Forwarded from ندیم ابن علیم المصبور العینی
دیوالی میں آتش بازیاں بیچنا کافروں کے لہو ولعب میں ان کی مدد کرنے جیسا ہے. لہذا ہندؤں کو بیچنے کی نیت سے یہ پیشہ جائز نہیں ہے. نیت عمدہ رکھے تو عمل بھی عمدہ ہے بشرطیکہ اس کا کوئی جائز پہلو بھی موجود ہو. جس طرح طوائفوں اور شراب فروش کو گھر کرایے پر دینے میں حرج نہیں اگر نیت صحیح ہو.
جن امور پر شریعت اجازت دیتی ہے ان امور کی نیت سے پٹاخے بیچنا جائز ہے یعنی وہ صورت خاصہ جو لہو ولعب وتبذیر واسراف سے خالی ہو اس کے علاوہ جائز نہیں یعنی حرام کاموں اور لہو ولعب اور فضول خرچی میں.
جائز امور: مثلا:
١. اعلان ہلال کے لئے (اگر ثبوت شرع ہوگیا اور حکام شریعت نے حکم دیا)
٢. جنگل میں یا وقت حاجت شہر میں بھی موذی جانوروں کے دفع کے لئے
٣. کھیت یا میوے کے درختوں سے جانوروں کے بھگانے کے لئے.
٤. شادی کے اعلان کے لئے.
جن امور پر شریعت اجازت دیتی ہے ان امور کی نیت سے پٹاخے بیچنا جائز ہے یعنی وہ صورت خاصہ جو لہو ولعب وتبذیر واسراف سے خالی ہو اس کے علاوہ جائز نہیں یعنی حرام کاموں اور لہو ولعب اور فضول خرچی میں.
جائز امور: مثلا:
١. اعلان ہلال کے لئے (اگر ثبوت شرع ہوگیا اور حکام شریعت نے حکم دیا)
٢. جنگل میں یا وقت حاجت شہر میں بھی موذی جانوروں کے دفع کے لئے
٣. کھیت یا میوے کے درختوں سے جانوروں کے بھگانے کے لئے.
٤. شادی کے اعلان کے لئے.
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from محمد التمش انصاری مصباحی
🌹آتش بازی کا حکم🌹
عبد اللہ مہاجری:
السلام علیکم
ہندوؤں کے تہوار دیوالی کے موقع پر اگر کوئی مسلمان آتش بازی کرے تو اس پر کیا حکم شرع ہوگا؟
عبد اللہ مہاجری
💥💥💥💥
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
الجواب: آتش بازی کرنا حرام ہے، خواہ کفار کے تیوہار کے موقع پر ہو یا کسی دوسرے موقع پر، سب کا حکم یکساں ہیں کہ اس میں اضاعت مال ہے۔رب کریم ارشاد فرماتا ہے:ولا تبذر تبذیرا o ان المبذرین کانوا اخوان الشیاطین وکان الشیطان لربہ کفورا ۔( القران، آیت: ۲۶_۲۷)
ترجمہ: بے جا خرچ نہ کرو کیونکہ بے جا اور فضول خرچ کرنیوالے شیاطین کے بھائی ہوتے ہیں اور شیطان اپنے رب کا بڑا ناشکرا ہے۔
نبی کریم اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:ان اﷲ تعالٰی حرم علیکم عقوق الامھات و وأدالبنات ومنع و ھات وکرہ لکم قیل وقال وکثرۃ السؤال واضاعۃ المال۔(صحیح البخاری، ج: ۲، ص: ۸۸۴، کتاب الادب، باب: عقوق الوالدین الخ)
(صحیح مسلم، ج: ۲، ص: ۷۵_۷۶،کتاب الاقضیۃ، باب: النہی من کثرۃ المسائل)
ترجمہ: بے شک اللہ تعالی نے تم پر ماؤں کی نافرمانی حرام کردی اور بچیوں کو زندہ درگور کرنا اور بخل کرنا اور گدا گری کرنا اور ادھر ادھر کی فضول باتیں کرنا تم پر حرام کردیا ہے۔ اور فرمایا زیادہ سوال کرنا اور مال کو ضائع کرنا بھی حرام کردیا گیا ہے۔
