Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
#غریب_نواز_کی_مہمانی_اور_شبِ_مالوہ
سفر مالوہ قسط 2
غلام مصطفےٰ نعیمی
مدیر اعلیٰ سوادِ اعظم دہلی
قیام گاہ تک پہنچے ہی تھے کہ مسجدوں سے اذان مغرب کی صدائیں گونجنے لگیں۔نماز سے فارغ ہوئے کہ صاحب خانہ نے دستر خوان سجا دیا۔شاید اس علاقے میں بھی بعد مغرب ہی کھانا کھانے کا رواج ہے۔یوں تو ہمارے آبائی وطن میں بھی بعد مغرب ہی کھانا کھایا جاتا ہے مگر دلّی پہنچ کر پورا نظام یکسر بدل جاتا ہے، یہاں رات کا کھانا نو دس بجے سے پہلے شاید باید ہی کھایا جاتا یے۔ویسے کھانے کے حوالے سے آقائے کریم ﷺ کا یہ ارشاد گرامی بہترین رہ نمائی کرتا ہے:
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِذَا قُدِّمَ الْعَشَاءُ فَابْدَءُوا بِهِ قَبْلَ أَنْ تُصَلُّوا صَلَاةَ الْمَغْرِبِ ، وَلَا تَعْجَلُوا عَنْ عَشَائِكُمْ.
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب شام کا کھانا حاضر کیا جائے تو مغرب کی نماز سے پہلے کھانا کھا لو اور کھانے میں بے مزہ بھی نہ ہونا چاہئے اور اپنا کھانا چھوڑ کر نماز میں جلدی مت کرو۔
(بخاری شریف کتاب الاطعمہ رقم الحدیث 672)
عرب میں دن کا کھانا دوپہر سے کچھ پہلے اور رات کا کھانا سورج ڈوبنے کے آس پاس کھایا جاتا تھا۔یہ عصر ومغرب کا درمیانی وقت، اور اس میں بھی مغرب کے زیادہ قریب ہوتا تھا کہ حضور ﷺ نے اسی کی طرف رہ نمائی فرمائی کہ کوشش کرو نماز مغرب سے پہلے ہی کھانا کھا لو، اگر کھانا نماز کے قریب آئے تو بہ اطمینان کھاؤ پھر نماز ادا کرو تاکہ نماز مکمل اطمینان وسکون کے ساتھ ادا کی جاسکے، ایسا نہ ہو کہ نماز کے لیے کھانا چھوڑیں اور کھانے کے خیال میں نماز کی لذت ختم کریں۔کھانے کے یہ اوقات فطرت کے بہت قریب اور انسانی صحت کے لیے نہایت مفید ہیں مگر ہم لوگوں نے اپنی Routine of life کو اتنا بے ترتیب بنا رکھا ہے کہ بہترین کھانے بھی ہمیں زیادہ فائدہ نہیں پہنچا پاتے۔جب کہ مناسب وقت پر کھایا گیا عام کھانا بھی جسم انسانی کے لیے حد درجہ مفید ہوتا ہے۔
کھانے کے بعد چائے کا دور چلا، چائے کی چسکیوں کے درمیان شہر کے بارے میں مختلف معلومات حاصل کرتا رہا، یہاں تک کہ عشا کی اذانیں شروع ہو گئیں۔نماز عشا کے بعد شہر کے بیچو بیچ واقع مدرسہ انوار العلوم ہائر سیکنڈری اسکول میں پروگرام شروع ہوا۔اندر داخل ہوتے ہوئے میری نگاہ صدر دروازے پر لکھے ہوئے ادارے کے نام پر پڑی جو ہندی میں لکھا ہوا تھا، اندر بھی جہاں نگاہ پڑی وہاں ہندی ہی نظر آئی۔اسٹیج پر لگا ہوا ایک بینر اردو کو زندہ رکھنے کی آخری کوشش کر رہا تھا۔خیال آیا کہ جس شہر میں اردو خواندگی کا تناسب ایک فیصد سے بھی کم ہو وہاں اردو سے بے وفائی کا شکوہ بھی کس سے کیا جائے؟
مجمع اگرچہ کم تھا، مگر خاص بات یہ تھی کہ شرکا میں سارے ہی جوان تھے، دس پانچ افراد ہی ایسے رہے ہوں گے جو 40 پلس ہوں۔نوجوانوں کی تعداد دیکھ کر ہم نے بھی عنوان کے خد وخال قدرے بدل دئے اور "سیرت کی روشنی میں نوجوانوں کا کردار" پر اظہار خیال کیا۔خطاب کے مرکزی نکات یہ تھے:
🔸سیرت رسول کا اہم پیغام بے داغ جوانی ہے۔
🔹سچائی کو اپنی زندگی کا لازمی حصہ بنائیں۔
🔸مزدوری کے بجائے تجارت کو اہمیت دیں۔
🔹حضورﷺ کی عزت وعظمت کو جان سے اہم سمجھیں۔
🔸سیرت کی باتیں بتائیں نہیں، اپنا کر دکھائیں۔
پروگرام کے بعد وسیم میو صاحب نے مولانا یوسف نظامی مصباحی صاحب کا پیغام دیا کہ وہ آپ کا انتظار کر رہے ہیں۔مولانا یوسف نظامی صاحب دارالعلوم غریب نواز، مالیہ کھیڑی ضلع مندسور کے ناظم اعلیٰ اور تحریک علماے مالوہ کے اہم رکن ہیں۔انہیں کی دعوت محبت پر مندسور آنا ہوا تھا۔مندسور سے پرتاپ گڑھ روڈ کی طرف جاتے ہوئے قریب پانچ کلو میٹر کے فاصلے پر مالیہ کھیڑی نامی گاؤں پڑتا ہے۔اس چھوٹے مگر خوب صورت گاؤں میں لب روڈ ہی علم وفن کا ایک شہر آباد ہے، جسے دارالعلوم غریب نواز کہا جاتا ہے۔اس ادارے کو 1987 میں قائم کیا گیا تھا۔ادارے کا قیام مندسور اور پرتاپ گڑھ کے قرب وجوار میں بسنے والی اجمیری برادری کے سرکردہ افراد مرحوم حاجی اللہ رکھا پٹیل، حاجی راجو بابا، حاجی پیر محمد پٹیل، حاجی تاج محمد وغیرہ کے دینی ذوق اور برادری کے سرگرم تعاون سے ہوا۔ادارے کی سنگ بنیاد شہزادہ محدث اعظم ہند، شیخ الاسلام حضرت سید محمد مدنی میاں صاحب دام ظلہ نے رکھی۔2001 میں تعلیم کا آغاز ہوا۔سن 2005 میں اجمیری برادری نے ادارے کی باگ ڈور مولانا یوسف نظامی کو سونپی، یہیں سے ادارے کا تعلیمی عروج شروع ہوا۔گذشتہ پندرہ سال میں ادارے سے سیکڑوں طلبہ حفظ وقرأت اور عالمیت کی تعلیم حاصل کر چکے ہیں۔ادارہ سماجی سطح پر تبلیغی اور اصلاح معاشرہ کی خدمات بھی انجام دیتا ہے۔
سفر مالوہ قسط 2
غلام مصطفےٰ نعیمی
مدیر اعلیٰ سوادِ اعظم دہلی
قیام گاہ تک پہنچے ہی تھے کہ مسجدوں سے اذان مغرب کی صدائیں گونجنے لگیں۔نماز سے فارغ ہوئے کہ صاحب خانہ نے دستر خوان سجا دیا۔شاید اس علاقے میں بھی بعد مغرب ہی کھانا کھانے کا رواج ہے۔یوں تو ہمارے آبائی وطن میں بھی بعد مغرب ہی کھانا کھایا جاتا ہے مگر دلّی پہنچ کر پورا نظام یکسر بدل جاتا ہے، یہاں رات کا کھانا نو دس بجے سے پہلے شاید باید ہی کھایا جاتا یے۔ویسے کھانے کے حوالے سے آقائے کریم ﷺ کا یہ ارشاد گرامی بہترین رہ نمائی کرتا ہے:
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِذَا قُدِّمَ الْعَشَاءُ فَابْدَءُوا بِهِ قَبْلَ أَنْ تُصَلُّوا صَلَاةَ الْمَغْرِبِ ، وَلَا تَعْجَلُوا عَنْ عَشَائِكُمْ.
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب شام کا کھانا حاضر کیا جائے تو مغرب کی نماز سے پہلے کھانا کھا لو اور کھانے میں بے مزہ بھی نہ ہونا چاہئے اور اپنا کھانا چھوڑ کر نماز میں جلدی مت کرو۔
(بخاری شریف کتاب الاطعمہ رقم الحدیث 672)
عرب میں دن کا کھانا دوپہر سے کچھ پہلے اور رات کا کھانا سورج ڈوبنے کے آس پاس کھایا جاتا تھا۔یہ عصر ومغرب کا درمیانی وقت، اور اس میں بھی مغرب کے زیادہ قریب ہوتا تھا کہ حضور ﷺ نے اسی کی طرف رہ نمائی فرمائی کہ کوشش کرو نماز مغرب سے پہلے ہی کھانا کھا لو، اگر کھانا نماز کے قریب آئے تو بہ اطمینان کھاؤ پھر نماز ادا کرو تاکہ نماز مکمل اطمینان وسکون کے ساتھ ادا کی جاسکے، ایسا نہ ہو کہ نماز کے لیے کھانا چھوڑیں اور کھانے کے خیال میں نماز کی لذت ختم کریں۔کھانے کے یہ اوقات فطرت کے بہت قریب اور انسانی صحت کے لیے نہایت مفید ہیں مگر ہم لوگوں نے اپنی Routine of life کو اتنا بے ترتیب بنا رکھا ہے کہ بہترین کھانے بھی ہمیں زیادہ فائدہ نہیں پہنچا پاتے۔جب کہ مناسب وقت پر کھایا گیا عام کھانا بھی جسم انسانی کے لیے حد درجہ مفید ہوتا ہے۔
کھانے کے بعد چائے کا دور چلا، چائے کی چسکیوں کے درمیان شہر کے بارے میں مختلف معلومات حاصل کرتا رہا، یہاں تک کہ عشا کی اذانیں شروع ہو گئیں۔نماز عشا کے بعد شہر کے بیچو بیچ واقع مدرسہ انوار العلوم ہائر سیکنڈری اسکول میں پروگرام شروع ہوا۔اندر داخل ہوتے ہوئے میری نگاہ صدر دروازے پر لکھے ہوئے ادارے کے نام پر پڑی جو ہندی میں لکھا ہوا تھا، اندر بھی جہاں نگاہ پڑی وہاں ہندی ہی نظر آئی۔اسٹیج پر لگا ہوا ایک بینر اردو کو زندہ رکھنے کی آخری کوشش کر رہا تھا۔خیال آیا کہ جس شہر میں اردو خواندگی کا تناسب ایک فیصد سے بھی کم ہو وہاں اردو سے بے وفائی کا شکوہ بھی کس سے کیا جائے؟
مجمع اگرچہ کم تھا، مگر خاص بات یہ تھی کہ شرکا میں سارے ہی جوان تھے، دس پانچ افراد ہی ایسے رہے ہوں گے جو 40 پلس ہوں۔نوجوانوں کی تعداد دیکھ کر ہم نے بھی عنوان کے خد وخال قدرے بدل دئے اور "سیرت کی روشنی میں نوجوانوں کا کردار" پر اظہار خیال کیا۔خطاب کے مرکزی نکات یہ تھے:
🔸سیرت رسول کا اہم پیغام بے داغ جوانی ہے۔
🔹سچائی کو اپنی زندگی کا لازمی حصہ بنائیں۔
🔸مزدوری کے بجائے تجارت کو اہمیت دیں۔
🔹حضورﷺ کی عزت وعظمت کو جان سے اہم سمجھیں۔
🔸سیرت کی باتیں بتائیں نہیں، اپنا کر دکھائیں۔
