This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from کریم اللہ رضوی استاذ دار العلوم مخدومیہ جوگیشوری ممبئی
السلام علیکم و رحمة اللہ و برکاتہ
کیا فرما تے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ مسلمانوں کو ہولی کے موقع پر یا دیوالی کے موقع پر رنگ بیچنا یا پٹاخے بیچنا کیسا ہے ؟ حوالے کے ساتھ جواب جواب عنایت فرمائیں ۔
سائل : اجمل حسین گونڈوی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وعلیکم السلام و رحمة اللہ و برکاتہ
*جواب* پٹاخہ اور راکھی کی تجارت جائز نہیں کہ آتش بازی حرام ہے کہ یہ گناہ پر اعانت ہے جو حرام ہے اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے " و لاتعاونوا علی الاثم و العدوان " اھ یعنی اور نیکی اور پرہیزگاری پر ایک دوسرے کی مدد کرو اور گناہ اور زیادتی پر باہم مدد نہ دو " اھ ( پ 6 سورہ مائدہ آیت 2 ) اسی طرح کے ایک سوال کے جواب میں حضور صدر الشریعہ علیہ الرحمہ بہار شریعت میں تحریر فرماتے ہیں کہ " افیون وغیرہ جس کا کھانا نا جائز ہے ایسوں کے ہاتھ فروخت کرنا جو کھاتے ہیں ناجائز ہے کہ اس میں گناہ پر اعانت ہے " اھ ( بہار شریعت ج 16 ص 106 ) اور راکھی کا استعمال صرف رکھشابندھن کے لئے ہوتا ہے جو یہاں کے غیرمسلموں کا مذہبی شعار ہے تو راکھی کی تجارت بھی گناہ پر اعانت ہوئی اس لئے یہ تجارت بھی ناجائز ہے " اھ ( فتاوی مرکز تربیت افتاء ج 2 ص 238 )
لہذا مذکورہ باتوں سے واضح ہوا کہ اسی طرح ہر وہ سامان بیچنا جائز نہیں جو گناہ پر مدد ہو ہاں اگر گناہ پر مدد نہیں ہے اس کا بیچنا اور خریدنا دونوں جائز ہے جیسے آج کل گاوں وغیرہ میں کھیتوں سے جانور کو ڈرانے اور بھاگنے کے لئے پٹاخے وغیرہ دغتے ہیں اس طرح کاموں کے لئے خریدنا اور بیچنا جائز ہے ۔
واللہ اعلم بالصواب
کریم اللہ رضوی
خادم التدریس دار العلوم مخدومیہ اوشیورہ برج جوگیشوری ممبئی موبائل نمبر 7666456313
کیا فرما تے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ مسلمانوں کو ہولی کے موقع پر یا دیوالی کے موقع پر رنگ بیچنا یا پٹاخے بیچنا کیسا ہے ؟ حوالے کے ساتھ جواب جواب عنایت فرمائیں ۔
سائل : اجمل حسین گونڈوی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وعلیکم السلام و رحمة اللہ و برکاتہ
*جواب* پٹاخہ اور راکھی کی تجارت جائز نہیں کہ آتش بازی حرام ہے کہ یہ گناہ پر اعانت ہے جو حرام ہے اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے " و لاتعاونوا علی الاثم و العدوان " اھ یعنی اور نیکی اور پرہیزگاری پر ایک دوسرے کی مدد کرو اور گناہ اور زیادتی پر باہم مدد نہ دو " اھ ( پ 6 سورہ مائدہ آیت 2 ) اسی طرح کے ایک سوال کے جواب میں حضور صدر الشریعہ علیہ الرحمہ بہار شریعت میں تحریر فرماتے ہیں کہ " افیون وغیرہ جس کا کھانا نا جائز ہے ایسوں کے ہاتھ فروخت کرنا جو کھاتے ہیں ناجائز ہے کہ اس میں گناہ پر اعانت ہے " اھ ( بہار شریعت ج 16 ص 106 ) اور راکھی کا استعمال صرف رکھشابندھن کے لئے ہوتا ہے جو یہاں کے غیرمسلموں کا مذہبی شعار ہے تو راکھی کی تجارت بھی گناہ پر اعانت ہوئی اس لئے یہ تجارت بھی ناجائز ہے " اھ ( فتاوی مرکز تربیت افتاء ج 2 ص 238 )
