*مذہبی مخلوط کلچر: غیرت دین کا غارت گر*
تحریر:- *خالد ایوب مصباحی شیرانی*
چیرمین: تحریک علمائے ہند، جے پور
رکن : روشن مستقبل، دہلی
آج چھوٹی دیوالی ہے۔ یہ صرف آج 3/ نومبر 2021 علی الصباح کا ملکی سطح کا ٹیوٹر ٹرینڈ ہی نہیں بلکہ حالیہ زمانے میں ہمارے ملک کے ڈیولپ مکس ہندوانہ کلچر کا ایک بدنما رخ ہے۔
خدا غارت کرے ان سیاسی بازی گروں کو جن کی جمن گیری نے اکثریت کی چاپلوسی میں مذہبی تیوہاروں کی شبھ کامنائیں پیش کر کر کے ملک کا تہذیبی ورثہ اس قدر تہس نہس کردیا ہے کہ اب کی نسلوں کے لیے کسی بھی مذہب کی مذہبی شناخت والے تیوہار بھی مخلوط کلچر کا حصہ بن چکے ہیں اور ہر دن گئے جیسے جیسے یہ کلچر ڈیویلپ ہو رہا ہے، نہ صرف یہ کہ دینی شناختیں گم اور مذہبی غیرتیں کم ہوتی جا رہی ہیں بلکہ متعصب اکثریت کو کہیں نہ کہیں کسی نہ کسی بہانے اپنی بھڑاس نکالنے کا بھی موقع مل ہی جاتا ہے۔
کیا ہولی کی شبھ کامنائیں، کیا دیوالی کی مبارک بادیاں، کیا کرسمس کا وش اور کیا عید کی تہنیتیں، کس مذہب کا کون سا تیوہار ہے، جو آج صرف اس مذہب کے ماننے والوں تک محدود رہ چکا ہو۔ اپنی سیاست چمکانے اور شہر کی گلیوں میں اپنی ہورڈنگس آویزاں کرنے کے لیے سیاسی رہ نماؤں نے جس طرح مذہبی تیوہاروں کو تہذیبی رنگ دینے کی کوشش کی ہے اور آہستہ آہستہ اسے ایک مکمل کلچر بنا ڈالا ہے، اگر اس پر وقت رہتے ہوئے بند نہ باندھا گیا تو شاید آنے والے زمانے میں ایمان و کفر کے معیارات بدل چکے ہوں گے اور اتنی دیر بعد مزاج اس قدر بدل چکا ہوگا کہ اپنی غلطی تسلیم کرنا تو دور اور اگر کوئی کسی کی اصلاح کرنا چاہے گا اور اسلاف کی کتابوں سے توبہ و تجدید کے فتوے دکھانا بھی چاہے گا تو شاید ہمیں لگے گا:
*اسلام بڑا سخت ہے۔ تھوڑی موڑی تو گنجائش ہونی ہی چاہیے۔ ہمارا مطلب یہ نہیں ہوتا اور یہ تو کلچرل ہے وغیرہ۔*
اس ناحیہ سے دیکھا جائے تو مذہب پسندوں کے لیے یہ وقت شاید اس سماجی کلچر کی اصلاح کے لیے سب سے موزوں وقت ہے، ورنہ جس طرح آج آداب بلکہ گڈ مارننگ اور گڈ آفٹر نان کی جگہ نمستے اور نمشکار بولنا تقریباً ہر سرکاری مسلمان نے اپنا ایک عام کلچر بنا لیا ہے، ویسے ہی آنے والے زمانے میں ہر گھر میں کوئی سلمان ہولی کھیل رہا ہوگا اور کوئی شاہ رخ دیوالی منا رہا ہوگا۔
سیاست کے پیدا کردہ اس کلچر سے سب سے زیادہ نقصان بہر صورت ان خربوزوں کا ہے جو دو دھاری چھری سے آتے میں بھی کٹ رہے ہیں اور جاتے میں بھی۔
ملک کے موجودہ نفرت بھرے ماحول کے تناظر میں ہمیں یہ بات کبھی نہیں بھولنا چاہیے کہ اس جمن گیری کو صرف ہم ہی پروموٹ کر رہے ہیں، ورنہ ہمارا حریف دن بدن اپنے مذہبی تشخص کے تحفظ اور اس کے احیا کے لیے نہ صرف یہ کہ فکری طور پر کوشاں ہے بلکہ عملاً بھی جد و جہد کر رہا ہے۔
یہ بھی حسن اتفاق ہے کہ گزشتہ ستر سالوں سے وطن دوستی ثابت کرنے کی طرح اس طرح کے سد بھاونا/ بھائی چارے/ قومی یک جہتی/ اتحاد کے تمام تر پروگراموں کی ذمہ داریاں بھی بے چارے نا تواں شبراتیوں کے سر ہی آتی ہیں۔
پرسوں کوٹہ کے رام گنج منڈی سے جے پور آتے ہوئے راستے میں واقع سوائی مادھوپور ریلوے اسٹیشن پر جیسے ہی ٹرین رکی، پوری بوگی میں اتنی زور سے جے شری رام کے نعرے گونجے کہ گھبراہٹ کے ساتھ آنکھ کھل گئی۔
پچھلے ایک ہفتے سے دیوالی کی تیاری میں پرانے جے پور کو جس طرح دلہن بنایا گیا ہے، دیکھتے ہی بنتا ہے۔
آج احمد آباد کی گلیوں میں نو عمر آوارہ بچوں کو جس طرح پٹاخے چھوڑتے دیکھ رہے ہیں، ایسا محسوس ہو رہا ہے جیسے بھلے دیوالی کی ابتدا ہندو مذہب میں ہوئی ہو لیکن اس کی پرورش و پرداخت کی ذمہ داریاں نوخیز مسلم بچوں کے سر ہے۔
پتنگ کے موسم میں پتنگ بازی کے شوق کی تکمیل کے بہانے اس تیوہار کو بھی مسلمانوں نے جس طرح ہائی جیک کیا ہے، وہ مزاج بھی واضح طور پر یہ درشاتا ہے کہ ہماری مذہبی غیرتیں کس قدر بیدار، ہمارے شوق کتنے معصوم، ہماری ادائیں کتنی پیاری اور ہماری تربیت کتنی پاکیزہ ہے۔
نیشنل ازم کے نام پر تراشیدہ نئے بت کے متعلق فکر اقبال کا تراشیدہ یہ شعر اس تہذیب نوی پر کتنا سٹیک منطبق ہوتا ہے۔
*یہ بُت کہ تراشیدۂ تہذیبِ نوی ہے*
*غارت گرِ کاشانۂ دینِ نبَوی ہے*
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/1020130428557475/
تحریر:- *خالد ایوب مصباحی شیرانی*
چیرمین: تحریک علمائے ہند، جے پور
رکن : روشن مستقبل، دہلی
آج چھوٹی دیوالی ہے۔ یہ صرف آج 3/ نومبر 2021 علی الصباح کا ملکی سطح کا ٹیوٹر ٹرینڈ ہی نہیں بلکہ حالیہ زمانے میں ہمارے ملک کے ڈیولپ مکس ہندوانہ کلچر کا ایک بدنما رخ ہے۔
خدا غارت کرے ان سیاسی بازی گروں کو جن کی جمن گیری نے اکثریت کی چاپلوسی میں مذہبی تیوہاروں کی شبھ کامنائیں پیش کر کر کے ملک کا تہذیبی ورثہ اس قدر تہس نہس کردیا ہے کہ اب کی نسلوں کے لیے کسی بھی مذہب کی مذہبی شناخت والے تیوہار بھی مخلوط کلچر کا حصہ بن چکے ہیں اور ہر دن گئے جیسے جیسے یہ کلچر ڈیویلپ ہو رہا ہے، نہ صرف یہ کہ دینی شناختیں گم اور مذہبی غیرتیں کم ہوتی جا رہی ہیں بلکہ متعصب اکثریت کو کہیں نہ کہیں کسی نہ کسی بہانے اپنی بھڑاس نکالنے کا بھی موقع مل ہی جاتا ہے۔
کیا ہولی کی شبھ کامنائیں، کیا دیوالی کی مبارک بادیاں، کیا کرسمس کا وش اور کیا عید کی تہنیتیں، کس مذہب کا کون سا تیوہار ہے، جو آج صرف اس مذہب کے ماننے والوں تک محدود رہ چکا ہو۔ اپنی سیاست چمکانے اور شہر کی گلیوں میں اپنی ہورڈنگس آویزاں کرنے کے لیے سیاسی رہ نماؤں نے جس طرح مذہبی تیوہاروں کو تہذیبی رنگ دینے کی کوشش کی ہے اور آہستہ آہستہ اسے ایک مکمل کلچر بنا ڈالا ہے، اگر اس پر وقت رہتے ہوئے بند نہ باندھا گیا تو شاید آنے والے زمانے میں ایمان و کفر کے معیارات بدل چکے ہوں گے اور اتنی دیر بعد مزاج اس قدر بدل چکا ہوگا کہ اپنی غلطی تسلیم کرنا تو دور اور اگر کوئی کسی کی اصلاح کرنا چاہے گا اور اسلاف کی کتابوں سے توبہ و تجدید کے فتوے دکھانا بھی چاہے گا تو شاید ہمیں لگے گا:
*اسلام بڑا سخت ہے۔ تھوڑی موڑی تو گنجائش ہونی ہی چاہیے۔ ہمارا مطلب یہ نہیں ہوتا اور یہ تو کلچرل ہے وغیرہ۔*
اس ناحیہ سے دیکھا جائے تو مذہب پسندوں کے لیے یہ وقت شاید اس سماجی کلچر کی اصلاح کے لیے سب سے موزوں وقت ہے، ورنہ جس طرح آج آداب بلکہ گڈ مارننگ اور گڈ آفٹر نان کی جگہ نمستے اور نمشکار بولنا تقریباً ہر سرکاری مسلمان نے اپنا ایک عام کلچر بنا لیا ہے، ویسے ہی آنے والے زمانے میں ہر گھر میں کوئی سلمان ہولی کھیل رہا ہوگا اور کوئی شاہ رخ دیوالی منا رہا ہوگا۔
سیاست کے پیدا کردہ اس کلچر سے سب سے زیادہ نقصان بہر صورت ان خربوزوں کا ہے جو دو دھاری چھری سے آتے میں بھی کٹ رہے ہیں اور جاتے میں بھی۔
ملک کے موجودہ نفرت بھرے ماحول کے تناظر میں ہمیں یہ بات کبھی نہیں بھولنا چاہیے کہ اس جمن گیری کو صرف ہم ہی پروموٹ کر رہے ہیں، ورنہ ہمارا حریف دن بدن اپنے مذہبی تشخص کے تحفظ اور اس کے احیا کے لیے نہ صرف یہ کہ فکری طور پر کوشاں ہے بلکہ عملاً بھی جد و جہد کر رہا ہے۔
یہ بھی حسن اتفاق ہے کہ گزشتہ ستر سالوں سے وطن دوستی ثابت کرنے کی طرح اس طرح کے سد بھاونا/ بھائی چارے/ قومی یک جہتی/ اتحاد کے تمام تر پروگراموں کی ذمہ داریاں بھی بے چارے نا تواں شبراتیوں کے سر ہی آتی ہیں۔
پرسوں کوٹہ کے رام گنج منڈی سے جے پور آتے ہوئے راستے میں واقع سوائی مادھوپور ریلوے اسٹیشن پر جیسے ہی ٹرین رکی، پوری بوگی میں اتنی زور سے جے شری رام کے نعرے گونجے کہ گھبراہٹ کے ساتھ آنکھ کھل گئی۔
پچھلے ایک ہفتے سے دیوالی کی تیاری میں پرانے جے پور کو جس طرح دلہن بنایا گیا ہے، دیکھتے ہی بنتا ہے۔
آج احمد آباد کی گلیوں میں نو عمر آوارہ بچوں کو جس طرح پٹاخے چھوڑتے دیکھ رہے ہیں، ایسا محسوس ہو رہا ہے جیسے بھلے دیوالی کی ابتدا ہندو مذہب میں ہوئی ہو لیکن اس کی پرورش و پرداخت کی ذمہ داریاں نوخیز مسلم بچوں کے سر ہے۔
پتنگ کے موسم میں پتنگ بازی کے شوق کی تکمیل کے بہانے اس تیوہار کو بھی مسلمانوں نے جس طرح ہائی جیک کیا ہے، وہ مزاج بھی واضح طور پر یہ درشاتا ہے کہ ہماری مذہبی غیرتیں کس قدر بیدار، ہمارے شوق کتنے معصوم، ہماری ادائیں کتنی پیاری اور ہماری تربیت کتنی پاکیزہ ہے۔
نیشنل ازم کے نام پر تراشیدہ نئے بت کے متعلق فکر اقبال کا تراشیدہ یہ شعر اس تہذیب نوی پر کتنا سٹیک منطبق ہوتا ہے۔
*یہ بُت کہ تراشیدۂ تہذیبِ نوی ہے*
*غارت گرِ کاشانۂ دینِ نبَوی ہے*
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/1020130428557475/
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
*کارٹونوں کی بڑھتی تخریب کاری۔۔۔۔ایک لمحۂ فکریہ*
تحریر : *محمد شاہد علی مصباحی*
رکن : روشن مستقبل، دہلی۔
تحریک علماے بندیل کھنڈ
انیمیٹڈ کارٹون ایک ایسی چیز ہے جس نے ہمارے بچوں کی فکری صلاحیتوں کو نہ صرف تباہ کر کے رکھ دیا ہے بلکہ ان کی ذہنیت کو اسلام سے پھیرنے کا کام بھی کر رہی ہے۔
جس طرح سے ان انیمیٹڈ کارٹونوں میں اغیار کے مذہبی پیشواؤں کو ہر طرح کی خوبی سے مزین کر کے دکھایا جارہا ہے وہ ہمارے بچوں کی ذہن پر بھی اثر انداز ہو رہا ہے۔
کارٹون کا وہ کردار کبھی سماجی کام کرتا ہوا نظر آتا ہے تو کبھی فلاحی کام میں مصروف نظر آتا ہے، کبھی مذہبی کام کرتا ہوا نظر آتا ہے تو کبھی ثقافی۔ اس طرح بچے اس کی شخصیت سے متأثر ہوکر اسی کیریکٹر کو اپنا آئیڈل بنا رہے ہیں۔
ایک تازہ واقعہ:
میں ایک گھر میں تھا میں نے ایک چار سال کا بچہ دیکھا جو اپنی ماں سے بول رہا تھا: "مجھے چھوٹا بھیم (انیمیٹڈ کارٹونوں کا ایک کیریکٹر) بننا ہے۔"
اس کی ماں نے شرمندہ ہوتے ہوے میری طرف دیکھا اور بچے سے بولی: " کہ چھوٹا بھیم نہیں بننا وہ اچھا نہیں ہوتا."