پروگرام کے بعد وسیم میو صاحب نے مولانا یوسف نظامی مصباحی صاحب کا پیغام دیا کہ وہ آپ کا انتظار کر رہے ہیں۔مولانا یوسف نظامی صاحب دارالعلوم غریب نواز، مالیہ کھیڑی ضلع مندسور کے ناظم اعلیٰ اور تحریک علماے مالوہ کے اہم رکن ہیں۔انہیں کی دعوت محبت پر مندسور آنا ہوا تھا۔مندسور سے پرتاپ گڑھ روڈ کی طرف جاتے ہوئے قریب پانچ کلو میٹر کے فاصلے پر مالیہ کھیڑی نامی گاؤں پڑتا ہے۔اس چھوٹے مگر خوب صورت گاؤں میں لب روڈ ہی علم وفن کا ایک شہر آباد ہے، جسے دارالعلوم غریب نواز کہا جاتا ہے۔اس ادارے کو 1987 میں قائم کیا گیا تھا۔ادارے کا قیام مندسور اور پرتاپ گڑھ کے قرب وجوار میں بسنے والی اجمیری برادری کے سرکردہ افراد مرحوم حاجی اللہ رکھا پٹیل، حاجی راجو بابا، حاجی پیر محمد پٹیل، حاجی تاج محمد وغیرہ کے دینی ذوق اور برادری کے سرگرم تعاون سے ہوا۔ادارے کی سنگ بنیاد شہزادہ محدث اعظم ہند، شیخ الاسلام حضرت سید محمد مدنی میاں صاحب دام ظلہ نے رکھی۔2001 میں تعلیم کا آغاز ہوا۔سن 2005 میں اجمیری برادری نے ادارے کی باگ ڈور مولانا یوسف نظامی کو سونپی، یہیں سے ادارے کا تعلیمی عروج شروع ہوا۔گذشتہ پندرہ سال میں ادارے سے سیکڑوں طلبہ حفظ وقرأت اور عالمیت کی تعلیم حاصل کر چکے ہیں۔ادارہ سماجی سطح پر تبلیغی اور اصلاح معاشرہ کی خدمات بھی انجام دیتا ہے۔
____ادارے کا محل وقوع راجستھان اور مدھیہ پردیش کے ٹھیک بیچو بیچ ہے۔مالوہ کا حصہ ہونے کی وجہ سے علاقے کی زبان اور ثقافت ایک جیسی ہے۔دارالعلوم کی وجہ سے پورا علاقہ فیض یاب ہورہا ہے۔خوش قسمتی سے ادارے کو مخلص اور قابل اساتذہ میسر آئے جس کی بنیاد پر ادارے کی خدمات کا دائرہ دن بہ دن بڑھ رہا ہے۔فی الحال ادارے میں ناظرہ، حفظ قرآن اور درس نظامی کی تعلیم بہ حسن وخوبی ہورہی ہے۔ادارے کے احاطے میں ہی عصری تعلیم کے لیے صفہ پبلک اسکول بھی قائم ہے۔اسی احاطے میں ایک عالی شان مسجد اور مسجد کے ٹھیک سامنے ایک ولی اللہ حاجی بابا کی تربت بھی مرجع خلائق ہے۔اس طرح ایک ہی احاطے میں مسجد، مدرسہ، اسکول اور خانقاہ کا وجود اتنا خوب صورت نظارہ پیش کرتا ہے کہ انسان دیکھے تو دیکھتا رہ جائے۔مولانا یوسف صاحب کی دعوت وخواہش کے مطابق پروگرام سے فارغ ہوکر ادارے کی جانب چل دئے۔
بنارس کی صبح، اَوَدھ کی شام کی طرح شبِِ مالوہ بھی زمانے میں مشہور ہے۔حسن اتفاق سے نصف اکتوبر کی نصف رات میں "شبِ مالوہ" کا احساس کچھ یوں تھا:
کچھ بھی نہ بچا کہنے کو، ہر بات ہوگئی
آؤ کہیں گھومنے چلیں، رات ہوگئی
گلابی سردی سے اٹھکھیلیاں کرتے ہوئے دارالعلوم غریب نواز میں قدم رکھا۔شب مالوہ سے لطف اندوزی اس وقت دوبالا ہوگئی جب مہمان خانہ میں قدم رکھا۔جدید انداز میں تعمیر شدہ مہمان خانہ ناظم اعلی کے ذوق تعمیر کا پتا دے رہا تھا۔ملاقات ہوئی تو کہیں سے بھی محسوس نہیں ہوا کہ پہلی بار مل رہے ہیں ایسا لگ رہا تھا کہ پرانی شناسائی ہے۔ویسے اس شناسائی کی ایک وجہ اور بھی ہے، مولانا یوسف نظامی "روشن مستقبل" کی سوشل میڈیا یونٹ (ایم پی) کے ذمہ دار اور ہمارے عزیز دوست مولانا بلال نظامی کے بہنوئی بھی ہوتے ہیں۔اس لیے بھی گفتگو میں اجنبیت کا نام ونشان تک نہیں تھا۔اوپر سے یوسف صاحب اپنے نام ہی کی طرح اخلاق وکردار کے بھی حسین ہیں اس لیے باتوں اور چائے کی چسکیوں میں کب گھنٹہ گزر گیا پتا ہی نہیں چلا۔ہمارے آرام کا خیال کرتے ہوئے مولانا یوسف صاحب رخصت ہوگئے اب انہیں کیا پتا کہ ہم رَت جگا کرنے والوں کو بھلا شبِ مالوہ میں جاگنے سے کیا فرق پڑنا تھا، اپنا حال تو یہ تھا:
اس سفر میں نیند ایسی کھو گئی
ہم نہ سوئے رات تھک کے سوگئی
(جاری)
٢٥ ربیع الاول ١٤٤٣ھ
یکم نومبر 2021 بروز پیر
https://www.facebook.com/100003223204679/posts/4448450101939053/
بنارس کی صبح، اَوَدھ کی شام کی طرح شبِِ مالوہ بھی زمانے میں مشہور ہے۔حسن اتفاق سے نصف اکتوبر کی نصف رات میں "شبِ مالوہ" کا احساس کچھ یوں تھا:
کچھ بھی نہ بچا کہنے کو، ہر بات ہوگئی
آؤ کہیں گھومنے چلیں، رات ہوگئی
گلابی سردی سے اٹھکھیلیاں کرتے ہوئے دارالعلوم غریب نواز میں قدم رکھا۔شب مالوہ سے لطف اندوزی اس وقت دوبالا ہوگئی جب مہمان خانہ میں قدم رکھا۔جدید انداز میں تعمیر شدہ مہمان خانہ ناظم اعلی کے ذوق تعمیر کا پتا دے رہا تھا۔ملاقات ہوئی تو کہیں سے بھی محسوس نہیں ہوا کہ پہلی بار مل رہے ہیں ایسا لگ رہا تھا کہ پرانی شناسائی ہے۔ویسے اس شناسائی کی ایک وجہ اور بھی ہے، مولانا یوسف نظامی "روشن مستقبل" کی سوشل میڈیا یونٹ (ایم پی) کے ذمہ دار اور ہمارے عزیز دوست مولانا بلال نظامی کے بہنوئی بھی ہوتے ہیں۔اس لیے بھی گفتگو میں اجنبیت کا نام ونشان تک نہیں تھا۔اوپر سے یوسف صاحب اپنے نام ہی کی طرح اخلاق وکردار کے بھی حسین ہیں اس لیے باتوں اور چائے کی چسکیوں میں کب گھنٹہ گزر گیا پتا ہی نہیں چلا۔ہمارے آرام کا خیال کرتے ہوئے مولانا یوسف صاحب رخصت ہوگئے اب انہیں کیا پتا کہ ہم رَت جگا کرنے والوں کو بھلا شبِ مالوہ میں جاگنے سے کیا فرق پڑنا تھا، اپنا حال تو یہ تھا:
اس سفر میں نیند ایسی کھو گئی
ہم نہ سوئے رات تھک کے سوگئی
(جاری)
٢٥ ربیع الاول ١٤٤٣ھ
یکم نومبر 2021 بروز پیر
https://www.facebook.com/100003223204679/posts/4448450101939053/
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
قسط دوم..... #خصوصی_انٹرویو_سید_نظمی_میاں_علیہ_الرحمہ
سوال :موجودہ زمانے میں اہل سنت و جماعت کی تبلیغ واشاعت کا طریقہ کار کیا ہونا چاہئے
جواب:::علماء کرام اور مشائخ عظام کے تبلیغی دورے جاری رہنا چاہئے البتہ یہ دورے صرف نذرانے وصول کرنے کے لئے نا ہوں بلکہ عوام اہلسنت اور مریدین و متوسلین کی روحانی تعلیم و تربیت کے لئے ہوں. اس کے لئے جلسے ضروری نہی بلکہ نجی نشستوں میں زیادہ موثر انداز میں اللہ و رسول کے احکامات سکھائے اور بتائے جا سکتے ہیں - تقریر کے ساتھ ساتھ تحریر کا میدان بھی وسیع کیا جائے - آسان زبان میں عقائد پر کتابیں چھاپی جائیں اور کم قیمت پر یا بلا معاوضہ سنی عوام کو فراہم کی جائیں - ان کتابوں میں سیدھے سادھے انداز میں روز مرہ کے مسائل پر تحریریں ہوں - رد وہابیہ واجبی واجبی ہو چاہے تقریر ہو چاہے تحریر
سوال::اہلسنت و جماعت اور مسلک اعلیحضرت کے بارے میں آپ کا کیا خیال ھے ؟کیا ان دونوں کا مقصود و مطلوب ایک ھے یا الگ الگ
جواب. ::اہلسنت و جماعت کا مذہب وہی ھے جو صحابہ کرام کا تھا اور جس کے بارے میں سرکار مصطفے جان رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے "میری سنت"کہ کر صحابہ کو تلقین فرمائی تھی - اعلیحضرت محدث بریلی نے کوئی نیا مسلک ایجاد نہی کیا بلکہ اسی مذہب کی ترجمانی فرمائی جو اہلبیت اطہار 'صحابہ کبار 'تابعین عظام 'ائمہ ذوی الاحترام خصوصا امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ 'سرکار غوث اعظم رضی اللہ عنہ ' خواجہ غریب نواز رحمتہ اللہ علیہ اور مشائخ سلاسل عالیہ قادریہ چشتیہ سہروردیہ نقشبندیہ ابوالعلائیہ نے تعلیم فرمایا .مذہب اہلسنت اور مسلک اعلیحضرت اس ایک سکہ کے دو رخ ہیں جو عقائد کے بازار میں اپنے کھرے پن کے لئے مشہور ہیں
سوال::موجودہ صورت حال میں کیا مسلک اعلیحضرت کہنا دعوتی نقطہ نگاہ سے مناسب نہی ھے ؟
جواب ::گزشتہ سو ڈیڑھ سو برس سے مسلک اعلیحضرت اہلسنت و جماعت کا شناختی نشان بنا ہوا ھے -ہم میں سے کتنے لوگ فقہ حنفی کا مطالعہ کرنے کی اہلیت واستعداد رکھتے ہیں ؟صوفیائے کرام کی کتابوں کو پڑھنے اور سمجھنے کی صلاحیت کتنے خوش نصیبوں کو حاصل ھے؟ سرکار غوث اعظم رضی اللہ عنہ کی تصانیف ہم میں سے کتنوں کو دستیاب ہیں؟ امام غزالی شیخ بو علی سینا کی تحریروں سے استفادہ کرنے کا موقع ہم میں کتنوں کو ملا ھے؟ اعلیحضرت نے برسوں کی محنت اور تحقیق کے بعد ہمارے لئے عقائد اہلسنت کو آسان زبان میں اپنی کتابوں میں جمع کردیا ھے - فتاوی رضویہ اور اعلیحضرت کی دوسری کتابوں کا مطالعہ ہمارے مذہب 'مسلک اور مشرب ست متعلق ساری ضرورتوں کو پورا کرتا ھے -لہذا آج کل اہلسنت و جماعت کی پہچان کے لئے مسلک اعلیحضرت کا شناختی کارڈ بہت ضروری ھے
سوال :مسلک اعلیحضرت کیا دیوبندیوں کا دیا ہوا نعرہ ھے ؟
جواب ::سب سے پہلی بات تو یہ کہ دیوبندی نعروں میں عقیدہ ہی کب رکھتے ہیں -ان کے تئیں سب مر کر مٹی میں مل گئے- پھر بھلا مسلک اعلیحضرت زندہ باد کی بدعت میں وہ کیوں پڑنے لگے ؟جو لوگ اس نعرے کو دیوبندیوں کی طرف منسوب کرتے ہیں وہ ماوف العقل ہیں مسلک اعلیحضرت کا ذکر سب سے پہلے سرکار سید حسین اشرف کچھوچھوی رحمتہ اللہ علیہ. محدث اعظم ہند رحمتہ اللہ علیہ نے سنی دنیا کو عطا کیا تھا - آج سے کوئی نصف صدی قبل میرے والد ماجد نے بھی ایک شعر کہا ھے
حفظ ناموس رسالت کا جو ذمہ دار ھے