لہذا مذکورہ باتوں سے واضح ہوا کہ اسی طرح ہر وہ سامان بیچنا جائز نہیں جو گناہ پر مدد ہو ہاں اگر گناہ پر مدد نہیں ہے اس کا بیچنا اور خریدنا دونوں جائز ہے جیسے آج کل گاوں وغیرہ میں کھیتوں سے جانور کو ڈرانے اور بھاگنے کے لئے پٹاخے وغیرہ دغتے ہیں اس طرح کاموں کے لئے خریدنا اور بیچنا جائز ہے ۔
واللہ اعلم بالصواب
کریم اللہ رضوی
خادم التدریس دار العلوم مخدومیہ اوشیورہ برج جوگیشوری ممبئی موبائل نمبر 7666456313
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
दीवाली मनाना, मुबारक बाद देना और ग़ैर मुस्लिम के निजी मुआ़मलात को अच्छा जानना कुफ़्र है! [ फ़तावा रज़विया जि⁶ पे¹²⁴ ]
دیوالی منانا، مبارک باد دینا اور کفار کے امور کو اچھا جاننا کفر ہے- [ فتاویٰ رضویہ جِـ⁶ صَـ¹²⁴ ]
Diwali Manana, Mubarak Bad Dena Aur Ghair Muslim Ke Personal Mu'Aamlaat Ko Achchha JaanNa Kufr Hai. [ Fatawa Razviya J⁶ P¹²⁴ ]
دیوالی منانا، مبارک باد دینا اور کفار کے امور کو اچھا جاننا کفر ہے- [ فتاویٰ رضویہ جِـ⁶ صَـ¹²⁴ ]
Diwali Manana, Mubarak Bad Dena Aur Ghair Muslim Ke Personal Mu'Aamlaat Ko Achchha JaanNa Kufr Hai. [ Fatawa Razviya J⁶ P¹²⁴ ]
👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
दीवाली मनाना, मुबारक बाद देना और ग़ैर मुस्लिम के निजी मुआ़मलात को अच्छा जानना कुफ़्र है! [ फ़तावा रज़विया जि⁶ पे¹²⁴ ] دیوالی منانا، مبارک باد دینا اور کفار کے امور کو اچھا جاننا کفر ہے- [ فتاویٰ رضویہ جِـ⁶ صَـ¹²⁴ ] Diwali Manana, Mubarak Bad Dena Aur Ghair…
दीवाली की मिठाई खाना कैसा?
ह़लाल है मगर बचना बेहतर है !
دیوالی کی مٹھائی کھانا کیسا ؟
حلال ہے مگر بچنا بہتر ہے- رَضَا
Deewali / Diwali Ki Mithai Khana Halal Hai Magar Bachna Behtar Hai.
ह़लाल है मगर बचना बेहतर है !
دیوالی کی مٹھائی کھانا کیسا ؟
حلال ہے مگر بچنا بہتر ہے- رَضَا
Deewali / Diwali Ki Mithai Khana Halal Hai Magar Bachna Behtar Hai.
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
दीवाली वाले मसअले की वज़ाह़त
دیوالی والے مسئلے کی وضاحت
ᴰⁱʷᵃˡⁱ ᵂᵃˡᵉ ᴹᵃˢᴬˡᵉ ᴷⁱ ᵂᵃᶻᵃʰᵃᵗ
دیوالی والے مسئلے کی وضاحت
ᴰⁱʷᵃˡⁱ ᵂᵃˡᵉ ᴹᵃˢᴬˡᵉ ᴷⁱ ᵂᵃᶻᵃʰᵃᵗ
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
*مذہبی مخلوط کلچر: غیرت دین کا غارت گر*
تحریر:- *خالد ایوب مصباحی شیرانی*
چیرمین: تحریک علمائے ہند، جے پور
رکن : روشن مستقبل، دہلی
آج چھوٹی دیوالی ہے۔ یہ صرف آج 3/ نومبر 2021 علی الصباح کا ملکی سطح کا ٹیوٹر ٹرینڈ ہی نہیں بلکہ حالیہ زمانے میں ہمارے ملک کے ڈیولپ مکس ہندوانہ کلچر کا ایک بدنما رخ ہے۔
