رسولِ رحمت ﷺ کا سیاسی تدبّر
ڈاکٹر محمد حسین مُشاہد رضوی
اسلام نظامِ محکم ہے ہر دور کی خاطر عام بھی ہے
اس قصرِ مُشَیَّد میں آؤ یہ عام بھی ہے اور تام بھی ہے
آزاد روی میں فکر و غم افسوس ہے لیکن کچھ بھی نہیں
پابندیِ حق میں تلخی ہے تکلیف بھی آرام بھی ہے
(بدرالقادری مصباحی)
سرورکائنات ﷺ نے اس خاکدانِ گیتی پر جلوہ فرما ہوکر سسکتی بلکتی انسانیت کو اطمینان و سکون کی دولت نصیب فرمائی۔ کوہ کنوں کو پرویز کامقام دیا ۔ زیر دستوں کو زبردستوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالنے کی قوت و توانائی بخشی۔ اونٹوں کے چرواہوں کو اقوام و ملل کا امام بنادیا۔ بالکل قلیل عرصے میں طویل خطۂ ارضی کو اسلام کے زیرِ اثر کرلیا اور دنیا کے بیش تر ممالک میں اسلام کا پرچم پوری آب و تاب اور شان و شوکت سے لہرانےلگا ۔ آپ یہ نہ سمجھیں کہ یہ اسلام کی عسکری قوت اور شمشیرو سناں کے زور پر ہوا۔ نہیں نہیں ! بل کہ یہ تو درحقیقت سرورِ کائنات ﷺ کے اعلیٰ ترین اَخلاق و کردار کے ساتھ ساتھ آقا ﷺ کے سیاسی حکمت و تدبّر کا ثمرہ تھا۔
مصطفیٰ جانِ رحمت ﷺ کی سیرتِ طیبہ میں ایسی واضح مثالیںموجود ہیں ، جو آپ ﷺ کے کمال درجہ سیاسی تدبّر و ذکاوت پر دلالت کرتی ہیں اور جن کی روشنی میں بلا تردد کہہ سکتے ہیں کہ کس قدر دانش مندی اور دوراندیشی سے آپﷺ روزمرہ میں وقوع پذیر ہونے والے مسائل کو حل فرمادیا کرتے تھے۔ اختلافِ آرا کو دور فرمادیتے تھے معاہدے کرتے اور نبھاتے بھی تھے۔ آپﷺ کی زیرکی اور دانائی کا یہ نتیجہ تھا کہ ظاہری و باطنی مصلحتیں حاصل ہوجاتی تھیں اور جس کے سبب نفع و فائدہ مل جاتا، بُرائی دور ہوجاتی ، ذرائع کا بندوبست ہوجاتا اور ہر کام اپنی اپنی جگہ پر مناسب انداز سے انجام پاجا تا۔دنیاوی معاملات میں بھی آپ ﷺ کو ایسی کامیابی عطا ہوتی تھی کہ جو پہلے کسی کو نہیں ملی۔ اور یہ کامیابی ایسی بے نظیر تھی کہ امورِ دنیا کے انجام دینے کے باوجود آپ ﷺ کی عبادت گزاری ، زہد و تقویٰ اور نیکی میں کوئی تبدیلی واقع نہ ہوئی۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ آقاے کائناتﷺ کی پاکیزہ زندگی میں ہمارے لیے عظیم رہنمائی موجود ہے، جو انھوں نے قولاًنہیں بل کہ عملاً ہمیں کرکے دکھائی، اور ایسے واضح اور رہنما اصولِ ہدایت دے گئے جن کو اپنا نا حکامِ زمانہ اور اربابانِ سیاست کے لیے از بس ضروری ہے۔
جب آقاے کائنات ﷺ مدینۂ منورہ میں تشریف لائے تو آپﷺ کو انتہائی پیچیدہ صورتِ حال کا سامنا تھا۔ مگر آپ نے بہ کمالِ حکمت و دانش حُسنِ تدبیر سے موقع ومحل کو سمجھا اور پوری صورتِ حال کو بہتر طور پر قابو میں کرلیا ۔ بلا شبہ یہ آپﷺ کی اعلیٰ ترین سیاسی حکمت و تدبر کی بین دلیل ہے یہ آپﷺ کی راست سیاست کا نتیجہ تھا کہ جب آپﷺ نے مدینۂ منورہ میں لوگوں میں ان کےاختلافِ عقائد کے سبب عدم محبت و اُنس کو دیکھا توآپ ﷺ نے اپنے نظام میں ایسے قوانین کا اِجرا فرمایا جن کے تحت لوگوں کے حقوق کا تحفظ ، عقیدے کی آزادی ، جان و مال اور عزت و آبرو کی حفاظت کا مقصد حاصل ہوجاتا تھا۔
یہ سرورِ کائنات ﷺ کی سیاسی بصیرت و حکمت ہی تھی کہ مدینۂ منورہ کی تمام قوتیں یکے بعد دیگرے آپ ﷺ کے قدومِ ناز میں آلگیں۔ آپ نے جتنے بھی معاہدات کیے ہر ایک میں آپ کو مکمل کامیابی و کامرانی ہوئی کیوں کہ معاہدے کا تقاضہ ہی یہی ہوتا ہے کہ اختلاف کی صورت میں فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہو۔ یہی وہ وقت تھا جب اسلامی حکومت کی بنیاد کا پتھر رکھ دیا گیا۔حضور رحمتِ عالم ﷺ کی سیاسی بصیرت کا ایک ایمان افروز واقعہ ہے کہ غزوۂ بنی مصطلق کے موقع پر ایک دن پانی لینے پر ایک مہاجر اور ایک انصاری میں کچھ تکرار ہوگئی مہاجر نے بلند آواز سے کہا: " یاللمہاجرین " ( اے مہاجرو! فریاد ہے) اور انصاری نے کہا: " یاللانصار" ( اے انصاریو ! فریاد ہے)کا نعرہ مارا یہ نعرہ سنتے ہی انصار و مہاجر دوڑ پڑے اور اس قدر بات بڑھ گئی کہ آپس میں جنگ و جدل کی نوبت آگئی رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی کو شرارت کا ایک موقع مل گیا اس نے اشتعال دلانے کےلیے انصاریوں سے کہا کہ :" یہ تو وہی مثل ہوئی کہ تم اپنے کتّے کو فربہ کرو تاکہ وہ تمہیں کھاڈالے۔" جب عبداللہ بن ابی منافق کی یہ بے ہودہ باتیں حضرت سیدنا عمر فارقِ اعظم رضی اللہ عنہ کے کانوں میں پڑی تو آپ نے حضور ﷺ سے عرض کیا :"یارسول اللہ! کسی کو حکم دیں کہ ابن ابی کو قتل کردے۔" مگر اس کے جواب میں حکیم دانا ، رحمتِ عالم ﷺ نے حکمت و تدبّر سے فرمایا کہ:" اے عمر! یہ بات کیسی ہوگی کہ لوگ کہیں گے کہ محمد (ﷺ) اپنے ساتھیوں کو بھی قتل کرنے لگے ہیں، یہ سن کرحضرت عمر رضی اللہ عنہ خاموش ہوگئے ، ابن ابی جتنا اسلام اور بانی اسلام ﷺ کادشمن تھا اس سے کہیںزیادہ اس کے بیٹے جن کا نام بھی عبداللہ تھا سرورِ کائنات ﷺ کے عاشق و شیدائی اور جاں نثار صحابی تھے۔ جب انھیں اپنے باپ کی بکواس کی خبر لگی تو بارگاہِ رسالت مآب ﷺ میںآکر عرض کی کہ :"یارسول اللہ! اگر میرے باپ کا قتل کرنا آپ کو پسند ہے تو آپ مجھے