یا الہی مسلک احمد رضا خاں زندہ باد
سوال :خاندان برکات مارہرہ شریف اور بریلی شریف کے رشتے پر روشنی ڈالیں-
جواب : خاندان برکات مارہرہ شریف اور بریلی شریف ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں - وہ برکاتی نہی جو خانوادہ رضا کو نا مانے اور وہ رضوی نہی جو خانوادہ مارہرہ سے عقیدت نا رکھتا ہو - خود اعلیحضرت اس اٹوٹ بندھن کا اعلان فرما گئے ہیں
کیسے آقاوں کا بندہ ہوں رضا
بول بالے میری سرکاروں کے
مارہرہ کے سادات کو ہمیشہ سے ہی اپنے رشتے پر ناز رہا ھے - ہم الحمد للہ سپوت ہیں کپوت نہی - ہمارے اسلاف نے ہمیں محبت کی وراثت عطا کی ھے - اعلیحضرت کو میرے دادا حضرت سید شاہ ابو الحسین احمد نوری میاں علیہ الرحمہ نے چشم و چراغ خاندان برکات کا لقب عطا فرمایا - ہم مارہرہ والے آج بھی اعلیحضرت کو اپنے خاندان کا ایک فرد مانتے ہیں - اعلیحضرت نسب کے لحاظ سے خانزادے تھے مگر ہم سیدزادے اپنے نانا جان صلی اللہ علیہ وسلم کی اس سنت پر عمل پیرا ہیں جس کے تحت سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے لیے فرمایا تھا :: سلمان میرے اہلبیت سے ھے - مینے اپنے ایک شعر میں مارہرہ اور اعلیحضرت کی کی نسبت کا ذکر یوں کیا ھے
حضرت آل رسول پاک کے فیضان
خان زادہ سیدوں کا اعلی حضرت بن گیا
خانوادہ مارہرہ اور بریلی شریف کے رشتے پر اگر لکھا جائے تو ایک ضخیم کتاب تیار ہوجائے
سوال :موجودہ زمانے میں اہل سنت و جماعت کی تبلیغ واشاعت کا طریقہ کار کیا ہونا چاہئے
جواب:::علماء کرام اور مشائخ عظام کے تبلیغی دورے جاری رہنا چاہئے البتہ یہ دورے صرف نذرانے وصول کرنے کے لئے نا ہوں بلکہ عوام اہلسنت اور مریدین و متوسلین کی روحانی تعلیم و تربیت کے لئے ہوں. اس کے لئے جلسے ضروری نہی بلکہ نجی نشستوں میں زیادہ موثر انداز میں اللہ و رسول کے احکامات سکھائے اور بتائے جا سکتے ہیں - تقریر کے ساتھ ساتھ تحریر کا میدان بھی وسیع کیا جائے - آسان زبان میں عقائد پر کتابیں چھاپی جائیں اور کم قیمت پر یا بلا معاوضہ سنی عوام کو فراہم کی جائیں - ان کتابوں میں سیدھے سادھے انداز میں روز مرہ کے مسائل پر تحریریں ہوں - رد وہابیہ واجبی واجبی ہو چاہے تقریر ہو چاہے تحریر
سوال::اہلسنت و جماعت اور مسلک اعلیحضرت کے بارے میں آپ کا کیا خیال ھے ؟کیا ان دونوں کا مقصود و مطلوب ایک ھے یا الگ الگ
جواب. ::اہلسنت و جماعت کا مذہب وہی ھے جو صحابہ کرام کا تھا اور جس کے بارے میں سرکار مصطفے جان رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے "میری سنت"کہ کر صحابہ کو تلقین فرمائی تھی - اعلیحضرت محدث بریلی نے کوئی نیا مسلک ایجاد نہی کیا بلکہ اسی مذہب کی ترجمانی فرمائی جو اہلبیت اطہار 'صحابہ کبار 'تابعین عظام 'ائمہ ذوی الاحترام خصوصا امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ 'سرکار غوث اعظم رضی اللہ عنہ ' خواجہ غریب نواز رحمتہ اللہ علیہ اور مشائخ سلاسل عالیہ قادریہ چشتیہ سہروردیہ نقشبندیہ ابوالعلائیہ نے تعلیم فرمایا .مذہب اہلسنت اور مسلک اعلیحضرت اس ایک سکہ کے دو رخ ہیں جو عقائد کے بازار میں اپنے کھرے پن کے لئے مشہور ہیں
سوال::موجودہ صورت حال میں کیا مسلک اعلیحضرت کہنا دعوتی نقطہ نگاہ سے مناسب نہی ھے ؟
جواب ::گزشتہ سو ڈیڑھ سو برس سے مسلک اعلیحضرت اہلسنت و جماعت کا شناختی نشان بنا ہوا ھے -ہم میں سے کتنے لوگ فقہ حنفی کا مطالعہ کرنے کی اہلیت واستعداد رکھتے ہیں ؟صوفیائے کرام کی کتابوں کو پڑھنے اور سمجھنے کی صلاحیت کتنے خوش نصیبوں کو حاصل ھے؟ سرکار غوث اعظم رضی اللہ عنہ کی تصانیف ہم میں سے کتنوں کو دستیاب ہیں؟ امام غزالی شیخ بو علی سینا کی تحریروں سے استفادہ کرنے کا موقع ہم میں کتنوں کو ملا ھے؟ اعلیحضرت نے برسوں کی محنت اور تحقیق کے بعد ہمارے لئے عقائد اہلسنت کو آسان زبان میں اپنی کتابوں میں جمع کردیا ھے - فتاوی رضویہ اور اعلیحضرت کی دوسری کتابوں کا مطالعہ ہمارے مذہب 'مسلک اور مشرب ست متعلق ساری ضرورتوں کو پورا کرتا ھے -لہذا آج کل اہلسنت و جماعت کی پہچان کے لئے مسلک اعلیحضرت کا شناختی کارڈ بہت ضروری ھے
سوال :مسلک اعلیحضرت کیا دیوبندیوں کا دیا ہوا نعرہ ھے ؟
جواب ::سب سے پہلی بات تو یہ کہ دیوبندی نعروں میں عقیدہ ہی کب رکھتے ہیں -ان کے تئیں سب مر کر مٹی میں مل گئے- پھر بھلا مسلک اعلیحضرت زندہ باد کی بدعت میں وہ کیوں پڑنے لگے ؟جو لوگ اس نعرے کو دیوبندیوں کی طرف منسوب کرتے ہیں وہ ماوف العقل ہیں مسلک اعلیحضرت کا ذکر سب سے پہلے سرکار سید حسین اشرف کچھوچھوی رحمتہ اللہ علیہ. محدث اعظم ہند رحمتہ اللہ علیہ نے سنی دنیا کو عطا کیا تھا - آج سے کوئی نصف صدی قبل میرے والد ماجد نے بھی ایک شعر کہا ھے
حفظ ناموس رسالت کا جو ذمہ دار ھے
یا الہی مسلک احمد رضا خاں زندہ باد
سوال :خاندان برکات مارہرہ شریف اور بریلی شریف کے رشتے پر روشنی ڈالیں-
جواب : خاندان برکات مارہرہ شریف اور بریلی شریف ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں - وہ برکاتی نہی جو خانوادہ رضا کو نا مانے اور وہ رضوی نہی جو خانوادہ مارہرہ سے عقیدت نا رکھتا ہو - خود اعلیحضرت اس اٹوٹ بندھن کا اعلان فرما گئے ہیں
کیسے آقاوں کا بندہ ہوں رضا
بول بالے میری سرکاروں کے
مارہرہ کے سادات کو ہمیشہ سے ہی اپنے رشتے پر ناز رہا ھے - ہم الحمد للہ سپوت ہیں کپوت نہی - ہمارے اسلاف نے ہمیں محبت کی وراثت عطا کی ھے - اعلیحضرت کو میرے دادا حضرت سید شاہ ابو الحسین احمد نوری میاں علیہ الرحمہ نے چشم و چراغ خاندان برکات کا لقب عطا فرمایا - ہم مارہرہ والے آج بھی اعلیحضرت کو اپنے خاندان کا ایک فرد مانتے ہیں - اعلیحضرت نسب کے لحاظ سے خانزادے تھے مگر ہم سیدزادے اپنے نانا جان صلی اللہ علیہ وسلم کی اس سنت پر عمل پیرا ہیں جس کے تحت سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے لیے فرمایا تھا :: سلمان میرے اہلبیت سے ھے - مینے اپنے ایک شعر میں مارہرہ اور اعلیحضرت کی کی نسبت کا ذکر یوں کیا ھے
حضرت آل رسول پاک کے فیضان
خان زادہ سیدوں کا اعلی حضرت بن گیا
خانوادہ مارہرہ اور بریلی شریف کے رشتے پر اگر لکھا جائے تو ایک ضخیم کتاب تیار ہوجائے
سوال::کیا ماضی کے مقابلے میں خانوادہ مارہرہ مطہرہ اور بریلی شریف کے درمیان دوریاں بڑھی ہیں ؟اگر ایسا ھے تو اسکا ذمہ دار آپ کسے مانتے ہیں ؟اور اسکے ختم ہونے اور سابقہ روایات برقرار رکھنے کی کیا کیا صورتیں ہیں ؟
جواب::وقت کے ساتھ ہر چیز میں کچھ نا کچھ تبدیلی ضرور آتی ھے - اب بریلی شریف میں کوئی ہستی ایسی نہی ھے جو مارہرہ کے اسٹیشن پر اترتے ہی اپنی جوتیاں ہاتھ میں لے لے - مہینوں گزر جاتے ہیں بریلی شریف کے عمائدین مارہرہ مطہرہ کی طرف پلٹ کر بھی نہی دیکھتے -اعراس کے موقع پر اکا دکا لوگ اس خانوادے کے مارہرہ شریف ضرور حاضری دیتے ہیں وہ بھی اس وقت جب محفل اختتام کے قریب ہوتی ھے -ایسے میں ہمارا جما جمایا مجمع خراب ہونے کے علاوہ کچھ نہی ہوتا - بریلی شریف میں سال بھر میں کتنی ہی تقریبات منعقد ہوتی ہونگی مگر وہاں سے نا تو کوئی اطلاع آتی ھے نا ہی کوئی دعوت نامہ -ایک مثال اس دوری کی یوں سمجھیے کہ میری والدہ ماجدہ کو پردہ فرمائے ہوئے آٹھ نو برس ہونے کو آئے مگر بریلی شریف سے رمضان کا کیلینڈر اور منی آرڈر فارم آج بھی میری والدہ کے نام سے بھیجا جاتا ھے -ہاں اتنا ضرور ھے کہ اپنے مریدین متوسلین کو یہ تاکید ضرور کی جاتی ھے کہ مارہرہ شریف جائیں تو نظمی میاں سے ضرور ملاقات کریں -اس کا نتیجہ یہ ہوتا ھے کہ پانچ دس لوگ بغیر اطلاع دیے خانقاہ میں پہنچ جاتے ہیں وہ بھی عین کھانے کے وقت
خانقاہ کے اعلی تربیت یافتہ ملازمین انہیں دروازے تک پہنچانے میں ذرا بھی تامل نہی کرتے ویسے جب کبھی میرگ بندوق لائسنس کی تجدید کے سلسلے میں پولس انکوائری آتی ھے تو یہی ملازم ایل آئی او سے یہ کہنے سے نہی چوکتے کہ صاحب یہ تو مارہرہ میں رہتے ہی نہی ہیں- ان دو رویوں کو دور کرنے اور سابقہ روایات برقرار رکھنے ایک ہی صورت ھے کہ اپنے ذہن سے اس خیال فاسد کو نکال دیا جائے کہ مارہرہ مطہرہ کو بریلی شریف سے فیض ملا ھے - کیا اب مارہرہ کے سادات کو اپنی سنیت کی سند کے لئے بریلی کی مہر کی ضرورت پڑیگی ؟خانوادہ اعلیحضرت کے ذمہ دار افراد کو چاہئے کہ اپنے پیر خانے سے ہمہ وقت تعلقات استوار رکھیں - ہماری تقریب میں آئیں اور اپنی تقاریب میں ہمیں بلائیں - محبت و اخوت کی یہ تالی دونوں ہاتھ سے بجے گی - ورنہ یہ خلیج روز بروز بڑھتی ہی جایے گی