ہاں اگر کوئی ضروری اعلان وغیرہ مقصود ہو تو بقدر ضرورت اجازت ہے۔
واللہ تعالیٰ اعلم
🖌 کتبہ محمد التمش الانصاری المصباحی
۲۳/ صفر المظفر ۱۴۴۰
عبد اللہ مہاجری:
السلام علیکم
ہندوؤں کے تہوار دیوالی کے موقع پر اگر کوئی مسلمان آتش بازی کرے تو اس پر کیا حکم شرع ہوگا؟
عبد اللہ مہاجری
💥💥💥💥
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
الجواب: آتش بازی کرنا حرام ہے، خواہ کفار کے تیوہار کے موقع پر ہو یا کسی دوسرے موقع پر، سب کا حکم یکساں ہیں کہ اس میں اضاعت مال ہے۔رب کریم ارشاد فرماتا ہے:ولا تبذر تبذیرا o ان المبذرین کانوا اخوان الشیاطین وکان الشیطان لربہ کفورا ۔( القران، آیت: ۲۶_۲۷)
ترجمہ: بے جا خرچ نہ کرو کیونکہ بے جا اور فضول خرچ کرنیوالے شیاطین کے بھائی ہوتے ہیں اور شیطان اپنے رب کا بڑا ناشکرا ہے۔
نبی کریم اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:ان اﷲ تعالٰی حرم علیکم عقوق الامھات و وأدالبنات ومنع و ھات وکرہ لکم قیل وقال وکثرۃ السؤال واضاعۃ المال۔(صحیح البخاری، ج: ۲، ص: ۸۸۴، کتاب الادب، باب: عقوق الوالدین الخ)
(صحیح مسلم، ج: ۲، ص: ۷۵_۷۶،کتاب الاقضیۃ، باب: النہی من کثرۃ المسائل)
ترجمہ: بے شک اللہ تعالی نے تم پر ماؤں کی نافرمانی حرام کردی اور بچیوں کو زندہ درگور کرنا اور بخل کرنا اور گدا گری کرنا اور ادھر ادھر کی فضول باتیں کرنا تم پر حرام کردیا ہے۔ اور فرمایا زیادہ سوال کرنا اور مال کو ضائع کرنا بھی حرام کردیا گیا ہے۔
ہاں اگر کوئی ضروری اعلان وغیرہ مقصود ہو تو بقدر ضرورت اجازت ہے۔
واللہ تعالیٰ اعلم
🖌 کتبہ محمد التمش الانصاری المصباحی
۲۳/ صفر المظفر ۱۴۴۰
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from ️الھاشمی️
ہیپی دیوالی کہنا
(مسئلہ) زید کی تجارت ہندو سے ہے .اب زید کے پاس کسی ہندو کا فون آجائے اور ہپی دیوالی کہے تو اب زید کیا کرے؟ کیا ہپی کی جگہ ایپی کہ سکتا ہے کوئی حرج تو نہیں؟
الجواب: جس لفظ سے مناسب جانے جواب دے لے اگرچہ ہیپی کے جواب میں ہیپی ہی کہہ کر۔ لیکن یہ ضرورت کے وقت ہے بلا ضرورت جائز نہیں اور دل میں اس چیز کو بہتر نہ جانے.
مثلا اگر غیر مسلم کی کمپنی میں کام کرتا ہو اور مالک رابطہ کرکے ایسا کہے. اگر جواب نہ دے تو خطرہ ہو کہ روزگار سے ہاتھ دھو بیٹھے گا تو ایسا کہنا جائز ہے.
اگر ایپی کہے تو وہ کافر اسے استہزا خیال کرے گا. اور ایپی کہنا بنیت تحیت، ہیپی کہنے سے جب بغیر نیت تحیت ہو زیادہ برا ہے.
اور اور اگر بات کاٹ سکنے کی کوئی صورت ہو تو یہ ان تمام سے بہتر ہے. مثلا اگر کوئی کہے ہیپی دیوالی تو جوابا کہے: ”اوہ! آج دیوالی ہے مجھے تو یاد ہی نہیں تھا. اور کیا حال ہے؟“ وغیرہ.