ڈاکٹر محمد حسین مُشاہد رضوی
اسلام نظامِ محکم ہے ہر دور کی خاطر عام بھی ہے
اس قصرِ مُشَیَّد میں آؤ یہ عام بھی ہے اور تام بھی ہے
آزاد روی میں فکر و غم افسوس ہے لیکن کچھ بھی نہیں
پابندیِ حق میں تلخی ہے تکلیف بھی آرام بھی ہے
(بدرالقادری مصباحی)
سرورکائنات ﷺ نے اس خاکدانِ گیتی پر جلوہ فرما ہوکر سسکتی بلکتی انسانیت کو اطمینان و سکون کی دولت نصیب فرمائی۔ کوہ کنوں کو پرویز کامقام دیا ۔ زیر دستوں کو زبردستوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالنے کی قوت و توانائی بخشی۔ اونٹوں کے چرواہوں کو اقوام و ملل کا امام بنادیا۔ بالکل قلیل عرصے میں طویل خطۂ ارضی کو اسلام کے زیرِ اثر کرلیا اور دنیا کے بیش تر ممالک میں اسلام کا پرچم پوری آب و تاب اور شان و شوکت سے لہرانےلگا ۔ آپ یہ نہ سمجھیں کہ یہ اسلام کی عسکری قوت اور شمشیرو سناں کے زور پر ہوا۔ نہیں نہیں ! بل کہ یہ تو درحقیقت سرورِ کائنات ﷺ کے اعلیٰ ترین اَخلاق و کردار کے ساتھ ساتھ آقا ﷺ کے سیاسی حکمت و تدبّر کا ثمرہ تھا۔
مصطفیٰ جانِ رحمت ﷺ کی سیرتِ طیبہ میں ایسی واضح مثالیںموجود ہیں ، جو آپ ﷺ کے کمال درجہ سیاسی تدبّر و ذکاوت پر دلالت کرتی ہیں اور جن کی روشنی میں بلا تردد کہہ سکتے ہیں کہ کس قدر دانش مندی اور دوراندیشی سے آپﷺ روزمرہ میں وقوع پذیر ہونے والے مسائل کو حل فرمادیا کرتے تھے۔ اختلافِ آرا کو دور فرمادیتے تھے معاہدے کرتے اور نبھاتے بھی تھے۔ آپﷺ کی زیرکی اور دانائی کا یہ نتیجہ تھا کہ ظاہری و باطنی مصلحتیں حاصل ہوجاتی تھیں اور جس کے سبب نفع و فائدہ مل جاتا، بُرائی دور ہوجاتی ، ذرائع کا بندوبست ہوجاتا اور ہر کام اپنی اپنی جگہ پر مناسب انداز سے انجام پاجا تا۔دنیاوی معاملات میں بھی آپ ﷺ کو ایسی کامیابی عطا ہوتی تھی کہ جو پہلے کسی کو نہیں ملی۔ اور یہ کامیابی ایسی بے نظیر تھی کہ امورِ دنیا کے انجام دینے کے باوجود آپ ﷺ کی عبادت گزاری ، زہد و تقویٰ اور نیکی میں کوئی تبدیلی واقع نہ ہوئی۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ آقاے کائناتﷺ کی پاکیزہ زندگی میں ہمارے لیے عظیم رہنمائی موجود ہے، جو انھوں نے قولاًنہیں بل کہ عملاً ہمیں کرکے دکھائی، اور ایسے واضح اور رہنما اصولِ ہدایت دے گئے جن کو اپنا نا حکامِ زمانہ اور اربابانِ سیاست کے لیے از بس ضروری ہے۔
جب آقاے کائنات ﷺ مدینۂ منورہ میں تشریف لائے تو آپﷺ کو انتہائی پیچیدہ صورتِ حال کا سامنا تھا۔ مگر آپ نے بہ کمالِ حکمت و دانش حُسنِ تدبیر سے موقع ومحل کو سمجھا اور پوری صورتِ حال کو بہتر طور پر قابو میں کرلیا ۔ بلا شبہ یہ آپﷺ کی اعلیٰ ترین سیاسی حکمت و تدبر کی بین دلیل ہے یہ آپﷺ کی راست سیاست کا نتیجہ تھا کہ جب آپﷺ نے مدینۂ منورہ میں لوگوں میں ان کےاختلافِ عقائد کے سبب عدم محبت و اُنس کو دیکھا توآپ ﷺ نے اپنے نظام میں ایسے قوانین کا اِجرا فرمایا جن کے تحت لوگوں کے حقوق کا تحفظ ، عقیدے کی آزادی ، جان و مال اور عزت و آبرو کی حفاظت کا مقصد حاصل ہوجاتا تھا۔
یہ سرورِ کائنات ﷺ کی سیاسی بصیرت و حکمت ہی تھی کہ مدینۂ منورہ کی تمام قوتیں یکے بعد دیگرے آپ ﷺ کے قدومِ ناز میں آلگیں۔ آپ نے جتنے بھی معاہدات کیے ہر ایک میں آپ کو مکمل کامیابی و کامرانی ہوئی کیوں کہ معاہدے کا تقاضہ ہی یہی ہوتا ہے کہ اختلاف کی صورت میں فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہو۔ یہی وہ وقت تھا جب اسلامی حکومت کی بنیاد کا پتھر رکھ دیا گیا۔