ایک شخص کے۔ تو میں خوف کروں گا کہ وہ شخص میں ہی نہ ہوں۔ اور اگر ندا کی جائے کہ روے زمین کے تمام آدمی دوزخی ہیں سواے ایک شخص کے تو میں امید کروں گا کہ وہ ایک شخص بھی میں ہی ہوں۔‘‘

خوف و رَجا کا مرتبہ
ایسا ایسا معتدل ہونا چاہیے۔

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2172224022916773&id=100003875890529
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
ﻋﺸﻖِ ﺣﻘﯿﻘﯽ ﮐﯽ ﮨﺎﻧﮉﯼ ﻣﯿﮟ ﺟﺐ ﺍﺑﺎﻝ ﺁﺗﺎ ہے ﺗﻮ ﺳﺎﻧﺴﯿﮟ "ﮬﻮ" ﭘﮑﺎﺭﺗﯽ ہیں --- ﺍﻭﺭ "ﮬﻮ" ﺍﯾﮏ ﺭﺍﺯ ہے ﺟﻮ ﺳﻤﻨﺪﺭﻭﮞ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﮔﮩﺮﺍ ہے۔
ﻋﺸﻖِ ﺣﻘﯿﻘﯽ "ﮬﻮ" ﮐﮯ ﺷﻌﻠﻮﮞ ﺳﮯ ﺭﻭﺡ ﮐﻮ ﺗﭙﺎﺗ ﺎہے ﺗﻮ ﺟﯿﺴﮯ ﮔﻮﺷﺖ ﺁﮒ ﭘﺮ ﭘﮑﺘﺎ ہے ﺍیسے ہی ﻋﺎﺷﻖ ﺑﮭﯽ ﺁﮨﯿﮟ ﺑﮭﺮﺗﺎ ہے!
ہﮉﯾﻮﮞ ﮐﺎ ﺍﯾﻨﺪﮬﻦ ﺟﻠﺘﺎ ہے ﺗﻮ ﺍﻃﺎﻋﺖ ﻣﯿﮟ ﺳﮑﻮﻥ ﺍﻭﺭ ﺍﺿﻄﺮﺍﺏ ﺑﯿﮏ ﻭﻗﺖ ہوتا ہے -
ﺍﺭﺷﺎﺩ ﺧﺪﺍﻭﻧﺪﯼ ہے ﮐﮧ
ﺍللہ ﮐﮯ ﺩﻭﺳﺘﻮﮞ ﮐﻮ ﻧﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﺧﻮﻑ ہوﮔﺎ ﻧﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﻏﻢ

ﮐﯿﻮں کہ ﻣﻮﺕ ﺍﻥ کے لیے ﻣﻼﻗﺎﺕ ﮐﺎ ﭘﯿﻐﺎﻡ ﻟﯿﮑﺮ ﺁﺋﮯ ﮔﯽ -
ﻋﺸﺎﻕ ﺟﺐ ﺍﺱ ﺩﺭﺟﮯ ﭘﺮ پہنچتے ہیں ﺗﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﮨﺴﺘﯽﮐﻮ ﺫﺍﺕِ ﺧﺪﺍﻭﻧﺪﯼ ﻣﯿﮟ ﻓﻨﺎ ﮐﺮ ﺩﯾﺘﮯ ہیں۔

(منتخباتِ مشاہد سے)

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2173069332832242&id=100003875890529
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہٗ!
حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمہ کے مصرعِ اولیٰ "کسی کو وہ ہنساتے ہیں کسی کو وہ رلاتے ہیں" پر سعادتِ نعت :

شہنشاہِ مدینہ درد و غم سب کے مٹاتے ہیں
دلوں پہ شادمانی کے وہی نقشے جماتے ہیں

وہی سوئی ہوئی تقدیر اُمّت کی جگاتے ہیں
غلاموں کو بُلا کر روضۂ اطہر دِکھاتے ہیں

کرم کے پھول گلشن میں شہِ کوثر کِھلاتے ہیں
وہی تو چار سُو رحمت کی خوشبوئیں بساتے ہیں

وہی لطف و کرم کرتے ہیں بگڑے حال والوں پر
وہی رب کی عطا سے بگڑے کاموں کو بناتے ہیں

