🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.85K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
پیغامِ حق جہاں کو سنایا رسولﷺ نے
ڈاکٹر محمدحسین مُشاہدؔ رضوی

اس خاکدانِ گیتی پر بسنے والے انسانوں میں کون سی برائی موجود نہ تھی ، عرب کی حالت تو اس درجہ خراب ہوچکی تھی کہ شراب پانی کی طرح استعمال ہورہی تھی۔ قمار بازی شب و روز کی تفریح تصور کی جاتی تھی۔ کبر ونخوت اورغرور و تکبر سے سر اونچا رکھنے والے انسان لڑکیوں کو زندہ در گور کرکے اپنی بہیمانہ عادتوں کا مظاہرہ کرتے تھے اور فخر ومباہات سے اپنا سر اُٹھایا بھی کرتے تھے۔ کوئی بھی ان درندہ صفت اور بہائم نماانسانوں کا حکمراں ایسا نہ تھا جو ان کے قاتلانہ اقدامات پر ان کی سر کوبی کرتا یا سزاے موت مقرر کرتا ۔ معاملہ تو یہ تھا کہ حاکم و محکوم دونوں ہی اِن برائیوں میں بُری طرح جکڑے ہوئے تھے۔ عرب کے لوگ ہر طرح کی بُرائیوں اور مذموم و ناشایستہ حرکتوں کو روا سمجھتے تھے۔ ظلم و عدوان ، بغاوت و سرکشی ، بے رحمی و سنگ دلی، شقاوت و بربریت ، افعالِ رذیلہ کا ارتکاب، نسلی و نسبی تفاخر و عصبیت، اپنے مقابل دوسروں کو ذلیل و حقیر سمجھنا، معمولی معمولی باتوں پر فتنہ و فساد برپا کرنا ، پھر قبیلوں کی باہمی جنگ صدیوں تک جاری رکھنا ان کی فطرتِ ثانیہ میں داخل تھا۔ غرض درندہ خُو بہائم صفت انسانوں کا ایک ریوڑ تھا جو اَخلاق و اِخلاص ، تہذیب و تمدن تو درکنار ان کے نام سے بھی ناآشنا تھے۔ خیابانِ ہستی اجڑا پڑا تھا۔ خزاں کی چیرہ دستیوں سے گلوں کی نکہت افشانیوں اور عنادل کی نغمہ ریزیوں کی یاد تک بھی گل دستۂ طاقِ نسیاں بن چکی تھیں۔ روشیں ویران تھیں اور آب جوئیں خشک، جہاں کبھی سبزۂ نَو دمیدہ جنت نگاہ ہوا کرتا تھا وہاں خاک اُڑ رہی تھی، یاس و قنوط کی ہمہ گیر کیفیت طاری تھی کہ اچانک فاران کی چوٹیوں سے "پیغامِ حق جہاں کو سنایا رسول ﷺ نے"
اس تمہیدی گفتگو سے سمجھ میں آگیا ہوگا کہ یہی آج میری تقریر کا عنوان ہے۔
عزیزانِ گرامی قدر!! فاران کی چوٹیوں سے وحدت کی وہ گھنگور گھٹا اُٹھّی جس کا ہر قطرہ بہار آفریں اور جس کا ہر چھینٹا فردوس بداماں تھا۔ یہ گھٹا برسی اور خوب دل کھول کر برسی یہاں تک کہ گل زارِ عالم میں پھر آثارِ حیات نمودار ہونے لگے۔ انسانیت کے پژمُردہ چہرے پر شباب و قوت کی سرمستیاں ظہور پذیر ہونے لگیں۔ خودداری و عزتِ نفس اورشجاعت و ایثار کے افسردہ درختوں کی عریاں شاخوں کو از سرِ نَو خلعتِ برگ و بار عطا ہوئی ۔ قُمریوں نے عفتِ قلب و نظر کا نغمہ چھیڑا ، توہمات و عقائدِ باطلہ کے قفَس کی تیلیاں ایک ایک کرکے ٹوٹیں اور ہُماے بشریت کو توحید اور پیغامِ حق کی مقدس و مطہر رفعتوں سے پھر دعوتِ پرواز آنے لگی کہ ؂
کیسا انسان و ہ پیدا ہوا انسانوں میں
خون توحید کا دوڑا دیا شریانوں میں
گونجا فاران سے جب نعرۂ اللہُ احد