قال المجدد رحمه الله: کافر کو بے ضرورت ابتداء بسلام ناجائز ہے. نص علیه فی الحدیث والفقه. اور ہندوستان میں وہ طرق تحیت جاری ہیں کہ بضرورت بھی انھیں سلام شرعی کرنے کی حاجت نہیں مثلا یہی کافی کہ لالہ صاحب، بابو صاحب، منشی صاحب، یا بے سر جھکائے سر پر ہاتھ رکھ لینا وغیر ذلک، کافر اگر بے لفظ سلام سلام کرے تو ایسے ہی الفاظ رائجہ جواب میں بس ہیں۔ اور بلفظ سلام ابتداء کرے تو علماء فرماتے ہیں جواب میں وعلیک ہے مگر یہ لفظ یہاں مخصوص باہل اسلام ٹھہرا ہواہے۔ اور وہ کافر بھی اسے جواب سلام نہ سمجھے گا بلکہ اپنے ساتھ استہزاء خیال کرے گا تو جس لفظ سے مناسب جانے جواب دے لے اگرچہ سلام کے جواب میں سلام ہی کہہ کر۔ (فتاوی رضویہ، ٤١٧/٢٢)
والله اعلم بالصواب.
(مسئلہ) زید کی تجارت ہندو سے ہے .اب زید کے پاس کسی ہندو کا فون آجائے اور ہپی دیوالی کہے تو اب زید کیا کرے؟ کیا ہپی کی جگہ ایپی کہ سکتا ہے کوئی حرج تو نہیں؟
الجواب: جس لفظ سے مناسب جانے جواب دے لے اگرچہ ہیپی کے جواب میں ہیپی ہی کہہ کر۔ لیکن یہ ضرورت کے وقت ہے بلا ضرورت جائز نہیں اور دل میں اس چیز کو بہتر نہ جانے.
مثلا اگر غیر مسلم کی کمپنی میں کام کرتا ہو اور مالک رابطہ کرکے ایسا کہے. اگر جواب نہ دے تو خطرہ ہو کہ روزگار سے ہاتھ دھو بیٹھے گا تو ایسا کہنا جائز ہے.
اگر ایپی کہے تو وہ کافر اسے استہزا خیال کرے گا. اور ایپی کہنا بنیت تحیت، ہیپی کہنے سے جب بغیر نیت تحیت ہو زیادہ برا ہے.
اور اور اگر بات کاٹ سکنے کی کوئی صورت ہو تو یہ ان تمام سے بہتر ہے. مثلا اگر کوئی کہے ہیپی دیوالی تو جوابا کہے: ”اوہ! آج دیوالی ہے مجھے تو یاد ہی نہیں تھا. اور کیا حال ہے؟“ وغیرہ.
قال المجدد رحمه الله: کافر کو بے ضرورت ابتداء بسلام ناجائز ہے. نص علیه فی الحدیث والفقه. اور ہندوستان میں وہ طرق تحیت جاری ہیں کہ بضرورت بھی انھیں سلام شرعی کرنے کی حاجت نہیں مثلا یہی کافی کہ لالہ صاحب، بابو صاحب، منشی صاحب، یا بے سر جھکائے سر پر ہاتھ رکھ لینا وغیر ذلک، کافر اگر بے لفظ سلام سلام کرے تو ایسے ہی الفاظ رائجہ جواب میں بس ہیں۔ اور بلفظ سلام ابتداء کرے تو علماء فرماتے ہیں جواب میں وعلیک ہے مگر یہ لفظ یہاں مخصوص باہل اسلام ٹھہرا ہواہے۔ اور وہ کافر بھی اسے جواب سلام نہ سمجھے گا بلکہ اپنے ساتھ استہزاء خیال کرے گا تو جس لفظ سے مناسب جانے جواب دے لے اگرچہ سلام کے جواب میں سلام ہی کہہ کر۔ (فتاوی رضویہ، ٤١٧/٢٢)
والله اعلم بالصواب.