سبھی نبیوں نے میلادِ پیمبر کا کیا چرچا
ملائک بھی اُنھیں کے آنے کی خوشیاں مناتے ہیں

یتیموں بے کسوں بیواؤں مظلوموں کی نصرت کو
جہاں میں رحمۃ للعالميں تشریف لاتے ہیں

خدائے ذوالمنن کونین کی دولت اُنھیں دے گا
جو اُن کے ذکر کی محفل بصد فرحت سجاتے ہیں

خطا پوشی خطا کاروں کی کرتے ہیں سرِ محشر
کسی کو حوضِ کوثر پر کبھی کوثر پِلاتے ہیں

یہی ہے آرزو، محشر میں آقا کاش فرمائیں
مُشاہد آؤ تم سے نعت کچھ سنتے سناتے ہیں

صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وصحبہ وبارک وسلم

عرض نمودہ :
محمد حسین مشاہد رضوی
6 نومبر 2020ء بروز جمعہ
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
وہ رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم

وہ عبداللہ کی آنکھوں کا نور …جس کے لیے بزم ہستی سجائی گئی …جس کے لیے کائنات کے گیسوآراستہ کیے گئے …جس کے لیے دنیا کو زیب و زینت عطا کی گئی …جس کے لیے گلاب کےمکھڑے پر شبنم کے موتی جھلملائے گئے …جس کے لیے فلک پر قوس وقزح کے رنگوں کی جلوہ نمائی کرائی گئی… جس کے لیے چمنستانوں میں حسن کا رس گھولا گیا …جس کے لیے رنگ ونور کی برسات برسائی گئی …جس کے اشارے پر چاند کے دوٹکڑے کیے گئے …جس کی لب کشائی پر سارا آفاقی نظام حرکت میں آیا…اور جس کے لیے صفحہ عالم کو دلہن بنایا گیا…
وہ امام الانبیاء جس پر ربّ اور اُس کے فرشتے عقیدت کے درود نچھاور کرتے ہیں …جس کے شہر ،بول ،اخلاق اور زندگی کی مولیٰ نے اپنی کتاب میں قسمیں کھائیں …کسی بھی نبی کی جان کی قسم نہیں کھائی مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کھائی…کسی بھی نبی کو تسلی دیتے ہوئے قسمیں نہیں کھائیں مگرآپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کھائیں…کافروں نے کہا کہ یہ رسول نہیں ہے اللہ تعالیٰ نے یٰسین کہہ کر قرآن حکیم کی قسم کھائی اور پھر فرمایا کہ ’’یہ میرا ہی رسول ہے‘‘ …کافروں نے کہا کہ اس کا رب اس سے ناراض ہوگیا ہے اسی لیے وحی نہیں آرہی ،اللہ تعالیٰ نےآپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حسین وجمیل چہرے کی قسم اُٹھاکر کہا کہ ’’کوئی ناراضگی نہیں ہے ‘‘…
کافروں نے کہا کہ یہ راہ سے ہٹ گیا ہے ،اللہ تعالیٰ نے ستارے کی قسم کھا کر کہا کہ ’’میرا رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہی راہ راست پرہے‘‘ … کلیم اللہ (موسیٰ علیہ السلام)نے دُعا کی کہ ’’یااللہ میرا سینہ کھول ،میرا کام آسان کر اور میری زبان کی گرہ کھول دے !اللہ نے اُن کی دعا قبول کرکے تمام چیزیں عطا فرمائیں اور حبیب صلی اللہ علیہ وسلم اللہ (محمد صلی اللہ علیہ وسلم)کو یہی ساری چیزیں بغیر مانگے عطا فرمائیں…خلیل اللہ (ابراہیم علیہ السلام )نے دعا کی کہ یا اللہ !بعد میں آنے والے لوگوں میں میرا ذکر خیر بلند کردے ! اللہ نے دعا قبول کی اورانسانیت پر ملت ابراہیمی کی اِتباع تاقیامت لازم کردی اور حبیب اللہ (محمد صلی اللہ علیہ وسلم)کو یہی انعام بغیرمانگے عطا فرمایاکہ تاقیامت اللہ نے اپنے نام کے ساتھ اسم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو جوڑ دیا۔
وہ عظمتوں اور رفعتوں والا نبی صلی اللہ علیہ وسلم جسے ولادت کے پہلے روز ہی مشرق ومغرب، شمال وجنوب،مشرقین ومغربین اور مشارق ومغارب کی سیرکروا کر حضرت آدم علیہ السلام کے اخلاق…حضرت شیث علیہ السلام کی معرفت …حضرت نوح علیہ السلام کی بہادری …حضرت ابراہیم علیہ السلام کی خلت … حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی …حضرت اسحاق علیہ السلام کی رضا …حضرت یعقوب علیہ السلام کی بشارت …حضرت یوسف علیہ السلام کا حسن وجمال …حضرت ایوب علیہ السلام کا صبر … حضرت موسیٰ علیہ السلام کی سختی …حضرت یوشع علیہ السلام کا جہاد … حضرت داود علیہ السلام کی شیریں زبان …حضرت لوط علیہ السلام کی حکمت وفراست … حضرت دانیال علیہ السلام کی محبت …اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا زہد عطا کیا گیا …اورتمام انبیائے کرام علیہم السلام کے اخلاق اور اُن کے علوم کے ٹھاٹھیں مارتے سمندروں میں غوطہ دے کرآپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دنیا کی دہلیز پر اتارا گیا۔