حضور رحمتِ عالم ﷺ کی سیاسی بصیرت کا ایک ایمان افروز واقعہ ہے کہ غزوۂ بنی مصطلق کے موقع پر ایک دن پانی لینے پر ایک مہاجر اور ایک انصاری میں کچھ تکرار ہوگئی مہاجر نے بلند آواز سے کہا: " یاللمہاجرین " ( اے مہاجرو! فریاد ہے) اور انصاری نے کہا: " یاللانصار" ( اے انصاریو ! فریاد ہے)کا نعرہ مارا یہ نعرہ سنتے ہی انصار و مہاجر دوڑ پڑے اور اس قدر بات بڑھ گئی کہ آپس میں جنگ و جدل کی نوبت آگئی رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی کو شرارت کا ایک موقع مل گیا اس نے اشتعال دلانے کےلیے انصاریوں سے کہا کہ :" یہ تو وہی مثل ہوئی کہ تم اپنے کتّے کو فربہ کرو تاکہ وہ تمہیں کھاڈالے۔" جب عبداللہ بن ابی منافق کی یہ بے ہودہ باتیں حضرت سیدنا عمر فارقِ اعظم رضی اللہ عنہ کے کانوں میں پڑی تو آپ نے حضور ﷺ سے عرض کیا :"یارسول اللہ! کسی کو حکم دیں کہ ابن ابی کو قتل کردے۔" مگر اس کے جواب میں حکیم دانا ، رحمتِ عالم ﷺ نے حکمت و تدبّر سے فرمایا کہ:" اے عمر! یہ بات کیسی ہوگی کہ لوگ کہیں گے کہ محمد (ﷺ) اپنے ساتھیوں کو بھی قتل کرنے لگے ہیں، یہ سن کرحضرت عمر رضی اللہ عنہ خاموش ہوگئے ، ابن ابی جتنا اسلام اور بانی اسلام ﷺ کادشمن تھا اس سے کہیںزیادہ اس کے بیٹے جن کا نام بھی عبداللہ تھا سرورِ کائنات ﷺ کے عاشق و شیدائی اور جاں نثار صحابی تھے۔ جب انھیں اپنے باپ کی بکواس کی خبر لگی تو بارگاہِ رسالت مآب ﷺ میںآکر عرض کی کہ :"یارسول اللہ! اگر میرے باپ کا قتل کرنا آپ کو پسند ہے تو آپ مجھے
حکم دیں کہ میں خود ہی اپنے باپ کا سر کاٹ کر آپ کے قدموں میں ڈال دوں۔" رؤف و رحیم ﷺ نے جواب دیا :" نہیں اے عبداللہ! بل کہ اپنے والد کے ساتھ نرمی کرو ، مَیں کبھی تمہارے باپ کے ساتھ بُرا سلوک نہیں کروں گا۔"آپ ﷺ کے اس سیاسی تدبّر اور حکمتِ عملی کا اس قدر دوررس اثر پڑا کہ بعد میں جب کبھی ابن ابی کوئی شرارت کرتا تو لوگ سرورِ کائناتﷺ کا یہ قول اُسے یاد دلادیتے۔
اسی طرح سرورِ کائنات ﷺ کی بالغ نظری کا بڑا ثبوت صلح حدیبیہ کی شرائط بھی ہیں جو بہ ظاہر مسلمانوں کو ذلت آمیز دکھائی دیں ، مگر کچھ عرصہ گذرا تو مسلمانوں کو معلوم ہوگیا کہ ہادیِ برحق ﷺ کی نظر کس قدر بالغ اور تیز تھی کہ مسلمانوں کو صلح حدیبیہ کے نتائج نے تسلی و تشفی کرادی ۔ صلح حدیبیہ کا نتیجہ یہ تھاکہ مکۂ مکرمہ کے کمزور نہتے مسلمانوں کا تحفظ ہوگیا ۔ کفار کے مسلمانوں سے ملنے جلنے ، ان کے مدینۂ منورہ آنے جانے، اقوالِ رسول ﷺ سننے کا عظیم ترین فائدہ یہ بھی ہوا کہ وہ مسلمان ہونے لگے جن باتوں کو مسلمانوں نے ذلت سمجھا وہ ان کے لیے عزت و وقار ، قوت و طاقت اور باعثِ نصرت بنیں ، اوراللہ رب العزت جل شانہٗ نے مشرکین کو ہر اُس کام میں ذلیل و رسوا کیا جس سے وہ عزت و قوت کے خواہاں تھے اور جہاں انھوں نے غلبہ پایا وہاں مغلوب ہوئے۔ یہ سب سرورِ کائنات داناے حکمت ﷺ کے سیاسی حکمت و تدبّر کا نتیجہ تھا ۔
آج ساری دنیا میں گندی سیاست کا دور دورہ ہے اس کی لپیٹ میں وہ ممالک بھی ہیں جنھیں اپنے اسلامی ملک ہونے کا دعویٰ ہے ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ آج کے اربابانِ سیاست اور حکامِ زمانہ سرورِ کائنات ، حکیم دانا، ہادیِ برحق ﷺ کے اعلیٰ ترین و زرین اصولِ سیاست کو اپنا کر آگے بڑھیں اور اپنا فاسد اور فرسودہ طریقۂ سیاست ختم کریں کہ اس میں دنیوی فلاح و بہبود کے ساتھ ساتھ اُخروی نجات کا راز بھی پوشیدہ ہے۔
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2169055146566994&id=100003875890529
اسی طرح سرورِ کائنات ﷺ کی بالغ نظری کا بڑا ثبوت صلح حدیبیہ کی شرائط بھی ہیں جو بہ ظاہر مسلمانوں کو ذلت آمیز دکھائی دیں ، مگر کچھ عرصہ گذرا تو مسلمانوں کو معلوم ہوگیا کہ ہادیِ برحق ﷺ کی نظر کس قدر بالغ اور تیز تھی کہ مسلمانوں کو صلح حدیبیہ کے نتائج نے تسلی و تشفی کرادی ۔ صلح حدیبیہ کا نتیجہ یہ تھاکہ مکۂ مکرمہ کے کمزور نہتے مسلمانوں کا تحفظ ہوگیا ۔ کفار کے مسلمانوں سے ملنے جلنے ، ان کے مدینۂ منورہ آنے جانے، اقوالِ رسول ﷺ سننے کا عظیم ترین فائدہ یہ بھی ہوا کہ وہ مسلمان ہونے لگے جن باتوں کو مسلمانوں نے ذلت سمجھا وہ ان کے لیے عزت و وقار ، قوت و طاقت اور باعثِ نصرت بنیں ، اوراللہ رب العزت جل شانہٗ نے مشرکین کو ہر اُس کام میں ذلیل و رسوا کیا جس سے وہ عزت و قوت کے خواہاں تھے اور جہاں انھوں نے غلبہ پایا وہاں مغلوب ہوئے۔ یہ سب سرورِ کائنات داناے حکمت ﷺ کے سیاسی حکمت و تدبّر کا نتیجہ تھا ۔
آج ساری دنیا میں گندی سیاست کا دور دورہ ہے اس کی لپیٹ میں وہ ممالک بھی ہیں جنھیں اپنے اسلامی ملک ہونے کا دعویٰ ہے ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ آج کے اربابانِ سیاست اور حکامِ زمانہ سرورِ کائنات ، حکیم دانا، ہادیِ برحق ﷺ کے اعلیٰ ترین و زرین اصولِ سیاست کو اپنا کر آگے بڑھیں اور اپنا فاسد اور فرسودہ طریقۂ سیاست ختم کریں کہ اس میں دنیوی فلاح و بہبود کے ساتھ ساتھ اُخروی نجات کا راز بھی پوشیدہ ہے۔
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2169055146566994&id=100003875890529
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
یہ غیرت ایمانی کا امتحان ہے !