بچہ بولا: " نہیں امی! وہ تو بہت اچھا ہے۔ وہ سب کی مدد کرتا ہے۔"
اس کی ماں نے کافی سمجھانے کی کوشش کی مگر بچہ اس کریکٹر کی خوبیوں کی وکالت کرتا رہا، آخر کار بچہ کی ماں نے مزید شرمندگی سے بچنے کے لیے بچے کو پیسے دے کر دکان بھیج دیا۔
اس واقعہ سے آپ اندازہ کریں کہ آپ کا بچہ جو دیکھ رہا ہے اس کا کتنا گہرا اثر بچے کی زندگی اور اس کی شخصیت پر پڑتا ہے۔ وہ جو دیکھتا ہے، جو محسوس کرتا ہے اسی کو اپنے اندر پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
اور ہم اپنے بچوں کے مستقبل کی فکر کیے بغیر ان کے ہاتھ میں فون تھما دیتے ہیں اور بچوں کو آزاد چھوڑ دیتے ہیں کہ وہ جیسا کارٹون چاہیں وہ دیکھیں۔
بعض کارٹون تو صرف اخلاقیات پر حملہ آور ہوتے ہیں جس کو بہت سے لوگ کسی حد تک برداشت کر سکتے ہیں۔ حال آں کہ گنجائش اس کی بھی نہیں ہے۔ مگر بعض کارٹون سیدھا ہمارے بچوں کے دین و مذہب پر حملہ آور ہوتے ہیں جسے کوئی مومن قطعی برداشت نہیں کر سکتا۔ کیوں کہ بچے نرم موم کی طرح ہوتے ہیں انہیں جس سانچے میں ڈھال دیا جاے ڈھل جاتے ہیں، اگر ابھی ہمارے بچوں کے دلوں میں باطل رہنماؤں کی محبت ان کارٹونوں کے ذریعے بیٹھ گئی تو یقین جانیں یہ آخری سانس تک بچوں کے دلوں میں باقی رہ سکتی ہے۔
خدا را! اپنے بچوں کو موبائل دیکھنے کی قبیح ترین عادت سے بچائیں۔ یہ متعدد جہات سے آپ کے بچے کی زندگی تباہ کر رہی ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ خود بھی بچوں کے سامنے فون نہ دیکھیں صرف ضرورت بھر بات کریں، بچوں کے سامنے فون میں ویڈیوز دیکھنے یا اور کچھ کرنے سے پرہیز کریں تبھی آپ اپنے بچے کو اس قبیح عادت سے بچا سکیں گے۔
لیکن موجودہ حالات میں وہ بچے جو کارٹون کے عادی ہو چکے ہیں ان بچوں کو کارٹون سے دور کرنا بہت مشکل ہے۔ پھر بھی بچوں کی یہ عادت چھڑانے کی حسبِ استطاعت ضرور کوشش کرتے رہیں۔
اور اگر ممکن نہ ہو تو جب آپ کسی چیز کی عادت نہیں چھڑا سکتے تو اس کے متبادل پر غور کریں اور اپنے بچوں کے لیے بہترین متبادل تلاش کریں جس سے ان کو اس بری عادت سے نجات دلائی جاسکے۔
جب ہم کارٹون کے متبادل پر غور کرتے ہیں تو ہمیں چند اسلامی کارٹون سیریز نظر آتی ہیں جن میں قابل ذکر یہ ہیں:
● "غلام رسول کے مدنی پھول" کے نام سے غلام رسول اور فیضان کا کردار بھی بچوں کے لیے کافی دل موہ لینے والا ہوتا ہے، یہ سلسلہ کھیل کھیل میں دین سے وابستگی کا اہم ذریعہ ثابت ہورہا ہے ۔
"غلام رسول کے مدنی پھول " کے نئے ورژن میں غلام رسول، فیضان، نعمان، اسید، ببلو بھائی کا ٹریک بھی نہایت شاندار اور قابل تعریف ہے۔ جس طرح اس میں اسلامی تعلیمات کو اینیمیشن کے سہارے پیش کیا جارہا ہے وہ کافی دیدہ زیب لگتا ہے۔ لیکن یہ اینیمیشن کارٹون کی دنیا میں اس قدر عام نہیں، جتنا کہ ہونا چاہیے، شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ بچے کارٹون دیکھتے ہیں مزہ کے لیے، اور اس میں انھیں کمی لگتی ہے ۔ لہذا تفریح کو نظر میں رکھ کر کچھ چلبلا پن اور کچھ ضروری تفریح طبع کا سامان بھی ان میں رکھنا چاہیے ۔
"کنیز فاطمہ" کا کارٹون بھی بچوں کو خوب پسند آتا ہے اس کی بہن "رائقہ" کا چلبلا انداز بچوں کے لیے بڑا دلچسپ ہوتا ہے. اور ساتھ ساتھ اسلامی تعلیمات بھی حاصل ہوتی ہیں۔
● کڈس مدنی چینل ● مدنی چینل پر ۱یک پروگرام " بچوں کی شام" کے نام سے آتا ہے وہ بھی بڑا دلچسپ ہوتا ہے ۔
دعوتِ اسلامی کی طرف سے جاری کردہ ایپ " کلمہ اینڈ دعا " کے نام سے بھی بڑا مفید ثابت ہوا ہے، جس کے ذریعے بنیادی دعائیں، اور ذکر و اذکار ، کلمات اور اسلامی اخلاقی تربیت؛ بہترین انداز میں بچوں کو سکھانے کی کوشش کی گئی ہے ۔
تحریر : *محمد شاہد علی مصباحی*
رکن : روشن مستقبل، دہلی۔
تحریک علماے بندیل کھنڈ
انیمیٹڈ کارٹون ایک ایسی چیز ہے جس نے ہمارے بچوں کی فکری صلاحیتوں کو نہ صرف تباہ کر کے رکھ دیا ہے بلکہ ان کی ذہنیت کو اسلام سے پھیرنے کا کام بھی کر رہی ہے۔
جس طرح سے ان انیمیٹڈ کارٹونوں میں اغیار کے مذہبی پیشواؤں کو ہر طرح کی خوبی سے مزین کر کے دکھایا جارہا ہے وہ ہمارے بچوں کی ذہن پر بھی اثر انداز ہو رہا ہے۔
کارٹون کا وہ کردار کبھی سماجی کام کرتا ہوا نظر آتا ہے تو کبھی فلاحی کام میں مصروف نظر آتا ہے، کبھی مذہبی کام کرتا ہوا نظر آتا ہے تو کبھی ثقافی۔ اس طرح بچے اس کی شخصیت سے متأثر ہوکر اسی کیریکٹر کو اپنا آئیڈل بنا رہے ہیں۔
ایک تازہ واقعہ:
میں ایک گھر میں تھا میں نے ایک چار سال کا بچہ دیکھا جو اپنی ماں سے بول رہا تھا: "مجھے چھوٹا بھیم (انیمیٹڈ کارٹونوں کا ایک کیریکٹر) بننا ہے۔"
اس کی ماں نے شرمندہ ہوتے ہوے میری طرف دیکھا اور بچے سے بولی: " کہ چھوٹا بھیم نہیں بننا وہ اچھا نہیں ہوتا."
بچہ بولا: " نہیں امی! وہ تو بہت اچھا ہے۔ وہ سب کی مدد کرتا ہے۔"
اس کی ماں نے کافی سمجھانے کی کوشش کی مگر بچہ اس کریکٹر کی خوبیوں کی وکالت کرتا رہا، آخر کار بچہ کی ماں نے مزید شرمندگی سے بچنے کے لیے بچے کو پیسے دے کر دکان بھیج دیا۔
اس واقعہ سے آپ اندازہ کریں کہ آپ کا بچہ جو دیکھ رہا ہے اس کا کتنا گہرا اثر بچے کی زندگی اور اس کی شخصیت پر پڑتا ہے۔ وہ جو دیکھتا ہے، جو محسوس کرتا ہے اسی کو اپنے اندر پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
اور ہم اپنے بچوں کے مستقبل کی فکر کیے بغیر ان کے ہاتھ میں فون تھما دیتے ہیں اور بچوں کو آزاد چھوڑ دیتے ہیں کہ وہ جیسا کارٹون چاہیں وہ دیکھیں۔
بعض کارٹون تو صرف اخلاقیات پر حملہ آور ہوتے ہیں جس کو بہت سے لوگ کسی حد تک برداشت کر سکتے ہیں۔ حال آں کہ گنجائش اس کی بھی نہیں ہے۔ مگر بعض کارٹون سیدھا ہمارے بچوں کے دین و مذہب پر حملہ آور ہوتے ہیں جسے کوئی مومن قطعی برداشت نہیں کر سکتا۔ کیوں کہ بچے نرم موم کی طرح ہوتے ہیں انہیں جس سانچے میں ڈھال دیا جاے ڈھل جاتے ہیں، اگر ابھی ہمارے بچوں کے دلوں میں باطل رہنماؤں کی محبت ان کارٹونوں کے ذریعے بیٹھ گئی تو یقین جانیں یہ آخری سانس تک بچوں کے دلوں میں باقی رہ سکتی ہے۔
خدا را! اپنے بچوں کو موبائل دیکھنے کی قبیح ترین عادت سے بچائیں۔ یہ متعدد جہات سے آپ کے بچے کی زندگی تباہ کر رہی ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ خود بھی بچوں کے سامنے فون نہ دیکھیں صرف ضرورت بھر بات کریں، بچوں کے سامنے فون میں ویڈیوز دیکھنے یا اور کچھ کرنے سے پرہیز کریں تبھی آپ اپنے بچے کو اس قبیح عادت سے بچا سکیں گے۔
لیکن موجودہ حالات میں وہ بچے جو کارٹون کے عادی ہو چکے ہیں ان بچوں کو کارٹون سے دور کرنا بہت مشکل ہے۔ پھر بھی بچوں کی یہ عادت چھڑانے کی حسبِ استطاعت ضرور کوشش کرتے رہیں۔
اور اگر ممکن نہ ہو تو جب آپ کسی چیز کی عادت نہیں چھڑا سکتے تو اس کے متبادل پر غور کریں اور اپنے بچوں کے لیے بہترین متبادل تلاش کریں جس سے ان کو اس بری عادت سے نجات دلائی جاسکے۔
جب ہم کارٹون کے متبادل پر غور کرتے ہیں تو ہمیں چند اسلامی کارٹون سیریز نظر آتی ہیں جن میں قابل ذکر یہ ہیں:
● "غلام رسول کے مدنی پھول" کے نام سے غلام رسول اور فیضان کا کردار بھی بچوں کے لیے کافی دل موہ لینے والا ہوتا ہے، یہ سلسلہ کھیل کھیل میں دین سے وابستگی کا اہم ذریعہ ثابت ہورہا ہے ۔
"غلام رسول کے مدنی پھول " کے نئے ورژن میں غلام رسول، فیضان، نعمان، اسید، ببلو بھائی کا ٹریک بھی نہایت شاندار اور قابل تعریف ہے۔ جس طرح اس میں اسلامی تعلیمات کو اینیمیشن کے سہارے پیش کیا جارہا ہے وہ کافی دیدہ زیب لگتا ہے۔ لیکن یہ اینیمیشن کارٹون کی دنیا میں اس قدر عام نہیں، جتنا کہ ہونا چاہیے، شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ بچے کارٹون دیکھتے ہیں مزہ کے لیے، اور اس میں انھیں کمی لگتی ہے ۔ لہذا تفریح کو نظر میں رکھ کر کچھ چلبلا پن اور کچھ ضروری تفریح طبع کا سامان بھی ان میں رکھنا چاہیے ۔
"کنیز فاطمہ" کا کارٹون بھی بچوں کو خوب پسند آتا ہے اس کی بہن "رائقہ" کا چلبلا انداز بچوں کے لیے بڑا دلچسپ ہوتا ہے. اور ساتھ ساتھ اسلامی تعلیمات بھی حاصل ہوتی ہیں۔
● کڈس مدنی چینل ● مدنی چینل پر ۱یک پروگرام " بچوں کی شام" کے نام سے آتا ہے وہ بھی بڑا دلچسپ ہوتا ہے ۔
دعوتِ اسلامی کی طرف سے جاری کردہ ایپ " کلمہ اینڈ دعا " کے نام سے بھی بڑا مفید ثابت ہوا ہے، جس کے ذریعے بنیادی دعائیں، اور ذکر و اذکار ، کلمات اور اسلامی اخلاقی تربیت؛ بہترین انداز میں بچوں کو سکھانے کی کوشش کی گئی ہے ۔