سوال::ایک عرصہ تک جماعت اہلسنت میں اشرفی رضوی کے نام پر اختلاف چلا ابھی یہ چیز مکمل طور پر ختم بھی نا ہونے پائی تھی کہ مسلک اعلیحضرت اور مرکز کے نام پر اختلاف و انتشار شروع ہوگیا آپ اس اختلاف کا ذمہ دار کسے مانتے ہیں ؟
جواب. ::اشرفی رضوی کے نام پر آج بھی شدید اختلاف باقی ھے -اور اسکی واحد وجہ ھے طرفین کے دلوں میں جذبہ انانیت - یہ کہتے ہیں ہم اعلیحضرت کے خاندان سے ہیں وہ کہتے ہیں ہم حسنی سادات ہیں - مفاہمت کی بات کوئی نہی کرتا - بڑوں کے اختلاف اب مریدوں کے درمیاں ڈال دیے گئے ہیں - کچھوچھہ والوں کا یہ اصرار کہ اگر بریلی میں اعلیحضرت ہو سکتے ہیں تو کچھوچھہ میں کیوں نہیں - بدایوں کے عثمانی شیوخ الگ اپنی ڈفلی بجا رہے ہیں -چند سال پہلے وہاں بھی ایک عدد اعلیحضرت پیدا ہو چکے ہیں - ادھر مرادآباد میں ایک صاحب خود کو مجدد اور اعلیحضرت کہلوانے پر اڑے ہوئے ہیں - ہو سکتا ھے کہ ماضی قریب میں مارہرہ میں بھی کسی مجدد یا اعلیحضرت کے نام کا اعلان ہو جائے - اس دور میں پیسہ سب کچھ کرا سکتا ھے - مسلک اعلیحضرت اور مرکز کے نام پر اختلاف و انتشار ان چمچوں کا پھیلایا ہوا ھے جو اپنے اپنے پیران طریقت کے آس پاس منڈلاتے رہتے ہیں اور جن کی روزی روٹی اسی سے چلتی ھے - بریلی شریف کو سنیت کا مرکز قرار دیا جانا دوسری خانقاہ والوں کو یقینا برا لگتا ھے - سنی جلسوں میں اکثر اس قسم کے مہمل نعرے لگائے جاتے ہیں ال بریلی چل بریلی آج نہی تو کل بریلی
مارہرہ شریف کے ایک سجادہ نشین صاحب کچھ سال پہلے تک مسلک اعلیحضرت زندہ باد کے نعرے سے بہت خار کھاتے تھے - مارہرہ شریف کے کسی عرس میں جب کوئی یہ نعرہ لگاتا تھا تو سجادہ نشین صاحب بڑے پیچ و تاب کھاتے تھے - انکا کہنا تھا :آقاوں کی سر زمین پر ایک غلام کے نام کے نعرے کیوں لگائے جاتے ہیں ؟
مسلک اعلیحضرت کیوں کہا جاتا ھے ؟ مسلک شاہ برکت اللہ کیوں نہی کہا جاتا؟ وغیرہ وغیرہ - میرے خیال میں یہ اختلاف خود پیر زادوں کا پھیلایا ہوا ھے - جو ہم ہیں وہ کوئی نہی. یہ زعم اس سارے فساد کی جڑ ھے
سوال:: جام نور کے سلسلے میں حضرت علامہ مفتی اختر حسین قادری. مفتی دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی کا فتوی نظرنواز ہوا 'آپ نے اسکی تصدیق بھی فرمائی تھی - ایسی صورت میں جو لوگ قادری. برکاتی.رضوی.اور اشرفی ہونے کا دعوی بھی کرتے ہیں اور جام نور کی معاونت بھی کر رہے ہیں. یہ جماعت کے حق میں کیسا ھے
جواب::وقت کے ساتھ ہر چیز میں کچھ نا کچھ تبدیلی ضرور آتی ھے - اب بریلی شریف میں کوئی ہستی ایسی نہی ھے جو مارہرہ کے اسٹیشن پر اترتے ہی اپنی جوتیاں ہاتھ میں لے لے - مہینوں گزر جاتے ہیں بریلی شریف کے عمائدین مارہرہ مطہرہ کی طرف پلٹ کر بھی نہی دیکھتے -اعراس کے موقع پر اکا دکا لوگ اس خانوادے کے مارہرہ شریف ضرور حاضری دیتے ہیں وہ بھی اس وقت جب محفل اختتام کے قریب ہوتی ھے -ایسے میں ہمارا جما جمایا مجمع خراب ہونے کے علاوہ کچھ نہی ہوتا - بریلی شریف میں سال بھر میں کتنی ہی تقریبات منعقد ہوتی ہونگی مگر وہاں سے نا تو کوئی اطلاع آتی ھے نا ہی کوئی دعوت نامہ -ایک مثال اس دوری کی یوں سمجھیے کہ میری والدہ ماجدہ کو پردہ فرمائے ہوئے آٹھ نو برس ہونے کو آئے مگر بریلی شریف سے رمضان کا کیلینڈر اور منی آرڈر فارم آج بھی میری والدہ کے نام سے بھیجا جاتا ھے -ہاں اتنا ضرور ھے کہ اپنے مریدین متوسلین کو یہ تاکید ضرور کی جاتی ھے کہ مارہرہ شریف جائیں تو نظمی میاں سے ضرور ملاقات کریں -اس کا نتیجہ یہ ہوتا ھے کہ پانچ دس لوگ بغیر اطلاع دیے خانقاہ میں پہنچ جاتے ہیں وہ بھی عین کھانے کے وقت
خانقاہ کے اعلی تربیت یافتہ ملازمین انہیں دروازے تک پہنچانے میں ذرا بھی تامل نہی کرتے ویسے جب کبھی میرگ بندوق لائسنس کی تجدید کے سلسلے میں پولس انکوائری آتی ھے تو یہی ملازم ایل آئی او سے یہ کہنے سے نہی چوکتے کہ صاحب یہ تو مارہرہ میں رہتے ہی نہی ہیں- ان دو رویوں کو دور کرنے اور سابقہ روایات برقرار رکھنے ایک ہی صورت ھے کہ اپنے ذہن سے اس خیال فاسد کو نکال دیا جائے کہ مارہرہ مطہرہ کو بریلی شریف سے فیض ملا ھے - کیا اب مارہرہ کے سادات کو اپنی سنیت کی سند کے لئے بریلی کی مہر کی ضرورت پڑیگی ؟خانوادہ اعلیحضرت کے ذمہ دار افراد کو چاہئے کہ اپنے پیر خانے سے ہمہ وقت تعلقات استوار رکھیں - ہماری تقریب میں آئیں اور اپنی تقاریب میں ہمیں بلائیں - محبت و اخوت کی یہ تالی دونوں ہاتھ سے بجے گی - ورنہ یہ خلیج روز بروز بڑھتی ہی جایے گی
سوال::ایک عرصہ تک جماعت اہلسنت میں اشرفی رضوی کے نام پر اختلاف چلا ابھی یہ چیز مکمل طور پر ختم بھی نا ہونے پائی تھی کہ مسلک اعلیحضرت اور مرکز کے نام پر اختلاف و انتشار شروع ہوگیا آپ اس اختلاف کا ذمہ دار کسے مانتے ہیں ؟
جواب. ::اشرفی رضوی کے نام پر آج بھی شدید اختلاف باقی ھے -اور اسکی واحد وجہ ھے طرفین کے دلوں میں جذبہ انانیت - یہ کہتے ہیں ہم اعلیحضرت کے خاندان سے ہیں وہ کہتے ہیں ہم حسنی سادات ہیں - مفاہمت کی بات کوئی نہی کرتا - بڑوں کے اختلاف اب مریدوں کے درمیاں ڈال دیے گئے ہیں - کچھوچھہ والوں کا یہ اصرار کہ اگر بریلی میں اعلیحضرت ہو سکتے ہیں تو کچھوچھہ میں کیوں نہیں - بدایوں کے عثمانی شیوخ الگ اپنی ڈفلی بجا رہے ہیں -چند سال پہلے وہاں بھی ایک عدد اعلیحضرت پیدا ہو چکے ہیں - ادھر مرادآباد میں ایک صاحب خود کو مجدد اور اعلیحضرت کہلوانے پر اڑے ہوئے ہیں - ہو سکتا ھے کہ ماضی قریب میں مارہرہ میں بھی کسی مجدد یا اعلیحضرت کے نام کا اعلان ہو جائے - اس دور میں پیسہ سب کچھ کرا سکتا ھے - مسلک اعلیحضرت اور مرکز کے نام پر اختلاف و انتشار ان چمچوں کا پھیلایا ہوا ھے جو اپنے اپنے پیران طریقت کے آس پاس منڈلاتے رہتے ہیں اور جن کی روزی روٹی اسی سے چلتی ھے - بریلی شریف کو سنیت کا مرکز قرار دیا جانا دوسری خانقاہ والوں کو یقینا برا لگتا ھے - سنی جلسوں میں اکثر اس قسم کے مہمل نعرے لگائے جاتے ہیں ال بریلی چل بریلی آج نہی تو کل بریلی
مارہرہ شریف کے ایک سجادہ نشین صاحب کچھ سال پہلے تک مسلک اعلیحضرت زندہ باد کے نعرے سے بہت خار کھاتے تھے - مارہرہ شریف کے کسی عرس میں جب کوئی یہ نعرہ لگاتا تھا تو سجادہ نشین صاحب بڑے پیچ و تاب کھاتے تھے - انکا کہنا تھا :آقاوں کی سر زمین پر ایک غلام کے نام کے نعرے کیوں لگائے جاتے ہیں ؟
مسلک اعلیحضرت کیوں کہا جاتا ھے ؟ مسلک شاہ برکت اللہ کیوں نہی کہا جاتا؟ وغیرہ وغیرہ - میرے خیال میں یہ اختلاف خود پیر زادوں کا پھیلایا ہوا ھے - جو ہم ہیں وہ کوئی نہی. یہ زعم اس سارے فساد کی جڑ ھے
سوال:: جام نور کے سلسلے میں حضرت علامہ مفتی اختر حسین قادری. مفتی دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی کا فتوی نظرنواز ہوا 'آپ نے اسکی تصدیق بھی فرمائی تھی - ایسی صورت میں جو لوگ قادری. برکاتی.رضوی.اور اشرفی ہونے کا دعوی بھی کرتے ہیں اور جام نور کی معاونت بھی کر رہے ہیں. یہ جماعت کے حق میں کیسا ھے
جواب ::میں بحمدہ تعالی آج بھی اپنے اسی موقف پر قائم ہوں جس کا اظہار میں نے حضرت مفتی اختر حسین صاحب قادری کے فتوے کی تصدیق کے روپ میں کیا تھا
جہاں تک جام نور کی معاونت کا معاملہ ھے تو اسے منافقت کا نام دیا جا سکتا ھے - اور کسی کا ذکر کیا. ہمدانی کی کتاب پر لکھی میری تقریظ کو لیکر شرر مصباحی صاحب کے قلم سے میری تحریر کی بخیہ ادھڑوانے کا مبارک کام میرے ہی ایک بھائی نے انجام دیا تھا
میرے ایک اور بھائی جام نور اور اس کے مدیر کی سرپرستی فرما رہے ہیں - ہر شخص کے کام کرنے کا اپنا اپنا طریقہ ہوتا ھے - اپنے ذاتی عناد کی خاطر جماعت کے مفاد کو مٹی میں ملا دینے کا شوق ہم میں سے بہتوں کو ھے
چونکہ نظمی نے مفتی دارالعلوم علیمیہ کے فتوے کی تصدیق کی تھی اس لئے محض نظمی کو نیچا دکھانے کی دھن میں جام نور کی سرپرستی شروع کر دی گئی _ نظمی کے مخالفین یہ بھول گئے کہ جام نور اگر اعلیحضرت کی شان میں گستاخی کر سکتا ھے تو کل شاہ برکت اللہ ‛شاہ آل رسول احمدی اور شاہ نوری میاں کے بارے میں بھی یہی رویہ اختیار کر سکتا ھے
جام نور کی ریشہ دوانیوں کی حمایت کرنا یقینا جماعت کے حق میں بہت برا ھے
پیغام رضا ممبئی سے نقل
جاری ھے............