کھلبلی مچ گئی دنیا کے صنم خانوں میں
اور ؂
اک عرب نے آدمی کا بول بالاکردیا
خاک کے ذروں کو ہم دوشِ ثریا کردیا
اتر کر حرا سے سوے قوم آیا
وہ اک نسخۂ کیمیا ساتھ اپنے لایا
جب کائناتِ ارضی پر بسنے والے انسانوں کو جو تہذیب وتمدن سے نا آشنا تھے، رسولِ کونین ﷺ نے پیغامِ حق سنایا تو جانتے ہو کیا ہوا؟ کفر وشرک کی ظلمتیں کافور ہوگئیں ۔ جہالت و حماقت کا اندھیرا چھٹ گیا۔ درندگیت و بہمیت یکسر نیست و نابود ہوگئیں۔ ظلم و تعدی اور کبر ونخوت کی گھٹا ٹوپ تاریکیوں اور ظلمتوں کو ویران گوشوں اور عمیق غاروں کی اندھیریوں کے سوا کہیں پنا ہ نہ ملی ۔ ان عادی مجرموں کے عشرت کدوں میں صفِ ماتم بچھ گئی جو رات کے گھپ اندھیروں میں قمار بازی کا بازار گرم رکھا کرتے تھے اور جو صدیوں سے لڑ رہے تھے، وہ متحد و متفق ہو کر رشتۂ اخوت میں منسلک ہوگئے۔ بہائم صفت اور درندہ خوانسانوں کی وہ فطرت جس پر صدیوں سے جہالت مسلط تھی اور بغض و کدورت کی وحشیانہ ظلمت چھائی ہوئی تھی۔ اُن پرعدل و انصاف ، محبت و اخوت اور ایمان و صداقت کا بسیرا ہوگیا۔ خالقِ مطلق جل شانہٗ کی جانب سے مبعوث فرمودہ ہادیِ برحق، مصطفیٰ جانِ رحمت ﷺ کی منور و درخشاں کرنوں اور فروزاں فروزاں سیرت و کردار کی روشنی میں لوگ رُشد و فلاح کی راہ ڈھونڈنے لگے، وحشی و ظالم انسان نہ صرف تہذیب و اَخلاق کا پیکرِ کامل بن گئے بل کہ تمام کائنات کے لیے معلمِ اَخلاق بھی بن گئے ۔ رسولِ اکرم ﷺ کے ذریعے سنائے گئے پیغامِ حق نے ان کے اندر عظیم الشان تغیر پیدا کردیا اور وہ حیوانیت کے ریوڑسے نکل کر انسانیت کی منور و معطر شاہ راہ پر گامزن ہوگئے ۔ پیغامِ حق نے انھیں اَخلاق کی وہ تلوار عطا کردی جسے لے کر وہ جس میدان میں نکلے اسے فتح کرلیا۔ انھوں نے تمام اقوام و ملل کے قلوب و اذہان مسخر کرلیے۔اور حال یہ ہوگیا کہ انھوں نے خداوندِ قدوس کی رضا و خوش نودی حاصل کرنے کے لیے نفسیاتی خواہشات کو کچل کر رکھ دیااور اپنی جانی ومالی قربانیاں پیش کرنے لگے۔اور روز افزوں بڑھتے رہے پھلتے پھولتے رہے اور ایسا ہواکہ " رکتا نہ تھا کسی سے سیلِ رواں ہمارا۔"
محترم حضرات!! یہ ہمہ گیر ، آفاقی ، متنوع اور ہمہ جہت انقلابی تغیرات کیوں اور کیسے ہوئے محض مصطفیٰ جانِ رحمت ﷺ کی سادگی، اَخلاقِ حسنہ، پیغامِ حق اور پاکیزہ تعلیمات کی وجہ سے ہوئے آپ نے اس انداز سے انسانوں کو انسانیت کادرس دیا کہ لوگ پکار اٹھے کہ ؂
طیبہ کے تاجدار نے دی زندگی نئی
وہ آئے اور پھیل گئی روشنی نئی
قرآن میں حیات کا وہ فلسفہ دیا
جس کے سبب جہاں کو ملی زندگی نئی
ہم کو دیا نبی نے مساوات کا سبق
انسان کے شعور کو دی زندگی نئی
اَخلاق اور صدق کا جذبہ عطا کیا
بخشا اصولِ امن نیا آشتی نئی
خُلقِ نبی سے ہم کو ملا درسِ نظم و ضبط
انسان دوستی کی ملی چاشنی نئی
کردارِ مصطفیٰ نے سکھایا ہمیں یہی
اوروں کے کام آؤ ملے گی خوشی نئی