ان سب کے باوجود اتنا ہی کافی نہیں ۔ آج کے معاشرہ کا حال یہ ہے کہ مجھے نہیں لگتا کوئی گھر ایسا ہو جہاں بچے کارٹون نہ دیکھتے ہوں۔ اگر یہ سچ ہے تو ہمیں اس پر کام کرنا ہوگا اور مذکورہ کارٹونوں کی طرح کچھ اور اینیمیشن والے کارٹون بنانے ہوں گے۔ اور بنانے والے یہ ذہن میں رکھیں کہ ابتداءً کارٹون ایسے ہوں جن میں کھیل زیادہ ہو اور تعلیمات کم ہوں تاکہ بچے ان غیر مذہبی سپر ہیروز والے کارٹون ترک کر کے اسلامی تعلیمات والے کارٹون دیکھیں۔ اگر صرف تعلیمات بھر دیں گے تو بچے متوجہ ہی نہیں ہوں گے اور جب متوجہ نہیں ہوں گے تو مقصد فوت ہوجائے گا۔
ایک اور ضروری بات جو لوگوں سے اس تعلق سے گفتگو کے دوران معلوم ہوئی وہ یہ کہ بڑی تعداد میں یو ٹیوب پر ایسے کارٹون بھی اپ لوڈ ہورہے ہیں جن میں جنسی تعلقات دکھائے جا رہے ہیں اور بچوں کے کارٹونوں کے درمیان یوٹیوب کا ایلگورتھم سسٹم اپنے آپ ایسے غلیظ کارٹونوں کو پرموٹ کر رہا ہے۔ ایسے میں آپ کی ذمہ داری اور زیادہ بڑھ جاتی ہے ۔ اس سے نجات پانے کے لیے آپ بچوں کے کارٹون دیکھنے کے بعد چیک کریں کہ کیا کیا دیکھا گیا ہے اور اس میں کہیں ایسا مواد پائیں جس میں جنسی تعلقات کو دکھایا گیا ہو یا اس کی طرف ابھارا گیا ہے تو پہلی فرصت میں ایسے کارٹون کو رپورٹ کریں، اور موبائل سے ریمو یا بلاک کرنے کی کوشش کریں۔
ایک اور طریقہ یہ بھی ہے بچوں کے فون پر نگرانی کرنے کے لیے متعدد ایپ ہیں جن سے آپ معلوم کرسکتے ہیں کہ بچہ کیا دیکھ رہا ہے اور جب آپ کا بچہ کوئی چیز اوپن کرے گا تو آپ سے اجازت مانگی جاے گی آپ اجازت دیں گے تبھی آپ کا بچہ اس چیز کو اوپن کر سکے گا۔
انہیں ایپلیکیشنز میں سے ایک بہترین ایپ
"Google Family Link"
ہے۔
نوٹ: اگر مضمون اچھا لگے تو اپنے احباب تک ضرور پہنچائیں۔
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/1022623084974876/
ایک اور ضروری بات جو لوگوں سے اس تعلق سے گفتگو کے دوران معلوم ہوئی وہ یہ کہ بڑی تعداد میں یو ٹیوب پر ایسے کارٹون بھی اپ لوڈ ہورہے ہیں جن میں جنسی تعلقات دکھائے جا رہے ہیں اور بچوں کے کارٹونوں کے درمیان یوٹیوب کا ایلگورتھم سسٹم اپنے آپ ایسے غلیظ کارٹونوں کو پرموٹ کر رہا ہے۔ ایسے میں آپ کی ذمہ داری اور زیادہ بڑھ جاتی ہے ۔ اس سے نجات پانے کے لیے آپ بچوں کے کارٹون دیکھنے کے بعد چیک کریں کہ کیا کیا دیکھا گیا ہے اور اس میں کہیں ایسا مواد پائیں جس میں جنسی تعلقات کو دکھایا گیا ہو یا اس کی طرف ابھارا گیا ہے تو پہلی فرصت میں ایسے کارٹون کو رپورٹ کریں، اور موبائل سے ریمو یا بلاک کرنے کی کوشش کریں۔
ایک اور طریقہ یہ بھی ہے بچوں کے فون پر نگرانی کرنے کے لیے متعدد ایپ ہیں جن سے آپ معلوم کرسکتے ہیں کہ بچہ کیا دیکھ رہا ہے اور جب آپ کا بچہ کوئی چیز اوپن کرے گا تو آپ سے اجازت مانگی جاے گی آپ اجازت دیں گے تبھی آپ کا بچہ اس چیز کو اوپن کر سکے گا۔
انہیں ایپلیکیشنز میں سے ایک بہترین ایپ
"Google Family Link"
ہے۔
نوٹ: اگر مضمون اچھا لگے تو اپنے احباب تک ضرور پہنچائیں۔
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/1022623084974876/
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
مصطفیٰ کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے جمالِ جہاں آرا کا ایمان افروز خاکہ
طالب بقیع: محمد حسین مشاہد رضوی
دشمنانِ اسلام نبیِ مکرم و معظم صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا فرضی خاکہ بناکر اپنے خبثِ باطنی کا مظاہرہ کررہے ہیں ۔وَ رَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَؕ کی آیۂ کریمہ میں جس کی شانِ رفیع ربِ عظیم نے بیان فرمادی اس کا رتبۂ عالی کسی دریدہ دہن کی گستاخانہ حرکت سے ہرگز ہرگز نہیں گھٹ سکتا ۔ برادرم افتخار الحسن رضوی کے بہ قول:
"وہ میرے نبیِ معصوم ﷺ کے خاکے بنانا چاہتے ہیں، یہ خاکے گستاخی و توہین کی نیت سے بنائے جا رہے ہیں، مان لو اگر یہ خاکے محبت کی نیت سے بھی بنانے کی کوشش کی جاتی اور میرے کریم ﷺ کا عکس دکھانے کی کوشش کی جاتی تو بھی شریعتِ اسلامیہ اسے نہ جائز سمجھتی ہے نہ یہ ممکن تھا۔"
ہاں! مگر آئیے آج ہم تصورات و تخیلات کی حسین وادیوں کی سیر کرتے ہوئے، بے مثل و بے نظیر اۤقا ﷺ کے جمالِ جہاں آرا کا ایمان افروز خاکہ دیکھتے ہیں، ہجرت کا سفر ہے، سیدنا صدیق اکبر رضی اللّٰہ عنہ ساتھ ہیں، راستے میں ایک مقام پر آقا کریم ﷺ قیام فرما ہوئے ہیں ، وہ عرب کی بدّو خاتون اُمِ معبد کا مکان ہے ۔ آقاے کائنات صلی اللّٰہ علیہ وسلم چندے توقف کے بعد اپنی بے پناہ برکتیں چھوڑ کر وہاں سے رخصت ہوجاتے ہیں ۔ ام معبد کا خاوند واپس آکر بدلا ہوا نقشہ اور اپنے اجڑے ہوئے دیار کو باغ و بہار دیکھتا ہے تو حیرت میں پڑ جاتا ہے، پھر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!
ﻋﺮﺏ ﮐﯽ وہی ﺑﺪّﻭ ﺧﺎﺗﻮﻥ ﺍُﻡِّ ﻣﻌﺒﺪ ﺣﻀﻮﺭ ﺍﻧﻮﺭﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ کا ﻧﻮﺭﺍﻧﯽ ﭘﯿﮑﺮ اور حسین و جمیل خاکہ اپنے شوہر کو یوں سناتی ہے :
" ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﺴﺎ ﻣﺮﺩ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺟﺲ ﮐﺎ ﺣُﺴﻦ ﻧﻤﺎﯾﺎﮞ ﺗﮭﺎ، ﺟﺲ ﮐﯽ ﺳﺎﺧﺖ ﺑﮍﯼ ﺧﻮﺏ ﺻﻮﺭﺕ ﺍﻭﺭ ﭼﮩﺮﮦ ﻣﻠﯿﺢ ﺗﮭﺎ۔ ﻧﮧ ﺭﻧﮕﺖ ﮐﯽ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺳﻔﯿﺪﯼ ﺍﺱ ﮐﻮ ﻣﻌﯿﻮﺏ ﺑﻨﺎ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﻧﮧ ﮔﺮﺩﻥ ﺍﻭﺭ ﺳﺮﮐﺎ ﭘﺘﻼ ﮨﻮﻧﺎ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﻧﻘﺺ ﭘﯿﺪﺍ ﮐﺮﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﺑﮍﺍ ﺣﺴﯿﻦ، ﺑﮩﺖ ﺧﻮﺏ ﺭﻭٗ۔ ﺍٓﻧﮑﮭﯿﮟ ﺳﯿﺎﮦ ﺍﻭﺭ ﺑﮍﯼ ﺗﮭﯿﮟ، ﭘﻠﮑﯿﮟ ﻻﻧﺒﯽ ﺗﮭﯿﮟ۔ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺍٓﻭﺍﺯ ﮔﻮﻧﺞ ﺩﺍﺭ ﺗﮭﯽ۔ ﺳﯿﺎﮦ ﭼﺸﻢ ۔ ﺳﺮﻣﮕﯿﻦ۔ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﺍﺑﺮﻭٗ ﺑﺎﺭﯾﮏ ﺍﻭﺭ ﻣﻠﮯ ﮨﻮﺋﮯ۔ ﮔﺮﺩﻥ ﭼﻤﮏ ﺩﺍﺭ ﺗﮭﯽ۔ ﺭﯾﺶِ ﻣﺒﺎﺭﮎ ﮔﮭﻨﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﺟﺐ ﻭﮦ ﺧﺎﻣﻮﺵ ﮨﻮﺗﮯ ﺗﻮ ﭘُﺮ ﻭﻗﺎﺭ ﮨﻮﺗﮯ۔ ﺟﺐ ﮔﻔﺘﮕﻮ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﺗﻮ ﭼﮩﺮﮦ ﭘُﺮ ﻧﻮﺭ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﺭﻭﻧﻖ ﮨﻮﺗﺎ۔ ﺷﯿﺮﯾﮟ ﮔﻔﺘﺎﺭ۔ ﮔﻔﺘﮕﻮ ﻭﺍﺿﺢ ﮨﻮﺗﯽ ﻧﮧ ﺑﮯ ﻓﺎﺋﺪﮦ ﮨﻮﺗﯽ ﻧﮧ ﺑﮯ ﮨﻮﺩﮦ۔ ﮔﻔﺘﮕﻮ ﮔﻮﯾﺎ ﻣﻮﺗﯿﻮﮞ ﮐﯽ ﻟﮍﯼ ﮨﮯ ﺟﺲ ﺳﮯ ﻣﻮﺗﯽ ﺟﮭﮍ ﺭﮨﮯ ﮨﻮﺗﮯ۔ ﺩﻭﺭ ﺳﮯ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﭘﺮ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺑﺎ ﺭﻋﺐ ﺍﻭﺭ ﺟﻤﯿﻞ ﻧﻈﺮ ﺍٓﺗﮯ ۔ ﺍﻭﺭ ﻗﺮﯾﺐ ﺳﮯ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺷﯿﺮﯾﮟ ﺍﻭﺭ ﺣﺴﯿﻦ ﺩﮐﮭﺎﺋﯽ ﺩﯾﺘﮯ۔ ﻗﺪ ﺩﺭﻣﯿﺎﻧﮧ ﺗﮭﺎ ۔ ﻧﮧ ﺍﺗﻨﺎ ﻃﻮﯾﻞ ﮐﮧ ﺍٓﻧﮑﮭﻮﮞﮑﻮ ﺑُﺮﺍ ﻟﮕﮯ۔ ﻧﮧ ﺍﺗﻨﺎ ﭘﺴﺖ ﮐﮧ ﺍٓﻧﮑﮭﯿﮟ ﺣﻘﯿﺮ ﺳﻤﺠﮭﻨﮯ ﻟﮕﯿﮟ ۔ ﺍٓﭖ ﺩﻭ ﺷﺎﺧﻮﮞ ﮐﮯ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﺍﯾﮏ ﺷﺎﺥ ﮐﯽ ﻣﺎﻧﻨﺪ ﺗﮭﮯ ﺟﻮ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺳﺮ ﺳﺒﺰ ﻭ ﺷﺎﺩﺍﺏ ﺍﻭﺭ ﻗﺪ ﺍٓﻭﺭ ﮨﻮ۔ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺍﯾﺴﮯ ﺳﺎﺗﮭﯽ ﺗﮭﮯ ﺟﻮ ﺍﻥ ﮐﮯ ﮔﺮﺩ ﺣﻠﻘﮧ ﺑﻨﺎﺋﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﺍﮔﺮ ﺍٓﭖ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﮐﭽﮫ ﮐﮩﺘﮯ ﺗﻮ ﻓﻮﺭﺍً ﺗﻌﻤﯿﻞ ﮐﺮﺗﮯ۔ ﺍﮔﺮ ﺍٓﭖ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺣﮑﻢ ﺩﯾﺘﮯ ﻓﻮﺭﺍً ﺑﺠﺎ ﻻﺗﮯ۔ ﺳﺐ ﮐﮯ ﻣﺨﺪﻭﻡ۔ ﺳﺐ ﮐﮯ ﻣﺤﺘﺮﻡ ۔ "
(ﭘﯿﺮ ﮐﺮﻡ ﺷﺎﮦ ﺍﺯﮨﺮﯼ،ﻋﻼﻣﮧ : ﺿﯿﺎﺀ النبیﷺ ،ﻣﻄﺒﻮﻋﮧ ﺩﮨﻠﯽ ،ﺝ 2 ، ﺹ 174/175)
سبحان اللہ والحمد للہ!!! واااااہ واااا!! ماشآءاللہ!! ؎
خامۂ قدرت کا حسنِ دست کاری واہ واہ
کیا ہی تصویر اپنے پیارے کی سنواری واہ واہ
ﻧﺒﯽِ ﮐﺮﯾﻢ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﮯ ﺧﺪﺍﺩاد ﺣﺴﻦ ﻭ ﺟﻤﺎ ﻝ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﺩﻭ ﭼﺎﺭ ﯾﺎ ﺩﺱ ﺑﯿﺲ ﮐﯽ ﯾﮧ ﺭﺍﮮ ﻧﮧ ﺗﮭﯽ ﺑﻞ ﮐﮧ ﮨﺮ ﻭﮦ ﺷﺨﺺ ﺟﺲ ﮐﻮ ﻗﺪﺭﺕ ﻧﮯ ﺫﻭﻕِ ﺳﻠﯿﻢ ﮐﯽ ﻧﻌﻤﺖ ﺳﮯ ﻧﻮﺍﺯﺍ ﮨﻮﺗﺎ، ﻭﮦ ﺍٓ ﭖ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﻣﺴﺤﻮﺭ ﮨﻮﺟﺎﯾﺎ ﮐﺮﺗﺎ ﺍﻭﺭ ﮨﺮ ﺍﯾﮏ ﮐﯽ ﺯﺑﺎﻥ ﺳﮯ ﺑﮯ ﺳﺎﺧﺘﮧ ﺍٓﭖ ﮐﮯ ﺣﺴﻦ ﻭ ﺟﻤﺎﻝ ﮐﯽ ﺗﻌﺮﯾﻒ ﻧﮑﻠﻨﮯ ﻟﮕﺘﯽ۔ﺍٓﭖ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﻮﺟﻮ ﺩﯾﮑﮭﺘﺎ ﺳﻮ ﺟﺎﻥ ﺳﮯ ﻗﺮﺑﺎﻥ ﮨﻮﻧﮯ ﻟﮕﺘﺎ ﺩﻭﺳﺖ، ﺩﺷﻤﻦ ، ﺍﭘﻨﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﮯ ﮔﺎﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﻣﺘﯿﺎﺯ ﺑﺎﻗﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﺘﺎ ۔
دوستو ۔۔۔۔۔!!!