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from کریم اللہ رضوی استاذ دار العلوم مخدومیہ جوگیشوری ممبئی
السلام علیکم
کیا فرماتے ہیں مفتیان عظام و علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ میرا بھائی حامد ہندو کے آفیس میں نوکری کرتا ہے اس کے ہندو سیٹھ نے دیوالی کے موقع پر تحفتاٙٙ تین ہزار روپئے دیے اور اس نے اس کو قبول کر لیا تو شرعاٙٙ کیا حکم ہوگا ؟ جواب عنایت فرمائیں ۔
سائل : محمد علی شیر حنفی (یو پی )
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وعلیکم السلام و رحمۃ اللّٰہ و برکاتہ
جواب جائز ہے کافر کا مال ہر طریقے سے کھانا جائز ہے بشرطیکہ دھوکہ دے کر حاصل نہ کیا گیا ہو ، مال موذی نصیب غازی جیسا کہ ھدایہ آخرین میں ہے کہ " ولان مالھم مباح فی دراھم فبای طریق اخذہ المسلم اخذ مالا مباحا اذا لم یکن فیه غدر بخلاف المستامن " اھ ( ھدایہ آخرین ص 70 : ناشر مجلس برکات جامعہ اشرفیہ مبارک پور ) اور فتاوی شارح بخاری میں ہے کہ " مٹھائی پرشاد سمجھ کر نہ لے نہ پرشاد سمجھ کرلینا جاٸز نہ پرشاد سمجھ کر کھانا جاٸز بلکہ جو اسے پرشاد سمجھے یعنی اسے تبرک جانے اس پر توبہ اور تجدید ایمان اور اگر بیوی رکھتا ہو تو تجدید نکاح لازم ۔ہاں بغیر پرشاد سمجھے اور روپیہ پیسہ ”مال موذی نصیب غازی “ سمجھ کر لینے میں کوٸی حرج نہیں ۔ لیکن ان کی پوجا کے دن نہ لے " اھ ( ماخوذ فتاوی شارح بخاری ج 3 ص 139 ) اور اعلی حضرت امام احمد رضا قدس سرہ سے سوال ہوا ہنود جو اپنے معبودان باطل کو ذبیحہ کے سوا اور قسم طعام وشیرنی وغیرہ چڑھاتے ہیں اور اسے بھوگ یا پرشاد نام رکھتے ہیں اس کا کھانا شرعاً حلال ہے یا نہیں؟ اس کے جواب میں تحریر فرماتے ہیں حلال ہے ۔ مگر مسلمان کو احتراز چاہیے " اھ ( فتاوی رضویہ ج 9 ص 6 )
واللہ اعلم باالصواب
کریم اللہ رضوی
خادم التدریس دار مخدومیہ اوشیورہ برج جوگیشوری ممبئی موبائل نمبر 7666456313
کیا فرماتے ہیں مفتیان عظام و علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ میرا بھائی حامد ہندو کے آفیس میں نوکری کرتا ہے اس کے ہندو سیٹھ نے دیوالی کے موقع پر تحفتاٙٙ تین ہزار روپئے دیے اور اس نے اس کو قبول کر لیا تو شرعاٙٙ کیا حکم ہوگا ؟ جواب عنایت فرمائیں ۔
سائل : محمد علی شیر حنفی (یو پی )
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وعلیکم السلام و رحمۃ اللّٰہ و برکاتہ
جواب جائز ہے کافر کا مال ہر طریقے سے کھانا جائز ہے بشرطیکہ دھوکہ دے کر حاصل نہ کیا گیا ہو ، مال موذی نصیب غازی جیسا کہ ھدایہ آخرین میں ہے کہ " ولان مالھم مباح فی دراھم فبای طریق اخذہ المسلم اخذ مالا مباحا اذا لم یکن فیه غدر بخلاف المستامن " اھ ( ھدایہ آخرین ص 70 : ناشر مجلس برکات جامعہ اشرفیہ مبارک پور ) اور فتاوی شارح بخاری میں ہے کہ " مٹھائی پرشاد سمجھ کر نہ لے نہ پرشاد سمجھ کرلینا جاٸز نہ پرشاد سمجھ کر کھانا جاٸز بلکہ جو اسے پرشاد سمجھے یعنی اسے تبرک جانے اس پر توبہ اور تجدید ایمان اور اگر بیوی رکھتا ہو تو تجدید نکاح لازم ۔