خدا غارت کرے ان سیاسی بازی گروں کو جن کی جمن گیری نے اکثریت کی چاپلوسی میں مذہبی تیوہاروں کی شبھ کامنائیں پیش کر کر کے ملک کا تہذیبی ورثہ اس قدر تہس نہس کردیا ہے کہ اب کی نسلوں کے لیے کسی بھی مذہب کی مذہبی شناخت والے تیوہار بھی مخلوط کلچر کا حصہ بن چکے ہیں اور ہر دن گئے جیسے جیسے یہ کلچر ڈیویلپ ہو رہا ہے، نہ صرف یہ کہ دینی شناختیں گم اور مذہبی غیرتیں کم ہوتی جا رہی ہیں بلکہ متعصب اکثریت کو کہیں نہ کہیں کسی نہ کسی بہانے اپنی بھڑاس نکالنے کا بھی موقع مل ہی جاتا ہے۔
کیا ہولی کی شبھ کامنائیں، کیا دیوالی کی مبارک بادیاں، کیا کرسمس کا وش اور کیا عید کی تہنیتیں، کس مذہب کا کون سا تیوہار ہے، جو آج صرف اس مذہب کے ماننے والوں تک محدود رہ چکا ہو۔ اپنی سیاست چمکانے اور شہر کی گلیوں میں اپنی ہورڈنگس آویزاں کرنے کے لیے سیاسی رہ نماؤں نے جس طرح مذہبی تیوہاروں کو تہذیبی رنگ دینے کی کوشش کی ہے اور آہستہ آہستہ اسے ایک مکمل کلچر بنا ڈالا ہے، اگر اس پر وقت رہتے ہوئے بند نہ باندھا گیا تو شاید آنے والے زمانے میں ایمان و کفر کے معیارات بدل چکے ہوں گے اور اتنی دیر بعد مزاج اس قدر بدل چکا ہوگا کہ اپنی غلطی تسلیم کرنا تو دور اور اگر کوئی کسی کی اصلاح کرنا چاہے گا اور اسلاف کی کتابوں سے توبہ و تجدید کے فتوے دکھانا بھی چاہے گا تو شاید ہمیں لگے گا:
*اسلام بڑا سخت ہے۔ تھوڑی موڑی تو گنجائش ہونی ہی چاہیے۔ ہمارا مطلب یہ نہیں ہوتا اور یہ تو کلچرل ہے وغیرہ۔*
اس ناحیہ سے دیکھا جائے تو مذہب پسندوں کے لیے یہ وقت شاید اس سماجی کلچر کی اصلاح کے لیے سب سے موزوں وقت ہے، ورنہ جس طرح آج آداب بلکہ گڈ مارننگ اور گڈ آفٹر نان کی جگہ نمستے اور نمشکار بولنا تقریباً ہر سرکاری مسلمان نے اپنا ایک عام کلچر بنا لیا ہے، ویسے ہی آنے والے زمانے میں ہر گھر میں کوئی سلمان ہولی کھیل رہا ہوگا اور کوئی شاہ رخ دیوالی منا رہا ہوگا۔
سیاست کے پیدا کردہ اس کلچر سے سب سے زیادہ نقصان بہر صورت ان خربوزوں کا ہے جو دو دھاری چھری سے آتے میں بھی کٹ رہے ہیں اور جاتے میں بھی۔
ملک کے موجودہ نفرت بھرے ماحول کے تناظر میں ہمیں یہ بات کبھی نہیں بھولنا چاہیے کہ اس جمن گیری کو صرف ہم ہی پروموٹ کر رہے ہیں، ورنہ ہمارا حریف دن بدن اپنے مذہبی تشخص کے تحفظ اور اس کے احیا کے لیے نہ صرف یہ کہ فکری طور پر کوشاں ہے بلکہ عملاً بھی جد و جہد کر رہا ہے۔
یہ بھی حسن اتفاق ہے کہ گزشتہ ستر سالوں سے وطن دوستی ثابت کرنے کی طرح اس طرح کے سد بھاونا/ بھائی چارے/ قومی یک جہتی/ اتحاد کے تمام تر پروگراموں کی ذمہ داریاں بھی بے چارے نا تواں شبراتیوں کے سر ہی آتی ہیں۔
پرسوں کوٹہ کے رام گنج منڈی سے جے پور آتے ہوئے راستے میں واقع سوائی مادھوپور ریلوے اسٹیشن پر جیسے ہی ٹرین رکی، پوری بوگی میں اتنی زور سے جے شری رام کے نعرے گونجے کہ گھبراہٹ کے ساتھ آنکھ کھل گئی۔
پچھلے ایک ہفتے سے دیوالی کی تیاری میں پرانے جے پور کو جس طرح دلہن بنایا گیا ہے، دیکھتے ہی بنتا ہے۔
آج احمد آباد کی گلیوں میں نو عمر آوارہ بچوں کو جس طرح پٹاخے چھوڑتے دیکھ رہے ہیں، ایسا محسوس ہو رہا ہے جیسے بھلے دیوالی کی ابتدا ہندو مذہب میں ہوئی ہو لیکن اس کی پرورش و پرداخت کی ذمہ داریاں نوخیز مسلم بچوں کے سر ہے۔