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2168164923322683&id=100003875890529
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
{حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پسینہ مبارک اور جسم اقدس کے خوشبو دار ہونے کا بیان}

23 /1. عَنْ أَنَسٍ رضی الله عنه قَالَ:
عَنْ أَنَسٍ رضی الله عنه قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ ﷲِ صلی الله عليه واله وسلم أَزْهَرَ اللَّوْنِ، کَأَنَّ عَرَقَهُ اللُّؤْلُؤُ…وَلَا شَمِمْتُ مِسْکَةً وَلَا عَنْبَرَةً أَطْيَبَ مِنْ رَائِحَةِ رَسُوْلِ ﷲِ صلی الله عليه واله وسلم . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ وَاللَّفْظُ لِمُسْلِمٍ.

وفي رواية عنه للبخاري: قَالَ: وَلَا شَمِمْتُ مِسْکَةً وَلَا عَبِيْرَةً أَطْيَبَ رَائِحَةً مِنْ رَائِحَةِ رَسُوْلِ ﷲِ صلی الله عليه واله وسلم .

1: أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب المناقب، باب صفة النبي صلی الله عليه واله وسلم ، 3 /1306، الرقم: 3368، وأيضًا في کتاب الصوم، باب ما يذکر من صوم النبي وإفطاره صلی الله عليه واله وسلم ، 2 /696، الرقم: 1872، ومسلم في الصحيح، کتاب الفضائل، باب طيب رائحة النبي صلی الله عليه واله وسلم ولين مسه والتبرک بمسحه، 4 /1814، 1815، الرقم: 2330، والترمذي في السنن، کتاب البر والصلة، باب ما جاء في خلق النبي صلی الله عليه واله وسلم ، 4 /368، الرقم: 2015، وأحمد بن حنبل في المسند، 3 /107، 200، الرقم: 12067.

’’حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا رنگ مبارک سفید چمکدار تھا، آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے پسینہ مبارک کے قطرے موتیوں کی طرح چمکتے تھے، میں نے کسی مشک یا عنبر کو آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم (کے پسینہ مبارک کی خوشبو) سے زیادہ خوشبو دار نہیں پایا۔‘‘
یہ حدیث متفق علیہ ہے اور مذکورہ الفاظ مسلم کے ہیں۔

’’اور بخاری کی ایک روایت میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے وہ بیان کرتے ہیں: میں نے کسی ایسی مشک اور خوشبوؤں کے کسی مرکب کو نہیں سونگھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم (کے جسم) کی خوشبو سے بڑھ کر ہو۔‘‘

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2169054859900356&id=100003875890529
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
رسولِ رحمت ﷺ کا سیاسی تدبّر
ڈاکٹر محمد حسین مُشاہد رضوی