طالبِ بقیع : مشاہدرضوی

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2175659845906524&id=100003875890529
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم
وہ(ﷺ) نامور ہستی جسے سریانی میں سَرْخَلِیْطَسْ (ستودہ)…مُنْحَمِنَا(ستائش کیے ہوئے)
توریت میں ماذماذا(صاف ستھرے )اورطاب طابا(نفیس اور اچھے)…
زبور میں حاط حاطا…
انجیل میں فاراقلیط(مخلص اور حق کی روح) اور آخریاآخری نبی )…
اور
رومی زبان میں قد مایا آگے آگے) اور تلقیط، حمطایا (حرم کی حفاظت کرنے والے) اور حمیاطا (عورتوں کو حرام سے روکنے والے )اوربرقیطس (ستودہ)اور پہاڑوں میں عبدالخالق کے نام سے یاد کیا جاتا ہے ۔
وہ خود اپنے ارشاد میں فرماتے ہیں کہ’’ میرے رب نے میرے دس نام رکھے ہیں ۔میں محمد (ستودہ صفات)، احمد (قابل تعریف ذات) ،ماحی (کفر کو مٹانے والا)، حاشر(سب کو جمع کرنے والا)،عاقب (سب سے بعد میں آنے والا)،فاتح (دلوں کو جیتنے والا) خاتم (نبیوں کی مہر) ابوالقاسم (کنیت) طٰہٰ اور یاسین ہوں‘‘۔

طالبِ بقیع: مشاہد رضوی

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2175660309239811&id=100003875890529
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
وہ رحمۃ للعالمین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وبارک وسلم

جو آیت رحمت کی رم جھم …سازِ وحدت کا ترنم …عشق کا بر حق توسل… اور دانائے سبل …مولائے کل …صاحب خیر نزل …مطلع نور ازل… اورمرکز دیدار کل ہے…وہ عبدالمطلب کی عزت کا نشان…جو پیکر صدق ووفا …مصدر جود وسخا …مظہر لطف وحیا …کانِ شرم وحیا …نور راہِ ہدیٰ…مطلع دلکشا …مقطع جاں فزا …شانِ رب العلیٰ …شمس الضحیٰ …بدر الدجیٰ …خیر الوریٰ…عروۃ الوثقیٰ …شاہِ دوسرا …شمعِ غار حرا …حبیب خدا …سرور عالم …مرسلِ خاتم …آیت محکم …نیّر اعظم …اجود واحکم …صدر مکرم…خیر مجسم …وارث زمزم …مرکز عالم …شفیع الامم…شہر یار حرم …سحاب کرم …گنج نعم …شہنشاہِ امم… اور جمیل شیم ہے۔
صلی الله علیہ وسلم!