پتنگ کے موسم میں پتنگ بازی کے شوق کی تکمیل کے بہانے اس تیوہار کو بھی مسلمانوں نے جس طرح ہائی جیک کیا ہے، وہ مزاج بھی واضح طور پر یہ درشاتا ہے کہ ہماری مذہبی غیرتیں کس قدر بیدار، ہمارے شوق کتنے معصوم، ہماری ادائیں کتنی پیاری اور ہماری تربیت کتنی پاکیزہ ہے۔
نیشنل ازم کے نام پر تراشیدہ نئے بت کے متعلق فکر اقبال کا تراشیدہ یہ شعر اس تہذیب نوی پر کتنا سٹیک منطبق ہوتا ہے۔
*یہ بُت کہ تراشیدۂ تہذیبِ نوی ہے*
*غارت گرِ کاشانۂ دینِ نبَوی ہے*
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/1020130428557475/
تحریر:- *خالد ایوب مصباحی شیرانی*
چیرمین: تحریک علمائے ہند، جے پور
رکن : روشن مستقبل، دہلی
آج چھوٹی دیوالی ہے۔ یہ صرف آج 3/ نومبر 2021 علی الصباح کا ملکی سطح کا ٹیوٹر ٹرینڈ ہی نہیں بلکہ حالیہ زمانے میں ہمارے ملک کے ڈیولپ مکس ہندوانہ کلچر کا ایک بدنما رخ ہے۔
خدا غارت کرے ان سیاسی بازی گروں کو جن کی جمن گیری نے اکثریت کی چاپلوسی میں مذہبی تیوہاروں کی شبھ کامنائیں پیش کر کر کے ملک کا تہذیبی ورثہ اس قدر تہس نہس کردیا ہے کہ اب کی نسلوں کے لیے کسی بھی مذہب کی مذہبی شناخت والے تیوہار بھی مخلوط کلچر کا حصہ بن چکے ہیں اور ہر دن گئے جیسے جیسے یہ کلچر ڈیویلپ ہو رہا ہے، نہ صرف یہ کہ دینی شناختیں گم اور مذہبی غیرتیں کم ہوتی جا رہی ہیں بلکہ متعصب اکثریت کو کہیں نہ کہیں کسی نہ کسی بہانے اپنی بھڑاس نکالنے کا بھی موقع مل ہی جاتا ہے۔
کیا ہولی کی شبھ کامنائیں، کیا دیوالی کی مبارک بادیاں، کیا کرسمس کا وش اور کیا عید کی تہنیتیں، کس مذہب کا کون سا تیوہار ہے، جو آج صرف اس مذہب کے ماننے والوں تک محدود رہ چکا ہو۔ اپنی سیاست چمکانے اور شہر کی گلیوں میں اپنی ہورڈنگس آویزاں کرنے کے لیے سیاسی رہ نماؤں نے جس طرح مذہبی تیوہاروں کو تہذیبی رنگ دینے کی کوشش کی ہے اور آہستہ آہستہ اسے ایک مکمل کلچر بنا ڈالا ہے، اگر اس پر وقت رہتے ہوئے بند نہ باندھا گیا تو شاید آنے والے زمانے میں ایمان و کفر کے معیارات بدل چکے ہوں گے اور اتنی دیر بعد مزاج اس قدر بدل چکا ہوگا کہ اپنی غلطی تسلیم کرنا تو دور اور اگر کوئی کسی کی اصلاح کرنا چاہے گا اور اسلاف کی کتابوں سے توبہ و تجدید کے فتوے دکھانا بھی چاہے گا تو شاید ہمیں لگے گا:
*اسلام بڑا سخت ہے۔ تھوڑی موڑی تو گنجائش ہونی ہی چاہیے۔ ہمارا مطلب یہ نہیں ہوتا اور یہ تو کلچرل ہے وغیرہ۔*
اس ناحیہ سے دیکھا جائے تو مذہب پسندوں کے لیے یہ وقت شاید اس سماجی کلچر کی اصلاح کے لیے سب سے موزوں وقت ہے، ورنہ جس طرح آج آداب بلکہ گڈ مارننگ اور گڈ آفٹر نان کی جگہ نمستے اور نمشکار بولنا تقریباً ہر سرکاری مسلمان نے اپنا ایک عام کلچر بنا لیا ہے، ویسے ہی آنے والے زمانے میں ہر گھر میں کوئی سلمان ہولی کھیل رہا ہوگا اور کوئی شاہ رخ دیوالی منا رہا ہوگا۔
سیاست کے پیدا کردہ اس کلچر سے سب سے زیادہ نقصان بہر صورت ان خربوزوں کا ہے جو دو دھاری چھری سے آتے میں بھی کٹ رہے ہیں اور جاتے میں بھی۔