اپنے پیارے آقا مصطفیٰ کریم رؤف و رحیم ﷺ کی ان صفات کو پڑھو، انہیں اپنا وظیفہ کرلو ، سیرتِ طیبہ کو حرزِ جاں بناؤ ، اسوۂ حسنہ کے سانچے میں خود کو ڈھال لو، اپنی اولادوں کو عظمتِ رسول ﷺ کی باتیں سناؤ اور سمجھاؤ اور مصطفیٰ پیارے کی یادوں کے چراغ روشن کرتے ہوئے آپ کی بارگاہِ عزت نشان میں کثرت سے درود و سلام پڑھتے رہو اور نبی پاک ﷺ کے خاکے بنانے والوں کے خلاف عملی اقدام اٹھانے والوں کا ہر ممکن ساتھ دو۔
طالب بقیع: مشاہد رضوی
اس تحریر کو ثواب کی نیت سے ضرور شئیر کیجیے ۔
جزاک الله!
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2166421050163737&id=100003875890529
طالب بقیع: محمد حسین مشاہد رضوی
دشمنانِ اسلام نبیِ مکرم و معظم صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا فرضی خاکہ بناکر اپنے خبثِ باطنی کا مظاہرہ کررہے ہیں ۔وَ رَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَؕ کی آیۂ کریمہ میں جس کی شانِ رفیع ربِ عظیم نے بیان فرمادی اس کا رتبۂ عالی کسی دریدہ دہن کی گستاخانہ حرکت سے ہرگز ہرگز نہیں گھٹ سکتا ۔ برادرم افتخار الحسن رضوی کے بہ قول:
"وہ میرے نبیِ معصوم ﷺ کے خاکے بنانا چاہتے ہیں، یہ خاکے گستاخی و توہین کی نیت سے بنائے جا رہے ہیں، مان لو اگر یہ خاکے محبت کی نیت سے بھی بنانے کی کوشش کی جاتی اور میرے کریم ﷺ کا عکس دکھانے کی کوشش کی جاتی تو بھی شریعتِ اسلامیہ اسے نہ جائز سمجھتی ہے نہ یہ ممکن تھا۔"
ہاں! مگر آئیے آج ہم تصورات و تخیلات کی حسین وادیوں کی سیر کرتے ہوئے، بے مثل و بے نظیر اۤقا ﷺ کے جمالِ جہاں آرا کا ایمان افروز خاکہ دیکھتے ہیں، ہجرت کا سفر ہے، سیدنا صدیق اکبر رضی اللّٰہ عنہ ساتھ ہیں، راستے میں ایک مقام پر آقا کریم ﷺ قیام فرما ہوئے ہیں ، وہ عرب کی بدّو خاتون اُمِ معبد کا مکان ہے ۔ آقاے کائنات صلی اللّٰہ علیہ وسلم چندے توقف کے بعد اپنی بے پناہ برکتیں چھوڑ کر وہاں سے رخصت ہوجاتے ہیں ۔ ام معبد کا خاوند واپس آکر بدلا ہوا نقشہ اور اپنے اجڑے ہوئے دیار کو باغ و بہار دیکھتا ہے تو حیرت میں پڑ جاتا ہے، پھر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!
ﻋﺮﺏ ﮐﯽ وہی ﺑﺪّﻭ ﺧﺎﺗﻮﻥ ﺍُﻡِّ ﻣﻌﺒﺪ ﺣﻀﻮﺭ ﺍﻧﻮﺭﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ کا ﻧﻮﺭﺍﻧﯽ ﭘﯿﮑﺮ اور حسین و جمیل خاکہ اپنے شوہر کو یوں سناتی ہے :
" ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﺴﺎ ﻣﺮﺩ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺟﺲ ﮐﺎ ﺣُﺴﻦ ﻧﻤﺎﯾﺎﮞ ﺗﮭﺎ، ﺟﺲ ﮐﯽ ﺳﺎﺧﺖ ﺑﮍﯼ ﺧﻮﺏ ﺻﻮﺭﺕ ﺍﻭﺭ ﭼﮩﺮﮦ ﻣﻠﯿﺢ ﺗﮭﺎ۔ ﻧﮧ ﺭﻧﮕﺖ ﮐﯽ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺳﻔﯿﺪﯼ ﺍﺱ ﮐﻮ ﻣﻌﯿﻮﺏ ﺑﻨﺎ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﻧﮧ ﮔﺮﺩﻥ ﺍﻭﺭ ﺳﺮﮐﺎ ﭘﺘﻼ ﮨﻮﻧﺎ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﻧﻘﺺ ﭘﯿﺪﺍ ﮐﺮﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﺑﮍﺍ ﺣﺴﯿﻦ، ﺑﮩﺖ ﺧﻮﺏ ﺭﻭٗ۔ ﺍٓﻧﮑﮭﯿﮟ ﺳﯿﺎﮦ ﺍﻭﺭ ﺑﮍﯼ ﺗﮭﯿﮟ، ﭘﻠﮑﯿﮟ ﻻﻧﺒﯽ ﺗﮭﯿﮟ۔ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺍٓﻭﺍﺯ ﮔﻮﻧﺞ ﺩﺍﺭ ﺗﮭﯽ۔ ﺳﯿﺎﮦ ﭼﺸﻢ ۔ ﺳﺮﻣﮕﯿﻦ۔ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﺍﺑﺮﻭٗ ﺑﺎﺭﯾﮏ ﺍﻭﺭ ﻣﻠﮯ ﮨﻮﺋﮯ۔ ﮔﺮﺩﻥ ﭼﻤﮏ ﺩﺍﺭ ﺗﮭﯽ۔ ﺭﯾﺶِ ﻣﺒﺎﺭﮎ ﮔﮭﻨﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﺟﺐ ﻭﮦ ﺧﺎﻣﻮﺵ ﮨﻮﺗﮯ ﺗﻮ ﭘُﺮ ﻭﻗﺎﺭ ﮨﻮﺗﮯ۔ ﺟﺐ ﮔﻔﺘﮕﻮ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﺗﻮ ﭼﮩﺮﮦ ﭘُﺮ ﻧﻮﺭ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﺭﻭﻧﻖ ﮨﻮﺗﺎ۔ ﺷﯿﺮﯾﮟ ﮔﻔﺘﺎﺭ۔ ﮔﻔﺘﮕﻮ ﻭﺍﺿﺢ ﮨﻮﺗﯽ ﻧﮧ ﺑﮯ ﻓﺎﺋﺪﮦ ﮨﻮﺗﯽ ﻧﮧ ﺑﮯ ﮨﻮﺩﮦ۔ ﮔﻔﺘﮕﻮ ﮔﻮﯾﺎ ﻣﻮﺗﯿﻮﮞ ﮐﯽ ﻟﮍﯼ ﮨﮯ ﺟﺲ ﺳﮯ ﻣﻮﺗﯽ ﺟﮭﮍ ﺭﮨﮯ ﮨﻮﺗﮯ۔ ﺩﻭﺭ ﺳﮯ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﭘﺮ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺑﺎ ﺭﻋﺐ ﺍﻭﺭ ﺟﻤﯿﻞ ﻧﻈﺮ ﺍٓﺗﮯ ۔ ﺍﻭﺭ ﻗﺮﯾﺐ ﺳﮯ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺷﯿﺮﯾﮟ ﺍﻭﺭ ﺣﺴﯿﻦ ﺩﮐﮭﺎﺋﯽ ﺩﯾﺘﮯ۔ ﻗﺪ ﺩﺭﻣﯿﺎﻧﮧ ﺗﮭﺎ ۔ ﻧﮧ ﺍﺗﻨﺎ ﻃﻮﯾﻞ ﮐﮧ ﺍٓﻧﮑﮭﻮﮞﮑﻮ ﺑُﺮﺍ ﻟﮕﮯ۔ ﻧﮧ ﺍﺗﻨﺎ ﭘﺴﺖ ﮐﮧ ﺍٓﻧﮑﮭﯿﮟ ﺣﻘﯿﺮ ﺳﻤﺠﮭﻨﮯ ﻟﮕﯿﮟ ۔ ﺍٓﭖ ﺩﻭ ﺷﺎﺧﻮﮞ ﮐﮯ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﺍﯾﮏ ﺷﺎﺥ ﮐﯽ ﻣﺎﻧﻨﺪ ﺗﮭﮯ ﺟﻮ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺳﺮ ﺳﺒﺰ ﻭ ﺷﺎﺩﺍﺏ ﺍﻭﺭ ﻗﺪ ﺍٓﻭﺭ ﮨﻮ۔ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺍﯾﺴﮯ ﺳﺎﺗﮭﯽ ﺗﮭﮯ ﺟﻮ ﺍﻥ ﮐﮯ ﮔﺮﺩ ﺣﻠﻘﮧ ﺑﻨﺎﺋﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﺍﮔﺮ ﺍٓﭖ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﮐﭽﮫ ﮐﮩﺘﮯ ﺗﻮ ﻓﻮﺭﺍً ﺗﻌﻤﯿﻞ ﮐﺮﺗﮯ۔ ﺍﮔﺮ ﺍٓﭖ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺣﮑﻢ ﺩﯾﺘﮯ ﻓﻮﺭﺍً ﺑﺠﺎ ﻻﺗﮯ۔ ﺳﺐ ﮐﮯ ﻣﺨﺪﻭﻡ۔ ﺳﺐ ﮐﮯ ﻣﺤﺘﺮﻡ ۔ "
(ﭘﯿﺮ ﮐﺮﻡ ﺷﺎﮦ ﺍﺯﮨﺮﯼ،ﻋﻼﻣﮧ : ﺿﯿﺎﺀ النبیﷺ ،ﻣﻄﺒﻮﻋﮧ ﺩﮨﻠﯽ ،ﺝ 2 ، ﺹ 174/175)
سبحان اللہ والحمد للہ!!! واااااہ واااا!! ماشآءاللہ!! ؎
خامۂ قدرت کا حسنِ دست کاری واہ واہ
کیا ہی تصویر اپنے پیارے کی سنواری واہ واہ
ﻧﺒﯽِ ﮐﺮﯾﻢ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﮯ ﺧﺪﺍﺩاد ﺣﺴﻦ ﻭ ﺟﻤﺎ ﻝ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﺩﻭ ﭼﺎﺭ ﯾﺎ ﺩﺱ ﺑﯿﺲ ﮐﯽ ﯾﮧ ﺭﺍﮮ ﻧﮧ ﺗﮭﯽ ﺑﻞ ﮐﮧ ﮨﺮ ﻭﮦ ﺷﺨﺺ ﺟﺲ ﮐﻮ ﻗﺪﺭﺕ ﻧﮯ ﺫﻭﻕِ ﺳﻠﯿﻢ ﮐﯽ ﻧﻌﻤﺖ ﺳﮯ ﻧﻮﺍﺯﺍ ﮨﻮﺗﺎ، ﻭﮦ ﺍٓ ﭖ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﻣﺴﺤﻮﺭ ﮨﻮﺟﺎﯾﺎ ﮐﺮﺗﺎ ﺍﻭﺭ ﮨﺮ ﺍﯾﮏ ﮐﯽ ﺯﺑﺎﻥ ﺳﮯ ﺑﮯ ﺳﺎﺧﺘﮧ ﺍٓﭖ ﮐﮯ ﺣﺴﻦ ﻭ ﺟﻤﺎﻝ ﮐﯽ ﺗﻌﺮﯾﻒ ﻧﮑﻠﻨﮯ ﻟﮕﺘﯽ۔ﺍٓﭖ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﻮﺟﻮ ﺩﯾﮑﮭﺘﺎ ﺳﻮ ﺟﺎﻥ ﺳﮯ ﻗﺮﺑﺎﻥ ﮨﻮﻧﮯ ﻟﮕﺘﺎ ﺩﻭﺳﺖ، ﺩﺷﻤﻦ ، ﺍﭘﻨﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﮯ ﮔﺎﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﻣﺘﯿﺎﺯ ﺑﺎﻗﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﺘﺎ ۔
دوستو ۔۔۔۔۔!!!
