🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
بعض الفاظ کی دلچسپ اصل اور اشتقاق

لفظوں کی اصل اور ان کی تاریخ کا کھوج ایک دل چسپ علمی مشغلہ ہے۔ تاریخی لسانیات (historical linguistics) اور علم ِ اشتقاقیات (etymology) وہ علوم ہیں جن کی مدد سے لفظوں کی تاریخ ، ان کی اصل اورتاریخ کے مختلف ادوار میں ان کی بدلتی ہوئی شکلوں کا سراغ لگایا جاتا ہے۔آئیے آج چند الفاظ کی اصل اور ان کی تاریخ پر ایک نظر ڈالتے ہیں ۔
٭… برباد
فارسی کے دو الفاظ یعنی بر (پر، اوپر) اور باد (ہوا) سے مل کر’’ برباد‘‘ کی ترکیب بنی ہے۔لفظی معنی ہیں : ہوا کے اوپر، مراد ہے تباہ، خراب، اُجاڑ۔غالباً کسی زمانے میں مکمل ترکیب ’’خاک بر باد ‘‘ رہی ہوگی، یعنی جس کی خاک ہوا پر ہو۔ جب کوئی چیز بالکل تباہ ہوجاتی ہے تو اس کی خاک کو ہوا اڑائے پھرتی ہے ۔ تو بتایئے کہ جس کی خاک بھی ہوا کے دوش پر اڑتی پھرتی ہو اس کی تباہی اور ویرانی میں کیا شبہہ رہ جاتا ہے۔ اسی لیے کہتے ہیں کہ بسا اوقات چند الفاظ مکمل تصویر بلکہ تاریخ بیان کردیتے ہیں ۔

٭…بھیڑ چال
بھیڑ ایک جانور ہے جس کو پالتے ہیں اور چال یعنی چلنے کا انداز یا حرکت کرنے کا طریقہ۔لیکن مجازاً بھیڑ چال کے معنی ہیں دیکھا دیکھی کیا ہوا کوئی کام، بغیر سوچے سمجھے دوسروں کی تقلید ، عام رواج یا دستور کے مطابق آنکھیں بند کرکے کیا گیا عمل ۔ اس کی وجہ ِ تسمیہ یہ ہے کہ بھیڑوں کی عادت ہوتی ہے کہ جہاں ایک جائے گی وہیں سب جائیں گی، ایک کے پیچھے ایک چلتی جائے گی۔اگر بھیڑوں کا کوئی گلّہ کہیں سے گزر رہا ہو اور اس کے راستے میں کوئی رکاوٹ مثلاً لکڑی کا گٹھا رکھ دیاجائے تو سب سے آگے چلنے والی بھیڑ اس مقام پر پہنچ کر ایک جست لگائے گی اورپار ہوجائے گی۔ اس کے بعد پیچھے آنے والی بھیڑیں بھی یہی کریں گی ۔ پھر رکاوٹ ہٹا بھی دی جائے تب بھی پیچھے آنے والی بھیڑیں بغیر دیکھے ٹھیک اس مقام پر پہنچ کر اچھلتی ہوئی گزریں گی۔ اسی سے بھیڑ چال کی ترکیب اندھی تقلید کے معنوں میں رائج ہوگئی۔

٭…تہذیب
عربی لفظ ’’تہذیب ‘‘کو ہم ثقافت یا تمدن کے معنوں میں استعمال کرتے ہیں او ردرست کرتے ہیں۔ لیکن اسٹین گاس کی لغت کے مطابق عربی میں لفظ تہذیب کا مادہ ہذب ہے اور اس کے اصل معنی ہیں صاف کرنا ، کسی چیز کی درستی کرنا یا اسے پاک کرنا یا اسے پالش سے چمکانا ۔ احمد دین نے اپنی کتاب ’’سرگزشتِ ِالفاظ ‘‘ میں لکھا ہے کہ تہذیب کے ایک معنی ہیں کھجور کے درخت سے فالتو چھال کو الگ کرکے اسے صاف کرنا۔چھال کو چھیلنے کا مقصد صاف ستھرا کرنا ہی ہوتا ہے اور جب انسان سے خرابیوں کو چھیل کر دور کردیا جائے تو وہ تہذیب یافتہ یعنی مہذب ہوجاتا ہے۔

٭…ردیف
ردیف عربی لفظ ہے اور اس کے لفظی معنی ہیں گھوڑے پر سوار شخص کے پیچھے بیٹھنے والا۔ چونکہ شاعری میں ردیف وہ لفظ ہوتا ہے یا الفاظ ہوتے ہیں جو قافیے کے پیچھے پیچھے آتے ہیں اس لیے یہ نام رکھاگیا۔

٭…رقیب
رقیب عربی زبان کا لفظ ہے اور اس کے لفظی معنی ہیں محافظ، نگہبان، نگران۔یہ اللہ تعالیٰ کے صفاتی ناموں میں شامل ہے کیونکہ بے شک اللہ تعالیٰ ہر وقت ہمیں دیکھ رہے ہیں۔ اسی لیے لڑکوں کا نام عبدالرقیب رکھا جاتا ہے۔لیکن رقیب کا لفظ اردو میں ایک دوسرے معنی میں بھی مستعمل ہے اور وہ معنی ہیں: حریف یا مخالف، خاص طور پر وہ شخص جو آپ کے محبوب پر عاشق ہو آپ کا رقیب کہلاتا ہے۔ شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ آپ کا رقیب ہر وقت آپ پر نظر رکھتا ہے اور نگرانی کرتا ہے کہ کہیں آپ محبوب کے کوچے میں تو نہیں جارہے ۔ غالباًاسی نگرانی کی وجہ سے اس کا نام رقیب پڑ گیا۔(اور ایسا ہے تو اس لفظ کے استعمال سے بچنا ضروری ہے)

٭…روح ورواں
اردو میں اس ترکیب کو عام طور پر ’’روحِ رواں ‘‘ لکھا جاتا ہے ، مثلاً فلاں صاحب اس ادارے کے روحِ رواں ہیں، لیکن یہ درست نہیں ہے ۔ کیونکہ یہاں ’’رواں ‘‘کے معنی جاری یا چلتا ہوا نہیں ہیں بلکہ ترکیب میں فارسی لفظ رواں ’’جان ، روح ، نفس ‘‘ کے معنوں میں آتا ہے ۔فارسی زبان میں علم ِ نفسیات یعنی سائیکولوجی (psychology)کو روان شناسی کہتے ہیں ۔ یہ اور بات ہے کہ اردو والے بعض اوقات فارسی الفاظ کے آخر میں آنے والے نون کو نون کی بجاے نون غنہ بنادیتے ہیں (خاص کر مرکبات میں )اور روان (نون کے ساتھ)کو رواں (نون غنے کے ساتھ)لکھتے اور بولتے ہیں۔ حالانکہ جدید فارسی میں نون غنہ استعمال نہیں ہوتا اور فارسی کے کلاسیکل شعرا کاجو کلام ایران میں مدوّن ہوکر شائع ہوا ہے اس میں ہر جگہ نون غنے کی بجاے نون لکھا گیا ہے۔خیر یہ تو دوسری بحث نکل آئی، کہنا یہ ہے کہ روحِ رواں اردو میں رائج ہوگیا ہے لیکن بہتر ہے کہ اسے روح و رواں لکھا جائے، یعنی روح اور جان۔ البتہ یہ وضاحت ضروری ہے کہ اسٹین گاس نے اپنی لغت میں لفظ روح کے جو ذیلی مرکبات درج کیے ہیں ان میں روحِ روان بھی شامل ہیں اور اس کے معنی اس نے ’’زندہ روح ‘‘ لکھے ہیں ۔ اسٹین گاس کی اس سند کی بنیاد پر بعض لوگ کہتے ہیں کہ فلاں صاحب اس ادارے کے روحِ رواں (یعنی زندہ روح ) ہیں بولنا درست
ہے۔ بہرحال، یہ تو ایک الگ بحث ہے۔ کہنا صرف یہ تھا کہ اس ترکیب میں ’’رواں‘‘ دراصل جان یا نفس کے معنی میں ہے۔

٭…رُو مال
یہ لفظ فارسی کے دو الفاظ رُو اور مال سے مل کر بنا ہے۔ رو (واوِ معروف ) یعنی چہرہ اور مال دراصل فارسی کے مصدر مالیدن سے ہے اور مطلب ہے مَلنا۔ گو یا رومال کے لفظی معنی ہوئے جسے چہرے پر مَلا جائے۔ جدید فارسی میں اسے ’’دست مال ‘‘ کہتے ہیں اورکبھی ملا کر ’’دستمال‘‘ بھی لکھتے ہیں۔ دست کے معنی ہیں ہاتھ۔ گویا بظاہروہ اس سے ہاتھ ملتے ہیں اور ہم چہرہ۔ لیکن ظاہر ہے کہ رومال کا استعمال اتنامحدود بھی نہیں ہے۔مال سے یاد آیا کہ ایک ترکیب ’’ریگ مال ‘‘ بھی ہے۔ ریگ کہتے ہیں ریت کو۔ریگ مال ایک طرح کا کھردرا کاغذ ہوتا ہے جس سے کسی چیز کی سطح کو رگڑ کر صاف کرتے ہیں۔ چونکہ اس کاغذ یعنی ریگ مال پر ریت جیسے دانے ابھرے ہوتے ہیں اور اس کاغذکو کسی چیز پر مَلتے یا رگڑتے ہیں اس لیے اس کا نام ریگ مال ہوا۔مالیدن کے ’’مال‘‘ سے بنی ہوئی ایک ترکیب گوش مالی بھی ہے، جسے بعض لوگ ملا کر یعنی گوشمالی بھی لکھتے ہیں۔ گوش یعنی کان۔جب کسی کے کان مَلے جائیں یااینٹھے جائیں تو یہ عمل گوش مالی ہے۔گوش مالی مجازاً ڈانٹ ڈپٹ اور تنبیہ کے معنی میں آتا ہے۔

٭…ریشِ قاضی
ریِشِ کہتے ہیں فارسی میں داڑھی کو ، گویا ریشِ قاضی کے لفظی معنی تو ہوئے قاضی کی داڑھی۔ لیکن کنایۃ ً شراب کی بوتل کے ڈاٹ کو ریش ِ قاضی کہا جاتا ہے ، شاید اس لیے کہ شراب اور شرابی کے درمیان قاضی اسی طرح حائل ہوتا ہے جیسے بوتل کا ڈاٹ ۔ریشِ قاضی کا ایک اور مطلب بھی ہے اور وہ ہے شراب کی صافی، یعنی شراب کو چھاننے کے لیے جو کپڑا استعمال ہوتا ہے اسے بھی ریش ِ قاضی کہتے ہیں۔ بہرحال، یہ نام شرارت اور شوخی ہی ہے۔(سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تحقیر سے بچنا لازم ہے)

٭…سہل
اردو میں لفظ سہل کو ہم آسان کے معنی میں لیتے ہیں اوریہ بالکل درست ہے۔ عربی میں بھی سہل کا لفظ آسان کے معنی میں آتا ہے۔لیکن عربی میں سہل کے لفظی معنی ہیں: ہموار میدان، نرم مٹی، نرم چیز ۔ چونکہ ہموار اور نرم زمین پر چلنا آسان ہوتا ہے لہٰذا یہ آسان کے معنی میں بھی آگیا۔

٭…غریب
عربی میں غریب کے لفظی معنی ہیں اجنبی، وہ جو کسی مقام پر نیا آیاہو۔ اسی لیے لفظ غریب کو’’ عجیب و غریب‘‘ کی ترکیب میں اجنبی، نادر یا انوکھا کے مفہوم میں استعمال کرتے ہیں۔ مگر اردو میں غریب کا لفظ مفلس کے معنی میں بولتے ہیں ۔ یعنی امیر کی ضد، لیجیے ایک اور جھگڑا کھڑا ہوگیا کیونکہ’’ امیر ‘‘عربی میں پیسے والے کو نہیں سربراہ یا سردار کو کہتے ہیں۔ ’’غریب ِ شہر ‘‘کی ترکیب میں غریب کا لفظ اجنبی یا نووارد کے معنوں ہی میں آتا ہے۔مسافرکہہ لیجیے۔’’ امیرِ شہر‘‘ کا مطلب ہے شہر کا بڑا یا حاکم۔

٭…قحبہ
قحبہ کا لفظ عربی سے اردو میں آیا ہے اور اس کے معنی ہیں بُرا پیشہ کرنے والی عورت ، طوائف۔ لفظ قحبہ کی اصل عربی لفظ ’’قحب‘‘ہے اور اسٹین گاس کے مطابق اس کے معنی ہیں : کھانسی یا کھانسنا۔ دراصل کسی زمانے میں عرب میں طوائفیں لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لیے کھانسا کرتی تھیں اور اسی سے ان کا یہ نام پڑگیا۔ اسٹین گاس نے قحبہ کی عربی جمع بھی لکھی ہے اور وہ ہے ’’قِحاب ‘‘ (ق کے نیچے زیر، اور یہ فِعا ل کے وزن پر ہے )اور معنی لکھے ہیں whores یعنی طوائفیں۔ اس پر یاد آیا کہ انگریزی میں طوائفوں کے علاقے کو کنایۃً ’’ریڈ لائٹ ایریا ‘‘ (red light area) یعنی سرخ بتیوں کا علاقہ کہتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مغرب میں کسی زمانے میں طوائفیں اپنے گھر کے باہر سرخ رنگ کی بتی روشن کرنے کی پابند تھیں تاکہ انھیں شریف گھرانوں سے الگ کیا جاسکے۔

٭…کھٹمل
کھٹمل دو الفاظ کا مجموعہ ہے، کھٹ یعنی کھاٹ یا چارپائی او رمَل یعنی پہلوان۔ جی جناب ، جسے آپ معمولی کیڑا سمجھتے ہیں وہ واقعی پہلوان ہے، لیکن کھاٹ کا۔

٭…ہڑتال
یہ اصل میں ہَٹ تال تھا ۔ہَٹ یا ہاٹ یعنی دُکان ، جسے ہٹی بھی کہتے ہیں،اور تال یعنی تالا۔ جب ہڑتال ہوئی تو دکان پر تالاتو پڑہی گیا نا۔

٭…ہمالہ
ہمالہ یا ہمالیہ ایک پہاڑ ہے اور اسی سلسلۂ کوہ میں دنیا کی بلند ترین چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ واقع ہے ۔ لیکن ہمالہ کے لفظی معنی ہیں : برف کا گھر ۔اور واقعی جس پہاڑ پر سال کے بارہ مہینے برف جمی رہتی ہو اورجہاں اکثر برفانی طوفان آتے ہوں اس کوبرف کا گھر ہی کہنا چاہیے۔

روزنامہ جنگ کے کالم قرطاسِ ادب سے ماخوذ
5 جولائی 2021ء

https://www.facebook.com/190656494845261/posts/1018741375370098/
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
متمدن زندگی اور صحیح و سچی حیات انسانی جبھی حاصل ہوگی جب کہ بارگاہ نبوت سے تعلیم حاصل کی جائے. اور اس قدر علم کا حصہ جس کی تعلیم مختص انبیا علیھم السلام کے ساتھ ہےاور جس تعلیم کے لیے ان کی بعثت ہوتی ہے. اگر نہ حاصل کیا جائے تو اگر چہ علوم و فنون سے آپ مالامال ہی کیوں نہ ہوجائیں مگر حقیقت میں آپ مفلس ہی رہیں گے. گو ظاہر میں آپ کی حیات انسانی معلوم ہوگی مگر حقیقت میں اس کا ڈھانچہ قالب بے جان ہوگا جو واقعہ میں بے کار و بے سود ہے. جس طرح جسم بلا روح مردہ ہے اسی طرح تمام علوم بغیر تعلیم رسالت کے مردہ ہیں.

خلیفۂ اعلیٰ حضرت سیدسلیمان اشرف بہاری قدس سرہ

https://www.facebook.com/190656494845261/posts/1019330305311205/
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
#غریب_نواز_کی_مہمانی_اور_شبِ_مالوہ

سفر مالوہ قسط 2

غلام مصطفےٰ نعیمی
مدیر اعلیٰ سوادِ اعظم دہلی

قیام گاہ تک پہنچے ہی تھے کہ مسجدوں سے اذان مغرب کی صدائیں گونجنے لگیں۔نماز سے فارغ ہوئے کہ صاحب خانہ نے دستر خوان سجا دیا۔شاید اس علاقے میں بھی بعد مغرب ہی کھانا کھانے کا رواج ہے۔یوں تو ہمارے آبائی وطن میں بھی بعد مغرب ہی کھانا کھایا جاتا ہے مگر دلّی پہنچ کر پورا نظام یکسر بدل جاتا ہے، یہاں رات کا کھانا نو دس بجے سے پہلے شاید باید ہی کھایا جاتا یے۔ویسے کھانے کے حوالے سے آقائے کریم ﷺ کا یہ ارشاد گرامی بہترین رہ نمائی کرتا ہے:
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِذَا قُدِّمَ الْعَشَاءُ فَابْدَءُوا بِهِ قَبْلَ أَنْ تُصَلُّوا صَلَاةَ الْمَغْرِبِ ، وَلَا تَعْجَلُوا عَنْ عَشَائِكُمْ.

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب شام کا کھانا حاضر کیا جائے تو مغرب کی نماز سے پہلے کھانا کھا لو اور کھانے میں بے مزہ بھی نہ ہونا چاہئے اور اپنا کھانا چھوڑ کر نماز میں جلدی مت کرو۔
(بخاری شریف کتاب الاطعمہ رقم الحدیث 672)

عرب میں دن کا کھانا دوپہر سے کچھ پہلے اور رات کا کھانا سورج ڈوبنے کے آس پاس کھایا جاتا تھا۔یہ عصر ومغرب کا درمیانی وقت، اور اس میں بھی مغرب کے زیادہ قریب ہوتا تھا کہ حضور ﷺ نے اسی کی طرف رہ نمائی فرمائی کہ کوشش کرو نماز مغرب سے پہلے ہی کھانا کھا لو، اگر کھانا نماز کے قریب آئے تو بہ اطمینان کھاؤ پھر نماز ادا کرو تاکہ نماز مکمل اطمینان وسکون کے ساتھ ادا کی جاسکے، ایسا نہ ہو کہ نماز کے لیے کھانا چھوڑیں اور کھانے کے خیال میں نماز کی لذت ختم کریں۔کھانے کے یہ اوقات فطرت کے بہت قریب اور انسانی صحت کے لیے نہایت مفید ہیں مگر ہم لوگوں نے اپنی Routine of life کو اتنا بے ترتیب بنا رکھا ہے کہ بہترین کھانے بھی ہمیں زیادہ فائدہ نہیں پہنچا پاتے۔جب کہ مناسب وقت پر کھایا گیا عام کھانا بھی جسم انسانی کے لیے حد درجہ مفید ہوتا ہے۔

کھانے کے بعد چائے کا دور چلا، چائے کی چسکیوں کے درمیان شہر کے بارے میں مختلف معلومات حاصل کرتا رہا، یہاں تک کہ عشا کی اذانیں شروع ہو گئیں۔نماز عشا کے بعد شہر کے بیچو بیچ واقع مدرسہ انوار العلوم ہائر سیکنڈری اسکول میں پروگرام شروع ہوا۔اندر داخل ہوتے ہوئے میری نگاہ صدر دروازے پر لکھے ہوئے ادارے کے نام پر پڑی جو ہندی میں لکھا ہوا تھا، اندر بھی جہاں نگاہ پڑی وہاں ہندی ہی نظر آئی۔اسٹیج پر لگا ہوا ایک بینر اردو کو زندہ رکھنے کی آخری کوشش کر رہا تھا۔خیال آیا کہ جس شہر میں اردو خواندگی کا تناسب ایک فیصد سے بھی کم ہو وہاں اردو سے بے وفائی کا شکوہ بھی کس سے کیا جائے؟
مجمع اگرچہ کم تھا، مگر خاص بات یہ تھی کہ شرکا میں سارے ہی جوان تھے، دس پانچ افراد ہی ایسے رہے ہوں گے جو 40 پلس ہوں۔نوجوانوں کی تعداد دیکھ کر ہم نے بھی عنوان کے خد وخال قدرے بدل دئے اور "سیرت کی روشنی میں نوجوانوں کا کردار" پر اظہار خیال کیا۔خطاب کے مرکزی نکات یہ تھے:
🔸سیرت رسول کا اہم پیغام بے داغ جوانی ہے۔
🔹سچائی کو اپنی زندگی کا لازمی حصہ بنائیں۔
🔸مزدوری کے بجائے تجارت کو اہمیت دیں۔
🔹حضورﷺ کی عزت وعظمت کو جان سے اہم سمجھیں۔
🔸سیرت کی باتیں بتائیں نہیں، اپنا کر دکھائیں۔

پروگرام کے بعد وسیم میو صاحب نے مولانا یوسف نظامی مصباحی صاحب کا پیغام دیا کہ وہ آپ کا انتظار کر رہے ہیں۔مولانا یوسف نظامی صاحب دارالعلوم غریب نواز، مالیہ کھیڑی ضلع مندسور کے ناظم اعلیٰ اور تحریک علماے مالوہ کے اہم رکن ہیں۔انہیں کی دعوت محبت پر مندسور آنا ہوا تھا۔مندسور سے پرتاپ گڑھ روڈ کی طرف جاتے ہوئے قریب پانچ کلو میٹر کے فاصلے پر مالیہ کھیڑی نامی گاؤں پڑتا ہے۔اس چھوٹے مگر خوب صورت گاؤں میں لب روڈ ہی علم وفن کا ایک شہر آباد ہے، جسے دارالعلوم غریب نواز کہا جاتا ہے۔اس ادارے کو 1987 میں قائم کیا گیا تھا۔ادارے کا قیام مندسور اور پرتاپ گڑھ کے قرب وجوار میں بسنے والی اجمیری برادری کے سرکردہ افراد مرحوم حاجی اللہ رکھا پٹیل، حاجی راجو بابا، حاجی پیر محمد پٹیل، حاجی تاج محمد وغیرہ کے دینی ذوق اور برادری کے سرگرم تعاون سے ہوا۔ادارے کی سنگ بنیاد شہزادہ محدث اعظم ہند، شیخ الاسلام حضرت سید محمد مدنی میاں صاحب دام ظلہ نے رکھی۔2001 میں تعلیم کا آغاز ہوا۔سن 2005 میں اجمیری برادری نے ادارے کی باگ ڈور مولانا یوسف نظامی کو سونپی، یہیں سے ادارے کا تعلیمی عروج شروع ہوا۔گذشتہ پندرہ سال میں ادارے سے سیکڑوں طلبہ حفظ وقرأت اور عالمیت کی تعلیم حاصل کر چکے ہیں۔ادارہ سماجی سطح پر تبلیغی اور اصلاح معاشرہ کی خدمات بھی انجام دیتا ہے۔
____ادارے کا محل وقوع راجستھان اور مدھیہ پردیش کے ٹھیک بیچو بیچ ہے۔مالوہ کا حصہ ہونے کی وجہ سے علاقے کی زبان اور ثقافت ایک جیسی ہے۔دارالعلوم کی وجہ سے پورا علاقہ فیض یاب ہورہا ہے۔خوش قسمتی سے ادارے کو مخلص اور قابل اساتذہ میسر آئے جس کی بنیاد پر ادارے کی خدمات کا دائرہ دن بہ دن بڑھ رہا ہے۔فی الحال ادارے میں ناظرہ، حفظ قرآن اور درس نظامی کی تعلیم بہ حسن وخوبی ہورہی ہے۔ادارے کے احاطے میں ہی عصری تعلیم کے لیے صفہ پبلک اسکول بھی قائم ہے۔اسی احاطے میں ایک عالی شان مسجد اور مسجد کے ٹھیک سامنے ایک ولی اللہ حاجی بابا کی تربت بھی مرجع خلائق ہے۔اس طرح ایک ہی احاطے میں مسجد، مدرسہ، اسکول اور خانقاہ کا وجود اتنا خوب صورت نظارہ پیش کرتا ہے کہ انسان دیکھے تو دیکھتا رہ جائے۔مولانا یوسف صاحب کی دعوت وخواہش کے مطابق پروگرام سے فارغ ہوکر ادارے کی جانب چل دئے۔
بنارس کی صبح، اَوَدھ کی شام کی طرح شبِِ مالوہ بھی زمانے میں مشہور ہے۔حسن اتفاق سے نصف اکتوبر کی نصف رات میں "شبِ مالوہ" کا احساس کچھ یوں تھا:

کچھ بھی نہ بچا کہنے کو، ہر بات ہوگئی
آؤ کہیں گھومنے چلیں، رات ہوگئی

گلابی سردی سے اٹھکھیلیاں کرتے ہوئے دارالعلوم غریب نواز میں قدم رکھا۔شب مالوہ سے لطف اندوزی اس وقت دوبالا ہوگئی جب مہمان خانہ میں قدم رکھا۔جدید انداز میں تعمیر شدہ مہمان خانہ ناظم اعلی کے ذوق تعمیر کا پتا دے رہا تھا۔ملاقات ہوئی تو کہیں سے بھی محسوس نہیں ہوا کہ پہلی بار مل رہے ہیں ایسا لگ رہا تھا کہ پرانی شناسائی ہے۔ویسے اس شناسائی کی ایک وجہ اور بھی ہے، مولانا یوسف نظامی "روشن مستقبل" کی سوشل میڈیا یونٹ (ایم پی) کے ذمہ دار اور ہمارے عزیز دوست مولانا بلال نظامی کے بہنوئی بھی ہوتے ہیں۔اس لیے بھی گفتگو میں اجنبیت کا نام ونشان تک نہیں تھا۔اوپر سے یوسف صاحب اپنے نام ہی کی طرح اخلاق وکردار کے بھی حسین ہیں اس لیے باتوں اور چائے کی چسکیوں میں کب گھنٹہ گزر گیا پتا ہی نہیں چلا۔ہمارے آرام کا خیال کرتے ہوئے مولانا یوسف صاحب رخصت ہوگئے اب انہیں کیا پتا کہ ہم رَت جگا کرنے والوں کو بھلا شبِ مالوہ میں جاگنے سے کیا فرق پڑنا تھا، اپنا حال تو یہ تھا:

اس سفر میں نیند ایسی کھو گئی
ہم نہ سوئے رات تھک کے سوگئی
(جاری)

٢٥ ربیع الاول ١٤٤٣ھ
یکم نومبر 2021 بروز پیر

https://www.facebook.com/100003223204679/posts/4448450101939053/