🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.85K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
Photo
#جشن_عید_میلاد_النبی_ﷺ 78
#ماہ_ربیع_النور #ماہ_ربیع_الاول
موضوع #میلاد_النبی📜
#ڈاکٹر_غلام_مرسلین_رضوی
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
امام ترمذی نے میلاد النبی کا باب
80 ہزار کا موبائل اور میلاد پر ...
میلاد پر خرچ کرنا اسراف نہیں‌ہے
ولادت مصطفیٰ پر اظہار خوشی
ولادت‌پر شیطان بلندآواز سے رویا
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
🤲 💐 ہدیہ تشکر و استغفار 🤲
امام ترمذی نے میلاد النبی کا باب
۸۰ ہزار کا موبائل اور میلاد پر ...
میلاد پر خرچ کرنا اسراف نہیں‌ہے
🤲 💐 ہدیہ تشکر و استغفار 🤲
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
*📚 « مختصــر ســوانح حیــات » 📚*
-----------------------------------------------------------
*🕯حضرت شیخ امام عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللّٰه علیہ🕯*


*نام و نسب:*
*اسم گرامی:* شیخ عبدالحق محدث دہلوی۔
*کنیت:* ابوالمجد۔
*لقب:* محقق علی الاطلاق، شیخِ محقق، خاتم المحدثین، افضل المحدثین، امام الہند۔
*سلسلۂ نسب اس طرح ہے:* شیخ عبدالحق محدث دہلوی بن سیف الدین بن سعداللہ بن فیروز بن ملک موسیٰ بن ملک معزالدین بن آغا محمد ترک بخاری۔ علیہم الرحمہ
حضرت شیخ کے اجداد کا وطن بخارا تھا سب سے پہلے آغاز محمد ترک سلطان علاءالدین خلجی کے زمانہ 1296ء میں ترک وطن کرکے دہلی آئے، ان کے ساتھ اعزہ و احباب اور مریدین کی ایک بڑی تعداد بھی واردِ ہندوستان ہوئی۔ شاہان دہلی اس خاندان کی ہمیشہ تعظیم و توقیر کرتے اور شاہانہ عنایتوں سے نوازتے رہتے۔ اور یہ خانوادہ دہلی میں علوم و معارف کی شمعیں روشن کرتا رہا۔
*(محدثین عظام حیات وخدمات:621)*

اسی طرح آپ کا ننھیال بھی علم و تقویٰ میں اپنی مثال آپ تھا۔ شیخ کی والدہ محترمہ مولانا زین العابدین المعروف بہ شیخ ادھنؔ دہلوی رحمۃ اللّٰه علیہ کی بیٹی تھیں۔ شیخ سیف الدین رحمہ اللّٰه (والد گرامی حضرت محقق) فرماتےتھے: حضرت شیخ ادھن بڑے دانش مند، اور عابد و زاہد تھے۔ بےحد خشوع و خضوع، خاکساری، ادب و تہذیب اور وقار و دبدبہ والے بزرگ تھے۔ میں نے کوئی ایسا نہیں دیکھا جس کا حال ظاہر و باطن یکساں ہو، سوائے شیخ ادھن کے۔
الغرض یہ کہ حضرت شیخ رحمۃ اللّٰہ کے ددھیال اور ننھیال دونوں علم و فضل، تقویٰ و دیانت میں ممتاز تھے۔ ان کا دینی احساس بھی بیدار تھا، اپنے دامن کو دنیا کی آلائشوں سے پاک و صاف رکھا، اور اپنے دیگر معاصرین کی طرح دنیوی عزت و حشمت کی خاطر علم و دیانت کو بے آبرو نہیں کیا۔
*(شیخ عبد الحق محدث دہلوی:91)*

*تاریخِ ولادت:* آپ کی ولادت باسعادت یکم محرم الحرام 958ھ، مطابق 9/جنوری 1551ء بروز منگل بمقام دہلی (ہند) میں ہوئی۔

*تحصیلِ علم:* حضرت شیخ نے ابتدائی تعلیم کا آغاز اپنے والد شیخ سیف الدین کی آغوش ِشفقت میں کیا۔ شیخ اتنے ذہین اور طباع واقع ہوئے تھے کہ صرف تین ماہ میں قرآنِ حکیم مکمل کرلیا اور ایک ماہ کی قلیل مدت میں لکھنا سیکھا لیا۔ پھر فارسی ادبیات اور عربی کتابیں پڑھنی شروع کیں۔ فارسی میں گلستاں، بوستاں، دیوانِ حافظ، ابتدائی عربی، میزان، مصباح، کافیہ کا درس والد صاحب سے لیا۔
آپ فرماتے ہیں: میں نے قلیل عرصے میں تمام کتابوں پر عبور حاصل کر لیا اور ادب و عربیت، منطق و کلام کی کتابوں پر مکمل دستگاہ ہوجانے کے بعد سات آٹھ برس بلکہ اس سے بھی کچھ زیادہ عرصہ تک بعض ماوراءلنہری علماء سے اس طرح درس لیا کہ شب و روز میں صرف دو تین ساعت کے لیے مطالعہٗ غور و فکر اور مشغولیت سے فارغ رہتا۔
*(اخبار الاخیار:291)*

حضرت شیخ عبدالوہاب متقی رحمہ اللّٰه سے حدیث اور تصوف کا درس لیا، اور سند حاصل کی۔ شیخ کے نامور اساتذہ یہ ہیں:
شیخ سیف الدین، شیخ محمد مقیم، شیخ عبدالوہاب متقی، قاضی علی بن جار اللہ، شیخ ابی الحزم مدنی، شیخ عبدالوہاب، شیخ محمد بہنسی، شیخ حاجی نظر بدخشی، سید جعفر سمرقندی۔ علیہم الرحمہ۔
*(شیخ عبدالحق محدث دہلوی: 99)*