ملک کے موجودہ نفرت بھرے ماحول کے تناظر میں ہمیں یہ بات کبھی نہیں بھولنا چاہیے کہ اس جمن گیری کو صرف ہم ہی پروموٹ کر رہے ہیں، ورنہ ہمارا حریف دن بدن اپنے مذہبی تشخص کے تحفظ اور اس کے احیا کے لیے نہ صرف یہ کہ فکری طور پر کوشاں ہے بلکہ عملاً بھی جد و جہد کر رہا ہے۔
یہ بھی حسن اتفاق ہے کہ گزشتہ ستر سالوں سے وطن دوستی ثابت کرنے کی طرح اس طرح کے سد بھاونا/ بھائی چارے/ قومی یک جہتی/ اتحاد کے تمام تر پروگراموں کی ذمہ داریاں بھی بے چارے نا تواں شبراتیوں کے سر ہی آتی ہیں۔
پرسوں کوٹہ کے رام گنج منڈی سے جے پور آتے ہوئے راستے میں واقع سوائی مادھوپور ریلوے اسٹیشن پر جیسے ہی ٹرین رکی، پوری بوگی میں اتنی زور سے جے شری رام کے نعرے گونجے کہ گھبراہٹ کے ساتھ آنکھ کھل گئی۔
پچھلے ایک ہفتے سے دیوالی کی تیاری میں پرانے جے پور کو جس طرح دلہن بنایا گیا ہے، دیکھتے ہی بنتا ہے۔
آج احمد آباد کی گلیوں میں نو عمر آوارہ بچوں کو جس طرح پٹاخے چھوڑتے دیکھ رہے ہیں، ایسا محسوس ہو رہا ہے جیسے بھلے دیوالی کی ابتدا ہندو مذہب میں ہوئی ہو لیکن اس کی پرورش و پرداخت کی ذمہ داریاں نوخیز مسلم بچوں کے سر ہے۔
پتنگ کے موسم میں پتنگ بازی کے شوق کی تکمیل کے بہانے اس تیوہار کو بھی مسلمانوں نے جس طرح ہائی جیک کیا ہے، وہ مزاج بھی واضح طور پر یہ درشاتا ہے کہ ہماری مذہبی غیرتیں کس قدر بیدار، ہمارے شوق کتنے معصوم، ہماری ادائیں کتنی پیاری اور ہماری تربیت کتنی پاکیزہ ہے۔
نیشنل ازم کے نام پر تراشیدہ نئے بت کے متعلق فکر اقبال کا تراشیدہ یہ شعر اس تہذیب نوی پر کتنا سٹیک منطبق ہوتا ہے۔
*یہ بُت کہ تراشیدۂ تہذیبِ نوی ہے*
*غارت گرِ کاشانۂ دینِ نبَوی ہے*
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/1020130428557475/
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
*کارٹونوں کی بڑھتی تخریب کاری۔۔۔۔ایک لمحۂ فکریہ*
تحریر : *محمد شاہد علی مصباحی*
رکن : روشن مستقبل، دہلی۔
تحریک علماے بندیل کھنڈ
انیمیٹڈ کارٹون ایک ایسی چیز ہے جس نے ہمارے بچوں کی فکری صلاحیتوں کو نہ صرف تباہ کر کے رکھ دیا ہے بلکہ ان کی ذہنیت کو اسلام سے پھیرنے کا کام بھی کر رہی ہے۔
جس طرح سے ان انیمیٹڈ کارٹونوں میں اغیار کے مذہبی پیشواؤں کو ہر طرح کی خوبی سے مزین کر کے دکھایا جارہا ہے وہ ہمارے بچوں کی ذہن پر بھی اثر انداز ہو رہا ہے۔
کارٹون کا وہ کردار کبھی سماجی کام کرتا ہوا نظر آتا ہے تو کبھی فلاحی کام میں مصروف نظر آتا ہے، کبھی مذہبی کام کرتا ہوا نظر آتا ہے تو کبھی ثقافی۔ اس طرح بچے اس کی شخصیت سے متأثر ہوکر اسی کیریکٹر کو اپنا آئیڈل بنا رہے ہیں۔
ایک تازہ واقعہ:
میں ایک گھر میں تھا میں نے ایک چار سال کا بچہ دیکھا جو اپنی ماں سے بول رہا تھا: "مجھے چھوٹا بھیم (انیمیٹڈ کارٹونوں کا ایک کیریکٹر) بننا ہے۔"
اس کی ماں نے شرمندہ ہوتے ہوے میری طرف دیکھا اور بچے سے بولی: " کہ چھوٹا بھیم نہیں بننا وہ اچھا نہیں ہوتا."