طالبِ بقیع: مشاہد رضوی

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2175661442573031&id=100003875890529
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
ﺭﺣﻤﺖِ ﻋﺎﻟﻢ ﺣﻀﻮﺭ ﺍﺣﻤﺪ ﻣﺠﺘﺒﯽٰ ﻣﺤﻤﺪ ﻣﺼﻄﻔﯽٰ
ﺻﻠﯽ ﷲ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻟﻢ
ﺳﺮﻭﺭِ ﺑﻨﯽ ﺁﺩﻡ، ﺭﻭﺡِ ﺭﻭﺍﻥِ ﻋﺎﻟﻢ، ﺍﻧﺴﺎﻥ ﻋﯿﻦِ ﻭﺟﻮﺩ، ﺩﻟﯿﻞِ ﮐﻌﺒﮧٔ ﻣﻘﺼﻮﺩ، ﮐﺎﺷﻒِ ﺳﺮِ ﻣﮑﻨﻮﻥ، ﺧﺎﺯﻥِ ﻋﻠﻢِ ﻣﺨﺰﻭﻥ، ﺍﻗﺎﻣﺖِ ﺣﺪﻭﺩﻭﺍﺣﮑﺎﻡ، ﺗﻌﺪﯾﻞِ ﺍﺭﮐﺎﻥِ ﺍﺳﻼﻡ، ﺍﻣﺎﻡِ ﺟﻤﺎﻋﺖِ ﺍﻧﺒﯿﺎ، ﻣﻘﺘﺪﺍﮮ ﺯﻣﺮﮦٔ ﺍﺗﻘﯿﺎ، ﻗﺎﺿﯽِ ﻣﺴﻨﺪِ ﺣﮑﻮﻣﺖ، ﻣﻔﺘﯽِ ﺩﯾﻦ ﻭ ﻣﻠﺖ، ﻗﺒﻠﮧٔ ﺍﺻﺤﺎﺏِ ﺻﺪﻕ ﻭﺻﻔﺎ، ﮐﻌﺒﮧٔ ﺍﺭﺑﺎﺏِ ﺣﻠﻢ ﻭﺣﯿﺎ، ﻭﺍﺭﺙِ ﻋﻠﻮﻡِ ﺍﻭﻟﯿﻦ، ﻣﻮﺭﺙِ ﮐﻤﺎﻻﺕِ ﺁﺧﺮﯾﻦ، ﻣﺪﻟﻮﻝِ
ﺣﺮﻭﻑِ ﻣﻘﻄﻌﺎﺕ، ﻣﻨﺸﺎﮮ ﻓﻀﺎﺋﻞ ﻭ ﮐﻤﺎﻻﺕ، ﻣﻨﺰﻝِ ﻧﺼﻮﺹِﻗﻄﻌﯿﮧ، ﺻﺎﺣﺐِ ﺁﯾﺎﺕِ ﺑﯿﻨﮧ، ﺣﺠﺖِ ﺣﻖ ﺍﻟﯿﻘﯿﻦ، ﺗﻔﺴﯿﺮِﻗﺮﺁﻥِ ﻣﺒﯿﻦ، ﺗﺼﺤﯿﺢ ﻋﻠﻮﻡِ ﻣﺘﻘﺪﻣﯿﻦ، ﺳﻨﺪِ ﺍﻧﺒﯿﺎ ﻭ ﻣﺮﺳﻠﯿﻦ، ﻋﺰﯾﺰِ ﻣﺼﺮِﺍﺣﺴﺎﻥ، ﻓﺨﺮِ ﯾﻮﺳﻒِ ﮐﻨﻌﺎﻥ، ﺷﺎﮨﺪِ ﺩﯾﮟ ﺟﺎﻥِ ﺍﯾﻤﺎﮞ،ﺭﺣﻤﺖِ ﺣﻖ ﻟﻄﻒِ ﯾﺰﺩﺍﮞ ﮨﯿﮟ ....
ﻭﺭﻓﻌﻨﺎ ﻟﮏ ﺫﮐﺮﮎ ......