اسلام نظامِ محکم ہے ہر دور کی خاطر عام بھی ہے
اس قصرِ مُشَیَّد میں آؤ یہ عام بھی ہے اور تام بھی ہے
آزاد روی میں فکر و غم افسوس ہے لیکن کچھ بھی نہیں
پابندیِ حق میں تلخی ہے تکلیف بھی آرام بھی ہے
(بدرالقادری مصباحی)
سرورکائنات ﷺ نے اس خاکدانِ گیتی پر جلوہ فرما ہوکر سسکتی بلکتی انسانیت کو اطمینان و سکون کی دولت نصیب فرمائی۔ کوہ کنوں کو پرویز کامقام دیا ۔ زیر دستوں کو زبردستوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالنے کی قوت و توانائی بخشی۔ اونٹوں کے چرواہوں کو اقوام و ملل کا امام بنادیا۔ بالکل قلیل عرصے میں طویل خطۂ ارضی کو اسلام کے زیرِ اثر کرلیا اور دنیا کے بیش تر ممالک میں اسلام کا پرچم پوری آب و تاب اور شان و شوکت سے لہرانےلگا ۔ آپ یہ نہ سمجھیں کہ یہ اسلام کی عسکری قوت اور شمشیرو سناں کے زور پر ہوا۔ نہیں نہیں ! بل کہ یہ تو درحقیقت سرورِ کائنات ﷺ کے اعلیٰ ترین اَخلاق و کردار کے ساتھ ساتھ آقا ﷺ کے سیاسی حکمت و تدبّر کا ثمرہ تھا۔
مصطفیٰ جانِ رحمت ﷺ کی سیرتِ طیبہ میں ایسی واضح مثالیںموجود ہیں ، جو آپ ﷺ کے کمال درجہ سیاسی تدبّر و ذکاوت پر دلالت کرتی ہیں اور جن کی روشنی میں بلا تردد کہہ سکتے ہیں کہ کس قدر دانش مندی اور دوراندیشی سے آپﷺ روزمرہ میں وقوع پذیر ہونے والے مسائل کو حل فرمادیا کرتے تھے۔ اختلافِ آرا کو دور فرمادیتے تھے معاہدے کرتے اور نبھاتے بھی تھے۔ آپﷺ کی زیرکی اور دانائی کا یہ نتیجہ تھا کہ ظاہری و باطنی مصلحتیں حاصل ہوجاتی تھیں اور جس کے سبب نفع و فائدہ مل جاتا، بُرائی دور ہوجاتی ، ذرائع کا بندوبست ہوجاتا اور ہر کام اپنی اپنی جگہ پر مناسب انداز سے انجام پاجا تا۔دنیاوی معاملات میں بھی آپ ﷺ کو ایسی کامیابی عطا ہوتی تھی کہ جو پہلے کسی کو نہیں ملی۔ اور یہ کامیابی ایسی بے نظیر تھی کہ امورِ دنیا کے انجام دینے کے باوجود آپ ﷺ کی عبادت گزاری ، زہد و تقویٰ اور نیکی میں کوئی تبدیلی واقع نہ ہوئی۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ آقاے کائناتﷺ کی پاکیزہ زندگی میں ہمارے لیے عظیم رہنمائی موجود ہے، جو انھوں نے قولاًنہیں بل کہ عملاً ہمیں کرکے دکھائی، اور ایسے واضح اور رہنما اصولِ ہدایت دے گئے جن کو اپنا نا حکامِ زمانہ اور اربابانِ سیاست کے لیے از بس ضروری ہے۔
جب آقاے کائنات ﷺ مدینۂ منورہ میں تشریف لائے تو آپﷺ کو انتہائی پیچیدہ صورتِ حال کا سامنا تھا۔ مگر آپ نے بہ کمالِ حکمت و دانش حُسنِ تدبیر سے موقع ومحل کو سمجھا اور پوری صورتِ حال کو بہتر طور پر قابو میں کرلیا ۔ بلا شبہ یہ آپﷺ کی اعلیٰ ترین سیاسی حکمت و تدبر کی بین دلیل ہے یہ آپﷺ کی راست سیاست کا نتیجہ تھا کہ جب آپﷺ نے مدینۂ منورہ میں لوگوں میں ان کےاختلافِ عقائد کے سبب عدم محبت و اُنس کو دیکھا توآپ ﷺ نے اپنے نظام میں ایسے قوانین کا اِجرا فرمایا جن کے تحت لوگوں کے حقوق کا تحفظ ، عقیدے کی آزادی ، جان و مال اور عزت و آبرو کی حفاظت کا مقصد حاصل ہوجاتا تھا۔