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=4341628172617622&id=100003114457338
جہاں تک جام نور کی معاونت کا معاملہ ھے تو اسے منافقت کا نام دیا جا سکتا ھے - اور کسی کا ذکر کیا. ہمدانی کی کتاب پر لکھی میری تقریظ کو لیکر شرر مصباحی صاحب کے قلم سے میری تحریر کی بخیہ ادھڑوانے کا مبارک کام میرے ہی ایک بھائی نے انجام دیا تھا
میرے ایک اور بھائی جام نور اور اس کے مدیر کی سرپرستی فرما رہے ہیں - ہر شخص کے کام کرنے کا اپنا اپنا طریقہ ہوتا ھے - اپنے ذاتی عناد کی خاطر جماعت کے مفاد کو مٹی میں ملا دینے کا شوق ہم میں سے بہتوں کو ھے
چونکہ نظمی نے مفتی دارالعلوم علیمیہ کے فتوے کی تصدیق کی تھی اس لئے محض نظمی کو نیچا دکھانے کی دھن میں جام نور کی سرپرستی شروع کر دی گئی _ نظمی کے مخالفین یہ بھول گئے کہ جام نور اگر اعلیحضرت کی شان میں گستاخی کر سکتا ھے تو کل شاہ برکت اللہ ‛شاہ آل رسول احمدی اور شاہ نوری میاں کے بارے میں بھی یہی رویہ اختیار کر سکتا ھے
جام نور کی ریشہ دوانیوں کی حمایت کرنا یقینا جماعت کے حق میں بہت برا ھے
پیغام رضا ممبئی سے نقل
جاری ھے............
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=4341628172617622&id=100003114457338
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from کریم اللہ رضوی استاذ دار العلوم مخدومیہ جوگیشوری ممبئی
السلام علیکم و رحمۃ اللّٰہ و برکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ خنزیر کا گوشت کھانا حرام کیوں ہے ؟ اس کی وجہ قرآن و احادیث کی روشنی میں ارشاد فرما دیں ۔
المستفتی : محمد عبد الرحمن
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وعلیکم السلام و رحمۃ اللّٰہ و برکاتہ
جواب مسلمانوں کے خنزیر نہ کھانے کی اصل وجہ تو اللہ تعالی اور اس کے رسول صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا حکم ہے یعنی خنزیر نص قطعی سے حرام ہے جیسا کہ اللہ تعالی فرماتا ہے کہ " اِنَّمَا حَرَّمَ عَلَیۡکُمُ الۡمَیۡتَة وَ الدَّمَ وَ لَحۡمَ الۡخِنۡزِیۡرِ وَ مَاۤ اُهلَّ بِه لِغَیۡرِ اللّٰه " اھ یعنی اس نے یہی تم پر حرام کئے ہیں مردار اور خون اور سُور کا گوشت اور وہ جانور جو غیر خدان کا نام لے کر ذبح کیا گیا " اھ ( پ 2 سورہ بقرہ آیت 173 ) اور یہ نجس العین ہے اس لئے قرآن نے اسے رجس کہا جیسا کہ قرآن میں ہے کہ " او لَحۡمَ خِنۡزِیۡرٍ فَاِنَّه رِجۡسٌ " اھ یعنی یا بد جانور کا گوشت وہ نجاست ہے " اھ ( پ 8 سورہ انعام آیت 145 ) اسلام ایسی نجس و ناپاک چیز دور رہنے کا حکم کرتا ہے اور اس کو کھانے سے روکنے کی بہت زیادہ سائنسی و میڈیکلی وجوہات ہیں ۔ ان میں سے چند درج ذیل ہیں ( 1 ) یہ بہت ہی غلیظ جانور ہے اور ہر گندی چیز کھا جاتا ہے ۔ یہ اس قدر گندا جانور ہے کہ یہ اپنا پیشاب پیتا اور فضلہ کھاتا ہے اور انسانی فضلہ بھی اس کی مرغوب غذا ہے ۔ جس کی وجہ سے اس کے گوشت جراثیم کا مجموعہ بن جاتا ہے اور ایک سائنسی تحقیق کے مطابق اس کے کھانے انسان کو ستر 70 سے زائد بیماریاں لگ سکتی ہیں ۔ ( 2 ) خنزیر کا گوشت زہریلے مادہ کو اپنے اندر جذب کر لیتا ہے اسی وجہ سے اس کے گوشت و چکنائی میں زہریلے مادے عام جانوروں کی مقابلے 30 گنا زیادہ ہوتے ہیں ۔ گویا یہ گوشت بقیہ عام گوشت سے 30 گنا زیادہ زہریلا toxin ہوتا ہے ۔ اور یہ واحد میمالیا ہے جسے پسینہ نہیں آتا جس کی وجہ سے زہریلے مادے جسم سے خارج ہونے کے بجائے اندر ہی رہ جاتے ہیں اور یہ اس قدر زہریلا ہے کی اس کے اوپر خطرناک زہر کا اثر بھی نہیں ہوتا ہے یہاں تک کہ اگر اسے سانپ ڈس جائے تو بھی اسے کچھ نہیں ہوتا ۔ جس سے آپ اس کے اندر موجود زہر کا اندازہ لگا سکتے ہیں اور اس کے پایوں میں ایک سوراخ ہوتا ہے جس سے باہر کے جراثیم اندر جاتے رہتے ہیں اور یہ مزید زہر آلود ہوجاتا ہے ۔ ( 4 ) اس میں چربی کی مقدار بہت ہوتی ہے جس کی وجہ سے کو لیسٹرول بڑھنے سے دل کی بیماریاں جنم لیتی ہیں ۔ ( 5 ) ایک خنزیر میں تیس 30 طرح کی مختلف بیماریاں ہوتی ہیں اس کا گوشت کھانے سے انسان کو کئی طرح کی خطرناک بیماریاں مثلا ہیضہ ، ٹائی فائیڈ ، اور مثانے کا انفیکشن اور ہارٹ اٹیک وغیرہ لگ سکتی ہے ۔ (6) جدید سائنسی تحقیق میں یہ ثابت ہو گیا ہے کہ ٹیپ ورم نامی کیڑے کی ایک خاص قسم سور سے انسانوں میں منتقل ہوتی ہے اور یہ کیڑا دماغ میں پہنچ کر اسے کھانا شروع کر دیتا ہے ۔ سائنسدانوں نے اس کیڑے کو سور کے ساتھ تعلق کی وجہ سے اس کا نام بھی pork tapeworm یعنی " سور ٹیپ ورم " رکھا ہے ۔ لندن سکول آف ہائی جین اینڈ ٹراپیکل میڈیسن کی ڈاکٹر ہیلنا ہیلبی کہتی ہیں کہ پورک ٹیپ ورم خاص طور پر انسانی دماغ کو نشانہ بناتا ہے۔ خنزیر کا گوشت پوری طرح پکا نہ ہونے کی صورت میں اس کیڑے کے انڈے اس میں موجود رہتے ہیں اور آنتوں میں جاکر اس انڈوں سے کیڑے نکل آتے ہیں جو اعصابی نظام میں شامل ہوکر سیدھے دماغ تک جاتے ہیں ۔ اور یہ کیڑا لاروا کی صورت میں سور کے فضلے میں پایا جاتا ہے ۔ سور کے قریب موجود لوگ فضلے سے براہ راست کیڑے کا شکار بن سکتے ہیں ، اسی لئے اسلام اس جانور کو چھونا بھی ناجائز ہے ۔ جب یہ کیڑا جسم میں داخل ہو جاتا ہے تو کئ طرح کی دماغی بیماریاں جنم لیتی ہیں مثلا دماغی اعصاب کا تناؤ یعنی ٹینشن اور مرگی ، اعضا کا فالج وغیرہ ۔ اگر یہی کیڑا آنکھ میں چلا جائے تو بصارت چلی جاتی ہے اور دل میں جانے کی صورت میں ہارٹ اٹیک ہوجاتا ہے ، یہ ساری وجوہات ماہرین غذا اور انگریز ڈاکٹروں کی تحقیق کا نچوڑ ہے جو مختلف انگلش ویب سائٹس پر موجود ہے ۔ اور اس کے علاوہ سور انتہا درجے کا بے غیرت جانور ہے ۔ جنسی تسکین کے نر و مادہ کی تمیز نہیں رکھتا ہے اسے کھانے والے معاشرے میں یہ خصوصیت بآسانی دیکھی جا سکتی ہے کہ وہاں بے غیرتی و بے حیائی آسمانوں سے بات کرتی ہے ، اب تو وہ اپنی بہنوں اور ماؤں سے بھی سیکس سے گریز نہیں کرتے کیونکہ سائنسی تحقیق ثابت ہے کہ خوراک کا براہ راست اثر جسم پر ہوتا ہے جیسا کھا ئنگے ویسا جسم سے ظاہر ہوگا ۔
واللہ اعلم بالصواب
کریم اللہ رضوی
خادم التدریس دار العلوم مخدومیہ اوشیورہ برج جوگیشوری ممبئی موبائل نمبر 7666456313
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ خنزیر کا گوشت کھانا حرام کیوں ہے ؟ اس کی وجہ قرآن و احادیث کی روشنی میں ارشاد فرما دیں ۔
المستفتی : محمد عبد الرحمن
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وعلیکم السلام و رحمۃ اللّٰہ و برکاتہ
جواب مسلمانوں کے خنزیر نہ کھانے کی اصل وجہ تو اللہ تعالی اور اس کے رسول صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا حکم ہے یعنی خنزیر نص قطعی سے حرام ہے جیسا کہ اللہ تعالی فرماتا ہے کہ " اِنَّمَا حَرَّمَ عَلَیۡکُمُ الۡمَیۡتَة وَ الدَّمَ وَ لَحۡمَ الۡخِنۡزِیۡرِ وَ مَاۤ اُهلَّ بِه لِغَیۡرِ اللّٰه " اھ یعنی اس نے یہی تم پر حرام کئے ہیں مردار اور خون اور سُور کا گوشت اور وہ جانور جو غیر خدان کا نام لے کر ذبح کیا گیا " اھ ( پ 2 سورہ بقرہ آیت 173 ) اور یہ نجس العین ہے اس لئے قرآن نے اسے رجس کہا جیسا کہ قرآن میں ہے کہ " او لَحۡمَ خِنۡزِیۡرٍ فَاِنَّه رِجۡسٌ " اھ یعنی یا بد جانور کا گوشت وہ نجاست ہے " اھ ( پ 8 سورہ انعام آیت 145 ) اسلام ایسی نجس و ناپاک چیز دور رہنے کا حکم کرتا ہے اور اس کو کھانے سے روکنے کی بہت زیادہ سائنسی و میڈیکلی وجوہات ہیں ۔ ان میں سے چند درج ذیل ہیں ( 1 ) یہ بہت ہی غلیظ جانور ہے اور ہر گندی چیز کھا جاتا ہے ۔ یہ اس قدر گندا جانور ہے کہ یہ اپنا پیشاب پیتا اور فضلہ کھاتا ہے اور انسانی فضلہ بھی اس کی مرغوب غذا ہے ۔ جس کی وجہ سے اس کے گوشت جراثیم کا مجموعہ بن جاتا ہے اور ایک سائنسی تحقیق کے مطابق اس کے کھانے انسان کو ستر 70 سے زائد بیماریاں لگ سکتی ہیں ۔ ( 2 ) خنزیر کا گوشت زہریلے مادہ کو اپنے اندر جذب کر لیتا ہے اسی وجہ سے اس کے گوشت و چکنائی میں زہریلے مادے عام جانوروں کی مقابلے 30 گنا زیادہ ہوتے ہیں ۔ گویا یہ گوشت بقیہ عام گوشت سے 30 گنا زیادہ زہریلا toxin ہوتا ہے ۔ اور یہ واحد میمالیا ہے جسے پسینہ نہیں آتا جس کی وجہ سے زہریلے مادے جسم سے خارج ہونے کے بجائے اندر ہی رہ جاتے ہیں اور یہ اس قدر زہریلا ہے کی اس کے اوپر خطرناک زہر کا اثر بھی نہیں ہوتا ہے یہاں تک کہ اگر اسے سانپ ڈس جائے تو بھی اسے کچھ نہیں ہوتا ۔ جس سے آپ اس کے اندر موجود زہر کا اندازہ لگا سکتے ہیں اور اس کے پایوں میں ایک سوراخ ہوتا ہے جس سے باہر کے جراثیم اندر جاتے رہتے ہیں اور یہ مزید زہر آلود ہوجاتا ہے ۔ ( 4 ) اس میں چربی کی مقدار بہت ہوتی ہے جس کی وجہ سے کو لیسٹرول بڑھنے سے دل کی بیماریاں جنم لیتی ہیں ۔ ( 5 ) ایک خنزیر میں تیس 30 طرح کی مختلف بیماریاں ہوتی ہیں اس کا گوشت کھانے سے انسان کو کئی طرح کی خطرناک بیماریاں مثلا ہیضہ ، ٹائی فائیڈ ، اور مثانے کا انفیکشن اور ہارٹ اٹیک وغیرہ لگ سکتی ہے ۔ (6) جدید سائنسی تحقیق میں یہ ثابت ہو گیا ہے کہ ٹیپ ورم نامی کیڑے کی ایک خاص قسم سور سے انسانوں میں منتقل ہوتی ہے اور یہ کیڑا دماغ میں پہنچ کر اسے کھانا شروع کر دیتا ہے ۔ سائنسدانوں نے اس کیڑے کو سور کے ساتھ تعلق کی وجہ سے اس کا نام بھی pork tapeworm یعنی " سور ٹیپ ورم " رکھا ہے ۔ لندن سکول آف ہائی جین اینڈ ٹراپیکل میڈیسن کی ڈاکٹر ہیلنا ہیلبی کہتی ہیں کہ پورک ٹیپ ورم خاص طور پر انسانی دماغ کو نشانہ بناتا ہے۔ خنزیر کا گوشت پوری طرح پکا نہ ہونے کی صورت میں اس کیڑے کے انڈے اس میں موجود رہتے ہیں اور آنتوں میں جاکر اس انڈوں سے کیڑے نکل آتے ہیں جو اعصابی نظام میں شامل ہوکر سیدھے دماغ تک جاتے ہیں ۔ اور یہ کیڑا لاروا کی صورت میں سور کے فضلے میں پایا جاتا ہے ۔ سور کے قریب موجود لوگ فضلے سے براہ راست کیڑے کا شکار بن سکتے ہیں ، اسی لئے اسلام اس جانور کو چھونا بھی ناجائز ہے ۔ جب یہ کیڑا جسم میں داخل ہو جاتا ہے تو کئ طرح کی دماغی بیماریاں جنم لیتی ہیں مثلا دماغی اعصاب کا تناؤ یعنی ٹینشن اور مرگی ، اعضا کا فالج وغیرہ ۔ اگر یہی کیڑا آنکھ میں چلا جائے تو بصارت چلی جاتی ہے اور دل میں جانے کی صورت میں ہارٹ اٹیک ہوجاتا ہے ، یہ ساری وجوہات ماہرین غذا اور انگریز ڈاکٹروں کی تحقیق کا نچوڑ ہے جو مختلف انگلش ویب سائٹس پر موجود ہے ۔ اور اس کے علاوہ سور انتہا درجے کا بے غیرت جانور ہے ۔ جنسی تسکین کے نر و مادہ کی تمیز نہیں رکھتا ہے اسے کھانے والے معاشرے میں یہ خصوصیت بآسانی دیکھی جا سکتی ہے کہ وہاں بے غیرتی و بے حیائی آسمانوں سے بات کرتی ہے ، اب تو وہ اپنی بہنوں اور ماؤں سے بھی سیکس سے گریز نہیں کرتے کیونکہ سائنسی تحقیق ثابت ہے کہ خوراک کا براہ راست اثر جسم پر ہوتا ہے جیسا کھا ئنگے ویسا جسم سے ظاہر ہوگا ۔
واللہ اعلم بالصواب
کریم اللہ رضوی
خادم التدریس دار العلوم مخدومیہ اوشیورہ برج جوگیشوری ممبئی موبائل نمبر 7666456313
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from شان محمدالمصباحی القادری
ناپاک چیز کا بدن پر لگنا ناقض وضو نہیں/الکوحل آمیز سینی ٹائزر کا حکم
کیا سینی ٹائزر استعمال کرنے سے وضو ٹوٹ جاے گا کیوں کہ اس میں الکوحل ملا ہوا ہوتا ہے تقریباً ٦٠،٧٠ فی صد یا زیادہ جواب عنایت فرمائیں؟؟
المستفتی:آصف مصباحی
الجواب۔سینی ٹائزر لگانے سے وضو نہیں ٹوٹتا کہ سینی ٹائزر لگانا ناقض وضو نہیں مگر الکوحل حرام و نجس ہے لہذا جس سینی ٹائزر میں الکوحل کی آمیزش ہو اس کا لگانا بھی حرام اور خریدنا بیچنا بھی حرام اور جو شخص اس کا استعمال بتائے مبتلائے گناہ و آثام۔
جس جگہ پر الکوحل آمیز سینی ٹائزر لگایا وہ جگہ ناپاک ہوگئی اس کا دھلنا لازم۔
الکوحل آمیز سینی ٹائزر کی ضرورت و حاجت بھی نہیں کہ رخصت ہو کیونکہ اس کے منافع غیر الکوحل آمیز سینی ٹائزر اور صابون وغیرہ جائز و پاک اشیاء سے حاصل ہیں اور نہ ہی عموم بلوی کا تحقق۔
فتاوی رضویہ میں ہے "شراب کسی قسم کی ہو مطلقاً حرام بھی ہے اور پیشاب کی طرح نجس بھی برانڈی ہو خواہ اسپرٹ خواہ کوئی بلا جس دوا میں اس کا جز ہو خواہ کسی طرح اس کی آمیزش ہو اس کاکھانا پینا بھی حرام اس کا لگانا بھی حرام اس کا بیچنا خریدنا بھی حرام طبیب کہ اس کا استعمال بتائے مبتلائے گناہ و آثام یہی ہمارے ائمہ کرام کا مذہب صحیح ومعتمد ہے"(ج٢٤،ص١٩٤)
وقال الإمام أحمد رضا خان رحمہ اللہ الرحمن فی مقام آخر"بلا شبہ تمام شرابوں کی طرح یہ (اسپرٹ) حرام ہونے کے علاوہ ناپاک بھی ہے لہٰذا جس دوائی میں اس کی ملاوٹ ہو اس کا جسم پر ملنا پہلا حرام ہے اور پینا دوسرا حرام بلکہ تیسرا حرام ہے اس کاحاصل کرنا حرام اس کا خریدنا اٹھانا اور جسم کو اس سے آلودہ کرنایہ سب کام حرام ہیں اور یہاں چوتھا حرام اسے پینا ہے سیّد عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے شراب کے دس افراد پر لعنت فرمائی ان میں سے یہ لوگ ہیں (۱) فروخت کرنے والا (۲)خریدنے والا (۳)اٹھانے والا (۴)وہ جس تک اٹھاکر لے جائے"(ت)۔(ج٢٤، ص٢٠٢)۔
واللہ تعالیٰ اعلم
شان محمد المصباحی القادری
١٣ مئی ٢٠٢٠
کیا سینی ٹائزر استعمال کرنے سے وضو ٹوٹ جاے گا کیوں کہ اس میں الکوحل ملا ہوا ہوتا ہے تقریباً ٦٠،٧٠ فی صد یا زیادہ جواب عنایت فرمائیں؟؟
المستفتی:آصف مصباحی
الجواب۔سینی ٹائزر لگانے سے وضو نہیں ٹوٹتا کہ سینی ٹائزر لگانا ناقض وضو نہیں مگر الکوحل حرام و نجس ہے لہذا جس سینی ٹائزر میں الکوحل کی آمیزش ہو اس کا لگانا بھی حرام اور خریدنا بیچنا بھی حرام اور جو شخص اس کا استعمال بتائے مبتلائے گناہ و آثام۔
جس جگہ پر الکوحل آمیز سینی ٹائزر لگایا وہ جگہ ناپاک ہوگئی اس کا دھلنا لازم۔
الکوحل آمیز سینی ٹائزر کی ضرورت و حاجت بھی نہیں کہ رخصت ہو کیونکہ اس کے منافع غیر الکوحل آمیز سینی ٹائزر اور صابون وغیرہ جائز و پاک اشیاء سے حاصل ہیں اور نہ ہی عموم بلوی کا تحقق۔
فتاوی رضویہ میں ہے "شراب کسی قسم کی ہو مطلقاً حرام بھی ہے اور پیشاب کی طرح نجس بھی برانڈی ہو خواہ اسپرٹ خواہ کوئی بلا جس دوا میں اس کا جز ہو خواہ کسی طرح اس کی آمیزش ہو اس کاکھانا پینا بھی حرام اس کا لگانا بھی حرام اس کا بیچنا خریدنا بھی حرام طبیب کہ اس کا استعمال بتائے مبتلائے گناہ و آثام یہی ہمارے ائمہ کرام کا مذہب صحیح ومعتمد ہے"(ج٢٤،ص١٩٤)
وقال الإمام أحمد رضا خان رحمہ اللہ الرحمن فی مقام آخر"بلا شبہ تمام شرابوں کی طرح یہ (اسپرٹ) حرام ہونے کے علاوہ ناپاک بھی ہے لہٰذا جس دوائی میں اس کی ملاوٹ ہو اس کا جسم پر ملنا پہلا حرام ہے اور پینا دوسرا حرام بلکہ تیسرا حرام ہے اس کاحاصل کرنا حرام اس کا خریدنا اٹھانا اور جسم کو اس سے آلودہ کرنایہ سب کام حرام ہیں اور یہاں چوتھا حرام اسے پینا ہے سیّد عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے شراب کے دس افراد پر لعنت فرمائی ان میں سے یہ لوگ ہیں (۱) فروخت کرنے والا (۲)خریدنے والا (۳)اٹھانے والا (۴)وہ جس تک اٹھاکر لے جائے"(ت)۔(ج٢٤، ص٢٠٢)۔
واللہ تعالیٰ اعلم
شان محمد المصباحی القادری
١٣ مئی ٢٠٢٠
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from فیضـان دارالعــلوم امجـدیہ ناگپور
🕯 « احــکامِ شــریعت » 🕯
-----------------------------------------------------------
📚کیا صرف عورتوں کی گواہی سے نکاح منعقد ہو سکتا ہے؟📚
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
☆ اَلسَّــلَامْ عَلَیْڪُمْ وَرَحمَةُ اللہِ وَبَرَڪَاتُہْ☆
📜الـســــــوال ↓↓↓↓↓↓
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلے میں کہ نکاح خوانی میں گواہی دو عورتیں ہیں تو کیا گواہی مانی جائے گی حوالہ کے ساتھ جواب دیں۔۔۔
المستفتی: سبحان رضا گورکھپوری
◆ــــــــــــــــــــــ((()))ـــــــــــــــــــــــــ◆
★وَعَلَیْڪُمْ اَلسَّــلَامْ وَرَحْمَةُ اللہِ وَبَرَڪَاتُہْ★
الجـــــوابـــــــــــــــ: بعون الملک الوہاب
✍🏻صرف عورتوں کی گواہی سے نکاح منعقد نہیں ہوسکتا انعقاد نکاح کے لئے ضروری ہے کہ دو مرد یا ایک مرد دو عورتیں سنی صحیح العقیدہ عاقل بالغ آزاد حاضر ہوں -
📘فتاوی ھندیہ میں ہے👇🏽
📜" ولا ینعقد بشھادۃ المرأتین بغیر رجل و کذا الخنثین اذا لم یکن معھما رجل ھکذا فی فتاویٰ قاضی خان " اھ
📚( ج:1/ص:267/268/ کتاب النکاح / بیروت)
🖊️مجدد اعظم سیدی سرکار اعلی حضرت الشاہ امام احمد رضا خان محدث بریلوی رضی عنہ ربہ القوی بحوالۂ در مختار تحریر فرماتے ہیں :👇🏽
⚡" شرطہ حضور شاھدین حرین أو حر و حرتین مکلفین " یعنی نکاح منعقد ہونے کی شرط یہ ہے کہ دو مرد یا ایک مرد اور دو عورتیں عاقل بالغ اور حر مجلس میں حاضر ہوں " اھ
اور بحوالۂ بحر الرائق ارشاد فرماتے ہیں کہ "👇🏽
📜" فلا ینعقد بحضرۃ العبید والصبیان " یعنی غلاموں اور بچوں کی موجودگی سے نکاح نہ ہوگا " اھ
📚( فتاوی رضویہ جدید ج:11/ص:217/ کتاب النکاح / مکتبہ دعوت اسلامی)
🖊️اور صدر الشریعہ بدر الطریقہ علیہ الرحمۃ والرضوان بہار شریعت میں تحریر فرماتے ہیں کہ 👇
" صرف عورتوں یا خنثیٰ کی گواہی سے نکاح نہیں ہوسکتا جب تک ان میں کے دو کے ساتھ ایک مرد نہ ہو " اھ
📚( ح:7/ص:12/ نکاح کا بیان / مجلس المدینۃ العلمیۃ دعوت اسلامی)
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
◆ــــــــــــــــــــــ((()))ـــــــــــــــــــــــــ◆
✍️کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:
حضرت علامہ مولانا مفتی محمد اسرار احمد نوری بریلوی صاحب قبلہ مدظلہ العالی والنورانی خادم التدریس والافتاء مدرسہ عربیہ اہل سنت فیض العلوم کالا ڈھونگی ضلع نینی تال اتراکھنڈ۔
رابطــــہ نمبــــر ....⇩⇩
📲+9 1 9 7 5 6 4 6 4 3 1 6
✅الجواب صحیح والمجیب مثاب: مصنف فتاوی اکرمی، حضرت مفتی محمد شہروز عالم رضوی اکرمی مد ظلہ العالی کلکتہ۔
https://t.me/Faizan_E_DarulUloom_Amjadia_Ngp
•┈┈•◉◈◈◉❒❒◉◈◈◉ •┈┈•
-----------------------------------------------------------
📚کیا صرف عورتوں کی گواہی سے نکاح منعقد ہو سکتا ہے؟📚
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
☆ اَلسَّــلَامْ عَلَیْڪُمْ وَرَحمَةُ اللہِ وَبَرَڪَاتُہْ☆
📜الـســــــوال ↓↓↓↓↓↓
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلے میں کہ نکاح خوانی میں گواہی دو عورتیں ہیں تو کیا گواہی مانی جائے گی حوالہ کے ساتھ جواب دیں۔۔۔
المستفتی: سبحان رضا گورکھپوری
◆ــــــــــــــــــــــ((()))ـــــــــــــــــــــــــ◆
★وَعَلَیْڪُمْ اَلسَّــلَامْ وَرَحْمَةُ اللہِ وَبَرَڪَاتُہْ★
الجـــــوابـــــــــــــــ: بعون الملک الوہاب
✍🏻صرف عورتوں کی گواہی سے نکاح منعقد نہیں ہوسکتا انعقاد نکاح کے لئے ضروری ہے کہ دو مرد یا ایک مرد دو عورتیں سنی صحیح العقیدہ عاقل بالغ آزاد حاضر ہوں -
📘فتاوی ھندیہ میں ہے👇🏽
📜" ولا ینعقد بشھادۃ المرأتین بغیر رجل و کذا الخنثین اذا لم یکن معھما رجل ھکذا فی فتاویٰ قاضی خان " اھ
📚( ج:1/ص:267/268/ کتاب النکاح / بیروت)
🖊️مجدد اعظم سیدی سرکار اعلی حضرت الشاہ امام احمد رضا خان محدث بریلوی رضی عنہ ربہ القوی بحوالۂ در مختار تحریر فرماتے ہیں :👇🏽
⚡" شرطہ حضور شاھدین حرین أو حر و حرتین مکلفین " یعنی نکاح منعقد ہونے کی شرط یہ ہے کہ دو مرد یا ایک مرد اور دو عورتیں عاقل بالغ اور حر مجلس میں حاضر ہوں " اھ
اور بحوالۂ بحر الرائق ارشاد فرماتے ہیں کہ "👇🏽
📜" فلا ینعقد بحضرۃ العبید والصبیان " یعنی غلاموں اور بچوں کی موجودگی سے نکاح نہ ہوگا " اھ
📚( فتاوی رضویہ جدید ج:11/ص:217/ کتاب النکاح / مکتبہ دعوت اسلامی)
🖊️اور صدر الشریعہ بدر الطریقہ علیہ الرحمۃ والرضوان بہار شریعت میں تحریر فرماتے ہیں کہ 👇
" صرف عورتوں یا خنثیٰ کی گواہی سے نکاح نہیں ہوسکتا جب تک ان میں کے دو کے ساتھ ایک مرد نہ ہو " اھ
📚( ح:7/ص:12/ نکاح کا بیان / مجلس المدینۃ العلمیۃ دعوت اسلامی)
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
◆ــــــــــــــــــــــ((()))ـــــــــــــــــــــــــ◆
✍️کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:
حضرت علامہ مولانا مفتی محمد اسرار احمد نوری بریلوی صاحب قبلہ مدظلہ العالی والنورانی خادم التدریس والافتاء مدرسہ عربیہ اہل سنت فیض العلوم کالا ڈھونگی ضلع نینی تال اتراکھنڈ۔
رابطــــہ نمبــــر ....⇩⇩
📲+9 1 9 7 5 6 4 6 4 3 1 6
✅الجواب صحیح والمجیب مثاب: مصنف فتاوی اکرمی، حضرت مفتی محمد شہروز عالم رضوی اکرمی مد ظلہ العالی کلکتہ۔
https://t.me/Faizan_E_DarulUloom_Amjadia_Ngp
•┈┈•◉◈◈◉❒❒◉◈◈◉ •┈┈•
Telegram
فیضـان دارالعــلوم امجـدیہ ناگپور
اہلسنت و جماعت مسلک اعلیٰ حضرت کا ترجمان، وسط ہند کی عظیم درسگاہ " دارالعلوم امجدیہ ناگپور مہاراشٹرا" کے نام سے منسوب گروپ
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
⚡️بیعت کی کیا حقیقت ہے ؟ ⚡️
⚡️مرید ہونا کیساہے ؟ ⚡️
السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ
کیا فرماتے ھیں علمائے کرام اس مسئلہ میں
کہ بیعت کی حقیقت کیا ہے؟ اور بیعت کرنا ضروری ہے کیا؟
*سائل* ڈاکٹر شاہ عمران علی قادری
سوال نمبر 2
*آج کل پیری مریدی کا جو طریقہ رائج یے، اس کی اصل کتاب و سنت میں کیا ہے؟؟*
👇👇👇👇👇
و علیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ
*الجواب و باللہ التوفیق :*
بیعت کا لغوی معنیٰ "بِک جانا" ہے اور اصطلاح شرع و تصوف میں اس کی متعدد صورتیں ہیں، جن میں سے ایک یہ ہے کہ "کسی پیر کامل کے ہاتھ میں ہاتھ دے کر گزشتہ گناہوں سے توبہ کرنے، آئندہ گناہوں سے بچتے ہوئے نیک اعمال کا ارادہ کرنے اور اسے اللہ تعالیٰ کی معرفت کا ذریعہ بنانے کا نام بیعت ہے۔ اوربیعت سنت متوارثہ ہے۔ قرآن و سنت میں اس کا ذکر موجود ہے، چناں چہ۔۔
*اصل اول*
حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے دور مبارک میں مختلف مواقع اور مختلف چیزوں پر بیعت لی جاتی تھی۔ مثلاً کبھی تقویٰ و اطاعت، کبھی گناہ کبیرہ سے بچنے اور کبھی گناہ کے علاوہ کاموں پر امیر کی اطاعت پر بیعت لی جاتی تھی-
چناں چہ *ارشاد باری تعالیٰ* ہے:
"إِنَّ الَّذِينَ يُبَايِعُونَكَ إِنَّمَا يُبَايِعُونَ اللَّهَ يَدُ اللَّهِ فَوْقَ أَيْدِيهِمْ"
"يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا جَاءَكَ الْمُؤْمِنَاتُ يُبَايِعْنَكَ عَلَىٰ أَن لَّا يُشْرِكْنَ بِاللَّهِ شَيْئًا وَلَا يَسْرِقْنَ وَلَا يَزْنِينَ وَلَا يَقْتُلْنَ أَوْلَادَهُنَّ وَلَا يَأْتِينَ بِبُهْتَانٍ يَفْتَرِينَهُ بَيْنَ أَيْدِيهِنَّ وَأَرْجُلِهِنَّ وَلَا يَعْصِينَكَ فِي مَعْرُوفٍ ۙ فَبَايِعْهُنَّ وَاسْتَغْفِرْ لَهُنَّ اللَّهَ ۖ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ."
*حدیث شریف میں ہے:*
٣- [عن عبادة بن الصامت:] أن رسولَ اللهِ ﷺ قال، وحولَه عِصابةٌ من أصحابِه: بايِعوني على أن لا تُشرِكوا باللهِ شيئًا، ولا تَسرِقوا، ولا تَزنوا، ولا تقتُلوا أولادَكم، ولا تَأتوا ببُهتانٍ تفتَرونه بين أيدِيكم وأرجُلِكم، ولا تَعصوا في معروفٍ، فمَن وَفَّى منكم فأجرُه على اللهِ، ومَن أصاب من ذلك شيئًا فعوقِبَ في الدنيا فهو كَفَّارةٌ له، ومَن أصاب من ذلك شيئًا ثم سَتَرَه اللهُ فهو إلى اللهِ، إن شاء عَفا عنه وإن شاء عاقَبَه . فبايَعْناه على ذلك .
البخاري (٢٥٦ هـ)، صحيح البخاري ١٨ • [صحيح] •
٤- [عن عبادة بن الصامت:] أن عُبادَةَ بنَ الصامتِ، وكان شَهِدَ بدرًا: أن رسولَ اللهِ ﷺ قال:(بايِعوني) .
البخاري (٢٥٦ هـ)، صحيح البخاري ٣٩٩٩ • [صحيح] •
٤- [عن عبادة بن الصامت:] با يَعْنا رسولَ اللهِ ﷺ على السمعِ والطاعةِ في المَنْشَطِ والمَكْرَهِ، وأن لا نُنازِعَ الأمرَ أهلَه وأن نقومَ، أو: نقولَ بالحقِّ حيثُما كنا لا نَخافُ في اللهِ لَوْمَةَ لائِمٍ .
البخاري (٢٥٦ هـ)، صحيح البخاري ٧١٩٩ • [صحيح] •
٥- [عن سلمة بن الاکوع:] با يَعْنا النبيَّ ﷺ تحتَ الشجرةِ، فقال لي: (يا سلمةُ أَلَا تُبَايِعُ) . قلتُ: يا رسولَ اللهِ، قد بايَعْتُ في الأَوَّلِ، قال: (وفي الثاني).
البخاري (٢٥٦ هـ)، صحيح البخاري ٧٢٠٨ • [صحيح] •
جو بیعت قرآن سنت سے ثابت ہوئی وہ آج بھی رائج ہے اور آجکل خاص طور پر گناہوں سے توبہ اور اعمال صالحہ بجا لانے پر بیعت ہوتی ہے۔
*اعلیٰ حضرت فرماتے ہیں:*
"خاص یہ کہ زید کسی خاص بندۂ خدا ہادی مہتدی قابل پیشوائی و ہدایت جامع شرائط بیعت کے ہاتھ پر بیعت کرے اور اپنے اقوال و افعال و حرکات و سکنات میں اس کی ہدایت مطابقہ شریعت و طریقت کا پابند رہے۔" (95/21)
*اصل دوم*
ایک دوسرے اعتبار سے
بھی بیعت کی اصل ملتی ہے۔
*اعلیٰ حضرت فرماتےہیں:*
"ائمہ کرام فرماتے ہیں: آدمی اگر چہ کتنا ہی بڑا عالم زاہد کامل ہو اس پر واجب ہے کہ ولی عارف کو اپنا مرشد بنائے بغیر اس کے ہرگز چارہ نہیں۔۔۔ یہ اس لئے جو اس راہ کا چلنا چاہے اور ہمت پست کوتاہ دست لوگ اگر سلوک نہ بھی چاہیں تو انھیں توسل کے لئے شیخ کی حاجت ہے-
یوں اللہ عزوجل اپنے بندوں کو بس تھا۔ قال اللہ تعالیٰ (اللہ تعالیٰ نے فرمایا): *الیس ﷲ بکاف عبدہ* ۲؎۔ کیا خدا اپنے بندوں کو کافی نہیں ۔ (۲؎ القرآن الکریم ۳۹/ ۳۶)
مگر قرآن عظیم نے حکم فرمایا: *وابتغوا الیہ الوسیلۃ* ۳؎۔ اللہ کی طرف وسیلہ ڈھونڈو۔ (۳؎القرآن الکریم ۵/ ۳۵)
اللہ کی طرف وسیلہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی طرف وسیلہ مشائخ کرام، سلسلہ بہ سلسلہ جس طرح اللہ عزوجل تک بے وسیلہ رسائی محال قطعی ہے یوںہی رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم تک رسائی بـے وسیلہ دشوار عادی ہے۔
احادیث سے ثابت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم صاحب شفاعت ہیں اللہ عزوجل کے حضور وہ شفیع ہونگے اور ان کے حضور علماء و اولیاء اپنے متوسلوں کی شفاعت کریں گے، مشائخ کرام دنیا و دین و نزع و قبر و حشر سب حالتوں میں اپنے مریدین کی امداد فرماتے ہیں۔۔" (91/21)
⚡️مرید ہونا کیساہے ؟ ⚡️
السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ
کیا فرماتے ھیں علمائے کرام اس مسئلہ میں
کہ بیعت کی حقیقت کیا ہے؟ اور بیعت کرنا ضروری ہے کیا؟
*سائل* ڈاکٹر شاہ عمران علی قادری
سوال نمبر 2
*آج کل پیری مریدی کا جو طریقہ رائج یے، اس کی اصل کتاب و سنت میں کیا ہے؟؟*
👇👇👇👇👇
و علیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ
*الجواب و باللہ التوفیق :*
بیعت کا لغوی معنیٰ "بِک جانا" ہے اور اصطلاح شرع و تصوف میں اس کی متعدد صورتیں ہیں، جن میں سے ایک یہ ہے کہ "کسی پیر کامل کے ہاتھ میں ہاتھ دے کر گزشتہ گناہوں سے توبہ کرنے، آئندہ گناہوں سے بچتے ہوئے نیک اعمال کا ارادہ کرنے اور اسے اللہ تعالیٰ کی معرفت کا ذریعہ بنانے کا نام بیعت ہے۔ اوربیعت سنت متوارثہ ہے۔ قرآن و سنت میں اس کا ذکر موجود ہے، چناں چہ۔۔
*اصل اول*
حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے دور مبارک میں مختلف مواقع اور مختلف چیزوں پر بیعت لی جاتی تھی۔ مثلاً کبھی تقویٰ و اطاعت، کبھی گناہ کبیرہ سے بچنے اور کبھی گناہ کے علاوہ کاموں پر امیر کی اطاعت پر بیعت لی جاتی تھی-
چناں چہ *ارشاد باری تعالیٰ* ہے:
"إِنَّ الَّذِينَ يُبَايِعُونَكَ إِنَّمَا يُبَايِعُونَ اللَّهَ يَدُ اللَّهِ فَوْقَ أَيْدِيهِمْ"
"يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا جَاءَكَ الْمُؤْمِنَاتُ يُبَايِعْنَكَ عَلَىٰ أَن لَّا يُشْرِكْنَ بِاللَّهِ شَيْئًا وَلَا يَسْرِقْنَ وَلَا يَزْنِينَ وَلَا يَقْتُلْنَ أَوْلَادَهُنَّ وَلَا يَأْتِينَ بِبُهْتَانٍ يَفْتَرِينَهُ بَيْنَ أَيْدِيهِنَّ وَأَرْجُلِهِنَّ وَلَا يَعْصِينَكَ فِي مَعْرُوفٍ ۙ فَبَايِعْهُنَّ وَاسْتَغْفِرْ لَهُنَّ اللَّهَ ۖ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ."
*حدیث شریف میں ہے:*
٣- [عن عبادة بن الصامت:] أن رسولَ اللهِ ﷺ قال، وحولَه عِصابةٌ من أصحابِه: بايِعوني على أن لا تُشرِكوا باللهِ شيئًا، ولا تَسرِقوا، ولا تَزنوا، ولا تقتُلوا أولادَكم، ولا تَأتوا ببُهتانٍ تفتَرونه بين أيدِيكم وأرجُلِكم، ولا تَعصوا في معروفٍ، فمَن وَفَّى منكم فأجرُه على اللهِ، ومَن أصاب من ذلك شيئًا فعوقِبَ في الدنيا فهو كَفَّارةٌ له، ومَن أصاب من ذلك شيئًا ثم سَتَرَه اللهُ فهو إلى اللهِ، إن شاء عَفا عنه وإن شاء عاقَبَه . فبايَعْناه على ذلك .
البخاري (٢٥٦ هـ)، صحيح البخاري ١٨ • [صحيح] •
٤- [عن عبادة بن الصامت:] أن عُبادَةَ بنَ الصامتِ، وكان شَهِدَ بدرًا: أن رسولَ اللهِ ﷺ قال:(بايِعوني) .
البخاري (٢٥٦ هـ)، صحيح البخاري ٣٩٩٩ • [صحيح] •
٤- [عن عبادة بن الصامت:] با يَعْنا رسولَ اللهِ ﷺ على السمعِ والطاعةِ في المَنْشَطِ والمَكْرَهِ، وأن لا نُنازِعَ الأمرَ أهلَه وأن نقومَ، أو: نقولَ بالحقِّ حيثُما كنا لا نَخافُ في اللهِ لَوْمَةَ لائِمٍ .
البخاري (٢٥٦ هـ)، صحيح البخاري ٧١٩٩ • [صحيح] •
٥- [عن سلمة بن الاکوع:] با يَعْنا النبيَّ ﷺ تحتَ الشجرةِ، فقال لي: (يا سلمةُ أَلَا تُبَايِعُ) . قلتُ: يا رسولَ اللهِ، قد بايَعْتُ في الأَوَّلِ، قال: (وفي الثاني).
البخاري (٢٥٦ هـ)، صحيح البخاري ٧٢٠٨ • [صحيح] •
جو بیعت قرآن سنت سے ثابت ہوئی وہ آج بھی رائج ہے اور آجکل خاص طور پر گناہوں سے توبہ اور اعمال صالحہ بجا لانے پر بیعت ہوتی ہے۔
*اعلیٰ حضرت فرماتے ہیں:*
"خاص یہ کہ زید کسی خاص بندۂ خدا ہادی مہتدی قابل پیشوائی و ہدایت جامع شرائط بیعت کے ہاتھ پر بیعت کرے اور اپنے اقوال و افعال و حرکات و سکنات میں اس کی ہدایت مطابقہ شریعت و طریقت کا پابند رہے۔" (95/21)
*اصل دوم*
ایک دوسرے اعتبار سے
بھی بیعت کی اصل ملتی ہے۔
*اعلیٰ حضرت فرماتےہیں:*
"ائمہ کرام فرماتے ہیں: آدمی اگر چہ کتنا ہی بڑا عالم زاہد کامل ہو اس پر واجب ہے کہ ولی عارف کو اپنا مرشد بنائے بغیر اس کے ہرگز چارہ نہیں۔۔۔ یہ اس لئے جو اس راہ کا چلنا چاہے اور ہمت پست کوتاہ دست لوگ اگر سلوک نہ بھی چاہیں تو انھیں توسل کے لئے شیخ کی حاجت ہے-
یوں اللہ عزوجل اپنے بندوں کو بس تھا۔ قال اللہ تعالیٰ (اللہ تعالیٰ نے فرمایا): *الیس ﷲ بکاف عبدہ* ۲؎۔ کیا خدا اپنے بندوں کو کافی نہیں ۔ (۲؎ القرآن الکریم ۳۹/ ۳۶)
مگر قرآن عظیم نے حکم فرمایا: *وابتغوا الیہ الوسیلۃ* ۳؎۔ اللہ کی طرف وسیلہ ڈھونڈو۔ (۳؎القرآن الکریم ۵/ ۳۵)
اللہ کی طرف وسیلہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی طرف وسیلہ مشائخ کرام، سلسلہ بہ سلسلہ جس طرح اللہ عزوجل تک بے وسیلہ رسائی محال قطعی ہے یوںہی رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم تک رسائی بـے وسیلہ دشوار عادی ہے۔
احادیث سے ثابت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم صاحب شفاعت ہیں اللہ عزوجل کے حضور وہ شفیع ہونگے اور ان کے حضور علماء و اولیاء اپنے متوسلوں کی شفاعت کریں گے، مشائخ کرام دنیا و دین و نزع و قبر و حشر سب حالتوں میں اپنے مریدین کی امداد فرماتے ہیں۔۔" (91/21)