”میں تو جب کبھی سوچتا ہوں، شرم و ندامت سے میری گردن جھک جاتی ہے کہ کیا ہم مسلمان آج اس قابل ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم پر فخر کریں؟ ہاں جب ہم اس نور کو اپنے دلوں میں زندہ کر لیں گے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم میں داخل کیا تھا تو اس وقت اس قابل ہو سکیں گے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم پر فخر کریں۔ “
حضرت علامہ محمد اقبال نے ان خیالات کا اظہار 82 سال قبل 4 دسمبر1931ء کو معتمر عالم اسلامی کے بیت المقدس میں منعقدہ اجلاس کے دوران کیا تھا۔ اتناعرصہ گزر جانے کے باوجود آج ہم اپنے گریبان میں جھانکیں تو بھی سوائے ندامت کے کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ ہماری اس کج روی کے باعث ہی اغیار کو یہ جرات ہو رہی ہے کہ وہ ہمارے آقا و مولیٰ اورسرور کائنات حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان میں گستاخیوں کا تسلسل سے ارتکاب کر رہے ہیں۔
اور ہمارے غلام اور بے غیرت ارباب اقتدار و اختیار اقرار جرم کے باوجود عزت و حرمت ناموس رسالت کے ایسے دشمنوں کو بری الذمہ قرار دے کر رہائی دے رہے ہیں۔ کیا یہ ہماری غیرت ایمانی کا امتحان نہیں ؟
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2169863643152811&id=100003875890529
”میں تو جب کبھی سوچتا ہوں، شرم و ندامت سے میری گردن جھک جاتی ہے کہ کیا ہم مسلمان آج اس قابل ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم پر فخر کریں؟ ہاں جب ہم اس نور کو اپنے دلوں میں زندہ کر لیں گے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم میں داخل کیا تھا تو اس وقت اس قابل ہو سکیں گے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم پر فخر کریں۔ “
حضرت علامہ محمد اقبال نے ان خیالات کا اظہار 82 سال قبل 4 دسمبر1931ء کو معتمر عالم اسلامی کے بیت المقدس میں منعقدہ اجلاس کے دوران کیا تھا۔ اتناعرصہ گزر جانے کے باوجود آج ہم اپنے گریبان میں جھانکیں تو بھی سوائے ندامت کے کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ ہماری اس کج روی کے باعث ہی اغیار کو یہ جرات ہو رہی ہے کہ وہ ہمارے آقا و مولیٰ اورسرور کائنات حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان میں گستاخیوں کا تسلسل سے ارتکاب کر رہے ہیں۔
اور ہمارے غلام اور بے غیرت ارباب اقتدار و اختیار اقرار جرم کے باوجود عزت و حرمت ناموس رسالت کے ایسے دشمنوں کو بری الذمہ قرار دے کر رہائی دے رہے ہیں۔ کیا یہ ہماری غیرت ایمانی کا امتحان نہیں ؟
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2169863643152811&id=100003875890529
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
ہماری خاک میں باقی ہیں کچھ شرر اب بھی
ہمارے سنی ماحول میں جلسوں اور جلوسوں کی تو کمی نہیں مگر وہ بامقصد نشستیں جو مسلمانوں کے چبھتے ہوئے مسائل کو ابھاریں اور ان پر تحقیق و تدقیق کے ذریعے لائحۂ عمل کا تعین کریں شاذ و نادر ہی ہوتی ہیں۔ یہ کام اکثر کچھ دوسروں ہی کا حصہ تصور کرلیا گیا ہے۔ بیدار مغز اور روشن دماغ مفکرین کی ہم میں بھی کمی نہیں ہے مگر ان کی صلاحیتیں ابھرنے کو مواقع کم ہی پاتی ہیں۔ بہت کوششیں ہوئیں تو کبھی چراغِ سحری کی طرح بھڑکے اور پھر ہمیشہ کے لیے خاموش ہوگئے حال آں کہ ہر جدید سوال کا جواب فراہم کرنا اور اس سلسلہ میں اہتمام کرنا ہم اہل سنت سوادِ اعظم ہی کی ذمہ داریوں میں سے ہے :
اگر ہوں اہلِ نظر آئے کچھ نظر اب بھی
ہماری خاک میں باقی ہیں کچھ شرر اب بھی
عرب کے مالی نے سینچا لہو سے، دیر ہوئی
پنپتے رہتے ہیں گلشن میں دیدہ ور اب بھی
... علامہ بدرالقادری مصباحی علیہ الرحمۃ
جادہ و منزل: ص 520
مطبوعہ المجمع الاسلامی، مبارک پور 1991ء
انتخاب : مشاہد رضوی بلاگر ٹیم
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2171070576365451&id=100003875890529
ہمارے سنی ماحول میں جلسوں اور جلوسوں کی تو کمی نہیں مگر وہ بامقصد نشستیں جو مسلمانوں کے چبھتے ہوئے مسائل کو ابھاریں اور ان پر تحقیق و تدقیق کے ذریعے لائحۂ عمل کا تعین کریں شاذ و نادر ہی ہوتی ہیں۔ یہ کام اکثر کچھ دوسروں ہی کا حصہ تصور کرلیا گیا ہے۔ بیدار مغز اور روشن دماغ مفکرین کی ہم میں بھی کمی نہیں ہے مگر ان کی صلاحیتیں ابھرنے کو مواقع کم ہی پاتی ہیں۔ بہت کوششیں ہوئیں تو کبھی چراغِ سحری کی طرح بھڑکے اور پھر ہمیشہ کے لیے خاموش ہوگئے حال آں کہ ہر جدید سوال کا جواب فراہم کرنا اور اس سلسلہ میں اہتمام کرنا ہم اہل سنت سوادِ اعظم ہی کی ذمہ داریوں میں سے ہے :
اگر ہوں اہلِ نظر آئے کچھ نظر اب بھی
ہماری خاک میں باقی ہیں کچھ شرر اب بھی
عرب کے مالی نے سینچا لہو سے، دیر ہوئی
پنپتے رہتے ہیں گلشن میں دیدہ ور اب بھی
... علامہ بدرالقادری مصباحی علیہ الرحمۃ
جادہ و منزل: ص 520
مطبوعہ المجمع الاسلامی، مبارک پور 1991ء
انتخاب : مشاہد رضوی بلاگر ٹیم
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2171070576365451&id=100003875890529
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
"ایک میں کیا مرے عصیاں کی حقیقت کتنی"
عرض نمودہ: ڈاکٹر محمد حسین مشاہد رضوی
(امامِ نعت گویاں امام احمد رضا قادری برکاتی بریلوی کے ایک مصرعِ اولیٰ پر طبع آزمائی)
ہو بیاں کیسے کہ طیبہ کی ہے عظمت کتنی
جس پہ قربان ہیں ، مت پوچھیے جنت کتنی
ارضِ طیبہ پہ شہ دیں کے پڑے جب سے قدم
دور آزار ہوئے بڑھ گئی فرحت کتنی
دشمنِ جاں کو دعاﺅں سے نوازا ہردم
ہے مثالی مرے سرکار کی سیرت کتنی
جس میں روشن ہے شہِ دیں کی محبت کا چراغ
کتنا آرام ہے اُس دل کو ہے راحت کتنی
سارے نبیوں نے نوید اُن کی سنائی لوگو!