یہ سرورِ کائنات ﷺ کی سیاسی بصیرت و حکمت ہی تھی کہ مدینۂ منورہ کی تمام قوتیں یکے بعد دیگرے آپ ﷺ کے قدومِ ناز میں آلگیں۔ آپ نے جتنے بھی معاہدات کیے ہر ایک میں آپ کو مکمل کامیابی و کامرانی ہوئی کیوں کہ معاہدے کا تقاضہ ہی یہی ہوتا ہے کہ اختلاف کی صورت میں فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہو۔ یہی وہ وقت تھا جب اسلامی حکومت کی بنیاد کا پتھر رکھ دیا گیا۔حضور رحمتِ عالم ﷺ کی سیاسی بصیرت کا ایک ایمان افروز واقعہ ہے کہ غزوۂ بنی مصطلق کے موقع پر ایک دن پانی لینے پر ایک مہاجر اور ایک انصاری میں کچھ تکرار ہوگئی مہاجر نے بلند آواز سے کہا: " یاللمہاجرین " ( اے مہاجرو! فریاد ہے) اور انصاری نے کہا: " یاللانصار" ( اے انصاریو ! فریاد ہے)کا نعرہ مارا یہ نعرہ سنتے ہی انصار و مہاجر دوڑ پڑے اور اس قدر بات بڑھ گئی کہ آپس میں جنگ و جدل کی نوبت آگئی رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی کو شرارت کا ایک موقع مل گیا اس نے اشتعال دلانے کےلیے انصاریوں سے کہا کہ :" یہ تو وہی مثل ہوئی کہ تم اپنے کتّے کو فربہ کرو تاکہ وہ تمہیں کھاڈالے۔" جب عبداللہ بن ابی منافق کی یہ بے ہودہ باتیں حضرت سیدنا عمر فارقِ اعظم رضی اللہ عنہ کے کانوں میں پڑی تو آپ نے حضور ﷺ سے عرض کیا :"یارسول اللہ! کسی کو حکم دیں کہ ابن ابی کو قتل کردے۔" مگر اس کے جواب میں حکیم دانا ، رحمتِ عالم ﷺ نے حکمت و تدبّر سے فرمایا کہ:" اے عمر! یہ بات کیسی ہوگی کہ لوگ کہیں گے کہ محمد (ﷺ) اپنے ساتھیوں کو بھی قتل کرنے لگے ہیں، یہ سن کرحضرت عمر رضی اللہ عنہ خاموش ہوگئے ، ابن ابی جتنا اسلام اور بانی اسلام ﷺ کادشمن تھا اس سے کہیںزیادہ اس کے بیٹے جن کا نام بھی عبداللہ تھا سرورِ کائنات ﷺ کے عاشق و شیدائی اور جاں نثار صحابی تھے۔ جب انھیں اپنے باپ کی بکواس کی خبر لگی تو بارگاہِ رسالت مآب ﷺ میںآکر عرض کی کہ :"یارسول اللہ! اگر میرے باپ کا قتل کرنا آپ کو پسند ہے تو آپ مجھے
حکم دیں کہ میں خود ہی اپنے باپ کا سر کاٹ کر آپ کے قدموں میں ڈال دوں۔" رؤف و رحیم ﷺ نے جواب دیا :" نہیں اے عبداللہ! بل کہ اپنے والد کے ساتھ نرمی کرو ، مَیں کبھی تمہارے باپ کے ساتھ بُرا سلوک نہیں کروں گا۔"آپ ﷺ کے اس سیاسی تدبّر اور حکمتِ عملی کا اس قدر دوررس اثر پڑا کہ بعد میں جب کبھی ابن ابی کوئی شرارت کرتا تو لوگ سرورِ کائناتﷺ کا یہ قول اُسے یاد دلادیتے۔
اسی طرح سرورِ کائنات ﷺ کی بالغ نظری کا بڑا ثبوت صلح حدیبیہ کی شرائط بھی ہیں جو بہ ظاہر مسلمانوں کو ذلت آمیز دکھائی دیں ، مگر کچھ عرصہ گذرا تو مسلمانوں کو معلوم ہوگیا کہ ہادیِ برحق ﷺ کی نظر کس قدر بالغ اور تیز تھی کہ مسلمانوں کو صلح حدیبیہ کے نتائج نے تسلی و تشفی کرادی ۔ صلح حدیبیہ کا نتیجہ یہ تھاکہ مکۂ مکرمہ کے کمزور نہتے مسلمانوں کا تحفظ ہوگیا ۔ کفار کے مسلمانوں سے ملنے جلنے ، ان کے مدینۂ منورہ آنے جانے، اقوالِ رسول ﷺ سننے کا عظیم ترین فائدہ یہ بھی ہوا کہ وہ مسلمان ہونے لگے جن باتوں کو مسلمانوں نے ذلت سمجھا وہ ان کے لیے عزت و وقار ، قوت و طاقت اور باعثِ نصرت بنیں ، اوراللہ رب العزت جل شانہٗ نے مشرکین کو ہر اُس کام میں ذلیل و رسوا کیا جس سے وہ عزت و قوت کے خواہاں تھے اور جہاں انھوں نے غلبہ پایا وہاں مغلوب ہوئے۔ یہ سب سرورِ کائنات داناے حکمت ﷺ کے سیاسی حکمت و تدبّر کا نتیجہ تھا ۔
آج ساری دنیا میں گندی سیاست کا دور دورہ ہے اس کی لپیٹ میں وہ ممالک بھی ہیں جنھیں اپنے اسلامی ملک ہونے کا دعویٰ ہے ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ آج کے اربابانِ سیاست اور حکامِ زمانہ سرورِ کائنات ، حکیم دانا، ہادیِ برحق ﷺ کے اعلیٰ ترین و زرین اصولِ سیاست کو اپنا کر آگے بڑھیں اور اپنا فاسد اور فرسودہ طریقۂ سیاست ختم کریں کہ اس میں دنیوی فلاح و بہبود کے ساتھ ساتھ اُخروی نجات کا راز بھی پوشیدہ ہے۔