ہاں بغیر پرشاد سمجھے اور روپیہ پیسہ ”مال موذی نصیب غازی “ سمجھ کر لینے میں کوٸی حرج نہیں ۔ لیکن ان کی پوجا کے دن نہ لے " اھ ( ماخوذ فتاوی شارح بخاری ج 3 ص 139 ) اور اعلی حضرت امام احمد رضا قدس سرہ سے سوال ہوا ہنود جو اپنے معبودان باطل کو ذبیحہ کے سوا اور قسم طعام وشیرنی وغیرہ چڑھاتے ہیں اور اسے بھوگ یا پرشاد نام رکھتے ہیں اس کا کھانا شرعاً حلال ہے یا نہیں؟ اس کے جواب میں تحریر فرماتے ہیں حلال ہے ۔ مگر مسلمان کو احتراز چاہیے " اھ ( فتاوی رضویہ ج 9 ص 6 )
واللہ اعلم باالصواب
کریم اللہ رضوی
خادم التدریس دار مخدومیہ اوشیورہ برج جوگیشوری ممبئی موبائل نمبر 7666456313
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from کریم اللہ رضوی استاذ دار العلوم مخدومیہ جوگیشوری ممبئی
السلام علیکم و رحمة اللہ و برکاتہ
کیا فرما تے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ مسلمانوں کو ہولی کے موقع پر یا دیوالی کے موقع پر رنگ بیچنا یا پٹاخے بیچنا کیسا ہے ؟ حوالے کے ساتھ جواب جواب عنایت فرمائیں ۔
سائل : اجمل حسین گونڈوی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وعلیکم السلام و رحمة اللہ و برکاتہ
*جواب* پٹاخہ اور راکھی کی تجارت جائز نہیں کہ آتش بازی حرام ہے کہ یہ گناہ پر اعانت ہے جو حرام ہے اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے " و لاتعاونوا علی الاثم و العدوان " اھ یعنی اور نیکی اور پرہیزگاری پر ایک دوسرے کی مدد کرو اور گناہ اور زیادتی پر باہم مدد نہ دو " اھ ( پ 6 سورہ مائدہ آیت 2 ) اسی طرح کے ایک سوال کے جواب میں حضور صدر الشریعہ علیہ الرحمہ بہار شریعت میں تحریر فرماتے ہیں کہ " افیون وغیرہ جس کا کھانا نا جائز ہے ایسوں کے ہاتھ فروخت کرنا جو کھاتے ہیں ناجائز ہے کہ اس میں گناہ پر اعانت ہے " اھ ( بہار شریعت ج 16 ص 106 ) اور راکھی کا استعمال صرف رکھشابندھن کے لئے ہوتا ہے جو یہاں کے غیرمسلموں کا مذہبی شعار ہے تو راکھی کی تجارت بھی گناہ پر اعانت ہوئی اس لئے یہ تجارت بھی ناجائز ہے " اھ ( فتاوی مرکز تربیت افتاء ج 2 ص 238 )
لہذا مذکورہ باتوں سے واضح ہوا کہ اسی طرح ہر وہ سامان بیچنا جائز نہیں جو گناہ پر مدد ہو ہاں اگر گناہ پر مدد نہیں ہے اس کا بیچنا اور خریدنا دونوں جائز ہے جیسے آج کل گاوں وغیرہ میں کھیتوں سے جانور کو ڈرانے اور بھاگنے کے لئے پٹاخے وغیرہ دغتے ہیں اس طرح کاموں کے لئے خریدنا اور بیچنا جائز ہے ۔
واللہ اعلم بالصواب
کریم اللہ رضوی
خادم التدریس دار العلوم مخدومیہ اوشیورہ برج جوگیشوری ممبئی موبائل نمبر 7666456313
کیا فرما تے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ مسلمانوں کو ہولی کے موقع پر یا دیوالی کے موقع پر رنگ بیچنا یا پٹاخے بیچنا کیسا ہے ؟ حوالے کے ساتھ جواب جواب عنایت فرمائیں ۔
سائل : اجمل حسین گونڈوی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وعلیکم السلام و رحمة اللہ و برکاتہ