*حضرت شاہ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللّٰه علیہ کا شوقِ علم:* آپ اپنی کتب بینی کا حال بیان ہوئے ارشاد فرماتے ہیں :
’’مطالعہ کرنا میرا شب و روز کا مشغلہ تھا۔ بچپن ہی سے میرا یہ حال تھا کہ میں نہیں جانتا تھا کہ کھیل کود کیا ہے؟ آرام و آسائش کے کیا معانی ہیں؟ سیر کیا ہوتی ہے؟ بارہا ایسا ہوا کہ مطالعہ کرتے کرتے آدھی رات ہوگئی تو والدِ محترم سمجھاتے :
’’بابا! کیا کرتے ہو؟ ’’یہ سنتے ہی میں فوراً لیٹ جاتا اور جواب دیتا: ’’سونے لگا ہوں‘‘ پھر جب کچھ دیر گزر جاتی تو اٹھ بیٹھتا اور پھر سے مطالعے میں مصروف ہوجاتا۔ بسا اوقات یوں بھی ہوا کہ دورانِ مطالعہ سر کے بال اور عمامہ وغیرہ چراغ سے چھو کر جھلس جاتے لیکن مطالعہ میں مگن ہونے کی وجہ سے پتا نہ چلتا‘‘۔
*(اشعۃ اللمعات،جلد اوّل ،مقدمہ ، ص72)*

ایک اور مقام پر فرماتے ہیں:
میرے والدین ہر چند کہتے تھے کہ تھوڑی دیر کے لیے محلہ کے لڑکوں کے ساتھ کھیل لو اور وقت پر سوجاؤ میں کہتا تھا کہ آخر کھیلنے سے مقصد دل کا خوش کرنا ہی تو ہے۔ میری طبیعت اسی سے خوش ہوتی ہے کہ کچھ پڑھوں یا لکھوں۔ عام طور پر ماں باپ بچوں کو پڑھنے اور مکتب جانے کی تاکید اور تنبیہ کیا کرتے ہیں۔ لیکن اس کے برعکس مجھے کھیل کود کی ترغیب دیتے تھے۔
*(اخبار الاخیار:302)*

*بیعت و خلافت:* سلسلہ عالیہ قادریہ میں اپنے والدِ گرامی سے بیعت و مجاز ہوئے۔
آپ فرماتے ہیں: والدم را برمن حق پدری، واستادی، و دوستی، وپیری جمع است۔
پھر آپ نے بعمر 27سال، 6/شوال 985ھ کی صبح حضرت سید موسیٰ پاک شہید رحمہ اللّٰه سے سلسلہ عالیہ قادریہ میں بیعت ہوئے اور خرقۂ خلافت حاصل کیا۔ ان کے علاوہ حضرت شیخ باقی بااللہ رحمہ اللّٰه سے سلسلہ عالیہ نقشبندیہ سے اجازت حاصل ہوئی۔ شیخ عبدالوہاب متقی رحمہ اللّٰه نے آپ کو سلسلہ قادریہ جیلانیہ متقیہ کے ساتھ قادریہ، شاذلیہ، مدینیہ اور چشتیہ کا خرقہ تصوف پہنایا۔
*(شیخ عبدالحق:95)*

*سیرت و خصائص:* محقق علی الاطلاق، شیخ المحققین، خاتم المحدثین، افضل المحدثین، امام الہند، برکتُ الہند، محسن الامت، فخرِ ملت، نابغۂ روزگار، عالم و عارف، فقیہ، محدث، محقق، مدقق، حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللّٰه علیہ۔
آپ کی ثقاہت، فقاہت، علمی دیانت، اور فضیلت، کا نہیں انکار کرے گا مگر اندھا متعصب، اور جاہل۔ تمام طبقات میں آپ کی ذات مُسَلَّم ہے۔ آپ ہی وہ شخصیت ہیں جنہوں نے سب سے پہلے علمِ حدیث حرمین شریفین سے حاصل کرکے، اس خطۂ ہندوستان کو علمِ نبوی سے منور کیا، اور اس علم کو عام کیا۔ حدیث کی شروحات فارسی زبان میں تحریر کرکے اور ان کی وسیع پیمانے پر طباعت کروا کر پورے خطے میں عام کروائیں، تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ علوم نبوی سے فیض یاب ہوں۔
صِغر سِنی میں ہی آپ کی شہرت عام ہوگئی تھی۔ جب تکمیلِ علم کے بعد آپ نے ہندوستان کی راجدھانی فتح پوری سیکری کا قصد کیا۔ جو اس وقت علماء و فضل کا مرکز تھا۔ شیخ کے تعلقات ملک الشعراء فیضی سے تھے چنانچہ شیخ جب فتح پور سیکری پہنچے تو آپ کا شایانِ شان استقبال کیا گیا اور دربار شاہی میں خوب پذیرائی ہوئی۔
خود فرماتے ہیں: ’’جب اللہ کے فضل و کرم سے مجھے علم کا خاصہ حصہ مل گیا تو بعض اہل ِحقوق نے مجھے اہل دنیا کی طرف بلایا اور میں بادشاہ وقت اور امراء کے پاس گیا انہوں نے میری طرف بہت توجہ کی اور عزت سے پیش آئے‘‘۔
*(المکاتیب والرسائل: 279)*