طالبِ بقیع:: مشاہد رضوی

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2175664172572758&id=100003875890529
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
ذکرِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خدائی اہتمام
آقا علیہ السلام کی آمد کی خوشیاں منانا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تذکارِ جمیلہ سے اپنے قلوب و ارواح کو منور کرنا ہر مومن پر واجب ہے۔ اس لئے کہ ذکرِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اہتمام خود رب کائنات بھی فرماتا ہے۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
اِنَّ ﷲَ وَمَلٰٓئِکَتَهٗ یُصَلُّوْنَ عَلَی النَّبِیِّط یٰٓـاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْهِ وَسَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا.
’’بے شک اللہ اور ا س کے (سب) فرشتے نبیِ (مکرمّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر درود بھیجتے رہتے ہیں، اے ایمان والو! تم (بھی) اُن پر درود بھیجا کرو اور خوب سلام بھیجا کرو۔‘‘
(الاحزاب، 33: 56)
اللہ تعالیٰ نے کسی بڑے سے بڑے کام میں بھی کسی کو اپنا شریک نہیں کیا مگر ذکرمحبوب درود و سلام جو درحقیقت ذکرِ محبوب ہے، اس عمل میں اللہ تعالیٰ نے پہلے اپنے آپ کو شامل کیا کہ میں اپنے محبوب پر درود و سلام بھیجتا ہوں مرے فرشتے بھی یہی وظیفہ کرتے ہیں لہذا مومنین بھی اگر میری رضا و خوشنودی کے طالب اور میرے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت بھرا تعلق قائم کرنا چاہتے ہیں تو اُن پر درود و سلام پڑھا کریں۔ اللہ تعالیٰ نے ذکرِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اِس اہتمام میں خود کو اس لئے شامل فرمایا تاکہ کسی کے ذہن میں یہ خیال نہ آئے کہ محبوب کسی کے ذکر کا محتاج ہے، اس لیے کہ جس کے ذکر کو رب کائنات بلند کرے اس کو کسی اور کی محتاجی نہیں بلکہ محض اہل ایمان کی بھلائی اور انہیں اپنی رحمتوں، برکتوں اور مغفرتوں سے بہرہ ور فرماتے ہوئے ان کو اس کار سعادت میں شریک کردیا۔ یہ سراسر اس کا کرم ہے،شفقت ہے جیسے اللہ کو کسی کی عبادت کی ضرورت نہیں، جو کرے گا اپنے بھلے کو کرے گا۔ اسی طرح رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی کے ذکر و نعت، درود و سلام کے محتاج نہیں جو یہ عمل صالح کرے گا اپنے بھلے کو کرے گا اور جو بدنصیب شیطانی وساوس کا شکار ہوکر اس سعادت سے محروم رہا وہ اپنا ہی نقصان کرے گا۔ اسی لیے رب کریم فرماتا ہے:
وَرَفَعْنَا لَکَ ذِکْرَکَ.
’’اور ہم نے آپ کی خاطر آپ کا ذکر (اپنے ذکر کے ساتھ ملا کر دنیا و آخرت میں ہر جگہ) بلند فرما دیا۔‘‘
(الانشراح، 94: 4)

(منتخباتِ مشاہد سے ایک ورق)

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2175665582572617&id=100003875890529
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
﷽ آج بتاریخ ⁶ربیع الآخر ¹⁴⁴³ھ مطابق ¹²نومبر ²⁰²¹ء بروز جمعۃ المبارکہ بوقتِ دوپہر ایک بجکر پندرہ مِنٹ [01:15ᵖᵐ] پر ہماری دادی جان (مرحومہ نور جہاں قادِریہ زوجہ مرحوم محمد اِبراہیم خان قادِری) کا اِنتقال ہو گیا ہے - اِنَّا لِلهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیۡهِ رٰجِعُوۡنَ -

دُعا کریں کہ اَللہۡ تَبَارَكَ وَ تَعَالیٰ ﷻ تمام نبی رَسُول (عَلَیۡہِمُ السَّلَامۡ)، صحابہ اہلِ بیت اور سب ولیوں (رَضِیَ اللہُ تَعَالیٰ عَنۡہُمۡ اَجۡمَعِیۡنۡ) کے صدقہ و طفیل ہماری دادی جان اور تمام اہلِ ایمان مرحومین و مرحومات کے گناہ صغیرہ و کبیرہ کو معاف فرمائے -

اور عذابِ قبر، عذابِ حشر، عذابِ نار سے محفوظ فرمائے - اور رسولِ اعظم ﷺ کی شفاعت سے جنت الفردوس میں اعلیٰ سے اعلیٰ مقام عطا فرمائے -