اپنے پیارے آقا مصطفیٰ کریم رؤف و رحیم ﷺ کی ان صفات کو پڑھو، انہیں اپنا وظیفہ کرلو ، سیرتِ طیبہ کو حرزِ جاں بناؤ ، اسوۂ حسنہ کے سانچے میں خود کو ڈھال لو، اپنی اولادوں کو عظمتِ رسول ﷺ کی باتیں سناؤ اور سمجھاؤ اور مصطفیٰ پیارے کی یادوں کے چراغ روشن کرتے ہوئے آپ کی بارگاہِ عزت نشان میں کثرت سے درود و سلام پڑھتے رہو اور نبی پاک ﷺ کے خاکے بنانے والوں کے خلاف عملی اقدام اٹھانے والوں کا ہر ممکن ساتھ دو۔
طالب بقیع: مشاہد رضوی
اس تحریر کو ثواب کی نیت سے ضرور شئیر کیجیے ۔
جزاک الله!
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2166421050163737&id=100003875890529
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
پیغامِ حق جہاں کو سنایا رسولﷺ نے
ڈاکٹر محمدحسین مُشاہدؔ رضوی
اس خاکدانِ گیتی پر بسنے والے انسانوں میں کون سی برائی موجود نہ تھی ، عرب کی حالت تو اس درجہ خراب ہوچکی تھی کہ شراب پانی کی طرح استعمال ہورہی تھی۔ قمار بازی شب و روز کی تفریح تصور کی جاتی تھی۔ کبر ونخوت اورغرور و تکبر سے سر اونچا رکھنے والے انسان لڑکیوں کو زندہ در گور کرکے اپنی بہیمانہ عادتوں کا مظاہرہ کرتے تھے اور فخر ومباہات سے اپنا سر اُٹھایا بھی کرتے تھے۔ کوئی بھی ان درندہ صفت اور بہائم نماانسانوں کا حکمراں ایسا نہ تھا جو ان کے قاتلانہ اقدامات پر ان کی سر کوبی کرتا یا سزاے موت مقرر کرتا ۔ معاملہ تو یہ تھا کہ حاکم و محکوم دونوں ہی اِن برائیوں میں بُری طرح جکڑے ہوئے تھے۔ عرب کے لوگ ہر طرح کی بُرائیوں اور مذموم و ناشایستہ حرکتوں کو روا سمجھتے تھے۔ ظلم و عدوان ، بغاوت و سرکشی ، بے رحمی و سنگ دلی، شقاوت و بربریت ، افعالِ رذیلہ کا ارتکاب، نسلی و نسبی تفاخر و عصبیت، اپنے مقابل دوسروں کو ذلیل و حقیر سمجھنا، معمولی معمولی باتوں پر فتنہ و فساد برپا کرنا ، پھر قبیلوں کی باہمی جنگ صدیوں تک جاری رکھنا ان کی فطرتِ ثانیہ میں داخل تھا۔ غرض درندہ خُو بہائم صفت انسانوں کا ایک ریوڑ تھا جو اَخلاق و اِخلاص ، تہذیب و تمدن تو درکنار ان کے نام سے بھی ناآشنا تھے۔ خیابانِ ہستی اجڑا پڑا تھا۔ خزاں کی چیرہ دستیوں سے گلوں کی نکہت افشانیوں اور عنادل کی نغمہ ریزیوں کی یاد تک بھی گل دستۂ طاقِ نسیاں بن چکی تھیں۔ روشیں ویران تھیں اور آب جوئیں خشک، جہاں کبھی سبزۂ نَو دمیدہ جنت نگاہ ہوا کرتا تھا وہاں خاک اُڑ رہی تھی، یاس و قنوط کی ہمہ گیر کیفیت طاری تھی کہ اچانک فاران کی چوٹیوں سے "پیغامِ حق جہاں کو سنایا رسول ﷺ نے"
اس تمہیدی گفتگو سے سمجھ میں آگیا ہوگا کہ یہی آج میری تقریر کا عنوان ہے۔
عزیزانِ گرامی قدر!! فاران کی چوٹیوں سے وحدت کی وہ گھنگور گھٹا اُٹھّی جس کا ہر قطرہ بہار آفریں اور جس کا ہر چھینٹا فردوس بداماں تھا۔ یہ گھٹا برسی اور خوب دل کھول کر برسی یہاں تک کہ گل زارِ عالم میں پھر آثارِ حیات نمودار ہونے لگے۔ انسانیت کے پژمُردہ چہرے پر شباب و قوت کی سرمستیاں ظہور پذیر ہونے لگیں۔ خودداری و عزتِ نفس اورشجاعت و ایثار کے افسردہ درختوں کی عریاں شاخوں کو از سرِ نَو خلعتِ برگ و بار عطا ہوئی ۔ قُمریوں نے عفتِ قلب و نظر کا نغمہ چھیڑا ، توہمات و عقائدِ باطلہ کے قفَس کی تیلیاں ایک ایک کرکے ٹوٹیں اور ہُماے بشریت کو توحید اور پیغامِ حق کی مقدس و مطہر رفعتوں سے پھر دعوتِ پرواز آنے لگی کہ
کیسا انسان و ہ پیدا ہوا انسانوں میں
خون توحید کا دوڑا دیا شریانوں میں
گونجا فاران سے جب نعرۂ اللہُ احد
کھلبلی مچ گئی دنیا کے صنم خانوں میں
اور
اک عرب نے آدمی کا بول بالاکردیا
خاک کے ذروں کو ہم دوشِ ثریا کردیا
اتر کر حرا سے سوے قوم آیا
وہ اک نسخۂ کیمیا ساتھ اپنے لایا
جب کائناتِ ارضی پر بسنے والے انسانوں کو جو تہذیب وتمدن سے نا آشنا تھے، رسولِ کونین ﷺ نے پیغامِ حق سنایا تو جانتے ہو کیا ہوا؟ کفر وشرک کی ظلمتیں کافور ہوگئیں ۔ جہالت و حماقت کا اندھیرا چھٹ گیا۔ درندگیت و بہمیت یکسر نیست و نابود ہوگئیں۔ ظلم و تعدی اور کبر ونخوت کی گھٹا ٹوپ تاریکیوں اور ظلمتوں کو ویران گوشوں اور عمیق غاروں کی اندھیریوں کے سوا کہیں پنا ہ نہ ملی ۔ ان عادی مجرموں کے عشرت کدوں میں صفِ ماتم بچھ گئی جو رات کے گھپ اندھیروں میں قمار بازی کا بازار گرم رکھا کرتے تھے اور جو صدیوں سے لڑ رہے تھے، وہ متحد و متفق ہو کر رشتۂ اخوت میں منسلک ہوگئے۔ بہائم صفت اور درندہ خوانسانوں کی وہ فطرت جس پر صدیوں سے جہالت مسلط تھی اور بغض و کدورت کی وحشیانہ ظلمت چھائی ہوئی تھی۔ اُن پرعدل و انصاف ، محبت و اخوت اور ایمان و صداقت کا بسیرا ہوگیا۔ خالقِ مطلق جل شانہٗ کی جانب سے مبعوث فرمودہ ہادیِ برحق، مصطفیٰ جانِ رحمت ﷺ کی منور و درخشاں کرنوں اور فروزاں فروزاں سیرت و کردار کی روشنی میں لوگ رُشد و فلاح کی راہ ڈھونڈنے لگے، وحشی و ظالم انسان نہ صرف تہذیب و اَخلاق کا پیکرِ کامل بن گئے بل کہ تمام کائنات کے لیے معلمِ اَخلاق بھی بن گئے ۔ رسولِ اکرم ﷺ کے ذریعے سنائے گئے پیغامِ حق نے ان کے اندر عظیم الشان تغیر پیدا کردیا اور وہ حیوانیت کے ریوڑسے نکل کر انسانیت کی منور و معطر شاہ راہ پر گامزن ہوگئے ۔ پیغامِ حق نے انھیں اَخلاق کی وہ تلوار عطا کردی جسے لے کر وہ جس میدان میں نکلے اسے فتح کرلیا۔ انھوں نے تمام اقوام و ملل کے قلوب و اذہان مسخر کرلیے۔اور حال یہ ہوگیا کہ انھوں نے خداوندِ قدوس کی رضا و خوش نودی حاصل کرنے کے لیے نفسیاتی خواہشات کو کچل کر رکھ دیااور اپنی جانی ومالی قربانیاں پیش کرنے لگے۔اور روز افزوں بڑھتے رہے پھلتے پھولتے رہے اور ایسا ہواکہ " رکتا نہ تھا کسی سے سیلِ رواں ہمارا۔"
ڈاکٹر محمدحسین مُشاہدؔ رضوی
اس خاکدانِ گیتی پر بسنے والے انسانوں میں کون سی برائی موجود نہ تھی ، عرب کی حالت تو اس درجہ خراب ہوچکی تھی کہ شراب پانی کی طرح استعمال ہورہی تھی۔ قمار بازی شب و روز کی تفریح تصور کی جاتی تھی۔ کبر ونخوت اورغرور و تکبر سے سر اونچا رکھنے والے انسان لڑکیوں کو زندہ در گور کرکے اپنی بہیمانہ عادتوں کا مظاہرہ کرتے تھے اور فخر ومباہات سے اپنا سر اُٹھایا بھی کرتے تھے۔ کوئی بھی ان درندہ صفت اور بہائم نماانسانوں کا حکمراں ایسا نہ تھا جو ان کے قاتلانہ اقدامات پر ان کی سر کوبی کرتا یا سزاے موت مقرر کرتا ۔ معاملہ تو یہ تھا کہ حاکم و محکوم دونوں ہی اِن برائیوں میں بُری طرح جکڑے ہوئے تھے۔ عرب کے لوگ ہر طرح کی بُرائیوں اور مذموم و ناشایستہ حرکتوں کو روا سمجھتے تھے۔ ظلم و عدوان ، بغاوت و سرکشی ، بے رحمی و سنگ دلی، شقاوت و بربریت ، افعالِ رذیلہ کا ارتکاب، نسلی و نسبی تفاخر و عصبیت، اپنے مقابل دوسروں کو ذلیل و حقیر سمجھنا، معمولی معمولی باتوں پر فتنہ و فساد برپا کرنا ، پھر قبیلوں کی باہمی جنگ صدیوں تک جاری رکھنا ان کی فطرتِ ثانیہ میں داخل تھا۔ غرض درندہ خُو بہائم صفت انسانوں کا ایک ریوڑ تھا جو اَخلاق و اِخلاص ، تہذیب و تمدن تو درکنار ان کے نام سے بھی ناآشنا تھے۔ خیابانِ ہستی اجڑا پڑا تھا۔ خزاں کی چیرہ دستیوں سے گلوں کی نکہت افشانیوں اور عنادل کی نغمہ ریزیوں کی یاد تک بھی گل دستۂ طاقِ نسیاں بن چکی تھیں۔ روشیں ویران تھیں اور آب جوئیں خشک، جہاں کبھی سبزۂ نَو دمیدہ جنت نگاہ ہوا کرتا تھا وہاں خاک اُڑ رہی تھی، یاس و قنوط کی ہمہ گیر کیفیت طاری تھی کہ اچانک فاران کی چوٹیوں سے "پیغامِ حق جہاں کو سنایا رسول ﷺ نے"
اس تمہیدی گفتگو سے سمجھ میں آگیا ہوگا کہ یہی آج میری تقریر کا عنوان ہے۔
عزیزانِ گرامی قدر!! فاران کی چوٹیوں سے وحدت کی وہ گھنگور گھٹا اُٹھّی جس کا ہر قطرہ بہار آفریں اور جس کا ہر چھینٹا فردوس بداماں تھا۔ یہ گھٹا برسی اور خوب دل کھول کر برسی یہاں تک کہ گل زارِ عالم میں پھر آثارِ حیات نمودار ہونے لگے۔ انسانیت کے پژمُردہ چہرے پر شباب و قوت کی سرمستیاں ظہور پذیر ہونے لگیں۔ خودداری و عزتِ نفس اورشجاعت و ایثار کے افسردہ درختوں کی عریاں شاخوں کو از سرِ نَو خلعتِ برگ و بار عطا ہوئی ۔ قُمریوں نے عفتِ قلب و نظر کا نغمہ چھیڑا ، توہمات و عقائدِ باطلہ کے قفَس کی تیلیاں ایک ایک کرکے ٹوٹیں اور ہُماے بشریت کو توحید اور پیغامِ حق کی مقدس و مطہر رفعتوں سے پھر دعوتِ پرواز آنے لگی کہ
کیسا انسان و ہ پیدا ہوا انسانوں میں
خون توحید کا دوڑا دیا شریانوں میں
گونجا فاران سے جب نعرۂ اللہُ احد
کھلبلی مچ گئی دنیا کے صنم خانوں میں
اور
اک عرب نے آدمی کا بول بالاکردیا
خاک کے ذروں کو ہم دوشِ ثریا کردیا
اتر کر حرا سے سوے قوم آیا
وہ اک نسخۂ کیمیا ساتھ اپنے لایا
جب کائناتِ ارضی پر بسنے والے انسانوں کو جو تہذیب وتمدن سے نا آشنا تھے، رسولِ کونین ﷺ نے پیغامِ حق سنایا تو جانتے ہو کیا ہوا؟ کفر وشرک کی ظلمتیں کافور ہوگئیں ۔ جہالت و حماقت کا اندھیرا چھٹ گیا۔ درندگیت و بہمیت یکسر نیست و نابود ہوگئیں۔ ظلم و تعدی اور کبر ونخوت کی گھٹا ٹوپ تاریکیوں اور ظلمتوں کو ویران گوشوں اور عمیق غاروں کی اندھیریوں کے سوا کہیں پنا ہ نہ ملی ۔ ان عادی مجرموں کے عشرت کدوں میں صفِ ماتم بچھ گئی جو رات کے گھپ اندھیروں میں قمار بازی کا بازار گرم رکھا کرتے تھے اور جو صدیوں سے لڑ رہے تھے، وہ متحد و متفق ہو کر رشتۂ اخوت میں منسلک ہوگئے۔ بہائم صفت اور درندہ خوانسانوں کی وہ فطرت جس پر صدیوں سے جہالت مسلط تھی اور بغض و کدورت کی وحشیانہ ظلمت چھائی ہوئی تھی۔ اُن پرعدل و انصاف ، محبت و اخوت اور ایمان و صداقت کا بسیرا ہوگیا۔ خالقِ مطلق جل شانہٗ کی جانب سے مبعوث فرمودہ ہادیِ برحق، مصطفیٰ جانِ رحمت ﷺ کی منور و درخشاں کرنوں اور فروزاں فروزاں سیرت و کردار کی روشنی میں لوگ رُشد و فلاح کی راہ ڈھونڈنے لگے، وحشی و ظالم انسان نہ صرف تہذیب و اَخلاق کا پیکرِ کامل بن گئے بل کہ تمام کائنات کے لیے معلمِ اَخلاق بھی بن گئے ۔ رسولِ اکرم ﷺ کے ذریعے سنائے گئے پیغامِ حق نے ان کے اندر عظیم الشان تغیر پیدا کردیا اور وہ حیوانیت کے ریوڑسے نکل کر انسانیت کی منور و معطر شاہ راہ پر گامزن ہوگئے ۔ پیغامِ حق نے انھیں اَخلاق کی وہ تلوار عطا کردی جسے لے کر وہ جس میدان میں نکلے اسے فتح کرلیا۔ انھوں نے تمام اقوام و ملل کے قلوب و اذہان مسخر کرلیے۔اور حال یہ ہوگیا کہ انھوں نے خداوندِ قدوس کی رضا و خوش نودی حاصل کرنے کے لیے نفسیاتی خواہشات کو کچل کر رکھ دیااور اپنی جانی ومالی قربانیاں پیش کرنے لگے۔اور روز افزوں بڑھتے رہے پھلتے پھولتے رہے اور ایسا ہواکہ " رکتا نہ تھا کسی سے سیلِ رواں ہمارا۔"