یہ وہ دور تھا جب اکبر کے الحادی رجحانات شروع ہو چکے تھے اور علماءِ سُوء کا ایک بہت بڑا گروہ اس کے گرد جمع ہوگیا تھا۔ جن کی مدد سے اکبر اپنی لادینی تحریک کو آگے بڑھانے کی کوشش کر رہا تھا۔ شیخ کو بھی آلۂ کار بنانے کی کوشش کی گئی مگر وہ عالم ربانی جس نے بچپن سے لے کر فتح پور سکری پہنچنے تک خالص دینی ماحول میں تعلیم و تربیت پائی تھی۔ جنہیں قدرت نے علم کی اشاعت اور حق کی حمایت کے لیے پیدا کیا تھا وہ بھلا ایسے ملحدانہ ماحول میں رہنا کیوں کر پسند کرسکتے تھے۔ اس درباری ماحول میں بہت جلد ان کی طبیعت اچاٹ ہوگئی۔ اگر زمانہ سازی پر ان کی طبیعت ذرا بھی راضی ہوجاتی تو دولت و ثروت اور دنیاوی جاہ و حشمت ان کے قدم چومتی۔ لیکن ان کا مذہبی شعور بیدار تھا اوروہ کسی قیمت پر اپنے ضمیر کی آواز کو دبانے کے لیے تیار نہ تھے۔ اکبر کے سیاسی اقتدار نے اتنی قوت پالی تھی کہ اس کے خلاف انفرادی جد و جہد کامیاب نہیں ہو سکتی تھی اس پر آشوب ماحول میں آپ نے ترک وطن کا ارادہ کرلیا اور حجاز مقدس کی راہ لی۔
آپ فرماتے ہیں: 996ھ میں جذبہ غیب سے پیدا ہوگیا اور دل پر وحشت طاری ہوگئی دیوانگی کی حالت میں سفر کا ارادہ کرنے کے علاوہ میرے لیے کوئی اور چارہ نہ رہا۔
*(مقدمہ زاد المتقین)*
مکہ مکرمہ میں اس وقت حضرت شیخ عبدالوہاب متقی رحمہ اللّٰه کا فیض عام تھا، آپ ان کی خدمت میں پہنچے۔
آپ فرماتے ہیں: ’’تمام اہلِ حرمین اور کل مشائخِ یمن، اور مشائخ مصر و شام سے جس نے حضرت کو دیکھا ہے ان کا معتقد ہے اور ان کی ولایت اور علوشان کا قائل ہے۔
*(اخبار الاخیار، ص263)*
شیخ عبدالوہاب کی علمی و روحانی تعلیم و تربیت نے شیخ عبدالحق کی ذات کو علم و عمل، زہد و ورع کا روشن مینار بنادیا۔ آپ نے حجاز کے دورانِ قیام متعدد حج کیے اور مکہ سے مدینہ منورہ کا سفر بھی کیا۔ وہ حضرت رسالت مآبﷺ سے بےکراں محبت رکھتے تھے۔ یہی عشق رسول ﷺ ان کا سرمایۂ حیات تھا۔ چنانچہ جب دیار حبیب میں پہنچے تو برہنہ پا ہوگئے۔ مدینہ منورہ میں کبھی جوتیاں نہ پہنیں۔ اپنے جذبۂ عقیدت و محبت کو سلک نظم میں پروکر بارگاہ رسالت ﷺ میں ایک قصیدہ پیش کیا۔

*سرکارﷺ کی نظرِ کرم:* آپ رحمۃ اللّٰه علیہ، رسول اللہﷺ کے عاشقِ صادق تھے۔ ہر وقت آپﷺ کی محبت میں تڑپتے رہتے تھے، اور میرے آقا ﷺ اپنے محبین پر خاص کرم فرماتے ہیں۔
حضرت شیخ رحمۃ اللّٰہ علیہ نے چار بار زیارت رسولﷺ کا شرف حاصل کیا۔ انہوں نے 21 ذی الحجہ 998ھ میں ایک خواب دیکھا جو اس طرح بیان کرتے ہیں:
’’میں نے دیکھا کہ حضور ﷺ ایک تخت پر بیٹھے ہوئے حدیث شریف کا درس دے رہے ہیں اور جمال و جلال کے وہ انوار ان کے چہرۂ مبارک سے چمک رہے ہیں جن سے زیادہ تصور ہی نہیں کیے جاسکتے‘‘۔
اسی شب یہ خواب بھی دیکھا کہ حضرت امام حسین رضی اللّٰه عنہ اعداءِ دین سے لڑنے کے لیے لشکر تیار کر رہے ہیں۔ شیخ عبدالحق کی پوری زندگی حقیقت میں اسی خواب کی تعبیر بن گئی وہ آخری سانس تک حدیث کی نشرو اشاعت میں سرگرم اور اعداء دین کے خلاف نبرد آزمائی میں مصروف رہے۔
*مراجعتِ ہندوستان:* شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللّٰه علیہ نے جن پریشان کن حالات میں ہندوستان چھوڑا تھا اور حجازِ مقدس کی علمی و روحانی فضاؤں میں انہیں اطمینان خاطر نصیب ہوا اور ان کی علمی و روحانی شخصیت کی تعمیر و تشکیل ہوئی انہوں نے فیصلہ کرلیا تھا کہ شہر امن ہی کو اپنا مسکن بنا لیں گے مگر رہبر کامل شیخ عبدالوہاب متقی رحمہ اللّٰه نے علوم و معارف کی تمام وادیوں کی سیر کرادی اور مرد کامل بنا دیا تو ہندوستان لوٹ جانے کا حکم دیا۔
آپ فرماتے ہیں: میرے دل میں حضرت غوثِ اعظم رضی اللّٰه عنہ کی زیارت کا اشتیاق تھا کہ یہاں سے بغداد جاؤں گا، لیکن شیخ نے اس سے بھی منع کر دیا، اور فرمایا:
’’اب تمہیں یہاں رہنے یا وطن اصلی کے علاوہ دوسری جگہ جانے کی اجازت نہیں۔ حضرت غوث اعظم رضی اللّٰه عنہ تمہارے ساتھ ہیں جس جگہ بھی رہو ان سے محبت اور اعتقاد کے ساتھ ان کی طرف توجہ رکھو ان کی پیروی کی کوشش کرو ان کے حکم پر چلو‘‘۔
اور شیخ عبدالوہاب رحمہ اللّٰه نے بوقت روانگی حضرت غوث پاک کا ایک پیراہن مبارک عطا کیا اور فرمایا:
’’آپ بیکار نہ بیٹھیے گا ان شاء اللّٰه اس طرف سے امداد انوار مسلسل ہوتی رہے گی۔