اور اہلِ خانہ، رشتہ دار، دوست احباب کو صبرِ جمیل اور اجر جزیل عطا فرمائے - اور ان کے نام زیادہ سے زیادہ ایصالِ ثواب کرنے کی توفیق عطا فرمائے - اور تمام مسلمانوں کا خاتمہ ایمان پر فرمائے - آمِیۡنۡ اللّٰهُمَّ رَبَّنَا ثُمَّ آمِیۡنۡ بِجَاهِ النَّبِیِّ الۡاَمِیۡنِ الۡکَرِیۡمۡ ﷺ

دُعَا گُوۡ: مُحَمَّدۡ جَمَالُ الدِّیۡنۡ خَانۡ قَادِرِیۡ
رَضَوِیۡ ضِلَعۡ بَہۡرَائِچۡ شَرِیۡفۡ یُوۡ پِیۡ اَلۡہِنۡدۡ
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
آخر یہ "بند" کب تک؟

تحریر : محمد زاہد علی مرکزی، کالپی شریف
چیئرمین : تحریک علمائے بندیل کھنڈ۔

کہتے ہیں جب حکومت بیساکھی کے سہارے ہو تو بہت سارے لنگڑے بہادر بن جاتے ہیں ، مہاراشٹرا حکومت بھی کئی بیساکھیوں کے ذریعے کھڑی ہے، برسر اقتدار پارٹی شو سینا کی آئیڈیا لوجی بی جے پی سے جدا نہیں ہے، یونہی کانگریس اور شرد پوار کی نیشنل کانگریس کی آئیڈیا لوجی شو سینا سے میل نہیں کھاتی ، لیکن سیاست میں مفاد ہی سب سے اہم ہوتا ہے جو شو سینا کو مل رہا ہے اس لیے آئیڈیالوجی میں قدرے نرمی ہے یا یوں کہہ لیں کہ جب گھی سیدھی انگلی سے نکل رہا ہو تو انگلی ٹیڑھی کرنے کی کیا ضرورت ہے، کسی وجہ سے اگر آج حکومت گر جائے تو آپ شو سینا اور بی جے پی کو ہاتھ ملا تے ہوئے دیکھیں گے، کیونکہ سیاست میں ہمیشہ کا نہ کوئی دوست ہوتا ہے اور نہ دشمن، انھیں جہاں مفاد دکھے گا وہاں ساتھ ہونگے -
ویسے تو انڈین سیاست میں ہم نے بہت سے مفاد والے گٹھ جوڑ دیکھے ہیں لیکن حالیہ سالوں کے دو گٹھ جوڑ یادگار ہیں پہلا گٹھبندھن ایسا بھاری پڑا کہ سارے صوبے کی تقدیر ہی بدل گئی یہ صوبہ ہے" کشمیر" سیاسی جماعتوں کو یہ گٹھبندھن بہت کچھ سبق دیتا ہے، جب سیاسی مفاد کے لئے کشمیر میں محبوبہ مفتی نے اپنی آئیڈیالوجی کے خلاف جاتے ہوئے بی جے پی سے گٹھبندھن کیا تو اس وقت کسی کے خواب و خیال میں بھی آرٹیکل 370 ہٹانے اور کشمیری سیاست کو معطل کرنے کا وہم بھی نہ گزرا ہوگا، کاش! کشمیری جماعتیں آپس میں مل کر حکومت بناتیں تو شاید اتنا آسان نہ ہوتا - لیکن یہ دنیا ہے یہاں کئی دفعہ کنواں کھودنے والا ہی کنویں میں گرجاتا ہے، جس طرح بی جے پی نے چال چل کر اپنے آپ کو کشمیر میں مضبوط کیا تھا ٹھیک اسی کا بدلہ بی جے پی کو شو سینا نے مہاراشٹرا میں دے دیا، تقریباً تین دہائیوں کا اتحاد پارہ پارہ ہوگیا اور وزیر اعلیٰ کی کرسی کے لیے شو سینا بی جے پی چھوڑ گئی، آج مہاراشٹرا میں شو سینا کی حکومت ہے اور وہاں تریپورا میں ہوے فسادات اور آقا علیہ السلام کی گستاخیوں پر احتجاجی مظاہرے اور ممبئی بند کی کال دی گئی تھی، مہاراشٹر کے ساتھ ساتھ ملک کے دیگر علاقوں میں میں بھی احتجاج درج کرایا گیا اور ممبئی میں بند کا کافی اثر رہا -
رضا اکیڈمی کے سربراہ جناب سعید نوری صاحب اور ممبئی و اطراف کے علمائے اہل سنت جن کی مشترکہ کاوشوں سے یہ بند بلایا گیا تھا اس میں شام ہوتے ہوتے مہاراشٹر کے تین شہروں سے نازیبا خبریں گردش کر رہی ہیں، اتر پردیش کے اگرہ سے بھی مسلم دوکانوں میں لوٹ پاٹ کی خبریں ہیں، اے بی پی نیوز کے مطابق احتجاجی جلوس کے دوران مہاراشٹرا کے تین مشہور شہر ناندیڑ، امراوتی اور مالیگاؤں سے جلوس میں پتھراؤ کی خبریں ہیں وہیں ناندیڑ کے ایس پی صاحب کا ٹویٹ بھی اس کی توثیق کرتا ہے کہ شہر میں تین چار جگہوں پر پتھراؤ ہوا ہے -