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2169055146566994&id=100003875890529
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
یہ غیرت ایمانی کا امتحان ہے !

”میں تو جب کبھی سوچتا ہوں، شرم و ندامت سے میری گردن جھک جاتی ہے کہ کیا ہم مسلمان آج اس قابل ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم پر فخر کریں؟ ہاں جب ہم اس نور کو اپنے دلوں میں زندہ کر لیں گے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم میں داخل کیا تھا تو اس وقت اس قابل ہو سکیں گے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم پر فخر کریں۔ “

حضرت علامہ محمد اقبال نے ان خیالات کا اظہار 82 سال قبل 4 دسمبر1931ء کو معتمر عالم اسلامی کے بیت المقدس میں منعقدہ اجلاس کے دوران کیا تھا۔ اتناعرصہ گزر جانے کے باوجود آج ہم اپنے گریبان میں جھانکیں تو بھی سوائے ندامت کے کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ ہماری اس کج روی کے باعث ہی اغیار کو یہ جرات ہو رہی ہے کہ وہ ہمارے آقا و مولیٰ اورسرور کائنات حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان میں گستاخیوں کا تسلسل سے ارتکاب کر رہے ہیں۔
اور ہمارے غلام اور بے غیرت ارباب اقتدار و اختیار اقرار جرم کے باوجود عزت و حرمت ناموس رسالت کے ایسے دشمنوں کو بری الذمہ قرار دے کر رہائی دے رہے ہیں۔ کیا یہ ہماری غیرت ایمانی کا امتحان نہیں ؟

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2169863643152811&id=100003875890529
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
ہماری خاک میں باقی ہیں کچھ شرر اب بھی

ہمارے سنی ماحول میں جلسوں اور جلوسوں کی تو کمی نہیں مگر وہ بامقصد نشستیں جو مسلمانوں کے چبھتے ہوئے مسائل کو ابھاریں اور ان پر تحقیق و تدقیق کے ذریعے لائحۂ عمل کا تعین کریں شاذ و نادر ہی ہوتی ہیں۔ یہ کام اکثر کچھ دوسروں ہی کا حصہ تصور کرلیا گیا ہے۔ بیدار مغز اور روشن دماغ مفکرین کی ہم میں بھی کمی نہیں ہے مگر ان کی صلاحیتیں ابھرنے کو مواقع کم ہی پاتی ہیں۔ بہت کوششیں ہوئیں تو کبھی چراغِ سحری کی طرح بھڑکے اور پھر ہمیشہ کے لیے خاموش ہوگئے حال آں کہ ہر جدید سوال کا جواب فراہم کرنا اور اس سلسلہ میں اہتمام کرنا ہم اہل سنت سوادِ اعظم ہی کی ذمہ داریوں میں سے ہے :

اگر ہوں اہلِ نظر آئے کچھ نظر اب بھی
ہماری خاک میں باقی ہیں کچھ شرر اب بھی
عرب کے مالی نے سینچا لہو سے، دیر ہوئی
پنپتے رہتے ہیں گلشن میں دیدہ ور اب بھی

... علامہ بدرالقادری مصباحی علیہ الرحمۃ
جادہ و منزل: ص 520
مطبوعہ المجمع الاسلامی، مبارک پور 1991ء

انتخاب : مشاہد رضوی بلاگر ٹیم

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2171070576365451&id=100003875890529
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
"ایک میں کیا مرے عصیاں کی حقیقت کتنی"
عرض نمودہ: ڈاکٹر محمد حسین مشاہد رضوی

(امامِ نعت گویاں امام احمد رضا قادری برکاتی بریلوی کے ایک مصرعِ اولیٰ پر طبع آزمائی)

ہو بیاں کیسے کہ طیبہ کی ہے عظمت کتنی
جس پہ قربان ہیں ، مت پوچھیے جنت کتنی

ارضِ طیبہ پہ شہ دیں کے پڑے جب سے قدم
دور آزار ہوئے بڑھ گئی فرحت کتنی

دشمنِ جاں کو دعاﺅں سے نوازا ہردم
ہے مثالی مرے سرکار کی سیرت کتنی

جس میں روشن ہے شہِ دیں کی محبت کا چراغ
کتنا آرام ہے اُس دل کو ہے راحت کتنی

سارے نبیوں نے نوید اُن کی سنائی لوگو!
ہر زمانے میں رہی آپ کی شہرت کتنی

جب کہ قرآں میں رفعنا ہے خدا کا کہنا
رب ہی جانے کہ ہے سرکار کی رفعت کتنی

شاہِ کونین پہ اللّٰہ بھی پڑھتا ہے دُرود
سوچیے سوچیے ہے آپ کی عزت کتنی

تنِ تنہا ہیں حضور آپ ہی شفیعِ اُمّت
"ایک میں کیا مرے عصیاں کی حقیقت کتنی"

ایک ہی پیالے میں ستر کو شکم سیر کیا
رب نے بخشی ہے شہِ دین کو قدرت کتنی

ماجرا دعوتِ جابر کا ذرا یاد کریں
رحمت افزا تھی مرے آقا کی برکت کتنی

نعت لکھنا ہے مُشاہد کا وظیفہ جب سے
میں بتا سکتا نہیں رب کی ہے رحمت کتنی

24 شوال المکرم 1438ء
19 جولائی 2017ء بعد عصر
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
استغاثہ بہ بارگاہِ رسالت مآب صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم
فریاد کناں: ڈاکٹر محمد حسین مُشاہد رضوی

اُمّت کا عجب حال ہے سرکارِ مدینہ
دیکھیں کہ یہ غِربال ہے سرکارِ مدینہ

طوفانِ حوادث کے تھپیڑوں میں ہے اُمّت
اَندوہ سے بے حال ہے سرکارِ مدینہ

آغِشتہ و نَخچیر ہوۓ جاتے ہیں مسلم
دہشت کا بچھا جال ہے سرکارِ مدینہ

دیکھا نہ تھا دنیا کی نگاہوں نے کبھی ، اب
اَخلاق کا وہ کال ہے سرکارِ مدینہ

اِخلاص و مروّت کا پتہ اب نہیں مِلتا
اِنصاف بھی پامال ہے سرکارِ مدینہ

رگ رگ میں رواں ہوگیا اب اہلِ جہاں کے
زَہر آبِ زر و مآل ، ہے سرکارِ مدینہ

یہ آپ کا صدقہ ہے مُشاہدؔ پہ جہاں میں
جیسا بھی ہے خوش حال ہے سرکارِ مدینہ

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2171338059672036&id=100003875890529
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
《دنیاے "غیرت" کا امام 》

سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے دافع بلا ہونے کا انکار کرنے والوں کو سیدی اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

"بالجملہ وہ تمہارے لیے دافع البلاء نہ سہی مگر لا واللہ ہمارا ٹهکانا تو ان کی بارگاهِ بیکس پناہ کے سوا نہیں:

منکر اپنا اور حامی ڈھونڈهه لیں
آپ ہی ہم پر تو رحمت کیجیے

بلکہ لا واللہ اگر بفرض غلط، بفرض باطل عالم میں ان سے جدا کوئی دوسرا حامی بن کر آئے بهی تو ہمیں اس کا احسان لینا منظور نہیں وہ اپنی حمایت اٹھا رکهے ہمیں ہمارے مولاے کریم جل جلالہ نے بے ہمارے استحقاق، بے ہماری لیاقت کے اپنے محبوب کا کرلیا اور اسی کی وجہِ کریم کو حمدِ قدیم ہے، اب ہم دوسرے کا بننا نہیں چاہتے، جس کا کهائیے اسی کا گائیے:

چو دل با دلبرے آرام گیرد
ز وصلِ دیگرے کَے کام گیرد

( یعنی جب ایک محبوب سے دل آرام پاتا ہے تو دوسرے کے وصل سے اسے کیا کام)

یا تو یوں ہی تڑپ کے جائیں یا وہی دام سے چھڑائیں
منتِ غیر کیوں اٹهائیں کوئی ترس جتائے کیوں

اے واہ دہ حبیب را کلیدِ ہمہ کار
باراں دُرود بر رخِ پاکش بار بار
دستے کہ بدامانِ کریمش زدہ ایم
زنہار بدست دیگرایش مسپار

( یعنی اے اللہ! اس حبیب کو ہر معاملے کی چابی عطا فرما، اس کے رخِ زیبا پر دُرود کی بارش برسا، جس ہاتھ سے ہم نے اس کا دامنِ کرم تهاما ہے ہرگز ہم کو دوسروں کا دست نگر نہ بنا)

تیرے ٹکڑوں سے پلے غیر کی ٹهوکر پہ نہ ڈال
جھڑکیاں کهائیں کہاں چهوڑ کے صدقہ تیرا

صلی اللہ تعالیٰ علیک وسلم وعلی آلک و صحبک وبارک و کرم، والحمد للہ رب العالمین!"

( فتاویٰ رضویہ جلد 30 صفحہ 475)

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2171341649671677&id=100003875890529
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ امید اور خوف کے درمیان رہے اور اللہ تعالی کی رحمت کی وسعت دیکھ کر گناہوں پر بے باک نہ ہو اور نہ ہی اللہ تعالیٰ کے عذاب کی شدت دیکھ کر اس کی رحمت سے مایوس ہو۔ صوفیہ فرماتے ہیں کہ زندگی میں بندے پر خوف غالب ہونا چاہیے اور موت کے وقت امید۔ امیر المؤمنین حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:

’’اگر آسمان سے ندا کی جائے کہ تمام روے زمین کے آدمی بخش دیے گئے ہیں سواے ایک شخص کے۔ تو میں خوف کروں گا کہ وہ شخص میں ہی نہ ہوں۔ اور اگر ندا کی جائے کہ روے زمین کے تمام آدمی دوزخی ہیں سواے ایک شخص کے تو میں امید کروں گا کہ وہ ایک شخص بھی میں ہی ہوں۔‘‘

خوف و رَجا کا مرتبہ
ایسا ایسا معتدل ہونا چاہیے۔

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2172224022916773&id=100003875890529