*جواب* پٹاخہ اور راکھی کی تجارت جائز نہیں کہ آتش بازی حرام ہے کہ یہ گناہ پر اعانت ہے جو حرام ہے اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے " و لاتعاونوا علی الاثم و العدوان " اھ یعنی اور نیکی اور پرہیزگاری پر ایک دوسرے کی مدد کرو اور گناہ اور زیادتی پر باہم مدد نہ دو " اھ ( پ 6 سورہ مائدہ آیت 2 ) اسی طرح کے ایک سوال کے جواب میں حضور صدر الشریعہ علیہ الرحمہ بہار شریعت میں تحریر فرماتے ہیں کہ " افیون وغیرہ جس کا کھانا نا جائز ہے ایسوں کے ہاتھ فروخت کرنا جو کھاتے ہیں ناجائز ہے کہ اس میں گناہ پر اعانت ہے " اھ ( بہار شریعت ج 16 ص 106 ) اور راکھی کا استعمال صرف رکھشابندھن کے لئے ہوتا ہے جو یہاں کے غیرمسلموں کا مذہبی شعار ہے تو راکھی کی تجارت بھی گناہ پر اعانت ہوئی اس لئے یہ تجارت بھی ناجائز ہے " اھ ( فتاوی مرکز تربیت افتاء ج 2 ص 238 )
لہذا مذکورہ باتوں سے واضح ہوا کہ اسی طرح ہر وہ سامان بیچنا جائز نہیں جو گناہ پر مدد ہو ہاں اگر گناہ پر مدد نہیں ہے اس کا بیچنا اور خریدنا دونوں جائز ہے جیسے آج کل گاوں وغیرہ میں کھیتوں سے جانور کو ڈرانے اور بھاگنے کے لئے پٹاخے وغیرہ دغتے ہیں اس طرح کاموں کے لئے خریدنا اور بیچنا جائز ہے ۔
واللہ اعلم بالصواب
کریم اللہ رضوی
خادم التدریس دار العلوم مخدومیہ اوشیورہ برج جوگیشوری ممبئی موبائل نمبر 7666456313
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
दीवाली मनाना, मुबारक बाद देना और ग़ैर मुस्लिम के निजी मुआ़मलात को अच्छा जानना कुफ़्र है! [ फ़तावा रज़विया जि⁶ पे¹²⁴ ]
دیوالی منانا، مبارک باد دینا اور کفار کے امور کو اچھا جاننا کفر ہے- [ فتاویٰ رضویہ جِـ⁶ صَـ¹²⁴ ]
Diwali Manana, Mubarak Bad Dena Aur Ghair Muslim Ke Personal Mu'Aamlaat Ko Achchha JaanNa Kufr Hai. [ Fatawa Razviya J⁶ P¹²⁴ ]
دیوالی منانا، مبارک باد دینا اور کفار کے امور کو اچھا جاننا کفر ہے- [ فتاویٰ رضویہ جِـ⁶ صَـ¹²⁴ ]
Diwali Manana, Mubarak Bad Dena Aur Ghair Muslim Ke Personal Mu'Aamlaat Ko Achchha JaanNa Kufr Hai. [ Fatawa Razviya J⁶ P¹²⁴ ]
👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
दीवाली मनाना, मुबारक बाद देना और ग़ैर मुस्लिम के निजी मुआ़मलात को अच्छा जानना कुफ़्र है! [ फ़तावा रज़विया जि⁶ पे¹²⁴ ] دیوالی منانا، مبارک باد دینا اور کفار کے امور کو اچھا جاننا کفر ہے- [ فتاویٰ رضویہ جِـ⁶ صَـ¹²⁴ ] Diwali Manana, Mubarak Bad Dena Aur Ghair…
दीवाली की मिठाई खाना कैसा?
ह़लाल है मगर बचना बेहतर है !
دیوالی کی مٹھائی کھانا کیسا ؟
حلال ہے مگر بچنا بہتر ہے- رَضَا
Deewali / Diwali Ki Mithai Khana Halal Hai Magar Bachna Behtar Hai.
ह़लाल है मगर बचना बेहतर है !
دیوالی کی مٹھائی کھانا کیسا ؟
حلال ہے مگر بچنا بہتر ہے- رَضَا
Deewali / Diwali Ki Mithai Khana Halal Hai Magar Bachna Behtar Hai.
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
दीवाली वाले मसअले की वज़ाह़त
دیوالی والے مسئلے کی وضاحت
ᴰⁱʷᵃˡⁱ ᵂᵃˡᵉ ᴹᵃˢᴬˡᵉ ᴷⁱ ᵂᵃᶻᵃʰᵃᵗ
دیوالی والے مسئلے کی وضاحت
ᴰⁱʷᵃˡⁱ ᵂᵃˡᵉ ᴹᵃˢᴬˡᵉ ᴷⁱ ᵂᵃᶻᵃʰᵃᵗ