بچہ بولا: " نہیں امی! وہ تو بہت اچھا ہے۔ وہ سب کی مدد کرتا ہے۔"
اس کی ماں نے کافی سمجھانے کی کوشش کی مگر بچہ اس کریکٹر کی خوبیوں کی وکالت کرتا رہا، آخر کار بچہ کی ماں نے مزید شرمندگی سے بچنے کے لیے بچے کو پیسے دے کر دکان بھیج دیا۔
اس واقعہ سے آپ اندازہ کریں کہ آپ کا بچہ جو دیکھ رہا ہے اس کا کتنا گہرا اثر بچے کی زندگی اور اس کی شخصیت پر پڑتا ہے۔ وہ جو دیکھتا ہے، جو محسوس کرتا ہے اسی کو اپنے اندر پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
اور ہم اپنے بچوں کے مستقبل کی فکر کیے بغیر ان کے ہاتھ میں فون تھما دیتے ہیں اور بچوں کو آزاد چھوڑ دیتے ہیں کہ وہ جیسا کارٹون چاہیں وہ دیکھیں۔
بعض کارٹون تو صرف اخلاقیات پر حملہ آور ہوتے ہیں جس کو بہت سے لوگ کسی حد تک برداشت کر سکتے ہیں۔ حال آں کہ گنجائش اس کی بھی نہیں ہے۔ مگر بعض کارٹون سیدھا ہمارے بچوں کے دین و مذہب پر حملہ آور ہوتے ہیں جسے کوئی مومن قطعی برداشت نہیں کر سکتا۔ کیوں کہ بچے نرم موم کی طرح ہوتے ہیں انہیں جس سانچے میں ڈھال دیا جاے ڈھل جاتے ہیں، اگر ابھی ہمارے بچوں کے دلوں میں باطل رہنماؤں کی محبت ان کارٹونوں کے ذریعے بیٹھ گئی تو یقین جانیں یہ آخری سانس تک بچوں کے دلوں میں باقی رہ سکتی ہے۔
خدا را! اپنے بچوں کو موبائل دیکھنے کی قبیح ترین عادت سے بچائیں۔ یہ متعدد جہات سے آپ کے بچے کی زندگی تباہ کر رہی ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ خود بھی بچوں کے سامنے فون نہ دیکھیں صرف ضرورت بھر بات کریں، بچوں کے سامنے فون میں ویڈیوز دیکھنے یا اور کچھ کرنے سے پرہیز کریں تبھی آپ اپنے بچے کو اس قبیح عادت سے بچا سکیں گے۔
لیکن موجودہ حالات میں وہ بچے جو کارٹون کے عادی ہو چکے ہیں ان بچوں کو کارٹون سے دور کرنا بہت مشکل ہے۔ پھر بھی بچوں کی یہ عادت چھڑانے کی حسبِ استطاعت ضرور کوشش کرتے رہیں۔
اور اگر ممکن نہ ہو تو جب آپ کسی چیز کی عادت نہیں چھڑا سکتے تو اس کے متبادل پر غور کریں اور اپنے بچوں کے لیے بہترین متبادل تلاش کریں جس سے ان کو اس بری عادت سے نجات دلائی جاسکے۔
جب ہم کارٹون کے متبادل پر غور کرتے ہیں تو ہمیں چند اسلامی کارٹون سیریز نظر آتی ہیں جن میں قابل ذکر یہ ہیں:
● "غلام رسول کے مدنی پھول" کے نام سے غلام رسول اور فیضان کا کردار بھی بچوں کے لیے کافی دل موہ لینے والا ہوتا ہے، یہ سلسلہ کھیل کھیل میں دین سے وابستگی کا اہم ذریعہ ثابت ہورہا ہے ۔