محترم حضرات!! یہ ہمہ گیر ، آفاقی ، متنوع اور ہمہ جہت انقلابی تغیرات کیوں اور کیسے ہوئے محض مصطفیٰ جانِ رحمت ﷺ کی سادگی، اَخلاقِ حسنہ، پیغامِ حق اور پاکیزہ تعلیمات کی وجہ سے ہوئے آپ نے اس انداز سے انسانوں کو انسانیت کادرس دیا کہ لوگ پکار اٹھے کہ
طیبہ کے تاجدار نے دی زندگی نئی
وہ آئے اور پھیل گئی روشنی نئی
قرآن میں حیات کا وہ فلسفہ دیا
جس کے سبب جہاں کو ملی زندگی نئی
ہم کو دیا نبی نے مساوات کا سبق
انسان کے شعور کو دی زندگی نئی
اَخلاق اور صدق کا جذبہ عطا کیا
بخشا اصولِ امن نیا آشتی نئی
خُلقِ نبی سے ہم کو ملا درسِ نظم و ضبط
انسان دوستی کی ملی چاشنی نئی
کردارِ مصطفیٰ نے سکھایا ہمیں یہی
اوروں کے کام آؤ ملے گی خوشی نئی
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2168164923322683&id=100003875890529
طیبہ کے تاجدار نے دی زندگی نئی
وہ آئے اور پھیل گئی روشنی نئی
قرآن میں حیات کا وہ فلسفہ دیا
جس کے سبب جہاں کو ملی زندگی نئی
ہم کو دیا نبی نے مساوات کا سبق
انسان کے شعور کو دی زندگی نئی
اَخلاق اور صدق کا جذبہ عطا کیا
بخشا اصولِ امن نیا آشتی نئی
خُلقِ نبی سے ہم کو ملا درسِ نظم و ضبط
انسان دوستی کی ملی چاشنی نئی
کردارِ مصطفیٰ نے سکھایا ہمیں یہی
اوروں کے کام آؤ ملے گی خوشی نئی
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2168164923322683&id=100003875890529
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
{حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پسینہ مبارک اور جسم اقدس کے خوشبو دار ہونے کا بیان}
23 /1. عَنْ أَنَسٍ رضی الله عنه قَالَ:
عَنْ أَنَسٍ رضی الله عنه قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ ﷲِ صلی الله عليه واله وسلم أَزْهَرَ اللَّوْنِ، کَأَنَّ عَرَقَهُ اللُّؤْلُؤُ…وَلَا شَمِمْتُ مِسْکَةً وَلَا عَنْبَرَةً أَطْيَبَ مِنْ رَائِحَةِ رَسُوْلِ ﷲِ صلی الله عليه واله وسلم . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ وَاللَّفْظُ لِمُسْلِمٍ.
وفي رواية عنه للبخاري: قَالَ: وَلَا شَمِمْتُ مِسْکَةً وَلَا عَبِيْرَةً أَطْيَبَ رَائِحَةً مِنْ رَائِحَةِ رَسُوْلِ ﷲِ صلی الله عليه واله وسلم .
1: أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب المناقب، باب صفة النبي صلی الله عليه واله وسلم ، 3 /1306، الرقم: 3368، وأيضًا في کتاب الصوم، باب ما يذکر من صوم النبي وإفطاره صلی الله عليه واله وسلم ، 2 /696، الرقم: 1872، ومسلم في الصحيح، کتاب الفضائل، باب طيب رائحة النبي صلی الله عليه واله وسلم ولين مسه والتبرک بمسحه، 4 /1814، 1815، الرقم: 2330، والترمذي في السنن، کتاب البر والصلة، باب ما جاء في خلق النبي صلی الله عليه واله وسلم ، 4 /368، الرقم: 2015، وأحمد بن حنبل في المسند، 3 /107، 200، الرقم: 12067.
’’حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا رنگ مبارک سفید چمکدار تھا، آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے پسینہ مبارک کے قطرے موتیوں کی طرح چمکتے تھے، میں نے کسی مشک یا عنبر کو آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم (کے پسینہ مبارک کی خوشبو) سے زیادہ خوشبو دار نہیں پایا۔‘‘
یہ حدیث متفق علیہ ہے اور مذکورہ الفاظ مسلم کے ہیں۔
’’اور بخاری کی ایک روایت میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے وہ بیان کرتے ہیں: میں نے کسی ایسی مشک اور خوشبوؤں کے کسی مرکب کو نہیں سونگھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم (کے جسم) کی خوشبو سے بڑھ کر ہو۔‘‘
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2169054859900356&id=100003875890529
23 /1. عَنْ أَنَسٍ رضی الله عنه قَالَ:
عَنْ أَنَسٍ رضی الله عنه قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ ﷲِ صلی الله عليه واله وسلم أَزْهَرَ اللَّوْنِ، کَأَنَّ عَرَقَهُ اللُّؤْلُؤُ…وَلَا شَمِمْتُ مِسْکَةً وَلَا عَنْبَرَةً أَطْيَبَ مِنْ رَائِحَةِ رَسُوْلِ ﷲِ صلی الله عليه واله وسلم . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ وَاللَّفْظُ لِمُسْلِمٍ.
وفي رواية عنه للبخاري: قَالَ: وَلَا شَمِمْتُ مِسْکَةً وَلَا عَبِيْرَةً أَطْيَبَ رَائِحَةً مِنْ رَائِحَةِ رَسُوْلِ ﷲِ صلی الله عليه واله وسلم .
1: أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب المناقب، باب صفة النبي صلی الله عليه واله وسلم ، 3 /1306، الرقم: 3368، وأيضًا في کتاب الصوم، باب ما يذکر من صوم النبي وإفطاره صلی الله عليه واله وسلم ، 2 /696، الرقم: 1872، ومسلم في الصحيح، کتاب الفضائل، باب طيب رائحة النبي صلی الله عليه واله وسلم ولين مسه والتبرک بمسحه، 4 /1814، 1815، الرقم: 2330، والترمذي في السنن، کتاب البر والصلة، باب ما جاء في خلق النبي صلی الله عليه واله وسلم ، 4 /368، الرقم: 2015، وأحمد بن حنبل في المسند، 3 /107، 200، الرقم: 12067.
’’حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا رنگ مبارک سفید چمکدار تھا، آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے پسینہ مبارک کے قطرے موتیوں کی طرح چمکتے تھے، میں نے کسی مشک یا عنبر کو آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم (کے پسینہ مبارک کی خوشبو) سے زیادہ خوشبو دار نہیں پایا۔‘‘
یہ حدیث متفق علیہ ہے اور مذکورہ الفاظ مسلم کے ہیں۔
’’اور بخاری کی ایک روایت میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے وہ بیان کرتے ہیں: میں نے کسی ایسی مشک اور خوشبوؤں کے کسی مرکب کو نہیں سونگھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم (کے جسم) کی خوشبو سے بڑھ کر ہو۔‘‘
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2169054859900356&id=100003875890529
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
رسولِ رحمت ﷺ کا سیاسی تدبّر
ڈاکٹر محمد حسین مُشاہد رضوی
اسلام نظامِ محکم ہے ہر دور کی خاطر عام بھی ہے
اس قصرِ مُشَیَّد میں آؤ یہ عام بھی ہے اور تام بھی ہے
آزاد روی میں فکر و غم افسوس ہے لیکن کچھ بھی نہیں
پابندیِ حق میں تلخی ہے تکلیف بھی آرام بھی ہے
(بدرالقادری مصباحی)
سرورکائنات ﷺ نے اس خاکدانِ گیتی پر جلوہ فرما ہوکر سسکتی بلکتی انسانیت کو اطمینان و سکون کی دولت نصیب فرمائی۔ کوہ کنوں کو پرویز کامقام دیا ۔ زیر دستوں کو زبردستوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالنے کی قوت و توانائی بخشی۔ اونٹوں کے چرواہوں کو اقوام و ملل کا امام بنادیا۔ بالکل قلیل عرصے میں طویل خطۂ ارضی کو اسلام کے زیرِ اثر کرلیا اور دنیا کے بیش تر ممالک میں اسلام کا پرچم پوری آب و تاب اور شان و شوکت سے لہرانےلگا ۔ آپ یہ نہ سمجھیں کہ یہ اسلام کی عسکری قوت اور شمشیرو سناں کے زور پر ہوا۔ نہیں نہیں ! بل کہ یہ تو درحقیقت سرورِ کائنات ﷺ کے اعلیٰ ترین اَخلاق و کردار کے ساتھ ساتھ آقا ﷺ کے سیاسی حکمت و تدبّر کا ثمرہ تھا۔
مصطفیٰ جانِ رحمت ﷺ کی سیرتِ طیبہ میں ایسی واضح مثالیںموجود ہیں ، جو آپ ﷺ کے کمال درجہ سیاسی تدبّر و ذکاوت پر دلالت کرتی ہیں اور جن کی روشنی میں بلا تردد کہہ سکتے ہیں کہ کس قدر دانش مندی اور دوراندیشی سے آپﷺ روزمرہ میں وقوع پذیر ہونے والے مسائل کو حل فرمادیا کرتے تھے۔ اختلافِ آرا کو دور فرمادیتے تھے معاہدے کرتے اور نبھاتے بھی تھے۔ آپﷺ کی زیرکی اور دانائی کا یہ نتیجہ تھا کہ ظاہری و باطنی مصلحتیں حاصل ہوجاتی تھیں اور جس کے سبب نفع و فائدہ مل جاتا، بُرائی دور ہوجاتی ، ذرائع کا بندوبست ہوجاتا اور ہر کام اپنی اپنی جگہ پر مناسب انداز سے انجام پاجا تا۔دنیاوی معاملات میں بھی آپ ﷺ کو ایسی کامیابی عطا ہوتی تھی کہ جو پہلے کسی کو نہیں ملی۔ اور یہ کامیابی ایسی بے نظیر تھی کہ امورِ دنیا کے انجام دینے کے باوجود آپ ﷺ کی عبادت گزاری ، زہد و تقویٰ اور نیکی میں کوئی تبدیلی واقع نہ ہوئی۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ آقاے کائناتﷺ کی پاکیزہ زندگی میں ہمارے لیے عظیم رہنمائی موجود ہے، جو انھوں نے قولاًنہیں بل کہ عملاً ہمیں کرکے دکھائی، اور ایسے واضح اور رہنما اصولِ ہدایت دے گئے جن کو اپنا نا حکامِ زمانہ اور اربابانِ سیاست کے لیے از بس ضروری ہے۔
جب آقاے کائنات ﷺ مدینۂ منورہ میں تشریف لائے تو آپﷺ کو انتہائی پیچیدہ صورتِ حال کا سامنا تھا۔ مگر آپ نے بہ کمالِ حکمت و دانش حُسنِ تدبیر سے موقع ومحل کو سمجھا اور پوری صورتِ حال کو بہتر طور پر قابو میں کرلیا ۔ بلا شبہ یہ آپﷺ کی اعلیٰ ترین سیاسی حکمت و تدبر کی بین دلیل ہے یہ آپﷺ کی راست سیاست کا نتیجہ تھا کہ جب آپﷺ نے مدینۂ منورہ میں لوگوں میں ان کےاختلافِ عقائد کے سبب عدم محبت و اُنس کو دیکھا توآپ ﷺ نے اپنے نظام میں ایسے قوانین کا اِجرا فرمایا جن کے تحت لوگوں کے حقوق کا تحفظ ، عقیدے کی آزادی ، جان و مال اور عزت و آبرو کی حفاظت کا مقصد حاصل ہوجاتا تھا۔