ہر زمانے میں رہی آپ کی شہرت کتنی
جب کہ قرآں میں رفعنا ہے خدا کا کہنا
رب ہی جانے کہ ہے سرکار کی رفعت کتنی
شاہِ کونین پہ اللّٰہ بھی پڑھتا ہے دُرود
سوچیے سوچیے ہے آپ کی عزت کتنی
تنِ تنہا ہیں حضور آپ ہی شفیعِ اُمّت
"ایک میں کیا مرے عصیاں کی حقیقت کتنی"
ایک ہی پیالے میں ستر کو شکم سیر کیا
رب نے بخشی ہے شہِ دین کو قدرت کتنی
ماجرا دعوتِ جابر کا ذرا یاد کریں
رحمت افزا تھی مرے آقا کی برکت کتنی
نعت لکھنا ہے مُشاہد کا وظیفہ جب سے
میں بتا سکتا نہیں رب کی ہے رحمت کتنی
24 شوال المکرم 1438ء
19 جولائی 2017ء بعد عصر
عرض نمودہ: ڈاکٹر محمد حسین مشاہد رضوی
(امامِ نعت گویاں امام احمد رضا قادری برکاتی بریلوی کے ایک مصرعِ اولیٰ پر طبع آزمائی)
ہو بیاں کیسے کہ طیبہ کی ہے عظمت کتنی
جس پہ قربان ہیں ، مت پوچھیے جنت کتنی
ارضِ طیبہ پہ شہ دیں کے پڑے جب سے قدم
دور آزار ہوئے بڑھ گئی فرحت کتنی
دشمنِ جاں کو دعاﺅں سے نوازا ہردم
ہے مثالی مرے سرکار کی سیرت کتنی
جس میں روشن ہے شہِ دیں کی محبت کا چراغ
کتنا آرام ہے اُس دل کو ہے راحت کتنی
سارے نبیوں نے نوید اُن کی سنائی لوگو!
ہر زمانے میں رہی آپ کی شہرت کتنی
جب کہ قرآں میں رفعنا ہے خدا کا کہنا
رب ہی جانے کہ ہے سرکار کی رفعت کتنی
شاہِ کونین پہ اللّٰہ بھی پڑھتا ہے دُرود
سوچیے سوچیے ہے آپ کی عزت کتنی
تنِ تنہا ہیں حضور آپ ہی شفیعِ اُمّت
"ایک میں کیا مرے عصیاں کی حقیقت کتنی"
ایک ہی پیالے میں ستر کو شکم سیر کیا
رب نے بخشی ہے شہِ دین کو قدرت کتنی
ماجرا دعوتِ جابر کا ذرا یاد کریں
رحمت افزا تھی مرے آقا کی برکت کتنی
نعت لکھنا ہے مُشاہد کا وظیفہ جب سے
میں بتا سکتا نہیں رب کی ہے رحمت کتنی
24 شوال المکرم 1438ء
19 جولائی 2017ء بعد عصر
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
استغاثہ بہ بارگاہِ رسالت مآب صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم
فریاد کناں: ڈاکٹر محمد حسین مُشاہد رضوی
اُمّت کا عجب حال ہے سرکارِ مدینہ
دیکھیں کہ یہ غِربال ہے سرکارِ مدینہ
طوفانِ حوادث کے تھپیڑوں میں ہے اُمّت
اَندوہ سے بے حال ہے سرکارِ مدینہ
آغِشتہ و نَخچیر ہوۓ جاتے ہیں مسلم
دہشت کا بچھا جال ہے سرکارِ مدینہ
دیکھا نہ تھا دنیا کی نگاہوں نے کبھی ، اب
اَخلاق کا وہ کال ہے سرکارِ مدینہ
اِخلاص و مروّت کا پتہ اب نہیں مِلتا
اِنصاف بھی پامال ہے سرکارِ مدینہ
رگ رگ میں رواں ہوگیا اب اہلِ جہاں کے
زَہر آبِ زر و مآل ، ہے سرکارِ مدینہ
یہ آپ کا صدقہ ہے مُشاہدؔ پہ جہاں میں
جیسا بھی ہے خوش حال ہے سرکارِ مدینہ
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2171338059672036&id=100003875890529
فریاد کناں: ڈاکٹر محمد حسین مُشاہد رضوی
اُمّت کا عجب حال ہے سرکارِ مدینہ
دیکھیں کہ یہ غِربال ہے سرکارِ مدینہ
طوفانِ حوادث کے تھپیڑوں میں ہے اُمّت
اَندوہ سے بے حال ہے سرکارِ مدینہ
آغِشتہ و نَخچیر ہوۓ جاتے ہیں مسلم
دہشت کا بچھا جال ہے سرکارِ مدینہ
دیکھا نہ تھا دنیا کی نگاہوں نے کبھی ، اب
اَخلاق کا وہ کال ہے سرکارِ مدینہ
اِخلاص و مروّت کا پتہ اب نہیں مِلتا
اِنصاف بھی پامال ہے سرکارِ مدینہ
رگ رگ میں رواں ہوگیا اب اہلِ جہاں کے
زَہر آبِ زر و مآل ، ہے سرکارِ مدینہ
یہ آپ کا صدقہ ہے مُشاہدؔ پہ جہاں میں
جیسا بھی ہے خوش حال ہے سرکارِ مدینہ
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2171338059672036&id=100003875890529
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
《دنیاے "غیرت" کا امام 》
سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے دافع بلا ہونے کا انکار کرنے والوں کو سیدی اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
"بالجملہ وہ تمہارے لیے دافع البلاء نہ سہی مگر لا واللہ ہمارا ٹهکانا تو ان کی بارگاهِ بیکس پناہ کے سوا نہیں:
منکر اپنا اور حامی ڈھونڈهه لیں
آپ ہی ہم پر تو رحمت کیجیے
بلکہ لا واللہ اگر بفرض غلط، بفرض باطل عالم میں ان سے جدا کوئی دوسرا حامی بن کر آئے بهی تو ہمیں اس کا احسان لینا منظور نہیں وہ اپنی حمایت اٹھا رکهے ہمیں ہمارے مولاے کریم جل جلالہ نے بے ہمارے استحقاق، بے ہماری لیاقت کے اپنے محبوب کا کرلیا اور اسی کی وجہِ کریم کو حمدِ قدیم ہے، اب ہم دوسرے کا بننا نہیں چاہتے، جس کا کهائیے اسی کا گائیے:
چو دل با دلبرے آرام گیرد
ز وصلِ دیگرے کَے کام گیرد
( یعنی جب ایک محبوب سے دل آرام پاتا ہے تو دوسرے کے وصل سے اسے کیا کام)
یا تو یوں ہی تڑپ کے جائیں یا وہی دام سے چھڑائیں
منتِ غیر کیوں اٹهائیں کوئی ترس جتائے کیوں
اے واہ دہ حبیب را کلیدِ ہمہ کار
باراں دُرود بر رخِ پاکش بار بار
دستے کہ بدامانِ کریمش زدہ ایم
زنہار بدست دیگرایش مسپار
( یعنی اے اللہ! اس حبیب کو ہر معاملے کی چابی عطا فرما، اس کے رخِ زیبا پر دُرود کی بارش برسا، جس ہاتھ سے ہم نے اس کا دامنِ کرم تهاما ہے ہرگز ہم کو دوسروں کا دست نگر نہ بنا)
تیرے ٹکڑوں سے پلے غیر کی ٹهوکر پہ نہ ڈال
جھڑکیاں کهائیں کہاں چهوڑ کے صدقہ تیرا
صلی اللہ تعالیٰ علیک وسلم وعلی آلک و صحبک وبارک و کرم، والحمد للہ رب العالمین!"