کیا گستاخیوں کا حل مظاہرے ہیں؟

سعید نوری صاحب اور دیگر حضرات کی نیتوں پر کسی قسم کا شک نہیں کیا جا سکتا(اللہ ان سب کی عمریں دراز اور کاوشیں قبول فرمائے) لیکن کیا ہم دھرنا کرکے، بھیڑ دکھا کر کچھ اثر ڈال سکتے ہیں؟ کیا اس سے یہ گستاخیاں رک جائیں گی؟ کیا کسانوں کے احتجاج کی ناکامی اور قریب چھ سو کسانوں کی جان جانے کے بعد بھی ہمیں ابھی احتجاج کی ضرورت ہے؟ اگر ان سوالات کے جوابات ہم جانتے ہیں اور یقینا جانتے ہیں تو عوام اہل سنت کو اس سخت ماحول میں آزمائش میں ڈالنا درست ہے؟ جب مظاہرے بے اثر ہو چکے ہوں، پارلیمنٹ میں قوانین آپ کے خلاف آسانی سے بن رہے ہوں، اور گستاخ نرسمها نند اور ملعون وسیم جیسے لوگ ہزاروں ایف آئی آر کے بعد بھی آزاد ہوں، جہاں دنگائی بھیڑ جے سی بی (jcb) مشین لے کر چلتی ہو اور پولیس ساتھ میں نعرے لگا رہی ہو، ایسی جگہوں پر آپ کے مظاہروں سے کیا ہونے والا ہے؟ کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ تریپورا کے دنگائی آزاد ہیں اور ہماری جماعت کی ایک دردمند اور متحرک شخصیت تحریک فروغ اسلام کے بانی جناب قمر غنی عثمانی صاحب صرف اس لیے جیل میں ہیں کیونکہ وہ متاثرین سے مل کر دنیا کو اصل حالات سے آگاہ کرنا چاہ رہے تھے۔ جہاں ساری سیاسی جماعتیں آپ کا نام لینے سے ڈرتی ہوں اس وقت مجھے نہیں لگتا کہ ان احتجاجی مظاہروں سے کچھ ہونے والا ہے -

مروجہ احتجاج کے نقصانات
عام طور پر ہم ایک بڑی بھیڑ جمع کرکے یہ سمجھتے ہیں کہ ہم نے ایک بڑا کام کیا ہے، مگر کیا کبھی آپ نے اس طرف توجہ فرمائی کہ آپ کو احتجاج کی پرمیشن کیوں دی جاتی ہے؟ آپ کہہ سکتے ہیں کہ جمہوری قوانین اس کی اجازت دیتے ہیں اس لیے پرمیشن ملتی ہے۔ ہو سکتا ہے ایسا ہی ہو لیکن یہ بھی ہو سکتا ہے آپ کو احتجاج کی اجازت اس لیے بھی دی جاتی ہو تاکہ آپ کے سرخیل افراد کو ڈرایا جا سکے، ہزاروں لاکھوں کی تعداد میں لوگ مظاہرے کریں اور کسی بھی قسم کی بدامنی نہ ہو یہ مسلمانوں سے عین ممکن ہے لیکن آپ کے مخالفین کی طرف سے آپ کے اسی احتجاج میں چند عناصر ایسے بھی شامل کردیے جاتے ہیں جو ہلکا پھلکا غلط کام