یہ سرورِ کائنات ﷺ کی سیاسی بصیرت و حکمت ہی تھی کہ مدینۂ منورہ کی تمام قوتیں یکے بعد دیگرے آپ ﷺ کے قدومِ ناز میں آلگیں۔ آپ نے جتنے بھی معاہدات کیے ہر ایک میں آپ کو مکمل کامیابی و کامرانی ہوئی کیوں کہ معاہدے کا تقاضہ ہی یہی ہوتا ہے کہ اختلاف کی صورت میں فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہو۔ یہی وہ وقت تھا جب اسلامی حکومت کی بنیاد کا پتھر رکھ دیا گیا۔حضور رحمتِ عالم ﷺ کی سیاسی بصیرت کا ایک ایمان افروز واقعہ ہے کہ غزوۂ بنی مصطلق کے موقع پر ایک دن پانی لینے پر ایک مہاجر اور ایک انصاری میں کچھ تکرار ہوگئی مہاجر نے بلند آواز سے کہا: " یاللمہاجرین " ( اے مہاجرو! فریاد ہے) اور انصاری نے کہا: " یاللانصار" ( اے انصاریو ! فریاد ہے)کا نعرہ مارا یہ نعرہ سنتے ہی انصار و مہاجر دوڑ پڑے اور اس قدر بات بڑھ گئی کہ آپس میں جنگ و جدل کی نوبت آگئی رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی کو شرارت کا ایک موقع مل گیا اس نے اشتعال دلانے کےلیے انصاریوں سے کہا کہ :" یہ تو وہی مثل ہوئی کہ تم اپنے کتّے کو فربہ کرو تاکہ وہ تمہیں کھاڈالے۔" جب عبداللہ بن ابی منافق کی یہ بے ہودہ باتیں حضرت سیدنا عمر فارقِ اعظم رضی اللہ عنہ کے کانوں میں پڑی تو آپ نے حضور ﷺ سے عرض کیا :"یارسول اللہ! کسی کو حکم دیں کہ ابن ابی کو قتل کردے۔" مگر اس کے جواب میں حکیم دانا ، رحمتِ عالم ﷺ نے حکمت و تدبّر سے فرمایا کہ:" اے عمر! یہ بات کیسی ہوگی کہ لوگ کہیں گے کہ محمد (ﷺ) اپنے ساتھیوں کو بھی قتل کرنے لگے ہیں، یہ سن کرحضرت عمر رضی اللہ عنہ خاموش ہوگئے ، ابن ابی جتنا اسلام اور بانی اسلام ﷺ کادشمن تھا اس سے کہیںزیادہ اس کے بیٹے جن کا نام بھی عبداللہ تھا سرورِ کائنات ﷺ کے عاشق و شیدائی اور جاں نثار صحابی تھے۔ جب انھیں اپنے باپ کی بکواس کی خبر لگی تو بارگاہِ رسالت مآب ﷺ میںآکر عرض کی کہ :"یارسول اللہ! اگر میرے باپ کا قتل کرنا آپ کو پسند ہے تو آپ مجھے
ڈاکٹر محمد حسین مُشاہد رضوی
اسلام نظامِ محکم ہے ہر دور کی خاطر عام بھی ہے
اس قصرِ مُشَیَّد میں آؤ یہ عام بھی ہے اور تام بھی ہے
آزاد روی میں فکر و غم افسوس ہے لیکن کچھ بھی نہیں
پابندیِ حق میں تلخی ہے تکلیف بھی آرام بھی ہے
(بدرالقادری مصباحی)
سرورکائنات ﷺ نے اس خاکدانِ گیتی پر جلوہ فرما ہوکر سسکتی بلکتی انسانیت کو اطمینان و سکون کی دولت نصیب فرمائی۔ کوہ کنوں کو پرویز کامقام دیا ۔ زیر دستوں کو زبردستوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالنے کی قوت و توانائی بخشی۔ اونٹوں کے چرواہوں کو اقوام و ملل کا امام بنادیا۔ بالکل قلیل عرصے میں طویل خطۂ ارضی کو اسلام کے زیرِ اثر کرلیا اور دنیا کے بیش تر ممالک میں اسلام کا پرچم پوری آب و تاب اور شان و شوکت سے لہرانےلگا ۔ آپ یہ نہ سمجھیں کہ یہ اسلام کی عسکری قوت اور شمشیرو سناں کے زور پر ہوا۔ نہیں نہیں ! بل کہ یہ تو درحقیقت سرورِ کائنات ﷺ کے اعلیٰ ترین اَخلاق و کردار کے ساتھ ساتھ آقا ﷺ کے سیاسی حکمت و تدبّر کا ثمرہ تھا۔
مصطفیٰ جانِ رحمت ﷺ کی سیرتِ طیبہ میں ایسی واضح مثالیںموجود ہیں ، جو آپ ﷺ کے کمال درجہ سیاسی تدبّر و ذکاوت پر دلالت کرتی ہیں اور جن کی روشنی میں بلا تردد کہہ سکتے ہیں کہ کس قدر دانش مندی اور دوراندیشی سے آپﷺ روزمرہ میں وقوع پذیر ہونے والے مسائل کو حل فرمادیا کرتے تھے۔ اختلافِ آرا کو دور فرمادیتے تھے معاہدے کرتے اور نبھاتے بھی تھے۔ آپﷺ کی زیرکی اور دانائی کا یہ نتیجہ تھا کہ ظاہری و باطنی مصلحتیں حاصل ہوجاتی تھیں اور جس کے سبب نفع و فائدہ مل جاتا، بُرائی دور ہوجاتی ، ذرائع کا بندوبست ہوجاتا اور ہر کام اپنی اپنی جگہ پر مناسب انداز سے انجام پاجا تا۔دنیاوی معاملات میں بھی آپ ﷺ کو ایسی کامیابی عطا ہوتی تھی کہ جو پہلے کسی کو نہیں ملی۔ اور یہ کامیابی ایسی بے نظیر تھی کہ امورِ دنیا کے انجام دینے کے باوجود آپ ﷺ کی عبادت گزاری ، زہد و تقویٰ اور نیکی میں کوئی تبدیلی واقع نہ ہوئی۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ آقاے کائناتﷺ کی پاکیزہ زندگی میں ہمارے لیے عظیم رہنمائی موجود ہے، جو انھوں نے قولاًنہیں بل کہ عملاً ہمیں کرکے دکھائی، اور ایسے واضح اور رہنما اصولِ ہدایت دے گئے جن کو اپنا نا حکامِ زمانہ اور اربابانِ سیاست کے لیے از بس ضروری ہے۔
جب آقاے کائنات ﷺ مدینۂ منورہ میں تشریف لائے تو آپﷺ کو انتہائی پیچیدہ صورتِ حال کا سامنا تھا۔ مگر آپ نے بہ کمالِ حکمت و دانش حُسنِ تدبیر سے موقع ومحل کو سمجھا اور پوری صورتِ حال کو بہتر طور پر قابو میں کرلیا ۔ بلا شبہ یہ آپﷺ کی اعلیٰ ترین سیاسی حکمت و تدبر کی بین دلیل ہے یہ آپﷺ کی راست سیاست کا نتیجہ تھا کہ جب آپﷺ نے مدینۂ منورہ میں لوگوں میں ان کےاختلافِ عقائد کے سبب عدم محبت و اُنس کو دیکھا توآپ ﷺ نے اپنے نظام میں ایسے قوانین کا اِجرا فرمایا جن کے تحت لوگوں کے حقوق کا تحفظ ، عقیدے کی آزادی ، جان و مال اور عزت و آبرو کی حفاظت کا مقصد حاصل ہوجاتا تھا۔
یہ سرورِ کائنات ﷺ کی سیاسی بصیرت و حکمت ہی تھی کہ مدینۂ منورہ کی تمام قوتیں یکے بعد دیگرے آپ ﷺ کے قدومِ ناز میں آلگیں۔ آپ نے جتنے بھی معاہدات کیے ہر ایک میں آپ کو مکمل کامیابی و کامرانی ہوئی کیوں کہ معاہدے کا تقاضہ ہی یہی ہوتا ہے کہ اختلاف کی صورت میں فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہو۔ یہی وہ وقت تھا جب اسلامی حکومت کی بنیاد کا پتھر رکھ دیا گیا۔حضور رحمتِ عالم ﷺ کی سیاسی بصیرت کا ایک ایمان افروز واقعہ ہے کہ غزوۂ بنی مصطلق کے موقع پر ایک دن پانی لینے پر ایک مہاجر اور ایک انصاری میں کچھ تکرار ہوگئی مہاجر نے بلند آواز سے کہا: " یاللمہاجرین " ( اے مہاجرو! فریاد ہے) اور انصاری نے کہا: " یاللانصار" ( اے انصاریو ! فریاد ہے)کا نعرہ مارا یہ نعرہ سنتے ہی انصار و مہاجر دوڑ پڑے اور اس قدر بات بڑھ گئی کہ آپس میں جنگ و جدل کی نوبت آگئی رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی کو شرارت کا ایک موقع مل گیا اس نے اشتعال دلانے کےلیے انصاریوں سے کہا کہ :" یہ تو وہی مثل ہوئی کہ تم اپنے کتّے کو فربہ کرو تاکہ وہ تمہیں کھاڈالے۔" جب عبداللہ بن ابی منافق کی یہ بے ہودہ باتیں حضرت سیدنا عمر فارقِ اعظم رضی اللہ عنہ کے کانوں میں پڑی تو آپ نے حضور ﷺ سے عرض کیا :"یارسول اللہ! کسی کو حکم دیں کہ ابن ابی کو قتل کردے۔" مگر اس کے جواب میں حکیم دانا ، رحمتِ عالم ﷺ نے حکمت و تدبّر سے فرمایا کہ:" اے عمر! یہ بات کیسی ہوگی کہ لوگ کہیں گے کہ محمد (ﷺ) اپنے ساتھیوں کو بھی قتل کرنے لگے ہیں، یہ سن کرحضرت عمر رضی اللہ عنہ خاموش ہوگئے ، ابن ابی جتنا اسلام اور بانی اسلام ﷺ کادشمن تھا اس سے کہیںزیادہ اس کے بیٹے جن کا نام بھی عبداللہ تھا سرورِ کائنات ﷺ کے عاشق و شیدائی اور جاں نثار صحابی تھے۔ جب انھیں اپنے باپ کی بکواس کی خبر لگی تو بارگاہِ رسالت مآب ﷺ میںآکر عرض کی کہ :"یارسول اللہ! اگر میرے باپ کا قتل کرنا آپ کو پسند ہے تو آپ مجھے
حکم دیں کہ میں خود ہی اپنے باپ کا سر کاٹ کر آپ کے قدموں میں ڈال دوں۔" رؤف و رحیم ﷺ نے جواب دیا :" نہیں اے عبداللہ! بل کہ اپنے والد کے ساتھ نرمی کرو ، مَیں کبھی تمہارے باپ کے ساتھ بُرا سلوک نہیں کروں گا۔"آپ ﷺ کے اس سیاسی تدبّر اور حکمتِ عملی کا اس قدر دوررس اثر پڑا کہ بعد میں جب کبھی ابن ابی کوئی شرارت کرتا تو لوگ سرورِ کائناتﷺ کا یہ قول اُسے یاد دلادیتے۔
اسی طرح سرورِ کائنات ﷺ کی بالغ نظری کا بڑا ثبوت صلح حدیبیہ کی شرائط بھی ہیں جو بہ ظاہر مسلمانوں کو ذلت آمیز دکھائی دیں ، مگر کچھ عرصہ گذرا تو مسلمانوں کو معلوم ہوگیا کہ ہادیِ برحق ﷺ کی نظر کس قدر بالغ اور تیز تھی کہ مسلمانوں کو صلح حدیبیہ کے نتائج نے تسلی و تشفی کرادی ۔ صلح حدیبیہ کا نتیجہ یہ تھاکہ مکۂ مکرمہ کے کمزور نہتے مسلمانوں کا تحفظ ہوگیا ۔ کفار کے مسلمانوں سے ملنے جلنے ، ان کے مدینۂ منورہ آنے جانے، اقوالِ رسول ﷺ سننے کا عظیم ترین فائدہ یہ بھی ہوا کہ وہ مسلمان ہونے لگے جن باتوں کو مسلمانوں نے ذلت سمجھا وہ ان کے لیے عزت و وقار ، قوت و طاقت اور باعثِ نصرت بنیں ، اوراللہ رب العزت جل شانہٗ نے مشرکین کو ہر اُس کام میں ذلیل و رسوا کیا جس سے وہ عزت و قوت کے خواہاں تھے اور جہاں انھوں نے غلبہ پایا وہاں مغلوب ہوئے۔ یہ سب سرورِ کائنات داناے حکمت ﷺ کے سیاسی حکمت و تدبّر کا نتیجہ تھا ۔
آج ساری دنیا میں گندی سیاست کا دور دورہ ہے اس کی لپیٹ میں وہ ممالک بھی ہیں جنھیں اپنے اسلامی ملک ہونے کا دعویٰ ہے ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ آج کے اربابانِ سیاست اور حکامِ زمانہ سرورِ کائنات ، حکیم دانا، ہادیِ برحق ﷺ کے اعلیٰ ترین و زرین اصولِ سیاست کو اپنا کر آگے بڑھیں اور اپنا فاسد اور فرسودہ طریقۂ سیاست ختم کریں کہ اس میں دنیوی فلاح و بہبود کے ساتھ ساتھ اُخروی نجات کا راز بھی پوشیدہ ہے۔
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2169055146566994&id=100003875890529
اسی طرح سرورِ کائنات ﷺ کی بالغ نظری کا بڑا ثبوت صلح حدیبیہ کی شرائط بھی ہیں جو بہ ظاہر مسلمانوں کو ذلت آمیز دکھائی دیں ، مگر کچھ عرصہ گذرا تو مسلمانوں کو معلوم ہوگیا کہ ہادیِ برحق ﷺ کی نظر کس قدر بالغ اور تیز تھی کہ مسلمانوں کو صلح حدیبیہ کے نتائج نے تسلی و تشفی کرادی ۔ صلح حدیبیہ کا نتیجہ یہ تھاکہ مکۂ مکرمہ کے کمزور نہتے مسلمانوں کا تحفظ ہوگیا ۔ کفار کے مسلمانوں سے ملنے جلنے ، ان کے مدینۂ منورہ آنے جانے، اقوالِ رسول ﷺ سننے کا عظیم ترین فائدہ یہ بھی ہوا کہ وہ مسلمان ہونے لگے جن باتوں کو مسلمانوں نے ذلت سمجھا وہ ان کے لیے عزت و وقار ، قوت و طاقت اور باعثِ نصرت بنیں ، اوراللہ رب العزت جل شانہٗ نے مشرکین کو ہر اُس کام میں ذلیل و رسوا کیا جس سے وہ عزت و قوت کے خواہاں تھے اور جہاں انھوں نے غلبہ پایا وہاں مغلوب ہوئے۔ یہ سب سرورِ کائنات داناے حکمت ﷺ کے سیاسی حکمت و تدبّر کا نتیجہ تھا ۔
آج ساری دنیا میں گندی سیاست کا دور دورہ ہے اس کی لپیٹ میں وہ ممالک بھی ہیں جنھیں اپنے اسلامی ملک ہونے کا دعویٰ ہے ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ آج کے اربابانِ سیاست اور حکامِ زمانہ سرورِ کائنات ، حکیم دانا، ہادیِ برحق ﷺ کے اعلیٰ ترین و زرین اصولِ سیاست کو اپنا کر آگے بڑھیں اور اپنا فاسد اور فرسودہ طریقۂ سیاست ختم کریں کہ اس میں دنیوی فلاح و بہبود کے ساتھ ساتھ اُخروی نجات کا راز بھی پوشیدہ ہے۔
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2169055146566994&id=100003875890529
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
یہ غیرت ایمانی کا امتحان ہے !
”میں تو جب کبھی سوچتا ہوں، شرم و ندامت سے میری گردن جھک جاتی ہے کہ کیا ہم مسلمان آج اس قابل ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم پر فخر کریں؟ ہاں جب ہم اس نور کو اپنے دلوں میں زندہ کر لیں گے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم میں داخل کیا تھا تو اس وقت اس قابل ہو سکیں گے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم پر فخر کریں۔ “
حضرت علامہ محمد اقبال نے ان خیالات کا اظہار 82 سال قبل 4 دسمبر1931ء کو معتمر عالم اسلامی کے بیت المقدس میں منعقدہ اجلاس کے دوران کیا تھا۔ اتناعرصہ گزر جانے کے باوجود آج ہم اپنے گریبان میں جھانکیں تو بھی سوائے ندامت کے کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ ہماری اس کج روی کے باعث ہی اغیار کو یہ جرات ہو رہی ہے کہ وہ ہمارے آقا و مولیٰ اورسرور کائنات حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان میں گستاخیوں کا تسلسل سے ارتکاب کر رہے ہیں۔
اور ہمارے غلام اور بے غیرت ارباب اقتدار و اختیار اقرار جرم کے باوجود عزت و حرمت ناموس رسالت کے ایسے دشمنوں کو بری الذمہ قرار دے کر رہائی دے رہے ہیں۔ کیا یہ ہماری غیرت ایمانی کا امتحان نہیں ؟
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2169863643152811&id=100003875890529
”میں تو جب کبھی سوچتا ہوں، شرم و ندامت سے میری گردن جھک جاتی ہے کہ کیا ہم مسلمان آج اس قابل ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم پر فخر کریں؟ ہاں جب ہم اس نور کو اپنے دلوں میں زندہ کر لیں گے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم میں داخل کیا تھا تو اس وقت اس قابل ہو سکیں گے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم پر فخر کریں۔ “
حضرت علامہ محمد اقبال نے ان خیالات کا اظہار 82 سال قبل 4 دسمبر1931ء کو معتمر عالم اسلامی کے بیت المقدس میں منعقدہ اجلاس کے دوران کیا تھا۔ اتناعرصہ گزر جانے کے باوجود آج ہم اپنے گریبان میں جھانکیں تو بھی سوائے ندامت کے کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ ہماری اس کج روی کے باعث ہی اغیار کو یہ جرات ہو رہی ہے کہ وہ ہمارے آقا و مولیٰ اورسرور کائنات حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان میں گستاخیوں کا تسلسل سے ارتکاب کر رہے ہیں۔
اور ہمارے غلام اور بے غیرت ارباب اقتدار و اختیار اقرار جرم کے باوجود عزت و حرمت ناموس رسالت کے ایسے دشمنوں کو بری الذمہ قرار دے کر رہائی دے رہے ہیں۔ کیا یہ ہماری غیرت ایمانی کا امتحان نہیں ؟
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2169863643152811&id=100003875890529
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
ہماری خاک میں باقی ہیں کچھ شرر اب بھی
ہمارے سنی ماحول میں جلسوں اور جلوسوں کی تو کمی نہیں مگر وہ بامقصد نشستیں جو مسلمانوں کے چبھتے ہوئے مسائل کو ابھاریں اور ان پر تحقیق و تدقیق کے ذریعے لائحۂ عمل کا تعین کریں شاذ و نادر ہی ہوتی ہیں۔ یہ کام اکثر کچھ دوسروں ہی کا حصہ تصور کرلیا گیا ہے۔ بیدار مغز اور روشن دماغ مفکرین کی ہم میں بھی کمی نہیں ہے مگر ان کی صلاحیتیں ابھرنے کو مواقع کم ہی پاتی ہیں۔ بہت کوششیں ہوئیں تو کبھی چراغِ سحری کی طرح بھڑکے اور پھر ہمیشہ کے لیے خاموش ہوگئے حال آں کہ ہر جدید سوال کا جواب فراہم کرنا اور اس سلسلہ میں اہتمام کرنا ہم اہل سنت سوادِ اعظم ہی کی ذمہ داریوں میں سے ہے :
اگر ہوں اہلِ نظر آئے کچھ نظر اب بھی
ہماری خاک میں باقی ہیں کچھ شرر اب بھی
عرب کے مالی نے سینچا لہو سے، دیر ہوئی
پنپتے رہتے ہیں گلشن میں دیدہ ور اب بھی
... علامہ بدرالقادری مصباحی علیہ الرحمۃ
جادہ و منزل: ص 520
مطبوعہ المجمع الاسلامی، مبارک پور 1991ء
انتخاب : مشاہد رضوی بلاگر ٹیم
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2171070576365451&id=100003875890529
ہمارے سنی ماحول میں جلسوں اور جلوسوں کی تو کمی نہیں مگر وہ بامقصد نشستیں جو مسلمانوں کے چبھتے ہوئے مسائل کو ابھاریں اور ان پر تحقیق و تدقیق کے ذریعے لائحۂ عمل کا تعین کریں شاذ و نادر ہی ہوتی ہیں۔ یہ کام اکثر کچھ دوسروں ہی کا حصہ تصور کرلیا گیا ہے۔ بیدار مغز اور روشن دماغ مفکرین کی ہم میں بھی کمی نہیں ہے مگر ان کی صلاحیتیں ابھرنے کو مواقع کم ہی پاتی ہیں۔ بہت کوششیں ہوئیں تو کبھی چراغِ سحری کی طرح بھڑکے اور پھر ہمیشہ کے لیے خاموش ہوگئے حال آں کہ ہر جدید سوال کا جواب فراہم کرنا اور اس سلسلہ میں اہتمام کرنا ہم اہل سنت سوادِ اعظم ہی کی ذمہ داریوں میں سے ہے :
اگر ہوں اہلِ نظر آئے کچھ نظر اب بھی
ہماری خاک میں باقی ہیں کچھ شرر اب بھی
عرب کے مالی نے سینچا لہو سے، دیر ہوئی
پنپتے رہتے ہیں گلشن میں دیدہ ور اب بھی
... علامہ بدرالقادری مصباحی علیہ الرحمۃ
جادہ و منزل: ص 520
مطبوعہ المجمع الاسلامی، مبارک پور 1991ء
انتخاب : مشاہد رضوی بلاگر ٹیم
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2171070576365451&id=100003875890529
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
"ایک میں کیا مرے عصیاں کی حقیقت کتنی"
عرض نمودہ: ڈاکٹر محمد حسین مشاہد رضوی
(امامِ نعت گویاں امام احمد رضا قادری برکاتی بریلوی کے ایک مصرعِ اولیٰ پر طبع آزمائی)
ہو بیاں کیسے کہ طیبہ کی ہے عظمت کتنی
جس پہ قربان ہیں ، مت پوچھیے جنت کتنی
ارضِ طیبہ پہ شہ دیں کے پڑے جب سے قدم
دور آزار ہوئے بڑھ گئی فرحت کتنی
دشمنِ جاں کو دعاﺅں سے نوازا ہردم
ہے مثالی مرے سرکار کی سیرت کتنی
جس میں روشن ہے شہِ دیں کی محبت کا چراغ
کتنا آرام ہے اُس دل کو ہے راحت کتنی
سارے نبیوں نے نوید اُن کی سنائی لوگو!
ہر زمانے میں رہی آپ کی شہرت کتنی
جب کہ قرآں میں رفعنا ہے خدا کا کہنا
رب ہی جانے کہ ہے سرکار کی رفعت کتنی
شاہِ کونین پہ اللّٰہ بھی پڑھتا ہے دُرود
سوچیے سوچیے ہے آپ کی عزت کتنی
تنِ تنہا ہیں حضور آپ ہی شفیعِ اُمّت
"ایک میں کیا مرے عصیاں کی حقیقت کتنی"
ایک ہی پیالے میں ستر کو شکم سیر کیا
رب نے بخشی ہے شہِ دین کو قدرت کتنی
ماجرا دعوتِ جابر کا ذرا یاد کریں
رحمت افزا تھی مرے آقا کی برکت کتنی
نعت لکھنا ہے مُشاہد کا وظیفہ جب سے
میں بتا سکتا نہیں رب کی ہے رحمت کتنی
24 شوال المکرم 1438ء
19 جولائی 2017ء بعد عصر
عرض نمودہ: ڈاکٹر محمد حسین مشاہد رضوی
(امامِ نعت گویاں امام احمد رضا قادری برکاتی بریلوی کے ایک مصرعِ اولیٰ پر طبع آزمائی)
ہو بیاں کیسے کہ طیبہ کی ہے عظمت کتنی
جس پہ قربان ہیں ، مت پوچھیے جنت کتنی
ارضِ طیبہ پہ شہ دیں کے پڑے جب سے قدم
دور آزار ہوئے بڑھ گئی فرحت کتنی
دشمنِ جاں کو دعاﺅں سے نوازا ہردم
ہے مثالی مرے سرکار کی سیرت کتنی
جس میں روشن ہے شہِ دیں کی محبت کا چراغ
کتنا آرام ہے اُس دل کو ہے راحت کتنی
سارے نبیوں نے نوید اُن کی سنائی لوگو!
ہر زمانے میں رہی آپ کی شہرت کتنی
جب کہ قرآں میں رفعنا ہے خدا کا کہنا
رب ہی جانے کہ ہے سرکار کی رفعت کتنی
شاہِ کونین پہ اللّٰہ بھی پڑھتا ہے دُرود
سوچیے سوچیے ہے آپ کی عزت کتنی
تنِ تنہا ہیں حضور آپ ہی شفیعِ اُمّت
"ایک میں کیا مرے عصیاں کی حقیقت کتنی"
ایک ہی پیالے میں ستر کو شکم سیر کیا
رب نے بخشی ہے شہِ دین کو قدرت کتنی
ماجرا دعوتِ جابر کا ذرا یاد کریں
رحمت افزا تھی مرے آقا کی برکت کتنی
نعت لکھنا ہے مُشاہد کا وظیفہ جب سے
میں بتا سکتا نہیں رب کی ہے رحمت کتنی
24 شوال المکرم 1438ء
19 جولائی 2017ء بعد عصر