( فتاویٰ رضویہ جلد 30 صفحہ 475)
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2171341649671677&id=100003875890529
سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے دافع بلا ہونے کا انکار کرنے والوں کو سیدی اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
"بالجملہ وہ تمہارے لیے دافع البلاء نہ سہی مگر لا واللہ ہمارا ٹهکانا تو ان کی بارگاهِ بیکس پناہ کے سوا نہیں:
منکر اپنا اور حامی ڈھونڈهه لیں
آپ ہی ہم پر تو رحمت کیجیے
بلکہ لا واللہ اگر بفرض غلط، بفرض باطل عالم میں ان سے جدا کوئی دوسرا حامی بن کر آئے بهی تو ہمیں اس کا احسان لینا منظور نہیں وہ اپنی حمایت اٹھا رکهے ہمیں ہمارے مولاے کریم جل جلالہ نے بے ہمارے استحقاق، بے ہماری لیاقت کے اپنے محبوب کا کرلیا اور اسی کی وجہِ کریم کو حمدِ قدیم ہے، اب ہم دوسرے کا بننا نہیں چاہتے، جس کا کهائیے اسی کا گائیے:
چو دل با دلبرے آرام گیرد
ز وصلِ دیگرے کَے کام گیرد
( یعنی جب ایک محبوب سے دل آرام پاتا ہے تو دوسرے کے وصل سے اسے کیا کام)
یا تو یوں ہی تڑپ کے جائیں یا وہی دام سے چھڑائیں
منتِ غیر کیوں اٹهائیں کوئی ترس جتائے کیوں
اے واہ دہ حبیب را کلیدِ ہمہ کار
باراں دُرود بر رخِ پاکش بار بار
دستے کہ بدامانِ کریمش زدہ ایم
زنہار بدست دیگرایش مسپار
( یعنی اے اللہ! اس حبیب کو ہر معاملے کی چابی عطا فرما، اس کے رخِ زیبا پر دُرود کی بارش برسا، جس ہاتھ سے ہم نے اس کا دامنِ کرم تهاما ہے ہرگز ہم کو دوسروں کا دست نگر نہ بنا)
تیرے ٹکڑوں سے پلے غیر کی ٹهوکر پہ نہ ڈال
جھڑکیاں کهائیں کہاں چهوڑ کے صدقہ تیرا
صلی اللہ تعالیٰ علیک وسلم وعلی آلک و صحبک وبارک و کرم، والحمد للہ رب العالمین!"
( فتاویٰ رضویہ جلد 30 صفحہ 475)
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2171341649671677&id=100003875890529
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ امید اور خوف کے درمیان رہے اور اللہ تعالی کی رحمت کی وسعت دیکھ کر گناہوں پر بے باک نہ ہو اور نہ ہی اللہ تعالیٰ کے عذاب کی شدت دیکھ کر اس کی رحمت سے مایوس ہو۔ صوفیہ فرماتے ہیں کہ زندگی میں بندے پر خوف غالب ہونا چاہیے اور موت کے وقت امید۔ امیر المؤمنین حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:
’’اگر آسمان سے ندا کی جائے کہ تمام روے زمین کے آدمی بخش دیے گئے ہیں سواے ایک شخص کے۔ تو میں خوف کروں گا کہ وہ شخص میں ہی نہ ہوں۔ اور اگر ندا کی جائے کہ روے زمین کے تمام آدمی دوزخی ہیں سواے ایک شخص کے تو میں امید کروں گا کہ وہ ایک شخص بھی میں ہی ہوں۔‘‘
خوف و رَجا کا مرتبہ
ایسا ایسا معتدل ہونا چاہیے۔
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2172224022916773&id=100003875890529
’’اگر آسمان سے ندا کی جائے کہ تمام روے زمین کے آدمی بخش دیے گئے ہیں سواے ایک شخص کے۔ تو میں خوف کروں گا کہ وہ شخص میں ہی نہ ہوں۔ اور اگر ندا کی جائے کہ روے زمین کے تمام آدمی دوزخی ہیں سواے ایک شخص کے تو میں امید کروں گا کہ وہ ایک شخص بھی میں ہی ہوں۔‘‘
خوف و رَجا کا مرتبہ
ایسا ایسا معتدل ہونا چاہیے۔
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2172224022916773&id=100003875890529
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
ﻋﺸﻖِ ﺣﻘﯿﻘﯽ ﮐﯽ ﮨﺎﻧﮉﯼ ﻣﯿﮟ ﺟﺐ ﺍﺑﺎﻝ ﺁﺗﺎ ہے ﺗﻮ ﺳﺎﻧﺴﯿﮟ "ﮬﻮ" ﭘﮑﺎﺭﺗﯽ ہیں --- ﺍﻭﺭ "ﮬﻮ" ﺍﯾﮏ ﺭﺍﺯ ہے ﺟﻮ ﺳﻤﻨﺪﺭﻭﮞ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﮔﮩﺮﺍ ہے۔
ﻋﺸﻖِ ﺣﻘﯿﻘﯽ "ﮬﻮ" ﮐﮯ ﺷﻌﻠﻮﮞ ﺳﮯ ﺭﻭﺡ ﮐﻮ ﺗﭙﺎﺗ ﺎہے ﺗﻮ ﺟﯿﺴﮯ ﮔﻮﺷﺖ ﺁﮒ ﭘﺮ ﭘﮑﺘﺎ ہے ﺍیسے ہی ﻋﺎﺷﻖ ﺑﮭﯽ ﺁﮨﯿﮟ ﺑﮭﺮﺗﺎ ہے!
ہﮉﯾﻮﮞ ﮐﺎ ﺍﯾﻨﺪﮬﻦ ﺟﻠﺘﺎ ہے ﺗﻮ ﺍﻃﺎﻋﺖ ﻣﯿﮟ ﺳﮑﻮﻥ ﺍﻭﺭ ﺍﺿﻄﺮﺍﺏ ﺑﯿﮏ ﻭﻗﺖ ہوتا ہے -
ﺍﺭﺷﺎﺩ ﺧﺪﺍﻭﻧﺪﯼ ہے ﮐﮧ
ﺍللہ ﮐﮯ ﺩﻭﺳﺘﻮﮞ ﮐﻮ ﻧﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﺧﻮﻑ ہوﮔﺎ ﻧﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﻏﻢ
ﮐﯿﻮں کہ ﻣﻮﺕ ﺍﻥ کے لیے ﻣﻼﻗﺎﺕ ﮐﺎ ﭘﯿﻐﺎﻡ ﻟﯿﮑﺮ ﺁﺋﮯ ﮔﯽ -
ﻋﺸﺎﻕ ﺟﺐ ﺍﺱ ﺩﺭﺟﮯ ﭘﺮ پہنچتے ہیں ﺗﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﮨﺴﺘﯽﮐﻮ ﺫﺍﺕِ ﺧﺪﺍﻭﻧﺪﯼ ﻣﯿﮟ ﻓﻨﺎ ﮐﺮ ﺩﯾﺘﮯ ہیں۔
(منتخباتِ مشاہد سے)
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2173069332832242&id=100003875890529
ﻋﺸﻖِ ﺣﻘﯿﻘﯽ "ﮬﻮ" ﮐﮯ ﺷﻌﻠﻮﮞ ﺳﮯ ﺭﻭﺡ ﮐﻮ ﺗﭙﺎﺗ ﺎہے ﺗﻮ ﺟﯿﺴﮯ ﮔﻮﺷﺖ ﺁﮒ ﭘﺮ ﭘﮑﺘﺎ ہے ﺍیسے ہی ﻋﺎﺷﻖ ﺑﮭﯽ ﺁﮨﯿﮟ ﺑﮭﺮﺗﺎ ہے!