"غلام رسول کے مدنی پھول " کے نئے ورژن میں غلام رسول، فیضان، نعمان، اسید، ببلو بھائی کا ٹریک بھی نہایت شاندار اور قابل تعریف ہے۔ جس طرح اس میں اسلامی تعلیمات کو اینیمیشن کے سہارے پیش کیا جارہا ہے وہ کافی دیدہ زیب لگتا ہے۔ لیکن یہ اینیمیشن کارٹون کی دنیا میں اس قدر عام نہیں، جتنا کہ ہونا چاہیے، شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ بچے کارٹون دیکھتے ہیں مزہ کے لیے، اور اس میں انھیں کمی لگتی ہے ۔ لہذا تفریح کو نظر میں رکھ کر کچھ چلبلا پن اور کچھ ضروری تفریح طبع کا سامان بھی ان میں رکھنا چاہیے ۔
"کنیز فاطمہ" کا کارٹون بھی بچوں کو خوب پسند آتا ہے اس کی بہن "رائقہ" کا چلبلا انداز بچوں کے لیے بڑا دلچسپ ہوتا ہے. اور ساتھ ساتھ اسلامی تعلیمات بھی حاصل ہوتی ہیں۔
● کڈس مدنی چینل ● مدنی چینل پر ۱یک پروگرام " بچوں کی شام" کے نام سے آتا ہے وہ بھی بڑا دلچسپ ہوتا ہے ۔
دعوتِ اسلامی کی طرف سے جاری کردہ ایپ " کلمہ اینڈ دعا " کے نام سے بھی بڑا مفید ثابت ہوا ہے، جس کے ذریعے بنیادی دعائیں، اور ذکر و اذکار ، کلمات اور اسلامی اخلاقی تربیت؛ بہترین انداز میں بچوں کو سکھانے کی کوشش کی گئی ہے ۔
تحریر : *محمد شاہد علی مصباحی*
رکن : روشن مستقبل، دہلی۔
تحریک علماے بندیل کھنڈ
انیمیٹڈ کارٹون ایک ایسی چیز ہے جس نے ہمارے بچوں کی فکری صلاحیتوں کو نہ صرف تباہ کر کے رکھ دیا ہے بلکہ ان کی ذہنیت کو اسلام سے پھیرنے کا کام بھی کر رہی ہے۔
جس طرح سے ان انیمیٹڈ کارٹونوں میں اغیار کے مذہبی پیشواؤں کو ہر طرح کی خوبی سے مزین کر کے دکھایا جارہا ہے وہ ہمارے بچوں کی ذہن پر بھی اثر انداز ہو رہا ہے۔
کارٹون کا وہ کردار کبھی سماجی کام کرتا ہوا نظر آتا ہے تو کبھی فلاحی کام میں مصروف نظر آتا ہے، کبھی مذہبی کام کرتا ہوا نظر آتا ہے تو کبھی ثقافی۔ اس طرح بچے اس کی شخصیت سے متأثر ہوکر اسی کیریکٹر کو اپنا آئیڈل بنا رہے ہیں۔
ایک تازہ واقعہ:
میں ایک گھر میں تھا میں نے ایک چار سال کا بچہ دیکھا جو اپنی ماں سے بول رہا تھا: "مجھے چھوٹا بھیم (انیمیٹڈ کارٹونوں کا ایک کیریکٹر) بننا ہے۔"
اس کی ماں نے شرمندہ ہوتے ہوے میری طرف دیکھا اور بچے سے بولی: " کہ چھوٹا بھیم نہیں بننا وہ اچھا نہیں ہوتا."