*شیخ عبدالحق کا مدرسۂ علم و ارشاد:* شیخ حجاز مقدس سے جب ہندوستان وارد ہوئے تو یہاں کی فضا پہلے سے بھی زیادہ خراب ہوچکی تھی۔ اکبر اور اس کے حاشیۂ نشینوں نے اپنے الحادی مشن نام نہاد دین الہیٰ کی اشاعت کھلم کھلا شروع کردی تھی۔ اسلامی شریعت اور دینی روایات کا برملا مذاق اڑایا جاتا۔ اکبر کو ظلِّ اِلٰہ کہنے والوں نے متفقہ طور پر یہ فیصلہ کیا:
’’مرتبۂ سلطان ِعادل عنداللہ زیادہ از مرتبۂ مجتہداست‘‘۔
اس محضر کی رو سے اکبر کو معاذ اللہ پیغمبر کا درجہ دینے کی ناپاک جسارت کی گئی۔ قرآن و سنت کے احکام سے بے اعتنائی عام ہونے لگی تھی۔ عوامی زندگی اور مدارس و خانقاہ اس تحریک کے مضر اثرات سے محفوظ نہ رہ سکے۔ صوفیا نے شریعت کو طریقت سے علیحدہ کرکے اپنے غیر شرعی اعمال کا جواز تلاش کرلیا۔ علماء سوء نے فقہ کو اپنی بہانہ جو فطرت کا آلہ بنایا، اور حیلہ بازی کا وہ دور شروع ہوا کہ بقول ملا عبدالقادر بدایونی ’’حِیَلِ بنی اسرائیل پیش آں شرمندہ‘‘۔
*(منتخب التواریخ، ج2 ص203)*

شیخ نے انہیں روح فرسا حالات سے متاثر ہوکر ہندوستان چھوڑا تھا کیوں کہ اس فتنہ کے تدارک کی قوت ان کے اندر موجود نہ تھی۔مگر اب وہ علوم دینی کا بیکراں سرمایہ اپنے سینے میں لےکر لوٹے تھے، اور فتنوں کی مدافعت کی بھرپور توانائی ان کے اندر پیدا ہو چکی تھی جسے بروئے کار لاکر علم نبوت کی اشاعت باطل کی تردید اور دین حق کے احیاء کا کام لینا تھا۔چناں چہ دہلی واپس آکر 1000ھ میں حلقۂ درس قائم کیا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب دین ِالہیٰ مُسلم معاشرےکو پانی لپیٹ میں لینے کے لیے زور مار رہا تھا۔ اکبر کے زیر اثر علماء سوء اور مفاد پرست صوفیوں کا ایک ایسا گروہ پیدا ہوگیا تھا جو دین کی حقیقی روح کو ختم کردینے کے لیے آمادہ تھا ایسے نازک اور پر آشوب ماحول میں حضرت شیخ نے ایسا مدرسہ قائم کیا جس نے صرف شریعت و سنت کی حقیقی روح کو اجاگر ہی نہیں کیا بلکہ باطل پرستوں کی ایسی سرکوبی کی کہ دوبارہ پنپنے کا موقع بھی نہ ملا دوسری درسگاہوں کے برخلاف اس مدرسہ میں قرآن و حدیث کو تمام علوم دینی کا مرکزی نقطۂ نظر قرار دے کر تعلیم دی جاتی تھی۔ فنِ حدیث میں شیخ کی خدمات و کمالات کا دائرہ کافی وسیع ہے ان کا سب سے بڑا اور اہم کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے ہندوستان میں علم حدیث کو غیر معمولی فروغ دیا۔ چوں کہ شیخ کے زمانہ میں حدیث شریف سے غفلت برتی جارہی تھی اور دین کی اصل سے بے اعتنائی کا نتیجہ یہ ہوا کہ دین کی حقیقی روح ماند پڑنے لگی اپنے وقت میں شیخ نے پوری قوت کے ساتھ حدیث و سنت کی تعلیم کا بیڑا اٹھا یا اور سنتِ رسول ﷺ کے ذریعہ اسلامی معاشرہ کی عروق مردہ میں روح ڈال دی۔
آپ رحمۃ اللّٰہ علیہ زندگی بھر کتاب و سنت کی تعلیم دیتے رہے اور پورے ہندوستان میں آپ کی درسگاہ امتیازی شان کی مالک تھی جہاں صدہا طالب علم بیک وقت تعلیم پاتے اور شیخ کے علاوہ متعدد باصلاحیت علماء مدرس تھے اس طرح شیخ کے ہزاروں ایسے باکمال مخلص تلامذہ پیدا ہوگئے جنہوں نے شیخ کی تحریک احیاء شریعت و سنت کے آگے بڑھایا۔ شیخ اپنے مدرسہ میں صرف عالم ہی پیدا نہ کرتے تھے بلکہ وہ ایسے مرد مجاہد تیار کرتے جو باطل کے خلاف صف آراء ہوسکیں اور دین و شریعت کی بقاء و تحفظ کے لیے پوری عمر سرگرم عمل رہیں۔ حضرت شیخ رحمۃ اللّٰہ علیہ کی عبقری ذات مرجعِ خلائق بن گئی تھی۔ آپ کے علمی و روحانی کمالات سے مستفیض ہونے کے لیے صرف عوام اور طلبہ ہی نہیں علماء و مشائخ، امراء و سلاطین بارگاہِ عالی میں حاضر ہوکر سرنیاز خم کرتے اور قدم بوسی کی سعادت حاصل کرتے۔ بادشاہ ہندوستان شاہجہاں زیارت کے لیے حاضر ہوا اور نیازمندی کا ظہار کیا۔ 1028ھ میں جب وہ کشمیر کی مہم پر روانہ ہونے لگا تو شیخ سے دعاؤں کا طالب ہوا۔اس مختصر تذکرے میں حضرت محقق کی سیرتِ پاک کا احاطہ ناممکن ہے۔

