🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.85K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
Photo
قرآنی دعا | ربنا | قرآنی دعائیں 🤲
#قرآنی_دعائیں 📖 #ضیاء_طیبہ
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
قرآنی کی آخری دس سورتیں 📜
#ضیاء_قرآن 🔍 #ضیاء_طیبہ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
سورۃ الفیل | سورة الفيل
سورۃ القریش | سورة القريش
سورۃ الماعون | سورة الماعون
سورۃ الکوثر | سورة الكوثر
سورۃ الکافرون | سورة الكافرون
سورۃ النصر | سورة النصر
سورۃ الہب | سورة الهب
سورۃ الاخلاص | سورة الاخلاص
سورۃ الفلق | سورة الفلق
سورۃ الناس | سورة الناس
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
#انصاف_کے_دوہرے_پیمانے

غلام مصطفےٰ نعیمی
مدیر اعلیٰ سوادِ اعظم دہلی

آنکھوں پر پٹی اور ہاتھ میں ترازو!
یہ ہمارے نظام انصاف کی وہ تصویر ہے جو اس ملک میں رہنے والوں کو اس بات کی یقین دہانی کراتی ہے کہ انصاف کے ترازو میں سب ایک ہیں۔کسی کا چہرہ نہیں دیکھا جائے گا۔سب کے ساتھ غیر جانب دارانہ اور ایک جیسا سلوک ہوگا۔
کاش! نظام انصاف بھی اس تصویر کی طرح منصفانہ ہوتا تو یہ ملک واقعی جنت نشاں ہوتا، مگر اکثر وبیش تر ملک میں انصاف کے الگ الگ پیمانے نظر آتے ہیں۔ حالیہ کچھ معاملات میں بھی انصاف کے ایسے ایسے رنگ دیکھنے کو ملے ہیں جنہیں دیکھ کر دستور وقانون میں بھروسہ رکھنے والوں کو سخت مایوسی ہوتی ہے۔گذشتہ کچھ واقعات کی روشنی میں انصاف دوہرا کردار دیکھیں:

سین نمبر 1
16 ستمبر 2021 کو ضلع کَچھ (گجرات) کے مُندرا پورٹ پر دو مشکوک کنٹینر پکڑے گئے۔تلاشی کے دوران ان میں تقریباً تین ہزار کلو ہیروئن برآمد ہوئی جس کی قیمت تقریباً بیس ہزار کروڑ بتائی جارہی ہے۔ بندرگاہوں پر غیر قانونی اشیا کی اسمگلنگ حیرت کی بات نہیں ہے، لیکن اس معاملے نے لوگوں کا دھیان اس لیے کھینچا کہ یہ پورٹ وزیر اعظم مودی کے انتہائی قریبی اور مشہور کاروباری گوتم اڈانی کی ملکیت میں ہے۔ اس پورٹ پر اتنی بڑی مقدار میں ڈرگس کا ملنا انتہائی غیر معمولی بات تھی۔ اگر قانونی ایجنسیاں اس معاملے کی صحیح سے تحقیق کرتیں تو کئی بڑے چہرے بے نقاب ہوسکتے تھے، اتنا بڑا معاملہ اور اتنی بڑی خبر ایسے دبا دی گئی جیسے گلی کوچوں میں ہونے والی بچوں کی نوک جھونک کی خبر دبا دی جاتی ہے۔

سین نمبر 2
21 اکتوبر کو راجستھان کے ضلع جھنجنو میں کشمیر کے سابق اور میگھالیہ کے موجودہ گورنر ستپال ملِک نے ایک سنسنی خیز دعویٰ کرتے ہوئے بتایا کہ جب وہ کشمیر کے گورنر تھے تو ان کے پاس دو ایسی فائلیں آئیں جو اُنہیں مشکوک اور غیر قانونی محسوس ہوئیں۔ان کا شک اس وقت یقین میں بدل گیا جب ان کے سیکرٹری نے اُنہیں بتایا کہ اگر وہ ان دونوں فائلوں کو منظوری دے دیں تو اس کے عوض انہیں تین سو کروڑ روپے ملیں گے۔ ملک صاحب کے بقول انہوں نے تین سو کروڑ روپے کی رشوت کا لالچ نہیں کیا اور وہ آفر ٹھکراتے ہوئے ان فائلوں کو واپس لوٹا دیا۔دل چسپ بات یہ ہے ان میں سے ایک فائل آر ایس ایس سے وابستہ ایسے لیڈر کی تھی جو کشمیر کی مخلوط حکومت میں بی جے پی کوٹے کا وزیر تھا اور وزیر اعظم کا قریبی مانا جاتا تھا، جب کہ دوسری فائل ملک کے مشہور کاروباری انِل امبانی کی تھی، جن کی وزیر اعظم سے قربت ڈھکی چھپی نہیں ہے۔مزے کی بات یہ ہے ستپال ملک خود بی جے پی لیڈر ہیں اس لیے اپنی ہی پارٹی کے لیڈر اور اپنے ہی وزیر اعظم کے منظور نظر پر کرپشن کے الزام کو ہلکا نہیں سمجھا جاسکتا۔ اپنی ہی حکومت اور اپنے ہی لوگوں کے خلاف اتنا بڑا بیان دینا کوئی معمولی بات نہیں تھی کہ جسے اپوزیشن کا الزام سمجھ کر ہوا میں اڑا دیا جائے مگر انصاف کے کانوں تک اتنی بڑی خبر ابھی تک شاید نہیں پہنچی۔
ذرا تصور کریں!
اگر اسی خبر کا تعلق کسی اور سے ہوتا تو کیا اب تک قانونی ایجنسیاں اسی طرح انجان رہتیں۔چھوٹی چھوٹی باتوں پر خود سے ایکشن لینے والا سپریم کورٹ آخر اتنے بڑے معاملے پر کیوں خاموش ہے؟

سین نمبر 3
2 اکتوبر 2021 کو ممبئی سے ایک کروز جہاز (cruise ship) گوا جارہا تھا۔جہاز کے مسافر آرام وسکون کے ساتھ سمندری لہروں سے لطف اندوز ہوتے ہوئے سفر طے کر رہے تھے، اسی درمیان نارکوٹکس کنٹرول بیورو (NCB) نے اس جہاز پر چھاپا مارا۔ اسی جہاز پر فلم ایکٹر شاہ رخ خان کا بیٹا آریان خان بھی سفر کر رہا تھا۔ اس چھاپے میں این سی بی نے قریب نو دس لوگوں کو گرفتار کیا، ان کے ساتھ ساتھ شاہ رخ خان کے بیٹے آریان کو بھی گرفتار کرلیا۔حالانکہ گرفتاری کے وقت نہ تو آریان خان کے پاس سے کوئی ڈرگس برآمد ہوا، نہ ہی گرفتاری کے وقت وہ کسی نشے میں تھا مگر محض شک کی بنیاد پر اسے گرفتار بھی کیا گیا اور اس کی گرفتاری کو ہائی لائٹ بھی کیا گیا۔اس کے بعد میڈیا نے اس خبر کو بریکنگ نیوز بنا کر بحث ومباحثہ کا موضوع بنا دیا۔دیکھتے ہی دیکھتے آریان خان کی گرفتاری، اس کی گذشتہ زندگی اور اس کے باپ شاہ رخ خان کو نشانہ بنا کر ایسا ماحول بنایا گیا مانو ملک میں اس سے بڑا موضوع اور مدعا کوئی ہے ہی نہیں!
اس کے بعد سے ہی این سی بی افسران آریان خان کے واٹس ایپ چیٹ، اس کے پچھلے معاملات اور اس کے دوستوں سے لگاتار پوچھ تاچھ کر رہے ہیں۔این سی بی افسران ایسے اشارے دے رہے ہیں کہ آریان کا تعلق کسی انٹرنیشنل اسمگلنگ گروہ سے ہے۔اس درمیان میڈیا بغیر کسی حوالے کے من گھڑت اور فرضی خبریں چلا رہا ہے، این سی بی کے افسر اس طرح میڈیا چینلوں پر انٹرویو دے رہے ہیں جیسے انہوں نے کوئی بڑا معرکہ سر کر لیا ہو۔یاد رہے یہ وہی این سی بی ہے جو بیس ہزار کروڑ روپے کی ڈرگس پر منہ میں دہی جمائے بیٹھی ہے اور بغیر ڈرگس ملے آریان خان کو نشانے پر لیے ہوئے ہے۔