ہﮉﯾﻮﮞ ﮐﺎ ﺍﯾﻨﺪﮬﻦ ﺟﻠﺘﺎ ہے ﺗﻮ ﺍﻃﺎﻋﺖ ﻣﯿﮟ ﺳﮑﻮﻥ ﺍﻭﺭ ﺍﺿﻄﺮﺍﺏ ﺑﯿﮏ ﻭﻗﺖ ہوتا ہے -
ﺍﺭﺷﺎﺩ ﺧﺪﺍﻭﻧﺪﯼ ہے ﮐﮧ
ﺍللہ ﮐﮯ ﺩﻭﺳﺘﻮﮞ ﮐﻮ ﻧﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﺧﻮﻑ ہوﮔﺎ ﻧﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﻏﻢ
ﮐﯿﻮں کہ ﻣﻮﺕ ﺍﻥ کے لیے ﻣﻼﻗﺎﺕ ﮐﺎ ﭘﯿﻐﺎﻡ ﻟﯿﮑﺮ ﺁﺋﮯ ﮔﯽ -
ﻋﺸﺎﻕ ﺟﺐ ﺍﺱ ﺩﺭﺟﮯ ﭘﺮ پہنچتے ہیں ﺗﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﮨﺴﺘﯽﮐﻮ ﺫﺍﺕِ ﺧﺪﺍﻭﻧﺪﯼ ﻣﯿﮟ ﻓﻨﺎ ﮐﺮ ﺩﯾﺘﮯ ہیں۔
(منتخباتِ مشاہد سے)
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2173069332832242&id=100003875890529
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہٗ!
حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمہ کے مصرعِ اولیٰ "کسی کو وہ ہنساتے ہیں کسی کو وہ رلاتے ہیں" پر سعادتِ نعت :
شہنشاہِ مدینہ درد و غم سب کے مٹاتے ہیں
دلوں پہ شادمانی کے وہی نقشے جماتے ہیں
وہی سوئی ہوئی تقدیر اُمّت کی جگاتے ہیں
غلاموں کو بُلا کر روضۂ اطہر دِکھاتے ہیں
کرم کے پھول گلشن میں شہِ کوثر کِھلاتے ہیں
وہی تو چار سُو رحمت کی خوشبوئیں بساتے ہیں
وہی لطف و کرم کرتے ہیں بگڑے حال والوں پر
وہی رب کی عطا سے بگڑے کاموں کو بناتے ہیں
سبھی نبیوں نے میلادِ پیمبر کا کیا چرچا
ملائک بھی اُنھیں کے آنے کی خوشیاں مناتے ہیں
یتیموں بے کسوں بیواؤں مظلوموں کی نصرت کو
جہاں میں رحمۃ للعالميں تشریف لاتے ہیں
خدائے ذوالمنن کونین کی دولت اُنھیں دے گا
جو اُن کے ذکر کی محفل بصد فرحت سجاتے ہیں
خطا پوشی خطا کاروں کی کرتے ہیں سرِ محشر
کسی کو حوضِ کوثر پر کبھی کوثر پِلاتے ہیں
یہی ہے آرزو، محشر میں آقا کاش فرمائیں
مُشاہد آؤ تم سے نعت کچھ سنتے سناتے ہیں
صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وصحبہ وبارک وسلم
عرض نمودہ :
محمد حسین مشاہد رضوی
6 نومبر 2020ء بروز جمعہ
حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمہ کے مصرعِ اولیٰ "کسی کو وہ ہنساتے ہیں کسی کو وہ رلاتے ہیں" پر سعادتِ نعت :
شہنشاہِ مدینہ درد و غم سب کے مٹاتے ہیں
دلوں پہ شادمانی کے وہی نقشے جماتے ہیں
وہی سوئی ہوئی تقدیر اُمّت کی جگاتے ہیں
غلاموں کو بُلا کر روضۂ اطہر دِکھاتے ہیں
کرم کے پھول گلشن میں شہِ کوثر کِھلاتے ہیں
وہی تو چار سُو رحمت کی خوشبوئیں بساتے ہیں
وہی لطف و کرم کرتے ہیں بگڑے حال والوں پر
وہی رب کی عطا سے بگڑے کاموں کو بناتے ہیں
سبھی نبیوں نے میلادِ پیمبر کا کیا چرچا
ملائک بھی اُنھیں کے آنے کی خوشیاں مناتے ہیں
یتیموں بے کسوں بیواؤں مظلوموں کی نصرت کو
جہاں میں رحمۃ للعالميں تشریف لاتے ہیں
خدائے ذوالمنن کونین کی دولت اُنھیں دے گا
جو اُن کے ذکر کی محفل بصد فرحت سجاتے ہیں
خطا پوشی خطا کاروں کی کرتے ہیں سرِ محشر
کسی کو حوضِ کوثر پر کبھی کوثر پِلاتے ہیں
یہی ہے آرزو، محشر میں آقا کاش فرمائیں
مُشاہد آؤ تم سے نعت کچھ سنتے سناتے ہیں
صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وصحبہ وبارک وسلم
عرض نمودہ :
محمد حسین مشاہد رضوی
6 نومبر 2020ء بروز جمعہ
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
وہ رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم
وہ عبداللہ کی آنکھوں کا نور …جس کے لیے بزم ہستی سجائی گئی …جس کے لیے کائنات کے گیسوآراستہ کیے گئے …جس کے لیے دنیا کو زیب و زینت عطا کی گئی …جس کے لیے گلاب کےمکھڑے پر شبنم کے موتی جھلملائے گئے …جس کے لیے فلک پر قوس وقزح کے رنگوں کی جلوہ نمائی کرائی گئی… جس کے لیے چمنستانوں میں حسن کا رس گھولا گیا …جس کے لیے رنگ ونور کی برسات برسائی گئی …جس کے اشارے پر چاند کے دوٹکڑے کیے گئے …جس کی لب کشائی پر سارا آفاقی نظام حرکت میں آیا…اور جس کے لیے صفحہ عالم کو دلہن بنایا گیا…
وہ امام الانبیاء جس پر ربّ اور اُس کے فرشتے عقیدت کے درود نچھاور کرتے ہیں …جس کے شہر ،بول ،اخلاق اور زندگی کی مولیٰ نے اپنی کتاب میں قسمیں کھائیں …کسی بھی نبی کی جان کی قسم نہیں کھائی مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کھائی…کسی بھی نبی کو تسلی دیتے ہوئے قسمیں نہیں کھائیں مگرآپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کھائیں…کافروں نے کہا کہ یہ رسول نہیں ہے اللہ تعالیٰ نے یٰسین کہہ کر قرآن حکیم کی قسم کھائی اور پھر فرمایا کہ ’’یہ میرا ہی رسول ہے‘‘ …کافروں نے کہا کہ اس کا رب اس سے ناراض ہوگیا ہے اسی لیے وحی نہیں آرہی ،اللہ تعالیٰ نےآپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حسین وجمیل چہرے کی قسم اُٹھاکر کہا کہ ’’کوئی ناراضگی نہیں ہے ‘‘…
کافروں نے کہا کہ یہ راہ سے ہٹ گیا ہے ،اللہ تعالیٰ نے ستارے کی قسم کھا کر کہا کہ ’’میرا رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہی راہ راست پرہے‘‘ … کلیم اللہ (موسیٰ علیہ السلام)نے دُعا کی کہ ’’یااللہ میرا سینہ کھول ،میرا کام آسان کر اور میری زبان کی گرہ کھول دے !اللہ نے اُن کی دعا قبول کرکے تمام چیزیں عطا فرمائیں اور حبیب صلی اللہ علیہ وسلم اللہ (محمد صلی اللہ علیہ وسلم)کو یہی ساری چیزیں بغیر مانگے عطا فرمائیں…خلیل اللہ (ابراہیم علیہ السلام )نے دعا کی کہ یا اللہ !بعد میں آنے والے لوگوں میں میرا ذکر خیر بلند کردے ! اللہ نے دعا قبول کی اورانسانیت پر ملت ابراہیمی کی اِتباع تاقیامت لازم کردی اور حبیب اللہ (محمد صلی اللہ علیہ وسلم)کو یہی انعام بغیرمانگے عطا فرمایاکہ تاقیامت اللہ نے اپنے نام کے ساتھ اسم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو جوڑ دیا۔