*تصانیف:* حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی صرف بلند پایہ مدرس اور روحانی مربی ہی نہ تھے بلکہ وہ اپنے زمانہ کے بڑے باکمال صاحب قلم مصنف بھی تھے اور انہوں نے عمر بھر درس و تدریس کے ساتھ تصنیف و تالف کا شغل بھی جاری رکھا جس طرح وہ ہندوستان کے عظیم محدث ہیں اسی طرح وہ ممتاز مصنف بھی ہیں ان کی تصانیف کی تعداد ایک سو سے زیادہ بتائی جاتی ہے جو حدیث، تفسیر، عقائد، تصوف و اخلاق، فقہ، اعمال و اوراد، منطق و فلسفہ، تاریخ، سیر و تذکرہ، نحو ادب کا احاطہ کرتی ہیں۔ بالخصوص علم ِ حدیث کے حوالے سے جو خدمات ہیں وہ رہتی دنیا تک یاد رکھی جائیں گی۔ آپ رحمۃ اللّٰہ علیہ کی تعلیمات آپ کی کتب سے عیاں ہیں۔ آپ کی کتب سے معلوم کیا جا سکتا ہے کہ فی زمانہ اکابرین کے نقش قدم پر کون عمل پیرا ہے۔

*تاریخِ وصال:* 21/ربیع الاول 1052ھ مطابق 19/جون 1642ء، بروز جمعرات کو آفتابِ علم ہمیشہ کے لیے غروب ہوگیا مگر اس کی علمی شعائیں صبح قیامت تک تابندہ رہیں گی۔
حوضِ شمسی (دہلی) کے قریب مقبرہ میں دفن ہوئے۔ مزار پاک زیارت گاہِ عوام و خواص ہے۔

*ماخذ و مراجع:* محدثینِ عظام حیات و خدمات۔ شیخ عبد الحق محدث دہلوی موضوعاتی مطالعہ۔ زاد المتقین۔اخبار الاخیار۔ منتخب التواریخ۔
https://t.me/Faizan_E_DarulUloom_Amjadia_Ngp

*المرتب محـمد یـوسـف رضـا رضـوی امجـدی نائب مدیر "فیضـانِ دارالعـلوم امجـدیہ ناگپور گروپ" 9604397443*
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from ✰ فیضان سرور مصباحی ✰
💥 *غیر ضروری بال/ بغل کے بال، موئے زیر ناف / زیر ناف بال صاف کرنے کے حدود / صاف کرنے والی کریم پاؤڈر کا استعمال / زیادہ سے زیادہ مدت کیا ہے* 💥

👉🏻Ghair Zarori ball (hair) saaf krna. zer.e.naaf bola jata h. 👉🏻Is lihaz sai Sharayi rahnumae farmain Or Inko saaf krna Sunnat ya
Wajib h.? 👉🏻Kam sai kam Kitnai days k bhd krna lazim h.
المستفتی : مراتب علی عطاری عطاری:

الجواب : بڑے انسان کے بغل اور ناف کے نیچے، شرم گاہ اور پاخانہ کے مقام کے آس پاس اگنے والے بالوں ، اور مونچھ کے حد شرعی سے زائد بالوں کو *غیر ضروری بال* کہتے ہیں. شریعت اسلامیہ اسے دور کرتے رہنے کو پسند کرتی ہے، جس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ اس میں نظافت و پاکیزگی ہے اور یہ صفائی ستھرائی ہمارے ایمان کا ایک حصہ ہیں، 💧نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرماتے ہیں : ’’پانچ چیزیں فطرت سے ہیں ، یعنی انبیاء سابقین علیہم السلام کی سنت سے ہیں ۔ (1) ختنہ کرنا اور (2) موئے زیرِ ناف مونڈنا اور (3) مونچھیں کم کرنا اور (4) ناخن ترشوانا اور(5) بغل کے بال اُکھیڑنا۔‘‘(مسلم،کتاب الطہارۃ، باب خصال الفطرۃ)💧ایک روایت میں ہے : رسول اﷲ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا: ’’جو موئے زیرِ ناف کو نہ مونڈے اور ناخن نہ تراشے اور مونچھ نہ کاٹے، وہ ہم میں سے نہیں ۔‘‘ (’المسند‘‘ للإمام أحمد بن حنبل، حدیث رجل من بنی غفار رضی اللّٰہ عنہ)
🍀 *دور کرنا سنت، ہرہفتہ مستحب، جمعہ کا دن بہتر* 🍀
🌾 مونچھیں پست کرنا /ناخن کاٹنا اور بغل- و- زیر ناف کے بال دور کرنا مطلقاً *سنت* ہے. اور ہر ہفتہ میں کسی بھی ایک دن یہ کام *مستحب* ہیں ، البتہ بہتر یہ ہے کہ جمعہ کے دن مونچھ ترشوانے ، ناخن کاٹنے اور بالوں کی صفائی کا کام کیا جائے. پندرہویں دن بھی یہ کام جاٸز ہیں ، چالیس روز سے زائد گزار دینا مکروہ وممنوع. (بہار شریعت584/16)
🍀 *چالیس دن سے زیادہ باقی رکھنے والا مکروہ تحریمی کا مرتکب اور عادت بنالینے والا فاسق ہے*🍀
🌾 حدیث میں ہے : مونچھیں اور ناخن ترشوانے اور بغل کے بال اکھاڑنے اور موئے زیر ناف مونڈنے میں ہمارے لیے یہ وقت مقرر کیا گیا ہے کہ چالیس 40/ دن سے زیادہ نہ چھوڑیں. (صحیح مسلم ،کتاب الطہارۃ، باب خصال الفطرۃ)
🌾اعلی حضرت امام احمد رضا محقق بریلوی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں :
چالیس روز سے زیادہ ناخن یا موئے بغل یا موئے زیر ناف رکھنے کی اجازت نہیں، بعد چالس روز کے، گنہگار ہوں گے، ایک آدھ بارمیں گناہ صغیرہ ہوگا عادت ڈالنے سے کبیرہ ہوجائیگا فسق ہوگا___ درمختار میں ہے:کرہ ترکہ وراء الاربعین. چالیس روز سے زیادہ چھوڑدینا مکروہے۔ ( *درمختار*، کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع ۲/ ۲۵۰) *ردالمحتار* میں ہے: ای تحریما لقول المجتبٰی ولا عذر فیما وراء الاربعین ویستحق الوعید (یہاں کراہت سے مکروہ تحریمی مراد ہے۔ المجتبٰی کے اس قول کی وجہ سے کہ چالس دن سے زیادہ دیر لگانے میں کوئی عذر مقبول نہیں، لہذا اگر ایسا کیا گیا تو پھر عذاب کی دھمکی کا مستحق ہے اھ ( ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع ۵/ ۲۶۱ بحوالہ *فتاوی رضویہ، 143/ 22 مخرجہ)*
🌾 *موئے زیر ناف مونڈنے کے حدود اور طریقہ کار*🌾
_________
ناف سے ذرا نیچے پیڑو کی ہڈی__جہاں پر اکڑوں بیٹھنے پر بل پڑتا ہے __ سے ابتدا کرے پھر شرمگاہ تک صاف کرتا ہوا چلا جائے، پھر شرمگاہ کے آس پاس ران کے ان حصوں سے بالوں کو دور کرے، جن کے نجاست سے ملوث ہونے کا امکان رہتا ہے . اسی طرح شرمگاہ اور ان سے متصل بالوں کو صاف کرتا ہوا نیچے تک چلا جائے. یوں ہی پاخانہ کے مقام اور ارد گرد کے جمے ہوئے بالوں کو احتیاط کے ساتھ اچھی طرح دور کرے، یہ مستحب ہے ، تاکہ محض ڈھیلے وغیرہ سوکھی چیز سے استنجا کے وقت نجاست سے بالکل تلوث کا اندیشہ نہ رہ جائے.
💧والعانۃ الشعر القریب من فرج الرجل والمرأۃ ومثلہا شعر الدبر؛ بل ہو أولیٰ بالإزالۃ، لئلا یتعلق بہ شيء من الخارج عند الاستنجاء بالحجر۔ (شامي/ کتاب الطہارۃ ۲؍۴۸۱)
💧العانۃ ہي الشعر الذي فوق الذکر وحوالیہ وحوالي فرجہا، ویستحب إزالۃ شعر الدبر خوفًا من یعلق بہ شيء من النجاسۃ الخارجۃ، فلا یتمکن من إزالتہ بالاستجمار۔ (طحطاوي علی مراقي الفلاح ۲۸۷)
🌾مرد کے لیے موئے زیر ناف استرا سے مونڈنا بہتر ہے، اور عورت کے لیے اکھیڑنا مستحب؛ عورت کا استرا استعمال کرنا بھی جائز بشرطیکہ اچھی طرح استعمال کرنا جانتی ہو کہ کہیں نازک حصہ بے احتیاطی کے باعث متأثر نہ ہو جائے. لہذا بچنا بہتر ہے. اس کی جگہ ہڑتال، چونا، بال اڑانے کا صابون، کریم، پاؤڈر وغیرہ صاف کرنے والی چیزوں کا استعمال بھی جائز ہے.
علامہ ابن عابدين شامی لکھتے ہیں:
(قولہ: و یستحب حلق عانتہ) قال فی الھندیة: و یبتدیٔ من تحت السرة، ولو عالج بالنورة یجوز، کذا فی الغرائب۔ و فی الأشباہ: و السنة فی عانة المرأة النتف ( الشامیة ٦ / ٤٠٦ )
واللہ تعالی اعلم.
عدنان غوثی مصباحی
31/جولائی 2018ء
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
*سوال نمبر 158:*
*1-* مرد و عورت کے ناف کے نیچے بالوں کو صاف کرنے کی حد کیا ہے؟
*2-* ناف اور بغل کے نیچے کے بالوں کو کس چیز سے صاف کرنا چاہیے؟
*3-* ناف اور بغل کے نیچے کے بالوں کو کتنے دنوں بعد صاف کرنا ضروری ہے؟
*جواب :*
*1-* زیرِ ناف بالوں کو مونڈنے کی حد یہ ہے کہ ناف کے عین نیچے سے شروع کرکے، مرد کی شرمگاہ اور خصیتین یعنی فوطوں کے بال اور عورت کی شرمگاہ کے بال، مونڈتے ہوئے مقعد (یعنی پاخانہ کے مقام) تک مونڈیں بلکہ مقعد کے ارد گرد کے بال بھی مونڈنا بہتر ہیں۔
البتہ مرد و عورت کی رانوں کے بال اس حد میں داخل نہیں ہیں لیکن انہیں صاف کرنا جائز ہے۔
*2-* مرد و عورت دونوں کیلیے بغلوں کے بالوں کو اکھاڑنا سنت ہے اور مونڈنا یا پاؤڈر یا ہیئر ریمؤر کریم وغیرہ سے بھی دور کرنا جائز ہے۔
مرد کو ناف کے نیچے کے بالوں کو استرے یا ریزر وغیرہ سے مونڈنا چاہیے، چونے ،پاؤڈر اور ہیئر ریمؤر کریم وغیرہ سے بھی دور کرنا جائز ہے، جبکہ عورت کیلیے ان بالوں کو اکھاڑنا سنت ہے اور چونے ،پاؤڈر اور ہیئر ریمؤر کریم وغیرہ سے بھی دور کرنا جائز ہے۔
اور عورت کیلیے استرے ،سیفٹی اور ریزر وغیرہ سے بھی ان بالوں کو دور کرنا جائز ہے مگر نوجوان عورت کو ان چیزوں کو استعمال کرنے سے بچنا چاہیے۔
*3-* ایک ہفتے تک انہیں دور کر لینا مستحب ہے، جمعہ کے دن دور کرنا افضل ہے، جبکہ پندرہ دن تک بھی جائز ہے، البتہ چالیس روز سے زیاده رکھنے کی اجازت نہیں، چالیس روز کے بعد گنہگار ہوں گے، ایک، دو بار میں ایسا کرنے سے گناہِ صغيره ہوگا، اور اس کی عادت ڈالنے سے گناہِ کبیرہ ہوگا۔
چنانچہ حضرت انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ :
*"وقت لنا رسول الله صلى الله تعالى عليه وسلم في قص الشارب و تقليم الأظفار ونتف الإبط و حلق العانة أن لا نترك أكثر من اربعين ليلة"*
یعنی ہمارے لئے حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم نے مونچھیں کترنے، ناخن کاٹنے، زیرِ بغل بال اکھاڑنے اور زیرِ ناف بال مونڈنے کے لئے ایک وقت مقرر فرمایا کہ ہم میں سے کوئی شخص چالیس دن سے زیادہ نہ چھوڑے۔
*(صحیح مسلم، کتاب الطهارة باب خصال الفطرة، جلد1 صفحہ 129 قدیمی کتب خانہ کراچی)*
علامہ علاؤ الدین حصکفی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں :
*"الشعر القريب من فرج الرجل و المرأة و مثلها شعر الدبر بل هو أولى بالازالة لئلايتعلق به شیء من الخارج عند الاستنجاء بالحجر"*
یعنی وہ بال جو مرد و عورت کی شرمگاہ کے ارد گرد ہوتے ہیں، یونہی مقعد کے اردگرد کے بال صاف کرنا اَوْلیٰ ہے تاکہ پتھر کے ساتھ استنجاء کے وقت نجاست بالوں کے ساتھ نہ لگے۔
*(درمختار جلد 3 صفحہ 48 دارالکتب العلمیہ بیروت)*
عمدۃ المحققین علامہ محمد امین بن عمر بن عبدالعزیز عابدین دمشقی شامی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں :
*"يبتدئ من تحت السرة ولو عالج بالنورة یجوز۔ کذا فی الغرائب ۔ وفی الاشباہ : والسنة في عانة المرأة النتف"*
یعنی ناف کے نیچے سے ابتداء کرے گا اور اگر نورہ (یعنی چونے) سے صاف کیے تو بھی جائز ہے، ایسے ہی *"غرائب"* میں ہے، اور اشباہ میں ہے کہ : عورت کے ان بالوں میں اکھیڑ ڈالنا سنت ہے۔
*( ردالمحتار جلد 9 صفحہ 670 مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)*
سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ سے سوال ہوا کہ :
اگر مرد اپنے زیرِ ناف کے بال مقراض سے تراشے یا عورت استرہ لے تو جائز ہے یا نہیں؟
تو آپ رحمۃ اللہ علیہ نے جواباً تحریر فرمایا :
"حلق و قصر و نتف و تنور یعنی مونڈنا، کترنا، اکھیڑنا اور نورہ لگانا سب صورتیں جائز ہیں کہ مقصود اس موضع (جگہ) کا پاک کرنا ہے اور وہ سب طریقوں میں حاصل"۔
*(فتاوی رضویہ جلد22 صفحہ 600 رضا فاؤنڈیشن لاہور)*
صدرالشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں :
"موئے زیر ناف دور کرنا سنت ہے، ہر ہفتہ میں نہانا، بدن کو صاف ستھرا رکھنا اور موئے زیرِ ناف دور کرنا مستحب ہے، اور بہتر جمعہ کا دن ہے اور پندرہویں روز کرنا بھی جائز ہے اور چالیس روز سے زائد گزار دینا مکروہ و ممنوع۔ موئے زیرِ ناف استرے سے مونڈنا چاہیے اور اس کو ناف کے نیچے سے شروع کرنا چاہئے اور اگر مونڈنے کی جگہ ہرتال، چونا یا اس زمانہ میں بال اڑانے کا صابن چلا ہے، اس سے دور کرے، یہ بھی جائز ہے، عورت کو یہ بال اکھیڑ ڈالنا سنت ہے".
مزید اگے تحریر فرماتے ہیں :
"بغل کے بالوں کا اکھاڑنا سنت ہے اور مونڈنا بھی جائز ہے"۔
*(بہار شریعت جلد 3 حصہ 16 صفحہ 584، 585 مکتبہ المدینہ کراچی)*
مفتی پاکستان، حضرت علامہ مفتی محمد وقارالدین امجدی قادری رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں :
"ناف سے نیچے خصیتین اور عضوِ تناسل کے اردگرد کے بال صاف کرنا سنت ہے، اور دُبر (یعنی پاخانہ کے مقام) کے بال صاف کرنا مستحب ہے"۔
*(وقار الفتاوی جلد دوم صفحہ 541 بزم وقارالدین کراچی)*
واللہ اعلم ورسولہ اعلم عز وجل وصلی الله علیہ و آلہ وسلم
کتبہ
*ابواسیدعبیدرضامدنی*
25/11/2019
03068209672
*تصدیق و تصحیح :*
الجواب صحيح والمجيب نجيح
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
फिक़्ह में गंदी बातें

कुछ ऐसे लोग जिन्हे शायद इल्म रिएक्शन कर गया है और साइड इफेक्ट की वजह से दिमागी तवाज़ुन बिगड़ गया है वो ये कहते हैं कि फिक़्ह और बिल खुसूस फिक़्हे हनफी की किताबों में गंदी गंदी बातें मौजूद हैं मसलन शर्मगाह को छूने, आपस में मिलाने और सोहबत की बातें और मनी, मज़ी और गंदे खून के बारे में बहसें मौजूद हैं।

अब अगर देखा जाये तो हदीस की किताबों में भी ऐसी गन्दी गन्दी बातें मौजूद हैं!
कुतुब -ए- अहादीस में ऐसे अबवाब मौजूद हैं जिन के नाम कुछ इस तरह हैं :
शर्मगाह छू लेने से वुज़ू,
शर्मगाहों के मिल जाने का हूक्म,
औरत की पिछ्ली शर्मगाह में सोहबत,
तमाम बीवियों से सोहबत करने के बाद वुज़ू,
एहतिलाम में तरी देखना,
मज़ी से वुज़ू,
हैज़ वाली औरत के साथ सोहबत वगैराहुम।

इन के इलावा भी ऐसी बहुत सारी बातें मौजूद हैं जिन्हें फिक़्ह की किताबों में दिखा कर "गंदी" से ताबीर किया जाता है। ऐसे लोगों को चाहिये कि अच्छी बातों पर मुश्तमिल किसी किताब को पढ़ें और कुतुब-ए- अहादीस को हाथ भी ना लगायें।

अ़ब्दे मुस्तफ़ा
Fiqh Mein Gandi Baatein

Kuchh Aise Log Jinhein Shayad Ilm Reaction Kar Gaya Hai Aur Side Effects Ki Wajah Se Dimaghi Tawazun Bigad Gaya Hai Wo Ye Kehte Hain Ke Fiqh Aur Bil Khusoos Fiqhe Hanafi Ki Kitabo Mein Gandi Gandi Baatein Maujood Hain Maslan Sharmgah Ko Chhoone, Aapas Mein Milane Aur Sohbat Ki Baatein Aur Mani, Mazi Aur Gande Khoon Ke Baare Mein Bahasein Maujood Hain

Ab Agar Dekha Jaaye To Hadees Ki Kitabo Mein Bhi Aisi Gandi Baatein Maujood Hain!
Kutub -e- Ahadees Mein Aise Abwaab Maujood Hain Jin Ke Naam Kuchh Is Tarah Hain :
Sharmgah Chhoo Lene Se Wuzu,
Sharmgaho Ke Mil Jaane Ka Hukm,
Aurat Ki Pichhli Sharmgah Mein Sohbat,
Tamam Biwiyo Se Sohbat Karne Ke Baad Wuzu,
Ihtelam Mein Tari Dekhna,
Mazi Se Wuzu,
Haiz Waali Aurat Ke Saath Sohbat Waghairahum

In Ke Ilawa Bhi Aisi Bahut Saari Baatein Maujood Hain Jinhein Fiqh Ki Kitabo Mein Dikha Kar "Gandi" Se Tabeer Kiya Jaata Hai
Aise Logon Ko Chahiye Ke Achhi Baato Par Mushtamil Kisi Kitab Ko Padhein Aur Kutub -e- Ahadees Ko Haath Bhi Na Lagayein

Abde Mustafa
فقہ میں گندی باتیں

کچھ ایسے لوگ جنھیں شاید علم ری ایکشن کر گیا ہے اور سائڈ ایفیکٹ کی وجہ سے دماغی توازن بگڑ گیا ہے وہ یہ کہتے ہیں کہ فقہ میں اور بالخصوص فقہ حنفی کی کتابوں میں گندی گندی باتیں موجود ہیں مثلاً شرم گاہ کو چھونے، آپس میں ملانے اور صحبت کی باتیں اور منی، مذی اور گندے خون کے بارے میں بحثیں موجود ہیں۔

اب اگر دیکھا جائے تو حدیث کی کتابوں میں بھی ایسی گندی باتیں موجود ہیں!
کتب احادیث میں ایسے ابواب موجود ہیں جن کے نام کچھ اس طرح ہیں:
شرم گاہ چھو لینے سے وضو،
شرم گاہوں کے مل جانے کا حکم،
عورت کی پچھلی شرم گاہ میں صحبت،
تمام بیویوں سے صحبت کرنے کے بعد وضو،
احتلام میں تری دیکھنا،
حیض کے خون اور کپڑے،
مذی سے وضو،
حیض والی عورت کے ساتھ صحبت و غیرھم

ان کے علاوہ بھی ایسی بہت ساری باتیں موجود ہیں جنھیں فقہ کی کتابوں میں دکھا کر "گندی" سے تعبیر کیا جاتا ہے۔
ایسے لوگوں کو چاہیے کہ اچھی باتوں پر مشتمل کسی کتاب کو پڑھیں اور کتب احادیث کو ہاتھ بھی نہ لگائیں۔

عبد مصطفی
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
{حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پسینہ مبارک اور جسم اقدس کے خوشبو دار ہونے کا بیان}

23 /1. عَنْ أَنَسٍ رضی الله عنه قَالَ:
عَنْ أَنَسٍ رضی الله عنه قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ ﷲِ صلی الله عليه واله وسلم أَزْهَرَ اللَّوْنِ، کَأَنَّ عَرَقَهُ اللُّؤْلُؤُ…وَلَا شَمِمْتُ مِسْکَةً وَلَا عَنْبَرَةً أَطْيَبَ مِنْ رَائِحَةِ رَسُوْلِ ﷲِ صلی الله عليه واله وسلم . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ وَاللَّفْظُ لِمُسْلِمٍ.

وفي رواية عنه للبخاري: قَالَ: وَلَا شَمِمْتُ مِسْکَةً وَلَا عَبِيْرَةً أَطْيَبَ رَائِحَةً مِنْ رَائِحَةِ رَسُوْلِ ﷲِ صلی الله عليه واله وسلم .

1: أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب المناقب، باب صفة النبي صلی الله عليه واله وسلم ، 3 /1306، الرقم: 3368، وأيضًا في کتاب الصوم، باب ما يذکر من صوم النبي وإفطاره صلی الله عليه واله وسلم ، 2 /696، الرقم: 1872، ومسلم في الصحيح، کتاب الفضائل، باب طيب رائحة النبي صلی الله عليه واله وسلم ولين مسه والتبرک بمسحه، 4 /1814، 1815، الرقم: 2330، والترمذي في السنن، کتاب البر والصلة، باب ما جاء في خلق النبي صلی الله عليه واله وسلم ، 4 /368، الرقم: 2015، وأحمد بن حنبل في المسند، 3 /107، 200، الرقم: 12067.

’’حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا رنگ مبارک سفید چمکدار تھا، آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے پسینہ مبارک کے قطرے موتیوں کی طرح چمکتے تھے، میں نے کسی مشک یا عنبر کو آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم (کے پسینہ مبارک کی خوشبو) سے زیادہ خوشبو دار نہیں پایا۔‘‘
یہ حدیث متفق علیہ ہے اور مذکورہ الفاظ مسلم کے ہیں۔

’’اور بخاری کی ایک روایت میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے وہ بیان کرتے ہیں: میں نے کسی ایسی مشک اور خوشبوؤں کے کسی مرکب کو نہیں سونگھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم (کے جسم) کی خوشبو سے بڑھ کر ہو۔‘‘

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=1018149568762612&id=190656494845261