بچہ بولا: " نہیں امی! وہ تو بہت اچھا ہے۔ وہ سب کی مدد کرتا ہے۔"
اس کی ماں نے کافی سمجھانے کی کوشش کی مگر بچہ اس کریکٹر کی خوبیوں کی وکالت کرتا رہا، آخر کار بچہ کی ماں نے مزید شرمندگی سے بچنے کے لیے بچے کو پیسے دے کر دکان بھیج دیا۔
اس واقعہ سے آپ اندازہ کریں کہ آپ کا بچہ جو دیکھ رہا ہے اس کا کتنا گہرا اثر بچے کی زندگی اور اس کی شخصیت پر پڑتا ہے۔ وہ جو دیکھتا ہے، جو محسوس کرتا ہے اسی کو اپنے اندر پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
اور ہم اپنے بچوں کے مستقبل کی فکر کیے بغیر ان کے ہاتھ میں فون تھما دیتے ہیں اور بچوں کو آزاد چھوڑ دیتے ہیں کہ وہ جیسا کارٹون چاہیں وہ دیکھیں۔
بعض کارٹون تو صرف اخلاقیات پر حملہ آور ہوتے ہیں جس کو بہت سے لوگ کسی حد تک برداشت کر سکتے ہیں۔ حال آں کہ گنجائش اس کی بھی نہیں ہے۔ مگر بعض کارٹون سیدھا ہمارے بچوں کے دین و مذہب پر حملہ آور ہوتے ہیں جسے کوئی مومن قطعی برداشت نہیں کر سکتا۔ کیوں کہ بچے نرم موم کی طرح ہوتے ہیں انہیں جس سانچے میں ڈھال دیا جاے ڈھل جاتے ہیں، اگر ابھی ہمارے بچوں کے دلوں میں باطل رہنماؤں کی محبت ان کارٹونوں کے ذریعے بیٹھ گئی تو یقین جانیں یہ آخری سانس تک بچوں کے دلوں میں باقی رہ سکتی ہے۔
خدا را! اپنے بچوں کو موبائل دیکھنے کی قبیح ترین عادت سے بچائیں۔ یہ متعدد جہات سے آپ کے بچے کی زندگی تباہ کر رہی ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ خود بھی بچوں کے سامنے فون نہ دیکھیں صرف ضرورت بھر بات کریں، بچوں کے سامنے فون میں ویڈیوز دیکھنے یا اور کچھ کرنے سے پرہیز کریں تبھی آپ اپنے بچے کو اس قبیح عادت سے بچا سکیں گے۔
لیکن موجودہ حالات میں وہ بچے جو کارٹون کے عادی ہو چکے ہیں ان بچوں کو کارٹون سے دور کرنا بہت مشکل ہے۔ پھر بھی بچوں کی یہ عادت چھڑانے کی حسبِ استطاعت ضرور کوشش کرتے رہیں۔
اور اگر ممکن نہ ہو تو جب آپ کسی چیز کی عادت نہیں چھڑا سکتے تو اس کے متبادل پر غور کریں اور اپنے بچوں کے لیے بہترین متبادل تلاش کریں جس سے ان کو اس بری عادت سے نجات دلائی جاسکے۔
جب ہم کارٹون کے متبادل پر غور کرتے ہیں تو ہمیں چند اسلامی کارٹون سیریز نظر آتی ہیں جن میں قابل ذکر یہ ہیں:
● "غلام رسول کے مدنی پھول" کے نام سے غلام رسول اور فیضان کا کردار بھی بچوں کے لیے کافی دل موہ لینے والا ہوتا ہے، یہ سلسلہ کھیل کھیل میں دین سے وابستگی کا اہم ذریعہ ثابت ہورہا ہے ۔
"غلام رسول کے مدنی پھول " کے نئے ورژن میں غلام رسول، فیضان، نعمان، اسید، ببلو بھائی کا ٹریک بھی نہایت شاندار اور قابل تعریف ہے۔ جس طرح اس میں اسلامی تعلیمات کو اینیمیشن کے سہارے پیش کیا جارہا ہے وہ کافی دیدہ زیب لگتا ہے۔ لیکن یہ اینیمیشن کارٹون کی دنیا میں اس قدر عام نہیں، جتنا کہ ہونا چاہیے، شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ بچے کارٹون دیکھتے ہیں مزہ کے لیے، اور اس میں انھیں کمی لگتی ہے ۔ لہذا تفریح کو نظر میں رکھ کر کچھ چلبلا پن اور کچھ ضروری تفریح طبع کا سامان بھی ان میں رکھنا چاہیے ۔
"کنیز فاطمہ" کا کارٹون بھی بچوں کو خوب پسند آتا ہے اس کی بہن "رائقہ" کا چلبلا انداز بچوں کے لیے بڑا دلچسپ ہوتا ہے. اور ساتھ ساتھ اسلامی تعلیمات بھی حاصل ہوتی ہیں۔
● کڈس مدنی چینل ● مدنی چینل پر ۱یک پروگرام " بچوں کی شام" کے نام سے آتا ہے وہ بھی بڑا دلچسپ ہوتا ہے ۔
دعوتِ اسلامی کی طرف سے جاری کردہ ایپ " کلمہ اینڈ دعا " کے نام سے بھی بڑا مفید ثابت ہوا ہے، جس کے ذریعے بنیادی دعائیں، اور ذکر و اذکار ، کلمات اور اسلامی اخلاقی تربیت؛ بہترین انداز میں بچوں کو سکھانے کی کوشش کی گئی ہے ۔