وہ عظمتوں اور رفعتوں والا نبی صلی اللہ علیہ وسلم جسے ولادت کے پہلے روز ہی مشرق ومغرب، شمال وجنوب،مشرقین ومغربین اور مشارق ومغارب کی سیرکروا کر حضرت آدم علیہ السلام کے اخلاق…حضرت شیث علیہ السلام کی معرفت …حضرت نوح علیہ السلام کی بہادری …حضرت ابراہیم علیہ السلام کی خلت … حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی …حضرت اسحاق علیہ السلام کی رضا …حضرت یعقوب علیہ السلام کی بشارت …حضرت یوسف علیہ السلام کا حسن وجمال …حضرت ایوب علیہ السلام کا صبر … حضرت موسیٰ علیہ السلام کی سختی …حضرت یوشع علیہ السلام کا جہاد … حضرت داود علیہ السلام کی شیریں زبان …حضرت لوط علیہ السلام کی حکمت وفراست … حضرت دانیال علیہ السلام کی محبت …اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا زہد عطا کیا گیا …اورتمام انبیائے کرام علیہم السلام کے اخلاق اور اُن کے علوم کے ٹھاٹھیں مارتے سمندروں میں غوطہ دے کرآپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دنیا کی دہلیز پر اتارا گیا۔
طالبِ بقیع : مشاہدرضوی
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2175659845906524&id=100003875890529
وہ عبداللہ کی آنکھوں کا نور …جس کے لیے بزم ہستی سجائی گئی …جس کے لیے کائنات کے گیسوآراستہ کیے گئے …جس کے لیے دنیا کو زیب و زینت عطا کی گئی …جس کے لیے گلاب کےمکھڑے پر شبنم کے موتی جھلملائے گئے …جس کے لیے فلک پر قوس وقزح کے رنگوں کی جلوہ نمائی کرائی گئی… جس کے لیے چمنستانوں میں حسن کا رس گھولا گیا …جس کے لیے رنگ ونور کی برسات برسائی گئی …جس کے اشارے پر چاند کے دوٹکڑے کیے گئے …جس کی لب کشائی پر سارا آفاقی نظام حرکت میں آیا…اور جس کے لیے صفحہ عالم کو دلہن بنایا گیا…
وہ امام الانبیاء جس پر ربّ اور اُس کے فرشتے عقیدت کے درود نچھاور کرتے ہیں …جس کے شہر ،بول ،اخلاق اور زندگی کی مولیٰ نے اپنی کتاب میں قسمیں کھائیں …کسی بھی نبی کی جان کی قسم نہیں کھائی مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کھائی…کسی بھی نبی کو تسلی دیتے ہوئے قسمیں نہیں کھائیں مگرآپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کھائیں…کافروں نے کہا کہ یہ رسول نہیں ہے اللہ تعالیٰ نے یٰسین کہہ کر قرآن حکیم کی قسم کھائی اور پھر فرمایا کہ ’’یہ میرا ہی رسول ہے‘‘ …کافروں نے کہا کہ اس کا رب اس سے ناراض ہوگیا ہے اسی لیے وحی نہیں آرہی ،اللہ تعالیٰ نےآپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حسین وجمیل چہرے کی قسم اُٹھاکر کہا کہ ’’کوئی ناراضگی نہیں ہے ‘‘…
کافروں نے کہا کہ یہ راہ سے ہٹ گیا ہے ،اللہ تعالیٰ نے ستارے کی قسم کھا کر کہا کہ ’’میرا رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہی راہ راست پرہے‘‘ … کلیم اللہ (موسیٰ علیہ السلام)نے دُعا کی کہ ’’یااللہ میرا سینہ کھول ،میرا کام آسان کر اور میری زبان کی گرہ کھول دے !اللہ نے اُن کی دعا قبول کرکے تمام چیزیں عطا فرمائیں اور حبیب صلی اللہ علیہ وسلم اللہ (محمد صلی اللہ علیہ وسلم)کو یہی ساری چیزیں بغیر مانگے عطا فرمائیں…خلیل اللہ (ابراہیم علیہ السلام )نے دعا کی کہ یا اللہ !بعد میں آنے والے لوگوں میں میرا ذکر خیر بلند کردے ! اللہ نے دعا قبول کی اورانسانیت پر ملت ابراہیمی کی اِتباع تاقیامت لازم کردی اور حبیب اللہ (محمد صلی اللہ علیہ وسلم)کو یہی انعام بغیرمانگے عطا فرمایاکہ تاقیامت اللہ نے اپنے نام کے ساتھ اسم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو جوڑ دیا۔
وہ عظمتوں اور رفعتوں والا نبی صلی اللہ علیہ وسلم جسے ولادت کے پہلے روز ہی مشرق ومغرب، شمال وجنوب،مشرقین ومغربین اور مشارق ومغارب کی سیرکروا کر حضرت آدم علیہ السلام کے اخلاق…حضرت شیث علیہ السلام کی معرفت …حضرت نوح علیہ السلام کی بہادری …حضرت ابراہیم علیہ السلام کی خلت … حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی …حضرت اسحاق علیہ السلام کی رضا …حضرت یعقوب علیہ السلام کی بشارت …حضرت یوسف علیہ السلام کا حسن وجمال …حضرت ایوب علیہ السلام کا صبر … حضرت موسیٰ علیہ السلام کی سختی …حضرت یوشع علیہ السلام کا جہاد … حضرت داود علیہ السلام کی شیریں زبان …حضرت لوط علیہ السلام کی حکمت وفراست … حضرت دانیال علیہ السلام کی محبت …اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا زہد عطا کیا گیا …اورتمام انبیائے کرام علیہم السلام کے اخلاق اور اُن کے علوم کے ٹھاٹھیں مارتے سمندروں میں غوطہ دے کرآپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دنیا کی دہلیز پر اتارا گیا۔
طالبِ بقیع : مشاہدرضوی
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2175659845906524&id=100003875890529
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM