This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
بعض الفاظ کی دلچسپ اصل اور اشتقاق
لفظوں کی اصل اور ان کی تاریخ کا کھوج ایک دل چسپ علمی مشغلہ ہے۔ تاریخی لسانیات (historical linguistics) اور علم ِ اشتقاقیات (etymology) وہ علوم ہیں جن کی مدد سے لفظوں کی تاریخ ، ان کی اصل اورتاریخ کے مختلف ادوار میں ان کی بدلتی ہوئی شکلوں کا سراغ لگایا جاتا ہے۔آئیے آج چند الفاظ کی اصل اور ان کی تاریخ پر ایک نظر ڈالتے ہیں ۔
٭… برباد
فارسی کے دو الفاظ یعنی بر (پر، اوپر) اور باد (ہوا) سے مل کر’’ برباد‘‘ کی ترکیب بنی ہے۔لفظی معنی ہیں : ہوا کے اوپر، مراد ہے تباہ، خراب، اُجاڑ۔غالباً کسی زمانے میں مکمل ترکیب ’’خاک بر باد ‘‘ رہی ہوگی، یعنی جس کی خاک ہوا پر ہو۔ جب کوئی چیز بالکل تباہ ہوجاتی ہے تو اس کی خاک کو ہوا اڑائے پھرتی ہے ۔ تو بتایئے کہ جس کی خاک بھی ہوا کے دوش پر اڑتی پھرتی ہو اس کی تباہی اور ویرانی میں کیا شبہہ رہ جاتا ہے۔ اسی لیے کہتے ہیں کہ بسا اوقات چند الفاظ مکمل تصویر بلکہ تاریخ بیان کردیتے ہیں ۔
٭…بھیڑ چال
بھیڑ ایک جانور ہے جس کو پالتے ہیں اور چال یعنی چلنے کا انداز یا حرکت کرنے کا طریقہ۔لیکن مجازاً بھیڑ چال کے معنی ہیں دیکھا دیکھی کیا ہوا کوئی کام، بغیر سوچے سمجھے دوسروں کی تقلید ، عام رواج یا دستور کے مطابق آنکھیں بند کرکے کیا گیا عمل ۔ اس کی وجہ ِ تسمیہ یہ ہے کہ بھیڑوں کی عادت ہوتی ہے کہ جہاں ایک جائے گی وہیں سب جائیں گی، ایک کے پیچھے ایک چلتی جائے گی۔اگر بھیڑوں کا کوئی گلّہ کہیں سے گزر رہا ہو اور اس کے راستے میں کوئی رکاوٹ مثلاً لکڑی کا گٹھا رکھ دیاجائے تو سب سے آگے چلنے والی بھیڑ اس مقام پر پہنچ کر ایک جست لگائے گی اورپار ہوجائے گی۔ اس کے بعد پیچھے آنے والی بھیڑیں بھی یہی کریں گی ۔ پھر رکاوٹ ہٹا بھی دی جائے تب بھی پیچھے آنے والی بھیڑیں بغیر دیکھے ٹھیک اس مقام پر پہنچ کر اچھلتی ہوئی گزریں گی۔ اسی سے بھیڑ چال کی ترکیب اندھی تقلید کے معنوں میں رائج ہوگئی۔
٭…تہذیب
عربی لفظ ’’تہذیب ‘‘کو ہم ثقافت یا تمدن کے معنوں میں استعمال کرتے ہیں او ردرست کرتے ہیں۔ لیکن اسٹین گاس کی لغت کے مطابق عربی میں لفظ تہذیب کا مادہ ہذب ہے اور اس کے اصل معنی ہیں صاف کرنا ، کسی چیز کی درستی کرنا یا اسے پاک کرنا یا اسے پالش سے چمکانا ۔ احمد دین نے اپنی کتاب ’’سرگزشتِ ِالفاظ ‘‘ میں لکھا ہے کہ تہذیب کے ایک معنی ہیں کھجور کے درخت سے فالتو چھال کو الگ کرکے اسے صاف کرنا۔چھال کو چھیلنے کا مقصد صاف ستھرا کرنا ہی ہوتا ہے اور جب انسان سے خرابیوں کو چھیل کر دور کردیا جائے تو وہ تہذیب یافتہ یعنی مہذب ہوجاتا ہے۔
٭…ردیف
ردیف عربی لفظ ہے اور اس کے لفظی معنی ہیں گھوڑے پر سوار شخص کے پیچھے بیٹھنے والا۔ چونکہ شاعری میں ردیف وہ لفظ ہوتا ہے یا الفاظ ہوتے ہیں جو قافیے کے پیچھے پیچھے آتے ہیں اس لیے یہ نام رکھاگیا۔
٭…رقیب
رقیب عربی زبان کا لفظ ہے اور اس کے لفظی معنی ہیں محافظ، نگہبان، نگران۔یہ اللہ تعالیٰ کے صفاتی ناموں میں شامل ہے کیونکہ بے شک اللہ تعالیٰ ہر وقت ہمیں دیکھ رہے ہیں۔ اسی لیے لڑکوں کا نام عبدالرقیب رکھا جاتا ہے۔لیکن رقیب کا لفظ اردو میں ایک دوسرے معنی میں بھی مستعمل ہے اور وہ معنی ہیں: حریف یا مخالف، خاص طور پر وہ شخص جو آپ کے محبوب پر عاشق ہو آپ کا رقیب کہلاتا ہے۔ شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ آپ کا رقیب ہر وقت آپ پر نظر رکھتا ہے اور نگرانی کرتا ہے کہ کہیں آپ محبوب کے کوچے میں تو نہیں جارہے ۔ غالباًاسی نگرانی کی وجہ سے اس کا نام رقیب پڑ گیا۔(اور ایسا ہے تو اس لفظ کے استعمال سے بچنا ضروری ہے)
٭…روح ورواں
اردو میں اس ترکیب کو عام طور پر ’’روحِ رواں ‘‘ لکھا جاتا ہے ، مثلاً فلاں صاحب اس ادارے کے روحِ رواں ہیں، لیکن یہ درست نہیں ہے ۔ کیونکہ یہاں ’’رواں ‘‘کے معنی جاری یا چلتا ہوا نہیں ہیں بلکہ ترکیب میں فارسی لفظ رواں ’’جان ، روح ، نفس ‘‘ کے معنوں میں آتا ہے ۔فارسی زبان میں علم ِ نفسیات یعنی سائیکولوجی (psychology)کو روان شناسی کہتے ہیں ۔ یہ اور بات ہے کہ اردو والے بعض اوقات فارسی الفاظ کے آخر میں آنے والے نون کو نون کی بجاے نون غنہ بنادیتے ہیں (خاص کر مرکبات میں )اور روان (نون کے ساتھ)کو رواں (نون غنے کے ساتھ)لکھتے اور بولتے ہیں۔ حالانکہ جدید فارسی میں نون غنہ استعمال نہیں ہوتا اور فارسی کے کلاسیکل شعرا کاجو کلام ایران میں مدوّن ہوکر شائع ہوا ہے اس میں ہر جگہ نون غنے کی بجاے نون لکھا گیا ہے۔خیر یہ تو دوسری بحث نکل آئی، کہنا یہ ہے کہ روحِ رواں اردو میں رائج ہوگیا ہے لیکن بہتر ہے کہ اسے روح و رواں لکھا جائے، یعنی روح اور جان۔ البتہ یہ وضاحت ضروری ہے کہ اسٹین گاس نے اپنی لغت میں لفظ روح کے جو ذیلی مرکبات درج کیے ہیں ان میں روحِ روان بھی شامل ہیں اور اس کے معنی اس نے ’’زندہ روح ‘‘ لکھے ہیں ۔ اسٹین گاس کی اس سند کی بنیاد پر بعض لوگ کہتے ہیں کہ فلاں صاحب اس ادارے کے روحِ رواں (یعنی زندہ روح ) ہیں بولنا درست
لفظوں کی اصل اور ان کی تاریخ کا کھوج ایک دل چسپ علمی مشغلہ ہے۔ تاریخی لسانیات (historical linguistics) اور علم ِ اشتقاقیات (etymology) وہ علوم ہیں جن کی مدد سے لفظوں کی تاریخ ، ان کی اصل اورتاریخ کے مختلف ادوار میں ان کی بدلتی ہوئی شکلوں کا سراغ لگایا جاتا ہے۔آئیے آج چند الفاظ کی اصل اور ان کی تاریخ پر ایک نظر ڈالتے ہیں ۔
٭… برباد
فارسی کے دو الفاظ یعنی بر (پر، اوپر) اور باد (ہوا) سے مل کر’’ برباد‘‘ کی ترکیب بنی ہے۔لفظی معنی ہیں : ہوا کے اوپر، مراد ہے تباہ، خراب، اُجاڑ۔غالباً کسی زمانے میں مکمل ترکیب ’’خاک بر باد ‘‘ رہی ہوگی، یعنی جس کی خاک ہوا پر ہو۔ جب کوئی چیز بالکل تباہ ہوجاتی ہے تو اس کی خاک کو ہوا اڑائے پھرتی ہے ۔ تو بتایئے کہ جس کی خاک بھی ہوا کے دوش پر اڑتی پھرتی ہو اس کی تباہی اور ویرانی میں کیا شبہہ رہ جاتا ہے۔ اسی لیے کہتے ہیں کہ بسا اوقات چند الفاظ مکمل تصویر بلکہ تاریخ بیان کردیتے ہیں ۔
٭…بھیڑ چال
بھیڑ ایک جانور ہے جس کو پالتے ہیں اور چال یعنی چلنے کا انداز یا حرکت کرنے کا طریقہ۔لیکن مجازاً بھیڑ چال کے معنی ہیں دیکھا دیکھی کیا ہوا کوئی کام، بغیر سوچے سمجھے دوسروں کی تقلید ، عام رواج یا دستور کے مطابق آنکھیں بند کرکے کیا گیا عمل ۔ اس کی وجہ ِ تسمیہ یہ ہے کہ بھیڑوں کی عادت ہوتی ہے کہ جہاں ایک جائے گی وہیں سب جائیں گی، ایک کے پیچھے ایک چلتی جائے گی۔اگر بھیڑوں کا کوئی گلّہ کہیں سے گزر رہا ہو اور اس کے راستے میں کوئی رکاوٹ مثلاً لکڑی کا گٹھا رکھ دیاجائے تو سب سے آگے چلنے والی بھیڑ اس مقام پر پہنچ کر ایک جست لگائے گی اورپار ہوجائے گی۔ اس کے بعد پیچھے آنے والی بھیڑیں بھی یہی کریں گی ۔ پھر رکاوٹ ہٹا بھی دی جائے تب بھی پیچھے آنے والی بھیڑیں بغیر دیکھے ٹھیک اس مقام پر پہنچ کر اچھلتی ہوئی گزریں گی۔ اسی سے بھیڑ چال کی ترکیب اندھی تقلید کے معنوں میں رائج ہوگئی۔
٭…تہذیب
عربی لفظ ’’تہذیب ‘‘کو ہم ثقافت یا تمدن کے معنوں میں استعمال کرتے ہیں او ردرست کرتے ہیں۔ لیکن اسٹین گاس کی لغت کے مطابق عربی میں لفظ تہذیب کا مادہ ہذب ہے اور اس کے اصل معنی ہیں صاف کرنا ، کسی چیز کی درستی کرنا یا اسے پاک کرنا یا اسے پالش سے چمکانا ۔ احمد دین نے اپنی کتاب ’’سرگزشتِ ِالفاظ ‘‘ میں لکھا ہے کہ تہذیب کے ایک معنی ہیں کھجور کے درخت سے فالتو چھال کو الگ کرکے اسے صاف کرنا۔چھال کو چھیلنے کا مقصد صاف ستھرا کرنا ہی ہوتا ہے اور جب انسان سے خرابیوں کو چھیل کر دور کردیا جائے تو وہ تہذیب یافتہ یعنی مہذب ہوجاتا ہے۔
٭…ردیف
ردیف عربی لفظ ہے اور اس کے لفظی معنی ہیں گھوڑے پر سوار شخص کے پیچھے بیٹھنے والا۔ چونکہ شاعری میں ردیف وہ لفظ ہوتا ہے یا الفاظ ہوتے ہیں جو قافیے کے پیچھے پیچھے آتے ہیں اس لیے یہ نام رکھاگیا۔
٭…رقیب
رقیب عربی زبان کا لفظ ہے اور اس کے لفظی معنی ہیں محافظ، نگہبان، نگران۔یہ اللہ تعالیٰ کے صفاتی ناموں میں شامل ہے کیونکہ بے شک اللہ تعالیٰ ہر وقت ہمیں دیکھ رہے ہیں۔ اسی لیے لڑکوں کا نام عبدالرقیب رکھا جاتا ہے۔لیکن رقیب کا لفظ اردو میں ایک دوسرے معنی میں بھی مستعمل ہے اور وہ معنی ہیں: حریف یا مخالف، خاص طور پر وہ شخص جو آپ کے محبوب پر عاشق ہو آپ کا رقیب کہلاتا ہے۔ شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ آپ کا رقیب ہر وقت آپ پر نظر رکھتا ہے اور نگرانی کرتا ہے کہ کہیں آپ محبوب کے کوچے میں تو نہیں جارہے ۔ غالباًاسی نگرانی کی وجہ سے اس کا نام رقیب پڑ گیا۔(اور ایسا ہے تو اس لفظ کے استعمال سے بچنا ضروری ہے)
٭…روح ورواں
اردو میں اس ترکیب کو عام طور پر ’’روحِ رواں ‘‘ لکھا جاتا ہے ، مثلاً فلاں صاحب اس ادارے کے روحِ رواں ہیں، لیکن یہ درست نہیں ہے ۔ کیونکہ یہاں ’’رواں ‘‘کے معنی جاری یا چلتا ہوا نہیں ہیں بلکہ ترکیب میں فارسی لفظ رواں ’’جان ، روح ، نفس ‘‘ کے معنوں میں آتا ہے ۔فارسی زبان میں علم ِ نفسیات یعنی سائیکولوجی (psychology)کو روان شناسی کہتے ہیں ۔ یہ اور بات ہے کہ اردو والے بعض اوقات فارسی الفاظ کے آخر میں آنے والے نون کو نون کی بجاے نون غنہ بنادیتے ہیں (خاص کر مرکبات میں )اور روان (نون کے ساتھ)کو رواں (نون غنے کے ساتھ)لکھتے اور بولتے ہیں۔ حالانکہ جدید فارسی میں نون غنہ استعمال نہیں ہوتا اور فارسی کے کلاسیکل شعرا کاجو کلام ایران میں مدوّن ہوکر شائع ہوا ہے اس میں ہر جگہ نون غنے کی بجاے نون لکھا گیا ہے۔خیر یہ تو دوسری بحث نکل آئی، کہنا یہ ہے کہ روحِ رواں اردو میں رائج ہوگیا ہے لیکن بہتر ہے کہ اسے روح و رواں لکھا جائے، یعنی روح اور جان۔ البتہ یہ وضاحت ضروری ہے کہ اسٹین گاس نے اپنی لغت میں لفظ روح کے جو ذیلی مرکبات درج کیے ہیں ان میں روحِ روان بھی شامل ہیں اور اس کے معنی اس نے ’’زندہ روح ‘‘ لکھے ہیں ۔ اسٹین گاس کی اس سند کی بنیاد پر بعض لوگ کہتے ہیں کہ فلاں صاحب اس ادارے کے روحِ رواں (یعنی زندہ روح ) ہیں بولنا درست